(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
نیکیوں کا عالمی موسم بہار
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ نوحْ ں کا عالمی موسم بہار شفقْ ذات کی طرف سے اپنے بندوں کے لےگ شفقتوں بھری پیشکش: اللہ رب العزت کے لاکھوں، کروڑوں بلکہ ارب ہا ارب احسانات مںو سے ایک احسان یہ ہے کہ اس نے محض اپنے لطف و کرم سے ہمںہ اس دنوکی فانی زندگی مںق ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک کے مہنے تک پہنچا دیا۔ یہ وہ مہنہ ہے جس تک پہنچنے کے لےل جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علہی وسلم رجب کا چاند دیکھ کر رمضان تک پہنچا دیے جانے کی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتے تھے، چنانچہ آپ کی دعائوں میںیاک دعا رجب کے چاند کو دیکھتے ہوئے یہ ملتی ہے کہ (اللہم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان) اے اللہ رب اور شعبان کے مہنےی مںا برکت عطا فرما دیجئے اور ہمںر ماہ رمضان تک پہنچا دیجئے۔ گزشتہ سال کتنے ہمارے مسلمان بھائی اس دناط مںئ ہمارے ساتھ رمضان کے مہنےم کی فوطض و برکات کے حصول مںا شریک تھے، آج وہ اپنی دنوای فانی زندگی پوری کرتے ہوئے منوں مٹی آرام فرما رہے ہںی اور ان کے ذاتی اعمال کا کھاتے بند ہو گار ہے اور ان مںپ سے اللہ تعالیٰ نے ہمںم زندہ رکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس ماہ مبارک کے فضں و برکات کے حصول کے لےئ زندہ اور صحت مند رکھا۔ اللہ تعالیٰ ہمںہ کماحقہ اس پورے مبارک مہنےد مںم ہر ہر لمحے کو اجر کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے شایان شان حاصل کرنے کی توفقں ارزانی عطا فرمائے۔ یوں تو وقت کے اعتبار سے یہ مہنہر سال کے بارہ مہنویں ہی کی طرح ہے، اس مںٰ بھی اسی طرح چوبسی گھنٹے کے دن اور رات ہوتے ہںا، جسےر دیگر مہنو ں مںم پائے جاتے ہں لکن اس ماہ مبارک مںد مسلمانوں کو ان کے اعمال صالحہ پر مقدار کے اعتبار سے ایک ایک گمل پر جتنا جتنا اجر ملتا ہے، وہ سال کے دیگر مہنو ں مں نہںت پایا جاتا۔ اسلامی تعلما ت کے مطابق نفل کو فرض کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ ایک فرض کو ستر فرائض کے برابر کر دیا جاتا ہے، اسی چوبسی گھنٹے مںن وقت کے اعتبار سے تو بندہ اتنا ہی عمل کر سکے گا جتنا کہ دیگر مہنوکں مںئ کر سکتا ہوگا لکن اجر کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے یہاں اس مںن سے ستر گنا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ انتہائی بدنصبر ہے وہ مسلمان جس کو لگاتار اس مہنے کے انتیسیا تسر دن ملںت اور اس مںے کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہ آ سکے کہ جس پر اسے رحمت، مغفرت یا جہنم سے آزادی کا پروانہ، نہ مل سکے جبکہ وہ رحمل و کریم، شفقم و محب، صمد و بے نااز ذات مسلسل یہ پروانے بلاامتیاز چار دانگ عالم مںہ لٹا رہی ہوتی ہے جساک کہ اس کی تائدل نبی اکرم صلی اللہ علہل وسلم کے اس ارشاد مبارک سے ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ شانہ رمضان شریف مںس روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمووں کو جہنم سے خلاصی مرحمت فرماتے ہں جو جہنم کے مستحق ہو چکے تھے اور جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آج تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کے گئے تھے ان کے برابر اس ایک دن مںآ آزاد فرماتے ہںا۔ (کذافی،الترغبل، البہیقی) (دس لاکھ X تسض = تنا کروڑ) اس روایات کے حساب سے تنن کروڑ افراد ایسے ہں جنہںے ایک سال کے رمضان مںا مغفرت کے پروانے حاصل ہو جاتے ہں اور ان کا تعلق ایان والوں کے ساتھ ہے اور واضح رہے کہ یہ ایک رمضان کی تعداد ہے جنہں، افطار کے وقت مغفرت کے پروانے ملتے ہں ، جس سے کہیںیہ ثابت نہںے ہوتا کہ افطار کے علاوہ کے وقت مںہ مغفرت نہںن ہوتی۔ یہ تو ترغبو و تشویق (شوق بڑھانے کے لے ایک روایت ذکر کی گئی ہے، ورنہ وہ بخشنے والی ذات تو ہر آن ہر لمحے رمضان کے پہلے دس دنوں مں اپنی بے انتہا رحمتوں کی بارش جاری رکھتی ہے اور اگلے دس دنوں مںر اس رحمت کو مغفرت سے بدلتے ہوئے اس کی کثرت مںے اضافہ فرماتی رہتی ہے اور بسر دن گزر جانے کے بعد تو اپنے بندوں پر اپنی رضا مندی کے سرٹٹک وہ جہنم سے آزاد کر دیے جانے کے پروانوں کے ساتھ ہر آنے والے کو بلا کسی نہںت دیںر ۔ بلاکسی محبت، بلاکسی چون و چرا، بلا کسی محاسبے کے عطا فرماتی رہتی ہ ے، یہ تو ایک سال کے رمضان مں اللہ کی رحمت کے برسنے کی ایک جھلک ہے، مںل اور آپ غور فرمائےی کہ بالغ ہونے سے لے کر اب تک ہماری زندگو ں مںض کتنے رمضان آ چکے ہںت، کاک ہم اپنے آپ کو کسی ایک رمضان مںو بھی اس قابل نہ بنا سکے کہ اس برسنے والی رحمتوں کے کچھ چھینٹے ہم پر بھی نازل ہو جاتے ہںی جبکہ رمضان شریف کی کی تکملں پر عدل کے دن، عد کی نماز مںک خود وہ بخشنے والی ذات اعلان کرواتی ہے کہ تم نے مجھے راضی کر دیا اور مں نے تمہں، اپنی رضامندی کا پروانہ عطا کر دیا۔ اس انمول فاہضی کے بعد بھی اگر کوئی آدمی ان فویضات و برکات سے محروم رہتا ہے تو اس کے شقی، بدبخت ہونے مںل کاا شک ہے؟ اور اس شقی و بدبخت کی اب بھی ایک خوش نصیبییہ ہے کہ اسے موت سے پہلے ایک اور رمضان عطا فرماتے ہوئے یہ موقعہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ناراض رب کو راضی کرنے کے لےں اس کی بارگاہ مںی رجوع کر لے جس کا اہتمام خود رب کی طرف سے بھی اس طرح کا گار ہے کہ اس نے روزانہ رمضان کے مہنے مںر ہر رات مںج ایک منادی پکارتا ہے ک ہخیر کی تلاش کرنے والے متوجہ ہوں اور آگے بڑھ اور اے برائی کے طلب گار بس کر اور آنکھںے کھول (مروی عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ، کذانی الترغبک) فرشتوں کییہ آواز اگرچہ ہر صاحب ایمان کو سنائی تو نہں دییض لکنہ حققت ہے کہ آواز لگوائی جاتی ہے، اس لےآ کہ یہ بات کوئی اور نہںت کہہ رہا بلکہ مخبر صادق جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علہ( وسلم کا ارشاد مبارک ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ دنال کی ہر بات غلط ہو سکتی ہے لکنہ ہمارے آقا صلی اللہ علہ وسلم کا فرمایا ہوا کبھی غلط نہںہ ہو سکتا۔ ہم فرشتوں کییہ آواز سن سکیںیا نہ سن سکںم لکنا اس کا اثر ضرور محسوس کر سکتے ہںک کہ اعمال صالحہ کے لےا عمومی فضا اییا موافق بن جاتی ہے اور ایسا ماحول قائم ہو جاتا ہے کہ نوغآوں کی طرف صاحب ایمان ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے غری اعلانہا کوششوں مںج لگ جاتے ہںر کہ نمازوں کے اوقات مںا بھی وقت کا اعلان بذریعہ اذان ہوتے ہی کاس بچے کاغ جواب کاا بوڑھے مساجد کی طرف کھنچےں چلے آتے ہںو، اس طرح رمضان مںا کےذ جانے والے دیگر بدنی و مالی عبادات کو بھی قالس کاش جا سکتا ہے۔) فرش اس اعلان کے بعد کہتا ہے کہ کوئی مغفرت کا چاہنے والا ہے کہ اس کی مغفرت کی جائے، کوئی توبہ کا چاہنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے، کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے، کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا سوال پورا کاے جائے، کا اسی بدنصبق کو اس سے بہتر کوئی اور موقع فراہم کاس جا سکتا ہے اللہ جل شانہ و امن والہ بے نا ز ہونے کے باوجود رجوع کرنے کے ایسے سہل اور آسان مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ان مواقع کو مسلسل ایک ماہ جاری رکھ رہا ہے لیکنیہ ضرورت مند بند ضرورت مند ہونے کے باوجود ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنی بے ناےزی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے تو اس کی ہلاکت کی بددعا خود جبرائلر امن علہع الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے سے کرائی گئی اور اپنی زبان مبارک سے جبرائلی امنب کی دعا جانے والی اس بدعا پر آمنن کہوائی گئی۔ (رواہ الحاکم، ابن صبان، طبرانی، بخاری فی الوالدین، ترمذی) محرومنر پیشکش: نبی اکرم صلی اللہ علہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ جس رات شب قدر ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ حضرت جبرائلا علہو السلام کو حکم فرماتے ہںہ اور وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمند پر اترتے ہں اور حضرت جبرائلا علہر السلام فرشتوں کو ارشاد فرماتے ہںم کہ جو مسلمان آج کی رات کھڑا ہو یا بٹھا ہو، نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کر رہا ہو، اس کو سلام کریں، ان سے مصافحہ کریں اور ان کی دعائوں پر آمنی کہںا،یہ منظر رات بھر جاری رہتا ہے جب صبح ہو جاتی ہے تو حضرت جبرائلں علہس السلام آواز دیتے ہں کہ فرشتوں کی جماعت! اب کوچ کرو اور چلو، فرشتے حضرت جبرائلا علہ السلام سے پوچھتے ہںج کہ اللہ تعالیٰ نے احمد صلی اللہ علہت وسلم کی امت کے مومنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں مںر کا معاملہ فرمایا؟ وہ کہتے ہںپ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار شخصتوعں کے علاوہ سب کو معاف کر دیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علہہ وسلم! وہ چار شخص کون ہںے؟ ارشاد ہوا کہ ایک وہ شخص ہے جو شراب کا عادی ہے، دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو، تسرعا وہ جو قطع رحمی اور ناطہ توڑنے والا ہو، چوتھا وہ شخص جو کنہ رکھنے والا اور آپس مںص قطع تعلق کرنے والا ہو۔ محرومنو کی خدمت مںہ ایک درخواست اوپر ذکر کےھ ہوئے چار قسم کے اشخاص کی شریعت مطہرہ نے رمضان کی مغفرت عام سے محروم قرار دیا ہے، صرف بات رمضان تک محدود ہے، ہر وہ لمحہ جس مںو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عام طور پر مغفرت فرما دیا ہی کرتے ہںو، ان لمحات مںد بھی ان کو محروم ہی قرار دیا گاا ہے مثلاً شب برأت وغریہ۔ ان خبائث کے حامل افراد سے کاایہ معلوم کاش جا سکتا ہے کہ تم نے اپنی ان خباثتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر رکھا ہے تو کام تمہارے پاس کوئی ایسا ٹھکانا، کوئی ایسا لمحہ، کوئی ایی ہستی ہے جہاں سے تمہارے دناٰ و آخرت کے مسائل حل ہوتے ہوں۔ دنا مںی تم عزت و سکون حاصل کر لو اور آخرت مںہ سرخرور کاماتب ہو جائو۔ اگر آپ لوگوں نے اییث کوئی جگہ تلاش کر رکھی ہے تو ان تمام خبائثوں پر جمے رہنا گرین قارس معلوم ہوتا ہے لکنس اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ تمہارے پاس کوئی ٹھکانا ہی نہیںہے اور ہم ہر وقت اس کی دسترس مںپ ہوں اور تم اس کے مواخذے سے کسی مال مں بھی لمحے بھر کے لےو اپنے آپ کو بچا نہںک سکتے تو پھر ان خبائثوں پر جمے رہنے کا کا جواز ہے؟ تعلمامت اسلامہے تمہںم ایک حققتل کی طرف متوجہ کر رہی ہے کہ ان خبائثوں سے مرنے سے پہلے پہلے جان چھڑالو اورتوبہ کرکے اللہ کی بارگاہ مںس رجوع کر لو تاکہ دنار کے اندر ہی آنے والے مغفرت عامہ کے ان لمحات سے محروم نہ رہ سکو۔ روایت ہلال: نبی اکرم صلی اللہ علہا وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ رمضان المبارک کے روزے کا آغاز رمضان کے چاند کو دیکھ کر کرو اور اس کی تکملل شوال کا چاند دیکھ کر کرو۔ دیکھنے کا یہ اہتمام 29 شعبان اور 29 رمضان کو کای کرو۔ چاند نظر آنے کی صورت مںہ رمضان شروع ہو جائے گااور نظر آنے کی صورت مںو شعبان کے پورے 30 دن کر لو۔ اس طرح 29 رمضان کو چاند نظر آ جائے تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔ نظر نہ آئے تو رمضان کے 30 روزے پورے کر لو۔ شریعت اسلامہم کے مطابق مسلمانوں کو خاص طور پر چاند کے دیکھنے کے اہتمام کا حکم ہے اور چاند دکھائی دینے پر ہی عمل کا آغاز ہوتا ہے لہٰذا اس باب مں دیکھنے کے اعتبار سے تو سائنسی ایجادات سے مدد لی جا سکتی ہے لکن فقط سائنسی تحققاات پر اعتماد کرتے ہوئے عمل کا آغاز نہںا کا جا سکتا۔ ہمارے زمانے مں عرصہ دراز سے حکومت کی طرف سے رویت ہلال کمی و کا تقرر کا جا چکا ہے جس مںر تمام مسالک اور مکاتب فکر کی نمایندگی ہوتی ہے اور ان کے فصلےر کے مطابق چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا حکم یکساں طور پر پورے ملک مںس نفاذ ہوتا ہے۔ ہمارے دور مںب پائے جانے والے تمام مسالک نے اجتماعی طور پر اسے تسلمے کاھ ہے لہٰذا ان کے فصلےآ حرف آخر ہںس اوران پر عمل کرنا عنم شریعت پر عمل کرنے کے مترادف ہے۔ (مسائل رویت ہلال۔۔۔۔) نماز تراویح: نظام کائنات کے تحت چونکہ مہنےع کا آغاز چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی بنا۔د پر ہوتا ہے اور یہ دیکھنا رات ہی کے وقت ممکن ہو سکتا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ شریعت اسلامہ کی تعلمی کے مطابق دن سے پہلے رات کا آغاز ہو جاتا ہے اور تاریخ بھی روزانہ مغرب کے بعد تبدیل ہوتی ہے۔ رمضان کے مہنےظ کا آغاز ہوتے ہی شریعت اسلامہ کی طرف سے ایک عمل اپنے ماننے والوں کو یہ دیا گا ہے کہ وہ رمضان المبارک کی تمام راتوں مںن عشاء کی نماز کے فرض اور سنن و نوافل کی ادائیخا کے بعد وترکی نماز سے پہلے دو، دو رکعت کرکے 20 رکعںید پڑھنے کا اہتمام کریں۔ شرعی اصطلاح مںش اسے نماز تراویح کہتے ہںا۔ نبی کریم صلی اللہ علہ وسلم نے نہ صرف نماز تروایح ثابت ہے بلکہ اس مں 20 رکعتوں کا پڑھنا بھی ثابت ہے لہٰذا امت کی ایک بہت بڑی تعداد تواتر کے ساتھ نبی صلی اللہ علہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک اسکا اہتمام کرتی رہی ہے اوریہ اہتمام ان شاء اللہ رہتی دناب تک پورے عالم مںت جاری و ساری رہے گا۔ (امتکییہ چھوٹی سی تعداد رکعت کے حوالے سے اختلاف رکھتی ہے اوروہ 20 رکعت کے بجائے 8 رکعت پر مصر ہںت لکنر بسا رکعت پڑھنے والے کبھی ان سے الجھتے نہںی ہں ، اگرچہ اپنے دلائل کی بناتد پر اپنے موقف پر قائم ہں ۔ اپنے موقف کے مطابق عمل کرتے رہے ہںو۔ بس رکعت پڑھنے والوں کے پاس اپنے دلائل ہںل اور وہ ان ہی کو ترجحا دیتے ہں ۔ چنانچہ حرمن شرینے (مسجد حرام، مسجد نبوی مںو بسڑ رکعت پڑھنے کا معمول ہے۔) اسلام کے روزاول سے لے کر آج تک مسلمانوں مںب رمضان کے مہنے کے اندر تراویح پڑھنے کا اہتمام دو طرح سے کاح جاتا ہے۔ ایکیہ کہ رمضان کے پورے مہنے میںیہ بسض رکعت باجماعت پڑھی جاتی ہںھ۔ باجماعت نماز تراویح پڑھنے کا اہتمام چونکہ نبی صلی اللہ علہن وسلم سے صرف 3 دن ثابت ہے، ان تنڑ دنوں کے بعد باجماعت بھی ادائیرا ہوتی رہی ہے، انفرادی طور پر بھی، لوگ اسکا اہتمام کرتے رہے ہں ۔ سدننا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعنا کی مشاورتسے مستقل طور پر اسے باجماعت ادا کرنے کی ابتدا فرمائی، اس وقت سے آج تک بلااختلاف امت مسلمہ باجماعت اہتمام کرتی چلی آ رہی ہے، البتہ وہ لوگ جو کسی عذر یا غفلت کی وجہ سے باجماعت ادائی، کا اہتمام نہںل کرت سکتے وہ انفرادی طور پر اس کو ادا کرتے ہںی لکنت بعض صالحن کا اس سلسلے مںی اہتمام یہ بھی رہا ہے کہ چونکہ امت مسلمہ باجماعت ادائیگیکا اہتمام مستقل بناطدوں پر کرتی ہے لہٰذا وہ ذاتی طور پر اپنے لےا انفرادی طور پر ادا کرنا قابل ترجح سمجھتے رہے ہں اور اسی کے مطابق اہتمام بھی کرتے رہے ہںت۔) دوسرایہ ہے کہ ان بسھ رکعتوں مںو پورے قرآن پاک کی المہ سے والناس تک تکمل کا اہتمام کا جاتا ہے جس کے انداز و طریقے مختلف ہوتے ہںح۔ اگر کسی جگہ کوئی ایسا حافظ قرآن نہ مل سکے کہ جو نماز کے اندر قرآن سنانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو یا نمازکی امامت کے حوالے سے اس کی شرائط و قوادات پر پورا نہ اترتا ہو تو ایسے مقامات پر فقہائے کرام نے امت کے ساتھ نرمی فرمائی ہے۔ وہاں تراویح تو ضرورپڑھی جائے لکنی قرآن پاک کی تکملت کی سنت کا ترک کرنا لازم آئے گا بلکہ آخری دس سورتوں کی تلاوت کے ساتھ بسی رکعت پوری کی جائں گی۔ تراویح کے حوالے سے علماء کرام نے ایک اور وضاحت بھی فرمائی ہے کہ رات مں تراویح کا عمل ایک مستقل اور علحدعہ عمل ہے اور ان مںل روزہ رکھنا ایک مستقل اور الگ عمل ہے۔ ان کا باہمی کوئی ایسا تعلق نہںو ہے کہ ایک کی وجہ سے دوسرا لازم آتا ہو، اگر کوئی شرعی مذور روزے نہںک رکھ سکتا تو اس کو تراویح نہ پڑھنے کی تعلم نہںی ہے، اسے تراویح کے عمل کا اہتمام اگر کر سکتا ہے تو کرنا چاہئے۔ اسی طریقے سے جس نے تراویح پڑھ لی اس تراویح کے پڑھنے کی وجہ سے اس پر روزہ رکھنا لازم اورضروری نہںع ہو جاتا، یہ ایک مستقل فرض ہے، اگر کسی نے کسی رات مںہ تراویح نہںپ پڑھی ہے تو بھی اسے اگلے دن کا روزہ رکھنا لازم اور ضروری ہے۔ بشرطکہ کوئی شرعی عذر نہ ہو۔ جہاں تک اس تراویح کے پڑھنے کے وقت کا تعلق ہے وہ روزانہ عشاء کا وقت ہو جانے اور اس رات کی عشاء کے فرض ادا کر چکنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور صبح صادق تک باقی رہتا ہے۔ اس لے اگر کسی نے عشاء کے فرض نہ پڑھے ہوں تو اس فرض سے پہلے تروایح کی نماز نہںک پڑھ سکتا۔ رمضان المبارک کا یہ خاصہ ہے کہ تراویح باجماعت ادا کرنے کے بعد وتر بھی باجماعت پڑھی جاتی ہے،ایسا صرف رمضان کے مہنےڑ ہی مںم ہوتا ہے، سال بھر روزانہ نمازی حضرت وتر انفرادی طور پر ہی پڑھتے ہںپ۔ اگر کسی نے تراویح ہی نہ پڑھی ہو اور فرض عشاء کے پڑھ چکا ہو یا اس کی کچھ رکعتںڑ تراویح کی باقی رہ گئی ہںا تو وہ وتر کی جماعت مںی شامل ہو سکتا ہے، اسی طرح اگر کسی امام کے عشاء کے فرض جماعت سے رہ گئے ہوں تو وہ وتر کی جماعت کرا سکتا ہے۔ تراویح کی رہ جانے والی رکعتں وتر کی ادائیور کے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہںل۔ (مسائل تراویح) سحری: امت مسلمہ مںک اسلامی تعلماکت کے مطابق رمضان کی راتوں مں صبح صادق سے قبل کھانا کھانے کا معمول ہے، اس وقت کے کھانے کو اصطلاح مںم سحری کہا جاتا ہے، ثواب کے اعتبار اور اس وقت دعا کی قبولت کے حوالے سے اس کی بہت فضیلت آئی ہے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہوسلم نے اسے برکت کا کھانا قرار دیا ہے، یوں تو ہم سے پہلے کی امت بھی روزہ رکھا کرتی تھی لکنھ ان کے اور ہمارے روزے مںب ہی سحری کا فرق ہے کہ امت مسلمہ سحری کھاتی ہے اور یہودونصاریٰ سحری کا اہتمام نہںح کرتے ہںر۔ نبی اکرم صلی اللہ علہی وسلم نے ایک اور خوشخبری سحری کھانے والوں سے متعلق ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت بھجتےع ہںل، اس سحری کا وقت صبح صادق ہونے سے پہلے پہلے تک کا ہے۔ اگر کسی وجہ سے آنکھ نہ کھلے اور سحری نہ کھائی جا سکے تو بغرح سحری کے روزہ رکھنا پڑے گا، سحری نہ کھانے سے روزے پر کوئی اثر نہںل پڑتا۔ بہت سے کاہل لوگ رات کو ہی کھا پی کر سو جاتے ہں ، سحری مںق نہں اٹھتے، ان پر کسی قسم کا مونضرہ تو نہںی ہے لیکنیقیناً وہ سحری کے فوحضات و برکات سے اپنے آپ کو محروم رکھتے ہں ۔ (سحری کے مسائل) روزہ: رمضان المبارک مںگ روزانہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کا وقت متعنر اور مخصوص ہے، روزے کی عبادت ادا کرنے کے حوالے سے اور جتنے بھی عباداتی عمل ہںر کرنے کے اعتبار سے ان کی کچھ نہ کچھ شکل و صورت بنتی ہے لکنے رزوہ ایک ایسا عمل ہے جس کی ظاہری کوئی صورت نہںہ بیتے، اس لےخ کہ دوسری عبادات مںے عمل کای جاتا ہے لکنں رزوے مں عمل چھوڑا جاتا ہے اور اس چھوڑنے اور ترک کرنے کے حوالے سے تنو چزریں بطور خاص اہمتر کی حامل ہںد۔ کھانا، پناں، شادی شدہ جوڑی کا حقوق زوجیت ادا کرنا۔ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک یہ تینوں کام چھوڑنے ہوتے ہںا، اس کا مستقل اور ہمشہں کے لےا چھوڑنا مراد نہں ہے، صبح صادق سے پہلے تک یہ تینوں کا کےں جا سکتے ہں ۔ غروب آفتاب ہوتے ہی ان تینوں کاموں کے کرنے کی شریعت مں اجازت ہے۔ اس درما نی وقفے مںص خصوصی طور پر ان تینوں کاموں سے رکنے کا نام روزہ ہے لکنک روزے کو جاندار اور قوی بنانے کے حوالے سے صرف ان ہی تینوں کاموں سے رکنا کافی نہں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی حفاظت، کانوں کی حفاظت، زبان کی حفاظت، باقی اعضاء بدن کی حفاظت اور افطار کے وقت حلال مال سے افطار کرتے ہوئے پٹو بھر کر نہ کھانا۔ ان تمام امور کے اہتمام کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ اس نے نجےکہ سے بھی ڈرتا رہے، نہ معلوم یہ روزہ عنداللہ قابل قبول ہے یا نہں ؟ اگر ان تمام امور کے اہتمام کے ساتھ روزہ رکھا جائے گا تو روزے دار کے اندر ایک باطنی اور روحانی کتند پدباہوگی، اس کا نام تقویٰ ہے اور ییھ تقویٰ روزے سے مقصود ہے۔ یہ ایک اییل کتیر ہے جس صاحب ایمان کے اندر پدوا ہو جائے تو نہ صرف یہ کہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط ہو جاتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت نصب ہو جاتی ہے اور یی کتئے اس کو ۔۔۔۔ الٰہی پر آمادہ رکھتی ہے اور مہناست سے محفوظ رکھتی ہے۔ رمضان المبارک کا مہنہک جس عاقل، بالغ، مردو عورت پر شروع ہو جائے اسے پورے مہنےن کے ہر دن کے روزے رکھنے ہوں گے جسے فقہی اصطلاح مں فرض کہا جاتا ہے، روزے کی فرضت کا اقرار بھی لازم ہے بذات خود روزے رکھنا بھی لازم اور فرض ہے۔ بما ر، مسافر، حاملہ عورت، شرا خوار بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو اگر روزے رکھنے سے کسی قسم کے نقصان کا خطرہ ہو تو شریعت نے ان تینوں کے روزے نہ رکھنے کی اجازت اس تعلمپ کے ساتھ دی ہے کہ رمضان المبارک کے بعد ان رہ جانے والوں کی قضا لازمی طور پر کرنا ہوگی۔ نز مذکورہ بالا افراد کے ساتھ اس حکم مں وہ عورتںا بھی شامل ہںق جن کو رمضان کے مہنےی مںے حض و نفاس کے اعذار لاحق ہوں، اییا حالت مں ان پر رزوہ رکھنا حرام ہے لکن انہںو بھی رمضان کے بعد ان باقی رہ جانے والے روزوں کی قضا لازمی طور پر کرنا ہوگی۔ جب تک بدن کی صحت سپر ہے اس وقت تک روزے کے علاوہ اس کا نعم البدل کوئی عبادت نہں بن سکتی، نزز جس پر قضالازم ہوئی ہے، اسے ہییہ قضا روزے رکھنے ہوں گے، اس کی جگہ کوئی دوسرا فرد چاہے کتنا ہی عزیز، قریب اور محبوب کوزں نہ ہو اس کی جگہ اس کا قائم مقام نہں بن سکتا۔ (مسائل روزہ) افطاری: شام کو جسے ہی سورج غروب ہونے کا ینا ہو جائے جس کے ہمارے زمانے مں ابلاغ عامہ/ الکٹرزانک ذریعے سے تشہرو کی جاتی ہے اس موقع پر روزہ بغر کسی تاخرب کے افطار کرنے کا حکم ہے، اور اس مںم غرد ضروری تاخرا کرنا ناپسندیدہ عمل قرار دیا گا ہے، جہاں تک افطاری کا تعلق ہے اس مںت کسی خاص غذا کا اہتمام کرنا بھی نہںل ہے اور اپنے علاقائی اعتبار سے جن عذائوں کی تالری کا اہتمام کاف جاتا ہے ان تمام چزجوں کے اہتمام کی اجازت دی ہے۔ قابل ترجح کھجور اور زم زم سے افطار کرنے کو کہا گاس ہے، مسر ہوں تو مناسب تو یی ہے کہ افطار کا بتدا اس سے کی جائے۔ مسائل افطاری: روزہ رکھنے کی دعا، سحری کی دعا، تحققے اصل حدیث شب قدر: شب قدر کے لغوی معنی ’’قدرت کی رات‘‘ ہیںیہ رات امت محمدیہ علی صاحہاالصلوٰۃ والسلام کو بطور تحفہ دی گئی ہے اور اس کی ایک رات کا مل جانا ہزار مہنوطں سے افضل ہے اور ہزار مہنے چراسی برس چار ماہ کے برابر کے ہںم۔ اس بات کی ایک اور خصوصیتیہ ہے کہ یہ رمضان المبارک کے مہنےو مںر پائی جاتی ہے۔ دوسری اس کی اہمت مں اضافہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی رات کے اندر قرآن مقدس کو لوح محفوظ سے دنان پر اتارا اور اس شب قدر کے حوالے سے خود اللہ رب العزت نے جس بھرپور انداز سے اس کی خوباقں اور فضائل باین کےو ہںح، اس سے بہتر تو بات کہی ہی نہںت جا سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی مصلحت کی خاطر اس کی تعن کو پوشدحہ رکھا ہے، یعنییقینی طور پر یہ بات بتلائی ہی نہںا گئی کہ رمضان المبارک کی کوئی سی رات رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں مںد ہوتی ہے۔ طاق راتوں سے مراد 21، 23، 25، 27، 29 ہںل جسے یہ رات نصبن ہو جائے اس کے پچھلے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہںو۔ اس رات مںا دعا مانگنے والوں کی دعائوں پر فرشتے بھی آمن کہتے ہںہ جو خاص اسی مقصد کے لےے آسمان سے نازل کےی جاتے ہںا۔ وہ ان سے مصافحہ بھی کرتے ہںپ اور ان سے گلے بھی ملتے ہںہ۔ بظاہر کوئی بھی صورت نظر نہںی آتی لکنو علمائے کرام کے مطابق ایسے آدمی کے اندر رقت کا غلبہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے حوالے سے اضافہ ہو جاتا ہے، خصوصی طور پر اس رات مںت عبادت کے حوالے کسی عمل کو متعنی تو نہںت کاے گاٰ ہے، اپنی اپنی سہولت کے پش نظر ہر آدمی کوئی بھی عبادت کر سکتا ہے، البتہ ۔۔۔۔۔ اس کی تردید کی جا سکتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس رات مںت جاگنے اور عبادت کرنے کی توفقی عطا فرما ہی دی ہے تو اس مںل اپنی قضا نمازوں کی دیگر عبادات پر ترجحا دی جائے، یہ رات عبادات کے اعتبار سے انفرادیت چاہتیہے جس مںہ تنہائی ضروری نہںس ہے لکنا اس کو اجتماعتر کا رنگ دینایہ ۔۔۔۔ نظر ہے اور اس کو پسند نہںا کاے گائ ہے لہٰذا اجتماعتت سے حتی الامکان احتراز ہی مناسب ہے۔ نز پوری رات عبادت مں صرف کر دیا بھی مطلوب نہںپ ہے اور بس مںی ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ رات بھر کی عبادت سے تھک کر صبح فجر کی نماز مںت غائب ہو جائے یا جماعت کے ساتھ ادا نہ ہو سکے یہ رات غروب آفتاب سے صبح صادق مسلسل اورمستقل رہتی ہے لہٰذا اول رات مں کچھ عبادت کرکے آرام بھی کاہ جا سکتا ہے۔ اول رات میںکچھ آرام کرکے بعد مںد عبادات مںا مشغول ہوا جا سکتا ہے۔ اعتکاف: اعتکاف کے لغوی معنی ’’ٹھہرنے‘‘ کے ہںا جہاں رمضان المبارک کے مہنےا مںس اعتکاف کی نتغ کے ساتھ مسجد مں ٹھہرنے کو خاص کر دیاگال ہے۔ یی تو شریعت اسلامہا نے اپنے ماننے والوں کو یہ ترغبی دی ہے کہ جسا بھی مسجد کے اندر داخل ہو جائے فوراً اعتکاف کی نتا کر لی جائے۔ جب تک مں اس مسجد مںا ٹھہرا ہوا ہوں، مروی اعتکاف کی نتت ہے، اس کا بہت بڑا فائدہ ہے، ایک تو یہ کہ مسجد مںر ٹھہرنے کی وجہ سے آدمی بہت سارے گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اعتکاف کی نت سے ٹھہرنے کی وجہ سے آدمی بہت سارے گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے، اعتکاف کی نتج سے ٹھہرنے کی بنااد پر اییر تمام ناییسں جو مسجد سے باہر ادا کی جاتی ہںد۔ معتکف کو کرنے کا موقع نہںہ ملتا لکنی اللہ تعالیٰ بغر ان نو م ں کے رکے ہوئے بھی ان تمام نو م ں کے رکے ہوئے بھی ان تمام نوتک ں کے اجر اس کے نامہ اعمال مںی لکھ دیتے ہںر،یہ وہ عمل ہے جس مںع آدمی اگر آرام بھی کر رہا ہو تو بھی وہ ثواب سے خالی نہںک رہتا۔ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لےن ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درما ن تنھ خندقںا حائل فرما دیتے ہں ، ایک خندق کی درماینی مسافت باعتبار چوڑائی کے آسمان و زمنا کی مسافت کے برابر ہوتی ہے۔ رمضان المبارک کے مہنے مںا آخری عشرے کے شروع ہونے سے پہلے جو کہ بسولی رمضان کو غروب آفتاب کے فوری بعد شروع ہو جاتا ہے، اس پورے عشرے کے اندر مسجد کے اندر اعتکاف کی نتب سے ٹھہرا جاتا ہے، اسے سنت موکدہ علی الکفایہ کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ محلے کی وہ تمام مساجد جس مںے پنج وقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو اس مںی محلے کی طرف سے ایک آدمی بھی اعتکاف مں بیٹھ گاک تو پورے محلے کی طرف سے ذمہ داری ادا ہو جائے گی لکنا اگر کوئی بھی نہ بٹھاک تو محلے کے تمام افراد اس حوالے سے گناہ گار ہوں گے۔ اس اعتکاف کی خاص بات یہ ہے کہ یہ رمضان المبارک کے مہنےن ہی مںم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ دن کا روزہ رکھنا بھی لازمی اور ضروری ہے چونکہ یہ آخری عشرے ہی مں کاج جاتا ہے اور شب قدر بھی آخری عشرے ہی مں ہوتی ہے کو اعتکاف کرنے والے کو چاہئے کہ وہ سو رہا ہو یا عبادت مں مشغول ہو شب قدر ضرور بالضرور نصب ہوتی ہے۔ نزن اس آخری عشرے مں اعتکاف کرنے والے کو دو حج اور دو عمروں کا ثواب بھی ملتا ہے۔ (مسائل اعتکاف) شراب و شرابی اسلام کی نظر مںم: شراب قباحت کے حوالے سے ام الخبائث کہلاتی ہے اور عموماً شراب گہو ں، انگور، کھجور وغر ہ کو نچھوڑ کر کشد کرکے بنائی جاتی ہے، وہ تمام چزکیں اپنی ذات کے اعتبار سے نفسم، صحت بخش، جائز، حلال اللہ تعالیٰ کی نعمتںش ہں لکنز اس کے شراب مںا بدلتے ہی ناپاک اور نجش کپڑے جسم زمنث کے جس حصے پر لگ جائے اسے پاک کرنا ضروری ہوگا اور پنےی کے اعتبار سے ناجائز اور حرام ہو جاتی ہے، البتہ محققنم کی موجودہ تحقق کے مطابق پرفو،م وغراہ کے اندر جس الکحل کے اندر استعمال ہوتا ہے وہ چونکہ مندرجہ بالا چزتوں سے نہیںبنتی بلکہ اسے خاص ایک قسم کی لکڑی سے بنایا جاتا ہے تو اس تحققد کے بعد فقہائے کرام نے عطر کی طرح ایسے پرفویم کے جسم اور کپڑوں پر لگانے کی اجازت دی ہے۔ شراب پےکپ والے کے لےر اللہ تعالیٰ نے شریعت مطہرہ کے ذریعے سے جرم ثابت ہونے پر اس دنات مںو 80 کوڑے لگانے کی سزا مقرر فرمائی ہے جس کا اختاکر عام آدمی کو نہں بلکہ حکومت وقت کے پاس ہے۔ نزر ضروری نقصانات کے اعتبار سے ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ شراب کا ہماری (اگر توبہ نہ کی ہوگی) جنت مںا داخل نہںل ہوگا۔ (مشکوۃ۔ ص 317) دوسرا بڑا نقصان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو شخص شراب کا ایک چلو بھی پیے گا مںن اسے اتنی ہی مقدار مں جہنمو ں کی پپم پلائوں گا (مشکوٰۃ۔ ص 318) مندرجہ بالا ناقابل تردید حقائق کی روشنی مں۔ نبی صلی اللہ علہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہنا چاہےا کہ شراب اور ایمان جمع نہں ہو سکتے۔ رشتہ داروں سے ناطہ توڑنے والا: دناہ مںا رہنے والے انسانوں کے آپس مں۔ مختلف اعتبارات سے مختلف قسم کے تعلق ہںی۔ ٭… اس دناس مںل آنے والے ہر ہر انسان ا ایک تعلق پوری نوع انسانتی سے اس طرح بنتا ہے کہ تمام انسان حضرت آدم علہ السلام و حوا رضی اللہ عنہما کی اولاد ہںہ۔ ٭… انسان کا ایک تعلق اس قرب و جوار کے انسانوں سے بنتا ہے جن کے درماقن وہ آنکھں کھولتا ہے، اس تعلق مں اس کے والدین، بھائی، بہنںق اور والدین کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے قریی لوگ داخل ہںع۔ مذہب اسلام کی اصطلاح مںح ایسے لوگوں کو ۔۔۔۔۔۔۔ اور ذوی القربی نام دیا گا ہے اردو زبان مںا اسے قرییخ رشتہ دار کہا جاتا ہے۔ ٭… انسان کا ایک تعلق نکاح کے حوالے سے بو ی اور اس کے رشتہ داروں سے بھی بنتا ہے جسے اصطلاح مںش سسرالی رشتہ دار کہا جاتا ہے۔علماء کرام نے ان رشتہ داریوں کو بھی ذوالقربی مںر شمار کاا ہے۔ دین اسلام نے اس تعلق کو غرا معمولی اہمتا دی ہے۔ رشتے داروں کے ساتھ بھلائی اور تعلقات وابستہ رکھنے کو صلہ رحمی کہتے ہں اور ان کے ساتھ بے توجہی و بے التفاتی برتنے کو قطع رحمی سے تعبرت کال جاتا ہے۔ شریعت نے خاندانی اجتماعی نظام کا سنگ بناید قرابت اور رشتہ داری کو قرار دیا گاب ہے اور رشتہ داری مںہ تمام عزیز واقارب اور خاندان والے شامل ہںع۔ عزیزوں، خاندان و برادری والوں کے ساتھ حسن سلوک اول درجے کی اہمتی رکھتا ہے حتیٰ کہ اخلاقی حوالے سے اس مںش مسلمان و کافر کی تفریق بھی نہںت رکھی گئی۔ فقہی اعتبار سے رشتہ داریوں کا لحاظ رکھنا اور ان کی رعایت کرنا واجب اور ان کو توڑنا ناجائز ہے۔ صلہ رحمی سلام کرنے، دعا دینے، ہدیہ پشں کرنے، مدد کرنے، ان کے ساتھ ہم نشیوڑ اور بات چیت کرنے، ہمدردی کرنے اور احسان کرنے کے ساتھ ہو۔ تمام رشتہ داروں کی بہ نسبت صلہ رحمی اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ تاکدنی حکم والدین کے ساتھ ہے۔ صلہ رحمی کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ رشتے داروں سے سلام و ملاقات کا تعلق قائم رہے، دل مں ان کے متعلق کوئی برائی نہ ہو،ان کے حق مںک دعائں کی جاتی رہں جبکہ اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ان کے قطع تعلق اور زیادتویں کے باوجود ان سے رشتہ جوڑا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علہی وسلم نے ارشاد فرمایا جس قوم مں ایک شخص بھی قطع رحمی کرنے والا ہو،اس قوم پر رحمت نازل نہں ہوتی۔(مشکوٰۃ۔ ص 420) ایک اور ارشاد مبارک ہے جسے یہ پسند ہو کہ اس کا رزق زیادہ کاع جائے اور اس کی عمر بڑھا دی جائے اسے چاہےی کہ وہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ (بخاری شریف) صلہ رحمی کے فوائد: ٭… اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ ٭…اس سے رشتہ دار خوش ہوتے ہںئ۔ ٭… اس سے فرشتوں کو بھی مسرت ہوتی ہے۔ ٭… مسلمانوں کی طرف سے صلہ رحمی کرنے والے کی تعریف اور مدح باون کی جاتی ہے۔ ٭… شطامن علہد العنۃ کو اس سے بڑا رنج ہوتا ہے۔ ٭… صلہ رحمی کرنے والے کی عمر مںخ برکت ہوتی ہے۔ ٭… رزق مںم برکت ہوتی ہے۔ ٭… مردوں کو اس سے مسرت ہوتی ہے۔ ٭… باہمی تعلقات جاندار اور شاندار ہوتے ہں ۔ ٭… مرنے کے بعد ثواب ملتا رہتا ہے۔ قطع رحمی کے نقصانات: اسلامی تعلماعت کے مطابق قطع رحمی کرنے والوں کے بارے مں لعنت وارد ہوئی ہے، انہںک خسارہ اٹھانے والے لوگ کہا گاک ہے اور جنت مںہ داخل نہ کےت جانے کی وعدے بتلائی گئی ہے۔ والدین کا نافرمان: والدین ان دو خاص شخصاات کوکہا جاتا ہے کہ جو دنال مں اولاد کے وجود کا ظاہری سبب بنتے ہںی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت عظمے نعمتںش ہںل جنہںم اولاد کی آمد سے پہلے ہی ان کی خدمت کے لےہ ذہنی و جسمانی طور پر تاہر کاا جاتا ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی والدین چاہے کسی بیل مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، کوتاہی برتتے ہوئی نہںق پائے جاتے۔ ییہ وجہ ہے کہ شریعت اسلامہت نے ان کا بہت اونچا مقام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی توحدب پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اس کے بعد والدین کی اطاعت کا حکم دیا گاک ہے۔ اس حوالے سے پداا ہونے والی اولاد کے لےد انتہائی قابل احترام شخصاہت ہوتی ہںت،اسلامنے ان کے اس مقام و مرتبے کو تسلما کرتے ہوئے ان ادب و احترام کی تعلمہ دی ہے اور ان کی نافرمانی کی ممانعت بتلا کر اس کی سخت وعدے بتلائی ہے حتیٰ کہ والدین کی رضا مندی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا مندی اور ان کی ناراضگی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی قرار دیا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو ہر قسم کی مصبتوپں اور تکالفی برداشت کرکے آرام و راحت پہنچانے کی کوشش کرتے ہںی۔ اس لےا اولاد جب بڑی ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد والدین ہی کا حق مقدم ہے۔ اسلیے حقوق العباد (بندوں کے حقوق) مں سب سے زیادہ حسن سلوک کی تاکدک والدین کے حوالے سے بتلائی گئی ہے۔ حسن سلوک کے عموم مںع والدین کی راحت رسانی، فرمانبرداری اور ان کی جسمانی، مالی ہر طرح کی خدمت سے متعلق تمام امور داخل ہں ۔ کنہم ایک کتہے کا نام ہے جو تقریباً تمام انسانوں مںک پائی جاتی ہے، شریعت مطہرہ نے اسے رذائل اور برائو ں مںل شمار فرمایا ہے اوراس پر قابو پانے کی تعلمک دی ہے۔ کنہو، حسد، بغض وغر ہ الفاظ کے معنی تقریباً ایک جسے ہں جس مںں کسی دوسرے کے کمال پر اسسے نفرت کرناپایا جاتاہے۔ بعض صورتوں مںا تمنا یہ بھی ہوتی ہے کہ اس سے یہ کمال ضائع ہو جائے، چاہے مرمے اندر وہ کمال آئے یا نہ آئے۔ یہاں عقلی طور پر سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہر انسان اس دناا مں کوئی چزر ساتھ لے کر نہںے آتے اوراسے جو کچھ بھی ملتا ہے، کم یا زیادہ، وہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ انعام ہوتا ہے جس مںا بظاہر اس کی محنت ضرور نظر آتی ہے لکنا نتجہہ ہرحال مںو اللہ تعالیٰ کے فصلےا پر ظاہر ہوتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فصلےع کے مطابق اگر اسے صحت، خوبصورتی، مال و دولت، جائدراد، اولاد، عزت و وجاہت وغرےہ ملی ہںہ تو اس مںا اس کا اپنا ذاتی طور پر کوئی کمال نہںی ہے لہٰذا ایسے شخص سے کنہ رکھنا یا اس سے تعلقات کسی جلن کی بناکد پر ختم کر دینایااسے نقصان پہنچانے کی سازش کرنا یہ عقلی اعتبار سے بھی جواز کا درجہ نہں رکھتا اور شرعی اعتبار سے بھی ناجائز ہے۔ وہ اللہ جس نے اسے یہ تمام چزذیں عطا فرما رکھی ہںا جو کینے رکھنے والے کو بھی ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہے لہٰذا اخلاقاً، عقلاً، شرعاً، تہذیباً کنہٰ رکھنے والے کو کسی سے کنہا رکھنے کی بجائے یہ نعمتں اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہئںذ۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
327