(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
انسانیت کی تلاش
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ انسانتد کی تلاش سامنے کی حققتی: کام سامنے کی اس بات کو جھٹلایا جاسکتا ہے کہ اس وقت عالمِ اسلام کا اکثر حصہ انتہائی کرب، دُکھ، مصبتن، نہایت تکلفی، سختو(ں، رنج وآفتوں مں گِھرا ہوا ہے۔ انفرادی و اجتماعی طور پر مسلمانان عالم انتہائی بے قراری، نہایت بے چیرو، بے انتہا بدامنی، معاشی تنگیوں، معاشرتی عدم توازن، سماجی عدم موافقت، انصاف کے عدم حصول، خودکش بمباروں کی آفتوں، بم دھماکوں کی ہولناکووں، تشدد کی وادیوں، دہشت کی فضاؤں، وحشت کے کھنڈروں، خوف کے جھکڑوں، حکمرانوں کی عدم توجہی کے پہاڑوں، باہمی بدسلوکی کے سیلابوں، طفل تسلویں کی چٹانوں، مختلف مافارؤں کے مدرانوں، قبضہ گروپوں کے چنگلوں، بھتہ خوروں کے پنجوں، اغوا برائے تاوان والوں کے ہاتھوں، قاتلوں کی مٹھو ں،یرغمالی عناصر کی گرفتوں اور دشمنوں کے پے درپے حملوں کی بے باکو ں مںر پھنسے ہوئے ہںا۔ مہنگائی کا عفریت (دیو)، فاقہ کشی کا بھوت، خودکشی کی لعنت، سیلاب کا عذاب، زلزلوں کے جھٹکوں کی مصبت۔، جان لوئا بارشوں کا سلسلہ، لاقانونتر کا بکھڑؤا، شماتت اعداء (نقصان پر دشمنوں کا خوش ہونا) کا روگ، مختلف بمااریوں سے عدم صحت کی تکلفی، اولاد کی طرف سے نافرمانی کی کڑی سزا، والدین کی طرف سے شفقتوں سے محرومی کا بدلہ، شاگردوں کی طرف سے اساتذہ کی بے اکرامی کا دکھ، اساتذہ کی طرف سے رہنمائی کے سلب (چھنت لناا) کا عدل مندرجہ بالا دکھوں سے لبریز سانحوں پر مستزاد (بڑھائے گئے) ہںا۔ دانشوران قوم کے تجویزکردہ علاج: دانشوران قوم اور مقتدایان ملت کی عجبؤ مضحکہ خزی (مسخرہ پن) (Ridiculous) بات یہ ہے کہ وہ نتائج مٹانے پر زور، توانائی، وسائل بے تحاشا، بے دریغ، بے دھڑک، بے تردد، بے تکلف، بے چون و چرا، بے حساب خرچ کررہے ہںل۔ اسباب مٹانے کی زحمت تو دور کی بات ہے غور کرنے کے لےڑ بھی تاار نہںک ہںپ حالانکہ اسباب ہمارے ہاتھ مں ہں نتائج قدرت کے ہاتھ مںے ہںک۔ اس طرزعمل نے ہمںی جانوروں کی سطح سے بھی گرا دیا ہے۔ کتّے اور گدھے جسےس حقرا و بے وقوف جانور بھی اس روڑے (پتھر کے ٹکڑے) کی طرف نہںو بھاگتے جو انہں مارے جاتے ہںہ، ان ہاتھوں کی طرف لپکتے ہں جو روڑا مارنے والا ہوتا ہے۔ بھائی! مفسد خون کے علاج کے بجائے پھوڑے پھنسونں کے علاج مںا سر کھپاتے رہو گے تو وہ ایک جگہ سے مٹ کر دوسری جگہ اُبھر آئںو گی۔ کان مادی اسباب اصل حققتک ہں : بعض دانشوران قوم اسباب کی تلاش مں بھی نکلے ہںے انہوں نے اپنی مخصوص ذہنتک کی روشنی مںا مختلف اسباب بھی متعنب کےل ہںض۔ جو تمام کے تمام مادیت سے تعلق رکھتے ہں جن کی حققتں نتائج مں بہتری لانے سے ہے جس کی حت۔ ثانوی بنتی ہے اور طرزعمل اس سے بہتر اختاکر کاحجاسکتا ہے، ان کی اہمتی ختم کےہ بغرں ان پر ایک اچٹتی نظر (Cursory Glance) درج ذیل ہے: 1…دانشوروں کا خاکل ہے کہ انسانتک کا سب سے بڑا مرض یہ ہے کہ اس کی ایک بہت بڑی تعداد اییک ہے جسے پٹu بھر کر کھانا نہںذ ملتا۔ انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایسے نادار لوگوں کو بلامعاوضہ دو وقت کا کھانا فراہم کاد جائے۔ یناً یہ ایک بہت بڑی نیہں ہے جو نیتا کرنے والوں کے لےن رضائے الہٰی، قرب الہٰی اور اجر کا باعث بھی ہے آج اس قابل تحسند حل پر عمل بھی ہورہا ہے لکنی اس طرزعمل سے ابھرنے والے نقشے پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ متوسط طبقے کے وہ افراد جو اپنی دناس آپ پدقا کرکے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے رہے تھے وہ بھی نادار طبقے کے حصے سے ہاتھ صاف کرنے لگ گئے جو یناً نادار کے حق پر ڈاکہ ہے، نادار طبقہ اپنی مشکلات حل کرنے کے لےے مشقت کے بجائے اس سہولت پر ہی انحصار کرتا چلا جارہا ہے جو یناً شریفانہ بھکا کی علامت اور پہلی منزل ہے جہاں سے ہچکچاہٹ، جھجک، شرم، خوف، تذبذب، سوچ بچار، حجاب، گھبرا کے پچھےت ہٹ جانا وغر ہ وغر ہ اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہں ۔ اور اس کی جگہ بے شرمی، بے باکی، بے حاجئی، بے دھڑکی، بے حسی، بے غرچتی، بے راہ روی، بے مروتی، بے رخی، بے وفائی، بے ہمتی وغر ہ وغرجہ پروان چڑھتی ہے۔ تز ی سے پھلتی پھولتی ہے اور تہذیب مغلوب ہوجاتی ہے، بے ہودگی کا راج اپنے پر، پرں نکال لتای ہے۔ پھر یہ کوئی مستقل نہںج عارضی حل ہے جس کے نتجےی مں مستحق و غرامستحق ناداروں کی فہرست طویل سے طویل ہوتی چلی جارہی ہے (کائ معاشرے مںج اییً مثالںک پشو کی جاسکتی ہںس کہ کسی زکوٰۃ لنےر والے نے آکر یہ کہا ہو کہ مر ے حالات درست ہوگئے ہںچ اور اب مجھے زکوٰۃ لنےر کی ضرورت نہںج ہے، اییک تو مثالںں موجود ہںد کہ ہر آنے والا پہلی مرتبہ ملنے والی زکوٰۃ کے ڈبل کردیے جانے کا جبری مطالبہ کرتا ہے) فاوضوں کی فاکضی جواب دیین چلی جارہی ہے خاکم بدھن کاب اس نینے کی کوکھ سے برائی تو جنم نہںا لے رہی؟ 2… کچھ دانشوروں کی رائے یہ بھی ہے کہ انسانت) کا اصل روگ ناخواندگی (Illiteracy) ہے انہوں نے علم بڑھانے کے نام سے تعلییۃ ادارے کھولے۔ معلومات کا سمندر ٹھاٹھں مارنے لگا۔ ایک ایک گلی مںl مختلف ناموں سے کئی کئی اداروں نے اپنے اپنے منہ کھول لےہ۔ نئی نئی زبانیںسکھائی جانے لگںی، بعض ادارے خالص عصری تعلم ، بعض خالص مذہبی تعلما اور دیگر مذہبی و عصری تعلمک کے حسنن امتزاج کے لے مختص کےک جانے لگے۔ آئے دن اس مں اضافہ در اضافہ ہورہا ہے۔ اس قابل تحسنو حسینیلغار (ناخواندگی پر بھرپور حملے) (March) کا حلہے حققتج کے آئنے مںض دیںھل جس کے خدوخال (Features) درج ذیل ہںے: (i)… بلاخوف تردیدیہ ایک حققتی ہے کہ اس دنا کا امن برباد کرنے، نقشہ بگاڑنے، آبادیاں اجاڑنے، محبت کی کوکھ بانجھ کرنے، نفرت کی جھاڑیاں اُگانے، عداوت کے پہاڑ کھڑے کرنے، قتل کی وادیاں بسانے، دہشت کے جھکڑ (آندھاےں) چلانے، مروت کی زمنت بنجر کرنے مںا مکمل ہاتھ تالپہا فتہ طبقے کا ہے۔ ناخواندہ دھقان تو آج بھی اپنے حصے کی شمع جلاکر چوپال (Club) مںم بیٹھ کر حقّہ گڑگڑا رہا ہے۔ اس کی معلومات کچھ بھی نہںھ لکنہ اس کا شعور تعلاقانفتہ سے بہتر ہے۔ بابائے ادب جناب اشفاق احمد مرحوم فرماتے ہںا مںر سائنسی معلومات حاصل کرکے گاؤں گان اور چوپال مںا بٹھے ایک بابے سے پوچھا بتاؤ مکھی کی کتنی آنکھںر ہوتی ہںگ؟ اس نے کہا دو(2) مںح نے کہا اس کی ہزار آنکھںی ہوتی ہںپ حقّہ گڑگڑاتے ہوئے کہا تف ہے! اس کی زندگی پر ہزار آنکھںl ہونے کے باوجود گندگی پر بیٹھتیہے۔ آج تعلا یافتہ لوگوں نے اپنے جسے انسانوں کو علم کے زور پر یرغمال (Hostage) بنا رکھا ہے، اپنی ایجادات کی قوت سے غریبوں کا استصایل (جڑ سے اکھیڑنا) جاری رکھا ہوا ہے، حفاظت کے نام پر ہلاکت بانٹ رکھی ہے۔ خدمت کے نام پر لوٹ مار مچا رکھی ہے۔ سرفروشی کے دعوے کی آڑ مںک وطن فروشی کا بازار لگا رکھا ہے۔ وطن کی خدمت کا عَلَم (جھنڈا) بلند کرکے بطن (شکم) پروری مںں لگے ہوئے ہںر، معتبری کی سند حاصل کرکے فراڈ اور غبن کے تنبو (Tent) تانے ہوئے ہںج۔ یہ ظالم ایسے حساب (Mathematics) جانتے ہں جن سے غریب کے دانے بھی ان کی جھولووں مںا آگرتے ہںی۔ (ii)… نتونں کا حال تو عالم الغبد ہی جانتا ہے لکنب کاد تعلییر اداروں کے مالکان، پرنسپلز، ناظمنے، مہتممین نے اپنے اپنے اداروں کے ذریعے مختلف تعلیںر ناموں سے دولت کے پہاڑ کھڑے کرنے کی فکٹر یاں قائم نہں کر رکھں ؟ (کاپ لوگوں کی ناگزیر مجبوریوں کے بل بوتے (زور) پر اسکولز، شادی ہالز، ہسپتالز کاماےب کاروبار مںا نہںر ڈھل گئے) انہوں نے مختلف فسوپں کے ذریعے والدین کی دولت کا، مختلف غر تعلیکو سرگرمولں (کھلس کود، ناچ گانے، فروٹ ڈے، یونفاڈرم و لباس ڈے وغرفہ وغرںہ) کے ذریعے طلباء کی تعلم کا کم سے کم تنخواہ کے ذریعے اساتذہ کی صلاحتواں کا استصاڈل کررکھا ہے۔ اس نامعقول پے اسکلظ کے بعد (بعض) استانانں طلباء کی کاپومں مںخ (Write Again) کی بجائے (Right Again) نہ لکھں تو کاا لکھں ؟ ذمہ داران اپنے اداروں کے پے اسکلء کا صرف اپنے کچن کے اخراجات سے موازنہ کرکے بتائںt کان انہوں نے منلملا اور دیگر اسٹاف کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے گلے نہںف گھونٹ رکھے ؟ کاہ اس قساوت قلبی کے بعد نتونں کا حال جاننا ضروری ہے؟ (iii)… سرکاری تعلیٹ اداروں کے حوالے سے شندنیہ ہے کہ اقوام متحدہ کے تعلینن شعبے سے ملنے والی امداد اور ملکی بجٹ کی تعلمت کے لےi مختص کی جانے والی رقم کا اکثر حصہ متعلقہ شعبے کے وزیر سے لے کر اعلیٰ افسران کے درماےن حسب حت ا تقسم ہوجاتا ہے۔ اس کے بدلے آسان امتحانی پرچے، امتحان گاہوں مںص نقل کی اجازت، پرچے چیک کرنے والوں کو ہلکا ہاتھ رکھتے ہوئے عمومی رعایت کے حکم، پسے لے کر نتجہا تبدیل کردیے جانے کی وبا، طلباء کے کاندھوں اور کمروں پر صرف کتابوں کا بوجھ، شہروں مںم تعلیاس اداروں کی کمرشل پلاٹ مںہ تبدیی ، دیہاتوں مںی اصطبل مںا بدل دیے جانے کی صورت مں ملتا ہے۔ (vi)… چوری، ڈکیشل، ناجائز قبضہ، بھتہ خوری، لوٹ مار، قتل و غارتگری وغرںہ وغر ہ کی نتر سے تعلمہ حاصل کرنے والے کو پڑھانا رہزن کو ہتھا)ر فروخت کرنے کے مترادف ہے۔ جناب! علم تعمرب کے بجائے تخریب اور امن کے بجائے فساد کا ذریعہ بن رہا ہے ظاہری بات ہے چور کو لوہار کا فن آجائے تو وہ تجوری، لاکرز ہی توڑے گا۔ عرصہ دراز سے (مذہبی وغرامذہبی) تعلیے ادارے گنبد پر اخروٹ سجانے کی ناکام سعیٔ مسلسل کررہے ہںا۔ (v)… تعلینا صلاحتولں کا نقشہ لطفوزں کی صورت مںل برآمد ہوتا ہے جو درج ذیل ہںل: ۱… انسپکٹر! (کلاس میںسوال کرتے ہوئے) تمہںی کس نے پد ا کاہ؟ طالب علم! (جواب دیتے ہوئے) سر! جس طالب علم کو اﷲ تعالیٰ نے پدما فرمایا ہے وہ آج غرت حاضر ہے۔ ۲…انسپکٹر! سومنات کا مندر کس نے توڑا؟ طالب علم! سر! مںن نے نہںر توڑا۔ کلاس ٹچرہ! سر! پوری کلاس مںر سب سے شریف بچہ ہے منع کررہا ہے تو یناً اس نے نہں توڑا۔ ہڈر مسٹریس! سر! یہ استاد شاگرد کا معاملہ ہے وہی بہتر جواب دے سکتے ہں۔۔ بورڈ آفسرم! آپ کس جھنجھٹ مںط پڑگئے ہںگ ٹوٹ ہی گات ہے تو سرکاری خرچے پر بنوالںر۔ ۳… انسپکٹر (بلکک بورڈ پر لکھتے ہوئے) (Nature) (نچرن) یہ کار لکھا ہے؟ طالب علم نٹورے۔ (انسپکٹر کلاس ٹچر کی طرف دیکھتے ہوئے) کلاس ٹچر( سر ابھی بچہ ہے مٹورے (Mature، مچوچر) ہوجائے گا تو اصلاح کرلے گا۔ (انسپکٹر نے بچے اور کلاس ٹچرپ کو ہڈئ مسٹریس کے دفتر مں لے جاکر روئدaار سُنائی)۔ ہڈس مسٹریس (کلاس ٹچرں کو ڈانٹتے ہوئے) کونں بچے کا فٹورے (Future، فو(چر) برباد کررہی ہو۔ 3… بعض دانشوروں کے حاشۂر خارل میںیہ بات سمائی کہ اصلاح کا نسخہ تنظما (منظم جماعت) مںب چھپا ہوا ہے لہٰذا انہوں نے اپنی ذہنی قوتںو لگاکر ان تھک جسمانی توانائاڈں صرف کرتے ہوئے اچھے، برے لوگوں کا ایک مجموعہ جمع کرلاا اور اس مجموعے کو ایک بھلا نام بھی دے دیا۔ لکنت اس کا یہ نتجہ ابھر کر سامنے آیا کہ جو وارداتںع پہلے غرک منظم طریقے پر ہوتی تھںے اب منظم طریقے سے ہونے لگں ۔ اب چوریوں، ڈکومکنں، لوٹ مار جیجہ بداخلاقو ں کو ایک نئی طاقت مل گئی۔ ان قباحتوں کو تنظیکے شلٹر (پناہ گاہ) حاصل ہوگاب۔ 4…بعض دانشوروں کی ذہنی سطح نے یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ فساد کی جڑ زبانوں کی کثرت ہے۔ ملکی ترقی، قومی خوشحالی اور انسانتض کی خدمت ییھ ہے کہ روئے زمنا پر بسنے والے انسانوں کی زبان ایک اور مشترک ہونی چاہے ۔ اس کا حشر بھی آنکھوں سے دیکھا جاسکنے والا ہے کہ پہلے چوری، غبن، فراڈ اگر مقامی تھا تو اب زبان دانی نے اسے بنش الاقوامی روپ دے دیا۔ 5…بعض دانشوروں کے دل کی آواز یہ ہے کہ ظلم کے خاتمے کے لے پوری دناا کی تہذیب کلچر ایک ہونا چاہےھ۔ لکنن مشاہدہ اس بات کی گواہی دیتا ہے یہاں تہذیںرا نہںں ہوس ٹکراتی ہے ہم جساش دوسرا کوئی نہںا کا ہلاک کردینے والا جذبہ ٹکراتا ہے۔ 6… بعض دانشور یہ صدا لگا رہے ہں کہ تمام انسانوں کا یونفا رم (لباس) ایک جساو ہونا چاہےس ہائے! جس کے دل مںہ انسانتذ کا احترام نہ ہو، جسے گریبانوں پر ہاتھ ڈالنے کی عادت ہو جسے جںں کاٹنے کی لت لگ جائے وہ لباس کا احترام کرے گا؟ ؎ مںا ہل چلا رہا ہوں حقارت کے کھت مںں اخلاص بو رہا ہوں عداوت کی ریت مںا ؎ہماری سادہ لوحی کوئی دیکھے اندھیرا کر کے سایہ ڈھونڈتے ہںھ ؎اس طرف اٹھتے نہںا ہاتھ، جہاں سب کچھ ہے پاؤں چلتے ہںہ ادھر کو، جہاں کچھ بھی نہںت ہریشانو ں کا اصل سبب: مندرجہ بالا اسباب نہ صرف مادیت سے تعلق رکھتے ہںن بلکہ یہ تمام کے تمام اسباب انسان سے باہر پائے جاتے ہںر جبکہ انسانتت کا بجچ خود اس کے اندر گل سڑ رہا ہے۔ شرافت کی زمنچ شرارت کے سم و تھور سے بری طرح متاثر ہے۔ ایثار کے تنے کو خودغرضی کی دیمک اندر سے کھوکھلا کرتی چلی جارہی ہے۔ محبت کی بنامدوں کو نفرت کی کدالوں سے کھودا جارہا ہے۔ نرمی کی شاخوں کو جبر کی آریوں سے کاٹا جارہا ہے۔ پوری ہوسکنے والی ضرورتوں پر نہ پوری کی جاسکنے والی خواہشات کا ملبہ (Debris) گرایا جارہا ہے۔ قناعت کی چادر کو حرص کی طاقت سے پھاڑا جارہا ہے۔ عصمت کے پودوں کو ہوس کے پر وں سے کچلا جارہا ہے۔ غرضیکہیہ تمام صورتںہ دل کے فاسد ہونے کا نتجہ ہںے جساککہ اس کی تائد نبیﷺ کی حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے۔ ارشاد ہے ’’خبردار! جسم کے اندر ایک گوشت کا لوتھڑا (Lump of Flesh) ہے اگر وہ درست ہوجائے تو سارا جسم درست ہوجاتا ہے اگراس مں فساد واقع ہوجائے تو سارا جسم فاسد ہوجاتا ہے خبردار! وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔‘‘ دل سارے جسم کا سردار ہے جسم کے سارے اعضاء اسی کے تابع ہںس حتی کہ ذہن بھی۔ اعضاء سے صادر ہونے والے اعمال دل کی خواہش سے مطابقت رکھتے ہیںیہاں تک کہ ذہن کے خا لات، اس کی سوچ، اس کے منصوبے دل کی چاہت کے مناسب ہوتے ہںر۔ موڈ (مزاج) (Mood) بھی دل سے موافقت رکھتا ہے۔ محبت اور نفرت کا تعلق بھی اسی سے ہے۔ ضد، حسد، بغض، کنہت، عداوت کا ٹھکانہ بھییہی ہے۔ قبولت اور عدم قبولتن کا ٹھکہا (Contract) بھی اس نے اپنے پاس ہی رکھا ہوا ہے۔ اطاعت و نافرمانی بھییہیں سے حکم پاتے ہں،۔ حکمرانی و تابعداری بھی اسی سے سند پکڑتے ہںو، سفر و حضر کے احکام بھییہیں سے موصول ہوتے ہں ۔ نرمی و قساوت بھییہیں ٹھہرتے ہں ، دلچسپی و عدم دلچسپی بھی اسی سے وابستہ ہں ۔ انہماک و اکتاہٹ کا منبع بھییہی ہے۔ فاcضی و بخل کے سوتے بھییہیں سے پھوٹتے ہںم۔ اختایر و مجبوری کے پھول کانٹے بھییہیں اُگتے ہںی۔بہادری کی کھاول ں بھییہیں لہلہاتی ہں ۔ عشق و انکار کے سودے بھییہیں ہوتے ہں ۔ قمتوںں کے اُتار چڑھاؤ کے فصلے یںگت پنپتے ہںہ۔ پسند و ناپسند کا اختانر بھی اسی کو حاصل ہے۔ دیانت و خاقنت بھی اسی مںں بستے ہںو۔ اخلاص و ریا کا تعلق بھی اسی سے قائم ہے۔ ایمان و کفر سے دوستی بھییہی رکھتا ہے۔ اخلاق و بداخلاقی کے درخت بھییہیں زندگی پاتے ہںت۔ عفووانتقام کی نشوونما بھییہیں ہوتی ہے۔ کسی کے ساتھ نیکییا برائی کا فتویٰ بھییہیں سے صادرہوتا ہے۔ ملکوتتت (Angelic Qualities) یا بہتھیی (Animality) (Rapacity) کی ترجحب بھییہیں سے حاصل ہوتی ہے۔ رحم یا سفاکتل (Cruelity) کے جذبات کا خزینہ بھییہیں گھٹتا بڑھتا ہے۔ روحانیتیا شطاسنتب کی سرحد (چاردیواری) یںدگ بنتی بگڑتی ہے۔ بدقسمتی سے آج کے انسان کے گوشت کے اس لوتھڑے مںا مثبت کے بجائے منفی ولولے (جوش) (Zeal) غلبہ پاگئے ہںگ۔ خرہ کے بجائے شر سرایت کرچکا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سینے مںر دھڑکنے والا یہ لوتھڑا دل نہںگ پتھر کی سِل بن چکا ہے۔ (عجب اتفاق ہے کہ پہلے بھییہ لفظ بغرس نقطوں کے تھا، اب بھی بغرل نقطوں کے ہی ہے۔ فرق اتنا ہے پہلے اس مںa بدی کا کوئی نقطہ نہںی تھا، اب اس مں بھلائی کا کوئی نقطہ ہی نہںا ہے۔ پہلے بھی اس مںہ دو ہی حرف تھے، اب بھی اس مںے دو ہی حرف ہںت۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ لفظ شر کے لےک باہمی بگاہنگی کا ثبوت علحد ہ علحددہ رہ کر دے رہے تھے اب دونوں ایک ساتھ مل کر خرق سے مزاحمت اور شر کا دفاع کررہے ہںا۔) ایسا کولں ہے؟ علم الاولنہ والآخرین رکھنے والے مخبر صادق نبیﷺ سے پوچھتے ہںی۔ ارشاد ہے ’’جب انسان اپنے رب (پالنہار، پروردگار، رازق) کی نافرمانی کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک ساوہ نقطہ (دھبّہ، داغ) لگ جاتا ہے اس کے بعد توبہ کرتا ہے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے ورنہ لگا رہتا ہے۔ دوسری نافرمانی کرتا ہے تو دوسرا نقطہ لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا پورا دل کالا ہوجاتا ہے پھر خرف کی کوئی بات اس مںا سرایت ہی نہںا کرتی۔‘‘ رب تعالیٰ نے اپنے کلام مںر اسے زنگ سے تعبرو فرمایا ہے اور اسے اعمال کا نتجہک قرار دیا ہے جسائکہ ارشاد ہے {کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبہھِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ} (سورۂ مطففین آیت14) ’’بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گات) ہے۔ سبب جانچنے کا ایک اچھوتا انداز: انسانتک کے متلاشوگں نے انسانت کی سطح کو جانچتے ہوئے ایک اور اچھوتا انداز بھی اختا}ر فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہںع کہ انسانتا کی سطح متحرک (Movable) رہتی ہے ایک جگہ ٹکتی نہںت ہے اگراس پر خرھ کی محنت ہوتی رہے تو یہ بڑھتی ہے اور ایسا انسان فرشتوں سے درجات مںی فوقت) لتاا رہتا ہے (ملکوتتح کی سطح جامد ہے اس مںا نہ بڑھنے کی صلاحیت ہے نہ گھٹنے کی۔ لکنے انسانتن کی سطح بلند سے بلندتر و بلند ترین مقامات تک پہنچ سکتی ہے کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔ جلنے لگںر جبرئلت کے پَر جس مقام پر اس کے شناسا تم ہی تو ہو (ﷺ) لکنو خرق کی محنت چھوڑ دی جائے تو انسانت کی سطح گرنا شروع ہوجاتی ہے یہاں تک کہ ایسا انسان جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ جانوروں کی اقسام: کہا جاتا ہے کہ جانور پنے کے حوالے سے جانوروں کی تند قسمںن ہںض: ۱۔ اپنا نفع حاصل کرتے رہنا، دانستہ کسی کو نقصان نہ پہنچانا۔ ۲۔ کسی کو نقصان پہنچا کر اپنا نفع حاصل کرنا۔ ۳۔ کسی کو نقصان پہنچانا لکنن اس مںص اپنی ذات کا کوئی نفع نہ ہونا۔ پہلی قسم مں بھڑن، بکری، گائے، بھنس وغرْہ جانور پائے جاتے ہں جنہں وقت پر ان کا دانہ پانی مل جائے تو ایک طرف بیٹھ کر جگالی(Rumination) کرتے رہتے ہںک۔ انسان جب اپنی انسانی سطح سے گرتا ہے تو جانور پنے کی پہلی سطح پر آتا ہے اس وقت اس کی سوچ و عمل کا محور یہ ہوتا ہے ’’یا شخی اپنی اپنی دیکھ۔‘‘ دوسری قسم مںک چرڑنے، پھاڑنے والے جانور آتے ہںی جسے شرا، چتاا، بھڑتیا وغر ہہن اپنی خوراک کے لے دوسرے جانداروں کی جان لے لتےل ہںہ۔ انسان گرتے ہوئے پہلی سطح کے بعد اس دوسری سطح پر پہنچتا ہے پھر یہ غریب، نادار، مجبور و معذور و بے بس و بے کس کے خون پر پلتا ہے۔ پنجۂ استبداد سے اپنا منافع حاصل کرنے کو اپنی ضرورت بنا لتار ہے۔ تسرکی قسم مںہ ڈسنے اور ڈنک مارنے والے جانور آتے ہںپ جسےر سانپ، بچھو۔ یہ عادتاً دوسروں کو ڈستے اور فطرتاً دوسروں کو ڈنک مارتے ہںس لکن ذاتی طور پر اس سے ان کو کوئی فائدہ نہںے پہنچتا۔ انسانی سطح سے محروم ہوجانے والا انسان جانور پنے کی پہلی دوسری سطح سے ہوتا ہوا تسرنی سطح پر آگرتا ہے پھر اس کے اعمال پدداواری نہںپ ایسے غر پدلاواری، تعمر ی نہںر ایسے تخرییج بن جاتے ہںح جس سے ذاتی طور پر عامل کو کوئی فائدہ نہں ہوتا۔ اور ایسا انسان {خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃَ}(سورۂ حج آیت 11) ’’اس نے دنار اور آخرت کا نقصان پالا ‘‘ کا مصداق بن کر رہ جاتا ہے۔ جانوروں سے بدتر انسان: جانوروں کی اقسام تو مندرجہ بالا تنک اقسام تک ہی محدود ہںر لکنپ انسان اس سے بھی نچےا آتا ہے۔ شرم شرروں پر، چتے چتو ں پر، بھڑویے بھڑایوں پر منظم حملے کرکے اپنی درندگی اور سفاکتک کا مظاہرہ نہںس کرتے لکنی انسان اپنے ہی جسےج انسانوں پر منظم حملے کرکے اپنی درندگی اور سفاکتں کے ہوش ربا، روح فرسا، ناقابل تردید ثبوت پورے فخروگھمنڈ سے پشا کرتے رہنے مں ہمہ تن منہمک ہوجاتا ہے۔ پھر یہ سانپ کے زہر اور بھڑ یے کے پنجے سے زیادہ خونخوار بن جاتا ہے، وہ صورت سے آدمی نظر آتا ہے مگر خواہشات مںت بھڑایے کو بھی مات دے دیتا ہے پھر اسے کبوتر مارنا مشکل دکھائی دیتا ہے لکنا انسانی جانوں سے کھلناے اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ بالآخر بھڑییے کے پنجے اس کے دندان تبسم سے زیادہ نیک معلوم ہوتے ہںہ۔ ان وحشی جنونی درندوں کو کلام اﷲ کی نظر سے دیکھا جائے تو برملا زبان پر آیت جاری ہوجاتی ہے {اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ} (سورۂ اعراف آیت 179) ’’یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہںز بلکہ ان سے بھی بدتر ہںا۔‘‘ یہ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو اپنے نفع سے بے زار اور اپنی نجات سے آزاد بنالتےت ہں بلکہ {فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ} (سورۂ حشر آیت 19) ’’تو اﷲ نے بھی انہںے اپنی جانوں سے غافل کردیا۔‘‘ کا مصداق بن کر رہ جاتے ہںت۔ جبکہ جانوروں کا شعور ان کے شعور سے بدرجہا بہتر ہوتا ہے۔ فساد کی جڑ اور علاج: فساد کی اصل جڑ بگڑا ہوا دل ہے اس دیمک زدہ دل نے انسانت۔ نامی درخت کی جڑوں کو اندر سے کھوکھلا کرکے مفلوج کردیا ہے۔ اب نہ باہر کا صحت بخش ہواؤں کا اسپرے کارگر ثابت ہورہا ہے، نہ روح بخش پانی اسے سر اب کر پارہا ہے۔ نہ کسان کی محنت کا کوئی مفدن نتجہا ظاہر ہوپا رہا ہے، نہ زمندنار کی تمنائںے کام آرہی ہںئ بلکہ ان سب کارگزاریوں سے نقصان در نقصان کی فضا غالب ہوتی جارہی ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے دل کی اصلاح کے لےر دل تخلقا کرنے والے نے باہر کی مادی اشازء کو اییا کوئی اہمت بھی نہں دی ہے جس کے بغری دل کی اصلاح ہو ہی نہ سکے اگر ایسا ہی ہوتا تو جس طرح سب کو دل دیا ہے اسی طرح سب کو دناو بھی دی ہوتی؟ لکنر حققتی مںی ایسا ہے ہی نہں۔۔ دل دے کر دنا کے مختلف خانوں مںے مختلف لوگوں کو رکھا ہے۔ اور انہی خانوں مںن رہتے ہوئے سب کے دل کی اصلاح کو ممکن بنایا ہے (دل کی اصلاح کے لےہ نہ امرہ کو فقر بننے کی ضرورت ہے، نہ فقرم کو امر۔ کے خانے مںئ پہنچنے کی ضرورت ہے، نہ مرد کو عورت کا حلہی بنانے کی ضرورت ہے، نہ عورت کو مرد کا روپ دھارنے کی ضرورت ہے۔) سواچودہ سوسال پہلے دنال کے نقشے پر انسان تو تھا لکنن ظاہر مںے انسانتو کا کہںا نام و نشان نہںل تھا۔ انسانتر تو تھی لکنی وجود انسانی کے اندر ہی کہںہ کسی کونے کھانچے مںن جاں بلب پڑی سسک رہی تھی۔ زمنا پر پائے جانے والے انسانی طبقات مں سے کوئی طبقہ کسی طبقے کا کوئی فرد اس کا پرسان حال نہںن تھا۔ ذراذرا سی بات پر آپس مںے کشت و خون (قتل و غارتگری) کرنے والوں کے بس کی بات ہی نہںی تھی کہ وہ اصلاح معاشرے کا بڑذا اٹھا سکںں۔ فلسفی، شاعر، ادیب و دانشور تو زمنک کی پیٹھ پر پائے جاتے تھے لکن ان کے لےن بھی زمنا کا پٹا اس کی پیٹھ سے بہتر تھا اس لےس کہ کوئی بھی اقدار انسانتز کی زمنں (دل) ہموار کرنے کا یارا (حوصلہ) نہ رکھتا تھا وہ تو خود صرف اور صرف اپنے آپ کو اپنے اپنے شعبوں مںص اقتدار انسانتا کے منصب پر فائز کرنے اور مسند پر بٹھانے کی ناقابل تنسخو حرص رکھتا تھا (چنانچہ پامسا پاتسوں کی پا س کا کاب انتظام کرے گا وہ تو قدرت کے عطاکردہ مفت پانی کے استعمال پر ٹکسے لگاتے لگاتے بالآخر ضرورت مند لوگوں کے پانی پر پہرے بٹھا کر اس کے استعمال ہی پر پابندی لگا دے گا۔) اس دناو کے خالق و مالک کو اپنی اس دناا کہ یہ نقشہ منظور نہں تھا۔ اس نے مکہ مکرمہ کی سرزمنک پر انسانتا کا پکرٹ، اقدار کا مجسمہ ، اخلاقابت کا سراپا انسان توالد و تناسل کے مروجہ طریقے کے عنا مطابق بھجا ۔ بلامبالغہ ناقابل تردید حقیقتیہ ہے کہ اس وقت انسان نما درندوں کے درما نیہی ایک انسان تھے جو پدیائش سے لے کر دناج سے پردہ فرما جانے کی تریسٹھ سالہ مدت مںک مستقل و مسلسل بلا کسی وقفے کے کامل انسانتم کا نمونہ تھے، ہںی اور قاجمت تک رہںن گے۔ ان تریسٹھ سالوں مںا چالست سال کا عرصہ وہ ہے جس مںس آپ(ﷺ) نے درندگی کے ٹھاٹھںی مارتے سمندر مں درندگی سے پاک زندگی جی کر دکھائی۔ اییٹ زندگی جو دوسروں سے پوشدپہ نہںے تھی۔ فحاشیت کے گہرے سمندر مںم اجمل (سب سے زیادہ خوبصورت) (Most Beautiful) ہوتے ہوئے بھرپور جوانی کے ساتھ ازکیٰ (سب سے بڑھ کر پاکزاہ) (Pious) زندگی گزار دینا ہنسی کھلt اور مذاق نہں تھا (مخالفنر نے ضد اور عناد کی وجہ سے مختلف چھوٹے الزامات تو ضرور گھڑے لکنڑ کوئی کٹر سے کٹر دشمن بھی آپ(ﷺ) کی پارسائی پر انگلی نہ رکھ سکا، نہ اُٹھا سکا)پشت پناہی (سہارے، معاونت) کے حوالے سے آپﷺ کو گھر کے افراد بھی مسرز نہںس تھے، پدیائش سے پہلے ہی والد کا سایہ اٹھا لار گاو، لڑکپن کے زمانے مںم دادا اور والدہ واپس بلا لےگ گئے، تبلغھ کے کٹھن اور انتہائی دشوار گزار سفر کے دوران چچا اور اہلہ( کی زندگونں کی تکملا کرادی گئی۔ اولاد نرینہ (مذکر) (Male) دی ضرور گئی لکنا ساتھ چلنے کے قابل ہونے سے پہلے ہی داغ مفارقت (جدائی کا صدمہ) دے گئی۔ تعلیقت حوالوں سے کسی استاد کے سامنے بیٹھ کر شاگردی اختا ر کرنے کی کوئی کمزور سے کمزور، گھڑی ہوئی روایت بھی ثابت نہںی ہے، نہ اپنوں کی طرف سے، نہ ہی دشمنوں کی طرف سے بلکہ قادرمطلق جل جلالہ نے تو ببانگ دہل، علی الاعلان، ڈنکے کی چوٹ پر، قا،مت تک نہںا ابدالآباد تک پڑھا جانے والا، لکھا جانے والا، کہا جانے والا، سنا جانے والا، سنایا جانے والا، بغرئ ہچکچاہٹ کے مانا جانے والا، کسی بھی طرح نہ جھٹلایا جاسکنے والا لقب امی (جس نے کسی استاد سے نہ پڑھا ہو اور اﷲ رب العزت کے نظام تعلمن و تربتئ سے براہ راست مسلسل منسلک رہا ہو) چار دانگ عالم مںن ایسا مشہور کرادیا کہ خود رب العالمنر نے بھی فرمایا، جبرئلب امنل علہس السلام سے کہلوایا، نبیﷺ نے سنا، پڑھا، پڑھایا، اصحاب ایمان (صحابہ کرامؓ) نے سنا، ایمان لائے، سکھاا، پڑھایا تادم آخر پڑھاتے رہے یہ سلسلہ بلاتعطل چودہ سو چونتسہ (1434) سالوںسے اپنی تمام جزئاشت کے ساتھ چل رہا ہے۔ تاقا مت مسلسل چلتا رہے گا یہاں تک کہ جنت مںل اہل جنت اﷲ جل شانہ کے شایان شان ان کی زبان اقدس سے سنتے رہں گے ۔(اللھم اجعلنا منھم) مالی و مادی حوالوں سے شہنشاہ عالم ﷺ کی اختاار کردہ زاہدانہ زندگی تاریخ کے صفحات پر یہ مہر ثبت کررہی ہے کہ زندگی بھر کسی بھی لمحے ظاہری طور مالی و مادی اسباب جمع ہی نہںا ہوئے کہ اس کی لالچ مں لوگ کھنچے چلے آرہے ہوں۔ جبکہ لوگوں کی زندگی کا مطمع نظر (اصل مقصد) (Aim) ہر حال مں صرف اور صرف مال جمع کرنا تھا۔ یہ بھی آپﷺ کا ایک معجزہ ہے کہ بغرک مال و زر کے ایک تحریک اٹھائی اور انسانت کا بڑ ا مکمل کاماتبی کے ساتھ پار لگادیا۔ نبیﷺ نے ماں کے پٹ سے پد ا ہونوص الے انسان کے اندر قدرت کی عطا کردہ انسانتت کی جوت جگانے (روشنی پدےا کرنے) (Kindle the light of human nature) کے لے کسی مادی شے کا سہارا نہںک لاد نہ کسی امرہ سے یہ فرمایا کہ جب تک مادیت کا جُوا (وہ لکڑی جو بلو ں کے کندھوں پر گاڑی کھنچنےا کے لےی رکھی جاتی ہے) اپنے کندھوں سے اتار کر پھنکہ نہں دے گا انسانتn کی گرد تک بھی نہں پہنچ سکے گا نہ کسی فقرک سے یہ فرمایا کہ انسانتک کی راہ مںل ترنے لے سب سے بڑی رکاوٹ تردا فقر ہے لہٰذا جب تک مادیت کی اتنی مقدار تر ے پاس جمع نہںا ہوجائے گی تو انسانتق کا اہل نہںھ ہوسکتا۔ بلکہ ہر سطح، ہر حتے ، ہر علاقے، ہر زمنج، ہر مزاج کے انسان نما وحشوےں کے دلوں کو مانجا، ایک طرف دلوں مںک بٹھایا جب کبھی بھی سوال کی ضرورت پڑ جائے اپنے پروردگار سے سوال کرو۔ دوسری طرف قلوب کا وجدان بنایا کل رب العالمنا اپنی عدالت مں بلاکر (تجھ سے) سوال کرے گا اے مروے بندے! مںا نے تجھ سے کھانا مانگا تونے مجھے کھانا نہںم کھلایا۔ نتیجہیہ نکلا کہ قرآن نے شہادت دی ’’اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجحا دیتے ہںا اگرچہ خود حاجت مند ہوں۔‘‘ تیئیس سالہ محنت کے نتجےس مںہ ایک دو نہںر، دس بس نہںس، سو پچاس نہںر، ہزار دو ہزار نہںی، ایک لاکھ چوبسں ہزار دورِجاہلتں کے زمینی حقائق سے مضبوط تعلق رکھنے والے، نبیﷺ کی غلامی اختایر کرکے انسانتر پدوا کرنے والے ایسے انسان بن گئے کہ قرآن نے کہا ایسا ایمان لاؤ جسائیہ ایمان لائے۔ پہلا، آخری اور واحد حل: انسانتن سے دلچسپی رکھنے والے انسانت کے متلاشونں کو اسی طریقے کو اپنانا ہوگا، اسی منہج (کھلی سڑک) پر چلنا ہوگا، ییک طریقہ طے شدہ ہے، اس سے دلوں کا فساد ختم ہوگا، درندگی، سفاکتے انسانتہ سے بدلے گی۔ قساوت سخاوت سے تبدیل ہوگی۔ جان لنےے والے (دوسروں کی جانوں کی حفاظت کے لےھ) جان دینے والے بنںگ گے۔ اﷲ تعالیٰ کا قہر اتروانے والے ہی مہر (رحمت و مہربانی) اترنے کا ذریعہ بنںو گے۔ ہبتے، وحشت، دہشت نہںس محبت اخوت حفاظت کا دور دورہ ہوگا۔ معاندت نہںل مسامحت (چشم پوشی) مساعدت (معاونت) کا راج ہوگا۔ بہتگے۔ (حودانتی) مغلوب ہوگی انسانتت غالب آئے گی۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
351