(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
دورِحاضر کے مسلمانوں کے خودساختہ مظالم کاایک جائزہ
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ دورِحاضر کے مسلمانوں کے خودساختہ مظالم کاایک جائزہ اﷲ تعالیٰ نے آج سے تقریباً چودہ سو چونتسا(1434) سال پہلے خود اپنا بنایا ہوا ’’دین‘‘ اس سے پہلے کے اپنے تمام ادیان کو ’’منسوخ‘‘ (Cancelled) قرار دیتے ہوئے، اپنے بندوں کے لےا اسے ’’پسندیدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے، اپنی بارگاہ مں‘ اسے ہی ’’شرف قبولت‘‘‘ عطا فرماتے ہوئے، اس کے آنے کے بعد اس کے علاوہ کے مذاہب کی ’’عدم قبولتا‘‘ کی واضح او ردوٹوک خبر دیتے ہوئے، اس کا نام اسلام اور اس کے ماننے والوں کو مسلم کہتے ہوئے بذریعہ حضرت محمدﷺ قاومت تک کے آنے والے اپنے بندوں کے لے بھجان ہے۔ دین اسلام عالمگرب(Universal)(ہررنگ، ہر نسل، ہر زبان، ہر حتاوہ، ہر علاقے، ہر زمانے کے لوگوں کے لےک) یکساں طور پر (قابل قبول) کامل اور مکمل (اس معنیٰ مںن ہے کہ ہر شعبۂ زندگی (یینے عبادات سے لے کر سماج تک) سے متعلق ایسے اور اتنے آسان، مناسب متوازن اور معتدل من حثi المجموع اصول اس مں موجود ہںہ جو قارمت تک کے ہر علاقے کے ہر انسان کے دنو ی مفادات کے محافظ بھی ہںک اور اخروی کاما بوبں کے ضامن بھی ہںت۔ نزےیہ تکلنو بھی خود رسول اﷲﷺ کے اس دناخ سے پردہ فرما جانے سے پہلے ہی کردی گئی۔) اس تکملب کی ایک واقعاتی خصوصتن بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ دوران تکملا نبی کریمﷺ سے دشمنان اسلام نے بعض باتوں سے متعلق یہ خواہش، فرمائش کی کہ انہںا تبدیل کردیا جائے۔ ’’صاحب شریعت جل جلالہ‘‘ نے ’’شارح شریعتﷺ‘‘ سے دوٹوک جواب دلوایا کہ مں، اپنی طرف سے اس مں کوئی تبدییئ نہںا کرسکتا۔ کانیہ اس بات کا ثبوت نہںر ہے کہ نبیﷺ سمتد کسی ادنیٰ و اعلیٰ، فاجروولی، جاہل و عالم، ندیدہ و برگذیدہ کو یہ حق حاصل ہی نہںک کہ اپنی ذاتی خواہش، ذاتی مرضی و مشیّت سے دین اسلام مںل ترممٰ، تبدیل، تنسخ ، کمی، اضافہ کی زیادتی، تحریری، علمی، عملی کوشش کرسکے۔(ایین کوئی بھی کوشش تحریف مںل شمار ہوتے ہوئے افترا علی اﷲ، کذب اور بہتان قرار دی جائے گی،یاد رہے کہ مجتہدین کے اجتہاد، فقہائے کرام کے فتاویٰ قرآن و حدیث مںا مخلصانہ غوروخوض، سوچ بچار او رآخرت کی جوابدہی کے استحضار کے ساتھ طے شدہ فقہی اصولوں کے مطابق ہوا کرتے ہںق اس لےل ان کے متعلق تحریف کا تصور گمراہی، حماقت اور بدنیحض ہے۔) نبیﷺ کا اسوۂ حسنہ ہی مطلوب و مقبول ہے: جوجو معاملات، مسائل اور اعمال نبیﷺ کے زمانے مںو پائے جاتے تھے اور ان کے متعلق خود نبیﷺ سے ثابت قولی ارشادات، تقریری مشاہدات، عملی اقدامات مستند احادیثی ذخرتے مںخ محفوظ ہوں تو اس کے بعد امتیوں کو اس پر بلا چوں و چرا، بلا کم وکاست، بغرو کسی ذاتی پوتندکاری کے عمل متعنت، لازم اور مطلوب ہے۔ بس اتنا اور ویا ہی عمل ’’عنداﷲ مقبول‘‘ ہے اس لےک کہ اس نے اسی عمل کو نمونہ اور مثال قرار دیتے ہوئے اسی عمل کا پابند بنایا ہے، اسی کے مطابق مواخذہ او رحساب ہوگا۔ اپنے عمل مںل اسی نمونۂ عمل (اسوۂ حسنہ) کے موافق اخلاص پدنا کرنا ہے، نہ کہ اس مںم ظاہری خوشنمائی پدےا کرنے کے لے، اپنی چاہت کے مطابق اپنی طرف سے تزئنس کی رواجی، سماجی اور مادی (Customary, Socially and Materialistic) صورتوں کی پونندکاریاں کرنی ہںخ۔ نزن دورِحاضر مںس پش آنے والے مسائل (جو اسلام کے ابتدائی تنs زمانوں مںa پشا ہی نہ آئے ہوں) کا حل قامس، اجتہاد اور اجماع کے قرآن و حدیث سے لےم گئے فقہی اصولوں کے ماتحت اخلاص اور امت کی خرںخواہی کے جذبے اور اخروی جوابدہی کے استحضار کے ساتھ اس شعبے مںر استحقاق رکھنے والے افراد ہی تلاش کریں اور امت ان کی حدود مںج محدود رہتے ہوئے اس پر اسے ’’شریعت‘‘ کا درجہ دیےے ہوئے عمل کرے۔ اس کے علاوہ کے خودساختہ، اپنی چاہت کے خوب سے خوب تر، عمدہ سے عمدہ، خوبصورت حل کو محتاط درجہ مںے صرف اور صرف جواز کا دیا جاسکتا ہے اس کو عمی طور پر وجوب کا درجہ دینا، زبانی طور پر اس پر اصرار کرنا، اپنی رائے کے خلاف آرا کو خلاف اسلام قرار دینا، اپنی رائے کے مطابق عمل نہ کرنے والوں کو تضحکو، تذللک، طنز و طعن و تشنع کا نشانہ بنانا، اپنی ان غرسمدلل آراء پر جمتے ہوئے دوسروں کا بطلان کرنا (To False)، اپنی آراء کو امت مں تفرقہ بازی کے لےر استعمال کرنا وغریہ وغررہ بذات خود محل نظر اور قابل غور ہے۔ دورِحاضر کے مسلمانوں کے اعمال کا جائزہ: مندرجہ بالا غرامتنازعہ، اصولی، تسلمل شدہ، حقیلو اسلامی زمینی حقائق کی روشنی مںل دورحاضر کی امت مسلمہ کے عباداتی سے لے کر سماجی اعمال کے احوال کا اگر اسلامی اصولوں کے مطابق تنقیحی، تفتیق وتحقیمت جائزے کی امت اجازت دے تو برملا متفقہ رائے ییا سامنے آئے گی کہ امت کے ہر عمل مںی بناکدی طور پر اﷲ تعالیٰ کو دکھانے کے بجائے بندوں کو دکھانے، ریا، شہرت، نام و نمود کا ٹھاٹھںآ مارتا سمندر بغرر کسی رکاوٹ کے موجں مار رہا ہے جس کا جوار بھاٹا (اتار چڑھاؤ) ناقابل ترمم ، ناقابل تنسخ اور ناقابل اصلاح ہے (اس حوالے سے ایک ہیناقابل تردید پغا م وقفوں وقفوں سے نشر ہوتا رہتا ہے کہ یہ تو کرنا پڑے گا، اس کے بغرہ نہں چلے گا، تم نہں سمجھو گے۔) ستم درستم یہ بھی ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ بھی نام و نمود، ریا و شہرت کے اس سمندر سے ایسا متاثر ہے کہ منہ پر مضبوط تالے ڈالے، آنکھوں، کانوں اور تجوری کے دروازے چوپٹ کھول کر دم بخود رہتے ہوئے اس گنگا مںو مسلسل غسل مں مصروف ہے۔ مووی کمرروں نے بلاامتیاز امت کے تمام طبقات مں مؤثر رسوخ حاصل کرتے ہوئے اس ریائی سمندر مںی مزید جوش و خروش کو تقویت فراہم کی ہے۔ مذکورہ اعمال کے دنو ی نتائج: دکھلاوے کے اس سمندر نے خشکی پر جس فضلے اور پھوک کو پھنکا ہے وہ ہے ریا، دکھلاوے اور فوٹوسشنج مں باہمی دوڑ (مسابقت)۔ اس غرو اعلانہر دکھلاوے کی دوڑ مںک تمام طبقات انسانی اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی ایسے سرپٹ دوڑے چلے جارہے ہںت کہ ہلکان (تھکے ہوئے) ہونے کے باوجود اس دوڑ سے دستبردار ہونے کے لےا تامر نہںل بلکہ اگر قانونی، اخلاقی رکاوٹںے بھی ڈالی جائںل تو ایک پھونک سے ان رکاوٹوں کو خاکستر (راکھ) کردیا جاتا ہے۔ اس مسابقت نے جن قبحی، گھمبرک، اندوہناک، شرمناک، قابل تعزیر، لائق مذمت، مستحق سزا، غرباخلاقی جرم کو جنم دیا ہے اس کے نام فخر، غرور، گھمنڈ، شی ق، اکڑ، تکبر، غرّہ، خودنمائی ، خودپسندی ہے جو کسی بھی صورت معزز و محترم انسان کے لے عزت بخش نہںو بلکہ دنا اور آخرت مںس سراسر ذلت، بدنامی، شرمندگی، بداخلاقی، بدکرداری، بدچلنی، بددماغی، بدراہی، گمراہی، بدنیمی، خواری اور رسوائی کا پش خمہی ہے جس کی تاب لانے کی سکت بھی انسان کے خمری مںر نہںل ہے۔ فخروغرور کا لازمی خاصہ یہ بھی ہے کہ بلاجواز مدمقابل مں حسرت، یاس، حسد جیکر کانٹے دار جھاڑیاں نہ صرف اگنی شروع ہوجاتی ہںر بلکہ بڑی برق رفتاری (Electrifying Speed) کے ساتھ ان پر بغض، کنہر، حسد جسےا مذموم، مدقوق (تپ دق سے بھرا ہوا) مردود، مسموم، (زہریلا)، مصلوب، معودب، مکروہ، ملعون، منحوس، پھل، پھول لہلہانے شروع ہوجاتے ہں،، ستم بالائے ستم آج کا معاشرہ جدت پسند ہے ہرہر عمل مں( ناکپن چاہتا ہے، لہٰذا خاکم بدہن ہمارے معاشرے نے ان مںن دھونس، دھمکی، جبر، قبضہ، لوٹ مار، چھناج جھپٹی، پرچی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، قتل وغارتگری، لاشوں کو ناقابل شناخت بنادینے جیعا سفاکتع بھری درندگی کی آمزٹش کرلی ہے۔ (یہ تو دنوری نتائج ہںو آخرت مں نہ جانے کسےم کسےا، کتنے کتنے رحم سے خالی، مہلت سے عاری رعایت سے فارغ مستقل، مسلسل اور متواتر نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ (اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا وَجَمِیْعَ اَمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ) مبادیات اور بدیہیات کے تناظر مںg دعوت فکر: مندرجہ بالا مبادیات (بنا،دی اصولوں) بدیہیات (واضح نتائج) کی روشنی مںے کاع علاقائی رواج، آبائی رسوم، دیگر مذاہب سے متاثر اعمال اور فشنت کے نام سے عبادات سے لے کر سماج تک کے شعبوں مںص داخل ہوکر مستقل ہوجانے والی صورتوں کے متعلق انفرادی طور پر ہرہر مسلمان مرد و عورت کو یہ دعوت فکر دی جاسکتی ہے کہ دورحاضر مںی بلاتأمل ہمارے لےی کے جانے والے اعمال کا تقاضہ ہم سے ہمارے دین نے کاع ہے؟ یایہ ہمارا خودساختہ خود اپنے اوپر ظلم ہے؟ بدقسمتی سے ہم خارش کے بمانر کی طرح ان مظالم سے لطف اندوز ہونے کی سعی مسلسل کررہے ہں؟ تاریک خا ل مولوی بھی اس کی ہولناکی سے غافل ہں اور روشن خا ل دانشور بھی اس کے تجزیے سے قاصر ہںی۔ {فَاِلَی اﷲِ الْمُشْتَکٰی وَاﷲُ الْمُسْتَعَانُ} دورِحاضر کے مسلمانوں کے ان اعمال کی ایک نامکمل فہرست درج ذیل ہے جن کے متعلق خود مسلمان کو تحققھ کی ضرورت ہے کہ آیا ان اعمال کو کرنے کا حکم شریعت (قرآن، حدیث اور فقہ) نے دیا ہے یایہ علاقی، آبائی رسم و رواج اور فشنم کا شاخسانہ (جھگڑا فساد) ہے۔ جذبات سے نہں ٹھنڈے دل سے غر؟جانبدار ہوکر حق کا تعنہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اس لےی کہ اس فانی دناغ مں تو معاملات قدرے آزادی اور جبری ہتھکنڈوں (Forced tactics) کے ساتھ نمٹانے کی سہولت مسرش ہے لکنب جلد اور یناً وہ دن بھی وجود پانے والا ہے جس مں موجودہ کسی سہولت کے بغر) احکم الحاکمنی، اسرع الحاسبین کے سامنے تمام ثبوتوں کے ساتھ گواہوں کی موجودگیمیں بغرک کسی رعایت کے مکمل انصاف کی دستا بی کے ینما کے ساتھ ہر ایک کو کھڑا ہونا ہوگا۔ اس ذات نے اپنے متعلق تو بے غبار، محکم، مضبوط مستحکم، پکی، ناقابل تردید، شک و شبہ سے پاک ناقابل تبدیل بات ارشاد فرمادی ہے کہ {وَمَا ظَلَمْنٰھُمْ} ’’اور ہم نے ان پر ظلم نہںک کای‘‘ اس لےس کہ ہماری ذات و صفات مںر اس کا وجود ہی نہںَ ہے جساجکہ خود ہمارا ارشاد ہے: ’’اور مںب بندوں پر ظلم کرنے والا نہںں ہوں۔‘‘(سورۂ ق آیت29) البتہ تمہاری سرشت (فطرت) مںث ظلم کی صفت بھی رکھی گئی ہے لہٰذا ستم ظریفییہ بھی ہے کہ تم خود اپنے اوپر بھی ظلم کرجاتے ہو جسااکہ ارشاد ہے: {وَلٰکِنْ کَانُوْآ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ} ’’اور لکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔‘‘ قابل تحقق نامکمل فہرست مہنواں کے حوالے سے بعض رواج: 1 محرم کا کھچڑا، حلمن، شربت و سبل سمتت وہ تمام اعمال جنہںے بعض طبقات نے اپنے اوپر لازم کرلاس ہے کاِ ان کا حکم شریعت نے ہمںل دیا ہے؟ کات اس ماہ کو باعتبار غم گزارنے کا کوئی شرعی حکم ہے؟ 2 صفر کے مہنےڑ کو بعض طبقات نے منحوس (Sinister) قرار دیتے ہوئے اسے خوشی کی تقاریب سے عقدَے اور عمل مںن خالی رکھنا اپنے اوپر لازم کررکھا ہے کاi ایسا کرنے کا شریعت کا حکم ہے؟ کاک ایسا کرنا حلال کو حرام سے تبدیل کرلنے کے مترادف نہںو ہے؟ اگر خالی ہونے کا مطلب خوشی سے خالی ہونا ہے اور اس مطلب کو شرعی تائدک حاصل ہے تو قدرت کی طرف سے یہ مہنہی بچوں کی ولادت سے بھی خالی ہونا چاہےو اس لےو کہ بچوں کی پداائش والدین ہی کے لےہ نہںن پورے خاندان کے لےب خوشی کا باعث ہوتی ہے اور اس خوشی کا اظہار مبارک سلامت کے ساتھ کاخ بھجایتا ہے، لہٰذا اس مہنےو کو بااہ شادی کی تقاریب سے لازمی طور پر خالی قرار دینے کے عقداے اور عمل کی شرعی تائدا حاصل کرنا ایک مسلمان کی سب سے پہلی ترجحی ہونی چاہےں۔ نزپ آخری بدھ کے عنوان سے خصوصی طور پر کاریگر طبقے کا لازمی رواج شریعت سے ملو کھاتا ہے؟ 3 اﷲ رب العزت نے ربعک الاوّل کے مہنےا مںا پوری انسانت، پر اپنا سب سے بڑا احسان نبیﷺ کی پدکائش کی صورت مںل فرمایا جساتکہ ارشاد ہے:’’درحققتر اﷲ(تعالیٰ) نے مؤمننپ پر بڑا احسان فرمایا جب انہی مں سے ایک پغمبر بھجا ۔‘‘(سورۂ آل عمران آیت164) لکنپ کام اس عظمی نعمت کے شکرانے کے طور پر شریعت نے ہر سال ربعہ الاوّل کے مہنےج مںن کسی عمل کو لازم کرتے ہوئے پابندی کے ساتھ اس کے اہتمام کا حکم دیا ہے؟ کای علمی طور پر قرآن مجدر کی کوئی آیت، ذخرہۂ احادیث مںی سے کوئی قولی، فعلی، تقریری مںح سے کوئی حدیث مبارکہ، فقہی مجموعے مںو سے کوئی جزئی اس کے ثبوت کے لےی پشا کی جاسکتی ہے؟ جس مںل واضح طور پر پاکستان میںر ائج ان رواجی اعمال (Customary Behaviour) کے اہتمام کی تائدی و تاکدپ پائی جاتی ہو؟ یا زمانہ خرںالقرون مںن سے کسی ایک صاحب ایمان کے اقوال و اعمال مں اس کا انتظام ملتا ہو؟ یا ہم اپنے دلائل سے دنا مںر تو ان رواجی اعمال کے لزوم کے قائل ہوں۔ کان احسن العدالات مںا احکم الحاکمنی کی طرف سے ان دلائل کی قبولتظ کے حوالے سے مطمئن ہںم؟ 4 ربعے الثانی کے مہنےم مںج معدودے چند افراد کی طرف سے جوجو التزام پایا جاتا ہے کال کوئی شرعی حکم اس کے متعلق ملتا ہے؟ 5 شب معراج کے احاقء (Revival) اور اگلے دن کے روزے کے لزوم سے متعلق فقہاء کا کوئی متفقہ و مستند فتویٰ پایا جاتا ہے؟ 6 15شعبان (شب برأت) کو حلوے کے ساتھ خاص کرتے ہوئے اس کے پکانے، تبادلے، بانٹنے اور کھانے کھلانے کے لازمی اہتمام کو کسی شرعی حکم کی تائدے حاصل ہے یایہ پاک و ہند کا رواجی عمل ہے؟ 7 15شعبان کی رات کو آتش بازی کے ساتھ لازمی طور پر جوڑنے کی کوئی تاکدد کسی شرعی حکم سے حاصل کی جاسکتی ہے؟ 8 15شعبان کی رات لازمی طور پر ہر سال (وجوبی طور پر) قبرستان جانے کے رواجی عمل کے لےم شریعت سے کوئی سند حاصل کی جاسکتی ہے؟ 9 شب برأت، شب قدر کے انفرادی احا ء کو اجتماعتو کا رخ دیے جانے کے التزامی رواج (Adhere to Tradition) کا ثبوت خصوصاً احناف کے نزدیک خرvالقرون مں ڈھونڈا جاسکتا ہے؟ 10 بچے، بچی کی پد ائش پر، ختنہ، عققےم اور سالگرہ بسم اﷲ، آمنز اور روزہ کشائی کے نام سے والدین کی طرف سے لازمی طور پر تقریبات کے انعقاد کے اہتمام اور مہمانوں کی طرف سے لازمی شرکت اور تحفے تحائف کے لازمی لنک دین کو مذہبی رنگ دیا جاسکتا ہے؟ 11 منگنی، مہندی، مایوں، بری کے ڈسپلے، جہزت کے سامان کی رونمائی، دلہن والوں کی طرف سے نکاح کی تقریب مںی کھانا دینا وغرثہ وغراہ کی رواجی صورتوں کے لازمی طور پر قائم کرنے کو کسی شرعی حکم کے ماتحت لایا جاسکتا ہے؟ 12 نکاح کی تقریب کے لےو دلہا کی سہرابندی، رییمے لباس اور عورتوں کے مجمعے مںم منہ دکھائی کی رسم کو شرعی جواز دلایا جاسکتا ہے؟ 13 نکاح کی تاریخوں میںاور اس کے ماقبل کے دنوں مںد شادی والے گھروں پر چراغاں اور ریکارڈنگ کے جواز اور لزوم کو کسی شرعی حکم کے تابع کار جاسکتا ہے؟ نزس آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کا تعلق شریعت سے جوڑا جاسکتا ہے؟ 14 بعض برادریوں مں منگنی کے بعد نکاح سے پہلے منگتراوں کا مواصلاتی رابطہ ہی نہںے، باہمی ملاقاتوں اورسر وتفریح کے پروگراموں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے( بعض اوقات اس بے حجابانہ ملاقات مںا نکاح سے پہلے انہونی بھی دانستہ یا نادانستہ سرزد ہوجاتی ہے اور ستم بالائے ستم بعض جگہ اس انہونی کے بعد منگنی بھی کسی نہ کسی بہانے ٹوٹ جاتی ہے) ان برادریوں کے اس قبحک رواج کو شریعت کا پہناوا پہنایا جاسکتا ہے؟ 15 بعض برادریوں مںا خاندان سے باہر بچوں کی شادیاں کرنے کا رواج نہںب ہے کاہ انہںت اس لازمی رواج کے لےا کوئی شرعی تائدی حاصل ہے؟ 16 بعض مسلمان دین کے بجائے دنا ، عہدہ، آمدنی، خوبصورتی وغرجہ کو شادی کے لےی لازمی بنارد کے طور پر اپنائے ہوئے ہںع کا ان کے پاس اس بنا د کا کوئی شرعی جواز بھی موجود ہے؟ 17 مسلمانوں کا ایک طبقہ ولمےب جسےب (غرعلازم) مسنون عمل کے لےو برادری مں ’’اپنی ناک اونچی‘‘ رکھنے کے عنوان سے اپنی بساط (Capacity) سے بڑھ کر سودی وغر سودی قرضوں اور زکوٰۃ کی رقم جمع کرکے ولمےں کا انعقاد کرتے ہںن کاع مذہب ان کی اس روش (طورطریقہ) مںس ان کی کوئی مدد کرتا ہے؟ 18 کال شادی کی سالگرہ منانے کا کوئی عنوان شریعت مںد موجود ہے؟ 19 کال بہن/بیty کی شادی قرآن سے کرنے کی کوئی ریت روایت (Customs Traditions) شریعت مں ڈھونڈی جاسکتی ہے؟ 20 کال بچوں کی رضامندی حاصل کےی بغر اپنے مفاد اور پسند کے نفاذ کے لے والدیادا سرپرستوں کے جبری ہتھکنڈوں کو شریعت نے کوئی لباس فراہم کای ہے؟ 21 ضاتفتی تقاریب مں مزےبانوں کی طرف سے بوفے سسٹم (کھڑے ہوکر کھانا)اور مہمانوں کی طرف سے پلٹورں مںن بے تحاشا نعمتںم بھر لنےر اور انہںں کھائے بغرر ضائع کردیے جانے کی کوئی چھوٹ شریعت نے عنایت فرمائی ہے؟ 22 کسی کی موت کے بعد تجےر، ساتویں، دسویں، چہلم اور برسی وغرشہ کی لازمی عملی صورتوں کو خریون القرون ڈھونڈ لال گار ہوگا اور اس اطمنافن کے بعد ہی اس رواج کو لازمی طور پر اپنایا گاے ہوگا؟ 23 منگنی ہوجانے کے بعد نکاح سے پہلے درما نی عرصے مں پڑنے والی عدرین کے مواقع پر دونوں طرف سے ایک دوسرے سے بڑھ کر لازمی طور پر تحائف کا تبادلہ، تحائف کے نہ بھجےا جانے یا کمتر بھجےہ جانے پر ناراضگی، اس بناتد پر نہ صرف رشتہ بلکہ باہمی تعلقات کے توڑ لےی جانے کے رواج کو کاہ شریعت کی پشت پناہی حاصل ہے؟ 24 بعض برادریوں کے علاقائی رسم و رواج میںیہ بھی داخل ہے کہ صرف رشتہ طے ہونے کے بعد نکاح سے پہلے لڑکا اپنی ہونے والی ساس اور خالہ ساسوں سے بے حجابانہ نہ صرف ملتا ہے بلکہ ہاتھ ملاتا ہے، عدنین کے مواقع پر اپنا سر چومواتا ہے اس رسم کی پاسداری نہ کرنے کو بے عزتی کا عنوان دیا جاتا ہے کائ شریعت کی رو سے اس رواج کی کوئی گنجائش ہے؟ 25 بعض برادریوں مںے شادی سے متعلق ایک آبائی رسم یہ بھی ہے کہ لڑکے کے قریین رشتہ دار عورتوں کی طرف سے لڑکی کو بطور ہدیہ جو کپڑے کا جوڑا دیا جاتا ہے اسے دینے سے پہلے مختلف رشتے داروں کو اس کپڑے کو دکھانے کی نمائشی تقریب کا انعقاد کا جاتا ہے جس کو مزید پرکشش (Attractive) بنانے کے لے ناچ گانوں کی محفل بھی سجائی جاتی ہے کا کسی اییل تقریب کو منعقد کرنے والوں کے پاس کوئی شرعی اجازت ہوتی ہے؟ 26 بعض علاقوں مںا شادی کے موقعے پر اس رواج پر بھی عمل ہوتا ہے کہ لڑکی والوں کے ہاں بارات پہنچتے ہی تمام باراتی (محرم نامحرم، بالغ نابالغ مرد) عورتوں کے مجمعے مںر گھس جاتے ہں (جہاں دلہن کی قرییچ رشتہ دار لڑکوتں کے ذریعے انہںج دودھ پلوایا جاتا ہے) اگر لڑکوےالوں کی طرف سے اس اختلاط سے روکاجائے تو لڑکے والے اسے اپنی تذللی (Humiliation) قرار دیتے ہںے کار اس رواج کی مذہب تائدے کرتا ہے؟ 27 بعض جگہوں پر یہ بے جا، لغو اور فضول رواج بھی پایا جاتا ہے کہ لڑکے والوں کے دلہن کے لےپ نامحرم قرییا رشتے دار دلہن کو رقم اس مقصد سے دیتے ہں کہ آج کے بعد (شریعت کا حکم ہونے کے باوجود) دلہن سے پردہ ختم, گویا کہ رقم دینے کے بعد محرم بن گئے، کا اس حد درجے سرکشی کو شرعی حدود مںج لایا جاسکتا ہے؟ (اَعَاذَنَااﷲُ مِنْہَا) 28 دلہن کی بہنوں کا دولہا کا ہاتھ پکڑ کر مہندی لگانے، اس کا معاوضہ طلب کرنے، دلہن کے بھائوبں کی طرف سے دولہا کا جوتا چھپانے اور اس کے بدلے معاوضہ طلب کرنے کی رسوم کو اسلامی کہا جاسکتا ہے؟ 29 دلہن کی رخصتی کے موقعے پر کسی عمل سے نیک شگون لنے، اور اسے نہ کرنے کو منحوس قرار دیتے ہوئے مستقبل پر ناخوشگوار اثرات (Unpleasant Effects) پڑنے کے موہومی خاالات کو مذہبی درجہ دیا جاسکتا ہے؟ 30 نکاح کے موقعے پر بعض نکاح خواں کے لازمی طور پر خطبۂ نکاح سے پہلے دولہا کو چھ کلمے پڑھائے جانے کے رواجی عمل کو شرعی نکاح کا لازمی جزو سمجھا جاسکتا ہے؟ 31 رخصتی کے بعد بغرخ کسی شرعی عذر کے دلہا اور دلہن کی باہمی ملاقات کو جبراً کم از کم تند دن تک روکے رکھنا اور نکاح کے بعد پہلے تنت دنوں کی ملاقات کو غر ت (Honor) کے خلاف سمجھے جانے کے رواج کو شریعت کا حکم کہا جاسکتا ہے؟ غم کے مواقع کے رواییی عمل: 32 کان کسی کی موت کا علم ہوجانے کے بعد زور،زور سے رونے، چخنےہ چلانے، نازیبا کلمات کہنے، گریبان پھاڑنے، منہ پر طمانچے مارنے کے عمل کو اور ایسا نہ کرنے کو متم کی تکریم و تعظمج کے خلاف سمجھے جانے کو شرعی تعلمی کا نام دیا جاسکتا ہے؟ 33 کان بو ہ کے عدت کے پورا کرنے کے لازمی شرعی عمل کو کسی بھی حلہھ سے مکمل ہونے سے پہلے ختم کردینے کے رواج کو شرعی تائد دلائی جاسکتی ہے؟ 34 کان مت کو نہلانے کے لےک مسجد سے لا زمی طور پر پانی لائے جانے کے علاقائی عمل مں شریعت ڈھونڈی جاسکتی ہے؟ 35 موت کے وقت متو نے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے ان کپڑوں کو منحوس سمجھنا یا نہلانے والے کا آسانی سے اتارے جاسکنے کے باوجود قیچے سے کاٹ کر ضائع کردینے کے لازمی عمل کو شرعی تعلم سے جوڑا جاسکتا ہے؟ 36 متق کو قبر مںہ اتارنے کے بعد اگر قرآنی نسخہ یا مقدس اوراق (Holy Sheets) بھی قبر مںے رکھنے کا رواج ہو تو کا اس رواج کو شرعی معنیٰ دیے جاسکتے ہںم؟ 37 مت والے گھر مںو تن دن تک چولہا جلانے کو معویب و منحوس قرار دیے جانے کو شرعی حمایت حاصل ہے؟ 38 کا متل کے چھوڑے ہوئے مال مںن سے تجہزن، تکفن ، تدفنی کے علاوہ تمام ورثاء شرعہی کی مرضی کے بغرs کسی وارث یا غر وارث کے لےت ذرہ برابر خرچے کو شریعت سے ثابت کاع جاسکتا ہے؟ 39 کاا متل کے مال مں سے یا متت کے اہل خانہ کی طرف سے تعزیت و تدفنم کے لےخ جمع ہونے والے افراد کے کھانے کے لازمی رواجی بندوبست (چاہے پہلے دن یا تسرثے دن) کو شرعی تحفظ دیا جاسکتا ہے؟ 40 کاا قبر میںچہرہ دکھائے جانے کی لازمی رسم، سدخھی کروٹ پر لٹانے کے بجائے صرف چہرہ قبلہ رخ پھرک دینے کے رواج اور قبر مںا قل پڑھی ہوئی کنکریاں ڈالنے کے معمول، تدفند کے بعد اذان و تلقنج کے دستور کو تشریعی چھت بذریعہ مفتاین کرام فراہم کی جاسکتی ہے؟ 41 کاا دوسرے، تسرںے، ساتویں، دسویں، چالسوھیں اور برسی کے دن لازمی ’’اجتماعی قرآن خوانی‘‘کی پاک و ہند کی رسم کو شرعی قانون کا درجہ دلایا جاسکتا ہے؟ 42 کاا کسی ایائی چند ورثاء کو متت کے مال کو اکلےہ ہڑپ کرجانے کو شرعی حمایت دلائی جاسکتی ہے؟ معاشرتی عاداتِ بَد: 43 کاا دنوبی مفاد، ذاتی انا، تکبر و غرور، ہم پلّہ (مال ، رتبہ، حت ش و خوبصورتی وغر ہ مں برابری) نہ ہونے کی وجہ سے رشتے داروں سے قطع تعلق کی معاشرتی بدتہذیید کی عادت کو شریعت سے دادوتحسنا مل سکتی ہے؟ 44 کا مسلمان بھائی سے ناراضگی اور قطع تعلق (Break off all Connection) کی ٹھوس وجوہات کے باوجود تنو دن کے بعد ناراضی کو طول دیے رکھنے کے مزاجی رویے کو تشریعی آشردباد دلائی جاسکتی ہے؟ 45 کان مسلمان بھائی کی معذرت قبول نہ کرنے کی بدخصلت کو شریعت کے ڈھانچے مںر ڈھالا جاسکتا ہے؟ فشنک کی کرشمہ سازیاں: 46 کان غرلمسلم اقوام کی پہچان کی علامات کو بعض مسلمانوں کے اپنا لنے کے عمل کو شریعت کی رضامندی حاصل ہے؟ 47 کان مردوں کے عورتوں کی اور عورتوں کے مردوں کی شباہت اختابر کرلنےے کی بدچلنی کو اﷲ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا ڈھنگ کہا جاسکتا ہے؟ 48 عورتوں کے بعض لباس جن سے سر، سر کے بال، سنہی، پٹں، پیٹھ، کلائارں تو سرعام ننگی تھںا ہی اب ستم بالائے ستم یہ ہے کہ پورے بازو اور ٹخنے بھی برسرعام بلا جھجک ننگے ہوتے جارہے ہںہ کا اس حاے سوز بے لباسی کو اسلام سے شرف قبولتٰ دلوایا جاسکتا ہے؟ 49 عورتوں کے بعض تنگ، چست، بدن سے چسپاں لباس جس سے بدن کے اعضاء مستورہ (چھپائے جانے والے اعضائے جسمانی) کی بناوٹ نمایاں ہوتی ہے کار اس غرات شکن لباس (Shameless Dress) کو مذہبی سند دلائی جاسکتی ہے؟ 50 عورتوں کے بعض باریک لباس جس مںج بدن جھلکتا ہے کاا اس بے حجابانہ لباس کو شریعت سے لباس کا نام دلوایا جاسکتا ہے؟ 51 دورحاضر مںب مسلمان مردوں کی طرف سے فشنل کے نام سے لباس کے حوالے سے یہ دیکھنے مں آرہا ہے کہ پناہ ربّنا کو لہے ننگے ہوتے جارہے ہںب اور ٹخنے ڈھکتے چلے جارہے ہں (پتلونں کولہوں سے اتر کر پر وں کے آدھے پنجوں تک پہنچ گئی ہںہ) کاے اس نازیبا، بے تکے، بے عزت، بدلحاظ، بے راہ، گمراہ کن، بدتمزک ، بے ہودہ، ناشائستہ، ستر سے آزاد لباس کو شریعت مںّ کوئی مقام دلایا جاسکتا ہے؟ 52 عورتوں کا چہرے کی بے حجابی کے ساتھ گھروں سے نکلنا پھر مردوں کی غلظہ (Dirty) چبھتی ہوئی نظروں کا شکار ہونے، شرم ناک فقرے کسے جانے، چھڑسچھاڑ، تعاقب، فتنے مںھ مبتلا کردیے جانے کے باوجود چہرے کی بے پردگی کو شریعت سے اجازت دلائی جاسکتی ہے؟ 53 مردوں کے داڑھی منڈوانے، خشخشی رکھنے، صرف ٹھوڑی پر چند بال چھوڑ دینے، ایک مشت سے کم رکھنے کے رواج کو شریعت کے حکم کے مطابق قرار دیا جاسکتا ہے؟ تاجروں کی روایات: 54 بعض تاجروں کی طرف سے غلط بادنی، اشالء کے عواب چھپانے، قسمں کھانے، کم ناپنے، کم تولنے،لکھی ہوئی مقدار کے مطابق ٹوبب وغرکہ مںی نہ بھرے جانے، سمپل کے مطابق سپلائی نہ کرنے، اصلی کی قمتن لے کر جعلی پرزے لگادینے، بل کے اندارج اور مزاان مںف دھوکہ دہی، ادائیان کے وقت جعلی نوٹ اصل کے درماکن ڈال دیے جانے، بقایا دیتے وقت دانستہ گڑبڑ کردینے، ادائیغر کے وقت ٹال مٹول سے کام لنےا، غلط یا نہ پاس ہونے والا چیک تھما دینے، واجب الادا رقم مں کٹوتی (Deduct) کرلنےغ وغروہ وغرئہ جسےو اقدامات کو شرعی جامہ پہنایا جاسکتا ہے؟ ملازمنd کی فطرت: 55 ملازمن، کی طرف سے طے شدہ اوقات کی پابندی نہ کرنے، مقررشدہ فرائض کی ادائیعی کی اہلت نہ ہونے کے باوجود سفارش، رشوت یا دھوکے سے ملازمت حاصل کرنے، مقرر شدہ فرائض کی ادائیہ کی اہلتا ہونے کے باوجود کماحقہ حق ادا نہ کرنے، بلاوجہ کام کو ٹالتے رہنے، اوورٹائم حاصل کرنے کے چکر مںب کام کے اوقات مںہ کام نہ کرنے، بغر شرعی عذر کے چھٹولں کی عادت بنالنےہ، ادارے کی اشانء کو بلااجازت ذاتی استعمال مں لانے، ادارے کی اشاجء کو اپنے گھر کی زینت بنا ڈالنے، ادارے کی اشانء کے چوریکرنے، خریداروں سے غرشمناسب رویوں (Undesirable Behaviour)، ادارے کی خریداری کا غلط بل بنواکر، یا علحدوہ سے کمشنر کے نام سے رقم لے کر خود رکھ لنےج، سفری اخراجات کا جعلی حساب دے کر ادارے سے رقم وصول کرنے وغراہ وغردہ جسےک اعمال کو شرعی چاردیواری مںر جگہ دلائی جاسکتی ہے؟ مذہبی طبقات کے مزین اعمال: 56 حج کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ’’حج ملن‘‘ کے نام سے، واپسی کے بعد ’’حج مبارک‘‘ کے نام سے حاجی کی طرف سے تقریباتی اجتماعات کے لزوم کا کسی شرعی جواز سے سہارا پکڑا جاسکتا ہے؟ 57 اذان و نماز سے ماقبل ومابعد کے اعمال اور نماز جنازہ کے مابعد عمل کو (جن سے خرےالقرون کے ادوار خالی ملتے ہںس) مذہیق رنگ دیتے ہوئے دورحاضر مں لازمی قرار دیتے ہوئے عمل کاد جاتا ہے کاے اسے مذہبی مطالبہ کہا جاسکتا ہے؟ کا ان اعمال کو مذہبی کاماربییا ناکامی کی بناود بنایا جاسکتا ہے؟ 58 بعض ائمہ مساجد تکبرل تحریمہ کو اتنا طویل کرتے ہںق کہ بعض ناواقف مقتدی امام کی تکبرم تحریمہ کی تکملا سے قبل ہی اپنی تکبرج تحریمہ سے فارغ ہوکر اقتدا کرچکے ہوتے ہں کاہ مقتدیوں کی اس سبقت (Surpassing) پر کسی دارالافتاء سے جواز کی مہر لگوائی جاسکتی ہے؟ کاااس کی اصلاح پر ائمہ کو قائل کای جاسکتا ہے؟ 59 بعض ائمہ انتقال ارکان کی تکبراات بعد مںل کہتے ہںا اور ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف پہلے منتقل ہوجاتے ہں مثلاً رکوع سے قومہ کی طرف اطمناان سے منتقل ہونے کے بعد سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے ہںت (اییی صورت مںے جو مقتدی امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد تکبررسننے سے پہلے رکوع مں جاتے ہںم اور سمجھتے ہںم رکعت حاصل ہوگئی کای ایسے مقتدیوں کے رکعت کے حصول کے فصلے کو فقہی ضوابط کی روشنی مںَ درست قرار دیا جاسکتا ہے؟ کائ امام کی اس پختہ عادت کو فقہی تائد دلائی جاسکتی ہے؟ 60 تراویح کی نماز مںپ حفاظ کی اییت برق (تز ) رفتاری جس سے الفاظ کٹتے ہوں (پہلا لفظ ابھی نامکمل ہو اور دوسرا شروع ہوجائے) کاک قرآن مقدس کی اس تلاوتی بے حرمتی کو ماہرین تجوید ٹھنڈے پٹوسں برداشت کرسکتے ہں ؟ 61 کاا نماز کے علاوہ بھی قاری کی اس برق رفتاری کا ملاپ شریعت سے کروایا جاسکتا ہے؟ 62 کاا حفاظ کے مالی معاملات طے کرکے تراویح پڑھانے کے عمل کو شرعی گنجائش دلائی جاسکتی ہے؟ 63 کاا جمعے کے دن جمعے کی پہلی اذان ہوچکنے کے بعد نماز جمعہ کی تاِری کے علاوہ کے کسی دییو، دنوھی، ذاتی اعمال کی بغرہ کسی شرعی عذر کے مفتاےن کرام سے اجازت دلائل جاسکتی ہے؟ 64 خطبہ چاہے جمعے کا ہو، عدیین کا ہو، نکاح کا ہو اس دوران تسبحن، ذکر، تلاوت، درودشریف، نماز، دعا، باہمی بات چیت، کسی ضروری غر ضروری، فائدہ مند بے فائدہ عمل مںب مشغولی کی اجازت شریعت سے ثابت کی جاسکتی ہے؟ 65 ختم بخاری کے مواقع پر مدارس مںی لازمی تقریب کے انعقاد اور اس کے لےو دعوت ناموں کے ا جرا کے وجوب اور اس کی تشہرض کے لابدی اخباری وغرےاخباری اشتہارات کو فقہی تائد ی سند فراہم کی جاسکتی ہے؟ 66 (غرہمذہبی طبقات سے تو بات فضول ہے) کاا مذہبی علمبرداروں کی خدمت اقدس مںق انفرادییا اجتماعییہ استفتاء بھجا جاسکتا ہے کہ نماز، مذہبی تقریبات وغردہ مںح لاؤڈاسپکرد کی بلاضرورت پر زور آواز سے پورا محلہ سر پر اٹھاتے ہوئے ضعفی، بما ر، انفرادی عبادت مںی مصروف، مطالعے مںہ مشغول (دییا وعصری طلبا) امتحانات کی تاھری میںیکسو، آرام کرنے والے لوگوں کو اذیت مںا مبتلا رکھنے کا کوئی جواز کوئی اختالر کا حق شریعت سے دلایا جاسکتا ہے؟ نماز یا غرلنماز مںا قاری کی تلاوت کی بذریعہ لاؤڈاسپکر براہ راست آواز کے موقع پر مسلمانوں کی عدم سماعت، عدم خاموشی، اپنے اپنے کاموں مںم مصروف رہنے کے جواز کی چھان پھٹک (Scrutiny) فقہائے کرام سے کرائی جاسکتی ہے؟ 67 صاحبِ نصاب حضرات اگر زکوٰۃ نہں دیتے ، پورا حساب کرکے مکمل واجب الاد انہں نکالتے، دیتے ہوئے مستحق کی تحقق نہںت کرتے۔ غرنمستحق زکوٰۃ حاصل کرلتےب ہںد کاںیہ عادات شریعت سے ملپ کھاتی (Familiarity) ہںس؟ سورۂ فاتحہ مںن موجودمظلوم حرفِ ’’ضاد‘‘ کی دلگرتودل سوز پکاروفریاد: 68 یوں تو محققن کے شمار کے مطابق پورے قرآن مقدس مںخ حرف ضاد کی تعداد ایک ہزارتن، سوسات(1,307) ہے اور ماہرین تجوید نے دیگر حروف کی طرح اس حرف کے پڑھنے کی جگہ منہ مںک متعنی کی ہے جس کو علمی اصطلاح مںi مخرج کہا جاتا ہے اگر ضاد کو اس کے اصل مخرج سے پڑھا جائے تو وہ سننے مںم قدرے حرف ظا کے مشابہہ سنائی دیتا ہے حرف دال کے مشابہہ ہرگز،ہرگز،ہرگز نہںے ہے لکنا بعض ائمہ مساجد جو پورے قرآن مقدس مں ایک ہزار تنا سو پانچ جگہ حرف ضاد کو اس کے اصل مخرج سے پڑھتے ہںہ جو اس بات کی دلل ہے کہ وہ حرف ضاد کو اس کے اصل مخرج سے پڑھنے پر بالفصل قادر ہںو نہ جانے کوکں سورۂ فاتحہ مںہ دو جگہ پائے جانے والے حرف ضاد پر پوری استقامت کے ساتھ مشق ستم جاری رکھے ہوئے ہں اور دال کے مشابہہ پڑھتے ہںت جبکہ ماہرین تجویدمتفقہ طور پر اسے لحن جلی (جس کا مطلب ایک حرف کی دوسرا حرف پڑھنا جوکہ قواعد کے مطابق حرام ہے) کا نام دیتے ہںا کات ائمہ مساجد اپنی اس پختہ عادت کے متعلق ماہرین تجوید سے اپنے متعلق حتمی رائے لنے کی ہمت کرسکتے ہںھ؟ (عام مسلمانوں کی خدمت اقدس میںیہ گزارش ہے کہ دوسرے مخارج کے مقابلے مںا حرف ضاد کا مخرج اگرچہ قدرے مشکل ضرور ہے لکن فی نفسہ ناممکن نہںف ہے لہٰذا اس کی مشق کی طرف پوری توجہ مرکوز رکھںر بغر کوشش کےے غلط پڑھنے کی عادت کو پختہ نہ بنائںم۔) خلاصۂ کلام: مندرجہ بالا نامکمل فہرست کو آئنے کی حتہے دی جائے اور اپنے مذہبی خدوخال (چہرہ) چانچنے کے لےح پورے اخلاص کے ساتھ آخرت سنوارنے اور دنو ی آفات سے اپنے آپ کو بچانے کی نتس سے انفرادی طور پر فرداً فرداً اپنے آپ کو اس آئنے کے سامنے پشر کال جائے۔ دل بڑا مفتی ہے اس سے اپنی پسند ناپسند نہںر ، شریعت کے مطالبے اور عدم مطالبے کا فتویٰ حاصل کاک جائے جہاں جہاں الجھن ہو ہر مکتبۂ فکر کے مفتاےن کرام سے تحریری رجوع کرکے ان کے استدلالات کا خالی الذہن ہوکر موازنہ کا جائے۔ جہاں تشریعی وزن محسوس ہو اسے تسلمن کرکے اپنے عمل کو اس کے مطابق بنانے کی فوری ابتدا کردی جائے۔ جہاں مکمل تبدییا میںیقینی مشکلات پائی جاتی ہوں اس مںف بتدریج (آہستہ آہستہ) کمی کی جائے۔ جہاں اپنی عادات، رواجات کے چھوڑنے مںش دشواریاں حائل ہوں تو اپنے عمل کو غلط سمجھتے ہوئے بے دلی سے ضرورت کے بقدر کرتے ہوئے توبہ استغفار کا سہارا اور دعا کا آسرا ڈھونڈا جائے۔ اپنے چہرے کو سنوار کر مذہب کے مطابق بنانا آئنے کی حتہا رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا المیہیہ ہے کہ ہم اپنا اپنا چہرہ سنوارنے کے بجائے ہر ممکنہ تخرییے ذرائع اختا ر کرکے آئنےب توڑنے مںا ہمہ تن منہمک ہںا ؎ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کار کہے ! اپلق! بحمداﷲ تعالیٰ! محدود صفحات پر مشتمل اصلاح امت کے عنوان سے مختلف موضوعات پر پابندی کے ساتھ رسالے شائع ہورہے ہںا اور عوام الناس مںع بھی اسے کماحقہ پذیرائی حاصل ہورہی ہے اس کا رخرک مں اپنا حصہ ڈالنے کے لے تمام قارئنی سے یہ اپلے کی جاتی ہے کہ اپنی بساط کے مطابق اس کے پھیلانے مںا مالی و بدنی خدمات پشا کریں۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
729