(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
سود جوا (شیطان کے دومقناطیسی جال)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ سود/جوا (شطاین کے دومقناطیت جال) ربا عربی لفظ ہے، اردو مںْ اس کے ہم معنی لفظ سود (Interest) ہے۔ لغت مںہ ربا زیادتی (اضافے) کے معنی مںن آتا ہے۔ اردولغت مںل سود کے معنی دیے ہو ئے روپے پر نفع کے ہںe،یہ لفظ فائدے، بھلائی اور بہتری کلئے بھی بولا جاتا ہے، عرف عام میںیہ لفظ خاص ہو گاے ہے اس اضافے کلئے ، جو اصل مال سے زائد ہو اور کسی چزظیا محنت کا بدل (قمت ) نہ ہو۔ مثلاً کوئی شخض کسی کو سو( 100) روپے قرض دتاا ہے اور قرض لنےے والے سے طے شدہ مدت کے بعد ایک سو دس( 110) روپے واپس لتا ہے تو یہ زائد 10روپے کسی چزا کی قمتا ہں ، نہ کسی محنت کا معاوضہ (Compensation) ہںئ بلکہ یہ اصل مال یینر 100روپے پر اضافہ ہی ہںظ۔ اس اضافے کو ہی شریعت’’ ربا‘‘ کہتی ہے، جساب کہ خود ایک حدیث مبارکہ مںہ اس کا ذکر ہے ’’ کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَۃً فَھُوَ رِباً‘‘( ہر قرض جو کسی منفعت کا ذریعہ بنے وہ ربا ہے)۔ ضابطہ: اس تفصلد سے بآسانی ایک ضابطہ معلوم ہوا کہ کسی بھی مالی معاملے مںع مال پر اییل زیادتی جو نہ کسی چزہ کی قمتر بن رہی ہو، نہ کسی محنت کا معاوضہ ثابت ہو رہی ہو، ربا ہے۔ اگرچہ معاملہ کرنے والے دونوں فریق باہمی طور پر اس زیادتی پر رضامندہی کوئں نہ ہوں۔ اس ضابطے کے تحت قاومت تک پشو آنے والی وہ تمام صورتںق اس مںا داخل ہںم ( چاہے کسی بھی نام سے ہوں) جس مں مالی معاملے مں مال پر اضافہ، بغری کسی عوض کے ہو۔ مثلاً شخصی، مہاجنی، صرفی ، تجارتی قرض (Personal, Private, (Hindu) Banker, Profit, Business Loan)۔ اس ضابطے سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ ہر زیادتی ( اضافہ) کو نہ ربا سمجھا گاn ہے اور نہ کہا گاB ہے بلکہ صرف وہ اضافہ ’’ربا‘‘ ہے جو عوض سے خالی ہو۔ اور یہ بغرل عوض کا اضافہ فوری طور پر حاصل ہو یا کچھ عرصے کے بعد ملنے والا ہو، ربا یین سود ہی کہلائے گا۔ نبیﷺ کی بعثت سے پہلے سے اس وقت کے معاشرے مںچ سود کا عام رواج تھا۔ اور اس وقت شخصی سود بھی رائج تھا اور تجارتی سود کی شکلیں بھی قائم تھںا۔ معتبر تاریی شہادتوں کی موجودگی مںت اس سے انکار ممکن نہں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی ان دونوں قسموں کا رواج بدستور موجود (Still in Practice) رہا یہاں تک کہ سود کے حرام ہونے کی آیات نازل ہوئںب۔ جن کی روشنی مںئ قاےمت تک کلئےر سود کو اس کی تمام اقسام سمت ابدی طور پر (Everlastingly) حرام قرار دے دیا گائ۔ قرآن مجدے نے سود کی حرمت کو ایک اصول بنا کر پش فرمایا اور واضح طور پر اسے تجارت سے ایک علحد ہ چزe قرار دے کر تجارت کو حلال اور سود کو حرام کہا ہے۔ صدقات کے مقابلے مں سود کو لا کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صدقات کو بڑھاتے ہںئ اور سود کو مٹاتے ہں ۔ ایمان والوں کو خاص طور پر خطاب فرمایا گام کہ سود کی جو بھی بقہو رقم آپس مںر لیںل اور دیین ہے وہ تمام چھوڑ دو البتہ اپنی اصل رقم واپس لنےں مںم کوئی حرج نہںر، سود کی حرمت نازل ہونے سے پہلے سود کے نام پر جو کچھ لے چکے ہو وہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیا۔ سود کوحرام قرار دینے کے بعد اگر سود لنےم دینے سے باز نہں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ سن لو! قابل غور ہںر قرآن مجد کے الفاظ، یہ نہںت کہا جارہا کہ سود لنےآ دینے والا اعلان جنگ کر رہا ہے بلکہ اس اعلان جنگ کو اللہ تعالیٰ اور س کے رسول ﷺ کی طرف منسوب کا، جارہا ہے جس کا نتجہس سودسے باز نہ آنے کی صورت مںے دناج اور آخرت مںو لازمی ہلاکت اور بربادی ہی ہو گا۔ (اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے) قرآن مجد مںت سود کے حرام ہونے کی صاف اور واضح آیات موجود ہونے کے ساتھ ساتھ سود کے حرام ہونے پر احادیث کا بڑا ذخرےہ (Big Collection) بھی موجودہے۔ یہاں چند احادیث ذکر کرنے پر اکتفا کاا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’سود کا ایک درہم (A Small Silver Coin) جو انسان کھالے اور اسے معلوم ہو کہ یہ سود کا ہے، یہ عمل36 مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے‘‘۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’سود کے ستر حصے ہںد ان مںi سب سے ہلکا یہ ہے کہ جسےi کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے ‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے، کھلانے ،لکھنے اور سود کے بارے مں گواہی دینے والے سب لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ فائدہ: اس حدیث سے لوگوں کی اس بات کا بھی جواب مل جاتا ہے کہ ہم بنکونں اور سودی کھاتوں مںر ملازمت کرکے اپنی محنت کا حق وصول کرتے ہںر لہٰذا یہ تنخواہ ہمارے لئے حلال ہونی چاہے ، کوونکہ لامحالہ یہ لوگ سودی معاملات لکھنے اور گواہی دینے والوں مں سے تو ضرور ہںو، اگرچہ ازخود سودی کاروبار نہ کرتے ہوں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’معراج کی رات مراا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے پٹر کوٹھڑیوں (Rooms) کی مانند تھے اور ان مںس سانپ بھرے ہوئے تھے جو کہ باہر سے نظر آرہے تھے مںر نے پوچھا جبرئلت! یہ کون لوگ ہںض؟ جبرئلo علہ السلام نے فرمایا کہ یہ سود خور ہں ۔ سود کے نقصانات قرآن وحدیث کے واضح ارشادات کی روشنی مںن عقلی طور پر بھی سود کا جائزہ لاے جائے تو ایک انسانی عقل برملا اس اعتراف پر مجبور ہو جاتی ہے کہ اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور اقتصادی طورپر سود کے معاملات نقصانات سے بھرے ہوئے ہں ۔ جن کا مختصر خلاصہ درج ذیل ہے: اخلاقی نقصانات : سود کی وجہ سے انسان مںا خود غرضی (Selfishness)، لالچ (Greed)،بے رحمی اور سنگدلی (Callousness) جیل بریعادتںق پدااہوجاتی ہںض جس سے معاشرے کا چن اور سکون بالکل ختم ہوجاتاہے اور ایسے معاشرے مںک رہنے والے افراد ایک دوسرے کے خلاف بغض ، حسد ، کنہے پروری اور مفاد پرستی (Self Interest) کی بمائری مںا مبتلا ہوجاتے ہں ۔ ایک دوسرے کے کام آنے اور مدد کرنے کی بجائے ہر ایک کو اپنے فائدے کی فکرہوتی ہے۔ سود پر رقم دینے والا اپنی رقم پر برابر سود وصول کرتارہتاہے اُسے اس بات کی پروا نہںے ہوتی کہ قرض پر رقم لنےن والے کا کتنا نقصان ہورہاہے؟ سود کی وجہ سے سودی رقم دینے والے کی خودغرضی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ شدید ضرورت کے وقت بھی مثلاََ کوئی بمانر ہے یا بھوک سے اسکی بری حالت ہے کسی کو بلاسود قرض دینے پر راضی نہںہ ہوتا۔ معاشی اور اقتصادی نقصانات : جتناسرمایہ کاروبار مں لگایا جائے ملک اور قوم کو اتنا ہی فائدہ حاصل ہوتاہے لکنم سودی رقم دینے والے سود کے بڑھنے کے انتظار مںن آمدنی کا ایک بڑاحصہ روکے رکھتے ہں اور اُسے کام مںا نہںہ لگاتے جس کی وجہ سے ملکی تجارت کو نقصان پہنچتاہے اور لوگوں کی معاشی حالت (Economical Situation) پر اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہں ۔ چونکہ سودی رقم دینے والے کی نظر صرف اپنے ذاتی منافع پر ہوتی ہے لہٰذااُسے جہاں زیادہ نفع ملتاہے وہیںاپنا سرمایہ لگاتا ہے اُسے لوگوں کی ضروریات کی کوئی پروا نہںا ہوتی اس سے دونقصان ہوتے ہںُ ایکیہ کہ اشا ء ضرورت کی قلت (Scarcity of Demand Goods) پدراہوجاتی ہے ۔دوسرے یہ کہ مہنگائی مںو اضافہ ہوجاتاہے اور عام لوگوں کی ضرورت کی چزایں اُن کی دسترس سے باہر ہوجاتی ہںت اور انسانت کی اکثریت غربت کی زندگی گزارنے پر یا سود پر رقم لکرپ ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔ معاشرتی نقصانات : مشاہدات وتجربات کی دنای کا سرسری جائزہ لنےذ سے ہییہ بات نمایاںہو جا تی ہے کہ جس معاشرے میںسود کا رواج ہوا، وہ معاشرہ بے پناہ اسباب اوروسائل مہاص ہونے کے باوجود بے چنر، بے سکون اور غرگ محفوظ ہو کر رہ گاض۔ انسان اخلاقی اقدار (محبت، ہمدردی، بھائی چارہ وغرہہ) جو خوشحال معاشرے کی لازمی ضرورت ہں ، انہںی کھو بٹھا ۔ ان اخلاقی اقدار (Moral Values) کے ختم ہو جانے کے بعد احساس مروت ایسا پامال ہوا کہ انسانی معاشرہ خالص جانوروں کا معاشرہ بن کر رہ گاک ہے۔ معاشرے کا دوسرا طبقہ (Class) صرف اور صرف اپنے مفادات (Interests) کو سامنے رکھ کر زندگی گزار رہا ہے گویا کہ ان کی حتas بھڑ ، بکری وغرےہ کی سی ہو گئی ہے جن کو صرف اپنے دانے پانی سے غرض ہوتی ہے۔ معاشرے کا ایک طبقہ اپنے مفادات کے حصول کلئےھ دوسرے انسانوں کے مفادات ہی نہںا بلکہ ضرورت پڑے تو ان کی جان لنےد سے بھی دریغ نہںہ کرتا گویا کہ اس نے چرونے پھاڑنے والے درندوں کی صفات اپنالی ہں ۔ معاشرے کاایک تسراا طبقہ ایسا بھی ہے کہ اس کا مشغلہ (Hobby) ہییہ ہے کہ دوسروں کو جانی، مالی اور اخلاقی نقصان پہنچایا جائے چاہے اس مںد انہںی ذاتی طور پر کوئی نفع نہ ہو۔ گویا کہ انہوں نے ڈنک مارنے اور ڈسنے والے بچھوؤں اور سانپوں کی فطرت اختایرکر لی ہے۔ اس طرح انسان اور جانور مںے صرف شکل وصورت کا فرق باقی رہ گائ ہے اس کے علاوہ تمام امتیازات کو خراباد (Abanon) کہہ دیا گا ہے۔ اس صورتحال کے پد ا ہونے مںل سود کی نحوستوں (Evils) کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ سودی لعنت کی وجہ سے صحت کے مدکان مں بھی ہوش ربا، روح فرسا صورتحال کا سامنا ہے۔ جسے ہرگھر کے ہر ہر فرد مںم محسوس کای جا سکتا ہے۔ کا اس صورتحال کو سود کے نتجےا مںا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ کے تناظر مںر دیکھا جا سکتا ہے؟ یا اس کے بعد بھی ابھی انجام باقی ہے جو کہ دناد مںن افلاس (Poverty) اور آخرت مںہ عذاب کی صورت مںو ظاہر ہوگا۔ قرآن وحدیث کے واضح حکم، شدید وعداوں عقلی جائزے اور عبرتناک انجام کے مشاہدے کے بعد ایک صاحب ایمان کلئے تو اس بات کی ضرورت ہی نہں رہتی کہ وہ سود کے جائز ہونے کی صورتں تلاش کرے۔ لکن دور حاضر کا یہ بھی ایک المہ (Tragedy) ہے کہ انسانی معاشرے کا ایک بہت بڑا حصہ مال بڑھانے اور آسائشات کے حصول کے شوق مںد اس ہلاکت خز مرض کا نہ صرف شکار ہو چکا ہے بلکہ برضا ورغبت اس بربادی کے پکر کو اپنے گلے سے لگائے ہوئے ہے۔ اس قابل رحم طبقے کے ذہنوں میںیہ بات ڈال دی گئی ہے کہ سود کے حرام ہونے کے موقع پر صرف شخصییا مہاجنی سود کا رواج تھا یینق کسی شخص کو ذاتی ضروریات کلئے آمدنی کے ناکافی ہونے کی وجہ سے پسوئںکی ضرورت ہوتی تھی تو وہ سود پر قرض لتار تھا اور وہی سود شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ آج کے دور کا تجارتی سود نہ اس زمانے مںئ رائج (Practised) تھا اور نہ ہی وہ حرام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خری خواہی کے جذبے کے ساتھ اس طبقے کی اس نادانی کا علاج کاد جائے تاکہ ہدایت کے طالب کو ہدایت کی صاف شفاف، شاہراہ نہ صرف دکھائی دے، بلکہ ہمت کر کے اس شاہراہ پر سفر جاری رکھ کر منزل مقصود تک پہنچ بھی جائے۔ اصل حقائق پش۔ کرنے سے پہلے سود کی قبا حت (Evil) کی ایک وجدانی کتصو باےن کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ سود کے علاوہ تمام مالی برائا ں مثلاً رشوت (Bribery) جوا وغرlہ اییر ہںد جسےو جسم یا کپڑوں پر گندگی کا لگ جانا، سود کی مثال اییا ہے جسےی گندگی کھانا۔ ابتدائے اسلام مںی مروّجہ سود کون سا تھا؟ عہد رسالت مںم سود کے حرام ہونے کے حکم سے قبل تجارتی سود کا رواج تھا بشما ر احادیث میںاس کا تذکرہ ہے۔ درمنثور مںم ابن جریر ؒ کے حوالہ سے یہ روایت منقول ہے: ’’ کانَتْ بَنُوْعَمْرِوْبْنِ عَامِرٍ یَاْخُذُوْنَ الرِّبَا مِنَ الْمُغِیْرَۃَ، وَکَانَتْ بَنُوْ الْمُغِیْرَۃَیَرْبُوْنَ لَھُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَجَائَ الْاِسْلامُ، وَلَھُمْ عَلَیْہِمْ مالُ کَثِیْرُ‘‘ ’’زمانہ جاہلتو مںُ بنو عمر وبن عامر، بنو مغرْہ سے سود لتےا تھے، اور بنو مغروہ انہںک سود دیتے تھے، جب اسلام آیا تو ان پر ایک بھاری مال واجب تھا۔ ‘‘ اس روایت مںْ صراحتاً اس بات کا ذکر ہے کہ دو قبلوّں کے درماہن سودی لنب دین تھا۔ ان کی حتما بھی بالکل آج کل کی تجارتی کمپنوتں (Trade Companies) جی ب تھی کہ ایک قبلہا کے لوگ اپنا مال جمع کر کے اس سے اجتماعی طور پر تجارت کرتے تھے۔ اگر بڑے قبلو‘ں کے درما ن اس انداز مںَ سودی معاملہ اور کاروبار ہو تو آخر تجارتی سود کے علاوہ اسے کا نام دیا جاسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ تجارتی سود ہی تھا۔ طائف کی زمنم اپنی زرخز ی اور شادابی کی وجہ سے ہمشہک عرب تاجروں کی کاروباری دلچوپر ں کا مرکز رہی ہے۔ طائف کی پدْاوار سے تبادلہ مںہ باہر سے آنے والی تجارتی اشاےء اچھی خاص مقدار مںس حاصل ہوتی تھںک۔ یہاں کے باشندے سود کی ایک عام وبا (Plague) مںہ مبتلا تھے۔ علامہ طبریؒ تحریر فرماتے ہںش کہ قریش مکہ کی ایک شاخ بنو مغردہ ان کے مستقل گاہگ (Customer) تھے اور ان کے درما ن سود کی وصولی کا طریقہیہ طے پایا کہ اگر مقررہ وقت پر اصل رقم سود کے ساتھ ادا نہ کی جاتی تو اس پر سود کو دوگنا کر دیا جاتا۔ سود کی حرمت سے متعلق قرآنی حکم نازل ہونے سے قبل عباس بن عبد المطلب اور خالد بن ولد رضی اﷲ عنہما نے مشترکہ سرمایہ (Joint Invesment) سے ایک کمپنی قائم کررکھی تھی۔ ان کا کاروبار خصوصاً سودی معاملات طے کرناتھا۔ اسی طرح امام بغویؒ نے حضرت عطا ء بن ابی رباح اور حضرت عکرمہ رحمہمااللہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عباس اور حضرت عثمان رضی اﷲ عنہما کی ایک سودی رقم کسی تاجر کے ذمہ واجب تھی، جب انہوں نے اس سودی رقم کی وصولی کا مطالبہ کا تو سود کی ممانعت سے متعلق وحی کے نزول کے بعد رسول اکرم ﷺ نے انہںک روک دیا اور انہوں نے سود کی رقم چھوڑدینے کا فصلہ کاک۔ اس روایت مں بھی تصریح ہے کہ یہ رقم ایک تاجر کو دی گئی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام روایات سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زمانہء جاہلت اور عہد نبوت مں تجارتی سود کا بھی رواج تھا۔ جن سے اس استدلال کا بے بناید اور تاریخ کی صححا روایات کے منافی ہونا واضح ہوجاتا ہے کہ عرب مں تجارتی سود کا رواج نہں تھا۔ اس کے بعد اس بات کا جائزہ لاو جانا بھی ضروری ہے کہ سود کی کتنی قسمں ہںن اور ان کے اصطلاحی نام کاi کار ہںا اور ان کی حرمت کسےم ثابت ہے؟ سود کی اقسام واحکام: سود کے متعلق جتنا معلوماتی مواد دستااب ہے اس کی روشنی مںں سود کی دو قسمںے بنتی ہںہ: (1) ربا النسیٔہ۔ (2)ربا البیوع۔ 1) ربا النسیٔہ: اس کے معنی تاخر کے ہںے۔ وہ قرض ( چاہے رقم کی صورت مںا ہو یا چز وں کی صورت مںا ) جس پر واپسی کے وقت اضافہ ہو، ربا النسیٔہ کہلاتا ہے اس کو ربا الجاہلہہ کا عنوان بھی دیا گار ہے۔ چونکہ یہ قسم زمانہ جاہلتک اور اسلام کے شروع زمانے مںب مشہورو معروف تھی۔ بہرحال ایسے تمام قرض جس مںم بغرہ عوض کے کم یا زیادہ، جلد یا بدیر اضافہ ہو، شامل ہںس، چاہے ان کے نام شخصی سود ہوں یا تجارتی سود، سب کا قرآن مجدم سے حرام ہونا ثابت ہے۔ قارمت تک اس مںا تبدییی ناممکن اور محال (Impossible) ہے۔ 2) ربا البیوع: اییم خریدو فروخت ( تجارت) جس مںی چزم کے بدلے مںp چز کا تبادلہ ہو اور اس مں کسی قسم کا اضافہ لاریا دیا جائے، ربا البیوع کہلاتا ہے۔ چاہے یہ تبادلہ (Transfer) نقد کی صورت مںل ہو یا ادھار کی صورت مںت۔یہ بھی ابدی طور پر قاامتتک کلئےب حرام ہے جس مںا تبدییا ناممکن اور محال ہے۔ مشعلِ راہ: رسو ل اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے جو محتاط مسلمانوں کلئے مشعلِ راہ (Light of Way) ہے: ’’عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ نعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍیَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِﷺیَقُوْلُ: اَلْحَلاَلُ بَیِّنُ وَالْحَرَامُ بَیِّنُ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتُ لاَ یَعْلَمُھَا کَثِیْرُ مِنَ النَّاسِ فَمِنَ اتَّقَی الشُّبُھَاتِ اِسْتَبْرَأَلِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُھَاتِ کَرَاعٍ یَرْ عیَ حَوْلَ الْحِمَییُوْشکُ اَنْ یُوَاقِعَہُ اَلاَ! وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمیً اَلاَ! اِنَّ حِمََی اﷲ فِی اَرْضِہٖ مَحَارِمُہُ، ألاَ!ا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلَّہُ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہ اَلاَ!وَہِیَ الْقَلْبُ‘‘ ’’ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح اور ان دونوں کے درماِن کچھ مشتبہ چزضیں ہںص جن کو بہت سے لوگ نہںو جانتے کہ وہ حلال ہیںیا حرام ہں پھر جو کوئی مشتبہ چز وں سے بچتا ہے، وہ اپنے دین اور آبرو کو بچا لتاح ہے اور جو ان شبہ کی چزاوں مںن پڑجائے تو وہ حرام مںَ پڑ گاَ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو شاہی چراگاہ کے ارد گرد اپنے جانور چراتا ہو، قریب ہے کہ وہ جانوروں کو اس مں داخل کر دے ۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک مخصوص زمن ہوتی ہے جس مںا کسی کو داخل ہونے یا مویین چرانے کی اجازت نہںر ہوتی اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی زمنب مں ، اس کی حرام کی ہوئی باتںی ہںی۔ سنو! جسم کے اندر ایک ٹکڑا ہے، جب وہ سنور جاتا ہے تو سارا جسم سنور جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے، سنو ! وہ ٹکڑا ’’ دل ‘‘ ہے۔‘‘ رسول اللہ ﷺ کے مندرجہ بالا ارشاد مبارک کی روشنی مںص سدانا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد مبارک بھی سود کے ترک کر دینے کی ترغبل دیتا ہے’’ ہم نے حلال روزی کے دس حصوں مںض سے نوحصے سود کے ڈرسے چھوڑ دیئے‘‘ حکم الامت حضرت مولانا تھانویؒ تحریر فرماتے ہںا ’’ جو شخص شبہ (Doubt) کی باتوں سے پرہزک نہں کرتا وہ آہستہ آہستہ واضح طور پر حرام باتوںمیں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ جہاں نفس کو ذرا گنجائش دی جائے تو وہ رفتہ رفتہ اس قدر خرابی پد ا کر دیتا ہے کہ خدا کی پناہ! گویا ہلاک ہی کر دتاح ہے لہٰذا نفس کو ہمشہہ شریعت کا قدتی (Prisoner) بنا کر رکھنا چاہےت، کبھی آزادی نہ دیجائے۔‘‘ ان حقائق کی روشنی میںیہ توطے شدہ بات ہے کہ سود اپنی تمام اقسام سمتا ابدی طور پر حرام ہے اور رہے گا اور جو شخص اس کے جواز کی کوشش بھی کرے گا، ا س کے حرام مںو مبتلاہو جانے کا شدید خطرہ ہے۔ قبل اس کے کہ حرام مںب مبتلا ہو جائے اس کے عمومی جواز کی کوششوں ہی کو ترک کر دینا چاہئے تاکہ دنو ی آفات اور اخروی عذابات سے بچا جا سکے۔ اس ابدی حرام کے استعمال کی ایک ہی ممکنہ صورت ہے وہ ہے اییا اضطراری (Uncontrolled) حالت جس مںا جان یاآبرو کی ہلاکت کا ییدئ خطرہ پد ا ہو گات ہوا ور بچاؤ کی کوئی جائز صورت حاصل نہ ہو رہی ہو۔ اس اضطراری حالت کے دور کرنے کلئےی وقتی طور پر بقدر ضرورت حرام ہونے کے اعتقادکے ساتھ حرام کا استعمال جائز ہو جاتا ہے ۔لکن واضح رہے کہ یہ صورتحال صرف اور صرف سود دینے کا جواز توبن سکتی ہے۔ اس صورت حال مںج بھی سود لنےb کے جواز کی کوئی ممکنہ صورت بنتی ہی نہںئ ہے۔ اضطراری حالت مںد لمبا چوڑا کاروبار فضول خرچی وعشص پرستی، دولت مںے اضافے کی ہوس، ضرورت سے زائد مال واسباب کا موجود ہونا، محنت مزدوری کرنے کو شان کے خلاف (Derogation) سمجھنا یا شرم وعار محسوس کرنا قطعًا داخل نہںک ہے۔ معاشی تنگی کی بنا پر سود حلال نہں ہوجاتا: دور حاضر مںی امت مسلمہ کی معاشی پریشانو:ں اور اقتصادی بدحالو۔ں کا مسئلہ نہایت گھمبرو (Complicated) اورحل طلب ہے۔ اس سلسلے مںر قابل غور بات یہ ہے کہ کای کسی عقلمند کے نزدیک مصبتی کا علاج مصبتک، زہر کا علاج زہر ہو سکتا ہے؟ علاج تو ایسا تجویز ہو نا چاہئے جس مںب حقیحہ راحت حاصل ہو۔ سودی علاج تومریض کلئے مرض سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ دناہ کے مصائب تو مشاہدے مںں ہیںہی، ایک مومن کے لئے آخرت کے مصائب کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کردینے کے لئے کافی ہے ۔ دنائ وآخرت کی رسوائی وعذاب کی مصبت معاشی تنگی (Financial Constraints) کی مصبتہ سے کہںا بڑھی ہوئی ہے۔ غور کر لام جائے ان دونوں مصبتواں مںک ہلکی اور قابل برداشت کون سی ہے؟ دو مصبتو ں مںn گرفتار شخص کو اگر دونوں مںہ سے ایک کا اختارر کرنا لازمی بن جائے تو وہ دونوں مںب سے جو ہلکی ہو اسے اختاںر کریگا۔ انسان کا دل بہترین مفتی ہے اس اصول کی روشنی مںر ازخود فصلہئ کرنے کا اختایر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات بھی پش نظر رہنی چاہےی کہ نفع کے حاصل کرنے اور نقصان کے دور کرنے مںا مقابلہ پڑ جائے یعنییاتو نفع حاصل کر لو یا نقصان کو دور کر لو،تو اصولی بات ہے اور عقل مندی کا تقاضا ییح ہے کہ نفع کے حصول پر نقصان کے دور کرنے کو ترجحڑ دی جائے۔ دور حاضر مں امت مسلمہ کی معاشی پریشانولں اور اقتصادی بدحالواں (Poor Economical Conditions) کے گھمبرہ مسائل کے شریعت کی روشنی میںحل کی تجاویز پشر کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سود کے حرام ہونے کے حکم کے نزول کے وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کی عمومی مالیحالت پر بھی نظر ڈال لی جائے۔ احادیث اور اسلامی تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور مںن بھی مسلمان ضرورت مند تھے۔ تہذیب وتمدن اور دوسرے بہت شعبوں مںر دیگر ترقییافتہ قوموں سے بہت پچھےر تھے۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے زمانے کی تنگی وعسرت دور حاضر کی تنگی وعسرت (Hardship) سے کہںت زیادہ تھی جب سود کے حرام ہونے کی آیت نازل ہوئی اس وقت غربت وافلاس زیادہ تھا اور سود کی بہت بڑی بڑی رقمںس لیمو باقی تھں۔ لکن پھر بھی ان کے چھوڑ دینے کا حکم ہوا۔ اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے باوجود تنگی کے ان رقوم کو بھی چھوڑ دیا اور آئندہ کلئےہ سودی کا روبار سے جان چھڑالی۔ جس کی برکات سے ہر چز کے لامحدود خزانوں کے مالک نے انہںر خوب نوازا۔ لہٰذا جب مال حرام سے ترقی کی راہںب کشادہ نظر آرہی ہوں اور معاشرے مں عمومی بگاڑ بھی خوب واقع ہو چکا ہو، اس وقت بھی رہنمایانِ قو م( علماء) کییہ ذمہ داری قطعاً نںاو بنتی کہ وہ مسلمانوں کلئے بھی حرام کے جواز کی راہںو نکال کر، غرق قوموں کی اتباع کو جائز قرار دیں بلکہ ان کا فرض ہے کہ بغری کسی ہچکچاہٹ (Reluctance) کے پورے ینقع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا حکم بتلائں۔ اورامت کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول پر آمادہ کرنے کلئےن ہمشہا کے لئے ملنے والے دنووی واخروی انعامات کا پورا نقشہ تسلسل کے ساتھ پش کرتے رہںا۔ امت کے مالااتی مسائل کے مادّی حل کلئےں مفدھ تجاویز پشر کرنے سے قبل ایک بناuدی کام جو معاشرے کے پانچ مختلف طبقات پرلازم ہے باتن کرنا، دور حاضر کی ضرورت ہے۔ اس کے بغرک مفدت ثمرات کا حصول اگر ناممکن نہںی تو دشوار ضرور ہے۔ معاشرے کے پانچ اہم طبقات اور ان کی ذمہ داریاں: 1: علماء۔ 2: حکمران۔3: سرمایہ دار۔4: غرباء۔ 5: جج۔ 1:طبقۂ علماء کی ذمہ دارییہ ہے کہ وہ حکمراں طبقہ کو ان پر عائد ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی تلقنش کریں، سرمایہ دار طبقے کو ایثار، ہمدردی، دیانت وامانت کا درس دیتے رہںہ۔ غرباء کو صبر وقناعت کے درس کے ساتھ محنت و مشقت کی عادت ڈالنے اور مخلوق خدا کے سامنے دست سوال (Begging) نہ پھیلانے کا سبق دیتے رہںع۔ 2:حکمراں طبقے کییہ ذمہ داری ہے کہ نہ خود کسی کامال ناجائز طور پر حاصل کرے اور نہ کسی دوسرے کو ایسا کرنے دے۔ لوگوں کے سرمائے کو تحفظ فراہم کرے۔ قواننا کو قانون کی کتابوں مںا درج کرنے کے ساتھ ساتھ عملی نفاذ کو بلارعایت (Without any relaxation) مستحکم اور شفاف بنائے۔ 3:سرمایہ دار طبقے کییہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایثار وہمدردی کے ساتھ ساتھ خاونت، غبن (Embazzlement)، دھوکہ، ملاوٹ جیy بری چز وں کو اپنے اوپر حرام کرلے ۔ مزدور وملازم طبقے کلئےے مہنگائی اور کام کے تناظر مں، تنخواہ اور معاوضے مقرر بھی کرے اور ادائوelaں کو بھی آسان بنائے تاکہ یہ پسا ہوا طبقہ ایڈوانس اور قرض کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کر سکے اور سکون سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکے۔ 4:غریب طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ صبر وقناعت کا دامن تھام کر، محنت اور مزدوری کو اپنا شعار بنائے۔ سہل پسندی، سستی، بے کاری اور ہڈحرامی (Laziness) کو خرے باد کہہ دے۔ 5:عدالتی نظام سے متعلق جج حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کے حصول کو سستا، فوری اور آسان بنائں۔۔ حق کے مطابق فصلے کلئے نہ دباؤ برداشت کریں، نہ فریند سے کسی قسم کی مالی منفعتیں (Monetary Gains) حاصل کریں۔ مندرجہ بالا پانچوں طبقات اگر اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کو پورا کر لں تو 75 فصدن مسائل تو ازخود حل ہو جائں گے۔ بقہe 25فصدل مسائل کے حل کی تجاویز حسبِ ذیل ہںن۔ چند قابلِ عمل تجاویز: 1) بتب المال قائم کای جائے جو زکوٰۃ وصول کرے۔ سرمایہ دار ازخود اس بتھ المال مںل زکوٰۃ جمع کروائںہ اور بتر المال زکوٰۃ کے مستحقینیعنی مصارف پر ضرورت کے بقدر خرچ کرے۔ مستحقین کلئے اس کا حصول آسان رکھے جس کا ایک طریقہیہ ہے کہ گداگری (Begging) بالکل قانوناً ممنوع ہو۔ مال کو ضرورت مندوں کے دروازوں پر بروقت پہنچا نے کا غلطواں سے پاک اور شفاف انتظام ہو۔ 2) اوقاف قائم کئے جائںا جن کی آمدنی سے بلاسودی قرضے دیئے جائیںیہ قرضے صرف اس محروم طبقے کو دیئے جائں جو باعزت طریقے پر معاشی ذرائع (Economical Sources) اپنانا اور بڑھانا چاہتا ہو۔ 3) امدادی اداروں کا قایم ہو جس مںE حکومت اور دیگر سرمایہ دار سرمایہ لگائںص او ران امدادی رقوم (Fund) سے امت کے اجتماعی رفاہی امور انجام دیئے جائںں۔ جسے سڑکںس، ہسپتال وغر ہ وغرفہ۔ 4) مختلف سرمایہ دار آپس مں مل کر سرمایہ جمع کر کے، ان منصوبوں (Projects) پر کام کریں جن پر کثرہ سرمائے کی ضرورت ہو اس کلئے شراکت اور مضاربت (Partnership and Loss & Profit Sharing) کی راہںپ اسلام نے کھول رکھی ہںق۔ دنای مںے غرا سودی نظام خواہ وہ دولت کی حفاظت کلئےi ہو، قرض کلئے ہو یا اپنی جمع شدہ رقم سے بغرض اپنی محنت کے مزید مال ودولت حاصل کرنے کلئےس ہو، پوری کاماضبی کے ساتھ چل سکتا ہے۔ ییک نظام معاشی مشکلات کا پورا حل رکھتا ہے اور اقتصادی پریشانوسں کے ازالے کا ضامن (Guarantor) بھی ہے۔ اب مشکل صرف یہ باقی رہ جاتی ہے کہ لوگ اس پر چلنا نہںک چاہتے اس کا علاج صرف دعا، صبر اور مایوس ہوئے بغرق جہد مسلسل ہے کہ لوگ اپنی بھلائی پر آمادہ ہو جائںض! آج معاشرے کا معاشی مدہان مںع موجود طبقہ بددیانتی، دھوکہ دہی جینی پریشانومں سے دو چار ہونے کے باوجود،اپنے اپنے معاشی نظاموں کو چلا رہا ہے اور یہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ سودی سرمایہ ان تکالف کانعم البدل (Substitute) نہںک بلکہ ان پریشانواں کے ساتھ ساتھ مزید ایک اور پریشانی کا اضافہ ہے جو کہ ان تمام پریشانویں سے بڑھ کر ہے۔ سود کے حوالے سے علماء کے درماپن دارالحرب اور دار الاسلام کی معرکۃ الآرا بحث پائی جاتی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ سود کالنم دین خواہ دارالاسلام مںر ہو یا دارلحرب مںا بہرحال ناجائز اور حرام ہے بعض علماء دارا لحرب (Waring Land) مںض سود کے جواز کے تو قائل ہںا مگر ان کے قول پر فتویٰ نہںر دیا جاتا باقی تمام علماء دارالحرب مں بھی سود کو حرام ہی کہتے ہں ۔ اس لئے جسےم دارالا سلام مںل سودی ذلت سے بچتا ہے دارالحرب مںر بھی اس لعنت کا طوق (Collar) اپنے گلے مں نہ ڈالے ییہ بہتر ومناسب ہے۔ ویسے بھی سود کے جواز کے قائلنا بھیصرف جائز کہتے ہںو سود کو اپنانے کا حکم تو نہں دیتے۔ لہٰذا کسی بھی صورت مں سودی رقم کسی بھی صاحب ایمان کے پاس ہو، اسے فوراً اپنی ملکت۔ (Property) مںا سے نکال کر بغرa صدقے کی نتا کے ایسے غرباء مںس تقسمک کر دے جو غفلت کا شکار ہونے کی وجہ سے بے دین ہوں۔ جوا (مسرہ۔ قمار ) مسرس کواردو زبان مں جوا (Gambling) کہا جاتا ہے۔ علماء کرام نے اس کی تعریف مں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ہر وہ معاملہ جس کا نتجہس نفع اور نقصان کے اعتبار سے واضح نہ ہو یینر معاملہ کرنے والے تمام فریقوں مںہ سے کسی فریق پر بھییہ واضح نہ ہوکہ اسے نفع ہوگایا نقصان، اسے قمار کہتے ہں ۔ اس لفظ کا عربی زبان مں عام استعمال ہو نے کی وجہ سے عوام الناس کے درمانن اس کا معنی جانا پہچانا اور مشہور ومعروف تھا۔ لوگ کھلہ تماشوں مںب جیتنےیا ہارنے پر شرط لگاتے تھے جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ بازی جیتنے والے کو ہارنے والا شرط کی طے شدہ رقم یا چزل دے گا۔ مثال کے طور پر دوشخص آپس مںس بازی لگائںے کہ دوڑ مںن تم آگے بڑھ گئے تو مںج تم کو ایک ہزار روپے دوں گا اور مںر آگے بڑھ گا تو تمہںث مجھ کو ایک ہزار روپے دینے پڑیں گے ۔ اس طرح کی شرط لگا کر کوئی معاملہ کرنا جو ا کہلاتا ہے۔ اور اس کو شریعت نے حرام قراردینےکے ساتھ گندہ اور شطازنی کام کہا ہے۔ اور یہ ایک ایسا شطاونی عمل ہے جس کے ذریعے شطا ن بغض ، عدوات اور حسد کے جذبات بھڑ کا کر معاشرے مںے لڑائی جھگڑے شروع کرا دیتا ہے جس کا انجام بعض اوقات خانہ جنگی کی صورت مںو بھی ظاہر ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کے مفلس وقلاش ہو جانے کا مشاہدہ تو عام ہے۔ مذہب اسلام نے صرف عبادات کا نظام نہںے دیابلکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشاات اور اقتصادیات (Economics & Economy) مںر بھی ایسا عادلانہ اور متوازن نظام دیا ہے جس مںا پوری انسانتo کی اجتماعی مصلحتوں کو مد نظر رکھا گاا ہے۔ اسلام نے ہر اس معاملے کو جس مںی کوئی شخص بغرد کسی صححن استحقاق (Right Privilege) کے کسی کے مال پر قبضہ کر لے ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ اسلام ایسے معاملے کی اجازت کسےح دے سکتاہے جس مں ایک شخص بغرc کسی محنت اور عمل کے امرم سے امر تر بنتا چلا جائے اور دوسرا شخص بغر کسی جرم کے غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے؟ لہٰذا ایسا طرز عمل قارمت تک چاہے جس نام سے بھی اختاسر کائ جائے اسلام کی تعلما ت کے مطابق مسرچ مںا داخل اور حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے اگر کسی شخص نے کسی سے صرف زبان سے اتنا کہہ دیا کہ آؤ جوا کھںںان ( خواہ عملی طورپر نہ کھلےھ) توبھی اس نے گناہ کا کام کاش لہٰذا وہ اس کی تلافی کچھ نہ کچھ خر ات کے ذریعے کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق تاریخ گواہی دیین ہے کہ جو ئے کے حرام ہو جانے کی آیت نازل ہونے کے بعد جن کاموں مںر جوئے کا شبہ (Doubt) بھی معلوم ہوتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کام کو چھوڑ دیتے تھے۔ جوئے کی صورتں : آج کل سٹے (Market Transaction) کے نام سے جو کاروبار ہوتا ہے وہ جوئے ہی کی ایک قسم ہے اور مسر مںک داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ اس کاروبار مںc کسی قسم کی اعانت اور تعاون بھی حرام ہے۔ دو شخصوں یا ٹمومں کے درمانن ایسا کھل جس مںو ہارنے یا جیتنے پر آپس مں ایک دوسرے کو کسی طے شدہ رقم یا چزر کے دینے کی شرط ہو, جو ا اور قمار ہونے کی وجہ ناجائز وحرام ہے اس مںی گھڑ دوڑ (Horse Race)، پدیل دوڑ یا کسی قسم کی ریس، پتنگ بازی، کبوتر بازی، جانور لڑاناسب داخل ہں جس مںی آپس مںڑ ایک دوسرے کو کچھ دینے کی شرط ہو۔ ہاں البتہ جیتنے والے کو کوئی تسرنا شخص جو اس کھل سے متعلق نہ ہو،اپنی طرف سے کوئی چزہیا رقم انعام کے طور پر دیدے تو جائزہے۔ بازاروں مں ایسے بند ڈبوں (Sealed Packs) کی خریدو فروخت ہوتی ہے جن میںیہ واضح ہی نہںر ہوتا کہ ان مں پائی جانے والی چز وں کی مقدار کتنی ہے ؟ ایک ہی قسم کے ڈبے ہوتے ہںو کسی مںم کچھ بھی نہںت ہوتا، کسی مں کم مقدار ہوتی ہے اور کسی مں زیادہ۔ سب کی قمت ایک ہی ہوتی ہے لوگ اس کو قسمت آزمائی سمجھ کر خریدتے ہںھ۔ یہ بھی کھلا ہوا جوا اور قمار ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ انعامی ٹکٹوں (Lottery Tickets) کی فروخت کے حوالے سے جو کاروبار ہوتا ہے اور اس مںآ ٹکٹ خریدنے والوں مںہ سے قرعہ اندازی کے ذریعے نام نکلنے والوں کو انعام کے نام سے جو کچھ دیا جاتا ہے وہ جوا اور قمارہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ موجودہ دور مںی انشورنس اور بمہ (Insurance & Assurance) کے نام سے جو بھی صورتںی رائج ہں ان مں سود اور قمار دونوں جمع ہںو اس لئے سب حرام ہںل او ربغرu کسی ناگزیر ضرورت کے اس مںر مبتلا ہونا بہت بڑا گناہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی جوئے کی متعدد اقسام معاشرے مں پائی جاتی ہںn بعض صورتوں مںر جوئے کے علاوہ سود بھی شامل ہوتا ہے ۔ جوئے کے نقصات: اس کا منافع تو یہ ہے کہ اگر بازی جیت جائے تو پلک جھپکتے مںہ غریب اور مفلس (Pauper) شخص بھی مالدار بن سکتا ہے۔ لکنئ اس کی معاشی، اجتماعی، سماجی (Social) اور روحانی خرابابں اس سے کہںa زیادہ ہںع جن کو دیکھتے ہوئے اس فائدے کی کوئی حت ک نہںق۔ 1) جوئے کا دارومدار اس نظریے پر ہے کہ مرجا فائدہ ہو، چاہے دوسرے کو اپنے سرمایے سے محروم ہوکر قلاش ہونا پڑے، یہ بدترین خودغرضی (Selfishness) ہے جو انسانی ہمدردی کے یکسر خلاف ہے۔ 2) جوئے کا عادی شخص محنت ومشقت اور حلال کمائی سے جی چراتا اور سہولت پسندی وعشق پسندی مںہ مبتلا ہوجاتا ہے۔ 3) جوئے کی مروجہ (Prevalent) صورتوں مںے اگرچہ یہ نقصانات نمایاں نہںہ ہوتے کو نکہ نقصان تمام افراد پر تقسمک ہوجاتا ہے لکنو اس کا لازمی اثر یی ہے کہ پوری قوم کی دولت سمٹ کر چند محدود افراد وطبقات کے پاس جمع ہوجاتی ہے۔ 4) جوئے کا معاملہ کرنے والے چونکہ خودغرضی مںا مبتلا ہوتے ہںچ اس لئے ان مں لڑائی جھگڑا اور بعض اوقات قتل وغارت گری تک نوبت آجاتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو بھی ہارنے والے کے دل مںد جیتنے والے کے لئے بغض ودشمنی کے جذبات تو پدلا ہو ہی جاتے ہںہ۔ 5) انسان اس مں ایسا مگن ہوجاتا ہے کہ دین اسلام پر عمل کے سلسلے مںں انتہائی غفلت کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ 6) یہ باطل اور حرام طریقے سے دوسروں کا مال ہڑپ کرنے کی ایک صورت ہے۔ 7) ہارنے والے کا پورا گھر بلکہ بعض اوقات کئی کئی خاندان تباہ وبرباد ہوکر رہ جاتے ہںر۔ تنبہ): موجودہ دور مںک بلاشبہ حلال کمائی کے حصول مںہ تنگی پشم آرہی ہے لکنل اس کی وجہ اسلام کے احکامات کی سختی نہںی بلکہ عوام کی اکثریت کا اسلام کے آسان ترین احکامات پر عمل نہ کرنا ہے۔ اس لئے اسلامی احکامات پر چلنے والوں کی اقلتب (Minority) کو اجتماعیمعاشرے مںو زندگی گزارنے مںن دشواریاں پشل آ رہی ہں ۔ یہ اتنی واضح بات ہے جس کو سمجھنا کوئی مشکل نہںی مثلاً گندم کے آٹے سے روٹی پکا کر کھانا کوئی سخت اور مشکل کام نہںں ہے لکنک اگر ساری دنا مں روٹی کھانے کا رواج ہی ختم ہو جائے اور لوگ روٹی کو چھوڑ کر اس کی جگہ کچھ اور کھانے لگںح تو روٹی حاصل کرنا ایک مصبتا سے کم نہ ہوگا اور روٹی کھانا ایک ناقابل عمل (Impracticable) کام قرار دیا جانے لگے گا۔ یہ مصبت گندم کے آٹے کی وجہ سے نہںب بلکہ رواج کے ختم کر دیئے جانے کی وجہ سے ہوگی۔ لہٰذا حلال کمائی کے حصول مںن تنگی کی مثال اییے ہی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ اسلام کے احکامات پر نبیﷺ کے بتلائے ہوئے طریقوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نتے سے عمل شروع کر دیا جائے اس کا لازمی نتجہر فراخی اور کشادگی کی صورت مںا ہی نکلے گا۔ اس نتجے کی طرف رہنمائی خود قرآن مقدس نے ایک مقام پر اس طرح فرمائی ہے: {وَ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا} ’’جو لوگ ہمارے راستے مںہ کوشش کرتے ہںن ہم ان کے لئے اپنی راہں کھول دیتے ہںک‘‘ دوسرے مقام پر ارشاد خدا وندی ہے: {وَ مَنْ یَّتَّقِ اﷲَیَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثاُا لَا یَحْتَسِبُ} ’’جوپرہزَ گاری اختا:ر کرتا ہے ا س کلئے اللہ تعالیٰ ہر تنگی اور مصبتہ مںم سے نکلنے کا راستہ بنا دیتے ہںں اور اس کو اییا جگہ سے روزی عنایت فرماتے ہں جہاں سے اس کو وہم وگمان (Idea & Imagination) بھی نہں ہوتاتھا‘‘۔ نزا مزید انعام یہ فرمایا:’’ اس کے کام کو اﷲتعالیٰ آسان فرما دیتے ہںس۔‘‘(سورۂ طلاق آیت 4) فقہی مسائل مسئلہ: بنکئ مںع سو نگ اکاؤنٹ کھولنا سودی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ مسئلہ:بنکر سے اوڈی (Over Draft) لنالیا بنکا مں پی ایل ایس اکاؤنٹ کھولنا ناجائز ہے۔ مسئلہ: بنکئ مںع فکس ڈیپازٹ رکھنا اور اضافی رقم لناا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ مسئلہ:این آئییونٹس، نشنل سوھنگ سرٹٹکاَہ، انعامی بانڈز پر ملنے والی اضافی رقم سود ہے لہٰذا ان کا اس مقصد سے خریدنا ناجائز ہے۔ البتہ انعامی بانڈز کا بطور کرنسی لنا دین جائز ہے۔ مسئلہ:کسی شخص یا ادارے کے جاری کاروبار مںا سر مایہ لگا کر اس سے متعنن طورپر نفع کے نام سے جو کچھ لاض جاتا ہے، سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ مسئلہ:پروایڈنٹ فنڈ کی صورت مںر ملنے والی رقم جائز ہے۔ البتہ اگر ملازم خود ادارے کے پاس رقم رکھوا کر اضافہ وصول کرے تو یہ اضافہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ مسئلہ:خریداری کا بِل بن جانے کے بعد خریدار کا زبردستی بل کی رقم سے کم دینایا فروخت کنندہ کا بل کی رقم پر اضافہ لنای نا جائز ہے۔ مسئلہ: روپوں کا تبادلہ روپوں کے بدلے صرف اس صورت مںد جائز ہے کہ اس مںت کمی بی ک نہ ہو۔ مثلاً ہزار روپے کے نوٹ کا کھلا لنالیا نئی کرنسی لنار مقصود ہو تو ہزار روپے ہی لنام ہوںگے ہزار روپے مںا کمییا اضافہ ناجائز ہوگا۔ مسئلہ:جتنی رقم کی بی سی (کمیو ) ڈالی ہے قرعہ اندازی مںہ اپنی باری پر اتنی ہی رقم لنا یا دینا جائز ہے۔ اس رقم مںک کمییا اضافہ ناجائز ہے۔ مسئلہ: جو کمپنا ں اپنے حصہ داروں کو بغرن کسی حساب کتاب کے متعنہ منافع دییہ ہںن وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ مسئلہ: انشورنس اور بمہ سود اور جوئے کی ترقییافتہ شکلیں ہںد لہٰذا قانونی مجبوری نہ ہونے کی صورت مںئ ناجائز اور حرام ہںئ۔(قانونی مجبوری کی صورت مں۔ حرام اور ناجائز سمجھتے ہوئے کم سے کم مقدار کا بمہو کرانے کے ساتھ ساتھ توبہ واستغفار بھی کرے) مسئلہ:قانونی مجبوری کی وجہ سے بمہر کرانے کی صورت مںہ اپنی اداکردہ رقم سے زائد وصول کرنا جائز نہںس۔ مسئلہ:بمہو کمپنی کا کام کرنا نز بمہز کمپنی مںے ملازمت کرنا یا اس کا ایجنٹ بننا جائز نہںج۔ مسئلہ:بمہو کمپنی سے حاصل ہونے والا منافع، تنخواہ اور کمشنے وغرہہ جائز نہں ۔ مسئلہ:ایسے تمام کھلی جو کھلنے والوں کے درماان کسی بھی قسم کی انعامی شرط کے ساتھ کھلےھ جائں ناجائز اور حرام ہں ۔ مسئلہ:کسی بھی قسم کے ذہنی، علمییا تعلیان مقابلے جن مںج داخلہ، فسس کے ذریعے ہو اور قرعہ اندازی (کسی بھی عنوان مثلاً عمرے کا ٹکٹ یا نقد رقم یا دیگر انعامات وغرخہ) کے ذریعے انعام کے نام سے نوازا جاتا ہو، سود اور جوا ہونے کی وجہ سے حرام ہں ، لہٰذا ایسے مقابلے کرانا یا ان مںم شامل ہونا جائز نہںع۔ مسئلہ:ایسے تمام مقابلے (مثلاً مرغے یا کوئی اور جانور لڑانا، لوگوں کی، سائکلواں کی، گدھا گاڑیوں کی، رکشاؤں کی، گاڑیوں کی، گھوڑوں کی ریسیں) جو شرط کے ساتھ ہوں ناجائز اور حرام ہںا، لہٰذا ان کا کرانا یا ان مںا شامل ہونا جائز نہںے اور ان سے حاصل ہونے والی رقمںی بھی حرام ہںش۔ مسئلہ:کسی بھی ادارے یا افراد کی طرف سے جاری ہونے والی اییئ تمام اسکں جا جن مںن انعام کا لالچ ہو اور ٹکٹ خرید کر شامل ہوا جاتا ہو اور قرعہ اندازی کے ذریعے ٹکٹ خریدنے والوں مںا بعض کو انعام کے نام سے کچھ دیاجاتا ہو، جوئے کی ایک قسم ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے لہٰذا اییں اسکںٹکٹ جاری کرنا، ان مںن شامل ہونا اور انعام حاصل کرنا حرام ہے۔ مسئلہ:انعامی بانڈز کا بطور کرنسی لنا دینا جائز ہے لکنن اس پر انعام کے نام سے کھلنے والی رقم ناجائز اور حرام ہے لہٰذا اس کا لنای دینا اور ایسے بانڈز کا جاری کرنا بھی جائز نہں ۔ مسئلہ:کچھ لوگوں کا بی سییا کمی کے نام سے برابر برابر رقم نکال کر ایک مخصوص رقم جمع کرکے قرعہ اندازی کے ذریعہ کسی ایک کو وہ رقم دے دینا اور طے شدہ وقفے کے بعد دوبارہ تمام شامل ہونے والوں کا اپنے اپنے حصے کی قسط دے کر اس مخصوص رقم کو جمع کر کے قرعہ اندازی کے ذریعہ کسی دوسرے کو وہ رقم دے دینا اور اس طرح اس وقت تک کرتے رہنا کہ تمام شامل ہونے والے اپنے اپنے حصے کی قسط بھی ادا کرتے رہںی اور تمام لوگوں کو باری باری جمع شدہ مخصوص رقم بھی مل جائے، جائز اور صححی ہے۔ مسئلہ:اییا بی سییا کمیر (لکی بی ط) جس مں قرعہ اندازی کے ذریعے نام نکلنے والے کو جمع شدہ مخصوص رقم بھی مل جائے اور اس پر بقہص قسطںی بھی معاف ہوجائںر ناجائز اور حرام ہے لہٰذا اییو بی سییا کمیوی جاری کرنا اور اس مںج حصہ لناق جائز نہںا۔ مسئلہ:کچھ دوستوں کا آپس مں مل کر کھانا پنار اور پسواں کی ادائی ہ قرعہ اندازی کے ذریعے نام نکلنے والے سے کرانا صرف اییم صورت مںے کہ نام نکلنے والے دوست دوبارہ قرعہ اندازی مںا اس وقت تک شامل نہ ہوں جب تک کہ شامل ہونے والے تمام دوستوں کی باریاں پوری نہ ہوجائں ، جائز ہے۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
209