(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
تبلیغی جماعت کی عالمگیریت اور مراکشی شہداء
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ تبلیمَ جماعت کی عالمگرمیت اور مراکشی شہداء تبلیمَ جماعت کے دلکش کلمات: ’’مر ی او رآپ کی اور روئے زمنی پر بسنے والے ہرہر انسان کی کاماہبی اﷲتعالیٰ کے احکامات اور نبیﷺ کے طریقوں مںس ہے، یہ طریقے ہم مںو کسےم آجائںں اس کے لےر محنت کی ضرورت ہے، اس محنت کے بارے مںی بقہم نماز کے بعد ایمان و ین ج کی بات ہوگی، تمام ساتھو ں سے گزارش ہے کہ تھوڑی دیر کے لےی تشریف رکھں ان شاء اﷲ بہت نفع ہوگا۔‘‘ یہ ہںن وہ پرکشش اور جاذبتَ بھرے جملے جو آج دنال بھر کی اکثر مساجد مںر اپنی اپنی مقامی زبانوں مںن کسی ایک باجماعت نماز کی ادائیاو کے بعد مسجد مںج گونج رہے ہںو۔ ’’ہم نے اور آپ نے کلمہ لاالٰہ الاّاﷲ محمد رسول اﷲ پڑھا ہے جس مںپ ہم نے اﷲ سے وعدہ کاک ہے کہ ہم یہ دنوای زندگی ترسے حکموں اور نبیﷺ کے طریقوں کے مطابق گزاریں گے اس سلسلے مںے مسجد مںا کچھ بات چل رہی ہے آپ سے درخواست ہے کہ آپ بھی مسجد مںا تشریف لے جائںد۔‘‘ یہوہ خرجخواہانہ اور مخلصانہ کلمات ہں جو اس راہ مںپ نکلتے ہوئے بازاروں کی دکانوں اور محلے کے مکانوں کے دروازوں پر ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کی خدمت مں عرض کرتا ہے۔ ’’یہ تمام باتںے ہمارے اپنے اندر کسےئ آجائں‘ اس کے لے ماحول کی ضرورت ہے لہٰذا اپنی جان، مال اور اوقات لے کر کم و بشا عرصے کے لےک مسجد والا ماحول اختاہر کرتے ہوئے اپنے اوپر محنت کرنے کے ساتھ ساتھ جس علاقے مںت جائںی وہاں کے مسلمانوں کو بھی اس کی طرف متوجہ کریں۔ اس کے لےت ایک مختصرسا نصاب ہماری کمزوریوں، مصروفتوںں اور اوقات کو دیکھتے ہوئے برزگان دین نے متعنم فرمایا ہے جس کی تفصیلیہ ہے کہ مہنےت مں، تنو دن، سال مںق چالسک دن اور زندگی بھر مںن کم از کم ایک مرتبہ مسلسل و لگاتار چار مہنےو اس ماحول مںا صرف فرمائںو اور اس کے لےہ اپنے نام، اوقات کے تعنو کے ساتھ پش، کریں۔‘‘ یہ ہے وہ عاجزانہ درخواست جو ہر باین کے بعد تشکلر کے مواقع پر ہرہر اُس شخص کو سننے کو ملتی ہے جو ان باےنات مںر شریک ہوتا ہے۔ ختم نبوت کے طفلم دعوت کی ذمہ داری: مندرجہ بالا اقتباسات اُس نظام کا حصہ ہںی جسے عرف عام مںہ دعوت و تبلیغیا تبلیی جماعت کہا جاتا ہے۔ یوں تو یہ کام نبیﷺ کے ختم نبوت کے طفلت آپﷺ کی امت کے ہر حتعام کے افراد پر عائد ہے یینن ایک امتی کییہ دوہری ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جان پر بھی اﷲتعالیٰ کے احکامات نبیﷺ کے طریقوں کے مطابق نافذ کرے اور دوسرے عام مسلمانوں کو بھی اس زندگی کے اختارر کرنے کی ترغبت تبلغک کے آداب کی رعایت کرتے ہوئے تاحابت وقتاً فوقتاً مردم، مزاج اور موقع شناسی کی مصلحتوں کے ساتھ دیتا رہے۔ نبیﷺ کے اس دناٰ سے پردہ فرما جانے سے پہلے بھاںمت مسلمہ اپنے اوپر عائد اس ذمہ داری کو کماحقہ پوری کرتی رہی، نبیﷺ کے دنا سے پردہ فرما جانے کے بعد یہ ذمہ داری مکمل طور پر امت مسلمہ پر عائد ہوگئی۔ لہٰذا ہر اُس عنوان سے جس سے یہ مقاصد پورے ہوتے رہںا اُمت تن، من، دھن کے ساتھ اس مںہ مشغول و منہمک رہی۔ زندگی کے دیگر مراحل بھی طے ہوتے رہے اور اس مقصد مںں بھی کوئی کمزوری نہں آئی لکنم جسےو جسےھ اسلام پھیلتا رہا امت مسلمہ کی تعداد مں گوناگوں اضافہ ہوتا رہا۔ دیگر مراحل کی طرح اس مرحلے مں بھی کمزوریاں نمودار ہونا شروع ہوگئیںیہاں تک کہ اس شعبے مںا امت مسلمہ مںر پائے جانے والے طبقات کی نمائندگی ختم ہوتے ہوتے ایک محدود اور مخصوص طبقے مںل منحصر ہوگئی۔اس طبقے کو عرف عام مں علمائے کرام کہا جاتا ہے انہوں نے وعظ و تقریر، درس و تدریس، تصنفر و تالفز جسےو علمی آلات واسباب کے زیورات سے آراستہ و پرماستہ ہوکر مالی و مادی کسمپرسی کے تناظر مںل ہر دور، ہرزمانے اور ہر علاقے مںہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ آج یہ علمی ذخائر جہاں جہاں محفوظ نظر آتے ہیںیہ اسی طبقے کا مرہون منت ہے اور اس محنت کے فض، سے ہر خاص و عام اپنا دنو ی و اخروی فائدہ وصول کررہا ہے۔ اس طبقہ علماء کے علاوہ امت مسلمہ مںم جتنے بھی طبقات پائے جاتے ہںے انہوں نے دین کے حوالے سے اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں پر مسلسل اییی کمزوری و کوتاہی کا ارتکاب کای کہ اس شعبے مںن اُن کی نمائندگی کا فقدان ہوتا چلا گاس۔ شعبۂ تبلغء مںم امت کے تمام طبقات کی دوبارہ آمد: اﷲ رب العزت کو اس امت کی کوتاہی کمزوری منظور نہںہ تھی اور دین کے اس نامکمل نقشے مںی رنگ بھرنے کے لےف ان طبقات کو بھی اس شعبے مں نمائندگی دلانے کے لےی ایک عظم جماعت کو نمودار فرمایا۔ کہنے کو تو یہ جماعت کے عنوان سے معروف و مشہور اور پہچانی جاتی ہے لکنا ایک جماعت کے وجود و بقا کے لےا جتنے مروّجہ لوازمات اور شرائط کی ضرورت ہے اُن مںی سے ایک بھی اس مںر پائی نہںہ جاتی۔ نہ اس مںت کوئی داخلہ فارم ہے، نہ کوئی داخلہ فسم ہے، نہ کوئی داخل ہونے والے کی رجسٹریشن ہے، نہ انتظامی امور کے لےہ عہدوں کی بندربانٹ ہے، نہ ہی انتظامی حوالے سے کوئی ریکارڈ ہے، نہ ہی کارکنان کا اس حوالے سے کوئی محاسبہ ہے، بس کام کے اوقات مںئ لوگ جمع ہوتے ہںر اور کام کی تکمل پر منتشر ہوجاتے ہںا۔ ان مطلوبہ و مروّجہ لوازمات اور شرائط کی عدم موجودگی مںم بھییہ جماعت مستقل طور پر مکمل نظم و ضبط کے ساتھ اپنے وجود کے دن سے لے کر آج تک بفضلہ تعالیٰ قائم و دائم ہے اور اگر اسی صفت پر باقی رہی تو اس کا اپنا وجود تاقا م قاامت باقی رہے گا۔ اس حوالے سے ایک واقعے سے اس کی تائدس بھی ہوتی ہے کہ اس جماعت کے قاوم کے ابتدائی دنوں مںق حکومت کی جانب سے ان کی باتوں کو نوٹ کرنے اور ڈائری تاار کرنے کی غرض سے ان کے اجتماعات وغروہ مں ایک صاحب آیا کرتے تھے جنہںں اس جماعت کے کارکن بھی محسوس کرتے تھے لکنت ان سے کوئی تعرض نہں کات کرتے تھے، ان کے پابندی کے ساتھ آنے کو کچھ عرصہ گزرا ہی تھا کہ کسی صاحبِ نظر نے اُن سے ملاقات کرتے ہوئے پوچھا کہ بھائی! اتنے دنوں سے آرہے ہو، کا چزش نوٹ کی؟ جواب مں اس نے کہا کہ مرحی ذمہ داری حکومت کی طرف سے لگائی گئی ہے لکن مسئلہ یہ ہے کہ یہیا تو زمن کے نچےن کی بات (قبر کی بات) کرتے ہیںیا آسمان سے اوپر (جنت و دوزخ) کی بات کرتے ہںی۔ اور نظام حکومت کا ان دونوں جگہوں سے کوئی تعلق نہں ہے اس لےی اس حوالے سے نوٹ کرنے کے لے مروے پاس کوئی مواد نہںر ہے پھر اس سے پوچھا گای کہ تروا اس جماعت کے بارے مںی اپنا ذاتی خاال کاے ہے؟ اس نے کہا کہ حکومت کو ان کی مدد کرنی چاہےہ۔ صاحب نظر کی طرف سے ان کے اس جواب پر کہا گاع کہ جب تک اﷲتعالیٰ کے لےدیینہ اخلاص کے ساتھ یہ کام کررہے ہںی انہںی کسی کی بھی مدد کی ضرورت نہںٰ ہے اور جس دن اِن کے اندر سے اخلاص نکل گای اس دن ان کو ختم کرنے کے لےل بھی کسی انتظام کی ضرورت نہںر رہے گی۔ تبلیص جماعت اور مروّجہ ذرائع: بفضلہ تعالیٰ اب تک تو یہ جماعت اسی اصول پر اتنی سختی سے قائم ہے کہ اس نظام کے چلانے کے لے جن اخراجات کی ضرورت دناپ کے دارالاسباب ہونے کی وجہ سے ناگزیر ہے اُن اخراجات کے لے خود ان کی اپنی جماعت کے کارندوں سے بھی کوئی ظاہری، جبری چندہ نہںا کاا جاتا، اور نہ ہی رضاکارانہ طور پر کوئی عمومی چندہ عام کارندوں کی طرف سے دیے جانے کی کوئی مثال قائم ہوئی ہے۔ ان کے پورے نظام کے چلنے مں وقتاً فوقتاً پروگرام طے ہوتے ہںک اور اس کی تشہر کسی مروجہ نظام (بنر ، اخباری اشتہارات، ریڈیائی اعلانات، الکٹر انک میڈیا کا استعمال وغرپہ وغرمہ) تشہر کے ذریعے نہںے کی جاتی،یہ سنہ بہ سنہے چلنے والا نظام دیکھتے ہی دیکھتے متعلقہ حلقوں تک خوش اسلوبی کے ساتھ موبائل اور ٹیپر فون کی سہولت نہ ہونے کے باوجود پہنچتا رہا ہے۔ بارش بن کر برسنے کا اصول: اس جماعت نے روزاوّل سے جس طریقہ کار کو اپنایا ہے اس کا بنا دی اصول بے غرض ہوکر بے طلب بندوں تک پہنچنا ہے لہٰذا دورِحاضر میںیہ واحد جماعت ہے جو کنواں بن کر پااسوں کا انتظار نہں کرتی بلکہ بارش بن کر پاتسوں اور غراپایسوں کی روحانی تشنگی کو دور کرتی ہے۔ ان کے اس اصول پر کاربند رہنے کی تائد اس کے بانی حضرت مولانا الاہس رحمۃ اﷲ علہا ملقب بہ حضرت جی (اوّل) اور اس وقت کے بعض علماء کے مکالمے سے بھی ہوتی ہے، جب مولانا الا س صاحب رحمہ اﷲ نے علماء کو عوام الناس تک پہنچنے کی ترغبا دی تو علماء نے عرض کاع کہ حضرت پا سا کنویں کے پاس جاتا ہے، کنواں پا سے کے پاس نہںہ جاتا۔ آپ رحمۃ اﷲ علہچ نے بڑے مشفقانہ انداز مں فرمایا کہ بھائی کنواں بن کر کووں رہتے ہو، اگرکنویں سے پانی نہ نکالا جاتا رہے تو اس کے سوتے بند ہوجاتے ہںت اور کنواں ناقابل استعمال اور ناکارہ بن جاتا ہے۔ تم بارش بن کر کونں نہںت برستے جو پااسوں اور غر پانسوں سب کو سرجاب کرتا ہے۔ لہٰذا آج یہ جماعت اس اصول پر کاربند رہتے ہوئے ملک بہ ملک، شہر بہ شہر، قریہ بہ قریہ، بستی بہ بستی، دَر دَر پر دستک دییا ہوئی نظر آتی ہے۔ بانیٔ تبلغ کا استقامت بھراعزم: نبیﷺ نے اصلاح معاشرہ کے لےت جو طریقہ اختاےر فرمایا تھا اس مںہ کسی بھی مادی اسباب کی ضرورت کو لازمی نہںٰ سمجھا گاج تھا، یہ تو براہِ راست قلوب انسانی پر محنت تھی۔ آج اسی طریقے پر اس جماعت کے افراد بھی دنو،ی اسباب کے محتاج ہوئے بغرن نبیﷺ کی طرز پر توکل علی اﷲ کام کررہے ہںی جس کی ابتدا ایک نحف ، کمزور اور صاحب لکنت شخصت (مولانا الادس صاحبؒ) سے ہوئی جن کے پاس روحانی قوت تو تھی لکنں مادی قوتوں کا ایسا فقدان تھا کہ عددی اکثریت بھی انہںل حاصل نہںؒ تھی، بعض اوقات فاقوں تک بھی نوبت آجاتی تھی اور گُولر کے پھل سے گزارا کال جاتا تھا۔ اس کسمپرسی کی حالت مںا بھی آپ رحمۃ اﷲ کا مایوس ہوئے بغرو ایک عزم یہ تھا کہ مرُایہ کام سمندر پار جائے گا جبکہ نہ طبقہ علماء کو اطمنا ن حاصل تھا(اس اعتبار سے کہ دین کے علم سے ناواقف ہونے کی وجہ سے عوام الناس کوئی غلطی نہ کر بںھہار)، نہ عامۃالناس مںم سے کوئی اُن کی بات سننے کے لےص تانر تھا، اس موقعہ کی شہادت اس واقعے سے ملتی ہے کہ حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب رحمۃ اﷲ ایرانی حضرت کے پاس تعلمی حاصل کررہے تھے اور مولانا عبدالعزیزؒ کے سامنے سارے حالات تھے۔ ان حالات کی موجودگی مںا حضرت نے فرمایا: عبدالعزیز! مر ییہ جماعت گھومتی پھرتی تمہارے علاقے مںس آجائے تو ان کا اکرام کرنا۔ مولانا عبدالعزیز صاحبؒ فرماتے ہں کہ حضرت کییہ جذباتی کت م ہے جس سے مغلوب ہوکر یہ بات ارشاد فرمارہے ہںی۔ کہاں ایران؟ کہاں یہ جماعت کے ساتھی؟ جبکہ یہاں دہلی مںب کوئی بات سننے کے لے تارر نہںا لکنا ’’قلندر ہر چہ گوید، دیدہ گوید‘‘ کے مصداق ایک وہ وقت آیا کہ حضرت مولانا عبدالعزیز صاحبؒ ایران مںا اپنے گھر مں غالباً دوپہر کے وقت آرام فرما رہے تھے کہ کسی نے اطلاع دی کہ تبلیع جماعت کے کچھ ساتھی آپ سے ملنے کے لےم آئے ہںھ۔ آپ فوراً تشریف لائے اور حضرت مولانا کی اس نصحتع کو ذکر فرماتے ہوئے آنکھوں مںھ آنسو بھر لائے۔ آج بفضلہ تعالیٰ اس جماعت کے افراد کے قدم دناش کے چاروں کونوں کے آخری سروں تک پہنچ چکے ہں ۔ الحمدﷲ علی ذلک اس نظام کے تحت کم و بش اوقات کے لےا جس مںر تنن دن سے لے کر چھ مہنےب اور سال بھر کے لےع جماعتں بن کر اﷲ کے راستے مں پدتل، زمینی سواریوں، بحری جہازوں اور فضائی سواریوں کے ذریعے دنات بھر کے مختلف علاقوں مںا بھی ب جاتی ہں جس کا ایک منظم نظام ہے اور بغرر کسی کوتاہی کے جاری و ساری ہے۔ تبلییا نظام کا ایک خاصہ: تبلییا نظام کا ایک خاصہ ہے کہ اس کے کرنے والوں کو عوام الناس کے ذریعے سے مختلف صورتوں سے آزمایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس نظام کے سب سے پہلے طبقے انبیاء علہم الصلوٰۃ والسلام پر بھی بے شمار، ان گنت اور لاتعداد آزمائشںا عوام الناس کے ذریعے پہنچائی گئںم جس مںن مذاق (استہزا) سے لے کر شہدے کردیے جانے تک کے عوامل شامل ہں ۔ یہ آزمائشںل اس جماعت پر بھی مختلف صورتوں مںب اس نظام کے بانی سے لے کر عام فرد تک اُن کی اپنی اپنی ایمانی استطاعت کے مطابق آتی رہتی ہںط چنانچہ خود حضرتؒ پر اس قسم کے متعدد واقعات رونما ہوئے جس کی تائدے اس واقعے سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے ایک مو اتی (مونات نامی علاقے کا رہنے والا) کو جب دعوت دییی چاہی تو اس نے اس زور کا تھپڑ رسدی کاآ کہ آپؒ زمن گِر گئے۔ اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اُٹھے اس سے فرمایا کہ بھائی! لا تراے ہاتھ دبادوں۔ ترتے ہاتھوں کو تھپڑ مارتے ہوئے تکلفن پہنچی ہوگی، مرای تو نبیﷺ کی طائف والی سنت زندہ ہوگئی۔ مںک تراے ہاتھ دبادوں تاکہ تراے ہاتھوں کو پہنچنے والی تکلفم سے آرام ملے۔ اس کے بعد فرمایا کہ بھائی! تو تو اپنا کام کرچکا اب مر۔ی بات بھی سُن لے اور یہ کہتے ہوئے پورے خرںخواہی کے جذبے کے ساتھ انتقام لےے بغری اُسے دین کی بات پہنچائی۔ اسی قسم کا ایک واقعہ ایک جماعت کے ساتھ اس طرح پشت آیا کہ وہ سہارن پور کے قریب ایک گاؤں مںی گئے جہاں کے رہنے والے اس کام کی حققتی سے ناواقفتہ رکھتے تھے۔ اور یہ ناواقفتک اتنی شدید تھی کہ وہ جماعت کے اوپر حملہ آور ہوئے اور پوری جماعت کو ایسامجروح اور زخمی کاق کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل ہی نہںے رہے، اٹھا کر انہںت سہارن پور پہنچایا گاؤ اور سہارن پور کے رہنے والوں مںا انتقام کا جذبہ جوش پر تھا اور وہ اس گاؤں پر ہلّہ بول دینے کے لےر تاپر تھے۔ اس اثنا مں نظام الدین مںؤ مولانا یوسف صاحب رحمہ اﷲ کو اطلاع دی گئی اور سہارن پوریوں کے جذبے سے آگاہ کاو گاے۔ حضرت نے فرمایا مںی آرہا ہوں (یا مںف پہنچ رہا ہوں) مراے پہنچنے سے پہلے کسی بھی قسم کا جارحانہ کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ حضرت فوراً سہارن پور تشریف لائے لوگوں نے اپنے بھرے ہوئے جذبات کے ساتھ آپ کا استقبال کاو اور ہلّہ بول دینے کی اجازت چاہی اور اس حملے سے کم کے لےن وہ آمادہ بھی نہںب تھے۔ حضرت نے فرمایا پہلے مجھے اس جماعت سے ملاؤ جن کے ساتھ یہ واقعہ پشی آیا۔ ان سے ملتے ہی خرےخرےیت دریافت فرماتے ہوئے آپ نے با ن شروع کردیا جس مں معاف کردینے کے فضائل باحن فرمائے اس کے بعد اس مجروح جماعت کے افراد سے معلوم فرمایا کہ تمہارا کات فصلہ ہے؟ اس پوری جماعت نے بکل زبان یہ عرض کاے کہ ہم نے اُن کو معاف کردیا۔ اس فصلےص کے بعد آپ نے مجمع سے فرمایا کہ جن کے ساتھ معاملہ پشہ آیا تھا انہوں نے معاف کردیا تو نہ اب مجھے بدلے کے لنےہ کا کسی قسم کا اختاصر ہے، نہ آپ کو ۔ (اﷲتعالیٰ نے اس معافی کے نتجےے مںن اس پورے گاؤں کے تمام افراد کو اس کام کی ناواقفتن سے واقفتق کی طرف پلٹا دیا۔(الحمدﷲ علیٰ ذلک) ایک اور واقعہ یوں نقل کاا جاتا ہے کہ ایک جماعت تبلی ک کام کے لےا بھی ی گئی جو تشکلو کی مدّت پوری کرنے کے بعد نظام الدین مرکز واپس آرہی تھی۔ یہ جماعت جب اسٹشنت پر پہنچی تو گاڑی تا ر تھی لکن گاڑی کے مسافر انہںی اپنے ڈبوں مں داخل ہونے سے روک رہے تھے۔ یہ چلتے چلتے ایک ایسے ڈبے تک پہنچے جس مں مسافروں کی طرف سے کوئی رکاوٹ نظر نہ آئی اور یہ اس مںع سوار ہوگئے۔ وہ ڈبّہ فوجو ں کے لےل رجسٹرڈ تھا۔ داخل ہونے کے بعد اُن فوجونں نے اُن کو اتارنا چاہا اور کہا کہ یہ ڈبہ ریزروڈ ہے دوسرے ڈبوں مںہ جاؤ۔ جماعت والوں نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہم اس ملک کے سپاہی ہںا۔ جماعت والوں نے جواب مںب کہا کہ تم ملک کے سپاہی ہو، ہم اﷲ کے سپاہی ہںچ اور اُترنے کے لےی تاکر نہںے ہوئے۔ یہاں تک کہ بات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ فوجی نہتے تھے اور جماعت والے سنت کے مطابق عصاؤں سے لسر تھے اور وہ اس ہاتھا پائی مںں ان نہتوں پر غالب آگئے تھوڑی دیر کے بعد بچہ بچاؤ کرکے آپس مںط صلح ہوئی اور ایک ہی ڈبے مںل دونوں جماعتوں کا سفر جاری رہا۔ فوجو ں کا آفسر چلتی گاڑی مںت راؤنڈ پر آیا اور اس نے دیکھا کہ چند لوگ اس ڈبے میںسوار ہںن، اس نے غصے سے اپنے فوجوتں سے پوچھا کہ یہ کون ہںڑ؟ ایک فوجی نے جواب دیا کہ یہ اپنے آپ کو اﷲ کا سپاہی کہتے ہںا اور انہوں نے ہمںے مارا بھی ہے۔ یہ سن کر وہ آفسرل فوجوہں پر برہم اور ناراض ہوا او رکہا کہ تم نے فوجی ہوتے ہوئے عامی آدمو ں سے مار کھائی دوسرے ملک کے فوجوجں سے کسےم مقابلہ کروگے؟ قصہ مختصر بعد مںم ان کی آپس مںی صلح ہوگئی اور نظام الدین کے اسٹشنھ پر یہ جماعت اُتر گئی اور مرکز پہنچی۔ دستور یہ ہے کہ جب کوئی جماعت واپس مرکز آتی ہے تو اس سے حالات سُنے جاتے ہںگ۔ اسے ان کی اصطلاح مںے ’’کارگزاری‘‘ کہتے ہںگ۔ جب ان سے کارگزاری سُنی گئی تو انہوں نے یہ واقعہ بھی جس طرح پشح آیا تھا، سُنا دیا۔ اس پر وہ خود بھی ہنس رہے تھے، مجمع بھی ہنسنے لگا تھا اور خود کارگزاری سننے والے کے چہرے پر مسکراہٹ چند لمحات کے لےے بکھر گئی تھی۔ اُس کے بعد اُس کارگزاری سننے والے (غالباً حضرت جی) نے یہ ارشاد فرمایا: ’’اگر تم مارنے کے بجائے مار کھا لتےب تو نامعلوم اﷲتعالیٰ کہاں کہاں ہدایت کے فصلے فرما دیتا۔‘‘ ناواقفتگ کی وجہ سے ایک مخصوص طبقہ فکر کے افراد مخالفت مں شدت اختاار کرتے ہںد اور بعض اوقات تشدد پر اُتر آتے ہںً۔ ایسا وہ اپنے زعم مںا اس جماعت والوں کو نعوذباﷲ گستاخ رسول سمجھتے ہوئے کرتے ہں ۔ جب ان کی متشددانہ کارروائااں اس جماعت کے ذمہ دار مولانا محمد عمرپالن پوری رحمہ اﷲ کے سامنے آئںر تو وہ جماعت کو ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ وہ نبیﷺ کی محبت مں تمہںل مارتے ہں ، تم نبیﷺ کے محبت مںھ اُن سے مار کھالو۔ تبلی م جماعت اور تنقدا: تبلی م نظام کا ایک داعا نہ پہلو یہ بھی ہے کہ داعی کام پر ہونے والی تنقدہ برائے تنقدل کا نوٹس ہی نہں، لتاآ۔ الحمدﷲ! اس داعاونہ صفت کے ساتھ یہ جماعت روزِاوّل سے تاایں دم مسلسل کام کررہی ہے، پغا م پہنچا رہی ہے، اس پغاےم کے پہنچانے میںنہ اپنی طرف سے کوئی اُلجھاؤ پد ا کرتی ہے، نہ کسی طرف سے اُلجھنے کا کوئی نوٹس لیہہ ہے۔ ہر تنقدپ برائے تنقدت کا جواب اُن کے نزدیک کام، کام او رکام ہے۔ (اصول یہ ہے کہ تنقدت کرنے کا حق صرف اُسے حاصل ہے جو کام کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو۔ اس لےن کہ عقلاً بھی اُسے تمام اونچ نچص کا علم ہوتا ہے اور اخلاقاً بھی اصلاح کی غرض سے اُسے تنقدو کرکے اصلاح کا حق حاصل ہوتا ہے جو شخص شامل ہوئے بغرم دور دور سے تمام باتوں کا علم نہ رکھتے ہوئے تنقدب کرے گا اور سمجھنے کے بجائے سمجھانا چاہے گا تو یناً نہ عقلاً اِسے اس کا حق حاصل ہے اور نہ اخلاقاً وہ اس کا حق رکھتا ہے، ایسے آدمو ں سے یی کہا جاتا ہے کہ پہلے آپ کام کرنے والوں کے ساتھ کام کریں، اُن کے ساتھ شامل ہوں پھر کوتاہو،ں کی نشاندہی کریں۔ بفضلہ تعالی! آج تک کا مشاہدہ یہ ہے کہ جو اخلاص کے ساتھ شامل ہوتا ہے اس کی تنقدک کی حِس ہی ختم ہوجاتی ہے۔) اور یہ تو آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ جب داعی اپنی دعوت مںا مدعو کی طرف سے پدسا کے جانے والے بے جا اشکالات مںد الجھے گا تو وہ الجھاؤ اور بحث جو آگے چل کر مجادلہ کی صورت بھی اختاہر کرسکتی ہے، غالب آجائے گی اور دعوت اب مغلوب ہوجائے گی او رپغا م پہنچنے سے رہ جائے گا۔آج تک الحمدﷲ! اس جماعت نے نہ انفرادی طور پر، نہ اجتماعی طور پر جواب دینے مںم اپنی قوتوں کو صرف کام ہے، اور نہ اُن کے مشن میںیہ بات شامل ہے ییب وجہ ہے کہ ہوش مند لوگوں مںخ تبلغی کا کام غرنمتنازع ہے۔ اور غرن مسلموں کے نزدیکیہ جماعت جگ سُدھار کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ اپنے اسی اصول کی وجہ سے یہ آزادی کے ساتھ مسلم اور غریمسلم ممالک مںی اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہے (بعض جگہ رکاوٹںت ہیںیہ رکاوٹں نفس تبلغی کے حوالے سے نہںس ہںر، بعض کام کرنے والوں کی کوتاہارں آڑے آرہی ہںہ لہٰذا اس پہلو پر انفرادی طور پر ہرہر کام کرنے والے کو اپنی ذات کا محاسبہ کرنا چاہےے کہ مںغ دوسروں تک تو یہ پغاجم پہنچا رہا ہوں او راپنی ذات سے غافل ہوں مثلاً مںں عوام کو پانچ نمازوں کو باجماعت ادا کرنے کی ترغبی دیتا ہوں اور خصوصاً خود فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے سے محروم رہتا ہوں (یہ عمومی شکایت ہے) دوسرے مںب اپنے ذاتی اعمال کے ذریعے سے دوسرے لوگوں کے ذہنوں مںر شکوک پد ا کرتا ہوں اس حوالے سے محاسبہ یہ ہونا چاہےا کہ مںے کام کو بگاڑ رہا ہوں یا بنا رہا ہوں؟) فضائل کے راستے اصلاح: اعلائے کلمۃ اﷲ کی غرض سے فقہی اختلافات کے استحضار کے ساتھ اس جماعت نے مسائل کے علم کو کارکنوں کے اپنے اپنے فقہی مسالک پر چھوڑتے ہوئے فضائل پر تمام مسالک کے لوگوں کو یکجا کاے ہے۔ یہ ایک اییل خصوصتن ہے جو آ ج کے معاشرے مںے ناپدی ہے۔ ہر مسلک کے، ہر مکتبۂ فکر کے، ہر مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں نے اپنی اپنی جماعتںھ علحداہ علحدتہ تشکلج کررکھی ہںں۔ یہ واحد جماعت ہے جو مسلمانوں کے فقہی اختلاف کو اُن کے اپنی صوابدید پر چھوڑتے ہوئے عقائد کو درست اور اعمال کو فضائل کے ذریعے سے زندہ کرنے کی کامایب کوششںا جاری رکھے ہوئے ہے۔ جہاں تک فضائل مںس احادیث کے حوالے سے اختلاف صححن اور ضعفا کے تناظر مںے ہے وہاں خود محدثنف نے فضائل کی احادیث مں اتنی سخت قد یں نہںل لگائی ہںپ اور ان تمام احادیث کو قبول کار ہے جن سے عقائد و احکام پر زد نہںے پڑتی۔ اس لےف اس جماعت نے فضائل کو ترجحں دیتے ہوئے عامۃ الناس کو احکامات پر عمل کے لےو توجہ دلائی ہے۔ جہاں تک فقہی مسائل مں۔ الجھنے کا تعلق ہے اس کا حل حضرت مولانا عمر پالن پوری رحمہ اﷲ اپنے باانات مں اس طرح بتلایا کرتے تھے کہ تمام مسالک کے فقہاء اور مجتہدین کے پاس نبیﷺ کی عملی حدیںئے موجود ہںی اور اﷲتعالیٰ کو اپنے محبوب ﷺ کی ہر ادا پسند ہے ان اداؤں پر قاجمت تک عمل جاری رکھنے کے لےپ اس فقہی اختلاف کو جاری رکھا گا ہے اور نبیﷺ نے خود فرمایا اختلاف امتی رحمۃ مولانا پالن پوری رحمہ اﷲ فرمایا کرتے تھے کہ جو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتا ہے اُسے پڑھنے دے اور جو ہاتھ چھوڑ کر پڑھتا ہے اُسے بھی پڑھنے دے، جو رفع یدین کرتا ہے اُسے بھی کرنے دے او رجو نہںے کرتا اُسے نہ کرنے دے، اور جو آمنھ بالجہر کہتا ہے اُسے آمنن بالجہر پڑھنے دے اور جو خاموشی سے پڑھتا ہے اُسے بھی پڑھنے دے تو تو اس کی فکر کر جو بغرس کلمہ نماز کے اس دنا سے رخصت ہورہے ہںآ۔ تبلیس جماعت کاایک مقصد: اس جماعت کا مقصد صرف اور صرف اتنا رہا ہے کہ امت مسلمہ کے وہ افراد (چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں) جو نام کے مسلمان ہں وہ کام کے مسلمان بن جائںے، (واضح رہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے شعبوں کا تعلق کفار سے زیادہ مسلمانوں کے ساتھ ہے نزق تبلیغتو کفار ہی کو کی جاتی ہے لکن کرنے والے وہ مسلمان ہوتے ہںک جو خود اپنے دین اسلام پر عامل ہوتے ہںں بدقسمتی سے دورحاضر کے مسلمان ازخود اپنے مذہب پر عامل نہ رہے اس لےییہ کفار کے اسلام مںے داخل ہونے کے لےم ایک بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہورہے ہںک لہٰذا کفار کو تبلیغکیے جانے سے قبل مسلمانوں کو عقائد و اعمال کے اعتبار سے دین اسلام پر کھڑا کرنا لازمی اور ضروری ہے پھر ان کی قولی تبلغی کے اثرات بھی نمایاں ہوں گے اور ان کے ظاہری دین داری کے اثرات غرومسلم اقوام پر پڑیں گے ییا اصول اور بنایدی بات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم مںں پائی جاتی تھی جن کی ظاہری شکل و صورت اور ان کے معاملات دوسروں کو اپلڑ کاا کرتے تھے۔ نزییہ اپنی دعوت مںا بھی فرمایا کرتے تھے {کونوا مثلنا} ’’ہم جسےا بن جاؤ‘‘کاع آج کے معاشرے کے مسلمان اپنی زبان سے ’’کونوا مثلنا‘‘ کا استحقاق رکھتا ہے؟) حضرت مولانا بلاقوی رحمہ اﷲ اپنے بازن مںے کام کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہںا کہ ہمارے اسلام کے تنا مقاصد ہںر:(۱) اﷲ کا پورا دین پوری دنار کے مسلمانوں اور انسانوں مںت رائج ہوجائے اگر ہم اس مقصد مںا کامانب نہںج ہوتے تو ہمارا (۲)دوسرا مقصد یہہے کہ حضرت مہدیؓ کے زمانے مںق اﷲ کا پورا دین پوری دنا مںس نافذ ہوجائے گا۔ یہ کام مسلسل کرتے ہوئے ہم اُس زمانے تک پہنچ جائں ۔ اگر اس مںض بھی کاما بی نہںم ہوتی تو ہمارا (۳) تسرما اور آخری مقصد یہ ہے کہ اﷲ ہماری مغفرت فرمادے۔ ان تنپ مقاصد کے علاوہ اگر کوئی چوتھا مقصد باںن کرتا ہے تو وہ اس کی اپنی ذاتی رائے ہے (جسے کام کے ذمہ داروں مں کوئی پذیرائی نہںک ہوگی۔) بفضلہ تعالیٰ تقریباً پنسٹھ ، ستّر سال سے یہ کام ا پنے اصولوں کے مطابق اپنے پروگراموں کے تحت جہاں مردوں مںا جاری و ساری ہے وہاں اس امت کی عورتوں مںع بھی رسوخ حاصل ہے۔ دونوں صنفوں مںہ مستقل پوری تندہی اور توجہ کے ساتھ منکرات سے بچتے ہوئے کام ہورہا ہے اور دونوں صنفوں مںپ لوگ اپنی اپنی قربانی اور اخلاص کے بقدر ہدایت کے نور سے آراستہ ہورہے ہںا۔ الحمدﷲ علی ذٰلک جہاں تک ہدایت کے عام ہونے کا تعلق ہے یہ صرف اور صرف اﷲتعالیٰ کے ہاتھ مںر ہے۔ اﷲ تعالیٰ جب چاہںہ گے محض اپنی قدرت سے دناا مںو ہدایت کی ہواؤں کو چلا دیں گے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے مفتی زین العابدین رحمہ اﷲ فرماتے ہںن کہ ہمارا یہ کام ہدایت کے تاروں کی پوریدناا مںم وائرنگ کا ہے جس طرح کوئی مکان بناتا ہے اور پورے گھر مںہ بجلی کے تاروں کی وائرنگ کرتا ہے اور بجلی کے محکمے والے اس وائرنگ کی تکملہ پر بجلی کا کنکشن اس گھر کے ساتھ جوڑ دیتے ہںن اور پورا گھر روشن ہوجاتا ہے اسی طریقے سے وائرنگ ہم پوری دناؤ مںی کررہے ہں اس کے مکمل ہوتے ہی اﷲتعالیٰ اس کا کنکشن ہدایت کے خزانوں سے جوڑ دیں گے اور پوری دناو ہدایت کے نور سے منور اور روشن ہوجائے گی۔ ان شاء اﷲ بے عمل اور دعوت دین: مولانا الا س رحمہ اﷲ کی جاری کردہ اس طرز تبلغو مںس جہاں علماء کی ایک معقول تعداد ہے وہاں عامی حضرات ایک معتدبہ تعداد رکھتے ہںل۔ یناً یہ مجموعہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے جس مںن دیگر کمزوریوں کے ساتھ ساتھ بے عملی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے جہاں شریعت کے احکام پر عمل کرنے والے عاملنو ان مںن موجود ہںہ، وہاں اس حوالے سے غفلت کرنے والے غافلین کی بھی کمی نہںت ہے لکن بناادی طور پر ان تمام حضرات کو داعی بنایا جاتا ہے اور یہ تمام حضرات اپنی بے عملو ں کے ساتھ ساتھ داعی بن کر دعوت کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہں ۔ بے عملی کے اعتبار سے یہ روش محل نظر ہے لکنس دعوت کے اعتبار سے فقہاء نے بے عملوں کو بھی دعوت دینے کی اجازت دے رکھی ہے۔ دعوت بھی تبدییل کا مؤثرذریعہ: اس اجازت کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب آدمی ذاتی بے عملی کے ساتھ کسی عمل کی دعوت دے رہا ہوتا ہے تو خود اس کا ضمر بھی اُسے ملامت کرتے ہوئے اُکساتا ہے کہ تر ے کہنے پر دوسرے لوگ اس عمل پر عامل بن رہے ہں تو ترےے لےو کون سی رکاوٹ ہے؟ لہٰذا ایک نہ ایک دن وہ بھی ان اعمال کے عامل بن جاتے ہں ، تجربہ اور مشاہدہ بھییہی ہے کہ بہت سے ڈاڑھی منڈوانے ولے داعی اس دعوت کے تسلسل پر ڈاڑھی رکھنے پر آمادہ ہوجاتے ہں ۔ اسی طرح دیگر اعمال کی مثالںے موجود ہں ۔ نہی عن المنکر اور شریعت کی شرائط: قرآن و حدیث کی روشنی مںد بلاتحقرت و تغلیطیہ بات مسلم ہے کہ اس شعبے مںے جہاں امربالمعروف ہے وہاں نہی عن المنکر بھی ہے۔ لکنن نہی عن المنکر کے مقابلے مںب امربالمعروف کا شعبہ اپنے اندر بہت آسانا ں رکھتا ہے جساسکہ نبیﷺ کا ارشاد بھی ہے کہ (بشرا ولاتنفرا۔ یسرا ولا تعسرا، الدینیسر وغردہ وغربہ) اور اسی پر ہر عالم و عامی شخص بغر کسی مشقت کے باعتبار ترغب کے مثبت انداز مں عمل پراا رہ سکتا ہے۔ نز جہاں تک نہی عن المنکر کا تعلق ہے اسلامی ذخائر سے خود فقہاء نے اس پر غر معمولی شرائط با ن کےد ہں (جسے ہمارے رسالے ’’دعوتی نظام کے اسلامی اصول‘‘ مںت دیکھے جاسکتے ہں جس کی تائدی نبی اکرمﷺ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے (من رأی منکم منکرا فلیغرہ بدلہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان)(مشکوٰۃ صفحہ 436) ’’جو شخص تم مںی سے کوئی ناجائز کام کو ہوتے ہوئے دیکھے اس کو ہاتھ سے بدل ڈالے اگر اس کی قدرت نہ ہو تو زبان سے منع کردے اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو دل سے اس کو بُرا سمجھے او ریہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔‘‘ لہٰذا موجودہ معاشرے کے افراد کماحقہ، ان نزاکتوں کو ملحوظ نہںب رکھ سکتے چنانچہ اس شعبے کی تغلطب کےہ بغرت اس طرز تبلغی سے اُنہں ایک آسان راستے پر لگایا گات ہے ازخود منکرات کے ختم ہونے اور مٹانے کے لےایہ طریقہ بھی مفدط اور معاون ہے اس لےہ کہ کوئی شخص ایک وقت مںح ایک ہی کام کرسکتا ہے یا تو وہ اس وقت مں نیک عمل کرے گا یا بُرا عمل کرے گا جب اس شخص کو نیک اعمال پر لگا دیا جائے گا تو یناً وہ بُرائی سے محفوظ رہے گا جساےکہ نماز کے بارے مں۔ خود اﷲ کا ارشاد ہے{ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر} (سورۂ عنکبوت آیت 45) ’’بے شک کہ نماز بُری باتوں اور کاموں سے روکتی ہے۔‘‘جب آدمی نماز کا اہتمام کرنے والا ہوجائے گا تو اس نماز کے اہتمام کی بنازد پر فحش و منکرات اس سے دور ہوجائںی گے ایک ایک برائی کا دُور کرانا دقّت طلب اور دیر (وقت) طلب بھی ہے لکنا نماز پر کھڑا کردینایہ آسان بھی ہے اور اس مںب وقت بھی نہںا لگتا۔ اس کی تائدل نبی اکرم ﷺ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ ’’عنقریب اس کی نماز اُسے برائووں سے روک دے گی۔‘‘ نزش اطاعت ایک نور ہے اور نافرمانی ایک ظلمت یینز اندھیرا ہے اندھیرے کو دور کرنے کے لےت لاٹھی گولی چلانے سے بہتر یہ ہے کہ دیاسلائی کے ذریعے سے وہاں روشنی پدڑا کردی جائے اندھیرا خودبخود دور ہوجائے گا۔ اسی طرح امت کو اگر اطاعت پر لگادیا گال تو اس کے نور مںس اتیذ تاثرس ہے کہ گناہوں کی ظلمت چھٹتی چلی جائے گی۔ یہ ایک طریقہ کار ہے ورنہ جو مسلمان نہی عن المنکر کے شرائط پورے کرسکتا ہو تو اُسے اپنی استطاعت کے مطابق اس فریضے کو ضرور ادا کرنا چاہے ، شرائط کے پورے نہ کرسکنے والوں کو معذور سمجھنا چاہے ، اس لےے کہ غرا استطاعت والا آدمی کام کو کرے گا تو خدشہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کا بھی نقصان کربٹھے گا۔ لہٰذا دعوت و تبلغن کے عنوان سے یہ حضرات اپنے طرز کے مطابق کام کررہے ہںک جس کی رفتار اگرچہ دیمک کی رفتار کی طرح ہے لکنک باطل اندر سے کھوکھلا ہوتا چلا جارہا ہے۔ اور جو حضرات نہی عن المنکر کی استطاعت کے مطابق کام کررہے ہیںیہ حضرات نہ اُن سے تعرض کرتے ہں ، نہ اُن کے لےو رکاوٹ بنتے ہںم، نہ اُن پر طعن و تشنع کرتے ہںش، نہ اُن کی تغلطی مں کوئی آواز اٹھاتے ہوں، بلکہ ان کی دُعا تو ہر ان اشخاص، جماعتوں اور اداروں کے لےو ہے جو اخلاص کے ساتھ اعلائے کلمۃ اﷲ کی کوشش اور سعی کررہے ہں ۔ بعض کارکنوں کے قابل اصلاح بعض اعمال: جہاں تک اس کام کے کرنے والوں کی انفرادی زندگی کا تعلق ہے یناً بعض کی زندگاسں ناقابل باغن ہں لکنی ان مںت کام کا کوئی قصور نہںں ہے اُن کی اپنی نتوجں کا بہت بڑا دخل ہے، نزمیہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہںب اور بعض اوقات نفس و شطا ن کے غلبے سے مغلوب بھی ہوجاتے ہںں لکنر ان مں اور عامۃ الناس مں بہت بڑا فرق ہے وہ یہ کہ عامۃ الناس جب کسی بدعملی کا ارتکاب کرتے ہں تو بغرو سوچے سمجھے پوری قوت کے ساتھ اس سے یہ عمل سرزد ہوجاتا ہے لکنن اس کام کا کرنے والا بدعملی پر آمادہ بھی ہوتا ہے تو کئی مرتبہ سوچتا ہے جس سے بدعملی کے ارتکاب کی قوت کمزور پڑجاتی ہے اور اس کا عمل پُھس پُھسا بن جاتا ہے نزل ارتکاب کے بعد اس کے دل مںچ تو بہ و استغفار کا داعہ بھی پدپا ہوجاتا ہے اور وہ اپنی اس بدعملی پر نادم ہوکر توبہ بھی کرلتاہ ہے۔ دعوت ودعا کا جوڑ: صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعنت کی ایک خاصیتیہ بھی ذکر کی جاتی ہے کہ وہ ’’وباللا رھبان وبالنھار فرسان‘‘ (رات کو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ مںت سر بسجودرہتے تھے اور دن مںج گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوکر انسانوں پر دین کی محنت کرتے تھے) اس تناظر مں اس کام کی ایک خصوصیتیہ بھی بتلائی جاتی ہے کہ دعوت اور دعا کا جوڑ ہے جہاں دن مںج لوگوں کو دعوت دو اور رات مںک اس دعوت کے ظہور مںر اﷲتعالیٰ سے دعا مانگا کرو۔ الحمدﷲ! اس کام کے کرنے والے بھی کسی نہ کسی حد تک اس کا اہتمام بھی جاری رکھے ہوئے ہںی۔ مندرجہ بالا تمام نزاکتوں کے ساتھ دناے بھر مںد الحمدﷲ! ان گنت تعداد مںو احباب و خواتنی اس کام مںم مصروف ہںی جس مںم اس وقت معاشرے مںر پائے جانے والے ہر طرح کے طبقات کے افراد کی نمائندگی پائی جاتی ہے۔ یہ اس کام کی حقانت کی ایک بہت بڑی دللا ہے کہ دنا بھر کے افراد کسی غلط کام پر جمع بھی نہںج ہوسکتے اور افراد کییہ تعداد جھوٹی بھی نہںو ہوسکتی۔ عامی افراد کے لےز دعوتی بارن کے کلمات کا تعنر: اس بے ضرر جماعت کی نقل و حرکت بذریعہ افراد ایک ملک سے دوسرے ملک مںی کم و بشت اوقات کے لےب ہورہی ہے۔ چونکہ اس مںم عوام الناس کی اکثریت ہے اس لےا انہںی علمی غلطویں سے محفوظ رکھنے کے لےت اس کام کے ذمہ داروں نے قرآن و حدیث کی روشنی مںا انہں چند باتوں کے تناظر مںف داعی بنایا ہے۔ ان ہی باتوں پر اکتفا کرتے ہوئے یہ عام آدمی لوگوں کو دعوت دیتے ہںش اور قرآنی آیات اور احادیث کے الفاظ بامن کرنے مںو حددرجہ احتا ط کرتے ہںت۔ (کہںک کہںق کوتاہی ضرور نظر آتی ہے لکند وہ عامی آدمی کا ذاتی فعل ہے، کام کے ذمہ داروں کی پشت پناہی اُسے حاصل نہںس ہوتی۔) یہ چند باتںا جس کا یہ خود بھی اقرار کرتے ہںر پورا دین نہں ہے لکن اسے دین کا نچوڑ بھی کہا جاسکتا ہے۔ اور اس کو بناںد بناکر سکھتےں ہوئے پورے دین پر چلنا آسان بھی ہوجاتا ہے، وہ باتںر درج ذیل ہںر: ۱… کلمۂ طبہت لاالٰہ الاّاﷲ محمد رسول اﷲ: اس کے ذریعے سے چار ینّا بنانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ (۱) اﷲ تعالیٰ کی ذات عالی سے ہونے کا ین ہ (۲) غرداﷲ سے اﷲ تعالیٰ کے بغر کچھ نہ ہونے کا ین ہ۔ (۳) نبی اکرم ﷺ کے نورانی، پاکزتہ اور سہل ترین طریقوں مں دونوں جہاں کی کاماھبی کا ینال۔(۴)آپ ﷺ کے غراوں کے طریقوں مںس دونوں جہانوں کی ناکامی کا ینئے۔ ۲…نماز: اعمال کے اندر سب سے پہلا عمل جسے شریعت مںں اہمتی دی گئی ہے وہ نماز ہے اس کی پابندی کے ذریعے سے اس بات کی دعوت دی جاتی ہے کہ شریعت کے دوسرے احکامات کی بھی اسی طرح پابندی کی جاتی رہے۔ صرف نماز کے ذکر سے اپنے ذہن سے یہ بات سمجھنا کہ یہ دیگر اعمال کی نفی کرتے ہںس،یہ سمجھ کسی طرح بھی درست نہں ہے۔ ۳… علم و ذکر: چوبس…(24) گھنٹے کی زندگی مںی ہر بالغ مرد و عورت پر شریعت کا کوئی نہ کوئی حکم لاگو ہورہا ہوتا ہے لہٰذا ہر مسلمان کو اس کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ جس کو یہ حضرات حال کے امر (حکم) کو پہچاننے سے تعبرت کرتے ہںس ، نفس و شطاتن اور دنا کی رنگوہونں میںیہ انسان اﷲتعالیٰ سے غافل ہوسکتا ہے اس غفلت سے حفاظت کے لے اﷲتعالیٰ کے ذکر کی تلقنی کی جاتی ہے نبیﷺ کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے آپﷺ پر درود پڑھنے کی ترغبی دی جاتی ہے۔ اور سرزد ہوجانے والے صغرنہ اور کبروہ گناہوں سے خلاصی کے لے استغفار کی تعلم دی جاتی ہے۔ ۴… اکرام مسلم: اس عنوان سے ہر مسلمان کو حقوق اﷲ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیے۔ کے اہتمام کی دعوت دی جاتی ہے کہ اپنے حقوق پورے کرتے ہوئے شریعت کی طرف سے نافذ دوسروں کے حقوق ادا کرتے رہنے کا اہتمام کار جائے۔ ۵… تصححی نتح: اس عنوان سے یہ بات بتلائی جاتی ہے کہ کام یا بات کتنی ہی اچھی کوغں نہ ہو، اگر اس کے کرنے یا کہنے مںن اﷲ کی رضا مقصود نہ ہو تو وہ کام اور بات اﷲتعالیٰ کی سرکار مںی بے کار ہے لہٰذا اپنے ہرہر قول و عمل مںک اس بات کی نتت کی جاتی رہی کہ میںیہ کام یا بات اﷲتعالیٰ کی رضا کے لےے ہی کررہا ہوں۔ اسی نتر کو ٹٹولنے کی ضرورت کام کی ابتدا مںی ہے، کام کے دوران بھی نتگ بھٹک سکتی ہے اور کام کی تکمل پر بھی فخر و غرور کا پماےنہ چھلک سکتا ہے۔ ۶…وقت کا فارغ کرنا: مندرجہ بالا تمام باتں صرف کہنے، سننے، لکھنے، پڑھنے سے کماحقہ حاصل نہںہ ہوسکتںل، انسانی فطرت کے اعتبار سے اسے ماحول کی انتہائیضرورت ہے، لہٰذا اپنے اپنے ماحول کو چھوڑ کر کچھ اوقات کے لےے مسجد والا ماحول اختاہر کار جائے۔ جس مں اﷲتعالیٰ کی دی ہوئی اس زندگیکے اوقات مںھ سے وقت کا فارغ کرنا، اﷲتعالیٰ کی دی ہوئی جان کو ان اوقات مں لگانا اور ان اوقات مں اپنے اوپر بشری تقاضوں کے اخراجات پورا کرنے کے لے اپنا مال صرف کرنا شامل ہے۔ طبقۂ علماء کے دعوتی موضوعات: جہاں تک طبقہ علماء کا تعلق ہے ان کے باےنات پر اگر غور کاک جائے تو ان کے باینات کے موضوعات بھی متعن کےت جاسکتے ہں جو تنا عنوانات پر مشتمل ہوتے ہںک: (۱) اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات کا باان۔ (۲) دناا کی بے ثباتی کا با ن۔ (۳) اخروی زندگی مں جوابدہی سے متعلق باےن۔ یہ وہ عنوانات ہںر جس مںے کسی بھی مکتبۂ فکر کا کوئی اختلاف نہں ہے اور اگر کسی مکتبۂ فکر کی تضحکں، تغلطی کےت بغر ان عنوانات پر بات کی جائے تو ہر خالی الذہن کو اپل کرے گی اور قبول کرنے پر آمادہ کرے گی۔ الحمدﷲ! اس جماعت کا وہ طبقہ جنہںہ اﷲ نے علم سے نوازا ہے اس مںا پوری احتا ط سے کام لتاش ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس مںت کسی رنگ، نسل، مزاج، حترن ، علاقے کو بناید نہںن بنایا جاتا بلکہ ہر رنگ، نسل، مزاج، حتا ا کا کارکن ہر علاقے، زمانے اور موسم مںہ اپنے اوقات لگا کر عامۃ الناس کو اس طرف متوجہ کرسکتا ہے اور کرتا ہے اور ان شاء اﷲ تاقاثمِ قاکمت کرتا رہے گا۔ جہاں تک اوقات کے لگوانے کا تعلق ہے یہ صرف ماحول بناتے ہوئے ذہن سازی کرنے کے لےا ہے۔ اس لےو برملا یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے اپنے شعبۂ زندگی مںی رہتے ہوئے اس کام کے لےا بھی کچھ وقت فارغ کار جائے اور ان اوقات کی تکملی پر اپنے اپنے علاقوں اور شعبوں مں ترغیرس انداز مںے اس کام کے جاری ہونے اور جاری رہنے کی کوشش کی جائے۔ دناک چھڑانا مقصود نہںہ ہے، دنا کو شریعت کے مطابق بنانے کی کوشش کرنا مقصود ہے۔ اور یہ بات تجربے سے معلوم ہوتی ہے کہ اپنے اپنے ماحول مں۔ رہتے ہوئے اس مقصد کا حصول ناممکن نہںم تو مشکل ضرور ہے (البتہ اگر کسی کی ذہن سازی اپنے اپنے ماحول مںم بھی للہتی کے غلاف مںم انسان کا لباس بنی ہوئی ہو تو اس کے لےم اوقات کا فارغ کرنا مفدر تو ہے لکنر لازمی اور ضروری نہں ۔) تجربہ اور مشاہدہ یہ بھی ہے کہ اگر اوقات لگا کر کسی کی ذاتی اصلاح ہوچکی ہو لکنب اس نے اس ماحول سے تعلق برقرار نہںہ رکھا تو رفتہ رفتہ اس کے اندر پدوا ہونے والی تبدییا بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس لےن اوقات کے لگانے کے لےے طے شدہ نصاب کو اگر کوئی شخص مکمل کرکے اپنے آپ کو فارغ سمجھتا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہے۔ لہٰذا اُسے یہ سمجھنا چاہےش کہ اس تکملق پر مں کام سے فارغ نہںی ہوا ہوں بلکہ مرکا داخلہ اب ہوا ہے۔ یینئ مںذ اب کام کا بنا ہوں۔ اسلامی ثمرات اور بعض قوتںک: مندرجہ بالا اوصاف رکھنے والییہ جماعت امت مسلمہ کے حوالے سے انتہائی مفدس اور کارآمد جماعت ہے جو یناً شریعت کے نافذکردہ حکم دعوت الی اﷲ کو بھی پورا کررہی ہے اور مسلمانوں کے عقائد و اعمال کے حوالے سے بھی اصلاح مں مفدک ثابت ہورہی ہے۔ اور کسی بھی مکتبۂ فکر کے کام مںپ رکاوٹ بھی نہںع بن رہی۔ اییر جماعت سے اگر کسی کو اختلاف ہو بھی تو مخالفت پر آمادہ نہںل ہونا چاہےد۔ او ران کے کاموں کے درمارن کسی بھی حوالے سے حائل نہںن ہونا چاہےص۔ لکن بدقسمتی سے بعض قوتںہ منظم طور پر نہ صرف مخالفت کررہی ہںم بلکہ بعض جگہوں پر درماون مںا حائل ہوکر رکاوٹ بھی بن رہی ہںس۔ نزم تشدد کی حد بھی پار کرتے ہوئے قتل و غارت گری پر بھی آمادہ نظر آتی ہںم، وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی علاقے مں اس قسم کی مثالںت پائی جاتی رہتی ہںو۔ جسا کہ ماضی قریب (3دسمبر 2013ء) میںیہ واقعہ ایک غرئملکی (مراکشی) تبلغی کے لے آنے والی جماعت کے ساتھ نارتھ ناظم آباد Block-Iمںا پشک آیا۔ یہ جماعت اپنی مستورات (خواتنو) کے ساتھ اﷲ کے راستے مںز چالس (40) دن کے لےر پاکستان آئی تھی، جس مںر چھ مرد اور چھ عورتںپ تھںم۔ گشت (یینل مقامی لوگوں کو دین کی بات پہنچانے کے حوالے سے مسجد مںا آنے کی استدعا کرنے کے لےں نکلے تھے) جماعت بناکر یہ مسجد سے باہر نکلے اور موٹرسائکلل سوار بدنصبوکں نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتجےع مں دو مراکشی ساتھی جنکے نام عبدالمجدن اور عمر خطاب ہں ، شہدو ہوگئے۔ جہاں تک عمرخطاب کا تعلق ہے وہ مراکش مںا ’’اوانا‘‘ نامی گاؤں کے قریب رہائش پذیر تھے اور وہاں سے جماعت کے ساتھ پاکستان تشریف لائے تھے۔ عبدالمجدک صاحب جن کے ساتھ ان کی اہلہ ، بیاب اور داماد بھی تھے، ان کا تعلق مراکش کے شہر سے تھا وہاں کسی سرکاری منصب پر فائز بھی تھے۔ اﷲ کے دین کے نکلنے مں شوق انہںی پاکستان کھنچم لایا تھا اور آمد سے پہلے ان کی تمنا اور خواہش یہ تھی کہ مررا انتقال اسی راستے مںک ہوجائے اور مںم واپس اپنے آبائی وطن نہ پہنچوں، خاندانی طور پر ان کی نسبت سد نا حضرت حسن رضی اﷲ عنہ سے ملتی تھی اس اعتبار سے وہ خاندانی سدں بھی تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے اُنہںپ تو اپنی اس تمنا اور آرزو مںن سرخروئی عطا فرمائی، شہدف بھی ہوئے اور تدفنے بھی کراچی ہی مںے جامعہ بنوریہ عالمہر کے قبرستان مںے ہوئی اور قا مت کے دن اپنے اسی حلیے مںہ مداان حشر مں اﷲتعالیٰ کے سامنے پشئ ہوں گے۔ شہدرکی برزخی زندگی: اسلامی تعلماطت کے تناظر مں آج بھی اُن کی روح پرندے کی شکل مںش محو پرواز رہتے ہوئے جنت کی سرد مںل لگی ہوئی ہے اور خود انہںم عالم برزخ مںی اﷲتعالیٰ کی طرف سے وہاں کی مناسبت سے وہاں کے شایان شان رزق بھی مل رہا ہے اور وہ خود بھی وہاں شاداں و فرحاں ہں ۔ جب تک دنات مںن رہے اعلائے کلمۃ اﷲ کے لے اپنی توانائا ں صرف کرتے ہوئے اﷲ کا قرب حاصل کا اور ایک ایسے وقت مںا جب مادیت اور معصیت کا سیلاب دناابھر مںا امڈ امڈ کر بہہ رہا ہو، دعوت دین کے لےص سفر اختاار کرتے ہوئے نبیﷺ کا قرب بھی حاصل کار جساقکہ خود نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے (العبادۃ فی الحرج کھجرۃ الیّ) ’’تنگدستی اور معصیت کے زمانے مںی عبادت کرنے والا ایسا ہے جسااکہ وہ ہجرت کرکے مر ے پاس آگاک ہو۔‘‘ اور اعلائے کلمۃ اﷲ کی کوشش یناً عبادات مںا سے ایک قوی اور افضل ترین عبادت ہے۔ اور دناح سے جاتے ہوئے شہادت کی موت حاصل ہوئی اور اﷲتعالیٰ کے مقبول بن گئے جساںکہ اسلامی تعلماست میںیہ بات ملتی ہے کہ خون کا پہلا قطرہ زمن پر گرنے سے پہلے پہلے مقبول ہوجاتا ہے۔ عالم برزخ مںھ جب تک رہںر گے، اﷲ تعالیٰ کے مہمان بن کر رہںے گے اور اُنہں اﷲتعالیٰ کی طرف سے وقت پر قسم ہاقسم کی نعمتںی وہاں کے شایان شان بغرہ کسی مشقت، محنت اور تکلفل کے ملتی رہںا گی۔ وہاں روزانہ اُن کو اُن کا جنت کا مقام دکھایا جاتا رہے گا۔ عذاب قبر سے محفوظ رہںر گے، قاکمت کے دن حشر مںک جب اٹھایا جائے گا تو گھبراہٹ سے امن دیا جائے گا۔ اُن کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایا ققوت دناح اور اس کی تمام چز وں سے بہتر ہوگا، حورعنر سے اُن کی شادی کرائی جائے گی، (اس دنا، کی اہلہا کو اُن کی حوروں کی سردار وملکہ بناکر اُن پر فوقتے دی جائے گی) یہ شہدب اپنے اعزاواقرباء مںا سے ستّر(70) آدمو ں کے بارے مں، شفاعت کرے گا جسے رد نہںا کار جائے گا۔ یہ خوش نصبد اس دناا سے چلا گاع اور جاتے ہوئے کاما بی کے جھنڈے گاڑ گاا جس نے اسے قتل کاگ اس بدنصبں کو کاا ملا؟ یناً ایک خوف و دہشت اس کا پچھاا کررہی ہوگی۔ اس کی رات کی نندسیں حرام ہوچکی ہوں گی۔ اُسے اپنی پکڑ کا خوف چن نہںک لنے؟ دیتا ہوگا، پھر ایک دن اسے بھی وہاں پہنچنا ہے جہاں یہ شہد اﷲ کی بارگاہ مںی موجود ہوگا وہ شخص جو لوگوں کی بھلائی کے لےہ اپنے گھر بار، مال و اولاد، آرام و اطمنادن چھوڑ کر اس کے پاس کے اس کے دیس مںو آیا تھا اُس نے اس سے بھلائی کا فضھ حاصل کرنے کی بجائے اپنے لے ہمشہم ہمشہ کے بے اطمنابنی اور دردناک عذاب کو مول لاُ۔ اس شخص اور اس جسے وہ تمام اشخاص جنہوں نے اس بے ضرر جماعت کے بے ضرر افراد مںن سے کسی کو کوئی تکلفی پہنچائی ہو یا اُن کی جان لے لی ہو تو ابھی اس دناج کے اندر اُن کے پاس وقت ہے۔ وہ اپنے اس عمل سے توبہ کرتے ہوئے جس وجہ (یینط تبلغپ و دعوت کا کام) سے اُنہںہ تکلفا پہنچائییا شہدو کاو وہ اس کام کو اختایر کرلںپ اور جنہںا تکلفُ پہنچائییا شہدً کا اُن کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے رہںں۔ ان شاء اﷲ اُمدییہ ہے کہ اﷲتعالیٰ اُن کے اس عمل کو خود بھی معاف فرمادیں گے اور اُن بندوں سے بھی اپے غیا خزانوں سے بدلہ دے کر راضیکرتے ہوئے اُن سے بھی معاف کروا دیں گے۔ قرآن کریم مںب جہاد فی سبلے اللہ کا حکم اور ترغبہ: جہاد اسلامی احکام مںی ایک اہم فریضہ ہے، محققنر کے شمار کے مطابق قرآن کریم کی مختلف سورتوں مںع ستّر(70) سے زیادہ مقامات پر ’’قتال‘‘ اور ’’جہاد‘‘ کے جملوں سے جہاد فی سبلب اللہ کا حکم اور فضائل باین کرکے اس کی ترغبی دی گئی ہے۔ جہاد فی سبلل اللہ کی فضیلت احادیث مبارکہ مںا: 1: حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہںہ کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کاہ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیے پ جو جہاد کے برابر ہو، آپﷺ نے فرمایا: ’’مںم ایسا کوئی عمل نہںپ پاتا، پھر فرمایا: کاو تم اس بات پر قادر ہو کہ جب مجاہد (اللہ کی راہ مںا) نکلے تو تم اپنی مسجد مںا عبادت کے لے کھڑے ہوجاؤ اور نماز سے الگ نہ ہو، روزہ رکھو اور مسلسل روزہ دار بن کر رہو، (یینا اس طرح شاید تم مجاہد کی برابری کرسکو) اس شخص نے عرض کا اس کی طاقت کون رکھ سکتا ہے‘‘ (کہ اس پائے کی عبادت کرے اور مجاہد کے برابر ہوجائے؟) 2: حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہںص کہ مںو نے رسول اللہﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ’’ اللہ کی راہ مںہ جہاد کرنے والے کی نت تو وہی بہتر جانتا ہے (البتہ) اللہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
344