(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
انسانیت کے سب سے بڑے خیرخواہ(تاریخ کے آئینے میں)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ انسانتد کے سب سے بڑے خرْخواہ(تاریخ کے آئنےک مںع) چھٹی صدی کا انسان: حضرت عیُٰ علیٰ نبیّنا وعلہن الصلوٰۃ والسلام کے زندہ آسمانوں پر اُٹھا لے جانے کے بعد تقریباً چھ سو(600) سال گزرنے پر اس دناہ کا جو نقشہ مؤرخن نے باان کاگ ہے تاریخ کے وہ اوراق نہ تحریر کے، نہ بادن کرنے کے قابل ہںد او رنہ ہی اُن پر ینسر کرنے پر دل آمادہ ہوتا ہے۔ یہ ایک اییا تاریخ ہے جس کو کوئی مہذب انسان اپنی اولاد کے ہاتھ مںق دینے کے لے بھی تاںر نہ ہو اس لےہ کہ یہ دنا کی کسی بھی نچلی سے سے نچلی مخلوق کی سفلی جذبات، درندگی اور سفاکتد سے بھرپور تاریخ تو کہی جاسکتی ہے لکنک اِسے انسانی تاریخ کہنے پر دل و دماغ رضامند نہں ہوتے۔ تاریخ کے صفحات سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس وقت کی موجود انسانت کے اخلاق بالکل بگڑ چکے تھے، شراب اور جُوا اُن کی مرغوب چزایں تھںا، اُن کے دلوں کی قساوت اور سختی اتنی شدید تھی کہ وہ لڑکوسں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے، قافلوں کو لوٹنا اور بے گناہوں کو قتل کر دینا اُن کی تفریح کا سامان تھا، عورت کی اُن کے یہاں کوئی حتلڑ تھی، نہ عزت تھی، دوسرے مادی سامان و اسباب یا مویوہ ں کی طرح انہںی بھی منتقل کا جاتا تھا، ورثے میںدیا جاتا تھا، آدمی جتنی عورتوں سے چاہتا شادی کرسکتا تھا، بعض کھانے کی نعمتںد صرف مردوں کے لےُ مخصوص تھںح، عورت انہںت استعمال نہیںکرسکتی تھی، بعض لوگ اپنی اولاد کو افلاس اور معاشی پریشانی کے خوف سے قتل کردیا کرتے تھے، جنگ اُن کی گھٹی مںت پڑی ہوئی تھی، ایک معمولی واقعہ اکثر و بشترم طویل جنگوں کا سبب بن جایا کرتا تھا یہاں تک کہ بعض جنگوں کا سلسلہ چالسس چالسں(40) سال چلا، لاتعداد آدمی ان جنگوں مںی ہلاک کردیے گئے تھے گویاکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا اُن کے لےن کھلہ اور تفریح کا مشغلہ بن جاتا تھا۔ کم و بشد تمام دنان کے انسانوں کییہی حالت تھی جس کے متعلق محتاط سے محتاط الفاظ اس طرح استعمال کےر جاسکتے ہںت کہ اس وقت کی انسانتئ کے اندر جرائم اور برائی مںر تمزو کرنے کی صلاحیت بھی باقی نہںس تھی، پوری انسانتر خود اپنے آپ کو اپنے مالک و خالق کو، اپنے مستقبل اورانجام کو یکسر فراموش کرچکی تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پوری انسانت خودکشی کے ڈھلوان راستے پر تزتی سے چل رہی ہے، اس انسانتا کے پاس دین و آخرت، روح و قلب کی غذا، اخروی فلاح، انسانتھ کی خدمت اور اصلاح حال کی طرف دیکھنے کی بھی فرصت نہںا تھی۔ کوئی ایک شخص بھی ایسا نہںت ملتا تھا جسے اپنے دین کی فکر ہو، ایک اکلے خدائے واحد کی عبادت کرتا ہو اور کسیکو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ ییک نہںل! ایسا بھی انسان نظر نہںت آتا تھا جس کے دل مں انسانت کا درد ہو اور انسانتخ کے تاریک و ہولناک انجام پر ذرہ برابر بھی بے چیی ہو۔ فصلۂ الہٰی: اس چھٹی صدی مسی ی مںی انسانتا اگرچہ اپنے آپ کو ہلاک کرنے پر جنونی حد تک تُلی ہوئی تھی لکنہ ان کے خالق و مالک کو ان کی یہ حالت قبول و منظور نہںے تھی۔ لکنخ اس وقت کی موجود انسانتپ مںج ادیب، شاعر، فلسفی، دانشور وغراہ وغراہ جبلی اور فطری طور پر ان تمام شعبوں مں صلاحیت رکھنے کے باوجود اصلاح انسانت کا بڑھہ اٹھانے کی اجتماعی طور پر بھی صلاحیت نہںش رکھتے تھے جبکہ انفرادی طور پر بی اصلاح معاشرہ کی طاقت ان میںسے کسی ایک مںج بھی نہںب تھی۔ طرفہ تماشا یہ بھی تھا کہ مندرجہ بالا سمجھدار لوگ خود بھی ذاتی و اجتماعی طور پر اوپر ذکر کردہ تمام خاموبں، کمزوریوں اور برائودں مںع معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ شامل تھے۔ لہٰذا بھوکا بھوکے کو کای کھلائے گا؟ پاکسا پاپسے کی پا،س کسےپ بجھائے گا؟ جو خود ننگا ہو وہ دوسروں کو کسےا ڈھانپے گا؟ خرابودں اور کمزوریوں سے بھرپور اس معاشرے مںل ضرورت اس بات کی تھی کہ ان مں ایک ایسا فرد بھجاک جائے جو جبلی اور فطری طور پر ان تمام خامورں اور خرابو ں سے پاک ہو اور ان ہی کے معاشرے مں رہ کر انہںم انسانی صفات سے بھرپور زندگی کی طرف رفتہ رفتہ لے کرآئے۔ اس مقصد کے لے اﷲ تعالیٰ نے جس انسان کو چُنا، وہ انسانی طبقے کا سب سے بہتر، برتر، افضل، اکمل، اشرف انسان تھا جس کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداﷲﷺ ہے۔ نی ﷺ کی پداائش کے موقعے پر: آپﷺ کی پداائش پر بھی محرنالعقول نشانایں وجود مں آئںف جن مںت ایوان کسریٰ کے چودہ کنکروں کا گرنا، آتشِ کدہ فارس کا بجھ جانا وغرﷺہ شامل تھا۔ گویاکہ ان واقعات سے اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ شان عجم، شوکت روم اور آتش کدہ کفر نست، و نابود ہوجائںغ گے اور رفتہ رفتہ آفتاب ہدایت کی شعاعںو ہر طرف پھیل جائںت گی اور فلاح و سعادت کے باغ مں بہار آجائے گی۔ آپﷺ کی ولادت سے پہلے آپ کے والد محترم حضرت عبداﷲ کو بھی دنار سے واپس بلالاا گا،، آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ اور آپ کے دادا عبدالمطلب کو بھی آپ کے بچپن ہی مںت اس دناا سے رخصت کرا دیا گا گویا کہ پرورش اور تربتض کے جو مادی، ظاہری، خاندانی ذرائع تھے وہ سارے کے سارے آپ ﷺ سے واپس لے لےف گئے۔ اور آپﷺ خالصتاً اﷲ تعالیٰ کے زیرتربت رہے جس مں حفاظت، کفالت، تعلما، تربتک وغر ہ وغرلہ شامل تھں ۔ نبیﷺ کا عدل وانصاف بھرابچپن: بچپن مں آپ کو ایک اییب عورت کے دودھ پلانے کی غرض سے حوالے کا گا جو بظاہر مالی اعتبار سے تنگدست ہی نہںج پریشان بھی تھی۔ نزی اس ایام رضاعت مںی آپﷺ کے ساتھ آپ کی رضاعی والدہ کا حقی ا بٹال بھی شرآخوار تھا، اس زمانے مںش آپﷺ نے عدل و انصاف کا ایسا نمونہ پشا فرمایا کہ ایک پستان سے خود دودھ نوش فرمایا کرتے تھے اور دوسرا پستان اپنے شراخوار رضاعی بھائی کے لے گویا کہ وقف فرما رکھا تھا۔ نبیﷺ کی اخلاق بھری جوانی: آپﷺ اپنی جوانی کے دور مںت رشتہ داریوں کا پاس اور لحاظ فرماتے تھے، صلہ رحمی فرماتے تھے۔ دوسروں کا بوجھ ہلکا فرماتے تھے، محتاجوں کے کام آتے تھے، مہمان کی ضا فت و خاطر مدارات فرماتے تھے، راہ حق کی تکلفورں اور مصبتوحں مں مدد فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف جلد اوّل صفحہ3) جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اعلان نبوت سے قبل کی حارت مبارکہ مںں بھی آپﷺ اپنی ذات کے لےے لوگوں سے فوائد حاصل کرنے کی بجائے اپنی ذات سے ہر طرح کے لوگوں کی مدد فرمایا کرتے تھے۔ جو اس بات کی علامت تھی کہ آپﷺ انسانتل سے کتنی محبت، کتنا تعلق اور ان کالصلاح حال کے لےح کتنا شغف رکھا کرتے تھے۔ نبیﷺ نے ایک بھرپور زندگی اپنے معاشرے مںب اس طرح کی گزاری کہ کسی قسم کی بداخلاقی، بدگوئی، بدعملی کی طرف کوئی ایک واقعہ بھی کٹر سے کٹر مخالف اور دشمن نقل نہںف کرسکا، زنا سے بھرپور معاشرے کے اندر ایک نوجوان کا تمام دواعی اور مقدمات کے حصول کے باوجود پاک، صاف اور باکردار زندگی گزارنا یہ کھلا نہںا ہے، نہ کوئی عورت آپ کو اس کام پر لبھاسکی، نہ کوئی مرد اس کام پر آپ کو اُکسا سکا۔ اسی طرح شراب، جُوا اور دیگر بداعمالوکں کا حال ہے کہ پورا معاشرہ اس مںی مبتلا تھا، ایک نبیﷺ کی ذات تھی کہ جوان تمام عومب سے پاک تھی، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مضبوط کردار کا انسان ہی انسانتی کا رُخ موڑ سکتا ہے۔ اعلانِ نبوت: چالسن(40) سال کی عمر مبارک ہونے پر آپﷺ نے اﷲ تعالیٰ کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا۔ اس اعلان کے موقعہ پر آپﷺ نے اپنی چالسک سالہ زندگی مبارکہ کو قوم کے سامنے پشع فرمایا جس کو قرآن مقدس نے اپنے الفاظ مںے اس طرح ارشاد فرمایا ہے: ’’مںا اس سے پہلے تم مںم ایک عمر رہا ہوں۔‘‘(سورۂ یونس 16) جو آپﷺ کے مخلص ہونے اور باکردار زندگی پر دلالت کرتا ہے، آپﷺ نے اعلان نبوت سے پہلے بھی لوگوں سے مال کا چھیننا اور جمع کرنا اور مانگنا تو درکنار مانگ کر بھی نہںں لا بلکہ جوپاس تھا وہ بھی دوسروں کو دیتے رہے نزس آپﷺ کا ییر عمل اعلان نبوت کے بعد بھی رہا جو مزید اس کی وضاحت ہے کہ آپﷺ کا مقصود دنو ی مال و متاع کا جمع کرنا تھا ہی نہںے۔ یہاں تک کہ اعلان نبوت کے بعد کی اختا رکردہ زاہدانہ زندگی کا ہرہر دن اور رات اس بات کی گواہ ہںر، اس موقعہ پر بھی آپﷺ کی خدمت اقدس مں اگر کہں سے صدقہ آتا تو وہ نادار مستحقین مںر پورا کا پورا تقسما کردیتے اور اپنے اہل و عاال کو بھی اس سے دور رکھتے اور کہںک سے ہدیہ آتا تو اُسے قبول تو فرمالتےر لکنح اپنی ضرورت کے بقدر استعمال فرماتے ہوئے کسی حاجت مند یا سائل کو عطا فرما دیتے، تاریخ کے اوراق ایسے واقعات سے بھرپور ہںے۔ آپﷺ کی زندگی مبارکہ اعلان نبوت کے بعد کی ایک اییہ زندگی ہے جو فکرمند تو نظر آتی ہے لکنو اپنی ذات کے حوالے سے نہںر۔ اس عقدے کو اس خوبصورت انداز مںک قرآن مقدس نے کھولا ہے کہ جس سے بہتر اور برتر تاقاامت کسی دانشور کے لے بات کرنا ناممکنات مں سے ہے۔ قرآن مقدس اس فکرمندی کا اظہار ان الفاظ مںہ فرماتا ہے: ’’اے پغمبر ! شاید کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے پر جان دے دیں گے۔‘‘(سورۂ شعراء آیت 3) یہ فکرمندی اپنی ذات کے حوالے سے نہںا تھی بلکہ اپنی امت کے حوالے سے تھی جو نادانی اور غفلت سے اﷲتعالیٰ کی نعمتوں کو استعمال کرنے کے باوجود اﷲتعالیٰ سے منہ موڑے ہوئے تھی جس کے نتجےے مں اس کی زندگی کے اندر ہر طرح کی بے اعتدالاکں غالب آچکی تھںر، دنای مںن بھی وہ مقہور (جن پر غصہ اور قہر ہو) تھے اور آخرت مںی بھی اسی بناےدپر معذّب (جن پر عذاب ہو) ہوتے۔ نبیﷺ کی چاہت ہرممکنہ ذرائع سے یہ تھی کہ کسی طرح ان کا تعلق مخلوقات سے کٹ کر ایک خالق کے ساتھ جُڑ جائے تاکہ ان کی دنوبی زندگی بھی جنت نظرد بن جائے اور اخروی زندگی مںن بھی دائمی نعمتوں سے ہمشہی ہمشہ کے لےد مالامال ہوں۔ اس مقصود کے حصول کے لےب آپﷺ کی دلی کت آ اس وقت کی انسانتت اپنی آنکھوں سے اگرچہ دیکھ تو رہی تھی لکنب اسے اپنے الفاظ کا لباس پہنانے پر قطعاً قادر نہںی تھی۔ ان کی مشکل قرآن مقدس نے ایک ہی آیت مںے آپﷺ کی متعدد صفات مںو سے چار(4) صفات منتخب فرما کر آسان فرمادی۔ ارشاد خداوندی ہے {لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ …… بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفاٌا رَّحِیْمٌ} (سورۂ توبہ آیت 128) اس مختصر آیت مںا اﷲ تعالیٰ نے نبیﷺ کی درج ذیل چار صفات باٌن فرمائی ہںے جنہںئ چودہ سو پستد (1435) سال گزرنے کے بعد بھی جھٹلایا نہںآ جاسکا۔ نہ قانمت تک جھٹلایا جاسکے گا۔ اگر اب افتراپردازی (تہمت لگانے) (Scandal) کیکوشش ہوئی بھی تو بے دللً ہونے کی وجہ سے قبول کرنے کی نہںق، منہ پر مار دیے جانے کے قابل ہوگی: ۱…ایسے پغمبر جو تمہاری جنس مں سے ہں (اگر غریجنس مںد سے ہوتے تو انسانی نفسابت کے سمجھنے اور سمجھانے کے حوالوں سے انہں… قدم قدم پر الجھنوں سے دوچار ہونا پڑتا۔) ۲…تمہاری ہر قسم کی تکلفہ و مشقت ان پر گِراں گزرتی ہے (اس مںر دنوبی مشقتںو اور اخروی عذاب شامل ہںم۔) ۳…تمہارے لےے ہدایت، دنوئی و اخروی فوائد کے بہت بہت اور بہت ہی زیادہ خواہش مند ہں ۔ ۴…جنہوں نے ایمان قبول کاف (ان سے لاتعلق نہںر بلکہ) ان پر انتہائی شفقق اور نہایت مہربان ہںت۔ کاہ کسی کے ساتھ ہمدردی، خرaخواہی،غم خواری، دردمندی، خرداندیی ، غم گساری، رحم دلی، بہی خواہی، مہربانی، دوستی اور ییجہت کے اظہار کا اس سے بہتر کوئی ذریعہ ہوسکتا ہے؟ کاع دلوں کے بھدہ جاننے والے کی طرف سے اپنے محبوب، رحمت للعالمنگﷺ کے لےہ اس شہادت کے بعد دلوں مںڑ کسی شک، شبہ، گمان، احتمال، خا ل، وسوسے، وہم، تصور، اندیشے، دھاگن، کھٹکے، سوچ، تشویش، خلش، اضطراب، بے چیدر، پریشانی، گستاخی، بدتمزای، بے ییے ، بداعتمادی، بے حرمتی، ناشائستگی، بے لگامی وغرسہ وغر ہ کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ(نعوذباﷲ) آپﷺ کی نتہ دنوای مفادات کا حصول تھا؟(نعوذباﷲ!) آپﷺ مںے حبّ جاہ اور حب مال کی بداخلاقواں کا دخل تھا؟ پھر بھی دنوںی مال کے حریصوں اور آخرت کے نابنافؤں کے دماغوں میںیہ شطاحنی وساوس کھولنے (اُبلنے) (Boil) لگے وہ اپنے بھائی بندوں کے نمائندے بن کر خدمت اقدس علی صاحبہاالصلوٰۃ والسلام مں حاضر ہوئے اور اپنے دل و دماغ کا ابال نکالتے ہوئے کہا کہ اگر آپ(ﷺ) کے اس مشن (Mission) کا مقصد مال و دولت جمع کرنا ہے تو اس مقصد کو پورا سمجھںا، اس مشن کو روک دیں ہم پورے علاقے کی جمع پونجی (سرمایہ، خزانہ، ذخراہ) آپ کے قدموں مںا ڈھیر کردیتے ہں لکنک متاثر ہوئے بغرں سوچ بچار، غوروخوض کی مہلت مانگے بغرم ابھی ان کے تحفوں کی صدائے بازگشت (Echo) ہوا مںک تحللی بھی نہںث ہوئی تھی کہ جواب دو ٹوک انکار کی صورت مں دیا جاچکا۔ ان ضدیوں نے پنترغا بدلتے ہوئے کہا اگر اس دعوت کی مراد یہ ہے کہ آپ کو علاقے کا سردار تسلمے کرلات جائے تو سمجھیے مراد برآئی! اس دعوت کا گلا گھونٹ دیے ا ہم بلاچون و چرا، بلا اکراہ و اجبار (زبردستی کے بغرم، اپنی خوشی سے) (Voluntarily)، بلا تأمل، بلا توقف، بلا شرط، بلا تردد، بلا تصنع آپ کو اپنا سردار مان لتے ہںر لکند ان کی پرکشش پیشکش سماعت سے ٹکرائی ہی تھی کہ لسان نبوت نے بآسانی خود اس پیشکش ہی کا گلا گھونٹ دیا۔ باطل ابھی مایوس نہںب ہوا ایک ناش مگر پرلذت جال اس وقت کے معاشرے کے مردوں کی شہوانی لذات اور جنسی خواہشات کے تناظر مںی پھنکتےی ہوئے کہا اگر اس تبلغا کے پچھےے تمنا یہ ہے کہ عرب کی دوشزنائںل آپ کے حرم (بوظیوں)(Seraglio) مںہ داخل ہوں تو آپ تبلغک کو بالکل خربباد کہہ دیےکش، اس سے سبکدوش ہوجائےت، اس سے مکمل قطع تعلق کرلےزائ، اس راہ سے منہ موڑ لےخل ، اسے چھوڑ دیےربیہ ہماری ذمہ داری ہے ہم عرب کی حسنر سے حسنق دوشزیاؤں کا رشتہ آپ سے جوڑ دیں گے۔ آمنہ کا لعل، خدیجہ کا سرتاج اس ہدیے پر پسجنے ، نرم پڑ جانے کے بجائے اسے بلا پس و پشب ٹھکرا دیتا ہے۔ (اس مکالمے کا نتجہ اور خلاصہ یہ ہے کہ ان بدنتویں نے آپﷺ کی انسانتس کی خرےخواہی کے جذبات کی ناقدری کرتے ہوئے آپﷺ کی مخلصانہ نتن کا امتحان لای لکنن اپنی سازش مں مکمل طور پر ناکام ہوئے یہ کسی کو للچانے، پھسلانے، کھسکانے، پٹانے، لبھانے، مائل کرنے، راغب کرنے، راضی کرنے، منانے کی آخری مادی حدیں ہںک اس سے بہتر، برتر مادی انسان مادی طریقہ نہ ایجاد کرسکا ہے، نہ کرسکے گا لکنت انہںل کاں معلوم تھا کہ ہمارے مقابلے مںس مادہ اور مادیت پرست انسان نہںے ہے۔ اس کے برداشت، تحمل، بردباری، حلیلق سے بھرپور جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ نادانو! مںد تمہاری مادیت مں، سے کچھ بھی لنےا کے لے، نہںب تمہں، اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ روحانتت دینے آیا ہوں کہ تمہاری مادیت اس کے دائرہ کار مںر پناہ لے لے تو وہ بھی اصلی روحانتد کا لباس پہن لے۔) نبوی اوصاف: وہ جس نے تاحابت اپنے اقوال کی حقانت کو اپنے ہرہر لمحے کے ہرہر چھوٹے بڑے افعال سے ثابت فرمایا ہو کہ: (مالی والدنان ما انا والدناا الا کراکب استظل تحت شجرۃ ثم راح وترکھا) (مشکوٰۃ 442) ’’مجھے دنال سے کاا تعلق اور کاو لنا ! مر ا تعلق دناۃ کے ساتھ ایسا ہے، جساککہ کوئی سوار مسافر کچھ دیر سایہ لنےھ کے لےے کسی درخت کے نچے ٹھہرا، اور پھر اس کو اپنی جگہ چھوڑ کر منزل کی طرف چل دیا۔‘‘ (کن فی الدنا، کأنّک غریب اوعابر سبلی)(مشکوٰۃ 450) ’’دناف مں ایسے رہ جسےع کہ تو پردییک ہے بلکہ راستہ چلتا مسافر۔‘‘ وہ ان مچھر کے پَر کے عشرعشرں چند ٹھکر وں، چتھڑ وں، لیتھڑوں، لرچوں، دھجو ں اور ان ناقصات العقل آبگنو ں پر کا ریجھے گا؟ کسے پسجے( گا؟ کوعں مائل ہوگا؟ اسے کسے اکسایا جاسکتا ہے؟، کس ترکب سے اسے بہکایا جاسکتا ہے؟ کونسی چال اسے اشتعال دلاسکتی ہے؟ کاج کوئی حربہ اسے ڈگمگا سکتا ہے؟ کاے کسی چکنی چپڑی باتوں سے وہ ڈانواں ڈول ہوسکتا ہے؟ وہ جو انسانی طبقات کے سب سے اونچے، اعلیٰ، اشرف، اعظم، برتر، بہتر، اکمل ترین طبقے سے تعلق ہی نہںڈ ان کا امام بھی ہو جن کا اپنے اپنے زمانوں مں اپنی ذاتوں کے حوالے سے بلندترین، مستغنیانہ، مستحسنیانہ، مستغرقاڈنہ، مستقیمانہ، مسرورانہ، جاذبانہ، معصومانہ، مسلمانانہ، مؤمنانہ، متقیانہ، مسنونانہ، مطلوبانہ، مسحابنہ نعرہ ہییہ ہوکہ : ’’اور مںہ اس کام کا تم سے کوئی صلہ نہںم مانگتا۔‘‘(سورۂ شعراء 109) وہ کب اس طرف مرغوبانہ توجہ کرسکتا ہے؟ وہ جس کو مالک السمٰوٰت والارض اور رب العالمنن نے یہ پیشکش ازخود کی ہوکہ آپﷺ کے لے’ اس وادیٔ بطحا (مکہ مکرمہ یہ مملکت سعودی عرب کا ایک شہر ہے جو حجاز کے جنوبی حصے مں واقع ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 330 میٹر بلند ہے۔ حضرت اسماعل علہ الصلوٰۃ والسلام کی ہجرت گاہ اور حضرت محمد ﷺ کی جائے ولادت ہے۔ اسی شہر مںً اﷲتعالیٰ کا مقدس گھر بھی ہے جسے البت العتق اور بت۔ الحرام اور خانہ کعبہ کہا جاتا ہے اس مںج ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک (1,00,000)لاکھ نمازیں پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے، اس شہر کا پُرانا نام ’’بکہ‘‘ ہے۔ اس کو البلدالامنا، ام القری بھی کہا جاتا ہے۔ 08ھ؁ مں اس شہر کو جناب محمد رسول اﷲﷺ کی امارت مں’ مسلمانوں نے فتح کاح، اس وقت سے لے کر آج تک مکمل طور پر فرزندان توحد0 ہی کے زیرانتظام ہے۔ اور ان شاء اﷲ اس دناا کے خاتمے تک رہے گا) کو، سلع پہاڑیوں کو سونے کا بنا دیا جائے وہ آپﷺ کے ساتھ ساتھ چلتی رہں اور جہاں اور جسےے آپﷺ چاہںک خرچ فرماتے رہںا۔ اس پیشکش کو قبول کرلنےنیا رَد کردینے کے بجائے بصداحترام مؤدبانہ طور پر اس کے جواب مںے عرض کاا کہ اے مرںے رب مںو تو یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن مجھے کھانے کی نعمتںچ ملںر تاکہ مں شکر گزاری کروں ایک دن فاقے سے رہوں کہ ترُی جناب مںا آہ و زاری پشا کرسکوں۔(مشکوٰۃ 442) کاے اس ذہنت کے بلندترین انسان کے قدم مخلوقاتی جال مںض پھنس سکتے ہںی؟ وہ جو اپنے لےل اپنے اﷲ سے یہ مانگتا رہتا ہو: (اللھم احینی مسکینا وامتنی مسکینا واحشرنی فی زمرۃ المساکنن) (مشکوٰۃ 447) ’’اے اﷲ! تو مجھے مسکنن زندہ رکھ اور مسکیا کی حالت مںو موت دے اور مجھے حشر مںک مسکنوشں کے ساتھ اُٹھا۔‘‘ وہ باطل کے دام تزویر (مکر کے جال) مںو پھنس سکتا ہے؟ وہ جس کے پاس اس کے جانثار صحابہؓ بھوک کی حالت مںہ آکر اپنے پٹت پر بندھا ہوا ایک پتھر دکھائں تو وہ اپنے پٹو سے کپڑا ہٹا کر بندھے دو پتھر دکھائے۔ کا ایسا شخص ان کے ہاتھوں ذہنییرغمال بن سکتا تھا؟ انہںہ غلامی سے آزاد کرانے کے لے پرعزم خودان کا غلام کسے بن سکتا تھا؟ وہ جس کے گھر مں اسلامی حکومت کا سربراہ ہوتے ہوئے دو دو تند تن ماہ چولہا نہ جل پاتا ہو (بخاری ومسلم) اور وہ جانثار صحابہؓ پر اپنی ذات کے لے خانگی اخراجات کے لےک کوئی ٹکسا نہ لگائے وہ غرہوں کی پیشکش کو پرکاہ کے برابر بھی اہمتا دینے کے لےپ کبھیتیار ہوسکتا تھا؟ وہ جس نے اپنے اہل کے لےے دعا مانگی ہو: (اللّٰھم اجعل رزق اٰل محمد قوتا) (مشکوٰۃ 440) ’’اے اﷲ! آل محمد کو بقدر کفایت رزق عطا فرما۔‘‘ وہ اپنے لےق کب پرتعشک زندگی پسند کرسکتا تھا؟ وہ جس کے گھر مںی دناش سے پردہ فرما جانے کے وقت یہودی سے تسہ صاع جو رہن رکھ کر حاصل ہوئے ہوں۔(بخاری) اور وہ اپنی اس زاہدانہ زندگی پر مطمئن ہو وہ کاو باطل کی باطل پشکشووں پر غور کرنے پر قیتسا وقت گنوائے گا؟ وہ جس کو اس کے رب نے نماز کی اہمتا بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہو : ’’اپنے گھر والوں کو نماز کی تاکدی کے ہ او رخود بھی اس کا اہتمام رکھےن! ہم آپ سے روزی کموانا نہں چاہتے، روزی تو آپ کو ہم دیتے ہںر (دیتے رہںل گے) آخری انجام تو پرہز گاری ہی کا ہے۔‘‘ (سورۃ طٰہٰ 132) اس کے قلب و ذہن مںو ان پشکشو ں کے لےے کاو کشش ہوگی؟ وہ جس کی براہِ راست تربتک فرماتے ہوئے اس کے رب نے اس تعلم؟ کو مستحضر (دل و دماغ مںی تازہ) رکھا ہو کہ: ’’آپ ان چز وں کی طرف اپنی نظریں نہ دوڑائںن جس کو ہم نے برتنے کے لےو انہںی دیا ہے۔‘‘(سورۂ حجر 88) وہ ان پشکشووں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھے گا؟ وہ جس سے ایمان و اعمال صالحہ کی بناہد پر زمنو پر خلافت کا وعدہ کان گا ہو : ’’تم مںپ سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہںو اور نیک اعمال کے ہںم اﷲتعالیٰ وعدہ فرماچکا ہے کہ انہںا ضرور زمنو مںح خلفہ بنائے گا۔‘‘(سورۃ نور 55) اس کی نظر مںا مخلوق کی طرف سے دی گئی سرداری کی کال حترہ ہوگی جبکہ وہ بھی مشن، دعوت اور تبلغ سے دستبرداری کے بدلے مں ہو؟ معجزات نبوی: وہ جس کی انگلی کے اشارے پر چاند دو ٹکڑے ہوجائے، جس کی استدعا پر بارش برسنے لگے، جس کے ہاتھ کے اشارے پر بادل چھٹ جائںا، جس کے منہ کے لعاب سے سانپ کا زہر کافور ہوجائے، آنکھوں کی بمادریاں دور ہوجائںا، ٹوٹی ہوئی ٹانگ درست ہوجائے، جو دیگر جانداروں (حوسانات، جنات وغر ہ) کی بولادں سمجھتا ہو، ان مںی اپنا اثرورسوخ رکھتا ہو، جس کے حکم سے دشمن کی مٹھی مں بند کنکریاں اس کی رسالت کی گواہی دینے لگ جائںب، چھوٹے سے برتن مںس ذرا سے پانی مںس انگلیاں ڈبونے سے پانی ٹھاٹھںن مارتی نہر کا روپ دھار لے اور پورے قافلے کے تمام برتن پانی سے لبریز ہوجائں ، جن کی توجہ سے آگ پر رکھی تھوڑے سے سالن کی ہانڈی کھولتی بھی رہے، افراد شکم سرو بھی ہوتے رہںں اور سالن بھی کم نہ ہو۔ جس کی برکت سے ایک گلاس دودھ تقریباً ستّر (70) اصحاب صفہ کو باری باری ایک ہی مجلس مںی مکمل سرںاب بھی کردے پھر بھی بچ رہے۔ (جو نہ شعبدہ بازی ہو، نہ نظر بندی، نہ سحر ہو، نہ مسمیرزم جو صرف اور صرف حققت، بھرا معجزہ ہو) ایسے صاحب معجزات کو اییج پیشکشیں کاے متاثر کرسکتی ہں،؟ ان سب پشکشو ں او رمختلف مواقعات پر آپﷺ سے ہونے والے مکالمات کا ایک ہی جواب تھا جوکہ دیا گاھ ’’خدا کی قسم! اگر وہ مریے سد،ھے ہاتھ مںل سورج اور اُلٹے ہاتھ مںے چاند رکھ دیں اور یہ چاہںی کہ مں اس کام کو چھوڑ دوں تب بھی مں اس سے باز نہ آؤں گا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ اس (اسلام) کو غالب فرما دیںیا مںد اس راستے مںم ہلاک ہوجاؤں۔‘‘(سرکت ابن ہشام صفحہ266,265) مشن کی ادائیار پر پہنچنے والی تکالف : ایک طرف نبیﷺ نے اپنا مشن، دعوت، تبلغ دستافب صورتحال کے مطابق جاری رکھی دوسری طرف باطل جب اپنے لالچ اور طمع کے حربوں مںر مکمل طور پر ناکام و مایوس ہوگاد تووہ ڈرانے، دھمکانے، آوازیں کسنے، الزامات اور تہمتںں لگانے، اذیںاو پہنچانے، ستانے، تشدد اختاطر کرنے نز معاشی و معاشرتی بائکاوٹ کرنے جسےی غرماخلاقی و غرلانسانی حربے نہایت بے دردی کے ساتھ آزمانے پر تُل (پرجوش طور پر آمادہ ہونا) اور جُت (ہمہ تن مشغول ہوجانا) گاٹاور اس مںا کوئی کسر نہ چھوڑی۔ حتیٰ کہ قتل تک کرنے پر آمادہ ہوگاُ۔ نبیﷺ پر نہ صرف جادوگری، شاعری،کہانت (نجومی)، جنون اور جھوٹا ہونے کے جھوٹے الزامات لگائے بلکہ آپﷺ کو لوگ گھیر کر آپﷺ پر ٹوٹ پڑے اور ایک شخص نے آپﷺ کی چادر مبارک پکڑ کر اس طرح گھسیٹنی شروع کی کہ آپﷺ کے گلے مبارک کو تکلف پہنچی۔ یہ منظر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے لےر ناقابل برداشت تھا آپ بچگ مں کود گئے اور یہ کہتے ہوئے آپﷺ کو ان سے چھڑایا کہ: ’’کاد تم ایک شخص کو محض اتنی بات پر جان سے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے مروا رب اﷲ ہے۔‘‘(سورۂ مؤمن 28) لکنم اس کے نتجےو مں خود ابوبکرؓ اس حال مں گھر پہنچے کہ خود ان کا سر کھل چکا تھا۔نماز مںض سجدے کی حالت مں آپﷺ کی کمر مبارک پر ایک مرتبہ اونٹ کی اوجھڑی (Tripe) لاکر پھنکب دی آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ نے آکر اس بوجھ کو آپﷺ کی کمر مبارک سے ہٹایا۔ مکے کے نادان تو اپنے محسن(ﷺ) کے ساتھ جو رویہ اپنائے ہوئے تھے اور سفاکتک بھرا جو سلوک اختا۔ر کررکھا تھا وہ تو تاریخ کے اوراق نے رہتی دناے کے انسانوں کو پڑھوانے کے لےب اپنے سنواں مںن محفوظ کرہی رکھا ہے لکنت طائف والے (یہ قبلہ ثقفر کا شہر ہے جو مکہ کے جنوب مشرق مں جبل غزوان پر واقع ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 1630میٹر ہے اور مکہ مکرمہ سے 65کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی آب وہوا بہت اچھی اور یہ زرخز1ی کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس مں پداا ہونے والا انار نہایت مٹھا ، رسیلا اور خوش ذائقہ ہوتا ہے اور دناو کے بہترین اناروں مںس شمار ہوتا ہے) تو سفاکتم کے اظہار مںہ مکے والوں سے بھی بازی لے گئے۔ اس باغ و بہار وادی کے باسی ایسا ناروا مظاہرہ کریں گے، انسانی آنکھ تو درکنار آسمانی آنکھ کے تصور مںے بھی نہ ہوگا ایک نووارد (اجنبی، مسافر) کے ساتھ ایسا سلوک (کہاں گئی عرب کیمشہور مہمان نوازی) وہ بھی کریمانہ اخلاق کی حامل شخصت کے ساتھ کہ اوباش لڑکے نہ صرف آوازیں کسںب بلکہ راستے کے دونوں طرف کھڑے ہوکر آپﷺ کے ہر اٹھتے قدم پر پتھر ماریں جس سے پرو لہولہان ہوکر ننل و مبارک کو رنگن کردیں۔ آپﷺ کے ساتھ کفار کی طرف سے پشا آنے والے یہ واقعات سرسری نظر سے پڑھتے ہوئے گزر جانے والے نہں ہںک ذرا ٹھہریے، رکےر، تھمیے، جلدی کاا ہے؟ اس پہلو سے غور کےھتے! سوچیے! ازخود نوٹس لےھہر! توجہ دلائےی! کہ یہ واقعات جنہںس تاریخ نے من و عن، بلا کم و کاست (بغرر کسیکمی کے)، بلا تصرف، بلاحشووزائد (فضول چزپوں کے اضافے کے) پوری دیانتداری سے نقل کاخہے ایک اییف شخصتی کے ساتھ پشا آنے والے قصص ہںل جس کے اس تبلیضو مشن کا مقصد عوام الناس سے کسی بھی قسم کا دنووی مفاد حاصل کرنا نہںف تھا بلکہ انہںل ان کے اپنے دنوری و اخروی مفادات کا مالک بنانا تھاجس کا استحقاق وہ خود اپنے ہاتھوں کھو چکے تھے۔ اپنی ذات کے یہ دشمن اس مخلصانہ بھلائی پر نبیﷺ کے جان کے در پے آزار ہوگئے تھے۔ انسانی فطرت کے اعتبار سے محسن پر اس کے کسےی منفی اثرات پڑنے چاہییں؟ اگر بالفرض والمحال نبیﷺ بھی ان کی طرح کے منفی جذبات استعمال فرماتے تو دعوت کے کاز کا کای بنتا؟ حق کی آواز کسےا پھیت اور کون پھیلاتا؟ (ییر وجہ ہے کہ داعی کسی سے الجھے بغرک اپنی دعوت پہنچاتا ہے۔ نبیﷺ ہی پر نہںت جو آپﷺ پر ایمان لاتا اسے قدف و بند، زدوکوب، بھوک، پادس، سخت گرمی اور جھلسا دینے والی تپش کی اذیتوں وغر ہ سے دوچار ہونا پڑا اس فہرست مںم حضرت بلال حبشیؓ، حضرت یاسرؓ، ان کی اہلہگ، ان کے صاحبزادے عمارؓ، مصعب بن عمرؓع، عثمان ابن مظعونؓ، عثمان ابن عفانؓ، حضرت خباب ابن الارتؓ وغرتہ وغر ہ کے نام تاریخ نے گنوائے ہں ۔ ان تکالف کی تفصیلات سفاکت سے بھری ہوئی ہںب۔ اہلِ توحد کا روح فرما بائکا ٹ: نبوت کے ساتویں سال مسلمانوں پر ایک اور مصبت آن پڑی وہ یہ کہ کفار مکہ نے ایک تحریری معاہدے کے ذریعے مسلمانوں کا معاشرتی و معیتاک بائکابٹ کردیا جو تنن سال جاری رہا اور اس مںے ببول کے پتے کھانے تک کی نوبت آگئی۔ بھوک کی وجہ سے بچوں کی بلبلاہٹ (بے قراری، تڑپ اٹھنا) (Cry from Torturous Pain) دییھ نہ جاسکتی تھی ان کے رونے کی آواز دور تک جاتی تھی۔ (یہاں پہنچ کر اس اہم بات کی طرف توجہ مرکوز کرانی ہے کہ نبیﷺ کو کفار کی طرف سے دعوت و تبلغر کے نتجے مںی پہنچنے والی اذیتیںدی گئں کاo ان تمام اذیتوں کی تکلفک، رنج، غم، دکھ، ملال، افسوس، صدمہ، درد، قلق، ٹِیس، دل پر چوٹ، بے چینچ، بے قراری، ناگواری، اضطرابی دماغی پریشانی آپﷺ کو محسوس نہںر ہوتی تھی۔ ظاہر سی بات ہے جس کے کہنے پر ایمان قبول کاو اس کی آنکھوں کے سامنے ایمان قبول کرنے والوں کی تکالفر کے مناظر گھومتے رہںف۔ جن کی دردناک چںاف سماعتوں سے باربار ٹکراتی رہںک۔ جن کی بے قصوری کا بھی پختہ ینال ہو جن کی مالی، مادی معاونت کے اسباب بھی مسرس نہ ہوں پھر وہ کریم النفسی، رحم دلی، خداترسی، رققب القلبی، نرم دلی مںک اکمل، اکرم، اشرف، اعلیٰ،اعظم، ارفع، افضل ہو اس پر ٹنشن اور ٹارچر (یینف صحابہ کو پہنچنے والی تکالفا کتنی شدت سے آپﷺ محسوس فرماتے ہوں گے۔) کے حوالوں سے کاو گزرتی ہوگی؟ جبکہ صبر کی تلقنہ اور دعا کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی ہتھاسر بھی نہ ہو۔ اس تناظر مںل آپﷺ کے اس ارشاد مبارک کا ایک ایک لفظ پڑھےی کہ مجھے اﷲ تعالیٰ کے راستے مںی (مجموعی طور پر) اتنی تکلںی س پہنچائی گئںا جتنی کسی کو نہںب پہنچائی گئں ۔) (مندرجہ بالا واقعات مںٰ غور کرنے سے مزید دو باتںل ابھر کر واضح ہوتی ہںل: (۱) قبولتِا اسلام (۲)دعوتِ اسلام ایسے شعبے ہں کہ ان کے اختالر کرنے والوں پر سنت اﷲکے مطابق عموماً کسی نہ کسی حوالے سے آزمائشی حالات آتے ہںق نزں ان حالات سے دوچار ہونے والے صبر اختاقر کاا کرتے ہںچ او ریہ صبر معتک الہٰیہ کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔) مکہ مکرمہ سے ہجرت کی اجازت وحکم: جب مکہ کے حالات نے سنگییر مںت شدت پکڑلی اور وہ ناقابل برداشت ہونے لگے تو آپﷺ نے اپنے جاں نثار صحابہؓ کو ہجرت کی اجازت عطا فرمائی جو بعد مںا اﷲتعالیٰ کا حکم بھی بن گئی۔ یہ ہجرت ابتدائی طور پر حبشہ کی طرف ہوئی جہاں یکے بعد دیگرے تنہا یا اہل وعازل کے ساتھ صحابہؓ مختلف اوقات مںر پہنچتے رہے، حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد تراسی(83) بتلائی جاتی ہے۔ (سرئت ابن ہشام ج1 صفحہ320,321) قریش کے ایک وفد نے نجاشی (شاہ حبشہ) کے پاس پہنچ کر مسلمانوں کو وہاں سے نکلوانے کے لےی ایڑی چوٹی کا زور لگایا، مختلف حربے آزمائے لکنن اپنے مقصد مںا کاماہب نہ ہوسکے، قریش کا یہ وفد ذللف و خوار اور خائب و خاسر ہوتے ہوئے منہ لٹکائے ہوئے واپس لوٹا۔ مکہ مکرمہ مں ہونوےالی تبلغک کے ثمرات مدینہ منورہ مںل: انسانی ذہن مںو اﷲتعالیٰ کے نہ مادی نظام کی حکمتںہ سمجھ مںن آسکتی ہںہ نہ ہی روحانی نظام کی۔ حر(ت و استعجاب (تعجب) کا مقام ہے ٹھنڈی ہوائںں کوئٹہ مںت چلتی ہں نتجےی کے طور پر سردی کراچی مںم ہوجاتی ہے۔ دعوت اور اس کے نتجےر مںح اذیتوں کا نظام مکہ مکرمہ مںن زوروں پر تھا، نتجہت مدینہ منورہ مںی مرتب ہورہا تھا اسلام مکہ مکرمہ کے رہنے والوں کے دلوں مں بسانے کی مخلصانہ جدوجہد ہورہی تھی اور وہ اسے اپنے حلق سے نچےح اتارنے کے لےم تامر نہ تھے اور اسلام مدینہ منورہ کے باسویں کے دلوں مںل پختہ گھر تعمرع کےر چلا جارہا تھا۔ نبیﷺ نے مسلمانوں پر ناقابل برداشت تنگ حالات کے بعد اﷲتعالیٰ کے حکم سے مدینہ منورہ (اس کا پُرانا نام یثرب ہے۔ نبیﷺ اور صحابہ کرام کی جائے ہجرت ہے اور اس کا نام نبیﷺ نے بدل کر مدینہ رکھا۔ اسے طابہ بھی کہا جاتا ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 600میٹر ہے، یہ مکہ مکرمہ سے تند سومل۔ (300)کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے شمال مںو جبل احد اور جنوب مں جبلِ عِیر واقع ہے اور یہ دونوں پہاڑ مدینہ منورہ سے 4,4کلومیٹر کے فاصلے پر ہںت۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کا دارالخلافہ رہا ہے اور حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کی تکملد تک یہ دارالخلافہ ہی رہا حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل فرما دیا تھا۔ اس شہر کے اندر نبیﷺ کی طرف منسوب وسعک و عریض مسجد ہے جسے مسجدنبوی کا نام دیا گال ہے اور اس مںی ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے ثواب کے برابر ہے۔ نبیﷺ کا روضۂ اقدس بھی اسی شہر مںج موجود ہے جس کی زیارت کے لےم مسلمانان عالم اطراف عالم سے حاضر ہوتے رہتے ہں۔) کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہارے لےل کچھ بھائی اور گھر بار مہاہ کردیے ہںف جہاں تم امن کے ساتھ رہ سکتے ہو۔(نبیٗ رحمت صفحہ 161) (ہجرت کا یہ حکم اس زمانے مںم خود اﷲ تعالیٰ کی طرف سے فرضت کا درجہ رکھتا تھا چنانچہ اس حکم کے بعد گرتے پڑتے جس طرح بھی ممکن ہوسکا صحابہ کرام اپنے اہل و عا ل کے ساتھ یا تنہا مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے لگے اور آخر مںع صرف وہ لوگ رہ گئے جو لوگ ہجرت کے اسباب نہںک رکھتے تھے یا جسمانی حوالے سے ہجرت کا سفر برداشت کرنے سے قاصر تھے۔) ہجرت کے موقعے پرپشا آنے والے مصائب: مکہ مکرمہ سے مسلمانوں کے لےا ہجرت کرنا بھی کوئی آسان بات نہ تھی۔ راہ کی صعوبتںہ تو اپنی جگہ خود کفارمکہ نے بھی راستوں مں طرح طرح کی رُکاوٹںو کھڑی کردی تھںی تاکہ مسلمان آسانی سے ہجرت نہ کرسکںت لکنا اس کے باوجود مسلمانوں کے قدم پچھےا نہ ہٹے، اُن کی رائے تبدیل نہ ہوئی، انہوں نے کسی بھی قمتے پر مادروطن ہونے کے باوجود مکہ مکرمہ مںم ہی رہ پڑنا پسند نہں کا اس لےو کہ یہ اﷲ اور رسولﷺ کا حکم تھا اور مسلمان اپنی گردنںس اسلام قبول کرکے اﷲ اور اس کے رسولﷺ کے ہاتھ مں دے چکے تھے۔ تاریخ نے اگرچہ ہرہر مہاجر صحابی کی اس ہجرت کے احوال جمع نہںا فرمائے ہںر لکنب بعض صحابہ کے اس ہجرت کے احوال کا ذکر ضرور کا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مکہ نے کس قساوت قلبی کا مظاہرہ کا ، صعوبتں برداشت کرنے والوں مں حضرت ابوسلمہ رضی اﷲ عنہ کا نام ذکر کا جاتا ہے جو اپنی بوہی ام سلمہ اور اپنے لڑکے سلمہ کے ساتھ ہجرت کے لے نکلے تھے لکن کفارمکہ نے ان کے ساتھ اُن کی اہلہع اور بچے کو جانے نہ دیا اور اُن سے چھنک کر واپس مکہ مکرمہ لے آئے جہاں ام سلمہؓ کے قبلےا والے بچے کو ساتھ لے گئے اور ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے قبلےا والوں نے انہںے اپنے بچے کے ساتھ نہ رہنے دیا۔ اس طرح تنک افراد پر یہ مشتمل خاندان ایک دوسرے سے جدا کردیا گاے۔ اس جدائی کی حالت مںں پہنچنے والی صعوبتں ناقابل برداشت ہی نہں ، ناقابل بادن بھی ہں (ابن کثر ج2 صفحہ217,215) ایک واقعہ حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ کے بارے مںل بھی نقل کاے جاتا ہے کہ جب وہ ہجرت کے ارادے سے مدینہ منورہ کے لے نکلے تو کفارمکہ نے ان کا راستہ روکتے ہوئے کہا کہ تمہارے پاس یہ جتنی بھی دولت ہے، تم نے مکہ مںے حاصل کی لہٰذا تمہارے ساتھ اس سارے سازوسامان کو جانے نںتہ دیں گے۔ حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ سارے اسباب و سامان تمہارے حوالے کردوں تو جانے دوگے؟ انہوں نے ہاں میںجواب دیا تو حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ نے سارا مال ان کے حوالے کردیا اور حضرت صہیب نے بے چون و چرا ہجرت کو مال پر ترجح دی جب رسول اﷲﷺکو اس واقعے کی اطلاع ملی تو آپﷺ نے فرمایا: (رَبِحَ صُہیب، رَبِحَ صُہیب) ’’صہیب نفع مںن رہے، صہیب نفع مں رہے۔‘‘(ابن کثر بحوالہ ابن ہشام جلد2صفحہ223) نبوی ہجرت: صحابہ کرام تو ہر قمتر پر ہجرت فرماہی رہے تھے لکنت نبیﷺ اپنی ذات کے حوالے سے مکہ مکرمہ ہی مں3 موجود تھے اور اپنی ہجرت کے بارے مں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے۔ (اس واقعے مں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ نبیﷺ جو صحابہ کے متفقہ طور پر رہبر، رہنما، مقتدا اور لڈ ر تھے انہوں نے صعوبتوں کی جگہ پر رہنے کو اپنے لےل منتخب فرمایا اور اپنے جاں نثار معتقدین کے لےن امن و سکون کی جگہ پہنچنے کو ترجحع دی۔ یہاں ہمارے وہ لڈپر اپنی اپنی زندگوکں کا سرقت طبہل کے اس حصے سے موازنہ کرسکتے ہںہ کہ عملی طور پر وہ اپنے لےم امن و سکون کی جگہ منتخب کرتے ہں۔ اور اپنے کارکنان کے لےن صعوبتوں کی جگہ کو ترجحے دیتے ہںم۔) بالآخر اﷲتعالیٰ نے آپﷺ کو ہجرت کا حکم ایک ایسے وقت مںں عطا فرمایا کہ جب کفارمکہ نے آپﷺ کی ذات کے حوالے سے ایک متفقہ قرارداد منظور کرلی تھی کہ تمام قبلےا والے مل کر نبیﷺ کو(نعوذباﷲ) یکبارگی حملہ کرکے قتل کردیں۔ آپﷺ تھوڑی سی مٹی اپنے ہاتھ مںر لے کر اُن کے سروں پر پھنکتے ہوئے اُن کے ہی درماکن مںک سے سورۂ یٰس کی آیات{یٰسٓ(۱) وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ(۲) …فَہُمْ لااَا یُبْصِرُوْنَ}تک(آیت1تا9) تلاوت کرتے ہوئے اُن کے سامنے سے گزر گئے، ان مںن سے کسی کو پتہ نہ چلا۔ آپﷺ وہاں سے نکل کر حضرت ابوبکر کے گھر تشریف لے گئے اور اُنہںب بتلایا کہ اﷲتعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت عطا فرمادی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے رسول اﷲﷺ کے اس سفر مںف رفاقت اور صحبت کا سوال کات آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں! تم ہی رفق ہوگے۔ نی ﷺ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف سفر کے لےہ نکلتے ہوئے غارثور کی طرف چلے جب کفارمکہ کو آپ کی ہجرت کا علم ہوا تو انہوں نے تعاقب کے لے آدمی بھجےی اور اُنہںس انعام کا لالچ دیا جو اس وقت کے اعتبار سے سو(100) اونٹنووں کی تعداد تھی۔ تعاقب کرنے والوں مںل سراقہ ابن مالک آپ کے نشاناتِ قدم کی مدد سے تعاقب کرتے ہوئے آپ تک پہنچا لکن دو سے تن مرتبہ اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور گرا جس سے اس کے اگلے پاؤں زمنا مں دھنس گئے اور سراقہ بھی گِر پڑا اور اس نے آندھی کی شکل مں وہاں سے دھواں بھی اُٹھتا ہوا دیکھا۔ اُس نے یہ سمجھ لا کہ رسولﷺ کے ساتھ اﷲتعالیٰ کی حمایت ہے اور مںد کبھی بھی اُن پر غالب نہںھ آسکوں گا۔ ہر صورت مںں وہی غالب رہں گے لہٰذا اس نے زور سے آواز دیتے ہوئے کہا کہ مںن سراقہ بن مالک ہوں، مجھے بات کرنے کا موقع دیا جائے، مجھ سے آپ کو ہرگز کوئی نقصان نںںھ پہنچے گا۔ رسول اﷲﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا کہ اس سے پوچھو کہ وہ ہم سے کا بات کرنا چاہتا ہے؟ آپ کے اور سراقہ کے درمارن جو بات ہوئی اُس کے نتجے مںت سراقہ نہ صرف خود واپس گاا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی تعاقب نہ کرنے اور واپس کرنے کا وعدہ کا ۔ عنک اس موقع پر جب کہ سراقہ ابن مالک ایک دشمن کی حتاپ سے آپ کے تعاقب اور گھات مںو تھا، نبیﷺ نے اس سے فرمایا کہ سراقہ! اس وقت تمہارا کاا حال ہوگا جب کسریٰ کے کنگن تم اپنے ہاتھ مںہ پہنو گے؟ (اس واقعہ مں، قابل غور بات یہ ہے کہ یہ پن و گوئی ایک ایسے موقع پر نبیﷺ کی زبان اقدس سے نکل رہی ہے کہ جب کسمپرسی کا حال یہ تھا اسلام تو دور کی بات خود نبیﷺ کے اپنی جان بچانے کا مسئلہ غالب تھا، راہ کی صعوبتوں کو دور کرنے کا بھی کوئی سامان نہںل تھا اور ان نہتے مسافروں کے پاس دشمنوں سے نمٹنے کا کوئی ظاہری اور مادی ذریعہ نہںب تھا، ایسے موقع پر دنا کی دو نامور سلطنتوں پر غالب آنے کی پنسئ گوئی کی جارہی ہے جو حضرت عمر کے زمانے مںئ حرف بہ حرف صححا اور درست ثابت ہوئی۔ یہ واقعہ سرسری طور پر پڑھ کر گزر جانے کا نہںم ہے۔ اس حوالے سے اس کسمپرسی کے حالات کے باوجود نبیﷺ کے اﷲ تعالیٰ پر توکل، ینسر اور اپنے عزم کی پختگی کا مظہر ہںپ، اور آپ کی صداقت و حقانتس پر دال (دلالت کرنے والے) ہںا۔ بالآخر نبیﷺ مختلف صعوبتی مراحل سے گزرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے، ان تمام صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کا اور اپنے دشمنوں سے ذاتی حوالے سے کسی قسم کی ناگواری کا اظہار بھی نہںہ فرمایا بلکہ مستقل طور پر اُن کی ابدی خر خواہی کے خواہاں رہے۔ نفاق کے سانپ: مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد ایک عجبت صورت حال پشا آئی جو اب تک کے اسلامی معاشرے کے حوالے سے عجبو و غریب بھی تھی اور بالکل نئی بھی تھی۔ تفصل اس اجمال کییہ ہے کہ جب تک مسلمان مکہ مکرمہ مں رہے، وہاں کفار کے ہاتھوں مغلوب بھی تھے اور مجبور بھی تھے۔ وہاں اسلام قبول کرنے کے معنیٰ ہییہ تھے کہ ہر قسم کی دشمنی معاشرے کے غر مسلم افراد کی مول لی جائے اور ان کی طرف سے ہر قسم کے خطرے اور نقصانات کو برداشت کاا جائے۔ اس صورتحال کی تبدییے کی مسلمانوں مںا اس وقت طاقت ہی نہں تھی گویا وہاں صرف دو طاقتںح تھںا جن مں آپس میںکوئی موازنہ نہںت تھا۔ مشرک طاقتور اور غالب تھے اور مسلمان مظلوم اور کمزور لکن جب مسلمانوں نے مدینہ منورہ ہجرت کی تو رسول اﷲﷺ کو اور صحابہ کرام کو امن اور استحکام حاصل ہوا۔ اسلام اپنی مخصوص رفتار سے بڑھنے لگا۔ سارے شرائط اور لوازمات کے ساتھ ایک اسلامی معاشرہ وجود مںص آیا۔ مکہ کے مہاجرین اور مدینہ کے انصار مںت ایسا بھائی چارہ قائم ہوا جس کی نظرش نہ اس سے پہلے کی دنات پشا کرسکی، نہ اس کے بعد کی قا مت تک آنے والی انسانتر اس کی مثال قائم کرسکے گی۔ یہاں تک کہ نہ صرف مسلمانوں مںی آپس مں بھائی چارہ و مواخات قائم ہوا بلکہ مدینہ منورہ کے رہنے والے یہود سے امن و امان کا معاہدہ تحریری طور پر تامر ہوچکا تھا۔ لیکنیہاں ایک اور مسئلہ درپشپ آیا کہ خود اسلامی معاشرے مںو ایسا ناہنجار، بددین، بدذات، بدکردار، نالائق اور کمیگ سے بھرپور ایک طبقہ نمودار ہوا جو زبانی طور پر عقائد اسلام کو بظاہر تسلم لکنن باطنی طور پر قلبی اور دماغی طور پر اسلام ہی سے بغض، حسد، عداوت رکھتے ہوئے ان تمام اسلامی عقائد کا منکر تھا، اُن کا مقصود زبان سے اظہار کرنے کا یہ تھا کہ وہ اسلامی معاشرے مںک رسوخ حاصل کرکے نئے مسلمانوں مںم شکوک و شبہات پدھا کریں اور مسلمانوں کی معاشرتی کمزوریوں اور اسلام کی تبلغم کے حوالے سے ان کے رازدارانہ منصوبوں کو دشمنان اسلام تک پہنچائںا۔ اصطلاح مں اسے نفاق کہا جاتا ہے اور ان کے حاملنغ کو منافقنب کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کوئی لمحہ ضائع کےن بغرغ اپنے دشمنانہ عزائم پر باقی رہتا تھا۔ انہں محاوراتی طور پر ’’مارے آستنں آستنک کا سانپ، میھوں چُھری دوست نما دشمن‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کے حوالے سے ایک مشکل اسلامی معاشرے کے لےریہ تھی کہ چونکہ یہ اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے تھے اس لےا ان پر کسی قسم کی تعزیرییا تحدیدی سزا کا نفاذ اسلام کی بدنامی کے مترادف سمجھا جاتا اور دشمنانِ اسلام اس انداز سے پروپگنڈشہ کرتے کہ یہ کساش مذہب ہے، جو اپنے ماننے والوں ہی کو نہ صرف سزا دیتا ہے بلکہ بعض مواقع پر انہںو قتل بھی کردیتا ہے لکنپ اسلام نے سزا دیے بغرل دنان مںھ اُن کی اصلاح کا ہر وہ ممکنہ طریقہ آزمایا جو ایک مصلح کے شایانِ شان ہوتا ہے جس کے نتجےش مں ان کی بدباطنی بھی مسلمانوں کے درما ن ظاہر ہوتی رہی اور انہں ان کے اخروی انجام سے بھی باخبر کا جاتا رہا اور یناً ایسا کوئی منافق توبہ کے بغرا اپنی اس روش پر قائم رہتے ہوئے دنای سے رخصت ہوجاتا ہے تو اس کا ابدی ٹھکانا جہنم کا سب سے نچلا درجہ ہوگا۔ بہرحال اسلامی معاشرے کی اس امن و امان کی فضا میںیہ ایک ذہنی ٹارچر کی بدترین صورت ہے جس سے نبیﷺ اور صحابہ کرام دوچار رہے۔ نزن ان کی اس معاندانہ جرأت کے نتجےس مںئ اہل یہود کو بھی موقع ملا اور انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مدینہ مں قائم امن و امان کو تہ وبالاکرنے کی ظالمانہ حرکتںہ شروع کردیںیہاں تک کہ پچھلی آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنے کے دعوے دار ہونے کے باوجود اپنی تعداد، قوت او رکثرت مشرکنن کے پلڑے مںئ ڈال دی اور برملا اُن کے عقائد و نظریات کی تائد کی اور انہیںبھی نامعقول اسباب بتا کر مسلمانوں کی مخالفت پر ہی نہںُ، اُن کے قلع قمع پر اُکساتے رہے۔ جہاد(قتال) کا حکم اور اس کی نزاکتںب: مسلمانوں کے امن و امان کو دیکھ کر مکہ کے کفار بھی اسے ٹھنڈے پٹولںبرداشت نہ کرسکے او راُن کی ریشہ دوانو ں، شرارتوں، سازشوں اور جوڑتوڑ کے نتجےا مں دونوں فریق آپس مںن قتل و قتال کے لےن ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ اﷲتعالیٰ نے بھی اس امن و استحکام کے بعد ان شرارتی لوگوں کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے لےں خود مسلمانوں کو جہاد اور قتال کی اجازت ہی نہں۔ بلکہ حکم عطا فرمایا۔ (جہادایک مقدس عبادت ہے جو ہوس ملک گروی کا نتجہم نہںد بلکہ اعلائے کلمۃ اﷲ تحفظ اسلام و مسلمین اور فساد کو جڑ سے اکھیڑ دیےا اور امن و استحکام کا ذریعہ ہے۔جس مںہ ہرہر حوالے سے مجاہدین کے ساتھ اجروانعام کے دنو ی و اخروی وعدے کے گئے ہںھ۔ جب اسلام نے اسے اہم ترین اور مقدس مقام دیا ہے تو اس کی شرائط بھی مسلمانوں کی من مانی نہںو بلکہ اپنی تاررکردہ شرائط رکھی ہںس جن کی ہرہر شق پر من و عن اُس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہرہر مجاہد پر لازم ہے اور اس سے سَرِمُو (بال کی نوک یا رائی برابر) انحراف جہاد کو فساد بنادینے کا ییح خدشہ رکھتا ہے۔ اس باب سے شغف رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہںی کہ اسلام نے بغرا امرن (مسلمان حاکم وقت یا حکمران) کی اجازت ہی نہںف دی ہے (تفصیلات موجب طوالت ہوں گی) نزد وہ غریمسلم جو عداوتِ اسلام سے کوئی سروکار ہی نہں رکھتا اور اسلام قبول کےق بغرز اسلام کے خلاف کسی سازش مں شریک بھی نہںب ہوتا، ایسے پرامن غرسمسلم کو قتل کردینے کی اجازت بھی نہںق دیتا۔ نزا اسلام غر مسلم اقوام کی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی ہلاکت کی ممانعت کے ساتھ ان کی کھوسکوں اور جائدادوں کو بھی تلف کرنے کی اجازت نہںا دیتا۔ نز غرلمسلم شرارتی لوگ اگر صلح کی بات چیت پر آمادہ ہوجائںی تو قتال روک کر اُن سے مصالحاتی مذاکرات کا حکم دیتا ہے۔ نزش اگر کوئی غرکمسلم انفرادی طور پر مغلوب ہوکر کسی مجاہد کے ہتھے چڑھ جائے اور وہ زبان سے کلمہ طبہک پڑھنے لگے تو اس کی نتا پر حملہ کےا بغری اسے مسلمان سمجھنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام کے عطا کردہ اس جہادی شعبہ کی باعتبار جہاد کے دو قسمں ہں : ۱… اقدامی اس جہاد کو فقہاء نے قرآن و حدیث کی روشنی مںر فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ ۲… دفاعی جب کفار مسلمانوں کے علاقوں اور مسلمانوں پر خود حملہ آور ہوجائںا تو فقہاء نے اس جہاد کو فرض عنس قرار دیا ہے۔ جانییا مالی کسی نہ کسی حوالے سے چاہے مرد ہو یا عورت اس جہاد مں اپنی اپنی استطاعتوںکے بہ قدر حصہ لناک ضروری ہوگا۔ نزہ اقدامی جہاد کے اندر بھی اسلام کی شرائط یہ ہںا کہ سب سے پہلے ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے گی اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلں تو اُن سے قتال نہںط کا جائے گا اگر وہ دعوت قبول نہ کریں تو اُن سے یہ کہا جائے گا کہ ہم اسلام کی تبلغر کے پابند ہںھ، ہم نے آگے بھی اس فریضے کو ادا کرتے ہوئے دین کو پہنچانا ہے۔ تم لوگوں سے بھی اطمناین حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ہمارے آگے بڑھنے کی صورت مںی تعاقب کرتے ہوئے کہںل تم ہم پر حملہ آور نہ ہوجاؤ اس لےا اس کا حل یہ ہے کہ تم ہمںا جزیہ دو اور ہم تمہاری جان مال، عزت، آبرو کی حفاظت کے ذمہ دار بن کر نظام چلانے کے لےا اپنے کچھ افراد یہاں چھوڑ کر جائںی گے۔ آپ کے جزیے سے تمام انتظامی اخراجات کو پورا کان جاتا رہے گا۔ اگر تم اس جزیے کے لےہ بھی تائر نہںز ہو جو تمہاری جان، مال، اولاد، عزت وغراہ کو ہمارے لےک حرام کردیتا ہے تو ہم یہ سمجھںے گے کہ تم ہماری اس تبلغر مں رکاوٹ بن رہے ہو اور راہ ک

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
178