(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
انسان اور تکبّر؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ انسان اور تکبّر؟ انسان کے اندر پائی جانے والی چند کاکی ت مں سے ایک کتیے تکبّر بھی ہے۔ قرآن وحدیث مں اس انسانی کتائ و صفت کا ذکر باعتبارِ مذمت ہی ملتا ہے، تکبّر سے متعلق تحسینی کلمات کا اسلامی ذخائر مں وجود ہی نہںئ پایا جاتا۔ بزرگانِ دین نے اس روحانی بمایری کو دیگر بمایریوں کی ماں قرار دیتے ہوئے اسے اُمُّ الْاَمْرَاض کہا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کی مذمت کاد ہوگی کہ ربّ کائنات جینے شفقد(Kind) ذات نے اس دنال کے اندر پائے جانے والے متکبرین کو سخت ناپسند فرمایا ہے، جساسکہ ایک مقام پر ارشاد ہے: ’’بے شک اﷲ تعالیٰ تکبّر کرنے والے شی ا خور کو پسند نہںا فرماتے۔‘‘ گویا تکبر کرنے والا اپنی زندگی کے ہرہر لمحے مںا اﷲ تعالیٰ کی ناراضی، غظم و غضب اور رحمت سے دوری کا مستقل طور پر مستحق قرار دیا گال ہے، چنانچہ ایسے شخص کی زندگی مںں چاہے اسبابِ راحت کی کتنی ہی وافر مقدار (Plentiful Amount) کوتں نہ ہو، ایسا شخص راحت سے محروم ہی رہتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ اخروی زندگی مںس نبی ﷺ کے ارشاد کے مطابق اسے جنت سے محروم رکھا جائے گا، یینر تکبر کی سزا بھگتے بغرہ اسے جنت کا داخلہ نہںی مل پائے گا، جساےکہ مخبرِ صادق ﷺ کا ارشاد ہے: (لاَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرْ) ’’جس شخص کے دل مںن رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت مںَ نہںْ جائے گا۔‘‘ تکبّر اور شطاکن: شطاّن ایک اییّ لعنا شخصتر ہے جسے تکبّر ہی کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے دربار سے مردود قرار دیتے ہوئے ہمشہک ہمشہب کے لےخ خارج کردیا گان۔ اس کے تکبر کی انتہا یہ ہے کہ اس سزا کے فصلے کو سننے کے بعد رجوع کرتے ہوئے اﷲتعالیٰ سے معافی مانگنے کی بجائے اس نے تکبر کے مددان مںے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اپنا یہ فصلہ سنایا کہ مںص انسانوں کو چاروں جہات سے گمراہ کرتا رہوں گا اور اس مقصد کے لےا اس نے طویل یینہ ہمشہو کی زندگی چاہی اور اسے قا مت سے قبل تک کی مہلت بھی دے دی گئی، چنانچہ اس مہلت کے عرصے مںا جنونی کتنا لےھ ہوئے وہ مستقل طور پر دناے مں اﷲ تعالیٰ، ملائکہ اور انسانوں وغرہہ کی لعنتوں کو جمع کررہا ہے اور اپنی اخروی و دائمی سزا کو سخت سے سخت بنا رہا ہے۔ تکبّریاجنون؟ تکبّر کی کتنن اپنے اندر ایک جنون کا درجہ رکھتی ہے، لکنل مجنون اور متکبّر مںن ذرا سا فرق ہے کہ مجنوں دماغی عذر کی وجہ سے بے فائدہ حرکات مںن مبتلا رہتا ہے جسے عوام الناس بھی معذور قرار دیتے ہں، اور رب الناس کے دربار مں بھی اس کے عذر کی وجہ سے اس سے عفوودرگز کا معاملہ کات جاتا ہے، لکنی متکبّر اپنی اس کتلےے مںب دانستہ طور پر مبتلا رہتا ہے جس کے نتجےغ مںس عوام الناس کی نگاہوں مںو اﷲ تعالیٰ اس کا مرتبہ گرا دیتا ہے اور آخرت مں، رب الناس اس کی جسامت کو چوسنٹوتں کی طرح بناکر عوام الناس کو حکم دیں گے کہ اپنے قدموں سے اسے روندتے ہوئے اس پر سے گزریں۔ یہ بڑا بننے کا اخروی نتجہ ہے۔ تکبّرکام ہے؟ تکبّر کمال کی صفات مںل اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنے، اس حوالے سے دوسروں کی تحقرل کرنے اور اس کے ضمن مںے حق سے منہ موڑے رہنے کا نام ہے۔ کاہ انسان کو تکبّر کا حق حاصل ہے؟: انسان کے اندر مندرجہ ذیل صفات کے ہوتے ہوئے اس کے لےر تکبّر کی قطعاً کوئی گنجائش نہںے ہے: 1 انسان کی پد ائش ایک ایسے قطرے سے ہوتی ہے جسے مذہب مںق نجس اور ناپاک (Filthy Impure) قرار دیتے ہوئے بدن کے حصے یا کپڑے پر لگ جانے کی صورت مں اسے ناپاک قرار دیتے ہوئے دھو کر پاک کرنے کا حکم دیا گا ہے۔ عقلِ سلمے رکھنے والے بھی اس قطرے سے گِھن (Nausea) محسوس کرتے ہںم۔ 2 انسان جس مقام سے اس دناا مں وجود حاصل کرتا ہے اس مقام کو عقلِ سلمس نے شرمگاہ قرار دیا ہے اور مذہب نے انسان کے علاوہ اس مقام سے نکلنے والی تمام مائعات (Liquid) کو نجس اور ناپاک قرار دیا ہے۔ اس کی بعض چز وں مثلاً پیشاب اور مذی کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور دیگر بعض چز وں مثلاً منی او رحضگ و نفاس کے اخراج سے پورے بدن کے ناپاک ہوجانے کا حکم لگایا جاتا ہے اور ایسے انسان کو بعض عبادات مثلاً نماز، روزہ، تلاوت وغرنہ سے روک دیا جاتا ہے۔ 3 انسان زندگی مںر زندہ رہتے ہوئے ہر وقت اور ہرجگہ ناپاکی کا بوجھ اپنے ساتھ ساتھ اٹھائے پھرتا ہے۔ 4 انسان کے جسم سے نکلنے والے مختلف مواد مثلاً پیشاب، پاخانہ، خون، منی، مذی اور ودی وغرکہ کو ناپاک قرار دیا ہے او ربعض مواد مثلاً ناک سے نکلنے والی ریزش اور منہ سے تھوکا جانے والا تھوک وغر ہ، سے انسان خود بھی گِھن محسوس کرتا ہے مزید یہ کہ اگرانسان غسل کی زحمت نہ اٹھائے تو اس کا جسم بھی زندہ رہتے ہوئے بدبودار بن جاتا ہے، اس کے جسم سے نکلنے والے پسنے کو اگرچہ شریعت نے پاک قرار دیا ہے، لکنا اس کی خاصت بھی یہ ہے کہ اگر وہ کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے بدبودار ہوجاتے ہںب، نزر یہ کہ اگر اس کے جسم سے روح نکال لی جائے تو کچھ ہی دیر بعد اس کا جسم بھی ایسا تعفن (Stink) چھوڑنے لگتا ہے جس کے قریب زندہ انسانوں کو بھی جانا ناگوار محسوس ہوتا ہے۔ تدفنک کے بعد تنے دن کے اندراندر اس کا جسم گلنے، سڑنے اورپھٹنے لگ جاتا ہے، جو کڑبوں وغرںہ کی خوراک بنا دیا جاتا ہے۔ (یہ تو ظاہری چزکیں ہںن جس سے ہر انسان کا واسطہ پڑتا ہے، اس کے علاوہ باطنی خاماجں علحدوہ ہںح۔) 5 بعض انسانوں کی زبان اییس کڑوی ہوتی ہے کہ انسانوں کے درماہن باہمی نفرت ہی نہںے دشمنی کا پشڑ خمہہ بن کر دنان کے امن کو برباد کردینے کا ذریعہ بنتی ہے۔ 6 بعض انسانوں کے دل اییا بدبختی سے بھرے ہوئے ہوتے ہںی کہ ان کے اندر محض حسد، کنہ اور عداوت کے علاوہ کوئی خرن کی بات جگہ ہی نہں پاتی. 7 بعض انسانی دماغ اییس مکروہ سازشں (Bad Conspiracies) اور منصوبے بناتے رہتے ہںا جس سے نہ صرف انسانوں کو بلکہ دیگر جانداروں کو بھی جانی نقصانات اٹھانے پڑجاتے ہں ۔ کاس ان مندرجہ بالا صفات رکھنے والے انسانوں کو ان مذموم عادتوں کے ہوتے ہوئے اس بات کا حق پہنچتا ہے کہ وہ تکبر جیور بماوری مںس مبتلا ہوں؟ جسااکہ تکبّر کی تعریف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تکبّر کمال کی صفات مںں اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنا، ییوا طور پر مذہب اور عقل نے اس بات کو تسلم کار ہے کہ تمام حوالوں سے اﷲ تعالیٰ کو یہ صفت حاصل ہے کہ وہ اپنے علاوہ دیگر تمام جاندار اور بے جان چزلوں پر درجۂ کمال مںن اییس انتہائی فوقتک لےت ہوئے ہے کہ تمام مخلوقات کی کمالی صفات کا مجموعہ بھی اس کے قریب تک بھی نہں پہنچ سکتا، لہٰذا اس پوری کائنات مںم ازل سے ابد تک اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہںن ہے، جسے تکبّر کا حق حاصل ہو۔ یی وجہ ہے کہ انتہائی واضح الفاظ مںں حدیثِ قدسی مں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے: تکبّر(بڑائی) مرقی چادر ہے، جو مجھ سے اسے کھنچنا (اُتارنا) چاہتا ہے مںن اُسے ذلل کردیتا ہوں۔ اس پر مزید یہ کہ متکبرنہ صرف یہ کہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے بلکہ ہر کمال کو اپنا ذاتی کمال سمجھتا ہے، حالانکہ اس کے اندر جو بیر کمال ہے وہ بھی اس کا ذاتی نہںے ہے۔ عقل، حسن، صورت، مال و دولت حتیٰ کہ ایمان اور توحدن جیبی اعلیٰ صفات بھی اگر کسی کو حاصل ہںر تو وہ بھی ذاتی نہں ، بلکہ اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ ہںک۔ پھر بھی یہ دوسروں کو اپنے مقابلے مںا حقرک سمجھتا ہے، حالانکہ جس کو تکبر کا حق حاصل ہے وہ پھر بھی اپنے نہ ماننے والوں کو نہ صرف مہلت دیتا ہے بلکہ اپنے انعامات سے بھی اس دناموی زندگی مں مسلسل نوازتا رہتا ہے۔ متکبر انسان اپنی ذاتی زندگی گزارنے مںو بھی ہرہر لمحے نہ صرف اسباب کا، بلکہ مسبب الاسباب کا بھی محتاج رہتا ہے۔ اس محتاجی مںا اس کا سانس لناس بھی داخل ہے، جو قطعاً اس کے بس مںو نہں ہے۔ اس پر مختلف قسم کی بمابریوں کے خطرات بھی نہ صرف منڈلاتے رہتے ہںا بلکہ آئے دن وہ ان بما ریوں کا شکار بھی رہتا ہے، جںہتل ہٹانے کے اسباب مسرر ہونے کے باوجود نہں ہٹاپاتا۔ ہر وقت مختلف قسم کے اعذار نہ صرف اس کا پچھا کےم ہوئے ہںم بلکہ وہ اس پر غالب بھی ہںق جن کے ہاتھوں یہ اپنی شکست تسلمخ کرنے پر مجبور ہے۔ حفاظت کے اسباب کے باوجود خوف و دہشت مںط مبتلا رہتا ہے، اپنے ما ل و دولت اور متعلقنت کی جانوں کو بچانے سے قاصر ہے، پھر بھی حق سے منہ موڑے رکھنے کا وترہہ ناقابلِ فہم، قابلِ افسوس او رلائق ماتم ہے۔ غرضکہن کسی بھی حوالے سے انسانی زندگی پر غور کاک جائے تو یہ تکبر کی مسند پر بٹھنے کی لائق ہی نہںا ہے، پھر بھی یہ انسان فخر و غرور اور گھمنڈ (Arrogance Pride) جی غ ناپاک حرکتوں سے باز نہںم آتا۔ فَإِلَی اﷲُ الْمُشَتَکیٰ وَاﷲُ الْمُسْتَعَانُ ! عقلِ سلمی سے ایک التجا دوسروں کو حقر سمجھنے والوں کے سروں مںم پائی جانے والی عقلوں پر تکبر کے پے درپے حملوں کے بعد بھی عقلِ سلمہ کا کچھ حصہ محفوظ رہ گار ہو تو وہ پورے صبروتحمل کے ساتھ درج ذیل نقشہ کا اپنے فرصت کے لمحات مں باربار جائزہ لتےو رہا کریں، ان شاء اﷲ افاقہ ہی ہوگا۔ تکبر کے حامل متکبرین تکبرکے گھائل متأثرین 1ان کو وجود دلانے کے لےہ ان کے والدین نے جو طریقہ اپنایا تھا۔ 1ان کے والدین نے بھی ییو طریقہ استعمال کا تھا۔ 2جسای قطرۂ آب ان کے وجود کا ذریعہ بنا تھا۔ 2وییا ہی پانی کی بوند ان کے وجود کا بھی سبب بنی تھی۔ 3اعضاء کی تکمل کے مراحل مکمل کرنے کے لےک جہاں اور جتنا وقت انہںء گزارنا پڑا تھا۔ 3اس مقصد کے لےا انہں بھی ایسے ہی مقام پر کم و بش۔ ویسا اور اتنا وقت گزارنا پڑا تھا۔ 4زندگی گزارنے کے لےے جس ترتبل سے جتنے اعضاء جسمانی انہںز دیے گئے ہںہ۔ 4اسی ترتبی سے اتنے ہی اعضاء جسمانی انہںم بھی مسر۔ ہں ۔ 5جس راستے سے ان کی دناا مںض آمد ہوئی ہے۔ 5ویسے ہی راستے سے انہںی بھی بھجاا گای ہے۔ 6دناگ مںن آنے کے بعد جس فرحت بخش غذا سے انہں سرناب کاہ۔ 6ان کی ماؤں کی چھاتو ں مں بھی ویسا ہی دودھ اُتارا گاب۔ 7زندگی کی بقا اور قوت کے لےھ جو غذائی نظام انہںا عطا کار گاا ہے۔ 7اس غذائی نظام سے انہںک بھی محروم نہںظ رکھا گاں ہے۔ 8اس غذائی نظام کے لےہ جو طریقۂ استعمال انہںں میسّر ہے۔ 8ویسا ہی طریقۂ استعمال ان کے پاس بھی موجود ہے۔ 9جو قوتِ ہاضمہ انہںں دی گئی ہے 9اییا ہی طاقت سے انہںد بھی سرفراز رکھا گاج ہے۔ 10ہاضمے کے بعد غذائی فاسد مادوں کے اخراج کے لےن جو نظام انہںا دیا گاق ہے۔ 10اس نظام سے یہ لوگ بھی عاری نہںر ہںھ۔ 11آرام کی غرض سے نندے کی جو نعمت انہںج فراہم کی گئی ہے۔ 11یہ دولت انہںا بھی یکساں طور پر حاصل ہے۔ 12اگر انہں مال و دولت کا حصہ عطا کاک گا ہے۔ 12تو انہں بھی محنت اور ہنر کی عظمت عطا کی گئی ہے۔ 13اگر انہں صحت کی دولت سے مالامال رکھا گا ہے۔ 13تو انہں بھی اس دولت کا کچھ نہ کچھ حصہ میسّر ہے۔ 14اگر انہں حُسن سے نوازا گاا ہے۔ 14تو یہ بھی اپنی ماں کی نگاہوں مںع گلاب کا پھول ہںو۔ 15اگر بماںریوں، وباؤں اور سزاؤں کے خطرات ان پر منڈلا رہے ہںد۔ 15تو ان تمام اعذار کے جال ان پر بھی پھیلائے گئے ہںہ۔ 16اگر ان پر تکملِا حانت کے بعد موت واقع ہوجاتی ہے۔ 16تو یی نظام ان کے ساتھ بھی ہے۔ 17اگر عالمِ برزخ مں ان کے لےا جسمانی طور پر گلنا اور سڑنا طے ہے۔ 17تو یہ بھی اس نظام سے مبرا نہں ہںج۔ 18اگر حشر کے مدخان مں زندہ ہوکر دوبارہ جمع ہونا ان کے لے طے ہے۔ 18تو اس سے انہں بھی استثناء نہںک دیا گان ہے۔ 19اگر بالغ ہونے سے لے کر موت تک کے اعمال کی جواب دہی ان کے لے طے ہے۔ 19تو انہں بھی اس مںس شامل رکھا گاا ہے۔ 20اگر اعمال کے بدلے مں اچھا یا بُرا نتجہر ان کے لےی طے ہے۔ 20تو یہ بھی ایسے ہی نتجےی سے دوچار ہوں گے۔ غرض یہ کہ متکبرین کے پاس اس دناس مںت متاثرین کے مقابلے مں نشانِ امتیاز صرف اور صرف معاھر (Quality) اور مقدار (Quantity) کا ہے۔ یہ معاپر اور مقدار تکبر کے لےم نہںر تشکّر کے لےھ دیا گار ہے اور یہ اضافی مہربانی ان کے لےب شکر کا امتحان ہے۔ شکر مںt تن چزییں پائی جاتی ہں : (۱) زبان سے شکر کے الفاظ ادا کرنا۔ (۲) دوسروں کو حقر نہ سمجھنا اور (۳) ضرورت مندوں کی ان اضافی نعمتوں کے ذریعے معاونت کرنا۔ متاثرین کے ہاں یہ معاےر اور مقدار نسبتاً کم رکھی گئی ہے، یہ ان کے صبر کا امتحان ہے اور صبر مںا بھی تنہ چزویں پائی جاتی ہں : (۱) اس تنگی اور مشقت کو تحمل سے برداشت کرنا (۲) مخلوقات کے سامنے واویلا نہ مچانا اور (۳)ربّ العزت کی بارگاہ مںھ اس تنگی و عُسرت کی دُوری کے لےش دعائںت مانگنا۔ نزع یہ نظام اﷲ تعالیٰ نے اس دناا کے خوش اسلوبی کے ساتھ چلتے رہنے کے لےر وضع فرمایا ہے اور اس مںی افراد کا انتخاب بھی اس نے اپنی مرضی اور مشتت ہی سے کاا ہے۔ مال داروں کے ہاں غربا کے مقابلے مںہ جو اضافی نعمتںر ہوتی ہںو وہ ان کے کسی ذاتی کمال کا انعام نہںی ہوتںر، غربا کے ہاں جو تنگ دستی ہوتی ہے وہ بھی ان کی کسی بدعملی کی سزا نہںا ہوتی۔ اﷲ تعالیٰ نے اس دنا مںہ یہ فرق اس لےن رکھا ہے کہ ایک دوسرے کی باہمی احتاہج بھی رہے اور ایک دوسرے سے باہمی طور پر اپنے اپنے مفادات بھی حاصل کرتے رہںے۔ ہر دو حوالوں سے اگر پوری انسانتا کو یکساں کردیا جائے تو یہ نظام ہی درہم برہم ہوجائے۔ مال داروں کی کم تر ضروریات کو پورا کرنے و الا کوئی نہ رہے اور حاجت مندوں کی حاجتوں کے پورا ہونے مںک معاونت کرنے والا کوئی نہ ہو، جبکہ دناے مفادات او رحاجتوں سے بھری ہوئی ہے، لہٰذا یہ باہمی فرق خود مدبّرِ کائنات ہی کی طرف سے ہے اور مدبّر کائنات نے ہر شخص کو اس کے اپنے حلقے مںو رکھتے ہوئے اس کے مناسب احکامات دے رکھے ہںج اور اس حوالے سے اس کی نگاہ مںن سب یکساں اور برابر ہںا۔ متکبّرین کے ساتھ شریعت کی خصوصی رعایت: تکبّر کی کسی بھی صورت مںد کسی بھی حوالے سے مذہب و شریعت نے حوصلہ افزائی نہںن کی ہے۔ جہاں کہں بھی اس کا ذکر کای ہے اس کی مذمت ہی باہن کی گئی ہے۔ اس تشدیدی مذمت کے باوجود اس دناع کے اندر متکبّرین کو ایک خصوصی رعایت یہ حاصل ہے کہ اس غلظل، قبح ، گھناؤنی اور کنہو حرکت کے باوجود انہںت دائرۂ اسلام سے خارج قرار نہںو دیا گا (ان کے دیگر متقیانہ اعمال کے باوجود ان پر فاسق و فاجر ہونے کا حکم ضرور لگایا جاسکتا ہے) اس رعایت کا فائدہ یہ ہے کہ متکبرین، حاصل ہونے والی اس رعایت پر غور کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ وہ ابھی تک صفتِ ایمان کے ساتھ متصف ہں اور اﷲ تعالیٰ کی جناب مںے رجوع کرتے ہوئے توبہ اور استغفار کو اپنی عادتِ ثانہ بنالں ، تاکہ آخرت مں دھتکار نہ دیے جائںخ۔ وماتوفیوب الاباﷲ تکبّرکی مذمت آیات قرآنی کی روشنی مںک: قرآن مجدا مںا تکبر کی شدید مذمت وارد ہوئی ہے، ذیل مںم چند آیات ذکر کی جاتی ہںو: 1’’اور جنہوں نے (بندگی سے) عاروانکار اور تکبر کاا ان کو وہ تکلفے دینے والا عذاب دے گا۔‘‘(سورۂ نساء آیت173) 2 ’’اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کا وہی دوزخ والے ہںو اس مں‘ ہمشہا ہمشہ) رہںو گے۔‘‘(سورۂ اعراف آیت36) 3’’(ان سے) کہا جائے گا، دوزخ کے دروازوں مںک (سے) داخل ہوجاؤ اس مں ہمشہد ہمشہ رہوگے، پس تکبر کرنے والوں کا کاہ ہی بُرا ٹھکانا ہے۔‘‘(سورۂ زمر آیت72) 4’’بے شک جو لوگ مرےی عبادت سے تکبر کرتے ہں2 عنقریب وہ جہنم مںم ذللک ہوکر داخل ہوں گے۔‘‘(سورۂ فاطر آیت60) 5’’بھلا ہماری آیںئے تمہںر پڑھ کر نہںق سنائی جاتی تھںہ؟ مگر تم نے تکبرکای اور تم نافرمان لوگ تھے۔‘‘(سورۂ جاثہئ آیت31) تکبّرکی مذمت احادیث طیّبہ کی روشنی مںت: اسی طرح احادیثِ طبہہ مں بھی تکبر کی مذمت آئی ہے، ذیل مںر چند احادیث نقل کی جاتی ہںر: 1حضوراکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ قاگمت کے دن ان لوگوں کو جو دنای مںی تکبر کرتے تھے چو نٹی کی طرح بنادیا جائے گا، لوگ انہںے پریوں تلے روندتے ہوئے (Stomping Them Beneath Their Feet) گزریں گے۔ 2ایک اور حدیث مںo حضوراکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ جہنم مںی تکبر کرنے والوں کے جسموں کو بڑا کردیا جائے گا (تاکہ زیادہ سے زیادہ عذاب دیا جاسکے)۔‘‘ محدثنض کرام نے ان دونوں حدیثوں کے درمامن یوں تطبقں (Comparison) دی ہے کہ مد انِ محشر مں، تو ان کے جسموں کو چولنٹو ں کی طرح کردیا جائے گا تاکہ ان کی حقارت و ذلّت سب پر ظاہر ہوجائے اور جب انہںد جہنم مںد ڈال دیا جائے گا تو ان کے جسموں کو بڑا کردیا جائے گا تاکہ وہ عذاب کی شدت و سختی کو بھی زیادہ سے زیادہ محسوس کرسکںِ۔ 3ایک حدیث مںا حضورنبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس کے دل مںر ذرّہ برابر بھی تکبّر ہوگا وہ جنت مں۔ داخل نہںن ہوگا۔ فائدہ1:علمائے کرام نے لکھا ہے کہ انسان اپنے ہر گناہ کو چھپا سکتا ہے لکنک تکبر ایسا گناہ ہے جو چھپایا نہںن جاسکتا۔ فائدہ2: مفسرین کرام فرماتے ہںر کہ یہاں تکبر کو ایمان کے مقابلے مں ذکر کا گاں ہے، کوجنکہ ایمان والے فرمانبردار ہر نعمت و کمال کو اﷲ تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہںا اس لےہ وہ تکبّر سے محفوظ رہتے ہںا جبکہ کفار و نافرمان ان کو اپنا کمال سمجھتے اور تکبر مں، مبتلا ہوجاتے ہںم۔ عاجزی اور انسان: عاجزی، انکساری، خاکساری، تواضع، بردباری، حِلم تقریباً ہم معنیٰ اور مترادف الفاظ ہں ۔ یہ ایک صفت و کت جس کا نام ہے جو انسان کے اندر رکھی گئی ہے، نزک اس کتھپا و صفت کو اخلاق عالہو مں شمار کار گاں ہے یہ صفت شریعت کی رو سے اس کے ماننے والوں سے مطلوب بھی ہے۔ اس صفت کا حامل اکڑتا نہںں، جھکتا ہے او ریہ جھکاؤ مجبوری، کمزوری اور بزدلی کا نتجہا نہںں ہوتا بلکہ طاقت، شجاعت اور دلرھی کی موجودگی مں اپنے نفس کو مار کر اختالر کا جاتا ہے۔ اس لےر کہ شاخ پھلوں، پھولوں، پتوں سے لدی ہوئی ہو تو وہ جھکی ہوئی ہوتی ہے۔ صراحی جھکی ہے تو فض پہنچاتی ہے۔ تکبر ذلت و رسوائی کا دروازہ ہے، عاجزی عزت و بزرگی کا سرمایہ ہے۔ تکبر نفرت کا اور عاجزی محبت کا ہرابھرا، تناور، پھل دار درخت ہے۔ تکبر عداوت کی خُو (عادت) پدبا کرتا ہے۔ عاجزی محبوبت کی بُو بکھر تی ہے۔ تکبر بدامنی کا ضامن اور عاجزی سکون کی ذمہ دار ہے۔ تکبر بدنامی، بے عزتی کے اندھیرے و گہرے گڑھے مںی پہنچا کر دم لتاا ہے، عاجزی آسمان کی بلندیوں پر پہنچا کر بھی ساتھ نہںت چھوڑتی۔ تکبر تنہائوحں کا جنگل اُگاتا ہے۔ عاجزی عاشقوں کا جمگٹھا تخلقت کرتی ہے۔ تکبر حسرت، حسد او رکینے کے تمبو تانتا ہے، عاجزی رواداری، فضا، ہمدردی، بھائی چارگی کے ٹھاٹھں مارتا سمندر جاری رکھتی ہے۔ انسان کی حققت : انسان اگر اپنی حققتق کو ہمشہ مدنظر رکھے تو عاجزی اس کا اوڑھنا بچھونا بن جائے۔ انسان کی حققت یہ ہے کہ اس کی ابتدا ایک ناپاک قطرے سے ہے۔ اس دنای مںب آمد سے پہلے نہایت تنگ و تاریک جگہ پر رہنا پڑا ہے۔ دناج مںت آمد کا راستہ بھی کوئی قابل فخر راستہ نہںے ہے۔ اگر سر کے بالوں کی صفائی نہ ہو تو اس مںر جوئںپ (Louses) پڑجائںق، ناک سے رینٹ (ناک کی غلاظت) بہتی ہے، منہ سے رال ٹپکتی ہے، بلغم تھوکتا ہے، دانتوں کی صفائی نہ کی تو منہ سے بدبو کے بھبکے اٹھتے ہںم، پسنہ بدبو مارتا ہے، غسل کا اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے سارے بدن پر خارش ہوجاتی ہے، کھجاکھجا کر کھال چھل جاتی ہے مگر آرام نہںھ پاتا، دمہ ہوجائے تو دم نہںا مارسکتا، خون خراب ہوجائے تو سارے جسم پر پھوڑے پھنسوتں کا راج ہوجاتا ہے، کچھ دیر بیٹھ جائے تو پرد سُن (Benumbed) ہوجاتے ہں ، سونا چاہے تو نندو اڑی ہوئی ہو، نندآ کا غلبہ ہو تو آنکھںہ کھلی نہ رکھ سکے، اپنے خراٹوں پر قابو نہ پاسکے اور پاس والے بز ار رہںے، گست کا غلبہ ہو تو اپنی ذات سے اسے روک نہ سکے، انتہائی خوشبودار غذائںد کھائے اور نہایت غلظن اور بدبودار بناکے نکالے، قبض ہوجائے تو ناچتا پھرے، دست ہوجائںچ تو بھاگتا پھرے، جسم سے نکل کر بہنے والا خون اس کا ناپاک، کھانسی کا دورہ پڑجائے تو اپنے آپ کو سنبھال نہ سکے، آواز بیٹھ جائے تو ازخود اسے اٹھا نہ سکے وغرےہ وغر،ہ ان حقائق کے حامل کے لےا تکبر نہںپ عاجزی ہی مناسب ہے۔ کھٹملوں کی بہتات ہوجائے تو اپنی ذات کے اندر اس کا علاج نہ پائے (باہر کے اسباب کا سہارا لناا پڑے)، مچھروں کی یلغار ہوجائے تو مقابلے نہ کرسکے، ایک مکھی پچھے پڑجائے تو جان نہ چھڑا سکے، چھچھوندر، چوہوں، لال بگھ اور چھپکلی مںم سے کسی نہ کسی سے خوف کھائے، ایسے حقرا جانداروں سے عاجز ہوجانے والے کمزور انسان کے لےس تکبر نہںل عاجزی ہی مناسب ہے۔ آندھی آجائے تو اُڑجانے کا خطرہ، موسلادھار بارش و سیلاب مںے بہہ جانے کا خطرہ، حبس مںی سانس رُک جانے کا خطرہ، تزو دھوپ و گرمی مںم جل جانے کا خطرہ، شدید سردی مںن ٹھٹھرجانے کا خطرہ ایسے بے بس و لاچار انسان کے لےھ تکبر نہںب عاجزی ہی مناسب ہے۔ بماےریوں کے حملے ہوں تو اپنی ذات کے ذریعے بچاؤ کا کوئی بندوبست نہ کرسکے۔ بندوبست تو کاے کرسکتا اس کو تو پتہ ہی تب چلتا ہے جب بماےریاں اپنا پڑاؤ (ٹھہرنے کی جگہ) (Camp) خاموشی سے ڈال چکی ہوتی ہںب۔ بما ریوں کے آنے کے بعد اپنی ذات کے اندر ایسا کوئی انتظام نہں پایا جس کے ذریعے ان بمااریوں کو بے دخل (خارج) (Evicted) کرسکے، غضب خدا ایک ایک فرد کتنی کتنی مہلک بمایریاں اپنے اندر لےا پھر رہا ہے۔ آج سے پچاس(50) ساٹھ(60) سال پہلے کے لوگ اپنی اپنی زمںاتب، جائدادیں، خزانے، اولاد کی کثرت گنوایا کرتے تھے آج کا انسان اپنی مہلک بمایری گنواتا ہے اور فرفر سناتا ہے جسے تبلغا والے چھ(6) نمبر سنارہے ہوں مجھے بلڈپریشر بھی ہے، ایڈز بھی ہے، کنسر بھی ہے، ہیپاٹائس سی بھی ہے، شوگر بھی ہے، فالج بھی ہے، ڈپریشن، ذہنی دباؤ، گھبراہٹ، وحشت اور دہشت نے تو نفساےتی مریض بناکر رکھ دیا ہے کا ان مصائب کے شکار انسان کو تکبر زیبا ہے اس کے لےے تو عاجزی ہی مناسب ہے۔ انجانا خوف ہر وقت بے چن رکھتا ہو، ذرا سی آہٹ سے ڈر جائے، خوف کا سامنا ہو تو پیشاب نکل جائے، خون سوکھ جائے، کاٹو تو خون نہ نکلے، زبان بند ہوجائے، رنگ اُڑ جائے، گھگھی (خوف کے مارے سکتے کا عالم)(Temporary Loss of Power of Speech (Through fear)) بندھ جائے، ٹانگںک کپکپانے لگ جائں،، ہاتھ لرزنے لگںr، آنکھںg بہنے لگں کاے بزدلی کی اس مواج پر پہنچے ہوئے انسان کو یہ موزوں ہے کہ وہ تکبر کرے اس کے لےئ عاجزی ہی مناسب ہے۔ جب دناج مں آتا ہے ہرہر حوالے سے بے بس ہوتا ہے۔ طویل عرصے تک اپنی ہرہر حاجت اور خواہشات پوری کرتے رہنے کے لےr دوسروں کا محتاج رہنا پڑتا ہے خودداری کا دور دور تک پتہ نہںب ملتا، جوں جوں عمر بڑھتی جائے یادداشت (Memory) کھو بٹھے ، ہاتھ پاؤں چھوڑ بٹھےا (نہ وزن اٹھاسکے، نہ بے سہارا چل سکے، نہ سد ھا کھڑا ہوسکے) نہ آنکھوں سے دکھائی دے، نہ کانوں سے سنائی دے، نہ بات سمجھے، نہ اپنوں کو پہچانے، نہ بھاری مرغن غذا کھاسکے، نہ حاجت کو کنٹرول کرسکے، نہ فارغ رہ سکے، نہ مصروف ہوسکے، سانس لے تو ہانپنے لگے، نہ سوچ سکے، نہ بول سکے، بے بسی کے اس پکرس کا تکبر سے کاس واسطہ؟ اس کے لےo تو عاجزی ہی مناسب ہے۔ یہ عاجزی ہے کاس؟ سادگی اختاسر کرنا دوسروں کے سامنے بچھے رہنا، اپنے سے کمزور سے طاقت کے باوجود بدلہ نہ لنائ (جو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ بدلہ نہںذ لتات)، قصوروار کو معاف کردینا، اپنے قصور پر ہر چھوٹے بڑے سے معافی مانگ لنای، ہر چھوٹے بڑے سے ہنستے منہ ملنا، اپنے غصے کو قابو مں رکھنا، اپنے مال سے حاجت مندوں کی امداد بغرم احسان جتائے جاری رکھنا، چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کی عزت اور علمائے کرام کا اکرام کرنا، مخلوق کو اﷲ تعالیٰ کا کنبہ سمجھتے ہوئے ان سے حسن اخلاق سے پشک آنا۔ سائلن کو نہ دھتکارنا (Reprove)، فخر و گھمنڈ اور غرور سے باز رہنا، کسی پر بھی اپنی بڑائی نہ جتلانا، کسی کی بھی تحقرR نہ کرنا، کسی پر بھی ظلم نہ کرنا، ملاقاتوئں کو وقت دے کر مطمئن کرنا وغرسہ وغر ہ۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
594