(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
زمانۂ بلوغت کے چندپوشد ہ مسائل اور اُن کاغرےپدر سہ حل
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ زمانۂ بلوغت کے چندپوشد ہ مسائل اور اُن کاغررپد رہہ حل ابتدائہب انسان اس دناد مںو عموماً تن زمانوں کو پاتا ہے۔ (۱)بچپن کا زمانہ (۲)بلوغت (جوانی، شباب) کا زمانہ (۳)بڑھاپے کا زمانہ (اگر کوئی شخص (مرد وعورت) ان تنِ زمانوں کو پالے تو اس کے بعد اس دنا مںن کوئی زمانہ باقی نہںن رہتا۔ اس کے بعد موت کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہںر پھر لازماً بذریعہ موت اس دناے سے اسے عالم برزخ مں منتقل کردیا جاتا ہے۔ بچپن کا زمانہ دنو ی و دییا ذمہ داریوں سے آزاد زمانہ ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ بچپن کی ایک خاص عمر کے بعد بلوغت کی ذمے داریاں سنبھالنے کے لےپ اسے ذہنی، جسمانی، علمی و عملی حوالوں سے تایر کا جاتا ہے اس مںی بھی اس سے ہرہر شعبے مںو زیادہ سے زیادہ رعایت برتی جاتی ہے نزل اس کی بچپن کے زمانے کی تمام ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داریاں اس کے والدین یا سرپرست پر ہوتی ہں گویا کہ خود اس کی اپنی ذاتی ضروریات پورا کرنے کا بوجھ بھی اس کے ناتواں کاندھوں پر نہںم ڈالا جاتا۔ (اے کاش! ہم اتنے ہی رہتے لکنں بساآرزو کہ خاک شد) بلوغت (Maturity) کا زمانہ شروع ہوتے ہی معاشرے اور گھر کی طرف سے انسان پر ذمہ داریوں کی ابتدا ہو یا نہ ہو شریعت کی طرف سے وہ حقوق النفس، حقوق العباد او رحقوق اﷲ کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مکلف (Responsible) بنادیا جاتا ہے۔ ان ذمہ داریوں کے تاحاوت پورا کرتے رہنے کا نام اطاعت ہے۔ ان ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنے کا نام نافرمانی ہے۔ اطاعت پر دناد مںں خوشحالی، دلوں کے اطمنارن، ذہنوں کے سکون کا اور آخرت مںک بے مثال، بے انتہا اجر و انعام کا وعدہ ہے نافرمانی پر دناہ مںا مؤاخذے اس کے نتجےح مںے پریشانوںں او رآخرت مںا دکھ دینے والے دردناک عذابات کا خدشہ ہے۔ اس نظام کو عدل و انصاف کے عنا مطابق بنانے کے لےے اس کی حسد سے پاک، جانبداری سے مبرّا، غلطوعں سے بے عب ، ٹرانسپیرنٹ عملی دستاویز تاکر کرنے کا کام اس کے مکلف ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے جس مںح ہرہر چھوٹا بڑا عمل، تاریخ، وقت، جگہ، جسامت، ضخامت کے حوالوں سے نوٹ کرلاے جاتا ہے (تفصیلات علحدہہ علحد،ہ موضوع و مضمون کا حصہ ہںم)۔ بلوغت کی عمر شروع ہوتے ہی انسان کے جسم مںر ایک نئی کتمو کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ کت ا پدکا تو جسم کے اندر ہی ہوتی ہے لکنے اس کت مک کو جسمانی کے بجائے جنسی (Sex) کتعت کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ کت مرد و عورت دونوں کے اندر پدتا ہوتی ہے جو قدرت کا ایک انمول، بشم قمتب عطہو ہوتا ہے جسے توالدوتناسل ہی کے لےہ عطا کات جاتا ہے اگرچہ اس مں اضافی طور پر لذت بھی رکھی گئی ہے نز اس کا استعمال شریعت نے بعد از نکاح ہی مقرر کاد ہے (اس مں نکاح متعہ قطعاً شامل نہں ہے حرام کردیے جانے کے بعد شریعت کی رو سے اس کا انعقاد قطعاً ناجائز اور صریحاً گمراہی ہے) بعض مردوعورت مںر یہ جنسی کتے رکھی ہی نہں جاتی عرف عام مں ایسے لوگوں کو خواجہ سرا، مخنث، ہجڑجا، زنجا (Effeminate Person) کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ نعمت قدرت ہی کی طرف سے ملتی ہے اس لےل نہ صرف شریعت نے اس کے متعلق احکامات دیے ہںں بلکہ اس کے متعلق بھی پوچھ گچھ ہوگی۔ ان احکامات پر جائز طریقے سے عمل باعث اجر اور ان احکامات کی خلاف ورزی دنام و آخرت مںہ باعث پکڑ ہے۔ لہٰذا اس کے مسائل سے امت کو روشناس کرانا لائق فکر ہے۔ فقہائے کرام نے پوری ذمہ داری کے ساتھ بغرک کسی ابہام (گول مول بات) (Ambiguity) کے مسائل کو سمجھایا ہے یہاں تک کہ استعمال ہونے والے اعضاء کے عربی نام بھی صریحاً ذکر فرمائے ہںب لکن نہ جانے دورحاضر کے علمائے کرام متانت، سنجداگی اور شرم و حال کے کس خول مںی بند ہں وہ اس حوالے سے کماحقہ اپنا فریضہ ادا نہںم کرپارہے۔ ضرورت مند سائلنت کو بھی انفرادی طور پر گول مول بات ہی بتلاتے ہںم۔ یہاں تک کہ کلاس میںطلباء کو بھی وضاحت کے ساتھ نہںن سمجھایا جاتا۔ یہ انداز کہں کتمان (Keeping Secret)کے زمرے مں تو نہںد آتا؟ جبکہ دورحاضر جنسی حوالے سے انتہائی بے باکی کا دور بھی ثابت ہورہا ہے (ہائے ہماری اپنی باہ ں فشنک کی زد مںب آکر بغرت آستنا کی قمیضیں اور ہمارے بٹےپ آدھے کولہے ننگے کرکے برسر بازار بلا جھجک و ہچکچاہٹ گھومتے پائے جاتے ہںی۔) اس فرض کفایہ کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے تعلم و تعلم کی غرض سے زیرنظر رسالے مںن چند مسائل اخلاقی حدود مں رہتے ہوئے جمع کےک گئے ہںت۔ اس کی اشاعت سے قارئنں کو زمانہ بلوغت کے ان اہم ترین مسائل سے شرعی آگاہی حاصل ہوگی جو یناً لائق اطمنا ن اور باعث اجر ہوگی لہٰذا اسے مثبت پہلو سے ہی دیکھا جائے۔ قارئنا اس حوالے سے اپنے ساتھ پش آنے والے مسائل کا حل جاننے کے لےغ بذریعہ ڈاک شعبہ اصلاح امت جامعہ بنوریہ عالمہ سائٹ کراچی کے پتے پر اپنے مسائل بھجوا سکتے ہںآ۔ ایک معتدبہ تعداد جمع ہونے کے بعد مشاورت سے اس کو طبع کرکے عوام الناس کے فائدے کے لےک عام کاھ جاسکتا ہے۔ سوال: جب انسان کی عمر بارہ(12)، چودہ(14) سال کی ہوتی ہے تو اس کے جسم کے مختلف حصوں پر بال ظاہر ہونے شروع ہوتے ہںے کای یہ بال مرد اور عورت دونوں کے جسموں پر ظاہر ہوتے ہںت اور ان بالوں کے متعلق شریعت کا کاب حکم ہے؟ جواب: یہ بال مرد اور عورت دونوں کے ہوتے ہںو اور ان کو صاف کرنے کا حکم ہے۔ سوال: ان بالوں مںپ مخصوص طور پر چہرے اور لبوں پر صرف مَردوں پر یہ بال ظاہر ہوتے ہںا اور بڑھتے رہتے ہں عورتوں کے چہروں پر یہ بال نہں ہوتے، مردوں کے لے اس کا کاف حکم ہے؟ اگر بالفرض عورتوں کے چہروں پر یہ بال آجائںظ تو ان کے لےہ کاں حکم ہے؟ جواب: مردوں کے چہروں پر جو بال آتے ہںو اسے داڑھی اور لبوں کے بالوں کو مونچھں کہا جاتا ہے، مردوں کے لےہ ایک مشت تک داڑھی بڑھانے کا حکم ہے اور مونچھںو اس حد تک کتروانے کا حکم ہے کہ لب ظاہر ہوجائںچ۔ عورتوں کی داڑھی اور لبوں کے بال نہںی آتے اگرخدانخواستہ آجائںو تو ان کو صاف کرنا (نوچ کر یا کسی کریم کے ذریعہ) جائز ہے۔ سوال: کہا جاتا ہے کہ بغل کے نچے اور ناف کے نچےا جو بال ہوتے ہںئ انہںی کاٹنا چاہےل، بغل تو بہت تھوڑی سی جگہ ہے البتہ ناف کے نچےں کا علاقہ بڑا ہے لہٰذا اس کے متعلق باان کاا جائے کہ یہ حصہ کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے؟ آیا ناف کے فوری بعد جو پٹا کا حصہ ہے وہںت سے صاف کرنا چاہےی یا پٹر کے بعد جو حصہ شروع ہوتا ہے وہاں سے؟ دونوں طرف کی رانوں کے متعلق کائ حکم ہے؟ خصن کا (Testicle) پر بھی بال ہوتے ہں جنہںو اس کے بعد پاخانے کی جگہ کا کا حکم ہے؟ پورے دونوں کولہوں کو صاف کا جائے؟ جواب: زیرِناف بالوں کو صاف کرنا چاہےب۔ ناف سے لے کر رانوں کی جڑوں تک پیشاب گاہ خصنصی اور پاخانہ کی جگہ کے گرد جہاں تک صفائی ممکن ہو۔ سوال: کس چزر (آلے) سے ان بالوں کو صاف کرنا چاہےا؟ مرد حضرات عموماً ریزر اور اُسترے وغربہ سے صاف کرتے ہںہ اور عورتںت کریم وغروہ کا استعمال کرتی ہں ، کاع اس کا اُلٹ بھی ہوسکتا ہے؟ ضرورت کے موقع پر جسےہ کہ بڑی عمر کے مرد یا جن کی بناتئی کم ہوگئی ہو یا جو نابناا ہوں وہ کریم استعمال کرلںا؟ یا عورتںا ریزر کے استعمال کو آسان سمجھتی ہوں تو استعمال کرسکتی ہںب یا نہںت؟ اس مںگ شرعی یا طبی کوئی حرج تو نہںل؟ جواب: مرد کے لےس لوہے کا استعمال اور عورت کے لےن کریم وغر ہ کا استعمال بہتر ہے لکنس اس کا اُلٹ بھی جائز ہے۔ سوال: بڑی عمر کے افراد، معذور افراد، اس کی صفائی مں کسی سے مدد لے سکتے ہںت اگر لے سکتے ہوں تو کن کن سے؟ بوےی اور شوہر کے علاوہ (بعض حالات مں ان مںو سے کوئی ایک معذور ہوتا ہے یا دارفانی سے جاچکا ہوتا ہے۔) جواب: دوسروں سے مدد لنام جائز نہں ۔ (یہ حکم سَتر چھپانے کے حکم کی اہمتا کے پشِک نظر ہے البتہ اگر کوئی شخص انتہائی طور پر مفلوج و معزور ہو تو سا کے لےد گنجائش نکل سکتی ہے۔) سوال: اگر بڑی عمر کا فرد خود سے یہ کام نہ کرسکتا ہو او رکسی سے مدد بھی نہ لے سکتا ہو یا نہ لناہ چاہتا ہو تو اس کے لے کوئی اجازت (رخصت) ہے؟ جواب: نہں ۔ سوال: ان بالوں کی صفائی کے لےہ کا شریعت نے مدت کا کوئی تعن کا ہے؟ کم از کم کتنے دِنوں کے بعد صفائی کی جانی چاہےت یا زیادہ سے زیادہ اس کی مدّت کا کای تعنو ہے؟ جواب: ہر ہفتہ صفائی مستحب ہے۔ چالس روز تک چھوڑنے کی اجازت ہے، اس سے زیادہ مکروہ ہے۔ سوال: اگر بما ری، مصروفت یا سُستی کی بنا د پر اس کی زیادہ سے زیادہ مدّت والی حد گزرجائے تو ایسے شخص کے بارے مںر شریعت کا کاخ حکم ہے؟ آیا اس کے شرعی اعمال نماز وغرڑہ پر کوئی اثر پڑے گا؟ جواب: گناہ ہے اور بس۔ سوال: اگر کوئی آدمی اس کی صفائی کا قائل ہی نہںس اور اسے غر ضروری او رغلط سمجھتا ہو اس کے متعلق شریعت کا کان حکم ہے؟ جواب: احمق ہے۔ واﷲ اعلم۔ سوال: جب انسان کی عمر بارہ(12) یا چودہ(14) سا ل کی ہوجاتی ہے تو اس کے اندر کچھ جذبات پدکا ہوتے ہںل اور ان جذبات سے مغلوب ہوکر بعض اوقات رات کو نندہ کی حالت مںئ اسے برے خواب نظر آتے ہں جس کی وجہ سے پیشاب کے راستے سے کچھ گاڑھا سارل مادہ نکلتا ہے اسے کاک کہتے ہںد؟ اس کا کاس حکم ہے؟ جواب: اگر شہوت سے یہ چزا خارج ہوتی ہے اور اس کے بعد شہوت ختم ہوجاتی ہے تو اسے منی کہا جاتا ہے اور اس پر غسل واجب ہے۔ سوال: بعض اوقات قبض کی وجہ سے جب انسان زورلگا کر پاخانہ کرتا ہے (فارغ ہوتا ہے) تو پیشاب کے راستے سے سفدا رنگ کا مادہ نکلتا ہے اسے کاا کہتے ہںہ اور اس کا کاخ حکم ہے؟ جواب: اس کو ودی کہا جاتا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر غسل واجب نہں ہے۔ سوال: بعض اوقات پایر محبت کی باتوں سے بھی پتلا مادہ پیشاب کی راہ سے خارج ہوتا ہے اسے کار کہتے ہں اور اس کا کا حکم ہے؟ جواب: اس کو مذی کہا جاتا ہے اور اس مں بھی غسل واجب نہںہ ہے البتہ وضو ٹوٹ جائے گا۔ سوال:کاا مندرجہ بالا تینوں چزریں صرف مردوں کو پشں آتی ہںا یا عورتوں کو بھی پشل آتی ہںت؟ جواب: مردوں اور عورتوں مںب فرق نہںک دونوں کو پش آتی ہںت۔ سوال: موجودہ معاشرے اور نامناسب ماحول اور غرقپسندیدہ صحبتوں کی وجہ سے بعض نوجوان غلط کاریوں مںت مبتلا ہوجاتے ہںے جس مںن سے ایک غلط کام اپنے ہاتھ سے اپنے پیشاب کے مقام کو مسلا (سہلایا) جاتا ہے اسے اصطلاح مںس کات کہتے ہںے؟ او رایسے شخص کے بارے مںا شریعت کا کا حکم ہے؟ اور اس عمل سے کاک چزل ضروری ہوجاتی ہے؟ کات اسلامی حکومت مںک بھی اس کی کوئی سزا ہے؟ جواب: عام لوگ اسے مشت زنی (مٹھ مارنا) کہتے ہں اس سے انسان کی طاقت پر بُرا اثر پڑتا ہے بعض اوقات نکاح کے بعد اپنی اہلہک سے صحبت پر قدرت نہںس ہوتی اور کبھی لاعلاج ہوجاتا ہے اور نوبت اہلہق سے علحدےگی پر پہنچتی ہے اور قرآن کریم کے حکم کے مطابق وہ قل ھوا ذیً مںت داخل ہے اور اگر قاضی اور حاکم کو معلوم ہوجائے تو تعزیر (سزا) بھی دے سکتا ہے۔ اگر مادہ خارج ہوا اور اس کے بعد شہوت ختم ہوئی تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ سوال: ایک اور غلط کاری یہ ہے کہ بعض لڑکے یا مرد آپس مںز بدفعلی کرتے ہںض اپنے پیشاب کے مقام کو دوسرے کے پاخانے کے مقام مںب داخل کرتے ہںغ اس عمل کو اصطلاح مںک کاو کہتے ہںر اور اس کا شرعی حکم کاح ہے؟ اسلامی حکومت مںک اس کی سزا کاھ ہے؟ اور اس سے کاں چزہ (عمل) ضروری ہوتی ہے؟ اور وہ عمل دونوں کے لےف ضروری ہوگا یاایک کے لےک؟ جواب: اس کو لواطت کہتے ہیںاس کی سزا اسلامی سلطنت مں حاکم کو اختالر ہے کہ دونوں کو قتل کردے یا ان پر دیوار کو گرا کر ختم کردیا جائے۔ انزال کے بعد غسل فاعل پر واجب ہوگا۔ سوال: بعض انسان اپنے ان جذبات پر قابو نہ پاسکنے کی صورت مںڑ غرہ عورتوں (بازاری عورتوں) کے ساتھ معاوضے کے ذریعے یا بلامعاوضہ جبراً یہ عمل کرتے ہںن اور اس کی دو صورتںی ہں یا ان کے پیشاب کے مقام مںذ اپنا پیشاب کا مقام داخل کرتے ہں یا ان کے پاخانے کے مقام مںب ایسے شخص کے بارے مںا اسلام کاد کہتا ہے؟ اس عمل کو اصطلاح مںا کاں کہتے ہںم؟ اسلامی حکومت مں اس کی شرعی سزا کات ہے؟ عالم آخرت مںم ایسے شخص کے ساتھ کاس سلوک کار جائے گا؟ جواب: پہلی صورت کا نام زنا ہے اور دوسری کا نام لواطت ہے۔ زنا کی سزا اگر شادی شدہ ہے تو رجم کے پتھروں سے مار کر اس کو ختم کردیا جائے گا اور اگر غرمشادی شدہ ہے تو ۱۰۰ کوڑے اس کی سزا ہے او رآخرت مںہ اس کی دناسوی سزا کے علاوہ جہنم او رآگ کی سزا ہوگی۔ سوال: مندرجہ بالا عمل کرنے والوں مںن شادی شدہ اور غرےشادی شدہ کی سزاؤں مںم کوئی فرق ہے؟ جواب: دونوں مںا فرق ہے۔ شادی شدہ کو سنگسار کاا جائے گا اور غرہشادی شدہ کو ۱۰۰ کوڑے لگائںق جائںی گے۔ سوال: ایک ایسے شخص کو دناد مںک اس کی شرعی سزا مل جاتی ہے (جوکہ اسلامی اور شرعی حکومت ہی دے سکتی ہے) تو کا عالم آخرت مںا اسے قابل معافی سمجھا جائے گا یا اسے وہاں بھی اس کی سزا بھگتنی پڑے گی؟ جواب: عالم آخرت مںف بھی سزا ہے۔ سوال: ایک ایسا شخص جسے اپنے اس عمل کی شرعی سزا دنا مںا نہںج ملتی اور وہ اپنے اس عمل سے توبہ بھی کرلتاش ہے اور جن لوگوں کے ساتھ جبراً یہ عمل کرتا یا کرواتا ہے ان سے معافی بھی مانگ لتای ہے تو کان ایسے شخص کو دناےوی اور اخروی طور پر بغرگ سزا کے پاک سمجھا جائے گا؟ جواب: زنا اور لواطت مںع معافی نہںن کہ جس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا اس سے معافی مانگی جائے یہ اﷲ تعالیٰ کا حق ہے اس کے لےر توبہ ہے، انسان کا کام توبہ ہے معافی اس ذات کے قبضے مںہ ہے کہ معاف کرے یا نہ کرے اُمدہ رکھنا ضروری ہے۔ البتہ دناخ مں اس کو فاسق فاجر نہںا کہا جائے گا توبہ کے بعد اس کے پچھےا نماز وغریہ پڑھی جاسکتی ہے۔ سوال: ایک ایسا شخص جس نے معاوضہ دے کر یا راضی کرکے کسی کے ساتھ یہ عمل کاڑ یا کرایا ہو کاس اس سے بھی معافی مانگنی ضروری ہے یا صرف توبہ سے کام چل جائے گا؟ جواب: معافی مانگنی ضروری نہںہ صرف توبہ سے کام چل جائے گا۔ سوال: اگر متعلقہ اشخاص جن کے ساتھ یہ بُرا عمل کا ہو فوت ہوجائںل یا کہںس دور چلے جانے کی صورت مںد ان سے معاف کروانے کا اسلامی طریقہ کا ہے؟ جواب: معافی نہ اس کا طریقہ (صرف توبہ)۔ سوال: موجودہ معاشرے نے ایک اور انسانی بدبختی پد ا کی ہے کہ اس برے عمل کو جانوروں کے ذریعہ پورا کات جاتا ہے ایسے شخص کے بارے مںا کاش حکم ہے؟ اور اس جانور کے متعلق کاب ہدایت ہے؟ جواب: اس کی سزا کا اختا ر حاکم کو ہے۔ جانور کو ذبح کرکے دفن کات جائے گا۔ سوال: موجودہ معاشرے کی اٹھان یہ بتلا رہی ہے کہ کہں تعلمج کے عنوان سے عملی طور پر استاد شاگرد مںم یہ عمل شروع نہ ہوجائے اس عنوان سے اس مسئلہ پر اسلامی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ کاہ عملی طور پر کسی کے ساتھ یہ عمل کرکے اس کو یا دوسروں کو تعلما دی جاسکتی ہے؟ اگر کوئی اس عنوان سے اس بات کا قائل ہو تو اس کے متعلق شریعت کا کال حکم ہے؟ جواب: ایسا انسان معلم بننے کی اہلتک نہںن رکھتا، وہ فاسق اور فاجر کہلائے گا۔ سوال: بعض طبقات مںی منگنی کے بعد نکاح سے پہلے آپس مںں ملنے جلنے گھومنے پھرنے کا رواج ہے، اس مل ملاقات کا کاح جواز ہے؟ اس ملاقات کے ذریعے اگر خاص عمل (اس ذہن سے ہوجائے کہ یہ مرلی منگترج ہے اور اس نے مرکے ہی پاس آنا ہے) ہوجائے تو اس کا شمار کس مںے ہوگا؟ اس کی شرعی سزا اور کفارہ کاہ ہے؟ جواب: اییس ملاقات حرام ہے ، اگر فعل صادر ہوا تو زنا ہے۔ بچہ حرامی ہوگا، زنا کی سزا ہے اس مںت کفارہ نہںم ہوتا۔ سوال: جو لوگ موٹرسائکل پر اپنی عورتوں کو بٹھا کر لے جاتے ہںہ جس مںے بومی کے علاوہ ماں، بہن، بیوت، بہو، بھابھی بھی ہوسکتی ہے۔ اگراس طرح قریب ہوکر، مل کر گرجانے کے ڈر سے چمٹ کر بٹھنا پڑے اور شطاںنی وساوس مں، گِھر کر لذت اور مزا حاصل ہوجائے تو فرداً فرداً اس کے احکامات کاے ہں ؟ اور اس کا کفارہ کاک ہے؟ جواب: ماں، بہن، بیسئ کا حکم ایک ہی ہے اس طرح لذت حاصل کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ اور اس طرح بٹھانے سے احتراز کرنا ضروری ہے۔ اگر صرف خطرہ اس قسم کا ہے تو بھی پرہز کا جائے گا۔ اگر بہو ہے اور سسر کے ساتھ کسی بدن کے حصے کا بغرہ کپڑے کے اتصال ہوگاا اور شہوت نے پکڑ لاے اور انتشار ہوا یا انتشار مںب قوت آگئی تو وہ بہو اپنے بٹےب پر حرام ہوجائے گی۔ بھابھی کے ساتھ قطعاً لذت ہو یا نہ ہو بٹھنے کی اجازت نہںن۔ اس مںذ کسی قسم کا کفارہ نہں یہ کام صرف حرام ہے جس سے انسان کو بچنا ہوگا۔ سوال: کا۔ اپنے شر خوار بچوں کی موجودگی مںئ اپنی بو ی سے یہ عمل کاف جاسکتا ہے؟ جواب: کا۔جاسکتا ہے۔ لکنے پرہزا کرنا چاہےم کو نکہ آنکھ کے ذریعے دل پر نقش ہوتا ہے۔ سوال: ایک شادی شدہ شحص اپنی بونی کے پاخانے کے مقام مںی یہ عمل کرے تو اس کا کاپ حکم ہے؟ کاے اس کی کوئی شرعی دنا وی یا اخروی سزا ہے؟ آیا اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ ایسے شخص کے لےس اپنے طور پر کوئی کفارہ ہے؟ جواب: یہ عمل حرام ہے، وقت کے حاکم کو اختاار ہے۔ اخروی سزا ضرور ہے نکاح مں فرق نہںے۔ کفارہ نہںق ہے۔ سوال: ایک شادی شدہ شخص اپنی بونی کے ہاتھ سے شہوت پوری کرسکتا ہے؟ مقصد صرف لذت حاصل کرنا ہو۔ یا بو؟ی کے ایام (حضل کے دنوں) کی وجہ سے صحح مقام پر شہوت پوری نہ کرسکتا ہو؟ جواب: یہ بھی نقصان کی وجہ سے ناجائز ہے۔ بوشی کے ہاتھ لگانے کی اگرچہ اجازت ہے شریعت نے اییم چزسوں سے بھی منع کاع ہے جس مں: صرف نقصان ہو۔ سوال: عورت کی بما،ری کے ایام مںو صححش جگہ (پیشاب کے مقام مںہ) اپنی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے یا نہںہ؟ اگر کسی نے ان ایام مںی یہ عمل کرلا تو اس کی دنوہی اخروی کوئی شرعی سزا ہے؟ یا اپنے طور پر اس کا کوئی کفارہ ہے؟ اس کا نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟ جواب: دنوتی سزا نہںا اخروی سزا ہے۔ کفارہ نہںت۔ نکاح پر اثر نہںر پڑے گا اور اس طرح کرنا حرام ہے شرعاً اجازت نہں۔۔ سوال: اپنی بوہی کے منہ مںے اپنا پیشاب کا مقام دینا یا بو ی کے پستان اپنے منہ مںہ لناک اس کے متعلق شریعت کان کہتی ہے؟ جائز نہ ہونے کی صورت مں اس کی کوئی سزا یا کوئی کفارہ ہے؟ آیا اس کا نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟ جواب: یہ جانوروں کا کام ہے انسان ایسا نہںا کرسکتا کوئی کفارہ نہںر۔ اگر پستانوں مںر دودھ نہںگ تو منہ مںن لے سکتا ہے۔ دودھ مںا حرمت نکاح تو نہںر البتہ دودھ پنائ حرام ہے۔ نکاح پر کوئی اثر نہںر پڑے گا۔ سوال: ایک شخص موجودہ معاشرے کی وجہ سے مجبوراً شادی نہ کرسکتا ہو(جس مں آمدنی، مکان اور اخراجات کی پریشانی شامل ہے) فطری طور پر اپنے ان جذبات کی تسکین کس طرح کرے گا؟ روزہ بھی نہ رکھ سکنے کی صورت مںن کسی بُرے کام کی اجازت ہے؟ جواب: روزہ رکھے یا صبر کرے کسی برے کام کرنے کی اجازت نہں ۔ سوال: ایک شخص ان تمام برائورں کا سرے سے قائل ہی نہںز اور وہ اسے وقت کی ضرورت سمجھتا ہے (فوری، آسان اور سستا عمل قرار دیتا ہے) ایسے شخص کے بارے مںق کای حکم ہے؟ جواب: یہ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔ استنجاء پاکزہگی کی علامت: پیشاب، پاخانے کی ضرورت کو پورا کرنا جسے قضائے حاجت بھی کہتے ہںر انسان کی فطری، طبعی اور بشری ناگزیر ضرورت ہے۔ طبی اعتبار سے بھی یہ ایک ایسا انتہائی ضروری اور لازمی عمل ہے کہ اس کے بغرر چارۂ کار ہی نہںز ہے۔ یہاں تک کہ اس کا مستقل طور پر بند ہوجانا یا مسلسل جاری رہنا بھی صحت کے لےئ نہایت مہلک اور خطرناک ہے۔ انسان اس دناک مںج جہاں اپنی رہائش کا انتطام کرتا ہے وہںر اس فطری ضرورت کے لے بھی جگہ مخصوص کرتا ہے جسے عرفِ عام مںے بتس الخلاء (Latrine) کہا جاتا ہے بلکہ عوامی مقامات پر جہاں جہاں عوام کے اجتماعات ناگزیر ہوتے ہںر اس کا انتظام ضرورت کے بقدر ہوتا اور ہونا چاہےک۔ پیشاب اور پاخانے کے نام سے انسان کے جسم سے جو مواد نکلتا ہے وہ انسانی ذہن کے اعتبار سے بھی گندا او رناپاک ہوتا ہے اور اسلامی تعلما ت بھی اسے گندا او رناپاک ہی بتلاتی ہںو یہاں تک کہ یہ گندگی او رناپاکی انسانی ہتھیاء کی گہرائی کے برابر جسم، کپڑے اور فرش وغررہ پر لگ جائے تو اس کا دھونا ضروری اور واجب ہوجاتا ہے۔ جسم اور پہنے ہوئے کپڑوں پر اس مقدار کی لگی ہوئی گندگی اور دھوئے بغرھ اگر نماز پڑھی جائے تو اس حالت مںو پڑھی ہوئی نماز بھی ادا نہ ہوگی چاہے یہ عمل جانتے ہوئے کای جائے یا بھول کر ہوجائے۔ (واضح رہے کہ گندے او رناپاک ہونے کے اعتبار سے بالغ مرد و عورت یا نابالغ بچے بچی کا پیشاب پاخانہ ایک جسال اور برابر ہے، اس گندگی کو شریعت کی اصطلاح مں نجاستِ غلظہگ کہتے ہںا) لہٰذا اسلامی تعلماوت ییص ہںے کہ پیشاب پاخانے سے فراغت کے بعد جسمانی طور پر ان مقامات سے گندگی کو صاف کرکے پاکی حاصل کی جائے اصطلاح مںا اس عمل کو استنجا کہتے ہںے۔ جس طرح قضائے حاجت ایک لازمی عمل ہے اسی طرح اس کے بعد استنجا بھی لازمی اور ضروری عمل ہے تاکہ انسان ان گندگو ں سے پاک رہے۔ شریعت نے اس عمل کی تحسنع فرماتے ہوئے اس کا حکم دیا ہے۔ نبی ﷺ نے اس کی تعلمن دی ہے۔ فقہاء نے اسلامی تعلماہت، انسانی مزاج، طبی اصولوں، گردوپشت کے ماحول اور موسموں کے اعتبار سے اس کے مسائل او رآداب بتلا کر امت کی رہنمائی فرمائی ہے۔ جس کا خلاصہ درج ذیل ہے: ۱ گھروں وغرعہ مں۔ بتج الخلائ، استنجا خانے اس طرح بنائے جائںا کہ قضائے حاجت کے لےل استعمال کرتے وقت استعمال کرنے والے کا منہ یا پیٹھ قبلے کے رُخ پر نہ ہو۔(اگر کسی جگہ قبلہ رُخ بن گئے ہوں تو ان کے رُخ تبدیل کرالےو جائںل۔) ۲ بتک الخلاء مںے داخل ہونے سے پہلے بتخ الخلا مںک داخل ہونے کی دعا پڑھ لی جائے دعا یہ ہے ’’اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ‘‘ ’’اے اﷲ مںو خبثر (ناپاک) مردوں، خبثک عورتوں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ ۳ اس دعا کے ساتھ بِسْمِ اﷲ بھی پڑھ لے اس طرح شایطنل کی نگاہوں سے بھی محفوظ رہے گا۔ ۴ اگر بت الخلاء مںے داخل ہوتے وقت دعا پڑھنا بھول جائے تو داخل ہونے کے بعد زبان سے نہ پڑھے۔ زبان ہلائے بغرو دل مںگ پڑھ لے۔ ۵ بت الخلاء مںے سَر ڈھک کر جانا ہی مناسب ہے۔ ۶ بتر الخلاء مںء داخل ہوتے وقت پہلے الٹا پاؤں داخل کرے۔ ۷ بت الخلاء کے اندر قرآن،ذکر، تسبح ، درودشریف وغرعہ نہ پڑھے۔ ۸ انگوٹھی پر اﷲ تعالیٰ یا نبی ﷺ کا نام ہو تو اسے باہر اتار کر جائے۔ ۹ بتگ الخلاء کے استعمال کے وقت کسی سے باتںں کرنا بھی نامناسب ہے۔ ۱۰ بتی الخلاء کا استعمال بیٹھ کر کرے بغری عذر کے کھڑے کھڑے پیشاب پاخانہ کرنا مناسب نہںا ہے۔ ۱۱ فارغ ہونے مں جلدبازی نہ کرے اطمنارن سے فارغ ہو۔ تاکہ پیشاب کے تمام قطرات نکل جائںئ او رپاخانہ نکلنے کا مزید امکان نہ رہے۔ ۱۲ اطمناہن کا کوئی خاص طریقہ متعن نہںہ ہے جس طرح انسان کی طبعتی مطمئن ہوسکے وہی طریقہ اپنایا جاسکتا ہے۔ ۱۳ مکمل فارغ ہونے کے بعد استنجا شروع کرے۔ اور استنجے کے لےا اُلٹا ہاتھ استعمال کرے بغری عذر کے سد ھا ہاتھ استعمال کرنا جائز نہںک۔ ۱۴ استنجا کے لے۔ فقط پاک ڈھیلوں (پتھر، ٹوائلٹ پپرتز وغر ہ) یا فقط پانی کا استعمال بھی جائز ہے اور مقصد حاصل ہوجاتا ہے، بہتر یہ ہے کہ پہلے ڈھیلوں کا استعمال ہو اس کے بعد پانی کا استعمال ہو۔ ۱۵ پکّے بنے ہوئے بتہ الخلاؤں اور استنجا خانوں کی نالویں مںی ڈھلےک، پتھر، گتّے، کاغذ وغر ہ نہ ڈالے اس سے رکاوٹ پدصا ہوکر نکاسی رُک جاتی ہے، گٹر بھر اور اُبل جاتے ہںخ، گندگی پھیل جاتی ہے جس کی وجہ سے بتو الخلاء اور استنجاخانے قابل استعمال نہںہ رہتے، ناپاکی کے کپڑوں، جسموں پر لگ جانے کے سو(100)فصدگ امکانات بڑھ جاتے ہںی۔ ۱۶ مساجد یا پبلک مقامات کے بغر دروازوں کے استنجاخانوں مںد شلوار وغراہ اس طرح اتار کر نہ بٹھےہ کہ ستر(شرم گاہ) کے بعض حصّے دوسروں کی آنکھوں کے سامنے ننگے ہوں۔ ۱۷ پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد استنجے کے لے عموماً ایک(1) ہی ڈھیلا کافی ہوتا ہے البتہ پاخانے سے فارغ ہونے کے بعد کم از کم تن (3) ڈھلےب استعمال کے جاتے ہںا جس مںہ ضرورت کے اعتبار سے اضافہ بھی کاب جاسکتا ہے۔ ۱۸ گرمویں کے زمانے مںے ڈھیلوں کے استعمال کا طریقہ اس طرح بتلایا جاتا ہے کہ پہلا ڈھیلا آگے سے پچھےد کی طرف، دوسرا ڈھیلا پچھے سے آگے کی طرف اور تسراا ڈھیلا آگے سے پچھےس کی طرف استعمال کرے، سردیوں کے موسم مںم اس کا الٹ کرے۔ (یہ طریقہ تجرباتی ہے شریعت کا متعنک کردہ نہںس ہے۔) ۱۹ ڈھیلا یا پتھر وغریہ ایسا کھردرا یا سخت نہ ہو کہ بدن چِھل جانے کا اندیشہ ہو۔ ۲۰ استنجے سے فارغ ہونے کے بعد بتا الخلاء سے باہر نکلتے وقت پہلے سد ھا پاؤں نکالے اور بتہ الخلاء سے باہر نکلنے کی دعا پڑھ لے، دعا یہ ہے ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذٰی وَعَافَانِیْ‘‘’’سب تعریںھ اﷲ (تعالیٰ) ہی کے لےا ہں جس نے مجھ سے ایذا دینے والی چز دور کی اور مجھے چنل دیا۔‘‘ ۲۱ ہاتھوں کو صابن وغرےہ سے اچھی طرح دھولے۔ ۲۲ جن لوگوں کا پاخانہ سخت اور سوکھا ہوا ہوتا ہے وہ اگر فقط ڈھیلوں کا استعمال کریں تو جائز ہے لکنَ اگر پانی بھی دستاںب ہو تو پانی بھی استعمال کرنا بہتر ہے۔ لکنگ جن لوگوں کا پاخانہ نرم، ڈھیلا اور گیلا ہوتا ہے ان کے لے پانی کا استعمال ضروری ہے۔ ۲۳ اگر مدوانوں، جنگلوں اور کھلی جگہوں مں قضائے حاجت کی ضرورت ہو تو اییَ جگہ تلاش کرے جہاں لوگوں کی آمدورفت نہ ہو۔ جہاں لوگوں کی نظریں نہ پڑیں۔ ۲۴ ہوا کے رُخ پر نہ بٹھےظ۔ ۲۵ موسم کا لحاظ رکھے، گرمواں مںل سائے دار جگہ استعمال نہ کرے، سردیوں مںو دھوپ والی جگہ استعمال نہ کرے۔ ۲۶ پھل دار درخت کے نچےگ نہ بٹھےپ۔ ۲۷ کسی سوراخ مںچ پیشاب نہ کرے۔ ۲۸ سخت زمن پر پیشاب نہ کرے تاکہ چھینٹے نہ اڑیں۔ وغررہ وغرھہ اپلہ! بحمداﷲ تعالیٰ! محدود صفحات پر مشتمل اصلاح امت کے عنوان سے مختلف موضوعات پر پابندی کے ساتھ رسالے شائع ہورہے ہںپ اور عوام الناس مںع بھی اسے کماحقہ پذیرائی حاصل ہورہی ہے اس کا رخرک مں اپنا حصہ ڈالنے کے لے تمام قارئنی سے یہ اپلل کی جاتی ہے کہ اپنی بساط کے مطابق اس کے پھیلانے مںا مالی و بدنی خدمات پشا کریں۔ {۴} سوال: نقد اور اُدھار کے علحداہ علحد ہ دام لےص جاسکتے ہںا؟ کاش ادھار کی یہ تفصل۔ کی جاسکتی ہے کہ ایک ماہ مںل ادائیں کے یہ دوام ہںا اور اس سے زائد کے یہ دام؟ جواب: نقد اور ادھار کے علحدہہ علحدیہ دام لےو جاسکتے ہںر۔ نقد کے متعلق تو ظاہر ہے کہ فروخت کرنے والا جس قمتم پر چاہے فروخت کرسکتا ہے۔ البتہ ادھار پر معاملہ کرتے وقت قمت کا تعنہ ضروری ہے۔ ادھار مںی تفصلل کی جاسکتی ہے لکنا معاملہ (سودا) متعنت ہوگا کہ ادائیعا اس قمتح پر ہوگی۔ سوال: طے شدہ مدت مںد ادائیمت نہ ہونے کی صورت مںت بل مں؟ اضافہ کای جاسکتا ہے؟ جواب: اضافہ نہںت کاے جاسکتا۔ کو نکہ یہ سود ہے اور شرعاً جائز نہںت حرام ہے۔ سوال: مقررہ مدت سے پہلے ادائیکک کی صورت مںہ خریدار کی طرف سے کمی کا مطالبہ جائز ہے یا نہںر؟ جبکہ بعض لوگوں مں مقررہ مدت کے بعد بھی ادائیپہ مںت کٹوتی کرنے کی بلاوجہ عادت ہے جس کو بعض اوقات خوشی سے اور بعض اوقات جبراً قبول کاص جاتا ہے۔ جواب: خریدار کی طرف سے ثمن مںٹ کمی کا مطالبہ کرنا مناسب نہں اور بائع (یینب بچنے والے) کی رضامندی کے بغرر قمتی مںا کٹوتی کرنا خریدار کے لےں جائز نہںں۔ البتہ اگر بائع اپنی مرضی و خوشی سے مقررہ قمتو مںے کٹوتی کردے تو یہ جائز ہے۔ سوال: مقررہ مدت سے پہلے ادائیک کے لےا بچنے والا کمی کی ترغبش دے سکتا ہے؟ اور وہ اس کے لےل جائز ہوگی جبکہ وہ اپنی خوشی سے اپنی رقم مںس کمی کررہا ہے اگر ناجائز ہے تو مطلقاً ناجائز ہے یا ایسا کرنے کی کوئی صورت ہے کوننکہ ایسا کرنا کاروباری ضرورت بھی بنتا چلا جارہا ہے۔ کوئنکہ محدود سرمایہ مختلف چزاوں اور ادھاری مںغ پھنس جاتا ہے اور اپنی کاروباری اور نجی ضروریات کے لے رقم درکار ہوتی ہے۔ بعض اوقات اپنی ادائو سرں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لےھ بھی ایسا کرنا پڑتا ہے۔ جواب: یہ مذکورہ طریقہ جائز ہے۔ سوال: بعض اوقات اپنی رقم کو ڈوبتے ہوئے دیکھ کر بھی اپنی رقم مںھ کمی کی ترغب دییر پڑتی ہے کہ پوری رقم کے ڈوبنے سے بہتر ہے کچھ کا نقصان کرلاا جائے۔ ایسا بعض اوقات پارٹی کی بدنی ھ کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات پارٹی کی حالت ہی اییا ہوجاتی ہے کہ اس کے ساتھ تعاون کرنے کے لےک کچھ رقم اسے چھوڑ دی جاتی ہے۔ جواب: یہ طریقہ بھی جائز ہے۔ سوال: بعض اوقات پارٹی حالات کی بنا د پر رقم ادا نہںق کرپاتی اور مجبور ہوکر اپنی ذاتی کوئی چزئ گاڑی یا نجی سامان وغر ہ دے دییض ہے کہ اس کے عوض یہ لے لو یا بچد کراپنی رقم پوری کرلو۔ باقی بچ جائے تو بقہہ رقم مجھے دے دینا کم پڑجائے تو مجھ سے لے لناڑ۔ اییم صورت مںس اس طرح چزے لنای جائز ہے؟ اور اس چزت کے فروخت مںو بعض اوقات کچھ وقت لگ جاتا ہے۔ ایسے مںئ اسے ذاتی استعمال مںر لایا جاسکتا ہے؟ جواب: اس طرح چزس لناہ جائز ہے اور مالک کی اجازت سے اس چزخ کو اپنے استعمال مںک لانا درست ہے۔ مالک کی اجازت کے بغرا استعمال کرنا درست نہںح۔ سوال: یہ تمام صورتںس اشائء کی فروخت کے سلسلے مںز دریافت کی گئی ہںا آیا نقد رقم ادھار دینے کی صورت مںا بھی جلدی یا دیر کی صورت مںہ اصل رقم مںل کمی بییر کی جاسکتی ہے؟ یا ڈوبنے کی صورت مںک ایسا کام جاسکتا ہے یا نقد رقم کے بدلے مںے کوئی اور چز حاصل کی جاسکتی ہے؟ یا اشازء اور نقد رقوم کا ایک ہی حکم ہے؟ جواب: اشاہء فروخت کرنے کی صورت مں تو قمتو مںب کمی کی جاسکتی ہے البتہ قمت کی ادائیرن مںی تاخرک ہونے کی وجہ سے قمت مںی اضافہ نہں کا جاسکتا اور نقد رقم ادھار دینے کی صورت مںت اگر ادائیے؟ مںن تاخرہ ہوجائے یا جلد ادا کردی جائے تو اس مںی نہ اضافہ کاا جاسکتا ہے اور نہ کمی درست ہے البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ قرض کی رقم جتنی وصول ہوجائے وہ تو ٹھکں ہے اور جو وصول نہ ہو وہ قرض خواہ کے ذمہ باقی رہے گا۔ ہاں اگراصل مالک اپنی مرضی و خوشی سے باقی رقم معاف کردے تو یہ صححا ہے۔ اور نقد رقم ادھار دے کر اس کے بدلے مںا کسی چز کو حاصل کرنا درست ہے۔ سوال: کچھ عرصہ قبل بندہ اور زید کا آپس مںص نکاح ہوا اور ان کے چار بچے ہوئے تنم بارد ں اور ایک بٹا سب سے چھوتے بچے کی عمر اس وقت تقریباً بارہ تراہ سال کی ہوگی۔ نکاح کے تھورے عرصے بعد ہی آپس مںے اختلافات ہوئے جو آہستہ آہستہ شدت اختا ر کرگئے۔ روزمرہ مار کٹائی سے تنگ آکر ہندہ بچوں سمت ماں کے گھر منتقل ہوگئی۔ والدین نے علحدہ مکان دے دیا جس مں آج تک بچوں سمتو رہائش پذیر ہے اس عرصہ مںس شوہر کی طرف سے کوئی مالی معاونت نہں رہی۔ ملازمت کرکے ماں بچوں کو پالتی رہی ہے اور آج تک ییک صورتحال ہے اب کچھ لوگ مصالحت کرانا چاہتے ہںس لکنگ ہندہ اس کے لےی تا ر نہںت ہے، جس پر شوہر طلاق دینے پر رضامند ہوگار ہے اس صورتحال مںن دریافت طلب مسائل یہ ہںد کہ (۱)طلاق کی صورت مںط آیا عدت کے زمانے کے اخراجات شوہر سے طلب کےہ جاسکتے ہں یا نہںگ؟(۲)اگر طلب کے جاسکتے ہوں تو اس کی نوعت کار ہوگی؟ (۳)اتنے عرصے بچوں پر جو اخراجات ہوئے اس کا مطالبہ کا جاسکتا ہے یا نہںم؟ (۴) عدت کے زمانے مںک ملازمت کے لےن جایا جاسکتا ہے یا نہںز؟ کوونکہ ملازمت کے علاوہ اور کوئی ذریعہ بھی نہں ہے یناً اس مہنگائی کے دور مںز انتہائی تنگی ہوگی۔ جواب(۱): مذکورہ مںو اگر قصور مرد کا ہے جس بناء پر عورت علحدمہ ہو کر بیھگر ہے تو مرد کے ذمے عدت کا خرچہ لازم ہوگا ورنہ نہںب۔(۲) عورت اور مرد کے حال کو دیکھ کر مناسب خرچہ کا حساب لگایا جائے گا۔ (۳) اگر عورت نے آج تک خرچہ کا مطالبہ نہںب کاا تو گزشتہ کا مطالبہ نہںج کاس جاسکتا اور آئندہ کے لےئ بچوں کے خرچے کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ (۴) اگرکوئی ذریعہ معاش نہں اور مجبوری ہے تو جاسکتی ہے۔ سوال: بر ون ممالک ملازمت دلانے کے لے کچھ لوگ کام کرتے ہںا۔ ان لوگوں کے پاس ان ممالک کے ویزے ہوتے ہںر جو یہ لوگ پاکستان مںا برتون ممالک ملازمت کے شوقنے او رضرورت مند لوگوں مں فروخت کرتے ہںن یا ان سے معقول رقم لتے ہںی آیا یہ کاروبار جائز ہے یا نہں ؟ بعض لوگ صرف غراقانونی طور پر کسی بھی ملک مںے داخل کرا دینے کی معقول رقم لتےا ہںر اس طرح کرنا جائز ہے یا نہں ؟ ان کاموں کے لےب وہ دوسرے لوگوں سے مدد لتےر ہں کہ آپ اتنے آدمی لے آئںے آپ کو فی آدمی اتنا کمشنک ملے گا آیا اس کام مںن کمشنے کے طور پر شامل ہونا جائز ہے؟ جواب: (۱)صورت مذکورہ مںئ ویزے بھجنےچ والی دراصل کوئی کمپنی وغرتہ ہوتی ہے او روہ اہلتر کی بنااد پر لوگوں کو بلاتی ہے اب درماکن والے پاکستانی لوگ جو لوگوں سے پسے وصول کرتے ہںو وہ ناجائز طور پر وصول کرتے ہںر لہٰذا یہ طریقہ ناجائز ہے۔(۲) یہ کاروبار رشوت، جھوٹ اورغلط با نی کے سوا ناممکن ہے لہٰذا یہ کاروبار کرنا یا شریک ہونا جائز نہںہ ہے۔ سوال: کا فرماتے ہںہ علمائے دین اور مفتا ن شرع متنن بچک اس مسئلہ کے کہ زید کے بچے ایک ادارے مںے زیرتعلمد ہںو جس کے عوض ادارے کو ماہانہ فسغ ادا کی جاتی ہے اس ادارے نے ایک تاریخ مقرر کی ہے اس تاریح تک فسہ جمع کروا دی جائے اس کے بعد مالی جرمانہ ہوگا۔ اس مالی جرمانے کی شرعی حترو کاا ہے؟ جبکہ تجارت مںس ہم یہ اصول دیکھتے ہںس کہ اگر مقررہ مدت مںہ رقم کی ادائیدا نہ ہوسکے تو اس مںی کسی بھی نام سے اضافہ ناجائز اور سود ہوگا اسی طرح اگر سودا ہونے کے بعد بعاہنہ کی رقم ادا ہوجائے پھر کسی وجہ سے خریدار سودا فسخ کرتا ہے تو اس کی بعاانے کی رقم ختم ہوجائے گی اگر فروخت کنندہ سودے سے پھر جاتا ہے تو وہ بعاقنہ کی رقم ڈبل (دوگنی)کرکے واپس دے گا علماء ان دونوں صورتوں کو ناجائز کہتے ہںا خریدار کو اس کی اصل رقم (بعا نہ کی) لوٹائی جائے گی اس کے علاوہ کوئی مالی جرمانہ نہںت ہوگا۔ اس روشنی مںد ادارے کی اس مالی جرمانے کی شرعی نوعتی کاھ بنتی ہے شرعی نوعتج کاف بنتی ہے؟ جواب: شریعت مںل مالی تعزیر (جرمانہ) نہںا ہے۔ مالی جرمانہ ناجائز ہے۔(کفایۃ المفتی جلد۲صفحہ۱۴۴) نصوص قرآنہی، احادیث صریحہ و صحیحہ اور اصول شرعہہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ اسریائمہ اربعہ رحمہم اﷲ کا اجماع ہے۔ چند نصوص کا ذکر کا جاتا ہے۔ (۱) ولاتاکلوا اموالکم بینکم باالباطل۔ (۲) فمن اعتدیٰ علکمن فاعتدوا علہو بمثل مااعتدیٰ علکما۔ (۳) یاایھاالذین آمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم باالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم۔ (۴) وان عاقبتم فما قبوا بمثل ماعوقبتم۔ (۵) ولایحل لامریء من مال اخیہ الاماطابت بہ نفسہ (رواہ احمد) (۶) عن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علہی وسلم۔ من اقتطع مال امریء مسلمٍ بغر حق لقی اﷲ عوجل وعلہن غضبان۔(رواہ احمد) (۷) لا یحل مال امرئی مسلم الا بطبق نفسہ۔(مشکوٰۃ صفحہ۲۵۵) قال العلامہ ابن عابدینؒ لاباخذ مال فی المذھب۔ سوال: مختلف بمالریوں او رآپریشن کے وقت انسان کو خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسے دوسرے انسانوں سے حاصل کای جاتا ہے اپنا خون دوسروں کو دینے کا شرعی جواز کاا ہے؟ اگر اس طرح خون دینا جائز ہے تو صرف ضرورت کے مواقع پر ہی ایسا کاے جاسکتا ہے یا بلاضرورت بھی اپنا خون ایسے اداروں کو فراہم کاو جاسکتا ہے جو ضرورت کے مواقع کے لےا جمع (ذخررہ) رکھتے ہں بعض لوگ اس کا کاروبار بھی کرتے ہںن یینو اس کا معاوضہ بھی لتےو ہں آیا ایسا کرنا (اپنا خون فروخت کرنا) جائز ہے؟ خون کے دینے مںئ مرد و عورت کی بھی کوئی تخصصا نہںع ہوتی کام مرد کا خون عورت کو عورت کا خون مرد کو بلا کراہت دیا جاسکتا ہے؟ اگر ایسا کرنا جائز ہو تو شرعی محارم (رشتہ داریوں) کی کوئی قدت ہے یا بلاکراہت سب کے لےو جواز ہے؟ اس ضمن مںو ایک سوال یہ بھی ہے کہ شرعی طور پر اپنے اعضاء ضرورت کے مواقع پر کسی کو دینا یا مرتے وقت ضرورتمند کے لےا وصت کرنا کسا ہے؟ خون کے سلسلے مں ایک وصاحت یہ بھی ہے کہ مذہب مسلک کی احتایط شرط ہے یا بلاکراہت یہ عمل جائز ہے؟ روزے کی حالت مں خون کا دینا ٹسٹ کروانے کے لےی یاسی اور مقصد کے لے کسای ہے؟ جواب: صورت مذکورہ مںر بوقت ضرورت خون کو استعمال کا جاسکتا ہے جو دوسرے انسانوں سے حاصل کار جاتا ہے۔ بلاضرورت نہںب دیا جاسکتا۔ کاروبار کرنا شرعاً ممنوع ہے اور معاوضہ نہںت لاو جاسکتا۔ خون فروخت کرنا جائز نہں۔۔ مرد اور عورت کی کوئی تخصصک نہںب۔ مرد کا عورت کو یا عورت کا مرد کو جائز ہے۔ محارم وغرہہ کی کوئی قدو نہں۔۔ اعضاء کا دینا بھی بوقت ضرورت شدیدہ جائز ہے۔ وصتک کی اجازت نہںا۔ مذہب کی بھی قد نہںن۔ روزے کی حالت مںا بھی ٹسٹ وغرصہ کے لےٹ خون نکالنا جائز ہے۔ سوال: ایک صاحبہ کا انتقال ہوگاں، ورثہ مںغ چار لڑکا ں۔ ایک بہو تنل پوتے ہں بٹے اور شوہر کا پہلے ہی مرحومہ کی زندگی مںر انتقال ہوگاو۔ جواب: صورت مذکورہ مںک قرضہ، وصتک، دفن کفن کے بعد ملکتک کو اس طرح تقسما کا جائے گا کل ملکت کے اٹھارہ(18) حصے ہوں گے ہر بیصو کو تنا تنم حصے اور ہر پوتے کو دو دو حصے دیے جائںی گے، بہو کو کچھ نہںا ملے گا۔ سوال: مرحومہ نے کئی مرتبہ اپنے لےک حج بدل کرانے کا تذکرہ کاو تھا اور اپنی بڑی بی ک سے کہا تھا کہ تم مراا حج بدل کرلناہ۔ مرٹے پسولں سے ان کی دوسری بومذ ں کو اس کا علم ہے کاک حج بدل کی رقم الگ نکال کر امانت تقیم کی جائے گی یا ان کے مرنے کے بعد جو پسہل بچا ہوا ہے وہ تمام ورثاء کا حق ہے او راب حج بدل کی رقم نہں نکالی جاسکتی ہے؟ جواب: صورت مذکورہ مںک جب تک وصتث کی وضاحت نہں ہو تب تک وصتن نہںک ہوگی۔ وصتذ کا لفظ استعمال کاج ہوکہ مںک وصتب کرتی ہوں یا مراے مرنے کے بعد مرکا حج بدل کرلنای۔ سوال: زید اس سال حج کے لےت اپنی اہلہب کے ساتھ گا ۔ منٰی کی آتشزدگی مں دونوں بچھڑ گئے اہلہم نے عرفات وغرےہ ارکان ادا کرلےی لکنی زید آگ مںق جھلس کر ہسپتال مںق داخل ہوا او رآج تک ہسپتال مںک زیرعلاج ہے نہ عرفات جاسکا اور نہ ہی دیگر ارکان کی ادائیوں ہوسکی آتشزدگی کے وقت احرام کی حالت مں تھا۔ اس ناگہانی آفت کی وجہ سے آیا وہ احرام سے فارغ ہوا یا نہںع اس کا حج عنداﷲ ہوگا یا نہںص؟ جواب: صورت مذکورہ مںک اﷲ کے فضل سے آپ کو حج کا ثواب مل گا ۔ البتہ آپ نے حج اپنے اوپر لازم کرلای اور احرام باندھ لا تو اس کی قضا ضروری ہے۔ زندگی مں ہوجائے تو …نہںت تو وصتپ کرکے جائے۔ اگر پھر بھی نہں ہوا تو ان شاء اﷲ قا مت مںک مواخذہ نہںک ہوگا اﷲ تعالیٰ اپنی مہربانی فرمائںہ گے۔ ایک دم بھی حرم پاک کی طرف بھجناو ہوگا (کرنا ہوگا)۔ سوال: ایک صاحب کی دوسرے صاحب کو ڈالر کی صورت مںم قرض دیتے ہںک آپس مںر یہ طے ہے کہ اس وقت اکتالسو روپے سے مںو نے ڈالر خریدے ہںس مں ایک سال کے بعد چھا لس روپے سے یہ ڈالر واپس لوں گا آیا اس مںو کوئی شرعی قباحت ہے یا نہںم؟ جواب: صورت مذکورہ مںک یہ ایک طریقہ سود کا ہے جو ناجائز ہے جتنے دالر اب دیتا ہے اس کے برابر بعد مں لےس جائںی گے قمتب کم ہو یا زیادہ ورنہ جائز نہںے۔ سوال: ایک صاحبہ کا انتقال ہوگاا ان کے ورباء مںہ دو صاحبزادیاں اور ان کی اولادیں ہں زندگی مں وہ صاحبہ اس بات کا اظہار کرتی تھںل جس کے لے کوئی ایک گواہ ہںب صاحبزادیوں سمت کے مرےے مرنے کے بعد مردی تمام جائداد مر ے فلاں نواسے کی ہے جس مںو او رکوئی شریک نہںک ہے۔ ان کے انتقال کے بعد ساری جائداد مںن صرف نواسے کا حق ہے یا اس مںک مرحومہ کی دونوں صاحبزادیاں بھی شریک ہںن۔ اگر ہںا تواس کی تقسمی کس طرح ہوگی؟ جواب: صورت مذکورہ مںی اس مںو بونہ ں کا بھی حق ہے دو حصہ ملکتا مں سے دفن کفن قرضہ کے بعد ان کے ہںگ اور ایک حصہ بقایا نواسے کا حق ہے۔ سوال: زید کے پاس بنک مںس سود کی رقم رکھی ہوئی ہے (جمع ہوئی ہے) علماء اس کا مسئلہ یہ با ن کرتے ہںا کہ بنک سے نکلوا کر کسی مستحق کو بغر ثواب کی نتن کے دیدے۔ اس مسئلہ مںے معلوم یہ کرنا ہے کہ زید کو اپنے جائز کاموں کے لےا رشوت دیی پڑتی ہے کاا زید اس سود کی رقم کو رشوت کے لےن استعمال کرسکتا ہے؟ جواب: صورت مذکورہ مںا مجبوری کی حالت مںق اپنے حق کے لے؟ اور ظلم کے دفعہہ کے لےک رشوت دینا جائز ہے اور اس کے لےی ایسے پسےو استعمال کےی جاسکتے ہںو۔ سوال: زید عمرو کے ساتھ مضاربت کی صورت مںہ کاروبار کررہا ہے (کاروبار مںل ایک فریق کا سرمایہ اور دوسرے فریق کی صرف محنت ہو اسے مضاربت کہتے ہں ) نفع مںت پچاس فصدں کی شرح طے ہے۔ زید نے اب تک کے کاروبار مںن اپنے حصے کا ہونے والا نفع کاروبار سے نکال لا ہے۔ آیا منافع کی یہ رقم نکال لنا زید کے لےک جائز تھا یاس مںا شرعاً کوئی قباحت ہے؟ اگر کاروبار ختم کاا جاتا ہے تو نقصان مںل زید شریک ہوگا؟ جواب: صورت مذکورہ مںو زید کے لےو اپنے حساب سے جو نفع ہے وہ لے سکتا ہے البتہ بعد مںع جو نقصان ہوا چونکہ مضاربت مںا نقصان نفع سے پورا کا جاتا ہے اس لےں زید کو وہ لی ہوئی رقم لوٹانی ہوگی اس لےچ کہ وہ شریک صرف نفع والے حصے کا ہے۔ اس کے باوجود اگر نقصان زیادہ اور کاروبار ختم کاگ جارہا ہے تو وہ اصل سرمائے مںی سے ہوگا جوکہ عمرو کا ہے اس مںس زید کا کوئی حصہ نہںے اور نہ ہی وہ اس کا ذمہ دارہے۔ سوال: آیندہ کاروبار جاری رکھنے کے لےد عمرو کی شرط یہ ہے کہ (۱)زید ہونے والا نفع کاروبار مں سے ذاتی اخراجات کی حد تک نکالے بقہ منافع کی رقم کاروار ہی مںے رہنے دے اور(۲)اور نفع نقصان دونوں مںک شریک ہو۔ جواب: یہ دونوں شرط شرعاً نہں کرسکتا۔ البتہ زید کا منافع اگر کاروبار مں رہ جاتا ہے تو اس کا مضائقہ نہںر لکنا شرطہی یہ بات نہںب ہوسکتی۔ سوال: عمرو کاروبار مںو محنت مںہ بھی شریک ہورہا ہے جو کہ اس سے پہلے نہںہ تھا آیا اس طرح کرنے مںف زید کے لےہ کوئی شرعی قباحت تو نہںں ہے؟ جواب: اس صورت مںا مضاربت نہںن ہوگی مضاربت کے لے شرط ہے کہ عمرو اس مں نہ شریک ہوسکتا ہے اور نہ ہی کاروباری امور نمٹا سکتا ہے۔ سوال: اگر شرعاًحت ہو تو اس سلسلے مںت جائز رہنمائی کا ہے؟ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ زید نفع کی شرح مںو اپنے حصے مں کمی کرلے۔ عمرو کا کاروبار مںل وقت دینا۔ کاروباری امور کو نمٹانا مضاربت کی صورت مںج تبدییس تو پدںا نہں کررہی۔ اگر زید کا نفع کاروبار مںس لگا رہتا ہے تو یہ آگے چل کر زید کا اس کاروبار مںن سرمایہ ہوجائے گا جو کے فی الوقت نہںو ہے اور یہ آگے چل کر واضح طور پر شراکت کی صورت ہوجائے گی جس مںق نفع نقصان دونوں کا ذمہ دار زید بنے گا۔ لکنا اس وقت زید کا کوئی سرمایہ جاری کاروبار مںک کسی بھی حتت مںد نں ز ہے اس لےل فی الوقت نفع نقصان مں شراکت کیحت ہے؟ موجودہ صورت مںر شرعی جائز صورتحال کی رہنمائی شریعت مںے کاد ہے؟ جواب: پہلے نفع کا حساب کریں گے اور عقد مضاربت کو ختم کرکے نئے حساب سے شریک ہوجائں اور پھر مل کر دونوں کام کرسکتے ہںا اور پورے نفع نقصان مںئ اپنے حصے کے مطابق شریک ہوں گے۔ صرف مضاربت مںا نفع کے اندازے کے نقصان مںو دونوں شریک ہوں گے باقی اصل مال کا نقصان عمرو پر ہے۔ البتہ زید کو عمرو قرضہ دے اور زید یہ رقم کاروبار مںی لگائے اس طرح زید کو شراکت کے ساتھ شریک بناکر دونوں نفع نقصان مںق شریک ہوسکتے ہںض۔ واﷲ اعلم سوال: جس شخص کے پاس اس کے زیراستعمال چار جوڑوں سے زائد کپڑے ہوں او رگھر مںے غروضروری استعمال کی چزسیں بھی ہوں جس مں ٹی ک وژن، وی سی آر وغرکہ بھی شامل ہں اس کے زیراستعمال سواری کے لےگ ایک سے زائد گاڑیاں بھی ہوں (جبکہ ضرورت ایک گاڑی سے بھی پوری ہوسکتی ہو) اس کے علاوہ کچھ … انداز کی ہوئی رقم بھی ہو اور ان کی مجموعی مالتا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالت کے برابر ہو یا اس سے زائد ہوجائے تو ایسا شخص زکوٰۃ کا مستحق نہںق ہوتا لکنب کا اس پر اپنا اور زیرکفالت افراد کا صدقہ الفطر واجب ہوگا یا نہںو؟ دیگر اس پر اس حالت مں قربانی واجب ہوگی یا نہںر؟ جواب: صورت مذکورہ مںا اس پر صدقۃ الفطر اور قربانی دونوں واجب ہںں۔ سوال: کپڑے، تاورشدہ ملبوسات اور دیگر تجارتوں مںا ڈیزائن اور کوالٹی فی زماننا بری اہمتی کی حامل ہے بعض اوقات کوئی ڈیزائن بازار مں: پسند نہںا کی جاتی اور فلں ہوجاتی ہے بعض اوقات کوئی ڈیزائن ایک سال چلتی ہے اور اگلے سال نئی ڈیزائن آجاتی ہے اس صورتحال مں ایک بہت بڑی تعداد مںا تانر شدہ مال دوکاندار یا کارخانے دار کے پاس بچ جاتا ہے اور اس کی رقم پھنس جاتی ہے۔ بعض اوقات بویپاری کو اس مں نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور بعض اوقات نقصان کے باوجود وہ مال فروخت نہںر ہوتا۔ ان تمام صورتوں مںض کاڑ وہ اشا ء زکوٰۃ کی مد مںا فقراء اور مستحقین کو دیجاسکتی ہںا یا نہںا؟ اگر دی جاسکتی ہے تو اس کی مالتن کے لےی کون سی قمتے لگائی جائے گی قمتا خرید یا جتنے مںن اس کو وہ چز پڑی ہے یا قمتس فروخت یا نقصان والی قمتک لگائی جائے گی؟ جواب: صورت مذکورہ مںہ ان اشاتء کو زکوٰۃ کی مد مںق دیا جاسکتا ہے۔ موجودہ وقت مںت جو اس کی فی نفسہ بازار مںق قمتن ہوسکتی ہے اور جو قمتب کرنے والے کہں کہ اس وقت اس کی یہ قمتن ہونی چاہےج اس کا اعتبار ہوگا۔ سوال: سونے چاندی کے زیورات اور مال تجارت کا حساب لگاتے وقت کون سی قمتو لگائی جائے سونے کے زیورات مںک دیگر دھات کی ملاوٹ بھی ہوتی ہے اس لےم حساب لگاتے وقت خالص سونے کی قمت لگائی جائے گی یا ملاوٹ والے کی اور اس کا طریقہ کاا ہوگا؟ اگر زیورات مںا ہرلے لگے ہوئے ہوں تو اس کا کای حکم ہے؟ جواب: سونے کے کاروبار کرنے والوں کو دکھا کر پوچھ لا جائے اس حال مںئ زیور کی قمت کائ ہے۔ ہر ے پر کوئی زکوٰۃ نہںو صرف سونے کا اعتبار ہوگا۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
708