(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
ماہِ ذی الحجہ کے خصوصی اعمال بشمول قربانی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ماہِ ذی الحجہ کے خصوصی اعمال بشمول قربانی امت مسلمہ کی ایک خوش آئند روایت: شریعت اسلامہص مںن سال کے بارہ مہنو ں مںا ماہ رمضان المبارک کو خصوصی امتیاز مرحمت فرمایا گاح ہے جس کی وجہ سے امت مسلمہ اسے خصوصی اہمتا کا حامل قرار دیتے ہوئے اپنے اعمال صالحات سے مزین رکھنے کا پورے مہنےھ اہتمام رکھتی ہے۔ کچھ اسی طرح کا اہتمام انفرادی اعتبار سے ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں مں بھی دناابھر مںو جابجا دکھائی دیتا ہے (یہ اہتمام ہرہر زمانے مں صالحنا نے اجتماعتا کا رنگ دیے بغرج اپنا رکھا تھا خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے مںی یہ اہتمام اسلاف کے طرز پر قائم ہے، نادیدہ قوتوں کی دست برد، تصرف، بے جا، حشو وزائد، قطع و برید اور کمی بی ک سے محفوظ ہے، تشہرہ، شہرت، ریا او رنام و نمود کی کثافتوں سے آزاد ہے۔) ذی الحجہ کا ایک خصوصی امتیاز: یوں تو ہر دن (جو چوبسا گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے) مںر ایک رات ہوتی ہے اور ایک دن ہوتا ہے نزر اسلامی اصولوں کے مطابق رات دن سے پہلے آتی ہے جس کا آغاز سورج کے غروب ہوتے ہی ہوجاتا ہے یہ اصول سال بھر کے بارہ مہنواں کے تمام دنوں کے لےت یکساں طور پر متعنو ہے سوائے ذی الحجہ کی نو اور دس تاریخ مںں آنے والے دونوں دنوں کے۔ شریعت نے نو ذی الحجہ کے دن کو یوم عرفہ کا نام دیا ہے اور واضح طور پر فقہائے کرام نے یہ مسئلہ سمجھایا ہے کہ اگر کوئی حج کرنے والا کسی بھی عذر سے عرفہ کے دن مدنان عرفات مںن حاضری نہ دے سکا ہو وہ عرفہ کے دن کا سورج غروب ہونے کے بعد آنے والی رات (جوکہ اصول کے مطابق دس ذی الحجہ کو جس کو شریعت نے یوم النحر کا نام بھی دیا ہے) مں صبح صادق سے پہلے کسی وقت بھی مد ان عرفات مںع پہنچ جائے تو اس کا وقوف قابل قبول اور اسے حاجی ہونے کی سند مل جاتی ہے۔ اس فقہی مسئلے کی روشنی مںد علماء یہ کہتے ہں کہ عرفہ کے دن مںے دو راتںو ہوتی ہں پہلی دن سے پہلے اور دوسری دن کے بعد اور یوم النحر سے نسبت پانے والی کوئی رات نہںے ہوتی گویا کہ دنا مںح پائے جانے والے دنوں مںد یہ دو دن منفرد، اچھوتی علحدرہ علحداہ شان رکھتے ہں ۔ ماہ ذی الحجہ کا ایک مخصوص عمل: نو ذی الحجہ سے تروہ ذی الحجہ مںم آنے والے د نوں کو شریعت کے دیے ہوئے نام کے مطابق ایام تشریق کہا جاتا ہے اور ان دنوں مں انفرادی اور جماعت سے پڑھی جانے والی نمازوں کے فرض پڑھ چکنے کے فوراً بعد پڑھی جانے والی تکبرےات کو تکبرےات تشریق کا نام دیا گا ہے۔ یہ تربل ات نو ذی الحجہ کی فجر کی نماز کے فرض پڑھ چکنے کے فوراً بعد سے لے کر تررہویں ذی الحجہ کی عصر کے فرض پڑھ چکنے کے بعد تک ہر نماز مںم پڑھی جاتی ہں ۔ ان تکبر ات کا پڑھنا اختاوری نہںے تشریعی ہے اور ہر مرد و عورت پر ان پانچ دنوں کی کل تیئیس نمازوں مںے ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے۔ مرد متوسط بلند آواز سے اور عورت آہستہ پڑھںر۔ چونکہ سال بھر مںر صرف ایک مرتبہ ان پانچ دنوں مںز یہ تکبریات پڑھی جاتی ہںس اس لے عموماً پڑھنا یاد نہںت رہتا لکن باجماعت نماز پڑھنے پر دوسرے بھی پڑھنے لگتے ہںن۔ عورتوں کے لے۔ یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ان پانچ دنوں مںم گھر مںل نماز پڑھنے کی جگہ پر سامنے کی طرف لکھ کر لٹکا لان جائے۔ ان مواقع پر بہت سارے نمازیوں کو دیکھا گا ہے کہ وہ خاموش رہتے ہںی یا آہستہ پڑھتے ہں حالانکہ فقہائے کرام کی وضاحت کے مطابق مرد حضرات کے لےا بلند آواز سے پڑھنا ضروری ہے لہٰذا ان مواقع پر آہستہ پڑھنا غفلت بھرا گناہ ہے اور دانستہ چھوڑ دینا سرکشی سے لبریز گناہ ہے اور بھول جانا بھی نافرمانی کے زمرے مں شمار ہوسکتا ہے۔ یہ تینوں طریقے توبہ اور اصلاح کو لازم کرتے ہںے۔ تکبر تشریق کے الفاظ انتہائی آسان، نہایت سادہ، بے حد پرکشش، عمدہ درجہ کی مٹھاس، شر ییا اور حلاوت سے لبریز، نفسا کلاس کی لذت سے بھرپور، معنوی اعتبار سے دلآویز، خوشی کے اعتبار سے فرحت بخش، سکون کے حوالے سے مسرت آمزس، دل بستگی کی نظر سے مکمل طور پر مرغوب، دل جمعی کے لےا دلربا عطہ ، تعلق مع اﷲ کے لےر بہترین وظفہ ، درجات کی ترقی کے لےا روح پرور، ٹوٹے دلوں کی راحت کے لےت شرطہی کاماہب نسخہ، مہرالٰہی کے نزول کی اعلیٰ تدبری، قہرالہٰی سے بچاؤ کی کارآمد حکمت ہے۔ ان گوناگوں مفدی اور بے ضرر خوبولں کے تناظر مںہ کون صاحب ایمان ہوگا جو ان الفاظ کو ذہن نشین کرنے اور بروقت اس کی روح کے مطابق پڑھنے مںغ کوتاہی برتے گا۔ ائمہ مساجد تو وقت آنے پر مقتدیوں کو اس طرف توجہ دلاتے ہی ہںن۔ مقتدیوں کو بھی چاہے کہ وہ آپس مںق اس کا مذاکرہ کریں۔ جن کو یاد ہو وہ دوسروں کو یاد کرائںہ، جن کو یاد نہ ہو وہ بلاہچکچاہٹ جن کو یاد ہو ان سے یاد کرلںا۔ تکبروتشریق کے الفاظ اور ان کی ترتبک: اﷲ اکبر، اﷲ اکبر، لاالٰہ الااﷲ، واﷲ اکبر، اﷲ اکبر، وللّٰہ الحمد۔ (مصنف ابن ابی شبہو جلد2صفحہ73) یہ تنب اعلیٰ ترین بزرگوار شخصا ت کی (ایک خاص موقع پر) زبانوں سے نکلے ہوئے کلمات کا مجموعہ ہے پہلی شخصتی حضرت جبرئلص امنت علہہ السلام ہے جو فرشتوں کی جماعت کے سردار ہںّ۔ دوسری شخصت حضرت ابراہمہ علہ السلام اور تسرری شخصتل حضرت اسماعلن علہی السلام ہںن، تینوں شخصا ت اﷲ تعالیٰ کی مقرب جللو القدر معصوم، محفوظ، مرحوم و مغفور شخصاجت ہںص دوسری اور تسرمی شخصانت تو ہمارے نبی ﷺ کی جدامجد بھی ہں۔۔ خاص موقعہ وہ ہے جب حضرت ابراہم علہا السلام اﷲ تعالیٰ کے حکم سے اپنے بٹےن حضرت اسماعلا علہے السلام کے گلے پر پورے انہماک کے ساتھ خلوص للہتم کو مکمل طور پر بروئے کار لاتے ہوئے چھری چلاتے ہوئے ایک سخت و شدید امتحان مںل پورا اتر رہے تھے بلکہ اپنی طرف سے ظاہری طور پر اترچکے تھے کہ حضرت جبرئلچ امنا علہو السلام جنت سے ایک منڈمھا لے کر اس مقام پر نازل ہوئے اور باپ بٹےف کی توجہ حاصل کرنے کے بلند آواز سے تکبری پڑھی اﷲ اکبر، اﷲ اکبر اس تکبرا کو سنتے ہی موحد اعظم حضرت ابراہمم علہا السلام نے توحد بھرے سب سے اعلیٰ، ارفع، اشرف کلمات بلند آواز سے کہے لاالہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ تعالیٰ کی وحدانتع، معبودیت کے اقرار بھرے ان کلمات کی تکمل ہوتے ہی مطعا و فرمانبردار بٹےز حضرت اسماعلت علہس السلام کی مقدس زبان نے فضا مںر یہ کلمات بلند فرمائے اﷲ اکبر وللّٰہ الحمد۔ اﷲ تعالیٰ نے ان کلمات کے مجموعے کو امت محمدیہ علی صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کے نمازیوں پر ہر سال کے ذی الحجہ کے مہنےو کی نو تاریخ کی فجر سے لے کر ترمہویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز کے فرض پڑھ چکتے ہی پڑھنا واجب قرار دیا ہے واضح رہے کہ اس مںا قربانی کرنے اور نہ کرنے والے تمام نمازی شامل ہں ۔ او ران تکبرکات کا پڑھنا ان تاریخوں مںا ہی واجب ہے اور نہ پڑھ سکنے کی صورت مںے اس کی بعد مںک قضا بھی نہںت ہے البتہ نہ پڑھنے کا گناہ ہوگا جو توبہ سے ہی معاف ہوسکے گا۔ ان مقدس کلمات کا پڑھنا جہاں پڑھنے والوں کو اجوروانعامات دلاتاہے وہاں حضرت ابراہمڑ خللج اﷲ علہس السلام کے جذبۂ ایثار اور حب خدا اور حضرت اسماعلڑ ذبحں اﷲ علہض السلام کی بے نفسی و تسلم و رضا کی یاد دلاتے ہںد جن کو یاد کرکے مسلمان ہر سال اپنے گذشتہ سال کے جذبات کا محاسبہ اور آئندہ ایک سال کا قبلہ درست کرسکتا ہے۔ ماہ ذی الحجہ کے پہلے دس دن: 1 اﷲ تعالیٰ نے سورۃ الفجر کی دوسری ہی آیت مںی دس راتوں کی قسم کھائی ہے نبیﷺ کے ارشاد مبارک کے مطابق ان دس راتوں سے ذی الحجہ کے مہنےے کا پہلا عشرہ مراد ہے۔ 2 عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل مںے یہ روایت بھی احادیث کے ذخراے مںا محفوظ ہے کہ اس مہنے کے پہلے نو دنوں مںق رکھا جانے والا ہر روزہ ایک سال کے روزے رکھنے کے برابر اور ہر رات کی عبادت شب قدر مںک کی جانے والی عبادت کے برابر ہے (محدثن کرام کے باکن کردہ اصولوں کے مطابق فضائل کے باب مںع کمزور راویوں کی روایات بھی قابل قبول ہں ۔) 3 جس نے ذی الحجہ کی نو تاریخ کا روزہ رکھا اس کے مسلسل دو سالوں (ایک گزشتہ او رایک آئندہ) کے گناہ معاف کردیے جاتے ہںث۔ گزشتہ سال کے گناہ کرچکنے کے بعد اور آئندہ سال کے گناہ کرنے سے پہلے ہی معاف ہوچکے۔ (یہ گناہ کرنے کی اجازت نہںے محبوبتہ کی انتہا، بلندی، معراج، کوالٹی، کوائف اور کا زشت کا آخرت سے پہلے دناگ ہی مںت بے غبار، غر مبہم، ناقابل تردید، ترمم و تنسخہ اظہار ہے) اس دین، عطا، بخشش، دادودہش، عطہف، انعام کی کوئی انتہا ہے کہ ایک نفلی، مستحب یا مسنون روزے پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اییہ اپنائتل۔ اس سے اندازہ لگانا کاو مشکل ہے کہ خود روزے دار کے اندر للہت کا درجہ کس مقام و درجے کا ہوتا ہے۔ ماتنِ عاشق و معشوق رمزیست کہ کراماً کاتبنل راہم خبرنستے (شطاکن کا کام اپنے بُنے ہوئے جالوں مںت پھنسانا۔ پھنسانے کے بعد پھنسائے رکھنا۔ رحمن کا فضل بچنے مںک مدد کرنا۔ پھنسنے کے بعد بھی محفوظ رکھنا۔ آزاد ہونے کی کوشش کرنے والے کو آزاد ہونے مںن رہنمائی کرنا۔ انسان کی جیت پھنسنے سے پہلے، پھنستے ہوئے پھنسنے کے بعد رحمن کی رحمتِ آغوش مںک پہنچنے کے لےی بے بسی کے باوجود بے قراری سے پھڑپھڑاتے رہنا۔) ذی الحجہ کی مزید خصوصاکت: 1 ذوالحجہ کی نو تاریخ کا دن سال کا واحد دن ہے جسے شریعت نے یوم العرفہ قرار دیا اور صرف اسی تاریخ مںے حج کا اہم ترین رکن وقوف عرفہ عرفات کے مدنان مںم ادا کاا جاسکتا ہے نہ اس تاریخ سے پہلے کسی بھی تاریخ مں نہ اس تاریخ کے بعد کی کسی تاریخ مںن وقوف عرفہ کرکے کسی مسلمان کو عنداﷲ وعندالناس حج کا فریضہ ادا کرنے والا تسلمع کا جاسکتا ہے۔ نہ ہی اس دن کے علاوہ سال بھر کے کسی بھی دن کو عرفے کا دن کہا جاسکتا ہے۔ 2 ذی الحجہ کی دس، گا رہ، بارہ، تر ہ تاریخ کے چار مسلسل دن ہںع جن مںڑ کسی مسلمان (مردوعورت) کو کسی بھی قسم (نفلی، نذری، قضائی) کا روزہ رکھنے کی اجازت ہی نہںچ ہے۔ بلکہ ان دنوں مںھ روزہ رکھنا عبادت نہںا جرم ہے (اس حکم مںھ یکم شوال عدیالفطر کا دن بھی شامل ہے۔) 3 ذی الحجہ کے مہنےے کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ مسلمانوں کے صاحب وسعت طبقے کی طرف سے قربانی کے نام سے کان جانے والا مخصوص عمل اسی مہنےی کی مخصوص تاریخوں مںم ہی ادا ہوسکتا ہے۔ سال بھر کے کسی مہنےے کی کسی تاریخ کو یہ مقام حاصل نہںے کہ اس تاریخ کے ذبحےن کو قربانی کا نام دلوایا جاسکے نہ عنداﷲ نہ عندالناس۔ 4 ذی الحجہ کے مہنےے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ارکان اسلام مںح سے ایک بنا۔دی اور اہم ترین بکی وقت بدنی اور مالی عبادت کا مجموعہ ’’حج‘‘ اسی مہنے مںو ادا ہوتا ہے وہ بھی ایک ہی وقت مںس دنا بھر سے مختلف علاقوں، زبانوں، رنگوں، نسلوں، عمروں، سوچوں اور حتو’’کں کے مسلمان مرد اور عورتں بغرا باہمی شناسائی کے مکمل اتحاد و اتفاق کے سائے تلے ہر سال لاکھوں کی تعداد مںو صرف اور صرف حج کا فریضہ ادا کرنے کے لےت جمع ہوتے ہں ۔ جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایسے اور اتنے آدمی کسی جھوٹ پر متفق نہںص ہوسکتے۔ ذی الحج کے مہنےم مںی اداکی جانے والی قربانی کا پس منظر: شریعت کی طرف سے واجب کردہ ذی الحجہ کی دس، گاعرہ اور بارہ تاریخوں مںہ مخصوص جانوروں کے ذبح کے ساتھ ادا ہونے والی قربانی کا ایک دل کش، دل پذیر، دل پسند، دل شاد، دل فریب، دل کُشا، دل نشیں، دل نواز پس منظر ہے۔ شریعت کی نظر سے تفصلذ اس اجمال کی یہ ہے کہ انبیائے کرام علہم، الصلوٰۃ والسلام کی جماعت مںی ایک جللع القدر نبی حضرت ابراہمم علہے السلام کے نام سے گزرے ہںا جو ہمارے نبی ﷺ کے جدامجد ہونے کی وجہ سے امت محمدیہ علی صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کے (روحانی) والد محترم بھی ہںز۔ ان کا لقب (وہ نام جو کسی خاص خوبی یا خرابی کی وجہ سے اصل نام کے علاوہ پڑجایا کرتا ہے) خللا اﷲ ہے۔ (خللک عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنٰی دوست کے ہں ۔ عربی زبان کے اس لفظ کے معنٰی مںح بہت ہی زیادہ گہرائی پائی جاتی ہے۔ عربی مںا خلل اس دوست کو کہتے ہںے جس کے دل مںب دوست کے علاوہ کسی (ذات، اسباب، مرتبے وغراہ) کی محبت دوست کے مقام و مرتبے اور حت لل کے برابر لمحے بھر کے لے ذرہ برابر بھی نہ پائی جاتی ہو۔ او ران سب کا مقابلہ جب کبھی، جتنی بار، جس طرح بھی دوست سے پڑے تو وہ بغر ہچکچاہٹ، بغرب اگرمگر، بغرک چوں چرا، بغر، سوچ بچار کے، بغر کسی دل تنگی کے، بغرں کسی حزن و ملال کے، نفع نقصان کے حساب کتاب سے بے ناکز ہوتے ہوئے حتیٰ کہ اپنی جان کو بھی خاطر مںس نہ لاتے ہوئے بسروچشم، بڑی خوشی سے، پورے شرح صدر دل بستگی و دل جمعی کے ساتھ ناقدین کی تنقدی، رکاوٹ بننے والوں کی رکاوٹ کو ٹھوکر مارتے ہوئے دوست کو ترجحو دے اور بزبان قال و حال بے خودی سے مستانہ عالم مںا پکار اٹھے کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔) مستند و معتبر مذہبی علمی ذخائر کے ذریعے سدمنا حضرت ابراہمت خللہ اﷲ علیٰ نبینا وعلہا الصلوٰۃ والسلام کی زندگی مبارکہ کے متعلق جتنی معلومات فراہم کی گئی ہںر ان کے مطابق اس زمانے مںن درج ذیل تنق باتںﷲ منظرعام پر چھائی ہوئی تھںئ۔ 1 نمرود بادشاہ کی حکومت تھی او راس نے خدائی دعویٰ کرکے ریاستی ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی باطل اور جھوٹی خدائی کو رعایا سے منوا رکھا تھا (گویا نمرود بادشاہ ہی نہںے تھا معبودان باطلہ کی فہرست کا ایک نمایاں فرد بھی تھا۔ حضرت ابراہمع علہس السلام سے اس کا مناظرہ قرآن مقدس سے ثابت ہے۔) 2 حضرت ابراہم علہس السلام کی بچپن سے لے کر وصال تک کی زندگی گھر سے لے کر معاشرے تک مں پورے زوروشور سے جاری شرکہم سمندر کے تزب بہاؤ کے برخلاف سمجھانے کے تمام معقول اسلوب کو بروئے کار لاتے ہوئے توحدم کے پرچار مںر گزری (جن کی تفصیلات موجب طوالت ہوں گی۔) 3 توحد کی اس تبلغے کی روشنی مںت حضرت ابراہم علہو السلام کی زندگیٔ مبارکہ مںٹ مناسب وقتوں کے بعد نہایت سخت امتحانات آتے رہے۔ قرآن مقدس کی غر مبہم، بے غبار اور واضح تصریح کے مطابق آپ علہر السلام ہرہر امتحان کی ہرہر جزئی مںئ سو فصدا کاماکبی کے نمبروں سے سرخرو ہوئے اور قرآن مقدس نے اﷲ تعالیٰ کا کلام بن کر اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ کامادبی کا ابدالآباد تک کے لےد اعلان کردیا جسے نہ چھپایا جاسکتا ہے نہ مٹایا جاسکتا ہے او رنہ ہی اس کا کوئی حرف، حروف کی ترتب ، معنیٰ، مراد اور مفہوم کو ذرہ برابر تبدیل کاھ جاسکتا ہے پڑھےس:(سورۂ بقرہ آیت124)’’اور جب ابراہمس (علہ، السلام) کے رب نے ابراہمم (علہر السلام) کو چند باتوں سے آزمایا پس انہوں نے سب کو پورا کردیا۔‘‘ اﷲ تعالیٰ نے جہاں آپ علہے السلام کی آزمائش آپ علہق السلام کے حوالے سے فرمائی وہاں بڑھاپے کی حالت مںر دعاؤں کے ذریعے دی جانے والی نعمت (حضرت اسماعلو علہک السلام) کے حوالے سے بھی آپ علہا السلام کو زبردست، کٹھن، سخت، دشوار گزار، مشکل ترین ابتلا مںن ڈالا۔ آپ عہکی السلام کے دعویٰ توحدک کی حقانتہ کے عملی مظاہرے کا کاا حرےت انگز ، محرپالعقول، تعجب خزم، منفرد، عجبو وغریب طریقہ ہے …(سبحان اﷲ! جب شرےخوارگی کے زمانے مںھ عزیزترین بچے کو ہرہر حوالے سے باپ کی لازمی ضرورت تھی باپ کے ہاتھوں زندہ حالت مںر ایی غرسذی ذرع وادی مںی چھڑوایا گا جہاں خود باپ کے لے بھی مادی ضروریات کے لے باربار پہنچنا بھی ناممکن تھا او راپنے مقام پر رہتے ہوئے رابطہ رکھنے کی بھی کوئی ممکنہ صورت نہںہ تھی اور جب بچہ عمر کے مخصوص حصے مںے پہنچ کر اس قابل ہوا کہ باپ کے بڑھاپے مں اس کی مادی ضروریات پوری کرتے ہوئے زندگی آسان بنانے کے لےص مضبوط سہارا بن سکے تو کسی اور کو نہںپ خود باپ کے ہاتھوں کو اپنے مطعر و فرمانبردار بٹے کی ذبح کی عملی مشق کرائی گئی۔ دونوں واقعات مں نہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے رعایت برتی گئی نہ خلل اﷲ کی طرف سے ذہنی، بدنی، قولی و فعلی کمزوری دکھائی گئی) (واضح رہے کہ ایسے امتحان نہ اس سے پہلے کسی سے لےق گئے او رنہ ہی اس کے بعد۔ یاد رہے کہ کسی کو بھی شریعت کی طرف سے کبھی ایسا کوئی حکم نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔ نہ سابقہ آسمانی مذاہب مں کسی کے لے۔ بھی ایسا کوئی حکم تھا لہٰذا اب کوئی انسان اپنے لےا ایسا کوئی حکم سمجھتا ہے تو وہ اس کا دماغی خلل، نفسانی خواہش، شطامن کا دھوکہ قرار دیا جائے گا اور اپنی ذات پر اس عمل کو کر بٹھتا ہے تو اسے فقہی اعتبار سے خودکشی اور اولاد پر کرگزرتا ہے تو اسے قتل ناحق کہں گے اور دونوں حرام ہں ۔) حضرت اسماعلت علہو السلام کے ذبح کا قصّہ: قرآن مقدس کی تصریح کے مطابق جب اسماعل علہ السلام جوانی کی عمر کے قریب پہنچے تو اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہمت علہ السلام کو ایک خواب دکھلایا جس مںو ابراہم علہ السلام نے دیکھا کہ مںم اپنے بٹےپ اسماعلا علہق السلام کو خود ذبح کررہا ہوں (واضح رہے کہ خواب ایک حقتو ہے جس مںں عام آدمی جہاں سچے خواب دیکھتا ہے وہاں اسے جھوٹے، لایینو، غرھمعقول خواب بھی آتے ہںس جو اس کے دن بھر کے پریشان خاولات، اس کی عمومی صحت اور اس کی اپنی عمومی مذہبی حالت کا نتجہغ ہوتے ہںب۔ لکنت نبی کا خواب ہمشہش سچا ہوا کرتا تھا اور وحی کا درجہ رکھتا تھا اور نبی پر اس خواب کی تفصیلات کے مطابق نظام عمل ترتبن دینا لازمی ہوا کرتا تھا) (یاد رہے کہ حضرت ابراہمھ علہی السلام کے خواب مںو جو بھی وحی تھی وہ پوری ملت ابراہیمیہ مں سے صرف اور صرف ابراہم علہ السلام سے متعلق بطور ذبح کرنے وہ بھی صرف حضرت اسماعل سے متعلق بطور ذبح ہونے سے تھی۔ اور اس تعملپ ارشاد مںی جو کچھ دونوں باپ بٹوطں نے کال وہی منشاء خداوندیہ تھا۔ قرآن مقدس کے جملے :(سورۃ الصٰفٰت آیت105) ’’بلاشبہ آپ نے خواب کو سچا کردکھایا۔‘‘ سے اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے) حضرت ابراہم۔ علہس السلام نے اپنا خواب سُنا کر اپنے بٹے’ اسماعلک علہک السلام سے ان کی رائے پوچھی انہوں نے بلاحلر و حجت تعملل حکم الہٰی کی رائے دی اور دونوں باپ بٹےو نے مل کر پورے خلوص کے ساتھ عمل کردکھایا، اﷲ تعالیٰ نے خواب کو سچ کردکھانے کی سند بھی عطا فرمائی اور اسماعلن علہا السلام کی جان کے بجائے جنت سے بھجےﷲ ہوئے منڈکھے کو ذبح کروا کر ابراہمع علہہ السلام کی طرف سے قبول فرمالاع اور اپنے ماننے والے صاحب استطاعت لوگوں پر یہ لازم کردیا کہ وہ مخصوص کےے ہوئے حلال جانوروں مںم سے مخصوص شرائط پر پورا اترنے والے کسی جانور کو مخصوص تاریخوں مںع دناے بھر مںھ کہںھ بھی ذبح کریں۔ قربانی سے متعلق ایک اہم نکتہ: قربانی مں حلال جانور کو ذبح کرتے ہوئے اس کی جان کا نذرانہ پشت کرنے کا بھی حکم ہے اور جب تک جان کا نذرانہ بذریعہ ذبح پشر نہںا کال جائے گا یہ حکم پورا ہی نہ ہوگا۔ لہٰذا کوئی بڑے سے بڑا، محبوب سے محبوب عمل اس کا بدل ہوہی نہںے سکتا۔ جس طرح دیگر نیک اعمال کی اپنی منفرد اور علحدیہ حتا۔ ہے اس عمل صالح کی بھی اپنی منفرد اور علحد ہ حت ک ہے جسے کسی صورت دھندلا یا نہںن جاسکتا چاہے ناقدوں کے لےی کسا اور کتنا ناگوار ہی کواں نہ ہو۔ قربانی کس پر واجب ہے؟ ہر اس مسلمان عاقل بالغ مقمل مرد و عورت پر واجب ہے جس کے پاس دس، گاارہ، بارہ ذی الحجہ کی تاریخوں مںف اپنی ضرورت سے زائد اتنی مالتق ہو جس سے ساڑھے باون تولہ چاندی خریدی جاسکیا ہو (اس مالتع مںں نقد رقم، بنک مںی جمع رقم، وصول ہونے والے قرضے، پرائزبونڈز، این آئی ٹی یونٹس، کمپنوسں کے حصص، وصول ہونے والی بی سی (کمیپں) مںہ اداشدہ رقم، مال تجارت مںق خام مال اور تازرشدہ مال کا اسٹاک، پہننے کے تنی جوڑے سے زائد کپڑے، روزانہ کے استعمال مںح آنے والے برتن و بستروں سے زائد برتن و بستر، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، وی سی پی وغر ہ شامل ہں ۔ اییں مالتو کا مالک چاہے شہری ہو یا دیہاتی، تاجر ہو یا صنعت کار و دستکار، موییش رکھتا ہو یا کسان، ملازمت پشہو ہو یا مزدور، شادی شدہ ہو یا غرمشادی شدہ، عالم ہو یا ان پڑھ، مرد ہو یا عورت اس پر اس کی اپنی طرف سے قربانی واجب ہے۔ قربانی کے لےا کون کون سے جانور متعنا ہںے؟ بکرا، بکری، دنبہ، دنبی، بھڑب، بھڑڑی، منڈ ھا، منڈےھی، گائے، بلی، بھنس ، بھنسان، اونٹ، اونٹنی اس کے علاوہ کسی جانور، پرندے وغراہ کی قربانی اس کے حلال ہونے کے باوجود جائز نہں ۔ قربانی کے جانور کی عمر اور دیگر شرائط؟ بکرا، بکری مکمل ایک سال کے ہوں، گائے، بلط، بھنس۔، بھنساد مکمل دو سال کے ہوچکے ہوں، اونٹ اونٹنی پانچ سال کے ہوں۔ البتہ دنبہ، بھڑز، منڈاھا (نر و مادہ) چھ ماہ کے ہوں لکنس اتنے موٹے تازہ ہوں کہ ایک سال کے دکھائی دیتے ہوں تو ان کی قربانی درست ہے دیگر شرائط کے لحاظ سے صحت مند، بھرپور خوبصورت اور عوھب سے پاک جسم کے مالک ہونے چاہیئیں۔ البتہ جو بکرے خصی کردیے جاتے ہں ان کی قربانی شریعت نے جائز قرار دی ہے اور خصی ہونے کو عبی شمار نہںی کاں ہے۔ جانوروں مںد قربانی کے لےا رکاوٹ بننے والے عو ب: (2) اندھا ہونا۔ (2)کانا ہونا۔ (3)بھنگاے ہونا۔ (4)ایک تہائی سے زیادہ بصارت و سماعت سے محروم ہونا۔ (5)ایسا لنگڑا جانور جو چلنے کے دوران چوتھی ٹانگ کا سہارا نہ لے سکتا ہو۔ (6)جس کے دانت نہ ہوں۔ (7)جو جانور پاگل ہو گا ہو۔ (8)جو متعنہب عمر سے کم ہو۔ (9)جس جانور کا کان یا دُم یا چکتی ایک تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں۔ (10)جو ایسا کمزور ہو اس کی ہڈیوں کا گودا تک ختم ہوگا۔ ہو خود چل کر قربان گاہ تک بھی نہ جاسکے۔ (11)خارشی ہو۔ (12)سنگئ جڑسے اکھڑ گئے ہوں یا اتنے ٹوٹ گئے ہوں کہ اس کا اثر دماغ کی ہڈی تک پہنچ گاو ہو۔ (13)بکری کا ایک تھن اور گائے اور اونٹنی کے دونوں تھن سُوکھ گئے ہوں وغروہ وغریہ۔ یہ وہ عو ب ہںر جو قربانی کے لےس غرت مقبول ہںک لہٰذا ایسے عبک دار جانوروں کی قربانی درست نہںی۔ قربانی سے متعلق مزید اہم مسائل: 1 جس شخص پر قربانی کرنا غربت کی وجہ سے واجب نہ ہو اور اس نے قربانی کے دنوں مںب قربانی کی نتی سے جانور خرید لاو تو اس پر بعنہِپ اسی جانور کی قربانی لازم ہے۔ اب اس جانور کو نہ فروخت کرسکتا ہے نہ کسی دوسرے مقصد کے لےی کام مںر لاسکتا ہے اگر قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے وہ جانور ذبح نہںب کاز تو اس جانور کا صدقہ کرنا ضروری ہے۔ 2 غریب شخص کے قربانی کے جانور مںذ کوئی عب پد ا ہوجائے تو اسے دوسرا خریدنے کی ضرورت نہںا ہے اسی جانور کو قربانی کے دنوں مںص ذبح کرلے۔ اگر دوسرا قربانی کی نتب سے خرید لتاس ہے تو دونوں جانور قربان کرنا ہوں گے۔ 3 غریب شخص کا قربانی کی نتب سے خریدا ہوا جانور قربانی سے پہلے کھو گاد تو اسے دوسرا جانور خریدنے کی ضرورت نہں ہے۔ اگر قربانی کے دنوں مںا مل جائے تو اس کی قربانی کرلے، قربانی کے دن گزر جانے کے بعد ملے تو اس جانور کو صدقے مںو دے دے، اگر نہ ملے تو اس شخص پر اس کے بدلے کچھ لازم نہںی البتہ دوسرا خرید لان تو دوسرے کی قربانی تو لازم ہوگی ہی لکنر پہلا مل گا، تو اسے بھی قربان کرنا ہوگا۔ 4 مالدار شخص کے قربانی کے لےر خریدے ہوئے جانور مںر قربانی سے پہلے کوئی عبن پدرا ہوجائے تو اسے لازمی طور پر دوسرا بے عبش جانور خریدنا ہوگا۔ اگر جانور گم ہوجائے تو بھی دوسرا خریدنا ہوگا۔ البتہ دوسرا خریدنے کے بعد پہلے کا عبو دور ہوجائے یا پہلا مل جائے تو اس کو اختارر ہے دونوں مںے سے کسی ایک کی قربانی کرلے۔ (واضح رہے کہ ذبح کرتے ہوئے کوئی عبا پدتا ہوجائے تو وہ معاف ہے اس کا قربانی پر کوئی اثر نہںو پڑے گا۔) قربانی کے جانور مںئ کتنے آدمی شریک ہوسکتے ہںم؟ بکرا، بکری، دنبہ، دنبی، بھڑا، بھڑای، منڈنھا، منڈاھی جسےا قربانی کے چھوٹے جانور صرف ایک فرد کے لےم مقرر ہںر البتہ گائے، بلر، بھنس،، بھینسے، اونٹ اور اونٹنی جسےے قربانی کے بڑے جانوروں مںہ ایک جانور مںک سات(7) آدمی شریک ہوسکتے ہںل لکنپ ان مںی سے کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو نزس گوشت بھی اندازے سے تقیم نہ ہو برابر برابر تول کر اس طرح تقسمر کا جائے کہ کسی کے حصے مںی ایک بوٹی بھی زائد نہ چلی جائے۔ قربانی کے ایام اور اوقات؟ دنوں کے حوالے سے شریعت نے دس، گاورہ، بارہ ذی الحجہ کے دن ہر سال کے لے مقرر فرمائے ہں البتہ اوقات کے حوالے سے کچھ تفصل ہے۔ شہر مںت دس ذی الحجہ کے دن قربانی کا وقت اس وقت شروع ہوگا جب شہر بھر مں کسی بھی جگہ عدل کی نماز ادا کی جاچکی ہو۔ دیہات میںچونکہ عدح کی نماز نہںس ہوتی اس لےق وہاں دس ذی الحجہ کو صبح صادق کا وقت ہوتے ہی قربانی کے وقت کا آغاز ہوجاتا ہے۔ دونوں مقامات پر اپنے اپنے وقت پر آغاز ہونے کے بعد بغرد کسی وقفے کے دن رات جاری رہتے ہوئے بارہ ذی الحجہ کے دن سورج غروب ہونے تک رہتا ہے۔ ان اوقات مںا دن کی روشنی مںی ذبح کرنا رات کے اندھیرے کے مقابلے مںی بہتر ہے اور پہلے دن قربانی کرنا دوسرے دنوں کے مقابلے مں افضل ہے۔ (واضح رہے کہ بارہ ذی الحجہ کو سورج غروب ہونے سے پہلے ذبح ہوجائے تو گوشت سورج غروب ہونے کے بعد بنانا درست ہے۔) ذبح کرنے کا طریقہ؟ قربانی کے جانور کو قبلۂ رُخ لِٹا کر اس کے گلے پر جانور کی زندہ حالت مں ابھری ہڈی کے نچےے بسم اﷲ اکبر پڑھتے ہوئے پوری قوت کے ساتھ تزگ دھار والی چھری اس وقت تک چلائی جائے کہ اس کے گلے مںا پائی جانے والی چار رَگوں مںﷲ سے کم از کم تنہ رگںس کٹ جائں ۔ (اگر تنل سے کم رگںس کٹںا اور چھری چلانا موقوف کردیا تو جانور مردار ہوجائے گا اور اس کا گوشت حرام ہوجائے گا) نز یہ بھی احتا ط رہے کہ ذبح کرتے ہوئے اس کی گردن علحدرہ نہ ہوجائے۔ مزید یہ کہ ذبح شدہ جانور کے ٹھنڈا ہوجانے کے بعد اس کی کھال اُتارنے کا کام شروع کرے۔ قربانی کے گوشت کے مصارف؟ شریعت نے قربانی کرنے والے کو مکمل اختا ر و اجازت دی ہے کہ وہ چاہے تو پورا کا پورا گوشت تقسمم کردے اور چاہے تو کسی کو ایک بوٹی بھی نہ دے۔ ہاں! اخلاقی حوالوں سے اسے ترغبت دی ہے کہ وہ گوشت کے تنو حصے کرلے ایک اپنے لےر رکھ لے دوسرا دوست احباب پڑوسوبں رشتے داروں مںل تقسمو کردے اور نزل تسرہا اﷲتعالیٰ کے نام پرغریبوں مںن تقسمت کردے۔ (غریبوں کے حصے مںح اس بات کا خا ل رکھے کہ ان کے حصے مںت بغر گوشت کی ہڈیاں، چھیچھڑے، چربی، پھپھڑںے ہی نہ ہوں اس لے کہ یہ اﷲ تعالیٰ کو دیا جارہا ہے یہ سوچے اس نے مجھے کساس دیا اور مںر اسے کسال لوٹا رہا ہوں؟) قربانی کا گوشت غرسمسلموں کو بھی دیا جاسکتا ہے البتہ اسے فروخت نہں کات جاسکتا نہ ہی کسی کی خدمت کے بدلے بطور معاوضہ و اجرت دیا جاسکتا ہے۔ اجتماعی قربانی: دورحاضر مں انفرادی و اجتماعی حوالوں سے گوناگوں مسائل کا بے حد اضافہ ہوگاے ہے جس مںی قربانی کے حوالے سے مہنگائی بدامنی، جگہ کی تنگی، جسمانی امراض، ذہنی تفکرات، مذہبی معاملات مں دھوکہ دہی، شرعی شرائط کی روشنی مںن جانور کی خریداری، اسے بحفاظت گھر تک پہنچانا، اس کی ضروریات کے مطابق اس کی دیکھ بھال، خوراک کا انتظام، بھتہ خوروں کی عقابی نظریں، قصائی کی تلاش، اس سے اجرت کا طے کرنا، قربانی کے دن ذبح اور گوشت بنوانے کے لےق اس کا انتظار وغرےہ سرفہرست ہںر یہ اور ان جسےر دیگر مسائل کا ون ونڈو حل اجتماعی قربانی ہے۔ جس کا انتظام شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دیگر اداروں کی طرح جامعہ بنوریہ عالمہگ بھی گزشتہ طویل عرصے بخریوخوبی کررہا ہے، جس مںت جانور وں کی خریداری سے لکرم حصہ لنےئ والوں تک ان کے حصوں کے مطابق صاف شفاف ٹوکریوں مںط گوشت پہنچنے تک کی ذمہ داری ادارے کی ہوتی ہے۔ ادارے کی طرف سے آن لائن اجتماعی قربانی کی سہولت بھی فراہم ہوتی ہے۔ لہٰذا جنہںے قربانی کے حوالے سے مسائل درپشپ ہوں تو وہ ادارے سے رجوع کرسکتے ہںق۔ قربانی کی کھال کا مصرف: قربانی کے جانور کی کھال اپنے ذاتی مصرف مںک لائی جاسکتی ہے، کسی کو ہدیہ کی جاسکتی ہے لکنب اسے بچن کر اس کی رقم اپنے ذاتی استعمال مںب نہںج لائی جاسکتی اس کی قمت کو لازماً مستحق زکوٰۃ پر صدقہ کرنا ہوگا۔ دیی مدارس کے طلبا بھی اس کے مستحق اور سب سے افضل مصرف ہںش اس لےھ کہ اس مںج دین اور علوم دینیہ کے ساتھ معاونت بھی ہے جامعہ بنوریہ عالمہ کی طرف سے بھی ہر سال کھالںی جمع کرنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ قربانی کے عمل پر اعتراضات اور اس کے جوابات: 1 قربانی کے حوالے سے ایک اعتراض یہ کاک جاتا ہے کہ یہ جانوروں کا بے مقصد ضایع ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس کو ضابع سمجھا جارہا ہے وہ جانوروں کے خالق و مالک کی نگاہ مںا ان دنوں مںم سب سے زیادہ محبوب عمل ہے۔ لہٰذا صاحبان عقل کے نزدیک یہ خرابی نہںل خوبی ہے۔ 2 ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اس طرح جانوروں کی قلت پدتا ہوجائے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قلت اطاعت الہٰی سے نہںا نافرمانی سے ہوا کرتی ہے۔ جو نظام قدرت چلا رہا ہے انتطام اس نے اپنے ہاتھ مںا رکھا ہوا ہے لہٰذا اس بارے مںت تشویش کی ضرورت نہںع ہے۔ 3 ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اس طرح ہر سال بے تحاشا رقم دناربھر کے مسلمان ضائع کردیتے ہںا اس رقم سے کتنے رفاہی اور امدادی کام نمٹائے جاسکتے ہں ۔ اس اعتراض کے دو جوابات ہںق ایک رب چاہا ایمان رکھنے والوں کے لے کہ یہ ایک عبادتی فرض ہے جو ان تاریخوں مںک اسی شکل مںج شریعت کی طرف سے مطلوب ہے جس کا نعم البدل کوئی عمل بن ہی نہںک سکتا، البتہ تاریں ج نکل جانے کی صورت مںج ہی اس کا نعم البدل صدقہ ہے اور وہ لازمی ہے۔ دوسرا جواب من چاہا ایمان رکھنے والوں کے لےم ہے کہ جناب کی نظر رفاہی و امدادی کاموں کے لےل اس عباداتی عمل کی طرف تو اٹھتی ہے۔ معاشرے پر نظر ڈالں ہمارے بہت سے افراد بعض ایسے کام بطور عادت اپنائے ہوئے ہںی جو غرد مفدع ہی نہںم مضرصحت بھی ہں ۔ مثلاً تمباکو نوشی کی تمام صورتںض، پان خوری، چائے نوشی، گٹکا، من پوری وغرےہ وہ بلائںی ہںس جو ہم اپنی خوشی سے بغرڈ کسی مجبوری کے اپنی جانوں کے ساتھ چمٹاکر مہنگے مہلک اور بعض صورتوں مںے لاعلاج امراض کا نہ صرف استقبال کررہے ہںی بلکہ ہسپتالوں کو مستقل طور پر اپنا گھر قرار دے رکھا ہے۔ کبھی سوچا یہ بلانوش قوم روزانہ کی بنااد پر کتنی رقم اس عادت پر اور اس سے پدپا ہونے والے امراض کے علاج پر پھونک رہی ہے۔ ذرا تخمنہض تو لگائےو! اس مجموعے سے کتنے رفاہی اور امدادی کام ہوسکتے ہںد؟ اس باب مںا کوئی سنجدعہ کوشش؟ یا آئے دن ایسے لوگوں کی تعداد مںا اضافہ؟ (واضح رہے کہ یہ وہ تعداد ہے جو ابھی نشے کی لت تک نہںس پہنچی) آئے ! ایک اور رُخ سے معاشرے کے غرہ تعمرںی اور غررپدناواری اخراجات کا سرسری جائزہ لںب پدےائش پر رسومات و تقریبات، ختنہ پر رسومات و تقریبات، عققےا پر رسومات و تقریبات، ہر سال سالگرہ کے نام سے رسومات و تقریبات، بسم اﷲ پر رسومات و تقریبات، ختم قرآن پر آمنم کے نام سے رسومات و تقریبات، ملازمت ملنے پر رسومات و تقریبات، ترقی ہونے پر رسومات و تقریبات، منین ، مہندی، بری، مایوں، نکاح ولمےا پر رسومات و تقریبات کا سلسلہ، ولمےک کے بعد سسرال و دیگر رشتے داروں کے ہاں دعوتوں کا سلسلہ، حج و عمرے پر روانگی و واپسی کے مواقع پر رسومات و تقریبات و ہدایا کے تبادلے کا سلسلہ، موت کے مواقع پر رسومات و تقریبات، ہر سال برسی کے نام سے رسومات و تقریبات وغرسہ۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمائےو ان مں، سے کونسا سلسلہ ایسا ہے جسے شریعت نے وجوب کا درجہ دیا ہو؟ لکنو ہم نے (جس مں تمام طبقات شامل ہںل) ان تمام سلسلوں کو ایسا وجوب کا درجہ دے رکھا ہے کہ نہ تقریبات کی تعداد مںد کمی، نہ مہمانوں کی تعداد مںں کٹوتی، نہ کھانے کے آئیٹمز مں کوئی کسر قربانی جسےق مطلوب عمل پر نظریں گاڑنے والے ان غریمفدن، مضرصحت، غراتعمرہی و غرتپد اواری سلسلوں کی طرف اپنی توجہ خاص مرکوز کریں اور رفاہی و امدادی کاموں کی ترویج کے لےن ان رسومات کے خلاف ذہن سازی کا فریضہ انجام دیں۔ جس ملک کے ہر تسرےے گھر کا بوڑھا خون تھوکتا ہو، بوسہ کا چولہا نہ جلتا ہو، یمدم تعلما سے محروم ہوں، بے سہارا بوضہاں کے ہاتھ پلےس نہ ہوسکتے ہوں اور ان کے سروں مںن چاندی کے تاروں کا برق رفتاری سے اضافہ ہورہا ہو، بے روزگاری کی آندھاپں چل رہی ہوں۔ دہشت کے موسلادھار اولے گر رہے ہوں، قتل و غارتگری نے ماحول حبس زدہ کردیا ہو، چوری، ڈکی ی، بھتہ خوری، قبضہ مافال، اغوا برائے تاوان کا سکّہ رائج الوقت ہو وہاں اخلاقی طور پر رسومات و تقریبات کے یہ چونچلے زیب دیتے ہںد؟ 4 قربانی کے حوالے سے ایک ذہن یہ بھی سامنے لایا گاا ہے کہ قربانی تو اس زمانے مںا حاجوقں کی خدمت کے لےت جاری کی گئی تھی۔ سبحان اﷲ! خدا کی قسم! جو بات بھی کی لاجواب کی۔ جناب! نبی ﷺ نے دس سالہ مدینہ منورہ کے قا م کے دوران مسلسل ہر سال قربانی فرمائی اور دنا جانتی ہے کہ حج کے ارکان کا جگہ کے حوالے سے مدینہ منورہ سے کوئی تعلق نہںد بنتا۔ جبکہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کا فاصلہ اس زمانے مںا کئی دنوں کی مسافت کا بنتا تھا اس تناظر مںک حاجویں کی ضاںفت ایک لاینحل مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔ پھر ضاکفت کے لےا جانوروں، ان کی عمروں اور دیگر شرائط کی قدج بھی عجبو محسوس ہوتی ہے۔ پھر ضاحفت مںد گوشت کا سالن ہوتا ہے یا کچا گوشت؟ قربانی کے گوشت کی اگر تقسمو بھی ہے تو وہ کچے گوشت کی ہے۔ 5 ایک ذہن مںا کھلبلی مچی کہ پاکستان مقروض ہے لہٰذا پاکستانوتں پر قربانی کا اطلاق نہں ہوتا۔ ان کی خدمت مںا مؤدبانہ عرض ہے کہ قربانی ریاست پر نہں ریاست کے باشندوں مںس سے صرف صاحب نصاب مالداروں پر واجب ہے۔ ریاست کے قرضوں سے اس کا کوئی تعلق نہںک۔ ایک اہم نکتہ: دیگر عبادات کی طرح قربانی بھی ایک عبادت ہے۔ عبادت کی عمارت اسی وقت کھڑی ہوسکتی ہے جب اس کی بناادیں اخلاص، للہتی، صرف اﷲ تعالیٰ رضامندی کے حصول کے مڑبیل سے مضبوط کی گئی ہوں۔ اگر قربانی مںس بچوں کا دباؤ، محلے والوں پر شان و شوکت کے اظہار کے ملاوٹ شدہ عناصر کی آمزن ش ہے تو کات یہ عمارت کھڑی ہوئی نظر آسکتی ہے؟ سوچیے! کوئی اطمنابن بخش جواب ہو تو ہمںک بھی مطلع فرمائےگ! قربانی کی روح: قربانی کی روح جان کا فدیہ دینا ہے۔ گوشت پوست حاصل کرنا نہںب۔ نہ ہی گوشت پوست کی تقسمس مقصود ہے پورا کا پورا گوشت قربانی کرنے والا خود رکھ سکتا ہے کھال اپنے ذاتی استعمال مںا لاسکتا ہے (جبکہ صدقہ و خرکات مںا مال و اشا ء اپنی ملکتا مںا سے نکل جاتی ہںن۔) پھر قربانی کرنے والے نے کس چزد کی قربانی دی؟ ظاہر ہے جانور کی جان کے علاوہ اور کچھ نہں جاتا ذبح کے بعد نکلنے والا خون یا نالو)ں بہہ جاتا ہے یا زمنا کا رزق بن جاتا ہے۔ لہٰذا اس قربانی کے عمل مں جانور کی جان دینا ہی متعنو ہے۔ ییر تعنن حضرت اسماعلا علہہ السلام کے ذبح کے قصے سے ثابت ہورہی ہے کہ اسماعل علہر السلام کے بجائے جنت سے منڈچھا بھجان گاو جسے ذبح کا۔ گام۔ اور اس کو قرآن نے فدیہ کہا ہے۔ ’’اور ہم نے اس کے فدیے مںس ایک بڑا ذبحہا دیا۔‘‘(سورۂ صٰفٰت آیت107) چنانچہ ذبح جانور متعنخ ہے اور اس کی جان دینا او رخون بہانا مالک یوم الدین کی بارگاہ مںن ان دنوں کا محبوب ترین عمل ہے جس کا نعم البدل کوئی اور عمل بن ہی نہںل سکتا۔ یی سنت ابراہیلک ہے۔ جس کو قایمت تک باقی رکھنے کے لےد امت محمدیہ علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کا انتخاب کان گا ہے اور صاحب استطاعت لوگوں پر قربانی کو واجب قرار دیا گا ہے۔ ذرا اس حوالے سے اس ڈانٹ ڈپٹ کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ جس مںر مالی اعتبار سے قربانی کی استطاعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عد گاہ مںٹ حاضر نہ ہو۔ چنانچہ قربانی کے بارے مںئ اپنے ذہنوں مںہ شکوک پدرا کرنا حماقت اور دوسروں کے ذہنوں مں شکوک ڈالنا بغاوت ہے اور قربانی کی روح کے مطابق قربانی کرنا ہی اطاعت ہے۔ قربانی کا پغالم: قربانی کا جانور دناغ سے جاتے ہوئے زبان حال سے قربانی کرنے والے کو یہ پغا م دیتے ہوئے جاتا ہے کہ یوں تو روزانہ کی بناجد پر لاکھوں جانور دناک بھر مںہ ذبح ہورہے ہںل لکنا مرکے خالق نے مر ا انتخاب قربانی کے لےو کا تھا اور آج مںل اس انتخاب پر تمہارے ہاتھوں ذبح ہوتے ہوئے سرخرو ہوکر اپنے پروردگار کے پاس جارہا ہوں جس نے کبھی مجھے بھوکا پاےسا نہںت رکھا۔ سلایا بھی جگایا بھی، چرایا بھی پھرایا بھی۔ تمہں بھی تو اسی خالق نے اپنی عبادت (جس مں حقوق اﷲ، حقوق العباد اور حقوق النفس شامل ہں ) کے لےں منتخب کای ہے۔ کائ تم اس انتخاب پر پورے اتر رہے ہو۔ یاد رکھو! تمہںا بھی ایک دن مرقی طرح اس دنال کو چھوڑ کر اس کے دربار مںت پہنچنا ہے اس کی نعمتں استعمال کرنے والے کاہ جواب دے سکںو گے؟ ایک مستحب عمل: جس شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو اس کو چاہےس کہ یکم ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی اپنی قربانی کا جانور ذبح ہونے تک نہ بال کٹوائے، نہ خط بنوائے نہ مونچھںی ترشوائے نہ ڈاڑھی منڈوا ئے نہ ناخن کاٹے اور اس طرح حاجوکں کی مشابہت اختاار کرے واضح رہے کہ یہ ایک مستحب عمل ہے لہٰذا اس پر عمل نہ کرنا صرف ثواب و اجر سے محرومی ہے۔ البتہ غرمضروری بالوں کی صفائی کو چالسک دن ہوگئے ہوں تو اس مستحب عمل پر صفائی کے عمل کو ترجح دے ورنہ گنہگار ہوگا۔ ماہِ ذی الحجہ احادیث کی روشنی مں : (1) صائم یوم عرفۃ، انی احتسب علی اﷲ ان یکفر السنۃ التی بعدہ والسنۃ التی قبلہ۔ (ترمذی جلد1صفحہ354) ’’یومِ عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے کے بارے مںہ، مں اﷲ تعالیٰ سے اُمد رکھتا ہوں کہ وہ اس کی وجہ سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ (صغربہ) کفارہ فرمادیں گے۔‘‘ (2) مامن ایام احب الی اﷲ ان یتعبد لہ فیھا من عشر ذی الحجۃ، یعدل صاام کل یوم منھا صاام سنۃ وقاہم کل لیلۃ منھا بقیام لیلۃ القدر۔(ترمذی جلد1صفحہ357) ’’کوئی دن ایسا نہں جس مں عبادت اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ذی الحجہ کے دس دنوں سے پسندیدہ ہو، ذی الحجہ کے دس دنوں مںم سے ہر دن کا روزہ (ثواب کے اعتبار سے) ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔‘‘ (3) نھی رسول اﷲ ﷺ عن صاومنر، صاسم یوم الضحٰی ویوم الفطر۔ (ترمذی جلد1صفحہ362) ’’رسول اﷲﷺ نے عدغالفطر اور عدلالاضحٰی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ (4) ماعمل اٰدمی من عمل یوم النحراحب الی اﷲ من اھراق الدم، انہ لانتی یو۷م القاکمۃ بقر ونھا واشعارھا واظلافھا وان الدم لیقع من اﷲ بمکان قبل ان یقع من الارض فطیبوابھا نفسا۔(ترمذی جلد1صفحہ639) ’’قربانی کے دن کوئی نیک عمل اﷲ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہںا اور قا مت کے دن قربانی کرنے والا اپنے جانور کے بالوں، سنگوفں اور کُھروں کو لے کر آئے گا (اور یہ چزحیں ثواب عظمک ملنے کا ذریعہ بنںا گی) قربانی کا خون زمنب پر گرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک شرفِ قبولتر حاصل کرلتا ہے لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کاں کرو۔‘‘ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
334