(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
دعوتی نظام کے اسلامی اصول
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ دعوتی نظام کے اسلامی اصول اﷲ تعالیٰ نے اس دناص مںو انسان کو صرف اور صرف اپنی عبادت کے لےط پدےا فرماکر اس دنات مں، نہایت قللی مدت کے لےم بھجای ہے۔(واضح رہے کہ یہ دنال انسان ہی کے لےا بنائی گئی ہے لکنے انسان اس دناا کے لےی پد ا ہی نہںپ کا گاع یی۔ وجہ ہے کہ انسان چاہے یا نہ چاہے کچھ ہی مدت کے بعد اسے اس دناے سے واپس بلالاا جاتا ہے اس مں نہ عمر، نہ حتامل، نہ رنگ، نہ نسل، نہ علاقہ، نہ زبان، نہ صنف اور نہ ہی وقت کی کوئی قدد ہے، یہ خودکار قدرتی نظام دن رات بلاکسی دِقّت (Difficulty) کے حرکت مںق ہے۔ ہرہر انسان کی اس دناھ کی عمر اس کی مرضی کے مطابق نہںا بلکہ اﷲتعالیٰ کی مشت کے مطابق طے ہے۔ ہرہر انسان کے واپس بلالےا جانے کا وقت اور طریقہ بھی طے ہے۔) اس عبادت مںج دنونی حاجات کے پورا کرنے کا انفرادی، اجتماعی اور اخروی درجات کے حصول کا نظام شامل ہے۔ اس کا ایک سطری خلاصہ یہ ہے کہ دناو اور آخرت کا ہر چھوٹا، بڑا، انفرادی اجتماعی جائز عمل صرف اور صرف اﷲتعالیٰ کے احکامات اور نبی ﷺ کے طریقوں ہی کے مطابق کاِ جائے۔ ان اعمال کے کرنے مںو ذاتی خواہش اور انسان کے وضع کردہ قاعدوں، ضابطوں، اصولوں، طریقوں، نظاموں کو نہ صرف یک قلم (Entirely) مسترد کردیا جائے بلکہ حرف غلط کی طرح زبان، ذہن، دل، کاغذات وغرںہ بھی سے مٹا دیا جائے چاہے اس حوالے سے آپ کے پاس دلائل ہوں یا نہ ہوں۔ ایک مملوک، مخلوق، غلام اور بندے کی لغت (ڈکشنری)(Dictionary) مںا اس بحث کی قطعاً گنجائش ہی نہںے ہے۔ مسلمان نے تو اسلام قبول کرکے مکمل طور پر اپنی گردن شریعت کے ہاتھ مںن دے دی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس عباداتی نظام کے سمجھانے اور بتلانے کے لےً اس امت مںہ جس شخصت کا انتخاب فرمایا ان کا نام نامی اسم گرامی محمد ابن عبداﷲ ﷺ ہے ابتدائی طور پر جس مقام کا انتخاب فرمایا اس کا نام مکہ مکرمہ ہے جس قوم مںج سے انتخاب فرمایا اس کا نام قریش ہے۔ جس زبان کا انتخاب فرمایا اس کا نام عربی ہے۔نبیﷺ اعلانِ نبوت سے پہلے چالسن(40) سال کا عرصہ عام و خاص لوگوں کے درماعن اس طرح گزار چکے تھے جس مںا بھرپور جوانی کا عرصہ بھی شامل ہے کہ اس معاشرے کے افراد آپﷺ کی صداقت، شرافت، دیانت، امانت کے ذہنی طور پہ قائل تھے، قلبی طور پر مطمئن تھے، لسانی (Lingual) طور پر صادق امنم کے القاب سے بحت، د اجماع پکارا کرتے تھے، عیلو طور پر اپنی امانتںل رکھواتے اور اپنے قضو)ں (جھگڑوں) کے فصلے بھی کروایا کرتے تھے۔ آپﷺ نے اپنی پدمائش کے چالس (40) سال کے بعد اعلانِ نبوت فرمایا اور متواتر تئیس (23) سال کا عرصہ ہرحال، ہر موسم، ہر جگہ اور ہر تہوار مںی دعوتی نظام کے ساتھ بسر فرمایا، اس دعوتی نظام کے سرسری جائزے سے ہی یہ حققتک عا ں ہوجاتی ہے کہ آپﷺ کا قائم کردہ دعوتی نظام نعوذباﷲ الل ٹپ (خارلی) نہںم بلکہ ایک سادہ مگرپروقار، خوش کن، پرکشش، انسانی ذہنی سطحوں کے عنہ مطابق، اطمناین بخش طور پر قائل کردینے والے اصولوں سے مربوط نظام (Consistent) ہے جو دعوت کے خدائی طریقۂ کار کے ماتحت بھی ہے اور سوفصدٹ کاما بی کے نتائج کے حصول کا حامل بھی ہے۔ ییک طریقۂ کار رسول اﷲﷺ کے نائبین ہر زمانے مںب اختا ر کرکے اس کے روح پرور دائمی اثرات سے خود بھی مستفضص ((One) Seeking Favour) ہوتے رہے اور دنا کو بھی اس کا لذیذ و صحت مند ذائقہ چکھا کر حرلان کن طور پر محظوظ کرتے رہے۔ اس طریقۂ کار کو بذریعہ قرآن مجدا خدائی تائدا بھی حاصل ہے۔ گویا کہ دعوت دینا بھی ایک فن ہے جس کے اصول خود اﷲ تعالیٰ نے فطرت انسانی کے عنے مطابق وضع کرکے اسے وحیٔ قرآنی بناکر نبیﷺ سے بطور نمونہ عمل کراکر قاممت تک کے آنے والے داعوےں اور مبلغنا کو عنایت فرمائے ہںم جن کی تفصیلات حسبِ ذیل ہںت: 1 اسلامی تعلماےت کے مطالعہ کے بعد پورے ینتح کے ساتھ یہ بات بآسانی کہی جاسکتی ہے کہ اسلام نے انسان کو محض ذاتی نفع تک محدود نہں فرمایا بلکہ اس کے نفع کو عام کرکے دوسروں تک پھیلایا ہے، چنانچہ نبیﷺ کی ختم نبوت کے طفلس ہر امتی کو اس بات کا پابند کا گام ہے کہ اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی قواعد کے مطابق قولی و عملی کوششںر ہوش وحواس کے قائم رہنے تک جاری رکھے۔ 2 قرآن و حدیث نے دعوت و تبلغہ اور باہمی نصحت و یاددہانی (تذکر ) کا صاف، اشتباہ سے پاک حکم دیا ہے۔ 3 دعوت کے لغوی معنیٰ پکارنے اور بلانے کے ہںہ اس دعوت کا اصل مصداق اﷲ تعالیٰ، دین اسلام، شریعت اور صراط مستقمع کی طرف بلانا ہے۔ لہٰذا شخصاوت، نفسانی ایجادات، ذاتی خواہشات، نئی نئی باتوں کی طرف بلانا اس قسم مں داخل نہںر ہں اور ان کی طرف بلانا بھی جائز نہںٰ ہے۔ مزید یہ کہ گھڑی ہوئی باتں ، خودساختہ روایںکی، من گھڑت قصّے (False Stories)، افواہںو وغرنہ بھی دعوت کا حصہ نہںے بن سکتںم۔ { } کے جملے نے دعوت کے مصداق کو متعنغ فرمادیا ہے جس کا نتجہع یہ نکلتا ہے کہ شرعی باتوں کی دعوت ضروری اور جائز، غربشرعی باتوں کی دعوت ناجائز اور ممنوع ہے۔ (واضح رہے کہ قرآن و حدیث سے آزاد ہوکر بزعم خود باریک بیہے کے دعویداروں کی باریک بینیوں، اصحاب مبالغہ کے حدود سے تجاوز اور انتہاپسندوں کی ضدوں نے نزاعات، جھگڑوں، فرقہ بندیوں اور فتنوں کے دروازے کھولے ہںی حالانکہ خالص وحی کے آجانے کے بعد اور اصلی و سادہ دین کی موجودگی مںو ان پر فریب غرر مفدے، سراسر مضر نمائشوں کی ضرورت ہی نہ تھی۔) 4 سبل رب کی تبلغا مں، تو شریعت کی باتوں کا پہنچانا ہی ہوتا ہے جو تکلف و بناوٹ (Inconvenience and Artificial) کے ترک اور سادگی کے اختاعر کرنے کا متقاضی ہے۔ لہٰذا اسٹجک پر بن سنور کر آنا، خاص انداز سے بولنا، نقلںآ اتارنا، دوران تبلغ ہئیتیں (Conditon) تبدیل کرتے رہنا، جملوں کی ادائیر مں تک بندی (Insipid Versification) اپنانا سامعن کی توجہ اپنی ذات کی طرف مبذول کرانا، سادگی کے خلاف او رخالصتًا تصنع و بناوٹ ہے جس کی قرآن مجدں نے کھلی نفی فرمائی ہے جساتکہ ایک مقام پر ارشاد ہے{ … }’’آپ(ﷺ) کہہ دیےon! کہ مںا تم سے اس (قرآن) پر کوئی بھی معاوضہ نہںت چاہتا ہوں اور نہ مںٹ بناوٹ کرنے والوں مںن سے ہوں۔‘‘ 5 سبلب رب کا داعی جن کو دعوت دیتا ہے ان کے ساتھ خرضخواہی کا جذبہ رکھتا ہے یہاں تک کہ اگر ڈراوے سنانے کی ضرورت پشی آتی ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ معصیت کے برے انجام سے محفوظ ہوجائںی۔ 6 داعی دین حق کی دعوت کے حوالے سے نہایت مستقل مزاج ہوتا ہے مایوسی کے بغرا استقامت پر قائم رہتا ہے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہں جانے دیتا۔ 7 تنقدھ، تضحکج اور تذلل۔ کو خندہ پیشانی (خوش مزاجی) سے برداشت کرتے ہوئے عفوودرگذر (معاف کردینا) سے کام لتان ہے۔ جساککہ ایک مقام پر ارشاد ہے { }’’پس آپ (کافروں کی طرف سے پشے آنے والی تکالفس کے باوجود) عمدہ طرزعمل کے ذریعے معاف کرتے رہےو۔‘‘ 8 داعی کا لب و لہجہ (طرزگفتگو) خصوصی طور پر دعوت کے دوران عمومی طور پر ہر حال مںی طنزوتشنعش، تضحک و تذللے، دھونس و دھمکی، جبروتشدد سے پاک نہایت شرریں اور انتہائی خوشگوار و پرکشش ہوتا ہے جسا کہ ایک مقام پر نہایت خوبصورت پروائے (طریقے) سے اس کی طرف ترغبں دیتے ہوئے ارشاد ہے { … }’’اور اگر آپ(ﷺ) سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ سب کے سب آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے۔‘‘ 9 اگرچہ بے عمل مسلمان کے لےپ بھی دین کا داعی بننے کی اجازت ہے لکن… باعمل داعی کی دعوت ہی سے کماحقہ دعوت کے اثرات ظاہر ہوتے ہںا اس لے کہ انسان کی فطرت ہے وہ کانوں سے سن سن کر نہں آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر اپنے اندر تبدیی محسوس کرتے ہوئے اسے اختایر کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ اسلام کے پھلنےک کی وجوہات مں بنامدی وجہ ہی یہ ہے کہ داعیٔ اوّل جناب محمد رسول اﷲﷺ کی زندگیٔ مبارکہ مںک مکمل طور پر دعوت اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ نمایاں، روشن اور اجاگر اظہرمن الشمس (سورج کی روشنی سے بھی زیادہ) تھی۔ اسی تناظر مں یہ بات بھی کیا جاتی ہے کہ انسان کی بوکی سب سے اخر مںک اس کی قائل ہوتی ہے اس لےر کہ اسے انسان کی زندگی کے دیکھتے رہنے کے نہایت قریب سے بہت زیادہ مواقع ملتے ہں لکنک یہ بات نبیﷺ کی ذات کے حوالے سے قطعاً غلط ہے کوانکہ تمام ازواج مطہرات مکمل طور پر ہرحال مںت نہ صرف آپﷺ کی پہلے دن سے اپنی اپنی زندگواں کے آخری دن تک قائل تھں بلکہ ذہنی، قلبی، قولی اور فعلی طور پر بلاجبر جو اپنی چاہت سے اپنی سعادت سمجھتے ہوئے تاحایت تابع فرمان (Obedient) ہی رہی ہںہ۔ (واضح رہے کہ بے عمل داعی کی دعوت اس پر سے دعوت کے فریضے کی ذمہ داری تو اتار دیی ہے اسے اجر بھی اس کے اخلاص کے مطابق دلا دیی ہے لکنہ ایی دعوت سے دعوت کے طے شدہ اثرات کا ظہور محل نظر اور قابل غور ہے۔) 10 داعی، دعوت دیتے ہوئے ثقلس الفاظ، علمی نکات، تعلیحل اصطلاحات، معلوماتی تاویلات، تشریحائی تعبرتات (Explanatory Explanation) کے بجائے عوام الناس کی ذہنی سطح پر اترکر عام فہم، آسان الفاظ اور سادی بات کے ذریعے عوام کو دین کے قریب لانے کی سودمند کوشش کرتا ہے، جس کی تفصیلات حسب ذیل ہںت۔ نفسا تی وذہنی اعتبار سے انسانوں کی تنت(3) قسمںی ہںب: (۱) وہ طبقہ جو بات سنتا ہے اور الجھتا نہںر۔ حق کو قبول کرنے کی عمدہ صلاحیت بھی رکھتا ہے او رحق کا متلاشی رہتے ہوئے بلاجھجک دللt تسلمہ بھی کرلتاب ہے ایسے لوگوں کو دعوت دین دیتے ہوئے حکمت بھرا طریقہ اختاتر کرتا ہے جس کا خلاصہ یہ ہیکہ کسی باپ کا عزیز ترین بٹاہ اپنے باپ کی محبوب ترین چزگ ضائع کردے اس موقع پر رنج او رمحبت کے جذبات سے مغلوب ہوکر سمجھانے کا جو طریقہ باپ اختایر کرتا ہے اسے حکمت سے تعبرت کات جاتا ہے۔ (۲) وہ طبقہ سلامتیٔ ذوق، ماننے کے جذبات، ذہنح اور سمجھ بوجھ کے باوجود غفلت مںا پڑا ہوا ہے۔ اس غفلت کے نتائج سے بھی ناواقف نہںٔ بلکہ اس غفلت کی چادر نے انہںا آنکھوں، ذہن اور دل سے اوجھل کردیا ہے انہںن دعوت دیتے ہوئے موعظہ حسنہ کا طریقہ اختا ر کرتا ہے جس مںا نصحتں بھرا خطاب، عبرت بھرے قصے، سادہ مثالںہ، عام فہم باریک باتںہ اور فوری طور پر سمجھ مں آجانے والے دلائل شامل ہںغ۔ (۳) وہ طبقہ جو ٹڑ ھی سوچ رکھتا ہے تحققا کے بجائے کٹ حجتی، کج بحثی اور نہ مانتے ہوئے صرف جھگڑا باقی رکھنے کے جراثمت سے مالامال ہو، جس کا سب سے بڑا کمال ہی یہ ہوتا ہے کہ خاموش نہ رہا جائے بلکہ انٹ سنٹ (Irrelevant)، اوٹ پٹانگ، بے کار، فضول بولا جاتا رہے۔ جو کی عقلی و نقلی دلائل سے مطمئن ہی نہ ہوتا ہو۔ اس کی غرااخلاقی فطرت کسی حجت کو برداشت ہی نہ کرسکتی ہو وہ صرف الزامی جواب سے ہی لاجواب ہوسکتا ہے اس طبقے کو دعوت دینے کا طریقہ مجادلہ حسنہ (Good Struggle) کہلاتا ہے اور داعی ایسے طبقہ کے لےھ اسی طریقے کو اپناتا ہے اور اس کے مجادلہ مںت نہ نفسانی جذبات کا دخل ہوتا ہے، نہ بے ڈھنگا پن ہوتا ہے، نہ ذاتاوت کی سطح پر گرنا ہوتا ہے، نہ گالم گلوچ، نہ دھونس دھمکی، نہ مارپٹائی، نہ ہاتھاپائی، نہ قتل و گارتگری صرف خر خواہی کے جذبے کے ساتھ ہدایت کی امد رکھتے ہوئے انہںہ کے تسلمے شدہ دلائل کے ذریعے انہںی قائل کرنے کی اپنی سی کوشش ہوتی ہے۔(واضح رہے کہ داعی کی اپنی کوشش کے باوجود اس طبقے کی اکثریت خاموش او رلاجواب ہونے پر مجبور تو ہوتی ہے قائل پھر بھی نہں ہوتی الامن رحم ربی’’بجز اس کے جس پر مر ا رب رحم کرے۔‘‘) 11 داعی مخاطبین کے احوال، مزاج اور مصروفا ت کی رعایت رکھتے ہوئے اپنی دعوت کو مناسب وقفوں اور ناغوں سے بھی آراستہ رکھتا ہے اور دوران تبلغں اپنی دعوت کو طویل سے طویل تر کرنے کے بجائے ان کی قبول کی صلاحیت تک ہی محدود رکھتا ہے۔ 12 داعی اپنے دیگر مبلغ ساتھووں کے ساتھ باہمی اختلاف سے بچتے ہوئے باہمی اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھتا ہے، نزہ مخاطبین کو نفرتوں اور سختورں سے دور رکھتے ہوئے خوشخبریوں اور آسانواں سے ترغبف دلاتا ہے۔ 13 داعی اگر مخاطبین کے احوال دیکھتے ہوئے محسوس کرتا ہے کہ فی الوقت ترکِ تبلغت ہی مناسب ہے تو حالات کے تقاضے کے پشر نظر عارضی طور پر ان مخاطبین کو تبلغم نہںک کرتا اس لے کہ دعوت پہنچانی ہے پھنکا کر نہںد آنی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت مںع قبولتخ کے آثار ختم ہوجاتے ہںو اور مبلغ اور داعی سے نفرت کے آثار پد ا ہوجاتے ہںن جس سے آئندہ کی قبولتا کی توقعات کے راستے کے بھی بند ہوجانے کے امکانات قوی ہوجاتے ہںا۔ 14 داعی و مبلغ مخاطبین سے ذاتی حاجات کے اسباب کے حصول کا سوال بھی نہںآ کرتا اور ان مں سے کسی سے امداد کی خواہش (اشراف) بھی اپنے دل مںی پدجا نہںک ہونے دیتا یینر مادی و مالی مکمل استغناء کے ساتھ اور مخاطبین سے مرعوب ہوئے بغرہ دعوت کا فریضہ انجام دیتا ہے(ہدایا بھی اگر بغرت مانگے ملںا تو وصول کرنے مںش احتا ط سے کام لتا ہے۔) 15 داعی و مبلغ پشھ آنے والی آزمائشوں کو صبروتحمل اور بردباری کے اوصاف (Qualities) کے ساتھ بغرل شکوہ و شکایت کے برداشت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ دعوت کے ساتھ آزمائش کا لازمی جوڑ ہے اور اس کی دو(2) قسمںQ ہںن: (۱) خالق کی طرف سے آزمائش جس مںا فراخی، تنگدستی، صحت، بماقری، متعلقنر کا جانی نقصان، مالی خسارہ، ملازمت سے برخواستگی، قرضوں کا بوجھ، اہلہآ سے عدم موافقت، بچوں کی نافرمانی، عوام الناس کی طرف سے خرےمقدم یا پیٹھ دکھانا اخلاص وریا وغروہ وغروہ مںج سے کسی ایک یا کئی ایک سے آزمانا داخل ہںے۔ (۲) مخلوق کی طرف سے آزمائش جس مںس عدم پذیرائی کے نتجےک مں ناراضگی کے ساتھ غصہ کرنا، بُرابھلا کہنا، لعنت ملامت کے ساتھ گالم گلوچ پر اُترنا، تذللر و تضحکں (Humiliation and Ridicule) کی رسوائی کے ساتھ مارپٹے اختاغر کرنا، کسی ناجائز الزام کے ساتھ گرفتار کروا دینا وغرمہ وغر ہ مںے سے کسی ایک یا کئی ایک سے آزمانا داخل ہںز۔ یہ تمام آزمائشںو داعی کی استعداد کے مطابق ہی پشف آتی ہں اور داعی کے لےں ریگ مال (ایک کھردرا کاغذ جو لکڑی اور دھات وغرخہ کی صفائی کے کام آتا ہے) کی حتوا رکھتی ہںم اور داعی اس مںی اپنی ثابت قدمی دکھاتا ہے اپنے لےو بہتری سمجھتے ہوئے اسے جھلت کر اس امتحان سے کندن (خالص سونا) اور پارس (وہ پتھر جو لوہے کو سونا بنادینے کی صلاحیت رکھتا ہے) بن کر فارغ ہوتا ہے۔ 16 داعی و مبلغ اپنے ساتھ ساتھ اپنی اس دعوتی محنت کو بھی مخلوق ہی سمجھتا ہے لہٰذا داعی ایک طرف دعاکے راستے ہادی (اﷲ تعالیٰ) سے رابطہ جوڑے رکھتا ہے اور دوسری طرف دعوت کے ذریعے عبدالہادی (اﷲ تعالیٰ کے بندے) سے بغرو کسی دنوعی غرض کے سلسلہ جوڑے رکھتا ہے۔ اس کی معراج (آخری بلندی) یہ ہے کہ بے طلب بندوں مںن بے غرض ہوکر جانا۔ (یاد رہے کہ دعوت اور دعا مںر باہمی مکمل اور مضبوط جوڑ ہے کسی ایک سے دعوت کے اثرات کا کماحقہ ظہور نہ کتابوں سے معلوم ہوتا ہے، نہ مشاہدے مںہ آیا ہے ہاں! دونوں مل کر ایک روح پرور سماں (Delecatable Spirite Atmosphere) باندھتے ہںہ، فضا خوشگوار بو سے معطر ہوجاتی ہے، انسان دم بخود رہ جاتا ہے، گمراہی دم توڑ جاتی ہے، ہدایت سر چڑھ کر بولتی ہے۔) مندرجہ بالا اصولوں کی روشنی مںہ کامانب داعی اسے ہی کہا جاسکتا ہے جو اپنی دعوت پر خود عامل بھی ہو، اﷲ تعالیٰ سے اعمال و دعا کے ذریعہ تعلق قائم رکھے۔ اخلاص و للہت کا مجسم پکرم ہو، موقع شناسی، مزاج شناسی اور مردم شناسی کے اوصاف سے بہرہ مند(فائدہ اٹھانے والا) ہو، مخاطبین کے ساتھ جذبۂ خری خواہی رکھے، ان کی کڑوی کسیاس (Bitter) اور ناخوشگوار رویوں کو برداشت کرے، اﷲ تعالیٰ سے آزمائشںا نہ مانگے لکنی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں کو اپنے حق مں، بہتر سمجھتے ہوئے ان کا استقبال کرے اور اﷲ تعالیٰ کے دربار کے رجوع کو مزید مستحکم و مضبوط بنائے۔ ہدایت کو اﷲ تعالیٰ ہی کا مکمل اختالر ینال کرتے ہوئے دعوت مںا کوتاہی نہ کرے اور دعا سے غافل نہ رہے۔ آخر مںت دورِحاضر کے علمائ، صلحائ، خطبائ، ائمہ، مدرسنے، واعظین اور مبلغنم سے چند گزارشات (Requests) کرتے ہوئے عرض ہے کہ : (۱) عوام الناس ہماری وضع قطع، رہن سہن، گفتار، کردار اور رویوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہںت کہ ییم اسلام کا ’’عملی نمونہ‘‘ ہے اگر واقعی ہم اسلام کا عملی مجسمہ اور پکرا ہںخ تو لائق تحسنک اور قابل مبارکباد ہںت اﷲ تعالیٰ ہمںا اس پر استقامت کی دولت پر قائم رکھتے ہوئے مزید ترقی عطا فرماتے ہوئے { } ’’ایک اعلیٰ مقام مںں قدرت والے بادشاہ کے نزدیک۔‘‘ کے مرتبے پر فائز فرمائے۔ اگر اس مںا ہم کوتاہی کے مرتکب ہں تو آج کے بے عمل مسلمان بھی ہماری ان کوتاہومں کو صرف نظر کرنے کے لے تا ر نہںم نزر ہماری یہ کوتاہی عنداﷲ بھی عذر نہںم بن سکتی بلکہ ہمارا یہ ’’دعوتی علم و بے عملی‘‘ خود ہم پر حجت بن رہی ہے۔ (۲) تبلغہ کے دو (۲) جزو ہںم اوّل اپنی ذات کی اصلاح دوم دوسروں تک دین حق پہنچانا (اس مںے مسلم و غرامسلم تک دعوت پہنچانا شامل ہںغ) لکنہ دورِحاضر کا تشویش ناک (Anxiety) المہم یہ ہے کہ ہم نے من حثر المجموع اپنی ذات کی اصلاح کے جزو کو تقریباً تقریباً پس پشت ڈال کر بالکل فراموش کررکھا ہے حالانکہ اس مںy دوسروں کی مداخلاتی رکاوٹ بھی نہںے ہے۔ (۳) دیگر مسلمانوں کی طرح مبلغنل پر بھی دعوت و تبلغن کی ذمہ داریوں کے ساتھ معاشی، معاشرتی، منزلی (گھریلو) خاندانی، ہمسائیا ، ہم سفروں، ہم سبقوں اور ساتھوپں وغرتہ کے حقوق کی ادائیو کی ذمہ داری بھی ہے لکن بصد افسوس ان تمام شعبوں کے معاملات من حثً المجموع قریب قریب ہم نے آنکھوں سے اوجھل کررکھے ہں ۔ (۴) اسلام نے ہمارے اوپر ہمارے نفس کا بھی حق رکھا ہے او رزیرکفالت (Under Responsibilty) افراد کی بھی ذمہ داری ڈالی ہے لکنن کمال حسرت ہے کہ ہم مںت سے بعض نے اپنے نفسوں پر ظلم روا رکھا ہوا ہے اور بعض نے زیرکفالت افراد کی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختاکر کرتے ہوئے انہں دوسروں کا دست نگر (محتاج) بناکر ان کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ (۵) ہم نے تبلیما اسفار کو ہرحال میںکلی طور پر مقدم سمجھ رکھا ہے جبکہ بعض اوقات عارضی طور پر دوسرے امور قابل ترجح (Preferenceable) ہوتے ہں یہ انتہائی نازک اور اہم فصلہج ہوتا ہے لہٰذا اس باب مںے جذبات سے مغلوب ہوکر یا اپنا شوق پورا کرنے کے حوالے سے فصلہ نںکو ہونا چاہےئ بلکہ اہم کو اوّلنج اہمتہ دی جانی چاہے ۔ (۶) ہم نے بزبان قال (زبانی طور پر) تو نہںھ بزبان حال (عملی طور پر) اپنے مقابلے مںح دوسروں کی تحقراکے رویّے اپنا لےر ہںب یہ حقارت اپنے ہم فکر ساتھواں، دین کے دوسرے شعبوں کے لوگوں، بے دین افراد سے متعلق محسوس کی جاسکتی ہے حالانکہ ’’نفرت مجرم سے نہںہ جرم سے‘‘ کے اصول کے تناظر مںہ حقارت نہ مسلمان سے، نہ کافر سے اور نہ ہی کسی جاندار سے جائز ہے لکنہ ہم نے بے محل، بے جا اور بے دریغ غرامحسوس طریقے سے اپنا رکھی ہے جو زہرِقاتل ہے۔ حاشا وکلا(ہرگز نہںے) مندرجہ بالا امور کی نشاندہی عناداً (Enmity) یا تنقدیاً نہںا ہے بلکہ خر خواہی کے جذبے کے ساتھ تدارک (درستی و اصلاح) کے حوالے سے اہمتو دلانے کی خاطر ہے۔) تبلیہم اسفار مں اوقات کی حفاظت کے حوالے سے درج ذیل بعض اصولوں مںن اپنے اوقات کو صرف کاخ جائے جن مں بعض کام خوب کرنے ہںی، بعض کام کم کرنے ہںق، بعض کام بالکل نہں کرنے ہںد: خوب کرنے والے بعض کام: 1 انفرادی، اجتماعی دعوت (باmن) مںد اپنے اوقات زیادہ سے زیادہ گزارنا۔ 2 دعوت سے بچ جانے والے اوقات کو زیادہ سے زیادہ انفرادی، اجتماعی تعلم مںہ خرچ کرنا۔ 3 دعوت و تعلمج سے فارغ اوقات کو عبادت (قضاء عمری، نوافل، تلاوت، ذکراﷲ، درودشریف، استغفار دعاء وغر۔ہ) مںب استعمال کرنا۔ 4 دعوت تعلمل و عبادت سے فارغ اوقات کو کمزور و ضعفق ساتھودں کی خدمت مں صرف کرنا۔ کم سے کم کرنے والے بعض کام: 1 کم کھانا (یینو ضرورت کے مطابق کھانا۔) 2 کم سونا(یینو ضرورت کے مطابق سونا۔) 3 مسجد مںا ضرورت کے تحت دنوتی باتں کم سے کم کرنا۔ 4 اپنی ضروریات کے تحت بھی مسجد سے باہر کم سے کم نکلنا۔ بالکل نہ کرنے والے بعض کام: 1 مخلوق سے سوال نہ کرنا۔ 2 سوال کا خاول دل مںت بھی نہ لانا (اس کو اشراف کہا جاتا ہے۔) 3 کسی کی چز اس کی اجازت کے بغر استعمال مںت نہ لانا (اجازت کے باوجود اس کے استعمال کے مواقع پر استعمال نہ کرنا۔) 4 فضول خرچی نہ کرنا۔ (واضح رہے کہ مندرجہ بالا ذکر کردہ اصول باعتبارحصر نہںی ہںغ ان مںس مزید اضافوں کی گنجائش ہے۔) دعوت سننے کے آداب: 1 قبولتر اور حق کو تسلمص کرنے کے جذبے سے سُنے۔ 2 بشرط معقولتا تسلمی (مان لے) کرلے۔ 3 سُننے کے دوران دل کو کھلت کود، بے توجہی سے پاک رکھے۔ 4 زبان کو کثرت سوال اور فضول احتمالات و شبہات سے محفوظ رکھے وغرےہ وغرکہ۔ نکتہ: اﷲ تعالیٰ نے اپنے راستے کے تعنی (Fixation) کے لےص اپنی تمام صفات مںے سے { } کہتے ہوئے صفت رب کا انتخاب فرمایا ہے۔ جو اپنے اندر نہایت باریک مگر روح پرور و مسحور کن لطافت (لذت) رکھتی ہے اس اجمال کی تفصلی حسب ذیل ہے: رب اس ذات کو کہتے ہںع جو پلنے والے کی ذہنی و جسمانی استعداد کے مطابق بتدریج اور آہستہ آہستہ پالتے ہوئے اسے صفت کمال تک پہنچاتی ہے۔ لہٰذا داعی بھی مخاطبین کے ذہنی معدے (Mental Accommodation) کے مطابق دعوتی غذا فراہم کرتے ہوئے ان کی استعداد بڑھاتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ مخاطبین بھی داعی بن جاتے ہں ۔ داعیٔ حق کی چند صفات: یہ ایک مسلمہ حققتد ہے کہ اس دنا مںا بھجاب جانے والا ہر ہر انسان اسلام قبول کرنے کی صلاحیت،استعداد دے کر ہی بھجاو جاتاہے۔ اس مسلمہ حققتک کے ساتھ ایک ناقابل تردید حققتی یہ بھی ہے کہ ہر انسان نفس شاکطنو کے مکر وفریب سے بھی اس دناح مںت الجھایا گا ہے نفس انسان کاداخلی اورچھپا ہوا دشمن ہے جو کہ برائی ہی پر آمادہ رکھتاہے شااطنو انسان کے خارجی اورکھلے دشمن ہیںجو نافرمانی کے کاموں کو مزین اورمزے داربناکرفوری طور پر کر لنےہ پر مایوس ہوئے بغرھاکساتے رہتے ہںح۔ اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے نظام دعوت قائم فرمایا ہے جو نظام رسالت کے ساتھ اس معنیٰ مں منسلک (Attached )ہے کہ جب تک نظام رسالت جاری رہا انبیاء ورسل علہما الصلوٰۃ والسلام اس نظام دعوت کوقائم فرماتے رہے اورجب جناب محمد رسولﷺ پر نظام رسالت کی تکملر فرمادی گئی تو نظام دعوت کو قا مت تک جاری و ساری قائم ودائم رکھنے کے لےe نبیﷺ کی ختم نبوت کے طفلن(Source )امت مسلمہ کی طرف منتقل کردیاگا ۔ نفس وشایطنہ پرشریعت اسلام کا جو نظام سب سے زیادہ بھاری ہے وہ دعوت ہی کا نظام ہے اس لے کہ اس کے نتجےت میںنفس وشانطنی کی ساری مادی دلربا ودلکش ومزیدار محنت رائگامں چلی جاتی ہے۔انسان اگر چہ نفس وشاجطنا کے مکر وفریب سے متاثر ہوکر اپنی تباہی کے راستے کی طرف چل نکلتا ہے لکنا جسے ہی حق کی دعوت اس کے دل کے کانوں تک پہنچتی ہے{ }’’ کان ایمان والوں کے لے اس بات کا وقت نہںم آیا کہ ان کے دل اﷲ (تعالیٰ) کے ذکر کے لےا عاجزی (اطاعت) اختاار کریں۔‘‘ قبول کی حق کی صلاحیت واستعداد اس کی دستگرشی کرلییہ ہے اور آن واحد(Immediately)مں وہ بدلا ہوا انسان بن جاتا ہے۔ ہر زمانے مںe طاغوتی وشا طین قوتوں کی سر توڑ(Extreme )کوششںک یی رہی ہںک کہ کسی طرح اسلام کا یہ دعوتی نظام بالکل بند ہوجائے یا ایسا کمزور پڑجائے کہ اس کی اصل روح ہی نکل جائے یا اس کا رخ کچھ اس انداز سے تبدیل ہوجائے کہ شکل باقی رہے حققتئ بدل جائے مثلاً للٰھیت نکل کر شخصاتت کے گرد گھومنے لگے۔اپنے اس مکروہ منصوبے پرعمل کے لےس مشاہدہ یی بتلاتا ہے کہ انہوں نے دوکام کے ایک یہ کہ لوگ اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اورجس طرح ممکن ہو اس نظام وآواز کو دبا دیا جائے۔ دوسرا کام یہ کائ کہ خود داعی کے جذبات بھڑکا کر ان کو دعوت الی اللہ کا کام بھلا کر لوگوں سے لڑادیا جائے یا ان میںآپس مں پھوٹ(Discord) دلوادی جائے۔ دشمنان اسلام اپنے اس ایجنڈے پر پورے زور وشور سے روز اول سے آج تک کام کررہے ہںط اور تاقاامت اس پر عمل پردا رہںا گے لکنن ان شاء اللہ تعالیٰ دعوتی نظام بھی اپنی مخصوص رفتار سے ان شور شرابوں مں سے اپنی راہ بناتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے گا یہاں تک کہ اسلام کا یہ پغا م ہرکچے پکے گھر میںداخل نہ ہوجائے۔ اس دعوتی نظام کی بقا(Life )کا راز یہ ہے کہ اسلام نے داعی کو چند صفات پر ہمیگم کے ساتھ کاربند(Acting up) رہنے کی دعوت دی ہے جو کہ درج ذیل ہںل: 1…حق کی دعوت دینے والا خود نہایت بردبار(Forbearing )ٹھندے مزاج اوروسعد الظرف کا مالک ہوتا کہ مخالفنک یا اپنے ساتھودں کی طرف سے دانستہ یا نادانستہ پہنچنے والی ایذاؤں (سخت کلامی،تکذیب،طعنہ زنی،شرارتوں حتیٰ کہ مارپٹو)کو خنداں پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے بدلہ لنےا کی اجازت کے باوجود معاف کردے اوربد دعا کے بجائے ان کے لےد دعا کرے۔اس دعوتی مزاج کی مداومت(Continuance )سے مخالفنج کا زور ٹوٹے گا اورداعو ں کے حلقۂ احباب مںر غرم محسوس طریقوں سے غرو معمولی اضافہ ہوتا رہے گا۔ 2…حق کی دعوت دینے والے کی باتںس اتنی عام فہم،سادہ اوربھلائی کی ہوں جنہںی ہر خاص وعام جانتا بھی ہے اورمانتا بھی ہے۔جب باتں… اییو عام اورمسلمہ ہوں گی تو مخالفت کرنے والوں سے عوام الناس کی اکثریت خود بخود دور ہوتی چلی جائے گی۔ 3…حق کی دعوت دینے والے مخالفنا کی مخالفتوں سے کوئی سروکار نہ رکھں ان کی طعن وتشنعر،ان کی حجت بازیوں،ان کے جھگڑوں اوربدزبانوعں کا نوٹس ہی نہ لںف۔ اگر وہ دعوت سننے پر آمادہ نہ ہورہے ہوں تو ان جاہلوں سے صرف نظر(Disregard) کرکے ان لوگوں کا انتخاب کریں جو بات سننے کے لےف تاور ہوں اس لےو کہ ان سے الجھنے کی صورت میںدعوت دب جائے گی اورییگ ان کا مقصد ہے۔ لہٰذا اس احتانط کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ 4…انسان ہونے کے ناطے داعی حق کے دل مں مخالفنظ کے ظالمانہ رویوں کے خلاف مخالفانہ جذبات پدوا ہوسکتے ہںب اییر صورتحال پر قابو پانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ان مخالفانہ جذبات کو شطاکن ہی کی طرف سے سمجھتے ہوئے فوراً اللہ تعالیٰ کی پناہ(Protection )حاصل کرے ورنہ اس سے دعوت کو نقصان پہنچادینے والی حرکت سرزد ہوسکتی ہے جس کا نتجہے دعوت کے ساتھ ساتھ داعی کے حق میںبھی غلط ہوسکتاہے مندرجہ بالا ان دعوتی صفات کو عام معاشرتی زندگوسں مںی بھی اپنا لاتجائے تو معاشرے کی شطا نی ٹوٹ پھوٹ کا بھی قلع قمع(خاتمہ)(Finish )ہوسکتا ہے۔ شاہطیل قوتوں نے ان باہمی جھگڑوں مں الجھا کر،اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کافلسفہ سمجھا کر،مراے جسات دوسرا نہںا جیتی خود ستائی (Self-praise) مںش مبتلا کرکے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنواکر اپنی اپنی مونچھںn (Moustaches ) اونچی رکھنے جسے فضول کاموں مں انسانی بہترین صلاحیتیںلگوارکھی ہںھ۔ اس کے مقابلے مںپ آقاﷺ کی یہ تعلمt کتنی خوبصورت، کینے زود اثر(Sooneffect )اور کات خوب فائدہ مند ہے’’مرکے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ غضب اوررضا دونوں حالتوں میںانصاف کی بات کہوں،جو مجھ سے کٹے مںک اس سے جڑوں،جو مجھے مرtے حق سے محروم کرے مں اس کا حق دوں،جو مر ے ساتھ ظلم کرے اس کو معاف کردوں۔‘‘ امر بالمعروف ونہی عن المنکرکی اہمتم وضرورت اللہ تعالیٰ کے علم ومنشا کے مطابق بلاشبہ یہ بات طے تھی کہ انسانی ہدایت کا نظام چلانے کلئےو نبوت ورسالت کا جو سلسلہ جاری فرمایا گال ہے اسے جناب محمد رسول اللہﷺ پر مکمل کر دیا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ کے ذریعے ایک ایسا مربوط نظام انسانت کو دے دیا جائے گا جس مںس دناب اور آخرت کی نہ صرف سو فصد مکمل کاماےبی کی ضمانت ہو گی بلکہ اس کے علاوہ کے نظام سر اسر ناکام ہوں گے اور رسول اللہ ﷺ کے ذریعے ملنے والا نظام بناردی طور پر ناقابل ترممم و تنسخا بھی ہوگا۔ اور یہ ابدی پغاہم قاکمت تک کی انسانتہ تک پہنچانے کا فریضہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے ذمے ہوگا چنانچہ اس حققت کے تناظر مںا { … الخ} وغر ہ آیات مبارکہ کے مفہوم پر غور کرنے سے یی معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے ظہور کا مقصد ہی ییے ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے گی اور اس امت کا ہر ہر فرد اس کا ذمہ دار ہوگا۔ ییا مفہوم ایک دوسری آیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے، ارشاد ہے { … } ’’آپ(ﷺ) کہہ دیجئے یہ ہے مرتا راستہ کہ مںہ اللہ کی طرف بلاتا ہوں سمجھ بوجھ کر مںا اور جتنے مربے تابعدار ہںد‘‘ یینس جو بھی رسول اللہﷺ کا متبع ہے وہ اللہ تعالیٰ(کے دین کی طرف) دوسروں کو بلانے کا فریضہ انجام دے گا۔ ییر بات خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے اس اعلان سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو موجود ہں وہ غائبین کو مریا یہ پغاتم پہنچا دیں یینس جس کسی کو دین کی جو بات معلوم ہو وہ اس بات کو دوسروںتک پہنچائے اس لئے کہ بہت سے لوگ جنہںو دین کی باتںک پہنچائی جائںی وہ سننے والوں سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہوتے ہںس البتہ مسائل واحکام کا وعظ ودرس اسے دینا چاہےی جو ان مسائل واحکامات کی پوری حققتن سے واقف ہو یینو علمائے کرام، یقینا معاشرے مںم ایسے لوگوں کی تعداد تھوڑی ہی ہوتی ہے اس لئے کہ شریعت مں اس حتالے کا علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے۔ اور اییب ایک جماعت کا ہونا کافی بھی ہے اگر اییح ایک جماعت بھی معاشرے مںت موجود نہ ہو تو پورا معاشرہ گنہگار ہوگا۔ اس جماعت کا بطور خاص یہ کام ہوگا کہ مسائل واحکام کو وعظ ونصحتی ،درس وتدریس،تقریر و تحریر اور تصنف وتالفق کے ذرائع سے لوگوں کو بتلائںا۔ اس انداز کا کام اگرچہ علمائے کرام کے ذمے ہے۔ لکن عام سادہ انداز سے مطلقاً دین کا پغارم پہنچانا اس امت کے ہر ہر فرد پر لازم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی یہ کام کا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وفود کو یا کسی کو قاصد بنا کر بھی اس مقصد کلئے روانہ فرمایا یہاں تک کہ سلاطن کے نام خطوط لکھوا کر بھی قاصد کے ذریعے بھجے ۔ دین وشریعت مںک اس کام کو مختلف عنوانات سے واضح کاا گان ہے کہںف بھلائی کی طرف بلانے، کہںہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر، کہںل دعوت الی اللہ، کہںم سبلخ ربک کی طرف بلانے، کہںج اللہ تعالیٰ کے راستے مں کوشش کرنے، کہں اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے، کہںل اللہ تعالیٰ کے راستے مں جان دینے ، کہںع تعلمل وتعلم ، کہں تزکۂک نفوس، کہںت دعوت وتبلغ کے عنوانات قائم کئے گئے ہںک ان سب کے مقاصد اور نتائج یکساں ہںں۔ مسلمانوں کی ساڑھے چودہ سو سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں مںر دعوت دین کا کام کمزور ہوا ہے اس کے برے نتائج امت مسلمہ پر رسوا کن حد تک نازل ہوئے ہںٰ ۔ اللہ تعالیٰ امت کے تمام طبقات مںب یہ احساس کما حقہ اجاگر فرمادے۔آمنم! نہی عن المنکر کے حکم کی تعملی مں اعتدال کی راہ: دین اسلام نے اپنے ہر ماننے والے(Believer)کو جہاں اس بات کا پابند(Abide by) بنایا ہے کہ وہ خود بھلائی کے کاموں کو اختایر کرے اور بُرائی کے کاموں سے بچے۔ وہاں اسے یہ بھی ذمہ داری دی ہے کہ وہ معاشرے کے دوسرے افراد کو بھلائی کا حکم دے اور برائواں سے روکے۔ قرآن مجدے کی متعدد آیات اور رسول اﷲﷺ کی متعدد احادیث اس باب مںک بالکل صاف اور واضح ہں جن مںں اس شعبے کو قائم کرنے کی تعلمم، باقی رکھنے پر خوشخبریوں اور ثواب کے ذکر سے ترغبک اور قائم نہ کرنے پر اور بالکل چھوڑ دینے پر بُرے حالات اور عذاب کے ذکر سے ترہبک (ڈراوے)(Fears) سمجھ مںن آتی ہے۔ لکنب اس کے ساتھ ساتھ اس باب مں ایی روایات بھی ملتی ہںa جن مںم بطور خاص زمانے کے حالات اور انسانی مزاج کی رعایت بھی علماء نے سمجھی ہے اور اس سلسلے مں عوام الناس کی رہنمائی فرمائی ہے۔ ان روایات کے مفہوم درج ذیل ہں : 1: جو شخص تم مںا سے کسی ناجائز کام کو ہوتے ہوئے دیکھے اس کو ہاتھ سے بدل ڈالے اگر اس کی قدرت نہ ہو تو زبان سے منع کردے اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو دل سے اس کو بُرا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کم درجہ ہے۔ 2: جب تو دیکھے کہ آدموتں کے عہدوپماھن گڑبڑ ہوگئے اور امانتں ہلکی پڑگئںو (یینا ان کا اہتمام نہں رہا) اور (ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ مںو ڈال کرارشاد فرمایا کہ) جب تو دیکھے کہ لوگ اس طرح آپس مںپ گڑبڑ ہوگئے (کنایہ ہے حق ناحق، بھلے بُرے کے آپس مں مخلوط اور غریممتاز ہوجانے سے) تو اپنے گھر مںب بیٹھ جانا اور زبان کو روک لناں، جائز امور کو اختاہر کرنا اور ناجائز سے پرہز کرنا اور اپنے آپ کو سنبھالے رکھنا اور عوام کو (ان کے حال پر) چھوڑ دینا۔ 3: نبی اکرمﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اچھی باتوں کا حکم کرتے رہو اور بُری باتوں سے روکتے رہو البتہ جب تم یہ دیکھو کہ بخل کی فرمانبرداری کی جاتی ہے اور خواہشات نفس کی پرروی کی جاتی ہے اور دنا کو (دین پر) ترجحا دی جاتی ہے اور ہر ذی رائے اپنی رائے کو بہتر سمجھتا ہے (یینا خودرائی عام ہوجائے) اور اییے حالت کو دیکھے کہ (خاموشی کے علاوہ کوئی) چارہ کار نہںی تو اپنے نفس (ہی) کی خبرگرای کرتے رہنا (مبادا کسی فساد مںہ مبتلا ہوجائے) اور عامۃ الناس کو (ان کے حال پر) چھوڑ دینا عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ (اپنے دین پر) صبر کرنا ایسا ہوگا گویا آگ کی چنگاری ہاتھ مںا لناا۔ 4: ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا کہ تم کو بہترین شخص بتاؤں کون ہے؟ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے عرض کاں ضرور بتائےپ ارشاد فرمایا کہ وہ شخص ہے جو گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اﷲ تعالیٰ کے راستے مں رہے یہاں تک کہ مرجائے یا شہدہ ہوجائے پھر ارشاد فرمایا بتاؤں کہ اس کے بعد کون شخص بہترین ہے، صحابہ رضی اﷲ عنہم نے عرض کای ضرور بتائےا ارشاد فرمایا کہ وہ شخص جو کسی گھاٹی مںا الگ جا پڑا ہو، نماز کو قائم رکھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور لوگوں کے شرور سے محفوظ ہو۔ 5: حضرت عقبہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہں کہ مںح نے حضور ﷺ سے عرض کاظ کہ نجات کی کاض صورت ہے؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی زبان کو روکے رکھو، گھر مںٰ پڑے رہو، اپنی خطاؤں پہ روتے رہو۔ 6: ایک حدیث مںا آیا ہے کہ جو شخص کسی ناجائز کام مںر شریک ہو مگر اس کو بُرا سمجھتا ہو (دل سے اس پر نفرت کرتا ہو گو کسی مجبوری سے اس مںث شریک ہو) وہ ایسا ہے جساو کہ اس مںک شریک نہںو ہے اور جو شخص اس مںٹ شریک نہ ہو اور اس کو پسند کرتا ہو وہ ایسا ہے جسام کہ اس مںہ شریک ہے۔ 7: نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ آدمی کا بہترین مال چند بکریاں ہوںجن کو لکرو وہ پہاڑ کی چوٹو:ں پر اور ایسے مواقع پر جاپڑے جہاں بارش ہوتی رہتی ہو کہ اپنے دین کی وجہ سے فتنوں سے بھاگتا ہو۔ 8: حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہںی کہ رسول اﷲﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ مؤمن کے لے مناسب نہںب ہے کہ وہ اپنے نفس کو ذللا کرے صحابہ رضی اﷲ عنہم نے عرض کاو کہ اپنے نفس کو کس طرح ذللا کرے گا۔ ارشاد ہوا کہ ایین بلا(مشقت) مںا داخل ہو جس کا تحمل نہںک کرسکتا۔ 9: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ، نبیﷺ کا ارشاد مبارک نقل فرماتے ہںی کہ اﷲ جل شانہ اس بندے کو محبوب رکھتے ہںا جو متقی ہو اور مخفی ہو۔ قرآن وحدیث (دین اسلام) مں۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے جیکہ اور جتنی تعلماےت(Teachings) ملتی ہںآ انہںی یکجا کرنے کے بعد درج ذیل نکات(Points) سمجھ مںک آتے ہںر جن کی روشنی مںت خصوصاً نہی عن المنکر کے حوالے سے ہر شخص اپنے مزاج اور معاشرے کے حالات کے مطابق اپنے لےذ طریقۂ کار بناسکتا ہے۔ 1: شریعت نے جن تمام کاموں اور باتوں کو ناپسندیدہ، ناجائز اور حرام قرار دیتے ہوئے ان سے باز رہنے کی تعلم دی ہے اصطلاح مں انہںر منکرات (Prohibited) کہا جاتا ہے جو منکر کی جمع ہے۔ 2: ان تمام منکرات کو دل سے ہمشہ بُرا ماننا ہر مسلمان کے لےا لازمی اور ضروری ہے۔ 3: ہر مسلمان کو ذاتی طور پر ازخود ان تمام منکرات کو تاحاست چھوڑے رکھنا چاہے اگر غلطی سے سرزد ہوجائں تو متعلقہ حقوق کی ادائیذا کے ساتھ ساتھ توبہ واستغفار کے ذریعے اس کا ازالہ کرلناد چاہےہ ۔ 4: معاشرے مںد پھلے ہوئے منکرات کو ختم کرانے کی اصل ذمہ داری حاکم وقت کی ہے۔ 5: معاشرے کا ہرہر فرد بھی اپنے اپنے دائرہ اختا ر(The domain) مںر آنے والے ماتحت افراد کا راعی (ذمہ داروحاکم) ہے۔ 6: مومن مردوں اور مومن عورتوں مںو پائی جانے والی خصوصاست مںر سے ایک خصوصتی(Property) یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہں ۔ 7: نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والوں کے حوالے سے تنں درجات قائم کےر گئے ہں : (1)طاقت کا استعمال (2)زبان کا استعمال (3)دل سے بُرا جاننا۔ طاقت کا استعمال: جن مسلمانوں مںع ذاتی وجاہت، اثرورسوخ اور مادی وجسمانی طاقت اییے مضبوط ہے کہ وہ بزور قوت(Forcefully) بُرائی کو بھلائی سے بدل سکتے ہں انہںی درج ذیل احتا طوں کے ساتھ اپنی اس قوت کو لازمی طور پر استعمال کرنا چاہے): i: گناہ سے نفرت ہو گناہگار سے نہںت (یینا آپس کے تعلقات اور محبت کی وجہ سے نہ وہ برائی اپنے دل مں ہلکی سمجھی جائے اور نہ ہی گناہگار کے اندر پائی جانے والی صفت اسلام نظرانداز ہوجائے۔) ii: طاقت کا استعمال اسلام کے غلبے کے لے ہو اپنے ذاتی غلبے(Personal domination) کے لےپ نہ ہو (یین اﷲ تعالیٰ کی رضا کی نت اور اخلاص ہمشہے برقرار رہے۔) iii: طاقت کا یہ استعمال اپنے دائرہ اختاار مںن آنے والے ماتحت افراد ہی پر کرے۔ تاکہ حاکم وقت کے دائرہ اختایر کی نفی نہ ہو۔ iv: طاقت کے استعمال کے نتجےے مں اپنے اوپر آنے والی جانی، مالی، وجاہتی آزمائشوں کو برداشت(Tolerate) کرنے کا حوصلہ ہو۔ v: طاقت کا ایسا بے محل، بے جا اور بے دریغ استعمال نہ ہو کہ لوگ دین اسلام سے نفرت کرنے والے اور بغاوت کرنے والے بن جائںط۔( وغرےہ وغراہ) زبان کا استعمال: جن مسلمانوں کے اندر بزور قوت برائی کو روکنے کی طاقت نہ ہو اور زبان سے منع کرنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ ان کے لے درج ذیل احتا طوں کے ساتھ زبان جس مںی قلم بھی داخل ہے (یینز تقریر وتحریر) کا استعمال ضروری ہے۔ i: کسی بھی حال مں اخلاص اور جذبۂ خرےخواہی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔ ii: کسی بھی حال مںا استہزاء ومذاق، طنزوتشنعا کو تقریر وتحریر کی بناضد نہ بنایا جائے۔ iii: ہر حال مںے برائی کو ایسے مناسب انداز مںن با ن کاھجائے کہ اس سے نفرت اجاگر (روشن، ظاہر) ہو۔ iv: تقریروتحریر مںل اییت تنقدد نہ ہو جس سے گنہگار یا حاکم وقت کی تنقصگ کا پہلو (Criticism) نکلتا ہو۔ v: تقریروتحریر کے نتجے مںت آنے والی آزمائشوں کے تحمل وبرداشت (Endurance and tolerance) کا حوصلہ ہو۔(وغرںہ وغر ہ) دل سے بُرا جاننا: جن مسلمانوں کے اندر ہاتھ وزبان کے استعمال کی استطاعت(Competency) نہ ہو ان کے لےم بالکل آخری اور کمزور درجہ یہ ہے کہ وہ ان تمام برائوےں کو دل سے بُرا جانں ۔ ایمان کو بچانے کی یہ بالکل آخری سرحد ہے۔ اگر معاشرے مںو پھی ک ہوئی ان برائوeں کو دل سے بھی بُرا نہ جانا اور بُرے لوگوں سے دلی تعلقات (Relationship of affection) قائم رکھے تو اس بات کا ییُر خطرہ ہے کہ آہستہ آہستہ خود بھی ایمان بچانے کی اس آخری سرحد کو توڑ کر ان جسےi ہوجائںi یا اس رویے کے اختاار کرنے کے نتجےم مںن اﷲ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق بن جائںے اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے دور کردیے جائںئ جسام کہ بنی اسرائلئ کردیے گئے۔ 8: اگر نہی عن المنکرکا فریضہ انجام دینے والے نہی عن المنکرکے نتجے مں مغلوب(Overwhelm) ہوجائں یا کسی نقصان مںی مبتلا ہوجانے کا ییسے خطرہ ہو تو اس فریضے کی انجام دہی سے (عارضی طور پر ہی سہی) رک جانے کی گنجائش ہے۔ 9: نہی عن المنکر کا ایک مفدی طریقہ یہ بھی ہے کہ بُرے آدمی کو حکمت کے ساتھ بھلے کاموں کے اختابر کرنے پر آمادہ کرلا جائے اس لےن کہ تمام بھلے کاموں (Good deeds) مں اییل قدرتی طاقت ہے کہ اگر وہ اصولوں کی رعایت کے ساتھ اخلاص سے کےا جائںک تو برائا(ں خودبخود چھوٹ جائںی گی۔ 10: بھلے کاموں پر آمادہ کرنے کا ایک مفدی طریقہ یہ بھی ہے کہ نیگر کی مجلسوں مںک شرکت پر آمادہ کرکے اچھی صحبتں فراہم کی جاتی رہںم انشاء اﷲ غردمحسوس طریقے سے اعتقادی وعملی برائایں نو م ں سے تبدیل ہوتی رہںے گی۔ 11: دعا مومن کا ایک مضبوط ہتھاار ہے جس کی اہمتی تمام مخلوقاتی کوششوں کے باوجود برقرار رہتی ہے لہٰذا نہی عن المنکر کے باب مں بھی اس ہتھاور کو مقدم اور سرفہرست رکھنا لازمی اور ضروری ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکس پر ہے کس پر نہںی ؟ علمائے کرام فرماتے ہںھ کہ جو شخص امربالمعروف او ر نہی عن المنکرپر قادر ہو یینر اسے اس بات کا ینر ہو کہ اس کے اچھی بات کا حکم دینے اور بری بات سے روکنے کے نتجے مںت اس کو کوئی بڑا نقصان نہںے پہنچے گا تو اس کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص اس پر قدرت نہںج رکھتا بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نتجےس مںو اسے کسی بڑے نقصان کا ینور ہے تو اس پر واجب کاموں کا حکم دینا اور حرام کاموں سے منع کرنا بھی واجب نہںع ‘ چہ جائکہ نفل اور مستحب امورہوں۔ تاہم اگر ہر شخص کو یہ اختامر دے دیاجائے کہ وہ خود اس بات کا فصلہ کرے کہ اس پر امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم عائد ہوتا ہے یا نہںک؟ تو نفس اور شطاان کی چال بازی (Playing tricks) سے ہر شخص اپنے آپ کو اس عظمت ذمہ داری سے معذور تصور کرکے بیٹھ جائے گا۔ اسلئے اپنے حالات باون کرکے علمائے کرام اور مفتاnن عظام سے پوچھ لناآ چاہئے کہ ان پر یہ حکم لازم ہے یا نہںر؟ یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کے قابل ہے کہ جو شخص معذور قرار دے دیا جائے ضروری نہں کہ وہ ہر جگہ معذور ہو بلکہ ہر شخص کہںر نہ کہںا کسی نہ کسی درجے مںک طاقت اور استطاعت کا مالک ضرورہوتا ہے۔ اگر حکومتی سطح پر یہ فریضہ ادا نہں کرسکتا تو اپنے شہر‘ گلی ‘ محلہ مںن ادا کرے، اگر اس کی بھی قدرت نہںا رکھتا تو اپنے زیرتربتہ شاگردوں، ماتحت لوگوں، تعلق والوں، قرابت داروںو عزیزوں اور اپنے گھر مںہ موجود بوکی بچوں اور گھر کے دوسرے لوگوں مںک اس فرض کو ادا کرے۔ جہاں ہاتھ سے اس فرض کو انجام نہںں دے سکتا وہاں زبان اورقلم کو کام مںگ لائے ۔آخری درجے مںر برائی کو برائی سمجھنے اور اس پر دل مںج رنج اورافسوس کرنے کے حکم سے تو کوئی بھی کلمہ پڑھنے والا مسلمان بری الذمہ قرار نہںر دیاجا سکتا۔ انسان کی اصلاح کے تنے اصول : 1۔ ہر وقت دین کی دعوت دی جائے ۔2۔ نیرش کا حکم کار جائے۔3۔برائی سے روکا جائے۔ ایمان کے تنص درجے: علمائے کرام فرماتے ہںص کہ برائی کو طاقت سے روکنا ہر ایک پر لازم نہںح بلکہ یہ حکومت کا فرض ہے البتہ ہر انسان پر لازم ہے کہ اپنے گھر ‘ اپنے ماتحتوں (Subordinates) اور حلقۂ اثر مں برائی کو طاقت سے روکے۔ حدیث شریف کے بموجب یہ ایمان کا سب سے کامل درجہ ہے۔زبان سے روکنا ایمان کا دوسرا درجہ ہے اس سلسلے مںب سب سے زیادہ ذمہ داری علمائے کرام اور علم والوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ برائی کو دیکھنے کے بعد خاموش تماشائی (Silent spectators) بن کر نہ بٹھےر رہں جس طرح آج کل کمال اس کو سمجھا جاتا ہے کہ آدمی جس جگہ جائے اسی رنگ مںس رنگ جائے ، بلکہ برائی کے خلاف احتجاج کریں اور آواز اٹھائںو ۔ برائی کو دل سے براسمجھنا ایمان کا آخری اور کمزور ترین درجہ ہے اس سے کوئی بھی مسلمان مستثنیٰ (Excluded) نہںر بلکہ سب کی ذمہ داری ہے کہ برائی کو برا سمجھں اور اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کریں۔ فائدہ: معروف اور منکر کے الفاظ لانے مںس یہ حکمت ہے کہ روکنے ٹوکنے کا سلسلہ فقط ان مسائل مںr ہوگا جو امت میںمشہور ومعروف اور متفق علہو (Agreed upon) ہیںنہ کہ اجتہادی مسائل مںا ۔لکنں افسوس کامقام یہ ہے کہ عام طور پر اس حکماہنہ تعلمو سے غفلت برتی جاتی ہے۔ اجتہادی مسائل کو جنگ وجدال (War) کا مدتان بناکر مسلمانوں کو باہم ٹکرایا اور اس کو بڑی خوبی قرار دیا جاتا ہے جبکہ اس کے بالمقابل متفق علہح معاصی اور گناہوں سے روکنے کی طرف توجہ بہت کم ہے۔ دعوتِ دین کے درجات : علمائے کرام نے لکھا ہے کہ جو حکم جس درجے کا ہے اس کی دعوت دینا اور اس کا حکم کرنا بھی اسی درجے کا ہوگا یینن فرائض کا حکم کرنا فرض ‘ واجب کا حکم کرنا واجب اور نوافل کا حکم کرنا مستحب ہوگا۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ نہ ہر وقت امربالمعروف ونہی عن المنکرفرض ہوتاہے نہ ہر وقت نفل ‘بلکہ جس کام کا حکم کاع جارہا ہے اسی سے اس کے درجے کا تعن ہو گا ۔ تبلغ دین کے لئے کتنا علم ضروری ہے؟ : حکمغ الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علہی اور شخس الاسلام حضرت مولانا شبرت احمد عثمانی رحمۃ اللہ علہہ نے اپنی تصانفہ مںم فرمایا ہے کہ امربالمعروف ونہی عن المنکر اور تبلغ دین کلئے علم ضروری ہے تاہم اس سے یہ ہرگز مراد نہںض کہ جو شخص عالم فاضل نہ ہو وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہںن کر سکتا۔ بلکہ یہ ضروری ہے کہ جس بات کی طرف بلارہا ہے یا جس کام سے منع کر رہا ہے، اس کے بارے مںہ علم رکھتا ہولہٰذا نماز، زکوٰۃ اور عبادات کی ترغبہ نزے چوری، زنا، شراب، قتلِ ناحق اور جھوٹ وغرسہ حرام چزہوں سے بچنے کی ترغبل ہر شخص دے سکتا ہے کوانکہ ان امور کا ہر شخص علم رکھتا ہے۔ مقامِ شکر: مادیت اور معصیت کے اس خوفناک دور مں (جس مںت امتِ مسلمہ بھی نفس پرستی کے سمندر مںت غوطے کھا رہی ہے، خودغرضی کی دلدل مںر پھنسی ہوئی ہے) ایک معقول تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو خالصتًا لوجہِ اﷲ امت کی خرزخواہی کے جذبے سے سرشار ہوکر بے غرض ہوکر بے طلب مسلمانوںکے دروازوں پر منظم ہوکر دستک دیی نظرآرہی ہے۔ یہ ایک اییے تحریک ہے جس مں) عوام الناس مں پائے جانے والے تقریباً تمام طبقات کے افراد کی نمائندگی پائی جاتی ہے۔ اس تحریک مںب شامل ہونے والا خود داعی بن رہا ہے اور دوسروں کو بنا رہا۔ اس تحریک کی کامالبی کی بناودی کلدب یہ ہے کہ اس مںر ہر فرد اپنی جان، اپنا مال اور اپنے وقت کی بنالد پر حصہ لے رہا ہے۔ اس انداز سے اس

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
452