(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
زکوٰۃایک عبادتی عمل
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ زکوٰۃایک عبادتی عمل زکوٰۃ اسلام کے پانچ(5) بناِدی ارکان مںہ سے ایک بنایدی رکن ہے۔شریعتِ اسلام نے تمام عباداتی اعمال کی ادائیہو کے طریقے بھی اپنے ماننے والوں کو عطا فرمائے ہںہ۔ زکوٰۃ بھی چونکہ ایک عبادتی عمل ہے اورمالی عبادتوںمیں سب سے اہم عمل ہے لہٰذا اس کے بنالدی ارکان بھی شریعت نے خود متعنٰ کرکے دیے ہںل۔چنانچہ جہاں زکوٰۃ دینے والوں کے لےے شرائط مقرر فرمائی ہں ، وہاں زکوٰۃ لنےا والے بھی خود ہی بتلائے ہںے جن کے علاوہ کے لوگوں کو دینے سے ادا ہی نہںا ہوگی۔ گویا کہ زکوٰۃ کوئی ہدیہ،معاوضہ،بدلہ نہںْ ہے، نہ ہی یہ ایی چزر ہے جسے مفادِ عامہ کے ایسے رفاہی کاموںمیں خرچ کاگ جاسکے جن سے عامۃ الناس کے فقرذ وغنی فائدہ اٹھاسکںے ،نہ ہی اس کے لےی استعمال کی عام اجازت دینا کافی ہے بلکہ اس مںہ مستحق زکوٰۃ کو غر مشروط طورپر مالک بنا کر اس کا قبضہ کرادینا لازمی ہے جسے مالک بن کر جس طرح چاہے وہ بلا روک ٹوک خرچ کرسکے۔ شریعتِ اسلام نے اسے مال کا ملز قرار دیا ہے اور خود نبی ﷺ اوران کی آل کو اس غلاظت سے دور رکھا ہے۔ اور صاف اور واضح الفاظ مںی یہ تنبہ کی گئی ہے کہ غرو مستحق زکوٰۃ لے گا تو زکوٰۃ کا مال اصل مال کو بھی تباہ کردے گا (یہاں پہنچ کر وہ اساتذہ ،طلبائ،مدارس کا عملہ جو غنی ہونے کے باوجود نادار طلبہ کو کھلا یا جانے والا زکوٰۃ کی مد کا کھانابغر قمتک کے کھاتے ہںا انہں غور کرنا چاہےا) لہٰذا وہ لوگ جو اپنی آمدنی بڑھانے یا بچت مںا اضافہ کرنے کے چکر مںم زکوٰۃ مانگتے رہنے کی عادت بنا چکے ہںا اپنی پریشانوےں پر بھی غور کرلںا اوراس کا انجام بھی سوچ لںز،فقہائے کرام نے جس شخص کے پاس روز مرہ استعمال کی چزلوں سے زائد سامان (برتن،بسترے، چارپائاہں، تنل جوڑے کپڑوں سے زائد کپڑے، ریڈیو، ٹی ک ویژن وغریہ) سونا، چاندی، مالِ تجارت، نقد رقوم ہوں اور ان تمام کی مالتی اگر ساڑھے باون تولہ (612.410گرام) چاندی یا اس سے زائد کی مالتو تک پہنچ جاتی ہے تو اس شخص کے لے زکوٰۃکا لنا ناجائز لکھا ہے۔(لہٰذا گھروں مںز کام کرنے والی ماسویں اور ملازمنے کو بے دھڑک بغر تحققی زکوٰۃ دینے والوں کو اپنی زکوٰۃ کی ادائیگر یا عدم ادائیہٰ کے بارے مںم ضرور غور وفکر کرنا چاہےس نزے زکوٰۃ اداکرنے والے کے دروازے پرآنے والے ہرکس وناکس کو بغری تحققک کہ آیا وہ مسلمان بھی ہے یا نہں ، مستحق ہے یا نہںی، سدت (ہاشمی)تو نہں زکوٰۃ کی رقم یا اشا ء بانٹ دینا بھی لمحۂ فکریہ ہے۔اسی طرح غریب علاقوں مںں مندرجہ بالا امور کی تحققا کےا بغرن زکوٰۃ بانٹنے والوں کو بھی علماء سے رہنمائی حاصل کرنی چاہےی)۔ اس سے زیادہ مانگنے کی عادت بنا لنےہ والوں کی حوصلہ شکنی کاں ہوگی کہ جو شخص اپنے مال مںو اضافہ کرتے رہنے کی غرض سے مانگتا ہے وہ جہنم کے انگارے مانگ رہا ہے جس کادل چاہے کم مانگ لے یا زیادہ مانگ لے۔ لہٰذا مندرجہ بالا زکوٰۃ کے مستحق افراد کو بھی اپنی اس وقت کی ضرورت تک ہی محددود رہ کر اتنی ہی مقدار مںی زکوٰۃ وصول کرنی چاہےا کاح ہی قابل تحسنر ہے وہ مسلمان جو نادار ہونے کے باوجود اپنی ضروریات کو لوگوں سے چھپاتا ہے اور اپنے مقدر پر راضی رہتے ہوئے مالکِ ارض وسٰمٰوات سے خوب خوب اور خوب مانگتا ہے۔ علمائے کرام نے لنےئ والوں کی چند صفات بھی با ن کی ہںب جو درج ذیل ہںا: 1:۔ متقی پرہزنگار ہو یین دناگسے بے رغبت اور آخرت کے کاموں مںد مشغول ہو۔ 2:۔ اہلِ علم ہو۔علم(دین)مں مشغولتھ عبادتوں مںم اعلیٰ اوراشرف ترین عبادت ہے۔ 3:۔ حقیِ موحد ہو ایسے شخص کی نگاہ اسباب پر نہںو،مسبب الاسباب پر ہوتی ہے۔ 4:۔ اپنی ضرورتوں کو لوگوںسے چھپاتا ہو۔اپنی قلتِ معاش اور آمدنی کی کمی کارونا ہر کس وناکس کے سامنے نہ روتا رہتا ہو۔درحققتپ ایسا شخص ایسا ضرورت مند ہے جو ظاہر مں غنی ہے۔ 5:۔ مالدار ہو اور معاشی تنگی مںغ ایسا گِھرا ہوا ہو کہ بقدر ضرورت کمائی سے قاصر ہو۔ 6:۔ ایسا بماعر یا معذور ہو کہ کمائی سے عاجز ہو۔ 7:۔ رشتہ دارہو کہ اس میںصلۂ رحمی کا بھی ثواب ہے۔ زکوٰۃ کی تعریف ’’زکوٰۃ‘‘ لغت مںل پاک ہونے اور بڑھنے کو کہتے ہںو ۔شرعاً زکوٰۃ کے معنی ’’صاحبِ نصاب شخص کا شرائط پوری کرلنے کے بعد اپنے مخصوص مال کا کسی مخصوص شخص کو مالک بنا دینا ہے‘‘۔ وضاحتیں: صاحبِ نصاب: صاحبِ نصاب اس شخص کو کہتے ہںک جس کے پاس اپنے اور اپنے زیرِ کفالت (Under responsibility) افراد پر ان کی ضروریات پرخرچ کرنے اور اگر اس پر ذاتی طورپر کسی کا قرضہ ہو تو اس کوشمار کرلنے کے بعد ضرورت سے زائد اتنی رقم مکمل طور پر اس کی ملکتا(اس کے قبضے مںپ ہو جسے وہ جس طرح چاہے استعمال کر سکتا ہو) مںb سال کے شروع میںاور اس کے اختتام پر ہو کہ اس رقم سے ساڑھے باون تولہ(612.410گرام)چاندی یا اس سے زائد خریدی جاسکتی ہو۔ مثلاً کسی مسلمان کے پاس زندگی مں پہلی مرتبہ اتنی رقم کسی سال کے یکم رمضان مں (یا کسی بھی مہنےی کی کسی بھی تاریخ مںح)جمع ہوجائے جو نہ فوری طورپر کسی ضرورت کی ہو اورنہ ہی اس پر کسی کا قرضہ ہو پھر ایک سال مکمل ہونے کے بعد پھر اگلے سال کے یکم رمضان کو اسی طرح کی بچت اس مقدار یا اس سے زائد کی ہو تو ایسا شخص شرعاً صاحبِ نصاب(Minimum taxable person for zakat) کہلاتا ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے والے کی شرائط: 1:۔ مسلمان ہونا(مرد ہو یا عورت)۔ 2:۔ آزاد ہونا(غلام پر زکوٰۃ فرض نہںم)۔ 3:۔ عاقل (عقلمند )ہونا (مجنون اورپاگل پر زکوٰۃ فرض نہں )۔ 4:۔ بالغ ہونا(نابالغ پر زکوٰۃ فرض نہںگ)۔ 5:۔ مال کا مکمل طورپر ملکتغ اورقبضے میںہونا۔ زکوٰۃ فرض ہونے کے لےل اموال کی شرائط: 1:۔ مال کا بقدرِ نصاب ہونا۔ 2:۔ مال ضروریاتِ اصلیہ(Necessities of life)سے زائد ہونا۔ 3:۔ مال کا قرضوں سے فارغ ہونا(قرضہ ہونے کی وجہ سے وہ مال قرضے کے بقدر نہ ہونے کے حکم مں ہے)۔ 4:۔ مال کا حققتاً یا حکماً مقدار اورمالتt مں بڑھنے والا ہونا یینi مالک چاہے توا پنے مال مں۔ اضافہ بھی کرسکے۔ 5:۔ مال پر سال کا پورا گزر جانا یینہ جس تاریخ کو مالک صاحبِ نصاب بنا ہو اگلے سال کی اس تاریخ کو اس کی صاحبِ نصاب کی حتوٰ باقی ہو چاہے درماًن سال اس مں کمی کواں نہ واقع ہوگئی ہو۔ زکوٰۃ کے حساب مںق شامل ہونے والی چز یں: (1)سونا (2) چاندی (3) مالِ تجارت (4)نقد رقوم۔ 1:۔ سونا :جب ساڑھے سات تولے(87.479گرام)کی مقدار مں( یا اس سے زائد ہو اور اس کے علاوہ مندرجہ بالا اشا ء مںن سے کچھ بھی نہ ہو۔ 2:۔ چاندی: چاندی جب ساڑھے باون تولے(612.410گرام)کی مقدار مںز یا اس سے زائد ہو اوراس کے علاوہ مندرجہ بالا اشا ء مں سے کچھ نہ ہو۔ 3:۔ مالِ تجارت:اس مںا وہ تمام مال شامل ہںت جو تجارت کی نتو سے خریدے گئے ہوں چاہے خام مال ہو یا تالر شدہ اشا ء ہوں۔ 4:۔ نقد رقوم:اس مںا تجوری،بنک،لاکرز مں0 موجود کل رقم،کمپنودں کے حصص (Shares)، پرائز بونڈ، این۔ آئی یونٹ، لوگوں کے ذمے واجب الوصول (Recover able loans) قرضے وغررہ شامل ہں ۔ نوٹ: 1:۔ مندرجہ بالا اشا ء تھوڑی تھوڑی مقدار مں ہوں اور سب مل کر ساڑھے باون تولے چاندی کی مالت، تک پہنچ جاتی ہوںتو سب کو شامل کرکے زکوٰۃ کا حساب کاl جائے گا۔ 2:۔ ہرہر شے پر علحد ہ علحد ہ سال پورا ہونا ضروری نہں ۔ زکوٰۃ کا سال مکمل ہوتے ہی تمام مذکورہ بالا چز وں کی مالتے لگائی جائے گی چاہے ان مں سے بعض چزدیں ایک لمحہ پہلے ہی کوجں نہ ملکتب مں آئی ہوں۔ 3:۔ مذکورہ بالا اشا ء کی قمت۔ خرید نہںو بلکہ سال پورا ہونے پر ان کی مارکٹا قمت سے حساب کاں جائے گا۔یینے مالک اگرخود ان کو بازار مں۔ بچنے جائے تو جو قمتت اسے ملے گی اس کا حساب کاب جائے گا۔ زکوٰۃ کی مقدار: ہر سال زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے پر مذکورہ بالا چاروں اشاتء کی ٹھکک ٹھکہ (پوری پوری) مالتی کا حساب کرکے ان مںو سے چالسوکاں حصہ یینے ڈھائی فصدہ زکوٰۃ کی مقدار ہے۔ ادائیلس زکوٰۃ کی شرائط: 1:۔ کل واجب زکوٰۃ اگر اصل مالت سے نکال کر علحد ہ رکھی جارہی ہو تو اسے زکوٰۃ کی نتا کے ساتھ علحدکہ کرنا ضروری ہے(واضح رہے کہ جب تک مستحق کو مالک نہںہ بنا دیا جائے گا زکوٰۃ ادا نہںی ہوگی صرف علحدوہ کردینا کافی نہں )۔ 2:۔ اگر علحدکہ کرکے نہںب نکالی مگر سال مکمل ہوتے ہی حساب کرلاو ہے اییر صورت مںت مستحقِ زکوٰۃ(Entitled fo Zakat) کو مالک بناتے وقت ادائیٔحد زکوٰۃ کی نتر ضروری ہے۔ 3:۔ مستحقِ زکوٰۃ کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ 4:۔ مستحقِ زکوٰۃ کا سدل یا ہاشمی نہ ہونا ضروری ہے۔ 5:۔ مستحقِ زکوٰۃ کا زکوٰۃ دینے والے کے والدین(اسی طرح، دادا، دادی، پردادااوپر تک، نانا،نانی پرنانی اوپر تک) یااولاد(بٹاق،پوتا ،پوتی،پڑپوتا،پڑپوتی نچےز تک بینے ، نواسہ، نواسی، پڑ نواسہ، پڑنواسی نچےد تک) نہ ہونا ضروری ہے۔ 6:۔ مستحقِ زکوٰۃ کو نقد رقم یا اتنی مالتا کی حلال اشانء کا غرے مشروط (Unconditional) طورپر مالک بنا دینا ضروری ہے۔ 7:۔ پہلے سے واجب الوصول قرضے کو مقروض کو زکوٰۃ کی نتل سے معاف کردینے سے زکوٰۃ ادا نہںے ہوگی۔ البتہ مقروض کو علحدلہ سے زکوٰۃ کی مد مںا زکوٰۃ کی نت سے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ زکوٰۃ کے فرض ہونے کا وقت: زکوٰۃ کا سا ل مکمل ہوتے ہی زکوٰۃ کا ادا کردینا فرض ہوجاتا ہے اس مںل بغرا کسی عذر کے تاخرo کرنا گناہ ہے البتہ زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کرنے سے ادا ہوجائے گی۔ ادائیہو زکوٰۃ کے فوائد: 1:۔ زکوٰۃ کا ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اوراس کی عطاؤں کا شکرانہ ادا کرنا ہے۔ 2:۔ زکوٰۃ کا ادا کرنا مال مںع اضافے کا ایک بناادی سبب ہے۔ 3:۔ زکوٰۃ کا ادا کرنا بقہ مال کوعمدہ، پاکزیہ اورطبد بنا لنان ہے۔ 4:۔ زکوٰۃ کا ادا کرنا بقہ مال کو بُرائواں سے محفوظ کرالناک ہے۔ 5:۔ زکوٰۃ کا ادا کرنا اپنے اسلام کو مکمل بنالناو ہے۔ عدم ادائی ز زکوٰۃ کے نقصانات: 1:۔ زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا یا پورا پورا نہ دینا بقہظ اموال کے ہلاک وتباہ ہوجانے کا بناہدی سبب ہے۔ 2:۔ زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا یا پورا پورا نہ دینا دناک کو قحط(Famine) مںر مبتلا کرالنار ہے۔ 3:۔ زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا یا پورا پورا نہ دینا دنوظی آفات ومصائب (Wickednes) مںر پھنسالناا ہے۔ 4:۔ زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا یا پورا پورا نہ دینا آخرت کے ہولناک عذابوں کے مسلط کردیے جانے کا بناودی سبب ہے۔ زکوٰۃ کا حکم: زکوٰۃ صاحبِ نصاب لوگوں پر سالانہ طورپر قطعی فرض ہے۔ ہرہر مسلمان کے لےن اس کی فرضتل کا زبان سے اقرار کرنا،دل سے تصدیق تا حاات کرتے رہنا،ایمان کے قائم اورباقی رہنے کی انتہائی ضروری اور تاکدقی شرط ہے۔ اس کا منکر کافر ہے اوراس کا روکنے والا اسلامی حکومت مںا واجب القتل ہے۔ جانوروں کی زکوٰۃ کا نصاب: جو جانور تجارت کی نتو سے خرید ے جاتے ہںم، وہ مال تجارت کے حکم مںا ہںئ لہٰذا ان کی کل مالت مںح سے ڈھائی فصدس زکوٰۃ نکالی جائے گی البتہ جو جانور باربرداری (Transport)سواری یا گوشت کھانے کے لے رکھے جاتے ہںی ان پر زکوٰۃ نہں ہے ۔جو جانور دودھ حاصل کرنے کے لےو اورنسل بڑھانے کے لےن اورجنگل مں چرنے کے لےا بھجے جاتے ہںر اس مںل زکوٰۃ ہے اور اس کی تفصلک حسب ذیل ہے: اونٹوں کا نصاب: 1:۔ پانچ اونٹوں سے کم پر زکوٰۃ واجب نہں (خواہ نر ہوں یا مادہ)۔ 2:۔ پچس (25)سے کم اونٹوں(خواہ نر ہوں یا مادہ یا دونوں ہوں)ہر ہرپانچ اونٹوں پر ایک اییے بکری واجب ہوگی جس کی عمر ایک سال مکمل ہو کر دوسرے سال مںس داخل ہوچکی ہو(بکرا یا بکری دینا جائز ہے)۔ 3:۔ اگر اونٹوں کی تعداد پچسہ(25)سے پستر (35)تک ہو اس مں ایک اییر اونٹنی واجب ہوگی جس کو دوسرا سال شروع ہو چکا ہو(اونٹنی کا دیا جانا شرط ہے زکوٰۃ مںر اونٹ دینا جائز نہںت البتہ ایید اونٹنی نہ ہو تو اس کی قمتگ دینا جائز ہے یا اعلیٰ دے کر بقہ رقم واپس لے لے یا کم تر دے کر بقہچ رقم ادا کردے)۔ 4:۔ چھتسد(36)سے پینتالسہ(45)تک ایین اونٹنی واجب ہے جس کو تسرےا سال شروع ہوچکا ہو۔(اس سے آگے کی تفصیلات فقہائے کرام نے کتبِ فقہ مں ذکر کی ہںا)۔ گائے بھنسوبں کا نصاب: 1:۔ تسھ(30)سے کم گائے بلونں،بھنسودںمیں زکوٰۃ واجب نہںی۔ 2:۔ تسھ(30)مں ایک ایساگائے کا بچہ(نر یا مادہ)واجب ہوگا جس کو دوسرا سال شروع ہوچکا ہو۔ 3:۔ چالسس (40) مںن ایک گائے یا بلد جس کو تسراا سال شروع ہوچکا ہو، واجب ہوگا۔ بھڑے بکریوں کا نصاب: 1:۔ چالسس(40)سے کم مںم زکوٰۃ واجب نہںی۔ 2:۔ چالسس(40)سے ایک سو بسک(120)تک ایک بکری واجب ہوگی۔ 3:۔ ایک سو اکس (121)سے دوسو(200)تک دوبکریاں واجب ہونگی۔ (اس سے آگے کی تفصیلات فقہائے کرام نے کتبِ فقہ مں ذکر فرمائی ہں ) نوٹ: مذکورہ بالا جانوروں کے علاوہ کے جانوروں میںاس وقت تک زکوٰۃ نہںت جب تک کہ وہ تجارت کی نتا سے نہ خریدے یا پالے گئے ہوں۔تجارت کی غرض سے رکھے ہوئے جانورمال تجارت مںس شمار ہونگے اور اس کے مطابق ان کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ کانوں اور دفنویں کا نصاب: ’’کان‘‘ زمن کی اس جگہ کو کہتے ہںر جہاں سے جواہرات(Jewelrys) اور دھاتںد(Minerals)(جس مںہ پگھلنے کی صلاحیت ہو)وغررہ نکالی جاتی ہںے۔ دفنہل: زمنو مںا گڑے ہوئے خزانوں کو کہا جاتا ہے۔ کانوں اور دفنو:ں سے نکلنے والی معدناوت(چزاوں)کی تن قسمںں ہںn: 1:۔ آگ میںپگھلنے والی چز یں ان مںا بطورِ زکوٰۃ کل مقدار کا پانچواں حصہ (Fifth share)واجب ہے۔ 2:۔ بہنے والی چزضیں(مائعات)ان مںت کچھ بھی واجب نہں ۔ 3:۔ آگ مںا نہ پگھلنے والی چزئیں ان مںا کچھ بھی واجب نہںں۔(مزید تفصیلات فقہائے کرام نے کتبِ فقہ مںو ذکر فرمائی ہںو(۔ کھیتوں اورپھلوں کا نصاب: کھیتوں اورپھلوں وغرنہ مںئ کل پدتاوار کا جب بھی کاٹی جائںں، دسواں یا بسو۔اں حصہ واجب ہوتا ہے اور اس کو عُشر کہتے ہںا۔ اَلذَّھَبْ(سونا) اَلذَّھَبْ: عربی زبان مںے ’’سونے‘‘ کو کہتے ہں ۔ محققنَ کے شمار کے مطابق قرآن مجدم مںا اس کا ذکر (8)مرتبہ آیا ہے۔یہ ایک معدنی دھات ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے دنار مںق مختلف مقامات پر زمنق مںم چھپا رکھا ہے اور لوگ ان جگہوں سے سونے کو حاصل کرتے ہںہ۔ خصوصاً عورتوں کے زیورات مںج قیتق دھات ہونے کی وجہ سے استعمال کا’ جاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے شریعتِ اسلام مںک مردوں کو اس کا استعمال ناجائز بتلایا ہے اگر کسی کے پاس اس کی ملکت مںں صرف ’’سونا‘‘ ہو تو اس کی مقدار ساڑھے سات تولہ (87.479گرام) تک پہنچنے پر دیگر شرائط کے ساتھ سالانہ ڈھائی فصدن (2.5%) زکوٰۃ اس پر واجب کی گئی ہے۔واضح رہے کہ سونا کسی بھی حالت مںئ ہو، اس پر نصاب کے پہنچنے پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اَلْفِضَّۃ (چاندی) اَلْفِضَّۃ: عربی زبان مںے ’’چاندی‘‘ کو کہتے ہںس۔ محققنِ کے شمار کے مطابق قرآن مجدم مں اس کا ذکر چھ(6) مرتبہ آیا ہے۔ یہ ایک معدنی دھات ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے دنا مںت مختلف مقامات پر زمنً مںت چھپا رکھا ہے او رلوگ ان جگہوں سے چاندی کو حاصل کرتے ہںن۔ عام طور پر عورتوں کے زیورات مںا قیت دھات ہونے کی وجہ سے استعمال کا جاتا ہے۔ شریعتِ اسلام مںو مردوں کے لےم چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے بشرطکہج پانچ ماشے (4.86گرام) سے کم ہو۔ اور اگر کسی کی ملکتں مںے صرف ’’چاندی‘‘ ہو تو اس کی مقدار ساڑھے باون تولے (612.410گرام) تک پہنچنے پر دیگر شرائط کے ساتھ سالانہ ڈھائی فصدم (2.5%) زکوٰۃ اس پر واجب کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ چاندی کسی بھی حالت مںن ہو، اس پر نصا ب کے پہنچنے پر زکوٰۃ واجب ہے۔ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَاْفِضَّۃَ: زکوٰۃ ادانہ کرنے والوں کے لےن وعدے: قرآن مجدۃ کی سورۂ توبہ مںَ زکوٰۃ ادانہ کرنے والوں کی مذمت اورانہں اخروی عذاب کی وعدا (Threat)اس طرح بتلائی گئی ہے کہ وہ لوگ جو سونا، چاندی یینم مال جمع کرکے رکھتے ہںک اورانہںر اللہ تعالیٰ کے راستے مں. خرچ نہںم کرتے ہںط پس ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر سنادیےذّ۔ مفسرین کرام فرماتے ہںن کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جس طرح بدنی عبادات مثلاً نماز وغرلہ فرض فرمائی ہںد اسی طرح کچھ مالی عبادات بھی فرض فرمائی ہںذ جن مںن سب سے اہم حکم زکوۃ کا ہے۔یہاں زکوٰۃ کی فرضتں کے باوجود مال کی محبت (Love)اور بخل کی وجہ سے اس حکم کو بجانہ لانے پر مذمت اورڈانٹ کا ذکرکاس جارہا ہے کہ جو لوگ مال جمع کرکے رکھتے ہںف اور اس مںھ شریعتِ اسلام کے بتلائے ہوئے فریضۂ زکوٰۃکی ادائیور نہںم کرتے ایسے لوگوں کوآخرت مںش بہت سخت سزا دی جائے گی اورانہںe جہنم کی آگ مںت دردناک عذاب دیا جائے گا۔ نزر مذکورہ وعدن ان لوگوںکوبھی شامل ہے جوبخل سے کام لتے ہوئے نہ ہی اپنے نفس پرمال خرچ کرتے ہںت،نہ ہی اپنے اہل وعاeل کی ضروریات کے لےہ خرچ کرتے ہںے،نہ ہی حاجت مندعزیزواقارب،جہاداوردییں مصارف وغروہ پر خرچ کرتے ہںک۔ مفسرین کرام یہ بھی فرماتے کہ آخرت کے اس عذاب کی وعد۔ مذکورہ بالا دونوں گروہوں کے لے ہے،یین. جو لوگ ناجائز طریقے سے لوگوں کے اموال ہڑپ (Gobbled) کرتے ہں انہںد، اورجو مالی فرائض کی بجاآوری نہںل کرتے ہںخ انہںا بھی آخرت مںر سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا: زکوٰۃ کی ادائیت نہ کرنے والوں کے لے اخروی عذاب کی کتا : اس طرح اس سے اگلی آیت 35 مںے مذکورہ بالا عذاب اورسزا کی صورت کا باکن ان الفاظ مںک ہے کہ یہ عذاب قانمت والے دن دیاجائے گا کہ جہنم کی آگ مںے سونے اورچاندی کے سکے تپائے جائںک گے اور پھرزکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کی پیشانویں،پہلوؤں اورپٹھوَں کو ان سے داغا جائے گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہںج کہ مذکورہ آیت مںج زکوٰۃ ادانہ کرنے والوں کو دیے جانے والے عذاب کی تفصلی باان کی جارہی ہے کہ اس عذاب کا ظہور ووقوع آخرت کے دن ہوگا جس کی صورت یہ ہوگی کہ جو اموال ان لوگوں نے جمع کرکے زکوٰۃ سے روکے تھے انہں جہنم کی آگ مں تپایا اور گرم کاو جائے گا اور پھر ان کی پیشانوسں، پہلوؤں اور پٹھو ں الغرض جسم کے ہر طرف وجانب پر داغ (Burn)دیے جائںا گے۔ مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہںپ کہ جسم کے ان تنٰ حصوں جِبَاھُھُمْ ’’ان کی پیشانا ں‘‘جُنُوْبُھُمْ’’ان کے پہلو‘‘اور ظُھُوْرُھُمْ’’ان کی پٹھو ں‘‘کوخاص طور سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ فقراء ومساکنپ کو دیکھ کر توٹری چڑھا لتے‘،بات کرتے تو منہ موڑکر اور پھر پشت پھر کر نفرت کااظہار کرتے ہوئے چلے جاتے تھے یینٰ جسم کے جن حصوں سے حکمِ الٰہی سے روگردانی کا اظہار کرتے تھے جہنم مںٓ ان حصوں کو خاص طور پر داغ دیے جائں گے۔اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا مِنْھَا ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ: دناَکاجمع شدہ مال آخرت مں: وبالِ جان ہوگا: آیت کے آخر مںہ بتلایا جارہا ہے کہ عذاب دینے والے فرشتے ان سے کہںٰ گے کہ ییی وہ اموال ہںت جو تم لوگوں نے اپنے لےا جمع کے تھے پس آج اس جمع کرکے رکھنے کا عذاب چکھو۔ مفسرین کرام فرماتے ہںل کہ قا مت کے دن جو فرشتے مذکورہ بالا لوگوں یینے زکوٰۃ نہ دینے والوں کو عذاب دیں گے تو ساتھ ساتھ زبانی ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے رہںا گے۔ وہ کہں گے کہ جن سکّوں سے تمہں داغا جارہا ہے ییر وہ مال ہے جو تم لوگ نے دناامںج اپنے لےی جمع کرکے رکھاکر تے تھے اور اس کے حقوق سے لاپرواہی (Carelessness) برتی، آج تمہاری ہی جمع پونجی تمہارے عذاب کا سبب بن رہی ہے اس کا مزہ چکھتے رہو۔ احادیثِ مبارکہ مںب اس کی مزید تفصلھ اس طرح باون ہوئی ہے کہ حضرت ابو ھریرہ رضی اﷲ عنہ کی روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا جو سونے چاندی کا مالک اس کا حق(زکوٰۃ)ادانہ کرتا ہو قاامت کے دن اس سونے چاندی سے اس کے لےا آگ کی چٹانںے بنائی جائںی گی اور دوزخ کی آگ مںک ان کو دہکا کر اس شخص کے پہلو (Side)، پیشانی (Forehead) اور پشت(Back) پر داغ لگائے جائںن گے،جب وہ کچھ ٹھنڈی پڑجائیںگی تو دوبارہ تپا کر داغ لگائے جائں گے اور ایسا اس دن تک ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار(50,000) برس ہوگی۔آخر جب بندوں کا فصلہا ہوچکے گا۔تو اس شخص کو اس کا راستہ بتایا جائے گا جنت کوجانے والا یا جہنم کی طرف جانے والا۔ عرض کا گا یا رسول اللہ(ﷺ) اونٹوں کا کاخ حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو اونٹوں والاان کاحق یینا زکوۃ ادا نہںل کرے گا قاامت کے دن ایک ہموار مدتان میںاونٹوں کے سامنے اس کولٹایاجائے گااور اونٹ سب موجود ہونگے ایک بچہ بھی کم نہ ہوگایہ اونٹ اپنے پنجوں سے اس کو روندیں (Trample)گے اورمنہ سے کاٹںص گے ۔اول حصہ جب روندتا چلا جائے گاتوییہ حصہ پھرروندنے کے لےل واپس لوٹ پڑے گا۔(یینل روندنے کا سلسلہ چلتا رہے گا)ایاا اس دن تک ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار(50,000) برس ہوگی ۔آخر جب بندوں کا فصلہل ہوچکے گا تو اس کو اس کا راستہ بتا دیا جائے گا جنت کی طر ف یا جہنم کی طرف۔ عرض کاع گاگ گائے بھنسب اور بھڑل بکریوں کا کاس حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ان کا مالک اگر حق ادا نہیںکرے گا تو ہموار مدنان میںان جانوروں کے سامنے اس کو پچھاڑ کر لٹا یا جائے گا سب جانورموجود ہوں گے کوئی غرتحاضر نہ ہوگا۔ ان مں کوئی ایسا نہ ہوگا کہ اس کے سنگ پچھے کو مڑے ہوئے ہوں ،نہ کوئی بغروسنگی کے ہوگا، نہ سنگ ٹوٹا ہوا (یینگ سب کے سنگا نوک دار اور صحح ہوں گے)یہ تمام جانور اس شخص کو اپنے سنگوےں سے ماریں گے اورکُھروں سے روندیں گے اول حصہ گزرتاجائے گا اور پچھلا حصہ لوٹ کر آئے گا،یہ عذاب اس (پورے) دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار (50,000) برس ہوگی آخر جب لوگوں کا فصلہ، ہوچکے گا تو اس کا راستہ دکھادیا جائے گا جنت کا یا جہنم کا۔ فائدہ: مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہںت کہ محض مال کو جمع کرنانہ تو شریعت میںممنوع اور نہ ہی آخرت کے عذاب کا سبب بنتا ہے،بلکہ مال کی محبت مںو مبتلا ہوکر بخلچ بننا اور اس کے واجب حقوق کی ادائیتو نہ کرنا ذریعہ وبال (Nuisance) بنتا ہے۔اس بات کی وضاحت احادیث مبارکہ مںگ بھی آئی ہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما کی روایت ہے کہ جب مذکورہ بالا آیات نازل ہوئںا تو مسلمانوں کو یہ بڑا شاق گزرا، اور کہنے لگے کہ ایسا کون کرسکتا ہے کہ اپنے بچوں کے لےن کچھ نہ چھوڑے(اور سارا مال صدقہ کردے)اس کا تذکرہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے رسول اکرم ﷺ سے کاو تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لےق تو فرض فرمائی ہے کہ تمہارا باقی مال پاک ہوجائے(یین زکوٰۃ اداکرنے کے بعد باقی مال جمع کرکے رکھنا ممنوع بھی نہںا اور باعث وبا ل بھی نہیںہے)۔ اسلامی معاشرے مںم زکوٰۃ کی اہمتپ ہر صاحبِ عقل اسے دی جانی والی معلومات اور اپنے تجربے اور مشاہدے کی بناٰدپر ناقابلِ تردید حققتک کے طور پر یہ بات خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ ہر ہر انسان جب اس دناامں پہلا قدم رکھتا ہے تو اس کے پاس سوائے جسم انسانی کے کچھ نہںق ہوتا وہ بھی بے لباس۔دناےمںن قدم رکھنے والا یہ انسان بذات خود اپنی اس وقت کی ضرورتوں کو توکاے پورا کرسکتا؟اس کے لےب تو دوسروں کے سامنے اپنی ان ضرورتوں کااظہار بھی ناممکن ہوتا ہے۔ مندرجہ بالاحققت کی طرح یہ بھی نہ جھٹلائی جاسکنے والی ایک ٹھوس حققتر (Solid truths)ہے کہ ہر ہر انسان کے اس دنا مں قدم رکھتے ہی پہلے لمحے سے لے کر آخری سانس تک مسلسل اس کی ضروریات کے اسباب ووسائل فراہم ہونے شروع ہوجاتے ہںل یینل وہ ایک ایسے نظام کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے کہ اگر اسے اجازت دی جائے تو وہ خود اپنے لے ایسا بھرپور نظام نہ بناسکتا ہے، نہ ہی اسے مسلسل چلا سکتے رہنے کی قدرت وصلاحیت رکھتا ہے۔(یہ نظام ایک اییز ذات نے محض اپنے فضل سے لطف وکرم واحسان(Favour, grace and obligation) کے طور پر اپنے ذمے لے رکھا ہے جسے جاری رکھنے کے لے نہ درخواست دینے کی ضرورت ہے، نہ یاد دہانی کراتے رہنے کی حاجت ہے)۔ ان حققتو ںکے درما ن پہاڑ کی طرح ایک بلند وبالا اورمضبوط حققت یہ بھی ہے کہ ہر ہر انسان کو ملنے والے یہ اسباب ووسائل اس کی اپنی ذاتی ضرورتوں سے کہںا زائد ہوتے ہں ۔(واضح رہے کہ کہںے کہںت اورکبھی کبھی کسی کسی کے لےپ تنگدستی (Poverty)کے نمونے اسباب وسائل کی کیو کی وجہ سے نہںہ بلکہ ابتلاء وآزمائش وامتحان یاسزا کے طور پر تھوڑی سی مدت کے لےس عارضی طور پر ظاہر ہوتے رہتے ہںک۔)یہ اسباب ووسائل ہرہر انسان کی ضرورتوں سے کہں زائد ہونے کے باوجود ہر ایک کو ایک جسےض اور ایک جتنے نہںں دیے گئے بلکہ ایک دوسرے کے مقابلے مں کسی کو کم اورکسی کو زیادہ دیے گئے ہں اس کی ایک حکمت یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کی ضرورت رہے ایک دوسرے کے اسباب ووسائل سے ایک دوسرے بلا معاوضہ یا بالمعاوضہ فوائد حاصل کرتے رہںے اوردنار کا نظام خوش اسلوبی سے چلتا رہے۔ اس نظام کا ایک اور حسنِ انتظام(Good management) بھی اپنے آپ کو روز روشن کی طرح منوارہا ہے کہ جو انسان عملی طورپر اس نظام کا حصہ بننے سے قاصر ہں (عورتںھ،بچے،بماپر، محتاج،اپاہج،مجنون،مفلوج،معذور وغر ہ وغرضہ) ان کی ضرورتوں کے اسباب ووسائل فراہم کرنے کی ذمہ داری دوسرے انسانوں پر ڈال دی گئی ہے اورجو انسان ذہنی اورجسمانی طور پر اس قابل ہوئے کہ اس نظام مں اپنا حصہ ڈال سکں انہیںیہ حکم دیا گا کہ تمہاری اورجن جن کی ذمہ داری تم پرڈال دی گئی ہے ان کی ضرورتوں کے پورا ہونے کے اسباب ووسائل (روزیاں)اس دناہ مںب پھیلا دیے گئے ہںج لہٰذا انہںر ’’فضلِ الٰہی‘‘تسلمگ کرتے ہوئے تلاش کرتے رہو۔ اس نظام کا ایک خوبصورت ترین پہلو یہ بھی ہے کہ روزی تلاش کرنے کے نتجےا مںج جو جو انسان جو جو کچھ پا تا رہتا ہے اسے اس کی ملتےک قرار دیاجاتا ہے(اگر چہ یہ محنت کا نتجہ نظر آتا ہے لکنو یہ قدرت ہی کی دین ہوتی ہے)اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ روزی کے حصول کی محنت میںانسان کی دلچسپی قائم ہوجاتی ہے بلکہ بڑھتی رہتی ہے نزو انسان دوسرے انسانوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے باعزت طریقے سے اپنی زندگی گزار تا ہے۔ اس نظام کی ایک بہترین متوازن(Balanced) ومعتدل حکمت عملی(Balanced policy) یہ ہے کہ انسان کی ملکتظ مںل آنے والے اسباب ووسائل کو اپنی ، اہل وعا ل کی ،زیر کفالت افراد کی ضروریات پراس انداز سے خرچ کرنے کی تلقنل کی گئی ہے کہ اس مںب بخل کا عنصر بھی نہ نظر آئے، نہ ہی فضول خرچی کا نام دیاجاسکے۔ (واضح رہے کہ قدرت کے پاس ہر ہر چز کے کبھی نہ ختم ہوسکنے والے خزانے ہروقت لبالب بھرے رہتے ہںا، مسلسل خرچ کےٓ جاتے رہنے کے باوجود ان مںا ذرہ برابر کمی نہںح آتی۔ان مں سے ہر ایک انسان کو ایک طے شدہ حکمت کے مطابق دیاجاتا ہے اور اسے اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے کی ترغبم دی جاتی ہے جو بخل اورفضول خرچی سے پاک ہو۔)اس حکمتِ عملی کا ایک تربیین پہلو یہ بھی ہے کہ انسان اپنے مال واسباب کو اگر چہ ذاتی ملکتو سمجھتا ہو لکنے ہر وقت یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ مال واسباب کے آمد وخرچ مںھ ،مںے مکمل طور پر خود مختار اور آزاد نہںی ہوں۔ آمدنی کے ذرائع بھی احکامات کے پردوں میںڈھکے ہوئے ہں اورخرچ کے راستوں پر بھی تنبہاےت کے گہرے سائے ہںں۔ اس نظام کی نہایت مہتم بالشان(Magnificent or Glorious) انتہائی اعلیٰ وارفع تکمیوں تدبرت(جسے ہمشہک (تاقاکمت) درج ذیل حققت( کی روشنی مںا دیکھا جائے گا)یہ بھی ہے کہ مسلم معاشرے کا مال دار طبقہ نادار طبقے کی ضروریات پوری کرنے کے سلسلے مںد ـــ’’مالی عبادت‘‘کا فریضہ بھی ادا کرتا ہے اس لےھ کہ معاشرے کی یہ ایک بہت بڑی حققتض ہے کہ (معاشی عنوان کے اعتبارسے اگر معاشرے کا سرسری بھی جائزہ لاک جائے تو)معاشرے مںو پائے جانے والے طبقات مںم اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اپنی آمدنی کے مطابق اپنے اخراجات سے متعلق نظام ترتب دیں تو یقینا ان کی بناادی ضرورتںک کسی نہ کسی درجے مںش پوری ہوسکتی ہںس لکنG اگر ان کے ساتھ کوئی انہونی ہوجائے، یا کوئی ناگہانی(Suddenly disaster) آفت آجائے ،کوئی ہنگامی صورتحال پشس آجائے تواس کا سامنا کرنے کے لےن ان کے پاس وسائل نہیںہوتے۔ اس اکثریت مںئ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اپنی کسی معذوری ،اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے بنایدی ضرورتوں کے پورا کرسکنے کے اسباب بھی نہںم رکھتا۔ اس اکثر ییی طبقے کے بالمقابل مسلم معاشرے مںر ایک ایسے طبقے کو بھی وجود بخشا گاو ہے کہ وہ اپنی اوراپنے زیر کفالت افراد کی ضروریات پر عمدہ سے عمدہ اوربہتر سے بہتر انداز مںا بھی اپنی ملکت مں موجود وسائل خرچ کرلے تو بھی تو اس کے پاس بہت بڑی مقدار مں اسباب ووسائل کا سرمایہ بچا رہے۔ مسلم معاشرے کا سماجی اور معاشرتی توازن برقرار رکھنے کے لے مندرجہ بالا حققتم کو پش نظر رکھتے ہوئے قدرت نے ایک تدبری دی ہے، ایک راہ سجھائی ہے جس پر کما حقہ عمل ہوجائے تو اکثرییر طبقے کی نہ صرف ’’محرومادں‘‘ دور ہوجائں، بلکہ ’’احساس محرومی‘‘بھی مٹ جائے جسار کہ اس بات کی تائد نبی ﷺ کے اس ارشادِ مبارک سے بھی ہوتی ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ نے دولتمندوں پر ان کے مالوں مںم اتنی مقدار کو فرض کردیا ہے جو ان کے فقراء کو کافی ہے اگر فقراء ننگے اور بھوکے ہونے کی مشقت مںل پڑتے ہںں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دولتمند اپنا فریضہ پورا پورا ادا نہںر کرتے‘‘ ۔ اس نظام کی اس خوبصورت اور مؤثر ترین تدبرص کاخلاصہ یہ ہے کہ جب دولتمند طبقے کے ضرورت سے زائد جمع کےن ہوئے سرمائے کی سطح ایک خاص مقدار (نصاب) تک پہنچ جائے یا اس سے بھی زائد ہوجائے تو وہ صاحبِ نصاب کہلائںے گے اوراس کے ٹھکا ایک سال کے بعد بھی ان کی یی پوزیشن(حتند ) ہوگی تو ان پر بطور مالی عبادت کے بچے ہوئے پورے سرمائے پر ڈھائی فصدا رقم واجب ہوجائے گی شریعت نے اس عمل کو’’زکوٰۃ‘‘کا عنوان دیا ہے۔اس پورے عمل مںب کوئی چزو کسی انسان کی ذاتی سوچ اورتجاویز پرنہیںچھوڑی گئی ہے بلکہ نام سے لے کرشرائط اور مصارف (خرچ کرنے کی جگہں )تک تمام کی تمام باتں شریعت نے خود اپنے اختاار سے عطا فرمائی ہںت جن مںا کسی بھی قسم کا رد وبدل انفرادی یا اجتماعی حتات سے کسی کے بھی اختا ر مں نہںو ہے۔ یہ نماز ،روزے کی طرح کا ایک عبادتی عمل (Worshiping act) ہے۔ اس کی فرضت پر ایمان رکھنا تو ہرہر صاحبِ ایمان کے لےے ضروری ہے، اس کی فرضتا کا انکار کرنے والا دائرۂ اسلام (Circul of Islam) سے اپنے آپ کو خارج کرلتاک ہے۔ البتہ عملی طور پر اس کی ادائی و ہر اس شخص پر لازمی ہے جو صاحب نصاب ہوا وراس سے متعلق دوسری شرائط بیک پوری کرتا ہو(یہ زندگی مںم صرف ایک مرتبہ نہیںبلکہ ہر سال اپنی شرائط کے ساتھ فرض ہے صرف اسی صورت مںا معاف ہوسکتی ہے کہ انسان صاحبِ نصا ب نہ رہے)۔ زکوٰۃ کو چونکہ مالی عبادت کا’’درجہ‘‘ دیا گاب ہے لہٰذا اس کی ادائیے، پر دنات اور آخرت مںہ بے پناہ اجر وانعام کے علاوہ خرچ کےو جانے والے مال کے نعم البدل (Better Substitute) (اچھا بدلہ)عطا کے جانے کے بھی وعدے اس مقدس ذات کی طرف سے کےف گئے ہیںجس کا اپنا دعویٰ (جو کبھی نہ غلط ہوا ہے نہ آئندہ ہوگا) یہ ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کبھی وعدہ خلافی نہںی فرمائے گا۔‘‘ان وعدوںمیں سرفہرست یہ وعدہ ہے کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کا قرب اور تعلق نصب ہوتا ہے۔ اسلامی تعلمادت کے مطابق اللہ تعالیٰ کا یہ پغا م ہر وقت ہرہر بندے کے لے ہے کہ’’مںے ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہوں‘‘۔اس سے زیادہ ’’ٹوٹا ہوا دل‘‘ کس کا ہوگا کہ وہ کسی آزمائش میںمبتلاکال گا ہو اوراس کے پاس اس سے عہدہ برا (بری الذمہ)ہونے کے ذرائع نہ ہوں۔ایسے مںٹ اگر اس کی ہمت بندھاتے ہوئے اسے ذمہ داری سے نکلنے کے ذرائع فراہم کردیے جائںہ تو ذرائع فراہم کرنے والا شخص اس پریشان حال کے نزدیک جو مقام بھی پائے گا وہ سو پائے ہی گا۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو مقام پائے گا اس کا اندازہ اس اسلامی ترغیپر تعلمح (Islamic inducemnet education) سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس مںا یہ کہا گای ہے کہ قایمت کے دن اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بلا کر ارشاد فرمائںف گے کہ اے مرسے بندے!مں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہںا کھلایا۔ وہ جواب مں عرض کرے گا اے اللہ! آپ تو رب العالمنا ہںف مں آپ کو کسےد کھانا کھلا سکتا ہوں؟ تو ارشاد ہوگا کہ فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اگر تواسے کھانا کھلا دیتا تو مجھے بھی وہںل پاتا۔ اسی طرح زکوٰۃ کی عدمِ ادائیاگ پر دناا اور آخرت مںب انتہائی بدترین اور نہایت دردناک عذاب ومصائب کی وعدھیں بھی ہںی، ان وعد وں مںا سے ایک وعدل یہ بھی ہے کہ اگر زکوٰۃ کا مال اصل مال میںسے نہ نکالا گاااور اس مںت شامل رہ گاف تو وہ اصل مال کو بھی تباہ کردیتا ہے چنانچہ انفرادی طور پر کسی مال کا سمندر یا جنگل مںہ ضائع ہوجانا، کہںا لٹ جانا، کہں جل جانا وغررہ وغر ہ کے اسباب میںایک بہت بڑا سبب زکوٰۃ کے مال کااصل مال مں ملاہوا ہونا بھی ہے (مراد یہ ہے کہ نہ پوری پوری زکوٰۃ نکالی جائے نہ ہی اس کی نتا ہو)(علماء نے مال کی تباہی کی اس خبرمںو ان لوگوں کو بھی شامل بتلایا ہے جو مستحق نہ ہونے کے باوجود زکوٰۃ لتے ہں )اجتماعی اعتبار سے بارش کے موقعوں پر بارش کانہ ہونا،قحط کی وبا کا قوم پر مسلط ہوجانا وغرمہ کے اسباب میںایک بہت بڑا سبب مالدار طبقے کا زکوٰۃ کے فریضے کی پوری پوری ادائیم نہ کرنا بھی ہے۔ آخرت مںی اس عدمِ ادائیڑا(Non-Payment) کا یہ نتجہا یقینا نکل کررہے گا کہ سونے اور چاندی کو آگ مں (جو دنوای آگ سے ستّر(70) گنا تزم ہوگی)خوب تپا تپا کر پیشانو-ں ،پہلووں اور پٹھو ں کو مسلسل داغا جاتا رہے گا اور جلی ہوئی کھالوں کو تبدیل کاگجاتا رہے گا تا کہ جلنے کی تکلفہ برداشت کرنے کی عادت نہ پڑجائے نہ مہلت ییند وقفہ ہوگا، نہ شدت مںی کمی آئے گی بلکہ اضافہ ہوتا رہے گا۔ اور دوسرے مالوں کو نہایت زہریلے سانپوں(Poisonous snakes) کی صورت مں تبدیل کرکے ان کو گلوں مںض لٹکا دیاجائے گا ،جو یہ کہتے ہوئے انہںش ڈستے رہںپ گے کہ مںa تمہارا مال اور خزانہ ہوں۔ ایک مسلمان جس کی آنکھوں کے سامنے یہ بات ہر وقت رہتی ہے کہ مرکا جان ومال اگر چہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا تھا لکن وہ اب مرکا نہںs رہا اس لےر کہ دینے والے نے دینے کے بعد مجھ سے اس کا سودا کرلای ہے جنت کے بدلے میںلہٰذااس کی ہر وقت کی جستجو وکوشش بھی رہتی ہے کہ مجھ سے کس وقت کا مانگا جاتا ہے؟اوراس کی ادائیود کا طریقہ نبی ﷺ نے کاہ عنایت فرمایا ہے ؟تاکہ مں ان احکامات پر اس کی روح کے مطابق پوری بشاشت (Full of cheerfulness) اور خوش دلی کے ساتھ عمل کرکے اپنے ان اعمال کوتا حاشت بارگاہِ خداوندی مںو پشا کرتا رہوں ۔ ٍ مسلم معاشرے کا وہ طبقہ جو دناتکی رنگویے ں مںک کھوکر،دناf کی محبت مںا مبتلا ہوکر، نفس وشطا ن کے بہکاوے مںا آکر بدنی عبادات کی طرح مالی عبادات مںد بھی غفلت کا شکار ہے جس کی وجہ سے مسلم معاشرہ مالی اور اخلاقی عدم توازن مںو مبتلا ہوگا ہے اگر مالی عبادات کی ادائیت پر دل ودماغ کو پُربہار اور پُرسکون بنادینے والے اجر وانعام کے وعدوں کے سچا ہونے کا اور عدمِ ادائیمں پر دل ودماغ کو دہلا دینے والے ڈرا وں، دھمکاوں کے سچا ہونے کا ینبہ کرلے تو یقینا غفلت سے باز آجائے۔ اس ینِ کامل کے حاصل ہونے کے بعد کوئی نادان ہی ہوگا جو اجر وانعام سے محروم رہنے کے فصلے پرجمارہے گا،کوئی سنگدل ہی ہوگا جو ان وعدموں سے چمٹنے اور لپٹنے کی دوڑ مںد اوّل آنے کی محنت کرتا رہے گا۔ اَللّٰھُمَّ اَرِنَاالْحَقَّ حَقًّاوَارْزُقْنَا اِتِّبَاعَہ‘ وَاَرِنَاالْبَاطِلَ بَاطِلًاوَارْزُقْنَااِجْتِنَابَہ‘۔آمِیْن عشر کی اہمتل عشر کے لغوی معنیٰ دسویں حصے کے ہںَ۔اصطلاح مںا زمنا کی پدواوار کے اس حصے کو کہا جاتا ہے،جسے شریعت نے زمن کی پدراوار کی زکوٰۃ کے طور پر پدعاوار کے مالک پر لازم قرار دیا ہے کہ جب بھی وہ پدِاوار حاصل کرے عشر ضرور نکالے۔جساح کہ قرآن مجد مںے ارشاد ہے{وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ}’’اور کھیب کٹنے کے دن اس کا حق ادا کردو‘‘لہٰذا یہ شریعت کا مقررکردہ حق ہے اور مال کی زکوٰۃ کی طرح فرض ہے۔عشر کی فرضت پر ایمان رکھنا بھی لازمی اور ضروری ہے۔زکوٰۃ کی طرح عشر کوبھی شریعت مں عبادت کا درجہ حاصل ہے لہٰذا زکوٰۃ کی ادائیمی کرنے والوں کی طرح عشر کی ادائیکے کرنے والوں کو بھی اجر وثواب ملتا ہے اورزکوٰۃ کی ادائیبا نہ کرنے یا پوری ادا نہ کرنے والوں کی طرح عشر کی ادائیں مںر غفلت وکوتاہی کرنے والے بھی مستحق پکڑ و عذاب قرار دیے جاتے ہںک۔مال کی زکوٰۃ ادانہ کرنے والے مسلمانوں کی طرح عشر کی ادائیاز نہ کرنے والے مسلمان بھی اپنے مالوں اور جانوں کو غرپ محفوظ بنارہے ہںص۔مسلمانوں پر آنے والی آفات کے اسباب مںر یہ سبب بھی قابل غور ہے کہ فصلوں کی کاشت(بوائی)کے وقت بقدر ضرورت پانی کا نہ ملنا(چاہے بارشوں کی کمی کی وجہ سے ہو یا دریاؤں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے ہو یا زیر زمنک پانی کا ذخروہ کم یا ختم ہوجانے کی وجہ سے ہو)لہلہاتی کھوےیاں کا کٹائی کے موقع پر کسی ناگہانی آفت میںمبتلا ہوجانا(چاہے بارش کی زیادتی کی وجہ سے ہو یا سیلاب آجانے کی وجہ سے ہو، پا لا(کہر،برف)گرنے کی وجہ سے ہوکڑ ے پڑجانے کی وجہ سے ہو)کہںی زکوٰۃ وعشرکی عدم ادائیمن کی بناکد پر تو نہں ہورہا؟ ان زرعی زمنو ں پر (جو بارش کے پانی یا قدرتی طورپرحاصل ہونے والے پانی سے سرماب ہوتی ہںا)کی جانے والی کاشت کے نتجےا مں حاصل ہونے والی کل پدہاوار مں سے دسواں حصہ بطور زکوٰۃ نکالنے کو عشر اور وہ زمںپان جنہںر پانی خرید کر(کنواں کھودنے یا نہر نکالنے کے اخراجات یا حکومت کو آباانہ دینا بھی اس مںڑ شامل ہے)سرفاب کاہ جاتا ہے اس کی کل پدداوار مںا سے بسوےاں حصہ نکالنے کو نصف عشر کہاجاتا ہے۔اصطلاحاًدونوںکو عشر ہی کہہ دیا جاتا ہے۔ عشر کو اگر چہ زمینی پدشاوار کی زکوٰۃ کہہ دیا جاتا ہے لکنک زکوٰۃ کے فرض ہونے کی جو شرائط ہںک وہ عشر کے فرض ہونے مںں نہںب ہے۔عشر ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو آمدنی کی غرض سے زمنو سے پد اوار حاصل کر رہاہو۔چاہے وہ مسلمان مردہو یا عورت،بالغ ہو یا نا بالغ ،عقل مند ہو یا مجنون و پاگل، آزاد ہو یا غلام۔زمند اپنی ہو‘وقف شدہ ہو یا کرائے پر حاصل کی ہوئی ہو۔تمام زمنویں سے حاصل شدہ کل پدااوار مںن سے عشر یا نصف عشر نکالا جائے گا۔پدغاوار کی مقدار بھی متعنش نہںت۔جتنی بھی مقدارحاصل ہو اس تمام مںص سے عشر یا نصف عشر واجب ہوگا البتہ اگرحاصل شدہ مقدار نصف صاع پونے دوسرم سے کم ہوتوعشر واجب نہںع ہوگا۔عشر کے واجب ہونے مں مدت کی بھی کوئی قدر نہیںہے۔جب بھی پدہاوار حاصل ہوگی(کھی و کاٹی جائے گی،پھل پھول وغرںہ توڑے جائیںگے)عشرواجب ہوگا،چاہے پدباوار کاحصول سال مںد ایک مرتبہ یا ایک سے زائد مرتبہ ہو۔پدااوار کے حصول مںٹ جو بھی اخراجات ہوں انہںی بھی پدجاوار مں سے منہا نہںص کابجائے گا۔پوری کی پوری پدواوار پر عشر واجب ہوگا۔عشر بعنہ اس پدواوار مںڑ سے بھی دینا جائزہے اور اس کے برابر اس وقت کی بازاری قمتا کے مطابق نقد رقم سے دینا بھی جائز ہے۔ عشر صرف وہی لوگ لے سکتے ہیںیا صرف انہیںہی دیا جاسکتا ہے جو زکوٰۃ لنےش کے حقدار ہوں۔ صدقۂ فطر صدقۂ فطر شریعت اسلامہئ مںر پائی جانے والی مالی عبادات مںر ایک اہم ترین عبادت ہے۔ مفتاٹنِ کرام نے قرآن و حدیث سے ماخوذ اصولوں کی روشنی مںہ اسے ایسا واجب قرار دیا ہے جو واجب ہوجانے کے بعد ادا کے بغرن ساقط نہںا ہوتا یین واجب ہونے کے بعد ہرحال مںس ادا کرنا لازمی ہے نزں یہ ایک علحدرہ اور مستقل عبادت ہے اس کا رمضان المبارک کے روزوں کے رکھنے نہ رکھنے سے کوئی تعلق نہں ہے۔ روزے رکھے گئے ہوں پھر بھی ادا کرنا ضروری ہے دانستہ، نادانستہ یا کسی مجبوری سے نہ رکھے گئے ہوں تب بھی ادا کرنا واجب ہے۔ پس اس کا ادا کرنے والا دناھ مںن ایک واجب پورا کرنے کی ذمہ داری سے فراغت پاتا ہے اور آخرت مںں اجروانعام کا حق حاصل کرنے والا بن جاتا ہے۔ صدقۂ فطرکس پر واجب ہے؟ ہر اس مسلمان مرد و عورت پر اس کی اپنی اور زیرِکفالت افراد کی طرف سے واجب ہے جس کے پاس ضروریات سے فارغ اتنا مال ہو جس سے ساڑھے باون تولہ (612.500گرام) چاندی خریدی جاسکتی ہو۔ (اس مالت کی ملکت والے پر قربانی بھی واجب ہوجاتی ہے اور ایسا شخص زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ لنےو کا مستحق بھی نہںت رہتا۔) زیرکفالت افراد مں نوزائدرہ، شریخوار، نابالغ، محتاج، معذور و مجنون تمام لڑکے اور لڑکا ں داخل ہںو۔ البتہ بالغ غرےمجنون بچوں اور اہلہب کی طرف سے اگرچہ واجب نہںر ہے لکن، ان کے علم مںک لاکر ان کی اجازت سے اپنی طرف سے بھی ادا کرسکتا ہے۔ صدقۂ فطر کب واجب ہوتا ہے؟ یکم شوال عد الفطر کے دن صبح صادق یین نماز فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد صدقۂ فطر واجب ہوجاتا ہے لہٰذا اس دن صبح صادق سے پہلے جس مسلمان کا انتقال ہوجائے اس پر واجب نہںص اور جس کا صبح صادق کے بعد انتقال ہو اس پر واجب ہوگا۔ جو بچہ/بچی صبح صادق کے وقت سے پہلے پد ا ہوگی اس پر واجب ہوگا لکن جس کی پدیائش صبح صادق کے بعد ہو اس پر واجب نہںر۔ نزب جو شخص اس دن صبح صادق سے پہلے مسلمان ہو اس پر ہوگا اور جو بعد مںں مسلمان ہو اس پر نہںہ ہوگا۔ صدقۂ فطرکی مقدار: شریعت نے اس کے لےن چار چزبوں کو مخصوص فرمایا: (۱)گہودں۔ (۲) جَو۔ (۳) کھجور۔ (۴) کشمش گہوہں کی مقدار نصف صاع اور جَو اور کھجور کی مقدار ایک صاع جبکہ کشمش کے متعلق مفتیٰ بہ قول ایک صاع کا ہے (نبی ﷺ کے زمانے مںد ان چز وں کے وزن کے لے جو پمارنہ استعمال ہوتا تھا اسے صاع کہتے تھے جو محققن کی تحقق( اور مفتا نِ کرام کے فتووں کے مطابق پاکستان مںں رائج پرانے اوزان کے مطابق ساڑھے تن (31/2) سرت کے برابر ہوتا تھا اس حساب سے نصف صاع پونے دو(13/4)سرن کا ہوا۔) دورِحاضر مںے لوگوں کے درماجن شہری علاقوں مں۔ عموماً بازار سے گندم کا آٹا خرید کر استعمال کرنے کا رواج ہوگا ہے اور مفتاحنِ کرام نے مندرجہ بالا جنسوں کے بجائے قمتر ادا کرنے کی اجازت دی ہے لہٰذا جس گھر مںت جس قسم کی گندم کا آٹا استعمال ہوتا ہو اس آٹے کے دو کلو کے پسےا فی کس کے حساب سے ادا کرنے سے فطرہ ادا ہوجائے گا۔ ایک پروردتمنا: تمام مالی صدقات خواہ واجبہ ہوں یا نافلہ خوش دلی سے دینے ہں اور اﷲ تعالیٰ ہی کو دینے ہںل۔ غرباء کے دنوِی مفاد اور اپنے اخروی مفاد کے پش نظر دینے ہںت۔ غرباء کی دنوای ضرورت عارضی ہے اپنی اخروی ضرورت دائمی ہے۔ غرباء کا دنووی وقت ہرحال مںو گزررہا ہے اپنا اخروی وقت نہ جانے کس حال مں گزرے؟ کاہ ہی خوب ہوکہ مخر حضرات فطرے کے باب میںگندم کے نصاب پر اکتفا کرنے کے بجائے کشمش کا نصاب اختاظر کرتے ہوئے روحانی مسرت کا حظ اٹھائںج۔ ہے کوئی اپنے اخروی تعشک کو بلند سے بلند تر سطح پر لجا نے والوں کی جاری دوڑ مںغ شامل ہونے والا؟ کوئی بھی کسی بھی وقت اس جاری دوڑ مںر بغرر کسی رکاوٹ بغرا کسی قد (شرط) کے حصہ لے سکتا ہے۔ اﷲتعالیٰ نے غریب پدوا فرماکر مخرب پر بہت، بہت، بہت بڑا احسان فرمایا ہے۔ غربت جرم نہںد صمدوبے نارز کی نمائندگی ہے۔ خراات قبول کرنا مخرا پر احسان ہے لہٰذا ان کی تذللت، تحقری، توہن سے احتراز کاب جائے۔ فطرہ کب دیا جائے؟ یوں تو فطرے کا وجوب عد الفطر کے دن صبح صادق کے وقت ہوتا ہے لکن فقہائے کرام نے اس کی اجازت دی ہے کہ عدر سے قبل بھی دیا جاسکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ عدن سے قبل ادا ہوجائے تاکہ غرباء بھی اپنی عدع سنوار سکںل۔ مستحب یہ ہے کہ عدی کی نماز سے قبل عدےگاہ جاتے ہوئے ادا کرلای جائے۔ ورنہ عدن کی نمازکے بعد ادا کرلے اپنے اوپر باقی نہ رکھے تاکہ مواخذے سے بچ جائے۔ گزشتہ سالوں کے رہ گئے ہوں تو وہ بھی ادا کرلے۔ ادائی گ کی ایک خاص شرط: زکوٰۃ کی طرح مستحق کو فطرے کا مالک بنانا لازمی شرط ہے تاکہ وہ اس مال کو اپنی مرضی سے استعمال کرسکے۔ دینے والے کی طرف سے کسی بھی قسم کی قوردات و شرائط لگانے سے فطرہ ادا نہںل ہوگا۔ فطرہ کسے دیا جائے؟ زکوٰۃ وصول کرنے کے لے سرکاری طور پر مقررشدہ عاملنو کے علاوہ کے مستحقین زکوٰۃ کو فطرہ دیا جاسکتا ہے (واضح رہے کہ مملکت اسلامہل کی طرف سے کیھا فطرے کی وصولاےبی کے لےو عاملنو نہںک بھجے( گئے لہٰذا یہ کہاجاسکتا ہے کہ سرکاری سطح پر فطرے کی وصولا بی کا رواج نہں رہا۔) ایک فطرہ ایک سے زائد غرباء مںن بھی تقسم کای جاسکتا ہے اور ایک غریب کو کئی فطرے بھی دیے جاسکتے ہںہ۔ موجودہ حالات مںک دییے مدارس کے طلبہ کو ترجحو ملنی چاہےم۔ زکوٰۃ کے فقہی مسائل مسئلہ:رہائشی مکان،معاش کے لےز دوکان،فکٹرری،کارخانے اور مِل وغرحہ پر زکوٰۃ نہںا ہے۔ مسئلہ:کارخانے کی مشینری،کاریگر کے اوزاروں(Tools)،پڑھنے کے لےر کتابوں وغر ہ پرزکوٰۃ نہں ہے۔ مسئلہ:گھروں، دکانوں، کارخانوں میںاستعمال کی چز وں فرنچرو وغرکہ پر زکوٰۃ نہںک ہے۔ مسئلہ:وہ زمن جائدادیں وغرلہ جو تجارت کی غرض سے نہںڑ خریدی گئں توان پر زکوٰۃ نہںی ہے۔ مسئلہ:زمنز ،جائدادوں کوتجارت کی غرض سے خریدا گان ہے تو زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے پر مارکٹہ ویلیو لگواکر اس کی مالت مںک سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔ مسئلہ:جائداد کو کرایے پر دیا گاک ہے تو کرایے کی آمدنی کو زکوٰۃ کے حساب مںں شامل کا جائے گا۔ مسئلہ:اگر کوئی شخص حج کے لےی یا بچوں کی شادی کے لےٓ رقم جمع کررہا ہو زکوٰۃ کا سال آنے پر اس جمع شدہ رقم کو حساب مںگ شامل کرکے زکوٰۃ ادا کرے گا۔ مسئلہ:زکوٰۃ کے پسےص مسجد،مدرسے کی تعمرو میںلگانے سے، کسی لاوارث کے گوروکفن مںک خرچ کردینے سے،کسی مُردے کی طرف سے اس کا قرضہ اداکردینے سے، کسی رفاہِ عامہ کے کاموں مںک لگادینے سے زکوٰۃ ادا نہںک ہوگی۔ مسئلہ:تنخواہ کی مد مںج زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہںد ہوگی۔ مسئلہ:کسی غر مستحق کو مستحق سمجھ کرزکوٰۃ دینے کے بعد پتہ چلے کہ وہ غرک مستحق تھا، تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ مسئلہ:سرکاری ملازمن کے سرکار کے پاس جمع پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ واجب نہں ہے۔ مسئلہ:

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
339