(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
پندرہ شعبان کی رات
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ پندرہ شعبان کی رات رات دن کا بنانے اور چلانے والا کون ہے؟ دنا کی دیگر تمام مخلوقات کی طرح رات، دن کی تخلق بھی خالصتاً اللہ تعالیٰ ہی کی صناعی ہے اور اسلامی تعلماےت کے مطابق اس نے اس نظام مں دن سے پہلے رات کو رکھا ہے جو غروب آفتاب ہوتے ہںط شروع ہوجاتی ہے اور صبح صادق ہوتے ہی مکمل ہوجاتی ہے۔ تعداد کے اعتبار سے سردی کے موسم مںا دن کے مقابلے مںن رات قدرے طویل اور گرمی کے موسم مں قدرے مختصر ہوتی ہے۔ ایسا عموماً دنا کے اکثر ممالک مںق ہوتا ہے لکن اللہ تعالیٰ کی قدرت اس نظام ہی مںی محدود ہو کر نہںا رہ گئی بلکہ اس حوالے سے اس نے اسی دنات مں اپنی قدرت کا اظہار بالکل مختلف انداز مں بھی فرما رکھا ہے چنانچے ایسے بھی علاقے دناک مںو موجود ہںا جہاں 6 چھ مہنےس کا دن ہوتا ہے اور ایک ہی رات 6 چھ مہنےص کی ہوتی ہے۔ اور بعض علاقے ایسے بھی پائے جاتے ہںی جہاں چھوٹی راتوں مںں غروب ہونے کے ایک گھنٹے کے بعد طلوع ہوجاتا ہے۔ دجّال کے زمانے کے چالس دنوں مںص ایک دن ایسا آئگار جو ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہنےگ کے برابر اور ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہوگا باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے دنوں کی اس مقدار کے بڑھنے مںہ دجال کا اپنا کوئی کردار نہںط ہوگا۔ آج تک جس کے حکم سے یہ نظام چل رہا ہے اس دن بھی صرف اور صرف اسی کا حکم کار فرما ہوگا۔ دن رات کی مقدار کے حوالے سے اس نظام کائنات کے چلانے والے نے اپنے محبوب ﷺ کے ذریعے نزول قرآن کے نزول کے زمانے کے ہر رنگ، نسل، زبان، حتیہن عمر اور علاقے کے تمام انسانوں سے لکرن قا مت سے پہلے اس دنا مںو آنے والے آخری انسان تک کو اپنا غرا محرف کلام بنا کر پغا م بھجوایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر رات دن کے انا نظاموں کو قاومت کے دن تک پھیلا کر لمبا کر دے تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کون ہے جو تمہارے اور پر دن اور رات کو لاسکے؟ (سورۃ القصص 71,71) (بلاشبہ، بے شک، بالتحیق پوری کائنات کا کوئی ایک فرد بھی نہں زمینی، آسمانی، ماتحت الارض اور مافوق السٰمٰوت کی تمام مخلوقات ملکر بھی اس نظام مں، لمحے بھر کے لئے ذرہ برابر بھی نہ خلل ڈال سکی ہںا، نہ ڈال رہی ہںر نہ ڈال سکںف گی)۔ مقدار کے اعتبار سے مندرجہ بالا زمینی حقائق کی موجودگی کو ہر حال مںا، ہر زمانے مں تسلم کرتے ہوئے اس ناقابل تردید حققتہ کو بھی ہر ہر زمانے مںج تسلمک کاد جاتا اور تسلما کال جاتا رہگاہ کہ معاتر ے اعتبار سے اپنی رحمت خاصہ اور اجورو انعامات کی نادضی اور دریادلی کے تناظر مںم بعض راتوں کو اللہ تعالیٰ نے مخصوص فرما کر فضیلت بخشی ہے ان راتوں مںب عام طور پر رمضان المبارک کے مہنے کی تمام راتںق خصو صی طور پر لیلۃ القدر، ذی الحجہ کے مہنےل کے پہلے عشرے کی راتںی اور پندرہ شعبان کی رات شامل ہں ۔ شب براء ت کا ذکر قرآن مقدس مں : پندرہ شعبان کی رات کو عرف عام مںد شب براء ت کا نام دیا گاک ہے جہاں تک قرآن مقدس مںا اس کے ذکر کا تعلق ہے۔ بعض مفسرین کرام نے حضرت عکرمہؓ کی روایت کی روشنی مں سورہ کی ابتدائی آیات مںں پائے جانے والے لیۃ مبارکہ کے لفظ کو شب براء ت سے تعبرن فرمایا ہے لکنا علمائے کرام نے اکثریت نے حضرت عکرمہؓ کی اس روایت کو محدثنا کرام کے طے شدہ اصولوں پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے قبول نہںت فرمایا ہے اور لیلۃ مبارکہ کے لفظ کو شب قدر سے تعبرر فرمایا ہے۔ لہٰذا بغرک کسی نزاع کے دن لوگوں کییہ بات تسلمس کرنے مں کوئی حرج نہںع جن کایہ کہنا ہے کہ شب براء ت کا ذکر قرآن مقدس مںہ نہںا ہے۔ شب براء ت کا ذکر احادیث مںں: احادیث کے ذخراے اییں روایات موجود و محفوظ ہںل جن مں صاف اور واضح طور پر شب براء ت کا ذکر ملتا ہے وہ بھی دس مختلف صحابہ کرامؓ کے ذریعے سے لہٰذا ان لوگوں سے قطعاً اتفاق ممکن نہںو ہے جن کا یہ کہنا ہے کہ اس رات کے احا ء کے حوالے سے کوئی اہمتی و حتسے نہںا ہے۔ انہں شاید اس رات کے احااء مںک ہندوپاک مںب رائج بعض بدعات کے رسوخ کی بنافد پر یہ بات کہنی پڑی ہے لکنذ جوڑوں کے ڈر سے کپڑے نہ پہننا یا حادثے کے بعد سڑک اکھیڑ دینا علاج نہں ہے۔ البتہ بدعات کے خلاف تبلیکو اصولوں کی رعایت رکھتے ہوئے اصلاحی و خر خواہی کے جذبوں کے ساتھ مثبت انداز مںل آواز اٹھاتے رہنا، قلم کو حرکت مںا رکھنا اور دعاؤں کے ہتھایر کو استعمال مں رکھنا فرض منجی ہے۔ ان حضرات نے محدثنے کرام کے ایک اصول کو تو ان روایات کے بارے مںو اپنا رکھا ہے لکنی فضائل کے باب مں محدثن کرام کے اختا ر کردہ اصول کو نظر انداز کردیا (تفصیلات موجب طوالت ہوں گی)۔ پس انہی بناتدوں پر فقہائے کرام نے اس رات کے احانء کو برقرار رکھا، سلف صالحنر نے اس کا اہتمام رکھا اور عصر حاضر کے علمائے کرام نے اسے مستحب قرار دیتے ہوئے اس کے احاکء کی اجازت دے رکھی ہے۔ شب براء ت کے فضائل احادیث کی روشنی مںک: اللہ رب العزت اس رات کے شروع ہوتے ہی اس کی تکملی تک اپنی مکمل رحمت عامہ کے ساتھ اپنے بندوں کے طرف توجہ فرماتے ہںا اور مسلسل، باربار یہ اعلان ہوتا رہتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت کا چاہنے اور مانگنے والا کہ مںت اس کی مغفرت کردوں اسے معاف کردوں (عام معافی کا اعلان مگر معافی چاہنے والوں کے لئے) ہے کوئی روزی کا چاہنے اور مانگنے والا کہ مںہ اسے روزی عطا کروں (روزی تلاش کی تدبر کے باوجود رازق و رزاق سے مانگنے کی چز ہے) ہے کوئی حاجات کا پورا کرانے والا کہ مںر اس کی حاجات پوری کروں (حاجات رکھی بھی اس نے ہںا، پورا کرنے کی قدرت بھی اسی کے پاس ہے، وہ پورا کرنا بھی چاہتا ہے، بس رجوع کی ضرورت ہے) ہم تو مائل بہ کرم ہںع کوئی مسائل ہی نہںا راہ دکھلائں کسےک راہ روہی نہںو بنو کلف عرب کا ایک قبلہس تھا جس کہ پاس بکریاں تعداد کے اعتبار سے تمام قبائل سے زیادہ تھں ۔ شب براء ت مںی اللہ تعالیٰ کی لا انتہا شان فاکضی، سخاوت، دریا دلی، جو دو، عطا، بخشش کا ذکر فرماتے ہوئے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا بنو کلف کی بکریوں کی کھالوں پر جتنے بال ہںا اللہ تعالیٰ اتنے اپنے مسلمان ہندوں کی مغفرت فرمادیتے ہںی۔ (کاا خوش نصیبی کی کوئی انتہا ہے کہ احکم الحاکمنا کی عدالت عالہں سے مغفرت کا پروانہ مل جائے کتنا قابل افسوس ہے وہ شخص جو اس تقریب مںے ہی شریک نہ ہو۔ کاو ایسا شخص اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج نںان سمجھتا یا اسے اپنی ریاضت اور مجاہدوں پر اعتماد ہے وہ تو نعمتوں کے مقابلے مںف کالعدم قرار پائں گے۔ فضل لٹایا جارہا ہے لوٹ لے)۔ شب براء ت کے اعمال کی تعنم: جہاں تک اس رات مںت کئے جانے والے اعمال کی تعنہ کا تعلق ہے اس مں واضح، بے غبار بات یہ ہے کہ شریعت کی طرف سے عبدات کے حوالے سے کسی خاص عبادت کو متعنم نہں کام گات ہے خود اس رات کے بارے مںہ فقہاء کرام کی وضاحت ہے کہ اس رات کا احالء ہی فرض واجب نہںی ہے۔ یہ احاےء نفل، مستحب زیادہ سے زیادہ مسنون کے درجے کا ہے اس کو اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ احادء اختا ری ہے لازمی نہںے ہے۔ نفلی ہے فرضی نہںو ہے۔ جب شریعت کی رو سے احاہء ہی لازمی نہں ہے تو اسمںہ کوئی خاص عمل (عبادت) کسےہ لازمی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا بلاکسی جبرو اکراہ کے کوئی بھی بدنی و مالی عبادت کی جاسکتی ہے۔ مثلاً نفلی نمازیں، تلاوت قرآن، ذکر اللہ درود شریف، استغفار، صلوٰۃ التسبیح، دعا اور نفلی صدقات وغرئہ وغرجہ۔ بعض بھائومں اور بہنوں کے لئے ایک کارآمد تجویز: مسلمان کے بالغ ہوتے ہںئ اس پر روزانہ کی بناشد پر پانچ نمازیں فرض ہوجاتی ہںا اور فرض ایک قرض ہے اور قرض توبہ سے معاف نہںا ہوتا توبہ سے صرف وقت پر ادائیال نہ کرنے کا گناہ معاف ہوتا ہے لہٰذا زندگی مں اسی قرض کی ادائیر لازمی اور ضروری ہے۔ ایسے قرضداروں کی خدمت مںے مؤدبانہ طور پر خرز کواہی کے جذبے اور آخرت کی جوابدہی کے استحضار کے ساتھ یہ کارآمد تجویز ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس رات مں عبادت کی توفقی مل ہی گئی ہے تو کویں نہ نفلی عبدات کے بجائے یا ساتھ ساتھ اس قرض کی ادائی ا کا اہتمام کای جائے۔ شب براء ت کی بعض عباداتی کوتاہامں: یہ رات گھروں مںی تنہائی کے اتھ اکلےا عبادات مںع مشغول و مصروف رہنے کی رات ہے جسے کہ تہجد کی نماز عموماً گھروں ہی مںت ادا کرنے کا رواج ہے لکن اسے دکھلادے کے اس دور مںں مساجد مںم اجتماعات کی رات بناکر اس کی روح ہی پامال کردی جاتی ہے۔ مفتا ن کرام نے تو گھروں کی تنگیوں میںیکسوئی کے عنصر کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رات مںے مساجد مںل عبدات سے منع نہںی کات تھا۔ لکنک اس بوجہ مجبوری اجازت کو مسلمانوں صرف اجتماع کا ذریعہ بنالاص گا جو شریعت کی طرف سے قطعاًغرن مطلوب ہے اس ضمن مں اللہ کی طرف سے اس رات مں کئے جانے والے اعلان کے الفاظ سے بھی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اعلان کے الفاظ ہں ہے کوئی مغفرت کا چاہنے والا۔ اگر اجتماعتں مقصود ہوتی تو چاہنے والے فرمایا جاتا۔ اللہ ربا العزت تو ہمں اپنے دربار عالہں مںی ہمںض نوازنے کے لئے اکلےف اور تنہا رجوع کرنے کے لئے فرما رہے ہںا اور ہم مںو کہ اللہ تعالیٰ اور بندوں مابن زبردستی گھسے رہنے کا نقشہ بنالتےس ہیںیہ دعوت الٰہی کی فادانستہ نقادری نہںم تو اور کاع ہے؟ (یہ تنہائی صرف شب براء ت نہںر شب قدر مںم بھی مطلوب ہے لکنن ناطقہ سربہ گریبان ہے اسے کار کہئے کہ بھائی لوگوں نے شبنہو، تھاریر اور اجتماعی دعاؤں کا جمعہ بازار لگا رکھا ہوتا ہے اور سیلاب کے اس بہاؤ مں بلاتفریق اکثریت بہتی چلی جاتی ہے۔ اب تو معتکفین کے بھی ٹائم ٹبلا کے ذریعے مختلف اجتماعی پروگرام بڑھتے جارہے ہںت اے چارہ گزا اس کا بھی کوئی مداوا ہے کہ نہںئ ہے) ایسے اجتماعات کے دلداوہ یہ عذر تراشتے ہں کہ اکلےئ جاگنے مں) نندا کا غلبہ ہونے لگتا ہے۔ بھائی! نندر تو بے فکری کی علامت ہے کیھہ فکر مند کو بھی نند آئی ہے؟ وہ تو نندو آور سکون کی گولاکں کھا کر اور انجکشن (ٹکےا) لگوا کر بھی بے چن رہتا ہے اور رات دن آسمان کے تارے گنتا رہتا ہے۔ کا اس رات کی عبادت پر نقد مالی و مادّی منافع کے وعدے ہوتے تو کسی کو نند نہںر اونگھ کا ایک آدھا جھونکا آتا؟ کوئی جمائی بھی لتاا؟ کسی کو انگڑائی کی بھی سوجھتی؟ کبھی اس سوچ کا گذر ذہن پر ہوا۔ دینے والا صمد، بے ناگز، غنی، بے پروا ہونے کی صفات سے متصف ہونے کے باوجود اونگھتا بھی نہںن۔ اور لنے والا بے بس، بے کس، سراپا حاجت مند ہونے کے باوجود نندں کے غلبے کی شکایت کرتا ہے کی اسے بگادنگی، لاتعلقی، غرہیت، اجنیبت کی علامت کہا جاسکتا ہے؟ یہ تو ہںا الزاحی جوابات مگر شریعت اس بحث مںی نہںت الجھاتی اس کی ترغباوت احکامت حقائق و حکمتوں کے لباس مں ملبوس ہوتے ہںی۔ بھوک، پااس، تھکن ، نندٓ، قضائے حاجت وغرےہ اییا کا ک ت ہںت جوہر انسان کے نادر رکھی گئی ہں اور ان کے غلبے کے وقت انسان بے بس، لاچار اور مجبور ہوجاتا ہے اور ایسے مواقع پر شریعت نے فرض، واجب اعمال کی ادائی ک پر غالب آجانے والے ان بشری تقاضوں کی تکملر کو ترجحو کی اجازت دی ہے لہٰذا اس نفلی عمل کے لئے زبردستی اور جبر کو کسےہ کرتے روا رکھا جاسکتا ہے؟ جنتی بشاشت، توجہ، خوش دلی، فرحت، راحت، آسانی اور یکسوئی کے ساتھ عبادت ہوسکے بغرک رات مںت آرام کرلے۔ شایدییو حکمت ہے کہ رحمت خاصّہ کی وصولی کے لئے اس رات مںی آرام کرلے۔ شایدییا حکمت ہے کہ رحمت خاصہ کی وصلی کے لئے اس رات کا کوئی خاص حصہ متعنی نہںت کام گاا اس رات کا دورانہی دیگر راتوں کو طرح غروب آفتاب سے طلوع صبح صادق تک کا ہے جس حصے مںی چاہے اپنے حصے کی رحمتوں اور مغفرتوں کو وصول کرلاے جائے نز اپنی حاجتوں کے تاحاتت پورے ہوتے رہنے کے فصلےب کروالئے جائںی۔ چنانچے عبادت گذاروں کے لئے بھی اس رات مںل آرام ناجائز نہںی ہے۔ آرام بھی کرلے عبادت بھی کرلے اور دونوں مںے سے جسے چاہے حسب موقع مقدم کرلے۔ نزیایک اہم ترین بات یہ ہے کہ اس رات کے فوری بعد فجر کی نماز فرض ہے جو مرد حضرات با جماعت ادا کرتے ہںع۔ ساری رات کے جاگے ہوؤں مں سے بعض حضرات نماز فجر کی ادائی ت سے پہلے ہی نند کی آغوش مںی چلے جاتے ہوں گے بعض جماعت کے بغر ادا کرلتےگ ہوں گے بعض تھکن سے چور ہو کر نہایت گرانی سے شریک ہوتے ہوں گے جنمیں سے بعض تو سجدے وغر ہ مںا ہو سوتے پائے جاتے ہںع مفتا ن کرام کو ہر وہ نماز جو بوجھ سمجھ کر بشاشت کے بغر ادا کی جائے اس کی قبولتو پر تحفظات ہں لہٰذا ایسا جاگنا جس سے فرض مںہ نقص پداا ہو محل نظر ہے۔ اس ضمن مںب آخری حوصلہ افزابات یہ بھی ہے کہ جو شخص عشاء کی نماز باجماعت ادا کرلے اسے آدھی رات عبادت کرنے کا اور جو فجر کی نماز باجماعت ادا کرلے تو اسے بغرس آدھی رات عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ اس رات مں ایک مخصوص عمل کو بعض مساجد مںا لازم کرلا گاے ہے وہ ہے مغرب کی نماز کے بعد دو دو کرکے چھ نوافل باجماعت ادا کرنا اور ہر دو رکعت کے بعد سورۃیٰسین کی تلاوت۔ یہ عمل نہ نبی ا کی محفوظ و منقول شدہ زندگی مبارکہ مںر نہ خرے القرآن کے لوگوں کے منقول شدہ حالات مںل کہںت نظر سے گذرا۔ لہٰذا سنت سے ثابت نہ ہونے کے بوجود اس کا لزوم نہ مطلوب ہے نہ مشروع نہ ہی سے اسے فقہائے کرام کی تائدک حاصل ہے۔ اگر بار خاطرنہ ہو تو یہ حدود سے تجاوز ہے۔ ہر مکتبہٗ فکر کی طرف سے اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چودہ سو سال پہلے مکمل کروائے جانے والے مذہب اسلام مںر (جبکہ نبیﷺ بھی دنا سے پروہ فرما گئے ہں وحی کا دوروازہ بھی بند کردیا گاں ہے) اتنے طویل عرصے کے بعد اسلام کا ایک نائ ایڈیشن منظر عام پر آچکا ہے ایک مخصوص مکتبہٗ فکر کے معدودے چند حضرات باقاعدہ صلوٰۃ التسبیح کی نفل نماز کی ادائیسے اس رات مںس باجماعت پڑھنے لگے ہںا۔ اس مکتبہ فکر کے مفتاکن کرام فقہ حنفی کی روشنی ہی مںہ اپنے فتاویٰ دیا کرتے ہںا شاید وہ بھی اسلام مںے اس غرٓ مذہبی تجاوز سے متفق نہ ہونے کے باوجود بے بس اور عاجز ہوں لیکنفقہ حنفی کو مشعل راہ بنا کر چلنے والا باجماعت صلوٰۃ التسبیح کے جواز کا نہ قائل ہوسکتا ہے نہ قائل کرسکتا ہے نہ ہی فتویٰ دے سکتا ہے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میںیہ بات آتی ہے جسے وہ زبان پر بھی لے آتے ہںہ کہ اسمںگ کاا حرج ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبیﷺ نے اس نماز کی امت کو ترغبج بھی دی، تاکد بھی فرمائی، فضائل سناکر اکسایا بھی، ترکبی بھی بتلائی، پڑھنا سکھلایا بھی، خود پڑھی بھی لکنا اییب کونسی روایت نظر سے نہں گذری کہ باجماعت کبھی پڑھائی بھی ہو خلاف پغمبر سے بڑا بھی کوئی وجے ہوسکتا ہے؟ غلامی و عشق رسول کا دعویٰکرنے والے کے لئے تو سب سے اہم ترین بات یہ ہوتی ہے کہ آقا ﷺ نے یہ عمل ’’کب‘‘ کسےا اور کتنا فرمایا ہے۔ نبیﷺ کے قول فعل اور تقریر کے ذریعے کسی عمل کے خدو خال متعن ہوجانے کے بعد نہ اسمںو اپنی طرف سے کچھ گھٹانے، کچھ بڑھانے، کچھ بدلنے کی گنجائش ہوتی ہے نہ یہعمل دعویٰ عشق کی تصدیق کرتا ہے۔ جس کی بارگاہ مںت وہ عمل پشے کرنا ہے وہاں عمل کی قبولتن نمونہ نبیﷺ کی مطابقت کے ساتھ مشروط ہے۔ اسی لئے کہ وہ ہی معامر حق، صححہ اور غلط مںن امتیاز کی کسوٹی ہے اس حرا لے سے مؤمن کی سوچ کا روح پر ور، دل فراز، ذہن کشا انداز ییے رہا ہے۔ سچ گھٹے یا بڑھے سچ نہ رہے اور جھوٹ کی کوئی انتہا نہںے صلوٰۃ التسبیح ایک اہم نفلی عبادت: نفلی عبادات مںا صلوٰۃ التسبیح بہت اہم نماز ہے اس کی اہمتک کو نبیﷺ نے بخشش، عطہن، تحفہ اور خوشخبری جسےا خوش کن الفاظ سے خوب، خوب اور خوب اجاگر فرمایا ہے۔ اسلام کے پہلے زمانے سے آج تک کے ہر زمانے کے مقتدایان ملت اسلامہ ، علمائے امت، محدثنخ کرم، فقہائے عظام، صوفامء اور صالحنر اس کا اہتمام فرماتے رہے ہںف۔ اگر کوئی شخص ساری دناہ کے لوگوں سے زیادہگنہگار ہو تو اس نماز کی ادائیوف اس کے تمام حقوق اﷲ سے متعلق (صغررہ) گناہوں کو نامعۂ اعمال سے مٹاکر رکھ دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ (البتہ کبروہ گناہ توبہ سے، فرائض وواجبات تلافی سے، حقوق العباد کی تلافی ادائیگییا معاف کرانے سے مشروط ہے۔) صلوٰۃ التسبیح کی ادائیلب کا وقت اور ترتبب: یوں تو صلوٰۃ التسبیح کی ادائیا کا بہترین وقت حدیث مں زوال کے بعد اور ظہر سے پہلے کا بتلایا گا ہے لکنش اسے رات دن مںے نماز کے لےں جائز کسی بھی وقت مںف ادا کا جاسکتا ہے، لہٰذا شب برأت مںس انفرادی طور پر اس کا پڑھنا ناجائز بھی نہںف اور اس کو لازم قرار دینا بھی جائز نہںی جہاں تک اس کی ادائیدا کی ترتب کا تعلق ہے تو یہ چار رکعات سے پر مشتمل نماز ہے جس مںہ کُل تنط سو(300) مرتبہ تسراا کلمہ پڑھا جاتا ہے جس کی تفصل درج ذیل ہے: پہلی رکعت مںز ثناء پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ، سورۂ فاتحہ اور سورت کے بعد رکوع مں جانے سے پہلے دس(10) مرتبہ، رکوع مںہ دس(10) مرتبہ، رکوع سے اٹھنے کے بعد سجدے مں جانے سے پہلے سجدے سے اٹھنے کے بعد دوسرے سجدے مںر جانے سے پہلے جلسے مں دس(10) مرتبہ، دوسرے سجدے مںج دس(10) مرتبہ اس طرح پہلی رکعت مںا کُل تعداد پچہتر(75) مرتبہ ہوئی، اسی ترتب) سے بقہج تینوں رکعات مں( پچہتر(75)، پچہتر(75) بار پڑھنے سے چاروں رکعات مں کل تعداد تن سو(300) ہوجائے گی۔ بقہر نماز معمول کے مطابق پوری کرنی ہے۔ صلوٰۃ التسبیح کے فقہی مسائل: ۱…نماز کی چار رکعتوں مںہ سورۂ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنی ہے لکن متعن کوئی سورت نہںر ہے۔ ۲… تسرثا کلمہ اﷲ اکبر تک بھی پڑھا جاسکتا ہے اور ولاحول ولاقوّۃ الاّ باﷲ العلی العظمن کو بھی ملایا جاسکتا ہے۔ ۳… تسبحالت کی گنتی انگلوےںیا تسبحل پر گنی جاسکتی ہے۔ البتہ زبان سے گننے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ ۴… چونکہ تسررا کلمہ پڑھنے کی تعداد تنی سو بتلائی گئی ہے، لہٰذا کسی رکن مںب بھولے سے کمی رہ جائے تو اگلے رکن مںس وہ کمی پوری کی جاسکتی ہے۔ شب برأت اور زیارت قبور: مسلمانوں کے درماتن اس رات مںب لازمی طور پر قبرستان جانے کا رواج ہے۔ اس عبادتی عمل کو اکثریت نے عادتی عمل سے تبدیل کرلای ہے محققنں کی تحققب کے مطابق پوری زندگیٔ مبراکہ مںں نبیﷺ صرف اور صرف ایک شب برأت مںم جنت البقیع مںز تشریف لے گئے تھے۔ اس کا صاف واضح مطلبیہ ہے کہ یہ ہرسال کا معمول نہں تھا۔ جب نبیﷺ نے اس رات مںی قبرستان جانے کی عادت ہی نہںن بنائی تھی تو امت مسلمہ کی اکثریت نے نہ جانے کسےتیہ عادت اپنالی ہے؟ پھر نبیﷺ کییہ عملی حدیث ہے کہ آپ ﷺ ایک مرتبہ تشریف لے گئے لکنب اس باب مںر قولی کوئی حدیث ان الفاظ کے ساتھ نظر سے نہںی گزری کہ شب برأت مںی قبرستان جار کرو۔ نزب قبرستان جانے کی دو علتیں شریعت نے بتلائی ہںی: ۱… مرحومنا کی مغفرت کی دعا کی جائے، کچھ پڑھ کر انہںو ایصال ثواب کام جائے۔ ۲… خود اپنی موت کو یاد کات جائے کہ ایک دن ہم نے بھییہاں آنا ہے۔ یہاں آنے کی تا ری کی طرف توجہ دی جائے لکن اس رات مں قبرستان کا نقشہ چراغاں، دیے، موم بتا ں، اگربتاکں اور گلاب کے پھول نچھاور کرنے مں ہی نظر آتا ہے۔ اس کا ایسا علبہ ہوتا ہے کہ دعا و استغفار کرنے والے مغلوب و مسکن دکھائی دیتے ہںک۔ یہ اعمال سراسر شریعت مںئ غرامطلوب ہںم۔ ان کا جواز بھی محل نظر ہے۔ لکنت اس رات قبرستان جانے والوں نے اسی کو اہم مقصد بنالاگ۔ پھر سڑکوں پر بے پناہ ٹریفک کا ہجوم جو لوگوں کی اذیت کا باعث بنتا ہے قبرستان کے راستوں میںجیب کتروں کا تسلط، قبرستان کے گرد مختلف اشاہء کے خریدوفروخت کا ملہ زیارت قبور کی اہمت ہی کو روند اور کچل دیتا ہے۔ اگر نبیﷺ کی سنت مبارکہ ایک مرتبہ جانے کی ثابت ہے تو ہمںر اس سنت مبارکہ پر عمل اسی کی حد تک ہی کرنا چاہےویینے ہر سال قبرستان جانے کا التزام نہ کاڑ جائے بلکہ کبھی کبھی ناغہ بھی کردینا چاہےا نزا وہاں جاکر جو کام نبیﷺ نے فرمایا ہے یینے دعا و استغفار ہمںن بھی وہی کام کرنا چاہےب نہ کہ غرممطلوب اعمال مں منہمک ہوا جائے۔ یہ کساو عشق ہے کہ محبوب ﷺ نے تو کوئی اور اعمال کےی اور عاشقین سراسر اس کے خلاف کام کررہے ہںہ؟ شب برأت کی ایک خودساختہ رسم: پاک و ہند کے مسلمانوں نے شب برأت مںر ایک اور رسم اپنا رکھی ہے جو سراسر خودساختہ ہے اور صرف اور صرف پاک و ہند کے مسلمانوں ہی مںب پائی جاتی ہے۔ وہ رسم اس رات مںہ خصوصی طور پر حلوہ پکانے، بانٹنے، تبالہ کرنے اور کھانے کی رسم ہے۔ جس کا شریعت سے کوئی تعلق کسیبھی حوالے سے نہںت بنتا۔ عبادت کے لےر مخصوص کی گئی اس رات مںس عورتںا حلوہ بنانے، بچے بانٹنے اور مرد کھانے مںا اپنا وقت ایسا صرف کرتے ہںل کہ اس کے بعد عبادت کی بھی کماحقہ بشاشت کے ساتھ ہمت نہں رہتی۔ شطاٹن نے اس طرح اس رات کی عبادت کی روح ہی کو نکال کر باہر رکھ دیا ہے اور قوم حلوہ پکانے کے بعد سند بے جان اعمال کر کے یوں سمجھتی ہے کہ ہم نے عبادت کا حق ادا کردیا۔ اس عادت اور رسم کو مزید پختہ کرنے کے لےا اس کو نبیﷺ کے دندانِ مبارک شہدو کردیے جانے اور حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی طرف منسوب کررکھا ہے حالانکہ ان دونوں واقعات کا شعبان کے مہنےں سے کوئی تعلق ہی نہں بنتا۔ مزیدیہ کہ حلوہ خوشی کے موقع پر کھائے جانے کی چز ہے۔ نہ معلوم امت نے ان دونوں واقعات مںک خوشی کا کون سا پہلو ڈھونڈ رکھا ہے؟ (واضح رہے کہ بحث حلوے کے جائز وناجائز سے متعلق نہںک بلکہ حلوے اور شب برأت کے باہمی مذہبی تعلق سے ہے جوکہ سراسر ناجائز تجاوز ہے۔) شب برأت مں ایک شطاسنی کردار: پاک و ہند کے مسلمانوں نے ہندووں سے متاثر ہوتے ہوئے ایک شطاجنی عادت بھی اپنا رکھی ہے وہ یہ کہ اس رات مں خصوصی طور پر پٹاخے چھوڑنے کا عمومی رواج اپنا لاش گائ ہے۔ باوجود تلقنی،یاددہانی اور مذمت کے بانن کےم جانے کے اس عادت کو ترک کرنے کے لےس تاھر ہی نہںن ہںن بلکہ ہرگزرتے سال کے بعد اس مںن جدید اور مزید رنگتوں کا اضافہ دراضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ بھلا! آگ کے پھیلانے اور شریعت کا آپس مںں کوئی تعلق بتلایا بھی جاسکتا ہے؟ یہ تو خالصتاً وہ عمل ہے جس مںت پسہب ناجائز کام مںو صرف کان جاتا ہے جس کو قرآن نے تبذیر کہا ہے اور تبذیر کرنے والوں کو شا طنل کا بھائی کہا ہے۔ کلمہ پڑھا ہے رحمان کی اطاعت کا اور عمل اختاار کررکھا ہے نعوذباﷲ شطا ن کی عبادت کا۔ کاو ایسے لوگ اس رات کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار دیے جاسکتے ہںر جبکہ وہ مقابلے مںگ ڈٹ کر رحمت کے خلاف ساری رات کمربستہ رہتے ہںز۔ ذرا غور تو کےق ط! اس رات مںا آسمان سے زمن کی طرف رحمت نازل ہوتی ہے اور شا طنل کے بندے زمنب سے آسمان کی طرف آگ چھوڑ کر اس کا مقابلہ کررہے ہوتے ہںہ۔ کان کوئی مسلمان خود یا اپنی اولاد کو اس مذموم اور معلون شطالنی حرکت کی اتباع کرنے کے لےے تاور پائے گا؟ شب برأت کے محرومن : وہ شخص جو اپنے دل مں کنہح اور حسد رکھتا ہو یا والدین کا نافرمان ہو یا رشتہ داروں سے تعلقات توڑے ہوئے ہو یا شراب (نشہ) کا عادی ہو یا بوڑھا ہوکر زنا جسےا عمل بد کا مرتکب ہو وہ اس خصوصی رحمت بھری رات کے فض سے محروم رہتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو بطور خاص اس رات کی عبادت کرتے ہوئے اپنے اپنے گریبانوں مں جھانک لنای چاہےی، کہںہ ان رکاوٹوں کی بنا د پر رات بھر عبادت بھی اکارت نہ جائے۔ آخری استدعا! عصرحاضر مںا ریڈیو، ٹیاد وژن، وی سی آر، ڈش، انٹناھ، انٹرنیٹ وغر ہ وغرمہ کے ذریعے سے ایسے پروگرام بھی دکھلائے جاتے ہں جو قطعاً دنای و آخرت کے اعتبار سے غرنمفدی ہوتے ہں اور صرف آخرت کے اعتبار سے نقصان دہ بھی ہوتے ہںن۔ انسانی اخلاق کے بگاڑنے مںت معنا و مددگار بھی ہوتے ہں ۔ نوجوانوں کو بزرگوں سے برگشتہ کرنے مںن کردار بھی ادا کرتے ہںن ان پروگراموں کو مذہبی طبقہ دیکھنے سے اگرچہ منع کرتا ہے لکنر الانسان حریص فماں منع کے مقولے کے تحت انسان اپنے نقصان سے باز نہںگ آرہا بلکہ اس انبوہ مں، صالحنر کا بھی ایک معتدبہ طبقہ غرھمحسوس طور پر اپنے آپ کو شمار کروا رہا ہے۔ کاں ایسے تمام مسلمانوں سے یہ استدعا کی جاسکتی ہے کہ کم از کم شب برأت، شب قدر جیفد مقدس راتوں مںہ ان لہوولعب کے آلات سے اجتناب برتا جائے؟ ایک محتاط جائزہ: شعبان المعظم کے مہنےط کی تکمل وہتے ہی رمضان المبارک کا مہنہہ شروع ہوجائے گا جسے سال کے گائرہ مہنوہں پر اﷲ تعالیٰ کی دادودہش، جودوعطا اور بخشش و مغفرت کے حوالے سے کم از کم ستّر گنا فوقتا حاصل ہے۔ مادیت و معصیت سے بھرے اس گئے گزرے دور مںک امت مسلمہ کی بھاری اکثریت اس مہنے مں؟ مذہب کی طرف رجوع کرتی ہے مسجد حرام، مسجد نبوی اور دیگر تمام مساجد نمازوں کے اوقات مںھ نمازیوں سے کھچاکھچ بھر جاتی ہں ۔ الماریوں مںل رکھے قرآن مجدی کے نسخے تلاوت مںس مشعول رہنے والوں کے لےن کم پڑجاتے ہں ۔ زکوٰۃ و خرھات کی بہتات ہوجاتی ہے یناً یہ نقشہ لائق تقلد ،قابل تحسنخ اور واجب الاحترام ے۔ حل طلب سوال یہ ہے کہ پھر مسلمان من حثر القوم کوںں ذلّت بھری زندگی گزار رہے ہںک؟ اس کے درج ذیل جواب دیے جاسکتے ہںٰ: ۱… مسلمانوں کی غالب اکثریت تاحاثت دین سے بگاھنی اور اﷲ تعالیٰ سے لاتعلق رہتی ہے۔ ان کی موجودگی مںً خباثت کا غلبہ رہتا ہے جو ہلاکت کی علامت ہے۔ ۲… بھاری اکثریت کا رمضان المبارک مںے مذہبی لگاؤ بعض اعمال کی حد تک بھی جذباتی، سطحی اور وقتی ہوتا ہے ییل وجہ ہے کہ مساجد سارا سارا سال نمازیوں کو ترستی رہتی اور قرآن مجدی کے نسخے تلاوت کرنے والوں کا انتظار کرتے رہتے ہںب۔ ۳… رمضانی بھاری اکثریت اور سارا سال کی مستقما اقلتت کے حقوق اﷲ اور حق العباد سے متعلق دیگر اعمال اس ذلّت آمزگ زندگی کا ایک بنا دی سبب ہںت۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
459