(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
معراج النبی ﷺ اور عطیۂ خداوندی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ معراج النبیﷺ اور عطۂل خداوندی نبیﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے کے چالسْ 40 سالہ دور مںھ مکہ مکرمہ کے لوگ متفقہ طور پر محمد ابن عبداللہ کی حتیا سے آپ ﷺ کو صادق اور امنو کے لقب سے پکارتے تھے۔ دیانت کے حوالے سے آپ ﷺ کے پاس بلا جھجک، بلا خوف و خطر اپنی اپنی امانتں رکھواتے تھے، عدالت کے حوالے سے بلا چون و چرا، اپنی مکمل رضامندی کے ساتھ بلا اعتراض و تحفظات کے اپنے جھگڑے فصلےپ کے لئے لے جاتے تھے لکنے جسےک ہی آپ ﷺ نے اپنی عمر کے چالسع سال مکمل فرمائے آپ ﷺ نے بحت ک محمد رسول اللہ ﷺ اعلان نبوت فرمایا اور کلمۂ حق کے قبول کرنے کی دعوت دییہی مکہ مکرمہ کے رہنے والے یکایک نہ صرف تبدیل ہوگئے بلکہ آپ ﷺ کی مخالفت پر زبانی اور عملی طور پر متحد ہو کر تا ر ہوگئے اور دشمنی اور ایذا رسانی مںت کوئی کسر نہ چھوڑی جن مںف قد ، مارپٹائی، بھوک، پا س اور مکہ مکرمہ کی سخت گرمی مںا جھلسا دینے والی اذیں ص اور تن سالہ بائکا ٹ بھی شامل ہںم (ان اذیتوں کو آپ ﷺ نے اپنے ماننے والوں کے درمابن رہتے ہوئے برداشت فرمایا)۔ آپ ﷺ کے گھرانے مںک سے دو افراد ایسے ہںی جنہوں نے نبیﷺ کے ساتھ وفاداری، نصرت و حمایت، حسن سلوک کی بے مثال نظرایں قائم کںا جن کا سلسلہ اعلان نبوت کے بعد بھی مسلسل دس سال چلتا رہا لکنے اللہ تعالیٰ کے تکوییا نظام کے مطابق ان کی طبعی عمریں مکمل ہوچکی تھںک اور انہں اس دنار سے دار آخرت کی طرف واپس بلالا گاا تھا۔ ان مںئ سے ایک ہماری اماں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہںم جن کو عورتوں مں سب سے پہلی مسلمان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ دوسرے آپ ﷺ کے چچا ابو طالب ہںہ، جو باوجود نصرت و حمایت کے ایمان کا اقرار و اظہار نہ کرسکے لکنن آخری وقت تک معاونت مںﷺ کوئی کمی بھی نہںچ کی تھی۔ نبوت کے دسویں سال یکے بعد دیگرے ان دو شخصتوکں کا انتقال ہوگاد جو یناً ایک بہت بڑا صدمہ تھا ییا وجہ ہے کہ اس سال کو عام الحزن (غموں کا سال) قرار دیا گا ۔ ان واقعات کے بعد خالق کائنات رب ذوالمنن نے کائنات کی سب سے مقدس، سب سے اعظم، سب سے ارفع، سب کے سردار، سب سے زیادہ محبوب ہستی رحمۃ للعالمنخﷺ کو ملائِ اعلیٰ کی سرم کرانے، عالم آخرت کو دکھانے اور بالمشافہ (Face to Face)اپنی زیارت و ملاقات کرانے کے لئے معراج کے اعزاز و اعجاز سے مالامال فرمایا۔ معراج کا یہ سفر قرآن مقدس اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے (جس کا جھٹلایا جاسکنا محال اور ناممکن ہے) اس سفر کے دو حصے ہںد پہلا حصہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے جبرئل امنئ علہک السلام کی معتک مں بتص اللہ سے بتی المقدس کا سفر جس مں مختلف مقامات پر ٹھہرتے دوگانہ ادا کرتے ہوئے پہنچنا شامل ہے۔ دوسرا حصہ بت المقدس سے تمام آسمانوں سے ہوتے ہوئے مختلف انبیاء علہمٹ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات، جنت اور دوزخ کے احوال دکھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کے دربار عالہع مںہ تن تنہا حاضری، زیارت، گفتگو اور امت کے لئے عطۂر خداوندیہ (God Gifted)پر مشتمل ہے نزے اس مںع بتں المقدس مںہ تمام انبیاء علہمف السلام کی حاضری اور آپ ﷺ کی اقتدا مںہ دوگانہ ادا کرنا بھی شامل ہے۔ معراج کا یہ سفر بالتحققر آپ ﷺ کو بدٔاری کے عالم مں بقائم ہوش و حواس جسم اطہر کے ساتھ کرایا گاد۔ اس لئے کہ معراج (اسری) کے تذکرے مںر قرآن مقدس نے ’’عبد‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور ’’عبد‘‘ نہ خالی روح کو کہتے ہںر، نہ ہی خالی جسم کو کہا جاتا ہے بالاتفاق روح مع الجسد کو عبد کہا جاتا ہے۔ جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ ایسا کسے ممکن ہے؟ اس کا پہلا سدمھا، عام فہم، غرت مبہم جواب خود قرآن مقدس نے دیا ہے کہ یہ سفر نبیﷺ نے خود نہںے کات۔ اللہ تعالیٰ نے کرایا ہے (کام نبیﷺ کو سفر کے آغاز سے پہلے معلوم تھا کہ چند لمحات کے بعد ایسا حر ت انگزس سفر شروع ہونے والا ہے؟ روایات کے مطابق تو آپ ﷺ نندب اور بدےاری کی درماینی حالت مںل تھے گویا آپ ﷺ تو آرام کی مکمل نت کے ساتھ سونے کا آغاز فرما رہے تھے) سورۂ بنی اسرائل کی پہلی آیت کی تلاوت کجئےل! واقعے کی ابتدا ہی مں قرآن نے واقعے کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ طرف کی منسوب فرمایا ہے پھر قا مت تک آنے والے کند ذہنوں کی تسلی کے لئے جملے کی ترتبئ بھی اییو ہے کہ ذہن مں اعتراض آنے سے پہلے اس کا حل مل جائے۔ اس واقعے کے با ن سے پہلے لفظ سُبْحٰن نے اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہر طرح کی کمی، کمزوری اور عجزو بے بسی، بے کسی اور مجبوری کی نفی کردی پھر اسریٰ کے جملے نے یہ بتلایا کہ قادر مطلق، مختار کل اور امرکن کا مالک لے گا ، کا اس کے بعد بھی کسی شک، شبہ، گمان، احتمال، وہم، اندیشے، پس و پشْ، تذبذب، تردو، شش و پنج، سوچ بچار کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے سوائے ضد، عناد، ہٹ، اڑ،پچ، تعصب اور مں نہ مانوں کے اور اس کا علاج خالق کے علاوہ کسی کے پاس نہں ۔ دوسرا عاشقانہ، مطیعانہ، فرمانبردارانہ جواب یہ ہے کہ اس واقعے کی اطلاع و تفصیلات اس مقدس ذات ﷺ نے دی ہے جن کی لغت مںہ جھوٹ کا لفظ ہی نہںو ہے، جن کی بول چال مںا خلاف واقعہ با ن کو راہ ہی نہںی ملی، جن کے نامئہ اعمال مںں کھوٹا عمل ہی نہںے ہے، جن کی فطرت مں من گھڑت قصوں کا دخل ہی نہںو، جن کے ناموس کو غلط باسنی کی ضرورت ہی نہیںاور اس کا مشاہدہ اپنے اور پرائے اعلان نبوت سے پہلے بھی اور بعد مںل بھی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو دناہ سے پردہ کرادیا گام۔ تسر ا الزامی، مسکت، انگشت بدنداں اور لاجواب کردینے والا جواب یہ ہے کہ اگر یہ جسمانی معراج نہ ہوتی تو معاندین اتنا شور دغوغا نہ (Disturbance)مچاتے۔ جہاں تک اس کی تاریخ کا تعنے ہے، اس کا نہ شریعت نے اہتمام کا ہے اور نہ ہی اس طرف واقعے کے پشا آنے کے وقت کے مسلمانوں نے دھاین دیا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ شریعت نے عباداتی طور پر اس رات کے احاا کی ضرورت ہی محسوس نہںل فرمائی۔ (واضح رہے کہ یوں تو کسی بھی رات کے کسی بھی لمحے مں عبادت ممنوع نہںم ہے البتہ شب معراج کا احاکء شریعت مںر مطلوب و مقصود نہں ، نہ اس کے بعد کے دن کے روزے کی اس نام سے کوئی ترغبب ہے) شب معراج کے حوالے سے امت کے درماسن 27 ستائسق رجب کی تاریخ اگرچہ مشہور و معروف ہے لکنک قطیt طور پر یہ تاریخ حتمی نہں ہے۔ یہ بات انسان کی فطرت مںو ہے کہ جب انسان اپنے علاقے سے نکل کر کہںو سفر پر جاتا ہے تو واپسی پر اپنے متعلقنر کے لئے ان کی مناسبت، ضرورت اور پسند کا لحاظ کرتے ہوئے کسی نہ کسی بہترین سے بہترین، دیدہ زیب، دل ربا، روح پرور، مسرت آمزا، قابل فخر تحفے کا اس علاقے مںر انتخاب کرتا ہے، بحفاظت لاکر متعلقنم تک پہنچا کر اپنی بھی آنکھں ٹھنڈی کرتا ہے۔ متعلقنا سے اپنے محبت بھرے تعلق کا اظہار بھی کرتا ہے اور متعلقن کو قلبی طمانتن، جان نثاری، ذہنی تاثرھ اور چہرے کی کھلکھلاتی، جگمگاتی فرحت کے ساتھ شکریے کا موقعہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اس انسانی فطرت کے تناظر مں ہمارے نبیﷺ جو اپنی امت کے قاہمت تک آنے والے ہر ہر فردِ انسان ہی کے لئے نہںت بلکہ تمام مخلوقات کے لئے انتہائی شفق ، نہایت مہربان، سراپا رحمت ہی رحمت ہںے اس مبارک، عظمہ، مہتم بالشان، منفرد، اچھوتے، پر سعادت سفر سے واپسیپر اپنی امت کے ہر بالغ، عاقل مرد و عورت کے لئے ایک عطیئہ خداوندی بطور تحفہ لے کے آئے، رب العلمین جل جلالہ کے اپنے بندوں سے تعلق کی معراج دیکھئے کہ اس عطیے کو عطا فرمانے کے لئے رحمت للعالمنِﷺ کو ملاء اعلیٰ سے اوپر اپنے پاس بلا کر براہ راست بغرپ کسی واسطے کے عطا فرمایا (بندوں کی اللہ تعالیٰ سے لاتعلقی کی انتہائی پستی بھی ملا حظہ فرما ئےس کہ اسے اس عطۂک خداوندی سے کوئی لگاؤ ہی نہںہ ہے)۔ اس عطۂر خداوند یہ کا عربی نام الصلوٰۃ ہے۔ ہماری زبان مںا اسے نماز کہتے ہںن۔ یہ ایک ایسا بہترین عمل ہے جسے ہمارے پالنہارنے (Sustainar)تفویض فرمایا ہے، جو ہمارے نبی ا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، جو فرشتوں کی عبادات کا مجموعہ ہے جو مؤمننر کے لئے ییتہ معراج کا درجہ رکھتا ہے جس کی ادائی ب کے دوران اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نمازی کے درمانن حائل تمام رکاوٹںر دور ہوجاتی ہں ، جو تمام اہم امور کے انجام بخرن کا کامل و مکمل ذریعہ ہے، جو ہر قسم کی برائی اور ناپسندیدہ کاموں سے مکمل تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے، رزق کی تنگی ہٹا دئےئ جانے کی ضمانت ہے، چہرے کی رونق بڑھانے کا نسخہ ہے،دل کی ظلمت و کثافت اور بدن کی بماحریوں کا علاج، اللہ تعالیٰ کی رحمت کو کھنچنےم، عذاب قبر سے چھٹکارا دلانے، اعمال نامہ سداھے ہاتھ مںن دلوانے، پل صراط پر بجلی کی طرح گذروادینے، بغرٰ حساب کتاب کے جنت مں داخلہ دلوادینے والا عمل ہے۔ نزن محبیّن کے لئے محبوب کے سامنے محبوبانہ طور پر جھکنے اور اپنے عشق کا اظہار کرنے کے حوالے سے اس سے بہتر، اس واقعے کی سے پہلے طریقہیا عمل نہ ایجاد ہوا تھا، نہ ہوسکا ہے، نہ آئندہ اس کا احتمال ہے۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ نبی ا کے ذریعے سے جن لوگوں نے براہ راست اس عطیے کو حاصل کا انہوں نے اس کی تاریخ کی حفاظت کی طرف کوئی دھاگن نہںا دیا، بلکہ اس عطیے کو ایسا حرز جان بنایا کہ تنگی و خوشحال، بمالری و تندرستی، مصروفتہ و فرصت، سفرو حضر، لڑائی و امن مںی کسی بھی حال مںل اس سے اعراض نہ برتا جبکہ آج امت واقعے کی تاریخ کی تعن اور واقعہ کی جسمانی و منامی ہونے مںن اُلجھی ہوئی ہے اور عطۂ خدا وندی کو ذرہ برابر اہمتک دینے کے لئے تاعر نہں ہے۔ فَالِی اللّٰہِ الْمُشْتَکَیٰ، وَاللّٰہُ الْمُسْتَعاَن ہئتل نماز کی اہمتن اور اقامت کا مطلب نماز، شریعت اسلامہَ مںر نہایت مہتم بالشان، انتہائی اعلیٰ وارفع اور سب سے بڑے عمل کا نام ہے۔ اس کا اصطلاحی نام الصلاۃ ہے جس کے لغوی معنیٰ اگرچہ ’’درود اوردعا‘‘ کے بھی آتے ہںن لکنب شریعت نے فرشتوں کی مختلف عبادات کو ایک مخصوص ہئتت(Particular Form) (جس مں قاوم، رکوع، سجود اور قعدہ وغرےہ ہںن) مں جمع فرماکر اس عبادت کو صلاۃ کا نام دیا ہے جس کا نبی کریمﷺ نے تاحاات خود بھی اہتمام فرمایا ہے اور اس کے اہتمام کے تاکدہی ارشادات (Emphatic Commands) بھی زندگی بھر ہی نہںا بلکہ اس دنات سے رخصت ہوتے ہوئے بھی عنایت فرمائے ہںش، اس عبادت کو نہ صرف ادا کرنا سکھایا بلکہ اس حوالے سے وقتاً وفوقتاً صحابہ کرام کی اصلاح بھی فرماتے رہے، گویا کہ نماز سے متعلق نبی کریمﷺ کی قولی، فعلی، تقریری احادیث کا مجموعہ احادیث کی مختلف مستند کتابوں مںھ مکمل طور پر پوری ترتبن کے ساتھ امت مسلمہ کے ہاتھوں مںت محفوظ ہے اور جب سے اس کو فرض قرار دیا گات ہے اس وقت سے آج تک امت مسلمہ کے صالحنت نے مسلسل اور متواتر طور پر جس طرح نبی کریمﷺ نے حکم عطا فرمایا تھا ’’صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ‘‘ ’’نماز اسی طریقہ سے پڑھو جس طرح تم نے مجھے (پڑھتے ہوئے) دیکھا ہے۔‘‘ اسی طرح ادا کرتے رہنے کا اہتمام فرماکر یہ ثابت کاِ ہے کہ ییا وہ نماز ہے جو شریعت مںو مطلوب ہے اور قرآن وحدیث نے اپنے ماننے والوں پر لازم کی ہے، لغوی معنیٰ کا سہارا لے کر اسے اپنی من پسندو خود ساختہ ہئتک (Willingly Form) دینا زندقہ اور کفر ہے لہٰذا نہ نماز کی فرضتم کا انکار کاّ جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی ادائیہ سے متعلق ہئت کا، اس لے کہ اس کی ہئتف بھی شریعت ہی کی عطا کردہ ہے، جہاں تک نماز کی ادائیا کے ضمن مںس فقہی اختلافات کا تعلق ہے وہ نماز کی ہئتج تبدیل کرنے کا نہںم ہے اس کے پچھےو حققتع صرف اتنی ہے کہ نماز کے حکم کے ابتدائی دور مں پڑھی جانے والی نماز مںو خود شریعت کی طرف سے تبدیا اں لائی جاتی رہی ہںہ، جن کی تفصیلات احادیث کے ذخر ے مںو موجود ہںج، بعض نے ابتدائی اعمال کو افضل قرار دیتے ہوئے اس کے مطابق عمل کو جاری رکھا ہوا ہے، بعض نے اس حوالے سے نبی کریمﷺ کے دناج سے پردہ فرماجانے کے وقت کے عمل کو ابتدائی اعمال کا ناسخ (ختم کرنے والا) کہتے ہوئے آخری عمل کو اولیٰ و بہتر قرار دیا ہے، قرین انصاف (Close of Justice) بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان اختلافات کے ذریعہ نبی علہی السلام کی تمام سنتوں (طریقوں) کے قا مت تک باقی رکھنے کا حسن انتظام فرمارکھا ہے۔ نبی کریمﷺ نے جس نمازکے ادا فرمانے کا خود بھی عمر بھر اہتمام رکھا اور امت کو سکھلایا اور اپنی نماز کو نمونہ قرار دے کر امت کو اس طرح پڑھتے رہنے کا تاکدای حکم عنایت فرمایا اسی نماز کو قائم کرنے کا (ادا کرتے رہنے کا) حکم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے، نبیکریمﷺ نے اسے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بتلایاہے، {قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلوٰۃِ}’’مرای آنکھوں کی ٹھنڈک نماز مںے ہے۔‘‘ اسی نماز کا نہ پڑھنا قرآن مقدس نے جہنم مںی جہنمووں کے اپنے اقرار کے ساتھ جہنم مںو جانے کا سبب بتلایا ہے: ’’کون سی چزر تم کو دوزخ مںہ لے گئی؟ وہ کہںم گے کہ ہم نماز نہںن پڑھا کرتے تھے۔‘‘ نماز کا یہ عمل جساک کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام مںا رائج ہے اس سے پہلے کی امتوں مں اسی نام سے رائج تھا جساز کہ خود قرآن مقدس نے اس کی خبر دے کر اس طرف رہنمائی فرمائی ہے، حضرت ابراہم علہج السلام کی دعا مںٰ بھی اس کے اہتمام کو طلب کا گاق ہے۔ نماز کی ہئتخ، اس کی ادائیے کا عمل بندے اور اللہ تعالیٰ کے درماتن تعلق، محبت اور قرب کے اظہار کا نہایت عمدہ طریقہ ہے جس سے برتر، بہتر طریقہ نہ ایجاد ہوسکا ہے نہ ہوسکے گا، ظاہر ہے جو طریقہ خود رب العالمنت نے دیا ہو جو طریقہ محبوب رب العالمنےﷺ نے تاحادت اپنائے رکھا ہو اس سے بہتر طریقے کا تصور بھی محال، ناممکن اور جنون ہے۔ صاحبِ حت بر کے سامنے جھکنا انسان کی فطرت مںے ہے، اس فطرت کی تسکین کا جو سامان نماز مںر ہے اس درجے کی تسکین کسی اور عمل مں کہاں؟ پھر صاحب حتکھا بھی ایسا جو دن رات کے تقریباً حصوں مںر ہر بے حتی ر کو مسرر ہو اور تقریباً تمام جگہوں پر اس کے سامنے جھکنا ممکن ہو ، پھر صاحبِ حتاں بھی ایسا کہ {غنی وحمدح}دوسری طرف بندہ جو بے حتتاں بھی ایسا کہ بالکل بے کس و ضعفم پھر عمل بھی ایسا کہ درما ن مںا کوئی رکاوٹ و پردہ بھی نہںھ، پھر عبادت بھی اییپ کہ عشق کے اظہار کی تکملل مںھ بھی کوئی کسر نہ رہے، نماز مںس جس کے سامنے جھکنا ہے اس سے بڑھ کر بھی کوئی ہے؟ جس کو جھکنا ہے اس کی لاچاری کی بھی کوئی انتہا ہے؟ جھکنے کا جو طریقہ ہے اس سے بہتر بھی کوئی طریقہ ہے؟ مالک و مختار کے سامنے بے بس و ضرورت مند کے عجز و انکسار کے اظہار کے اس مکمل طریےت مں مزید بہتری و تبدییس کی کوئی گنجائش ہی نہںر ہے، قارمت تک کے لے ییا طریقہ کافی ہے، فطرت کے عنا مطابق ہے، ییج طریقہ اسلام مںر مطلوب ہے اور مسلمانوں کو محبوب ہے۔ اس ضمن مںن رب کائنات کی طرف سے جو عنایات نمازیوں پر ہوتی ہںک وہ اسی طریقۂ نماز مں منحصر اور اسی طریقۂ نماز پر موقوف ہںں کو نکہیہی طریقہ سنت نبوی کے لباس مںی ملبوس ہے، خلافِ پمبر (Against The Messenger) تو کسی کو بھی بارگاہِ رب العزت مںہ رسائی حاصل نہں ہوسکی نہ آئندہ اس کا امکان ہے، لہٰذا جس جس کی سمجھ میںیہ بات آچکی ہے وہ اس نماز کو اس کی روح یینت نبی کریمﷺ کے طریقے کے مطابق ہی ادا کررہا ہے اور کرتا رہے گا۔ شرائطِ نماز: سنت نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے توسط سے امت مسلمہ کو صلوٰۃ کے نام سے جو عمل ملا ہے وہ اعمال مںے تمام اعمال پر فوقتی رکھتا ہے اس عمل کو ادا کرنے سے پہلے چند باتوں کا اہتمام بھی نہایت اہمتے کا حامل ہے جن کے بغرںیہ مہتم بالشان عمل (Great Deed) عنداللہ قبولتے کا درجہ بھی حاصل نہںق کرسکتا، اصطلاح مںہ انہں نماز شروع کرنے سے پہلے کے فرائض یا شرائط کہتے ہںd: 1:۔ بدن کا پاک ہونا (اگر غسل کی ضرورت ہو تو غسل کرلناھیا وضو کی ضرورت ہو تو وضو کرلناے)۔ 2:۔ کپڑوں کا پاک ہونا (جسم پر پہنے ہوئے لباس کا پاک ہونا)۔ 3:۔ جگہ کا پاک ہونا (جس جگہ پر نماز پڑھی جائے گی اس جگہ کا پاک ہونا)۔ 4:۔ ستر عورت (شریعت نے مرد و عورت کو اپنے اپنے جسموں کے جن جن اعضاء کو دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا ہے ان کا چھپا ہوا ہونا)۔ 5:۔ وقت کا ہونا (جن اوقات مںپ نماز پڑھنے سے شریعت نے منع کاس ہے ان کا نہ ہونا اور فرض نمازوں مںغ سے جس نماز کی ادائیئض کے جو اوقات شریعت نے مقرر کےن ہںا اس نماز کی ادائیع کے مقررہ وقت کا ہونا)۔ 6:۔ استقبال قبلہ (نماز پڑھنے کے لےی نمازی کے رُخ کا بت اللہ کی جانب ہونا(۔ 7:۔ نتت کرنا (جو نماز پڑھنی ہے اس کی نت کرنا، نتا دل کے ارادے کو کہتے ہںم اور نماز کی ادائیے کے لےd دل کا ارادہ ضروری ہے، زبان سے الفاظ کہنا بھی جائز ہے ضروری نہںز، اگر بے دھاانی مں زبان سے الفاظ غلط بھی نکل گئے تو وہی نت سمجھی جائے گی جو دل مںب ہے)۔ اگر ان مںس سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو نماز کا شروع کرنا ہی صححر نہںو ہوگا اور ایی نماز شریعت کے مطابق نماز نہں کہلائے گی۔ فرائضِ نماز: خود نماز کے اندر بھی چند باتوں کا پایا جانا ضروری ہے جن مںی سے ایک بھی کم ہوئی تو بھی نماز نہں ہوگی۔ 1:۔ تکبرِ تحریمہ کہنا (نماز شروع کرتے ہوئے جو اللہ اکبر کہا جاتا ہے اسے تکبرا تحریمہ کہتے ہں اور اس کو اتنی آواز سے کہنا کہ اگر بہرا نہ ہو تو خود سن لے)۔ 2:۔ قا م (سدرھا کھڑا ہونا، جس کی حد یہ ہے کہ کھڑے ہوکر ہاتھ لٹکائے تو گھٹنوں تک نہ پہنچںہ، تمام فرض و واجب نمازیں اور فجر کی سنتںا بغرو عذر کے بیٹھ کر پڑھنا جائز نہںک، البتہ دوسری سنتںپ اور نوافل بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، مگر ثواب آدھا رِہ جاتا ہے، یہاں عذر کی تعریفیہ با ن کی جاتی ہے کہ کھڑا ہونے مںد تکلفس ہو یا مرض کے بڑھ جانے کا خدشہ ہو یا کھڑا ہونے کی وجہ سے دیر سے تندرست ہونے کا اندیشہ ہو)۔ 3:۔ قراء ت (یینا قاھم کی حالت مںپ قرآنِ مقدس مں سے عربی مںح تنا چھوٹی چھوٹی آیتوںیا ایک بڑی آیت کے بقدر پڑھنا قراء ت کہلاتا ہے اور یہ فرض ہے، سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ ملاکر قرآن مجدل مںن سے کچھ پڑھنا واجب ہے، امام کی اقتدا مںں مقتدیوں کو قراء ت کرنے کے بجائے خاموشی سے سننے کی تعلمٓ ہے، اس لےک کہ امام کی قراء ت مقتدیوں کی طرف سے بھی کافی ہے، لکنا اگر کوئی مقتدی خود بھی قراء ت کرتا ہے تو بھی اس کی نماز ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ قراء ت تجوید کے اصولوں کے مطابق کرنا ضروری ہے)۔ 4:۔ رکوع (ہر رکعت مںد قاہم، قراء ت کے بعد ایک مرتبہ رکوع کرنا فرض ہے، رکوع کے معنیٰ جھکنے کے ہںا اور صحت مند مرد نمازی کے رکوع کے درست ہونے کے لےر اتنا جھکنا ضروری ہے کہ دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں تک پہنچ جائںو اور سر، کمر اور کولہے ایک سد ھ مںف ہوجائں ، عورتوں کے لےٹ صرف اتنا جھکنا کافی ہے کہ ان کے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں تک پہنچ جائںی البتہ مریضوں کو مقابلۃً رعایت حاصل ہے کہ وہ جتنا جھک سکںت اتنا جھکں اتنا بھی نہ ہوسکے تو سر کو تھوڑا سا جھکالںو)۔ 5:۔ دونوں سجدے (ہر رکعت مںر رکوع سے سد ھا کھڑا ہونے کے بعد دو سجدے کرنا فرض ہے، دونوں ہتھا جھں، دونوں گھٹنے، دونوں پر۔وں کی انگلیاں اور پیشانی و ناک ایک ساتھ ایک ہی وقت مںن زمنپ پر رکھ دینے سے جو ہئتض (شکل) بنتی ہے اسے سجدہ کہتے ہںر، سجدے کی اس ہئتا مںا مرد حضرات کی کہنیاں (Elbows) زمنن سے علحدرہ ہوتی ہںو، رانںش اور پٹد آپس مں ملے ہوئے نہں۔ ہوتے اور کولہے بھی اوپر اُٹھے ہوئے ہوتے ہںل لکنے عورتوں کے لےک جو طریقہ بتلایا گاا ہے اس مںی کہنیاں بھی زمن سے چمٹی ہوئںہ، پٹف رانوں پر بچھا ہوا، اور کولہے زمنل سے ملے ہوئے ہوتے ہںج گویا کہ عورتں بدن کو سمٹے کر زمنہ سے چمٹ کر سجدہ کا کرتی ہںگ اور انہںں مردوں کے مقابلے مںن ایسے ہی سجدہ کرنا چاہےت جسان کہ احادیثِ نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام مںپ اس کی تعلم دی گئی ہے۔ اسی کے مطابق سدینا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشادِ مبارک بھی کنز العمال مں موجود ہے اور ییے طریقہ فقہ حنفی کی کتابوں مںا بتلایا گاف ہے، اس کے علاوہ سجدے مںو پیشانی، ناک اور پرہوں کی انگلیاں زمنا سے لگی ہونی چاہئںٰ اور سجدہ بھی اییپ سخت جگہ پر ہونا چاہے کہ پیشانی اور ناک رکھنے کے بعد اس جگہ مںا مزید دبنے اور دھنسنے کی گنجائش نہ ہو، وہ مریض جو سجدے مںن پیشانی زمنا پر نہ رکھ سکتے ہوں وہ سر اور کمر کو آگے کی طرف جھکاکر اشارے سے سجدہ کرسکتے ہںو)۔ 6 قعدۂ اخرنہ (نماز کی رکعتںں مکمل کرلنےی کے بعد سلام پھر نے سے پہلے سب سے اخرن مںر مکمل التّحیات پڑھے جانے کی مقدار بٹھناخ فرض ہے، واضح رہے کہ چار رکعات والی نماز مںل دو رکعات کے بعد بٹھنا واجب اور چار رکعات کے بعد بٹھنا فرض ہے، اس بٹھنے کو قعدۂ اخر ہ کہتے ہںر)۔ مندرجہ بالا ذکر کردہ چھ (6) فرائض مںر سے اگر کوئی ایک فرض بھی جان بوجھ کر یا بھول کر رہ گاھ تو وہ نماز پڑھ لےھ جانے کے باوجود معتبر نہ ہوگی اور اس نماز کو لازمی طور پر دوبارہ پڑھنا ہوگا ورنہ وہ ذمے پر باقی رہے گی۔ واجباتِ نماز: نماز کے اندر چند چززیں اییز ہںں جن کے چھوٹ جانے پر ان کی تلافی کے لےی سجدۂ سہو کرنا پڑتا ہے اگر سجدۂ سہو بھی نہ کات جائے تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سجدۂ سہو: جب نماز مں (1) کسی فرض کی ادائیر مں بھول کر تنن مرتبہ ’’سبحان اﷲ‘‘ پڑھنے کی مقدار تاخر ہوجائے (2)یابھول کر ترتب کے اعتبار سے بعد مں ادا کےں جانے والے فرض کو پہلے ادا کرلے (3) یا کوئی فرض جس کا ایک مرتبہ ہی کات جانا فرض ہے، اسے دو بار کرلے (4) یا کسی واجب کی ادائی ک مںو بھول کر تنت مرتبہ ’’سبحان اﷲ‘‘ پڑھنے کی مقدار دیر ہوجائے (5) یا بھول کر کسی واجب کی کتعد تبدیل ہوجائے مثلاً خاموشی سے آہستہ پڑھنا واجب تھا بلند آوازسے پڑھ لاکیا بلند آواز سے پڑھنا تھا آہستہ پڑھا، ان تمام صورتوں مںا قعدۂ اخرمہ مںد التّحیات پڑھنے کے بعد دائںت طرف سلام پھرے کے دو سجدے کے جاتے ہں ان سجدوں کو سجدۂ سہو کہتے ہںت جن کے بعد التّحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر نماز سے فارغ ہونے کے سلام دائںت بائںی پھرجے جاتے ہں ۔ واضح رہے کہ بھول کر واجب کے ترک ہونے کییہ غلطی ایک مرتبہ ہویا ایک سے زائد مرتبہ، اس کی تلافی صرف ایک مرتبہ سجدہ سہو کرلنےک سے ہوجائے گی، (اگر دانستہ واجب چھوڑ دیا تو سجدہ سہو کرنے سے تلافی نہں ہوگی بلکہ نماز کو دوبارہ لوٹانا (پڑھنا) ہوگا)۔ نماز مںو جتنے واجبات ہںح ان کی تفصلچ حسبِ ذیل ہے: 1:۔ تکبرل تحریمہ کا خاص ’’اﷲ اکبر‘‘ کے جملے سے ہونا۔ 2:۔ قابم مںر اتنی دیر کھڑا ہونا جتنی دیر مںا سورۂ فاتحہ اور چھوٹی تنر آیتیںیا ایک بڑی آیت پڑھی جاسکے، (جو مقتدی ایسے وقت مںو جماعت کی نماز مں شامل ہونے کے لےخ پہنچے کہ امام صاحب رکوع مں ہوں تو اس کے لےئیہ ذکر کردہ مقدار واجب نہںا وہ قاھم کی حالت مںی تکبرِز تحریمہ کہے اور ایک لمحۂ قاکم کے بعد رکوع مںے امام صاحب کے ساتھ جاپہنچے اگر امام کے رکوع مںر ہوتے ہوئے یہ مقتدی رکوع مںز پہنچ جاتا ہے تو اس کو وہ رکعت بھی حاصل ہوجائے گی)۔ 3:۔ نماز چاہے تنز رکعات والی ہو یا چار رکعات والی قرأتِ فرض ادا کرنے کے لےں پہلی دو رکعات کو متعنا کرنا واجب ہے۔ 4:۔ سورۂ فاتحہ کا پڑھنا فرض کی پہلی دو رکعتوں، سنن، نوافل اور وتر کی سب رکعتوں مںر واجب ہے۔ 5:۔ فرض کی پہلی دو رکعتوں، وتر، سنن ونوافل کی تمام رکعتوں مںع سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی تنا چھوٹی آیتیںیا ایک بڑی آیت پڑھنا واجب ہے۔ 6:۔ ترتبک کے اعتبار سے سورۂ فاتحہ کو پہلے پڑھنا واجب ہے۔ 7:۔ رکوع کے بعد سد ھا کھڑا ہونا قومہ کہلاتا ہے اور یہ واجب ہے۔ 8:۔ سجدے مں جاکر پیشانی کا زمنب پر رکھنا واجب ہے۔ 9:۔ دو سجدوں کے درماڑن اطمناان سے بٹھنے کو جلسہ کہتے ہںر اور یہ واجب ہے۔ 10:۔ نماز کے تمام ارکان کو سکون سے اچھی طرح ادا کرنا واجب ہے اصطلاح مں اسے ’’تعدیلِ ارکان‘‘ کہتے ہںب۔ 11:۔ تینیا چار رکعات والی نمازوں مں دوسری رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد قعدے مںہ التّحیات پڑھنے کی مقدار بٹھنا واجب ہے اس قعدے کو قعدۂ اولیٰ کا نام دیا گاح ہے۔ 12:۔ ہر قعدے مںس پوری التحاات کا صرف ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے۔ 13:۔ فرض، وتر اور سنن مؤکدہ کی نمازوں مںا قعدۂ اولیٰ مں۔ التّحیات مکمل پڑھ لنے کے بعد کچھ نہ پڑھنا واجب ہے اگر {اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ} تک پڑھ لاٰ تو سجدۂ سہو لازم آئے گا۔ 14:۔ نماز سے علحد ہ ہونے کے لےا لفظ السَّلام کا دو مرتبہ کہنا واجب ہے۔ 15:۔ نمازِ وتر مں دعائے قنوت پڑھنے کے لےہ ’’اﷲ اکبر‘‘ کہنا واجب ہے۔ 16:۔ نمازِ وتر مں دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے۔ 17:۔ نمازِ عدیین مں چھ زائد تکبر’یں کہنا واجب ہے۔ 18:۔ امام کے لے امامت کراتے ہوئے نمازِ فجر کی دونوں رکعتوں، مغرب اور عشاء کی پہلی دورکعتوں، نمازِ جمعہ کی دونوں رکعتوں، نماز تراویح کی تمام رکعتوں، رمضان المبارک مںر وتر کی تینوں رکعتوں اور نمازِ عدعین کی دونوں رکعتوں مںم آواز سے قراء ت کرنا واجب ہے، نمازِ ظہر کی تمام رکعتوں، نمازِ عصر کی تمام رکعتوں، نمازِ مغرب کی تسرتی رکعت، نمازِ عشاء کی آخری دو رکعتوں مں آہستہ آواز سے (یین اتنی خاموشی سے پڑھے کہ خود سن سکے) قراء ت کرنا واجب ہے۔ 19:۔ مقتدی کو تمام نمازوں مںو قراء ت کے موقعے پر امام کے پچھےء خاموش رہنا واجب ہے، اگر قراء ت کرے گا تو نہ نماز فاسد ہوگی نہ ہی سجدۂ سہو لازم آئے گا، (خاموش اس لےء رہنا ہے کہ امام کی قراء ت اس کے لے بھی ہے، سجدہ سہو اس لےں لازم نہںٔ آئے گا کہ مقتدی پر سجدۂ سہو لازم نہںئ آتا، البتہ رہ جانے والی رکعتوں مںی پورا کرتے وقت کوئی سہو ہوگای تو سجدہ سہو کرنا پڑے گا)۔ 20:۔ نماز مں سجدۂ تلاوت، سجدے والی آیت پڑھنے سے سجدہ واجب ہوجاتا ہے جو کہ ایک ہی سجدہ ہوتا ہے۔ 21:۔ مقتدیوں کے لےو قراء ت کے علاوہ پوری نماز مںد امام کی پرکوی کرنا واجب ہے۔ وغروہ وغرںہ! مفسدات نماز: 1:۔ دورانِ نماز اس طرح کی باتںی کرنا جسےا لوگ آپس مںا باتںپ کار کرتے ہیںیا نماز کے علاوہ کی کوئی ایید بات منہ سے نکالنا جو بامعنیٰ ہو چاہے یہ کام جان بوجھ کر کاا جائے یا انجانے مںب ہوجائے خوشی سے کرے یا کسی کے دباؤ مں آکر کرے، چاہے اس آواز کو دوسرا سن لے یا خود سن سکے، ان تمام صورتوں مںک نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ 2:۔ ایسا عمل کرنا جو کثر ہو اور نماز کی جنس مںگ سے نہ ہو۔ 3:۔ نماز کے اندر کھانا پنام۔ 4:۔ نماز کے اندر دو صفوں کی مقدار کے برابر چلنا خواہ اختایر سے ہو یا بلااختاخر۔ 5:۔ صحت نماز کی شرطوں مں کسی شرط کا باقی نہ رہنا۔ 6:۔ اپنے امام کے سوا کسی دوسرے کو اس کی تلاوت وغررہ کی غلطی بتلانا اصطلاح مں اسے لقمہ دینا کہتے ہں ۔ 7:۔ ایک ہی نماز کے دوران مرد و عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ برابر کھڑے ہونا۔ 8:۔ امام کا دورانِ نماز وضو ٹوٹ جانے کی صورت مں اپنا نائب بنائے بغر مسجد سے باہر نکل جانا اس سے مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کے ’’نماز قائم کرو‘‘ کے حکم کی تعمل کرنے والے کے لےم ضروری ہے کہ مندرجہ بالا شرائط فرائض و واجبات کو دھاعن مں رکھے تاکہ ان مںر سے ہر ہر رکن حسب حکم ہر نماز مں ادا ہوتا رہے چاہے وہ نماز فرض کے درجے مںد ہو یا واجب، سنن یا نوافل مںی سے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے حکم ’’نماز قائم کرو‘‘ کی تعمل کرنے والے ہر ہر صاحبِ ایمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ اپنے بالغ ہوتے ہی روزانہ کی بناےد پر دن و رات کے مختلف مگر شریعت کے مقررہ پانچ اوقات مںن شریعت کی بتلائی ہوئی رکعات و تعداد کے مطابق نماز ادا کرے، شریعت نے اپنے ماننے والوں مںو سے کسی کو بھی نہ چھوٹ دی ہے نہ صوابدیدی اختاکر (Choice) کہ فرصت ہو تو ادا کرلے یا طبعت (موڈ) نہ ہو تو ترک کردے یا اس کی ہئتو مںد کوئی تبدییل لے آئے البتہ عورتوں کو حض و نفاس کے ایام مں بالکل معاف ہے ورنہ مردوں اور عورتوں کو ہر حال مں ادا کرنی ہے چاہے کیر ہی اور کتنی ہی مصروفتئ کودں نہ ہو چاہے کساب ہی معذور مریض کووں نہ ہو اگر ہوش و حواس مں ہے تو ادا کرنی ہے، ہاں ادا کرنے میںیہ رعایت ضروردی ہے کہ اگر کوئی رکن بتائے ہوئے طریقے سے ادا کرنے سے قاصر ہے تو جسےو ممکن ہو ایسے کرلے اور آخری درجہ یہ ہے کہ اشاروں سے کرلے، مگر نماز نہ چھوڑے اور دورِ حاضر کے المورں مںر ایک المہ (Tragedy) یہ بھی ہے کہ نمازیوں کی ایک اکثریت ایی بھی ہے جو مصروفت کے اوقات میںیا طبعتر کی خرابی کے ایام مںو نماز کی ادائیے مںے کوتاہی کرجاتی ہے، طبعت کے حوالے سے وہ یہ عذر پش کرتے ہں کہ پڑھی نہںت جاتی، ان کی خدمت مںز مؤدبانہ عرض یہ ہے کہ آپ پر فرض بھی صحت مندوں والی نہں ، بماتروں والی، معذوروں والی فرض ہے اس حالت مںن شریعت نے خود رعایت دی ہے لہٰذا ان رعایتوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس فرض کو جو کہ آپ پر لازم ہے ادا کےھیا، ہمارے ہاں عورتوں کی بھییقینا ایک بڑی تعداد ایید ہے کہ حض و نفاس کے ایام مںر ان کی نماز کی عادت چھوٹ جاتی ہے اور وہ حضی و نفاس سے فارغ ہوچکنے کے باوجود غسلِ جنابت مںد اییو سستی برتتی ہیںکہ کئی نمازوں کی ادائیم، کے اوقات گزرجاتے ہں اور انہںض اس کی پروا بھی نہںب ہوتی، انکو اس طرف متوجہ کرنے کی غرض سے یہ عرض ہے کہ شریعت نے حضق و نفاس کے ایام مںن نمازوں کی ادائیت کے حوالے سے رعایت دی ہے یہ رعایت غسلِ جنابت مںے تاخری کے لےق قطعاً نہںک ہے، (یاد رہے کہ غسلِ جنابت حضم و نفاس کا ہو، احتلام کا ہو یا ازدواجی زندگی مںف جنسی ملاپ کے نتجےغ مںث ہو غسل مںت بلاعذر تاخری نہںک ہونی چاہے ) لہٰذا حضہ و نفاس سے مکمل بہ اطمناان فراغت کے فوراً بعد جس نماز کا بھی وقت ہوگا وہ فرض ہوجائے گی اور اس کا وقت گزرنے سے پہلے غسل کرکے اس نماز کو ادا کرلناس لازمی ہوگا، اسی طرح مسافر حضرات کو دورانِ سفر نمازیں چھوڑ دینے کی تو قطعاً اجازت نہں ہے، البتہ اس میںیہ رعایت ضرور دی گئی ہے کہ چار رکعات والے فرائض (یین ظہر، عصر، عشاء کے فرائض) دو رہ جاتے ہںر اور یہ رعایت اختا ری نہںر لازمی ہے، شریعت کی عطا کردہ رعایت سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے کوئی اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ مجرم ہے، اس رعایت کا اصطلاحی نام قصر ہے، دورانِ سفر لازم ہونے والی نماز مںا قصر ہی لازم ہے، اس لے ادا بھی قصر ہوتی ہںل (بشرطکہ، مقامی امام کی اقتدا مںق نہ ادا ہوں) اور قضا بھی قصر ہی ہوتی ہںا، شریعت کی تعلما ت کے مطابق جمعہ کے دن ظہر کے وقت ظہر کی چار رکعات کے بجائے جمعہ کی دو رکعات فرض ہوتی ہںں۔ یہ دو رکعات باجماعت ہی ادا کی جاسکتی ہںا لہٰذا جن پر فرض نہںن ہیںیا جن کو نمازِ جمعہ حاصل نہںم ہو پاتی وہ ادا ہو یا قضا جمعے کے دن بھی نمازِ ظہر ہی ادا کرتے ہںن البتہ جمعے کے دن جمعے کی نماز کی اہمتی کی خاطر نمازِ ظہر ادا کرنے والوں کو علاقے یا شہر مںا جمعے کی نماز ہوچکنے کے بعد نمازِ ظہر ادا کرنا مناسب ہے، یہاں نمازِ جمعہ کے علاوہ ایک اور مسئلہ نہایت اہمتج کا حامل ہے کہ تمام مسلمانوں پر جمعے کے دن جمعے کے وقت جب پہلی اذان ہوجاتی ہے تو اس وقت سے نمازِ جمعہ کی تکملت تک نمازِ جمعہ کی تا ری کے علاوہ تمام جائز کام بھی ناجائز اور ممنوع رہتے ہں ، المیہیہ ہے کہ آج نہ مسلمانوں کو شریعت کے اس حکم کی پروا ہے اور نہ ہی خطبج حضرات اس کی طرف متوجہ کرنے کو اہمتہ دیتے ہںم اور من حثے الامت (As A One Followers of Faith) ہم سب اس حکم کی اطاعت کے حوالے سے غفلت اور اعراض مںی پڑے ہوئے ہں ، فَإِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ۔ مندرجہ بالا تفصیلات کی روشنی مںإ بآسانییہ بات معلوم ہوتی ہے اور تردید کا خوف کےت بغرے کہی جاسکتی ہے کہ نماز ہر ہر مسلمان پر اس کے بالغ ہوتے ہی ایی فرض ہوجاتی ہے کہ مسلسل تاحاُت فرض رہتی ہے اس سے بری الذمہ ہونے کی فقط ایک ہی صورت ہے کہ اسے اس کے وقت پر ادا کرلاس جائے اگر خدانخواستہ کسی وقت کی نماز، ادائیلی کے وقت ادا کرنے سے رِہ جائے تو جلد از جلد اس کے فرائض و وتر کی قضا کرلی جائے، (واضح رہے کہ یہاں قضا کی حوصلہ افزائی نہںا ہے اس لےل کہ قضا بذات خود ایک ایسا جرم ہے جس پر مواخذہ ہوگا، اور قضا کرکے پڑھ لنےئ کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوسکا تو ایک قضا کے جرم کی سزا مں ایک حقب (جس کی مقدار آخرت کے دنوں کے حساب سے دو کروڑ اٹھاسی لاکھ (2,8800000) سال بنتی ہے) جہنم مںج پڑا رہنا پڑے گا، یہاں ان تمام بھائوےں اور بہنوں کو متفکر ہونے کی ضرورت ہے جو اکثر نمازیں خصوصاً فجر کی نماز قضا کرکے پڑھتے ہںن، اور نماز نہ پڑھنے والے مسلمان اپنے حشر کا اندازہ خود ہی لگالںم)۔ اسلام نے تعلم ہییہ دی ہے کہ جب بچہ/ بچی سات (7) سال کے ہوجائیںتو انہںن نماز پڑھنے کا حکم دیں اور دس(10) سال کی عمر کے بچوں کو نماز نہ پڑھنے پر ہلکی سی مار ماریں تاکہ وہ نماز کے عادی بنںئ اور بالغ ہونے تک ان کی عادت پختہ ہوجائے، خوش نصبے ہںں وہ لوگ جن کی بالغ ہونے سے لے کر موت تک کوئی ایک نماز بھی قضا نہںک ہوئی، جتنے بے نمازی ہںہ وہ ان خوش نصبونںمیں اس طرح شامل ہوسکتے ہںے کہ بالغ ہونے سے لے کر اب تک رہ جانے والی نمازوں کو جس طرح سہولت ہو قضا کرنا شروع کردیں اور اس وقت سے جن نمازوںکا وقت آتا جائے اسے قضا نہ ہونے دیں، نتے کے حوالے سے آسان ترین صورت یہ ہے کہ ہر قضا پر یہ نت کرے کہ سب سے پہلی قضا ادا کررہا ہوں یا سب سے آخری قضا کررہا ہوں اور جس نماز کی قضا ہو اس کا نام لے، مثلاً سب سے پہلی فجر کی قضا ادا کررہا ہوں یا کررہی ہوں۔ شریعتِ مطہرہ مںف نماز ایسا مہتم بالشان عمل ہے کہ زندگی مںا اس کا کوئی نعم البدل نہںہ ہے یینم اس کی جگہ کوئی دوسرا عمل قائم مقام نہںہ بن سکتا، نماز ہی کا عمل (اور عمل بھی وہی جو نبی کریمﷺ نے اپنے قول و عمل سے عنایت فرمایا) اپنانا پڑے گا، البتہ تاحانت اپنائے رکھنے والا یہ عمل اگر کسی کی زندگی مں ان کے اوقات مںے ادا نہ ہوسکا ہو اور اس نے زندگی بھر مں اس کی قضا بھی نہ کی ہو تو اسے چاہےہ کہ اپنے مرض الوفات مںم اپنے متعلقن و وارثن کو یہ وصتم کرجائے کہ مرےے ذمہ اتنی نمازیں باقی ہںی لہٰذا مریے مرنے کے بعد ان کا فدیہ دے دیا جائے۔ شریعت نے ایک نماز کا ایک فدیہ بتلایا ہے، وتر چونکہ مستقل ایک واجب نماز ہے لہٰذا ایک دن کے چھ فدیے بنںا گے اور ایک فدیہ دیے جانے کے وقت کے مطابق ایک فطرے کی قمتن کے برابر ہے اور اس کے مستحقین وہ ہی ہںن جو زکوٰۃ کے مستحق ہں ، ورثا اس کوشصت اس کے چھوڑے ہوئے کل مال مںس سے ایک تہائی (3/1) مں ہی نافذ کرسکتے ہںد، اگر ایک تہائی سے اس کی وصت پوری ہوجائے تو بہت اچھی بات ہے مگر اس مںی کمی رہ جائے تو بقہم مال مں سے اس کی کمی کو پورا نہں کاا جاسکے گا اس لےل کہ باقی بچ جانے والا (3/2) مال شریعت نے ورثا کا قرار دیا ہے اور ورثا بھی خود متعنی کےک ہںی اور ان کے حصے بھی خود ہی مقرر کئے ہں البتہ (بالغ) وارثن اپنے اپنے حصوں مں سے خوشی سے بغرے جبر کے اس کمی کو پورا کرنا چاہںک تو انہں اجازت ہے)۔ جس طرح اس نماز کا عمل کے اعتبار سے کوئی نعم البدل نہںر ہے اسی طرح ادا کرنے والے کے حوالے سے بھی نہ زندگی مں اور نہ ہی زندگی کے بعد کوئی نعم البدل ہے، یینر ایک کے بجائے کوئی دوسرا کسی بھی حال مںت ادا نہںب کرسکتا، اس کی تفصیلیہ ہے کہ نہ کوئی نبی امتی کی طرف سے، نہ کوئی امیے نبی کی طرف سے، نہ کوئی پر مرید کی طرف سے، نہ کوئی مرید پرن کی طرف سے، نہ کوئی اولاد والدین کی طرف سے، نہ کوئی والدین اولاد کی طرف سے، نہ کوئی شوہر بوکی کی طرف سے، نہ کوئی بو ی شوہر کی طرف سے، نہ کوئی استاد شاگرد کی طرف سے، نہ کوئی شاگرد استاد کی طرف سے، نہ کوئی سٹھز ملازم کی طرف سے، نہ کوئی ملازم سٹھ کی طرف سے، نہ کوئی دوست، دوست کی طرف سے نہ اس کی زندگی مںی نماز پڑھ سکتا ہے نہ اس کی زندگی کے بعد، لہٰذا ہر ہر عاقل بالغ مسلمان مرد و عورت کو چاہے وہ مذہبی،سا سی، معاشی، معاشرتی، عمر، رنگ، نسل، علاقے اور زبان وغرنہ کے اعتبار سے کسی بھی حتے کے ہوں، چاہے مقمی ہوں یا مسافر، چاہے صحت مند ہوں یا بمارر، اپنے اپنے اوپر لازم ہونے والی نمازیں خود ہی ادا کرنی ہںی اور رِہ جانے والی نمازیںقضا کرنی ہںی جس کے لےص موت تک ہی سہولت ہے، (واضح رہے کہ توبہ سے نمازیں معاف نہںا ہوتں ) البتہ جو قضائںہ موت تک نہ ادا ہوسکںم ان کے لےہ فدیے کی وصتے کرنی ہے، (یہ وصتذ چونکہ مال سے تعلق رکھتی ہے اس لےب ایک کے بجائے دوسرا اس پر عمل کرسکتا ہے) یاد رہے کہ نہ شریعت نے کسی کو بھی ادائیکر کے اوقات مںک بغرف کسی شرعی عذر کے ٹال کر قضا کرنے کی اجازت دی ہے، نہ ہی زندگی مں، فدیے دیتے رہنے کی اجازت دی ہے نہ ہی قضا نمازوں کو جمع کرکے فدیے کی وصتگ کی نوبت تک لے آنے کی اجازت دی ہے، نہ ہی زندگی بھر کی نمازوں کا اندازہ لگاکر وقت سے پہلے ایک ساتھ ادا کرلنےج کی اجازت دی ہے اور نہ ہی لازم ہونے والی نمازوں کو ایک ساتھ قضا کرکے پڑھ لنےن کی سہولت دی ہے، نماز کے حوالے سے مندرجہ بالا مذہبی حقائق (Religious Facts) کی روشنی مںن اس بات کے سمجھنے اور سمجھانے مںد کوئی دقت پشہ نہںل آتیکہ نماز کی اقامت کا مطلب نماز کو اس کی مطلوبہ شرعی ہئتز کے ساتھ تاحاکت ادا کرتے رہنے کا اہتمام ہے، یہ اہتمام قاکمت تک کے مسلمانوں کے لےح انتہائی ناگزیر اور ضروری ہے، اس اہتمام کے بغری اقامت کے کوئی اور معنیٰ سمجھنا اور سمجھانا ذاتی اختراع ہوگا جس کی دللے نہ اسلام کے شروع زمانے سے لائی جاسکتی ہے نہ ہی آج سے پہلے کے مسلمانو ں سے ثابت کی جاسکتی ہے، لہٰذا ایی کوئی بھی بات بے حققت ہوگی اور اسلام کی مصدقہ و مسلمہ باتوں مںی غرج مطلوب اضافہ کہلائے گییہی بدعت ہے اور تمام بدعتوں کو واضح طور پر گمراہی کہہ کر ان کی حوصلہ شکنی (Discourage) کرتے ہوئے اس کے انجام سے خبردار کار گاے ہے جو کہ جہنم کی آگ ہے، لہٰذا کسی بھی شریعت کے بتلائے ہوئے اچھے کاموں کو اقامت نماز سے تعبر کرنا گمراہی ہے، البتہ نماز کا اہتمام مستقل حتر گ رکھتا ہے اور کسی بھی نیک عمل کا اجراء اور اس کیبقا مستقل حتیے، رکھتاہے۔ نماز کی رکعتوں کا نقشہ نماز کا نام فرض سے پہلے کی سنت فرض فرض کے بعد کی سنت نفل کل رکعتںد فجر 2 سنت مؤکدہ 2 ……… … 4 ظہر 4سنت مؤکدہ 4 2 سنت مؤکدہ 12 عصر 4غرت مؤکدہ 4 ……… … 8 مغرب ……… 3 2 سنت مؤکدہ 7 عشاء 4غرت مُوکدہ 4 2 سنت مؤکدہ 2 17 جمعہ 4 سنت مؤکدہ 2 4 اور 2 سنت مؤکدہ 2 14 اے رب العٰلمنو! مجھے، مر ی اولاد، خاندان اور پوری امت مسلمہ کے تمام عاقل بالغ مرد و عورت کو تاحایت نمازوں کا پابند رہ کر زندگی گذارنے کی مسلسل توفقن مرحمت فرمائےی۔ اے دلوں کے پھردنے والے! بے نمازیوں کے دلوں مںا نماز کی انسبت اور نمازیوں کے دنوں مںپ خشوع خضوغ کی دولت اجاگر فرمائےو آمنی بجاہ سدم المرسلن صلی اللہ علہت والہ وسلم وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
396