(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
انتخابات میں ووٹ کااستعمال
بسم اللّٰہ الرحمٰن
الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْ
لِہِ الْکَرِیْمِ انتخابات مںو
ووٹ کااستعمال (اورتعلماَت اسلامہم) مسلمان کا مضبوط، غرِمتردد، غررمتبدل، ناقابل ترممل ا ورناقابل تنسخت عقدکہ ہے کہ اس پوری دناو کا بلاشرکت غرتے اصل خالق، مالک اور بادشاہ صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ بلاشک و شبہ یہ ناقابل تردید حققتہ بھی ہے کہ پوری کی پوری زمنا مکمل طور پر اسی کی ہے اور وہ اپنے بندوں مںک سے جسے چاہے اسے اس زمنخ کا وارث بناتا ہے، جسایکہ قرآن مقدس مںد ارشاد مبارک ہے: ’’زمن اﷲ(تعالیٰ) ہی کی ہے وہ اپنے بندوں مںز سے جس کو چاہے اس کا مالک بنادئے۔‘‘ (سورۂ اعراف آیت128) وراثت کا یہ منصب خلافت کہلاتا ہے۔ او رمنصب پر فائز ہونے والے کو خلفہہ کہتے ہںر او رخلفہ جہاں زمن( پر شریعت کے احکامات کا نفاذ اپنی قوت نافذہ کے ذریعے کرتا ہے وہاں عوام الناس کے ذاتی اور مفادعامہ کے مسائل کے حل کا مستقل انتظام کرتا ہے نزے فروغ و تحفیظ اسلام کے لے شعبے قائم کرکے اس کی نگرانی کے فرائض انجام دیتا ہے۔ مزیدیہ کہ معاندین اسلام او رکھلے دشمنوں سے نمٹتے رہنے کا محفوظ، معقول اور عصری تقاضوں کے عنب مطابق انتظام بروئے کار لاتا رہتا ہے۔ یہ انتظامات ملکی اور بنا الاقوامی امن کے ضامن بنتے ہںح۔ خلافت کا معاظراسلام کی نظر مںت: خلافت نہایت ذمہ دارانہ منصب ہے جس مںم خلفہ عوام کو تو جواب دہ ہوتا ہی ہے اسے اخروی جوابدہی کا استحضار بھی رکھنا پڑتا ہے اس لےم کہ احکم الحاکمن کی اس عدالت مںہ جہاں رشوت، سفارش، وکالت اور چرب لسانی کا کوئی دخل نہ ہوگا اسے ہاتھ بندھے ہوئے پش کام جائے گا اور دورانِ خلافت کےا گئے چھوٹے بڑے، ضروری غر ضروری، جائز ناجائز کام، بات اور فصلےے کا اس سے مواخذہ ہوگا۔ اسلامی خلافت کا ایک اہم ترین نہایت دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خلفہا کی ذاتی زندگی عشے و عشرت سے خالی، ٹھاٹھ باٹھ سے عاری ہوتی ہے۔ اس کا حق الخدمت بھی بقدر کفایت ہوتا ہے۔ بحتلاف خلفہچ تحائف قبول کرنا بھی اس کے لے ممنوع ہوتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت مںک نہ صرف نااہل قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ سزا کا مستحق بھی ٹھہر سکتا ہے۔ اسلامی تعلماھت کی روشنی مںس مزید دو باتںض نہایت دلچسپی کی حامل اور انتہائی حرعت انگز ہںع: ۱… منصب کے طالب اور حریص کو منصب نہںا دیا جاتا۔ ۲… اگرکوئی مخلص صاحب ایمان پوری دیانت داری سے یہ سمجھتا ہے کہ منصب پر نااہل شخص فائز ہے اور وہ اپنی نااہلی سے ییگا نقصان پہنچائے گا یا پہنچا رہا ہے اور مںم معاملات درست طور پر انجام دے سکتا ہوں تو وہ منصب کے لےہ اپنے آپ کو پشم کرے۔ اسلامی تاریخ سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اہل حق کی طرف سے کبھی بھی کسی بھی خاتون کا چناؤ نہںے کاں گاص نہ کبھی کسی خاتون نے اس منصب کے لےت اپنے آپ کو پشہ کای۔ اس لےت کہ یہ منصب کسی خاتون کے لےپ نہ موضوع ہے اور نہ ہی موزوں۔ قدرت نے صنف نازک کے ناتواں کاندھوں کو اس بھاری ذمہ داری کا اہل نہں بنایا۔ اس بات کا ایک مثبت اصول یہ بھی ہے کہ یہ منصب موروثی نہںک کہ باپ کے بعد لازمی طور پر بٹائ اور بٹےن کے بعد پوتا فائز ہو یہ انتخابی منصب ہے اور زمانے کے حالات کی مناسبت سے اس کی عملی شکلیں مختلف اختایر کی جاسکتی ہںر۔ اس منصب پر فائز ہونے والا امرکالمؤمننی کہلاتا ہے لکنے وہ مطلق العنان، خود سر، بے لگام، بے مہار، خودمختار، جابر، تشدد پسند، منتقم المزاج، درشت رو، غلظو گو، لااُبالی، غرلسنجدےہ او رٹال مٹول کرنے والا نہیںہوتا۔ بلکہ باہمی مشاورت سے بروقت مر ٹ پر قانون کے دائرے مںو فصلے کرتا ہے۔ اس کی قوت جبر سے اور اس کی نرمی کمزوری سے پاک ہوتی ہے۔ عصرِحاضراورانتخابات: عصرِحاضر مںت دناا کے اکثر ممالک مں جمہوری نظام رائج ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی اس وقت جمہوری نظام کے تحت چلایا جارہا ہے۔ اس انتظام مںم ایک مناسب وقفے کے بعد انتخابات کرائے جاتے ہںر (اس کا وقفہ پاکستان مںا پانچ سال کا ہے) اس انتخاب مں۔ اٹھارہ سال کی عمر اور اس سے زائد، مرد و عورت جو الکشن کمشنا مںہ رجسٹرڈ ہوتے ہںی قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلورں کے امد واران مںو سے کسی ایک کو ووٹ دیتے ہںا اور گنتی کے اعتبار سے جس کے ووٹ زیادہ ہوتے ہں اُسے کاما ب قرار دے دیا جاتا ہے یہ طریقہ اگرچہ صاف شفاف ہے لکن عملی طور پر اس مںی بے شمار زر اور زور کے ذریعے تمام امدںواران کی طرف سے دھاندلااں اور بوگس ووٹنگ کی جاتی ہے، جسے بعض مقامات پر الکشنا کمشنط کا عملہ صرف نظر کرتا ہے اور بعض مقامات پر بے بسی سے دیکھتا رہتا ہے۔ اس بوگس ووٹنگ مں کسی جماعت کو بھی استثناء حاصل نہںو ہے۔ غلاظت کی اس بہتی گنگا مںد کم و بشت سارے کے سارے ہی اپنے اپنے انداز سے نہ صرف ہاتھ دھوتے رہتے ہں بلکہ بعض تو غسل سے بھی باز نہںل آتے۔ یہ ایک گھمبرس رویہ اور ناروا سلوک ہے۔ جس کی اصلاح سے پورا کا پورا معاشرہ عاجز ہے، زبانییاددہانا ں بھی کرائی جاتی ہں ، اخلاقی اصول بھی مرتب کےج جاتے ہںل لکنن عمل کے موقعہ پر ہر ایک اس کی دھجایں اڑا دیتا ہے، مستزاد یہ کہ ایسا کرنے مںد نہ صرف ملک اور قوم کا بلکہ امدےواران کا بے انتہا پسہر بہا دیا جتا ہے۔ اس حققت کے پشھ نظر اس بات مںے دو رائے نہں ہوسکتںا کہ ہمارے ملک مں انتخابات کی مشق بے مقصد اور لاحاصل ہے۔ وہ ممبران جو دیانت داری کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر انتخابات جیتتے ہںت وہ اسمبلوہں مںد جاکر دیانت کے اصولوں کی کتنی پرواہ کریں گے اور اُن کی بے انتہا خا نتوں پر پاکستان کی 65سالہ تاریخ شاہد و گواہ ہے۔ مندرجہ بالا ناقابل تردید حقائق کی روشنی مںو ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس حوالے سے کسی بھی صورت مںر اس کھل کا حصہ ہی نہںر بنتا۔ ییت وجہ ہے کہ ووٹنگ کی شرح فصد بھی انتہائی کم رہتی ہے۔ جمہوری نظام مںا مذہبی طبقات کی خدمات: جہاں تک جمہوری نظام کا تعلق ہے یہ مکمل طور پر اسلامی نظام سے ملی نہںہ کھاتا لکنخ اس وقت بدقسمتی سے یین نظام ہم پر مسلط ہے جس کا حل یہ ہے کہ اسی نظام کے تحت مذہبی طبقہ غلبہ حاصل کرے اور اس نظام مںے تبدییر لائے چنانچہ قاوم پاکستان کے بعد سے اب تک مذہبی طبقے کے افراد اس نظام کا حصہ بنتے رہے ہںط اور اس کے فوائد بھی کھلی آنکھوں دیکھے جاسکتے ہںی۔ 1973ء کا آئنا جتنا بھی اسلامی ہے وہ اسمبلوےں مں پہنچنے والے اسی مذہبی طبقے کا مرہون منت ہے۔ قادیانوسں کو غرآمسلم اقلت قرار دینے کا سہرا بھی ان ہی ممبران اسمبلی کے سر ہے جن کا تعلق مذہبی طبقے سے رہا ہے۔ توہن رسالت کے قانون کا پاس کرایا جانا اور اس پر عملی طور پر حکومت کو آمادہ کرنااسی طبقے کی وجہ سے ہے۔ سکو لر طبقات اپنا پورا زور اسمبلوہں سے ایسے قواننن پاس کرانے پر لگارہے ہںل جن سے ان اسلامی دفعات کی طاقت کو نہ صرف کمزور کردیا جائے بلکہ آئنو مںک سے بھی نکال دیا جائے لیکنیہ مذہبی طبقات ہی ہںل جن کے اسمبلی مںا ہونے کی وجہ سے یہ سکوولر طبقات اپنی سازشوں مںں اب تک کاما ب نہں ہوسکے ہںک۔ ان تمام حقائق کے پشل نظر وہ مذہبی طبقہ جو ان انتخابات کے ذریعے سے اسمبلوہں تک پہنچتا ہے پوری قوم کی طرف سے شکریہ کا مستحق ہے۔ اور لائق تحسنی ہے۔ اور ایک عام ووٹر کییہ شرعی، قومی، ملکی ذمہ داری ہے کہ اگران کے حلقے مں کسی بھی مذہبی جماعت کا کوئی امدیوار انتخاب مںم حصہ لے رہا ہو تو اُسے ووٹ دے کر اس کی کامایبی کو تقویت پہنچائے۔ ووٹراوراسلام: اسلامی تعلماےت کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بھی بآسانی واضح ہوجاتی ہے کہ انتخابات مںے ووٹ ڈالنے والے کی تنو حںسک بنتی ہںد جو کہ درج ذیل ہںت: ۱…شہادت۔ ۲…سفارش۔ ۳…حقوق مشترکہ مں وکالت۔ (۱) شہادت: ووٹ دینے والا جس کو ووٹ دیتا ہے اس کے بارے مںی اپنے ووٹ کے ذریعے سے یہ شہادت دے رہا ہے کہ جس مقصد کے لےییہ انتخاب مںن حصہ لے رہا ہے دیانت اور امانت کے ساتھ اس مقصد کو انجام بھی دے گا اور اس کی اس کے اندر قابلت بھی ہے۔ اس حوالے سے یہ احتاسط مدنظر رکھنی ہوتی ہے کہ ووٹ دینے والے کییہ شہادت جھوٹی نہ ہو ورنہ یہ سخت گناہ کبررہ بن جائے گا جس کا وبال دناا وآخرت دونوں مںا بھگتنا پڑے گا۔ نزس ایک قابلتے رکھنے والے دیانت دار و امانت دار کے ہوتے ہوئے زبان، برادری اور پسےج کی بنارد پر نااہل کو ووٹ دینایہکبیرہ سے بھی بڑا گناہ ہے لہٰذا ووٹ دینے والا اپنے انجام کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ کا استعمال کرے۔ (۲) سفارش: ووٹ دینے والا اپنے ووٹ کے ذریعے سے جس امد۔وار کو ووٹ دے رہا ہے اس کے حق مںھ سفارش کررہا ہے کہ اِسے کاما ب کرایا جائے او ریہ اپنے منصب سے انصاف کرے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ سفارش دیانت دار امد وار کے حق مںو اچھی سفارش کہلائے گی او رخائن و بددیانت کے حق مںا بُری سفارش سمجھی جائے گی۔ دونوں حضرات اپنی ممبری کے عرصے مںپ جسےی نیک و بد کام کریں گے۔ یہ ووٹ دینے والا اپنے ووٹ کے حصے کے بہ قدر اس کا شریک سمجھا جائے گا لہٰذا ووٹ دینے والے کو اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ دینا چاہےں۔ (۳) حقوق مشترکہ مں وکالت: ووٹ دینے والا جس کو ووٹ دے رہا ہے اُسے حقوق کے اصول میںاپنا نمائندہ اور وکلو بنارہا ہے۔ اگریہ وکل وہاں حق سے کام لے گا تو ذاتی طور پر علاقائی مسائل حل ہونے کی وجہ سے ووٹر کو بھی فائدہ ہوگا۔ اور اگر اس نے اپنی نااہلی ثابت کی اور خاتنت و بددیانتی مںو لگ گاج تو حلقے کے عوامی مسائل حل نہ ہونے کی بنا د پر ووٹر کا ذاتی نقصان بھی ہوگا لہٰذا اسے بھی نفع و نقصان کا ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ ووٹ کی شرعی حت س : اﷲ تعالیٰ نے قرآن مقدس مںا گوای دینے کا حکم دیا ہے۔ جسا کہ ایک مقام پر ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اﷲ کے لے پوری پابندی کرنے والے (اور) عدل کے ساتھ شہادت دینے والے رہو۔‘‘ (سورۂ مائدہ آیت8) دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’اور گواہی ٹھک ٹھکل اﷲ(تعالیٰ) کے واسطے دو۔‘‘(سورۂ طلاق آیت2) ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شہادت اور گواہی دینے کے موقعہ پر حق کی گواہی دینا مسلمانوں پر فرض ہے لہٰذا انہں‘ اس سچی شہادت سے جان نہںی چرانی چاہےم۔ اور پوری مستعدی کے ساتھ شہادت کے لےم اپنے آپ کو تا ر کرنا چاہے ۔ چونکہ ووٹ کی حتاد بھی شہادت کی سی ہے لہٰذا ووٹ کا استعمال ان آیات کی روشنی مںا ضروری قرار دیا جاسکتا ہے۔ جسااکہ فقہائے کرام نے اس کا فتویٰ دیا ہے۔ جھوٹی شہادت دینا اسے احادیث کے اندر گناہِ کبراہ شمار کاا گا ہے اور گناہِ کبر ہ بغرر توبہ کے معاف نہں ہوتا چونکہ ووٹ کی حتم بھی شہادت کی ہے اس لےا جھوٹی گواہی دینایا غلط ووٹ ڈالنا گناہِ عظم ہے۔ شہادت کے حوالے سے اﷲ تعالیٰ نے قرآن مقدس مںا ایک مقام پر ارشاد فرمایا ہے: ییند ’’شہادت کو نہ چھپاؤ جو چھپائے گا اس کا دل گناہ گار ہوگا۔‘‘ (سورۂ بقرہ آیت283) جو لوگ ووٹ نہ دے کر شہادت کو چھپا رہے ہںچ وہ کوتاہی کے مرتکب ہورہے ہںو اور اسلامی تعلماےت کی روشنی مںچ اس کو گناہ کبردہ کہا جائے گا جو ناجائز اور حرام ہے۔ شہادت کے علاوہ ہمارے ملک مںگ ایک اور روایت بھی ہے کہ پسورں کے ذریعے سے ووٹ خریدا جاتا ہے یہ پسونں کا لنو دین رشوت میںشمار ہوگا اور اسلام اور ملک سے بغاوت کہلائے گا، رشوت لنےگ والے وہ لوگ ہںپ جو دوسروں کی دناگ سنوارنے کے لےغ اپنا دین قربان کررہے ہںس او راپنی آخرت بگاڑ رہے ہںب ایسا کرنا کوئی دانشمندی نہں ۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ وہ شخص سب سے زیادہ خسارے مںن ہے جو دوسرے کی دنار کے لےہ اپنا دین کھو بٹھے ۔ ہمارے ملک مںم ایک شق اور بھی ہے کہ امدبواران ووٹروں کو بالجبر ڈرا دھمکا کر ووٹ حاصل کرتے ہںے اگر اییھ کسی صورت حال سے سابقہ پڑجائے تو اضطراری حالت مںا بقدرضرورت نہ چاہتے ہوئے حرام بھی حلال ہوجاتا ہے اپنی عزت نفس اور جان و مال کا تحفظ بھی لازم ہے لہٰذا جبر کے موقعہ پر غلط ووٹ کے استعمال کا ووٹ ڈالنے والے کو گناہ نہںت ہوگا البتہ جبر، دھونس اور دھاندلی والا اﷲ تعالیٰ کی پکڑ مں گرفتار ہوکر رہے گا۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
246