(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
حرام سے بچئے اور حلال چیزوں کے عادی بنئے
بسم اللّٰہ الرحمٰ
ن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِ
ہِ الْکَرِیْمِ حرام سے بچئے اور حل
ال چزعوں کے عادی بنئے دنام بھر مںل پائے جانے والے ان جانداروں (بری، بحری، فضائی چوپائے چرند، پرند وغررہ)کی ایک فہرست جنہںو قرآن و حدیث نزر قاہس و اجتہاد کے فقہی اصولوں کی مدد سے دلائل کی قوت کے ساتھ فقہائے احناف نے بالاتفاق حلال قرار دیتے ہوئے ان کے گوشت کھانے کی اجازت دی ہے۔ اردو فارسی عربی English حکم اونٹ شتر بعیر Camel حلال سراگائے غرفا بقر جبلی حلال گائے/بلل گاؤ بقر Cow-Bullock حلال نلا گائے نلہل گاؤ بقردشنی Whith-Ante-Lope حلال بھنسh و بھینسیا مادہ گاؤ مشے و مشی نر جاموسہ و جاموس Buffalo) Female (Buffalo (Male( حلال بکرا بکری بز معز He Soat, She Soat حلال بھڑل منڈaھا مشڑ مادہ ونر ضان Sheep – Ram حلال دنبہ/دنبی مشب کبش Fat – Tailedrom حلال گورخر گورخر حماروحش Zebra حلال بارہ سنکھا گوذن رائل Strg حلال ہرن آہو ظبی Dear حلال خرگوش خرگوش ارنب Rabit حلال مچھلی ماہی سمک Fish حلال بگلا بوتماحر مالک الحرمنi Crane حلال چڑیا کنجشک عصفور Sparrow حلال فاختہ کوکووکرکرو فاختہ Dove حلال چکور کبک قبج وخجل Red-Legged حلال تترل تیہو دُرّاج Partridge حلال بٹرل ورتیج سمانی Quail حلال ابابلi پرستوک فرستوک خظاف و گوار Swarm حلال بلبل ہزارواستان عندلبا Nightingale حلال بطخ بط اوز Duck حلال شتر مرغ شتر مرغ نعامہ Ostrich حلال چکوی چکوا سرخاب لخام ولخامہ Ruddy Gossse حلال چکاوک (چنڈول) چکاوک قّبرہ Lark حلال ٹڈی ملخ جراد Locust حلال مرغ خروس دیک Cock حلال مرغی ماکاین وجاجہ Hen حلال کبوتر کبوتر حمام Piegeon حلال منال شارک زرزور Starling حلال ہُدہُد بوبک ہُدہُد Wood pecker حلال مور طاؤس طاؤس Peacock حلال قمری ایضاً ایضاً Ringdove حلال ممولا ترنددستکانہ صعوہ Wagtail حلال لکلک لکلک لقلق حلال کلنگ(مرغابی) کلنگ کرکی Heron حلال کھندریچہ موسیچہ دُبِسّی حلال مذکورہ جاندار جس طرح حلال ہں) اسی طرح ان کے انڈے بھی حلال ہںذ۔ فارمی مرغی اس کے انڈے نزن فارمی مچھلی، فارمی گائے اور دیگر حلال جاندار بھی حلال ہںا۔ نزی ان حلال جانوروں کا دودھ بھی حلال ہے۔ دنام بھر مںہ پائے جانے والے ان جانداروں کی ایک فہرست جنہںد قرآن و حدیث نزا قااس و اجتہاد کے فقہی اصولوں کی مدد سے دلائل کی قوت کے ساتھ فقہائے احناف نے بالاتفاق حرام قرار دیتے ہوئے ان کے کھانے سے منع کاں ہے۔ اردو فارسی عربی English حکم سنجاب سنجاب سنجاب Ermine حرام ساہی خارپشت قنفذ Porcupine حرام سانپ مار حیَّۃ Snake حرام شرا شرا اسد Lion حرام چتام یوز فہد Leopard حرام گیڈر شغال ابن آویٰ Jackal حرام بھڑمیا گرگ ذئب Wolf حرام ریچھ خرس دُب Bear حرام گدھا خارفانگی و دراز کوش حمارابلی Donkey حرام لومڑی روباہ ثعلب Fox حرام ہاتھی پلت فلت Elephant حرام سور خوک خنزیر Pig حرام بندر بوزنہ قرد Monkey حرام کتا سگ کلب Dog حرام کچھوا سنگ پشت سلحفاۃ Rortoise حرام بلی گربہ سِتّور Cat حرام تندموا پلنگ نمر Likealeopard Animal حرام بِجّو کفتار ضبع Bedger حرام نوالا راسو ابن عرس Mangoose حرام مگرمچھ نہنگ تمساح Alligator حرام گوہ سوسمار ضب حرام چوہا جنگلی موش وشتی یربوع Mouse حرام چوہا خانگی موش خانگی فاز Rat حرام ککڑما خرپنگ سرطان Crab حرام چلا ہوسکرب غلیواز زغن حداۃ Egal حرام باز باز بازی Hawx حرام گِدھ کرگس نَسر Vulture حرام جرّہ چرغ صقر حرام چمگادڑ شپرّہ خفاش Flying Fox حرام بہری بہری بہری Femal Hawk حرام باشہ باشہ باشق Falcon حرام ترمتی ترمتی ترمتی حرام بچھو کژدم عقرب Slorpion حرام منڈمک قوربقہ ضفد Frog حرام چھپکلی چلپاسک سام۔ ابرص Lizard حرام لال بگن صرصور Cockroach حرام جو جاندار حرام ہںا ان کے انڈے اور دودھ بھی حرام ہں ۔ زرعی پدئاوار کے ذریعے حاصل ہونے والی غذائی اشانء کے متعلق فقہائے احناف کا اصولی موقف جانداروں کے ذریعے حاصل ہونے والے مختلف گوشت کی حلال و حرام کی فقہی تفصیلات جاننے کے بعد خود بخود ذہن زمنی حاصل ہونے والی غذائی پدواوار (چاہے وہ زمنذ کے نچےن سے حاصل ہوں یا زمنہ کے اوپر سے جمع کی جائے) کے متعلق شرعی رہنمائی چاہتا ہے؟ اس پداوار مںں اجناس (غلّہ)، سبزیاں، پھل، خشک موےہ جات مصالحہ وغر ہ شامل ہںگ۔ اس سلسلے مںع فقہائے احناف کا اصولی موقف یہ ہے کہ زمنے سے حاصل ہونے والی وہ تمام غذائی اشا ء جن کا تعنب انسانی خوراک کے حوالے سے واضح اور انسان کے استعمال مںم ہے ان مںہ سے اگر کوئی شے ذاتی اعتبار سے زہریی یا براہ راست نشہ آور ہے تو بطور خوراک صحتی اور مذہبی حوالوں سے اس کا استعمال ناجائز اور ممنوع ہوگا۔ البتہ بطور علاج اییی جڑی بوٹااں ناگزیر حالات مںب عارضی طور پر بقدر ضرورت ماہر دیندار معالج کی تشخیص کے مطابق استعمال کرنے کی اجازت ہوگی نزس کسی خاص مرض مںر انمیں سے کوئی شے مضر صحت اور نقصان دہ ہو تو اس مرض کے مکمل علاج تک ان اشااء کے استعمال کی حرام سمجھے بغرہ ممانعت مںا بھی کوئی حرج نہںو۔ مزیدیہ کہ ان اشااء مںک سے جن چزیوں کا قدرتی طور پر پکنے کے استعمال کا عام رواج ہو اور انہںی کچا کھانا مضر صحت ہو تو انہںں کچا استعمال کرنے سے روکا جائے گا۔ جو چزکیں کچی اور پکی ہر دو طرح قابل استعمال ہوں تو ان کے استعمال کی ہر دو طرح اجازت ہوگی۔ البتہ گلی، سڑی، باسی ہو کر بدبو دینے والی پھپوندی لگی، کچی، جلی روٹی کا استعمال ممنوع ہوگا۔ وہ اشانء جن مںس کڑکے پڑگئے ہوں ان کڑاوںکا استعمال کسی طور پر جائز نہںل بلکہ ان کے استعمال کا گناہ ہوگا جبکہ کڑرے صاف کرکے بچی ہوئی اشا ء اگر قابل استعمال ہوں تو انہں کھانے مںی کوئی حرج نہںچ۔ پنےی کی اشاتء سے متعلق فقہائے احناف کا موقف: چونکہ انسان کو کھانے کے ساتھ جسمانی طور پر پنے کی بھی لازمی ضرورت پڑتی ہے لہٰذا اس کے پاس اس حوالے سے پاک صاف صحح اور جائز طریقوں کی معلومات ہونی چاہئںل۔ اس حوالے سے فقہائے احناف کے موقف کی تفصلا کچھ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰنے انسان کی پاوس بجھانے کے لئے جو بہتی ہوئی نعمت عطا فرمائی ہے اسے پانی کہتے ہںل جو دیگر کاموں کے علاوہ پنےگ کے کام بھی آتا ہے جس کی تعریفیہ ہے کہ یہ بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ ہوتا ہے ان مں سے کسی ایک وصف مںں کمی آجائے تو خالص پانی نہںہ رہتا۔ پایس بجھانے کی جو صلاحیت پانی مںب پائجا تی ہے وہ قدرتییا مصنوعی کسی مائع مںت نہںپ۔ اس پانی کی کئی قسمںی ہںز جو قدرتی ہںں (دناا مںر پائے جانے والے پانی) 1:۔ ماء زمزم 2:۔ بارش کا پانی 3:۔ دریا کا پانی 4:۔ نہروں کا پانی 5:۔ چشموں کا پانی 6:۔ کنووں کا پانی وغرنہ عام حالات مں: ان پانوہں کو پنے کے لئے استعمال کاص جاتا ہے البتہ سمندری پانی اپنے کھارییا کڑوے پن کی وجہ سے پنےپ کے قابل نہںک ہوتا۔ (محشر مں ملنے والا پانی) حوض کوثر سے نبی ا کے دست اقدس سے خوش نصب لوگوں کے ملے گا جس کے پنے کے بعد جنت مںش جانے تک نہ پاوس لگے گی، نہ پانی کی ضرورت و خواہش پد ا ہوگی اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصب فرمائے آمنن (جنت مں ملنے والا پانی) جنت مںث جا بجا پانی کی نہریں بہہ رہی ہونگی جس کا پانی نہ کبھی ختم ہوگا نہ ہی کبھی اس مںے بدبو پدت اہوگی کثرت استعمال کے باوجود کبھی پیشاب کی حاجت ہی پشگ نہںی آئی ی، نہ کبھی مثانے مںن گرانی پد اہوگی، خوشبودار پسنےے سے ضرورت سے زیادہ جو ہوگا تحلل ہوجائے گا، اے اللہ! ہم آپ سے ان عنایات کی درخواست کرتے ہںگ۔ (جنہم مں ملنے والا پانی) نہایت کھولتا ہوا، لہو اور پپ کی آمزکش والا، انتہائی بدبو دار، تشنگی دور کرنے کے صلاحیت سے بالکل خالی۔ جس کی بھاپ سے نچلا ہونٹ نچےہ کی طرف لٹک جائگا اور اوپر کا ہونٹ پچھلی جانب کھنچٓ جائے گا۔ اے اللہ! ہم اس عذاب نما پانی سے آپ کی پناہ چاہتے ہںہ۔ احناف نے دنا مںئ پائے جانے والے مذکورہ بالا پانووں کو پنے کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، پانی پنے کے آداب بتلائے ہں ، پنےگ کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی تلقنج کی ہے۔ آخرت مںا ملنے والے تنی مذکورہ بالا پانو ں مںا سب سے پہلے دو کا مستحق اور آخری پانی سے محروم کردئے جانے سے متعلق نہایت آسان نسخہ بتلایا ہے کہ دنآ مںک بالغ ہونے سے لکر موت تک، سر کے بالوں سے لکر پرے کے ناخنوں تک، زندگی کے تمام شعبوں مںی ملنے والے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نبی صلی اللہ علہ وسلم کے طریقوں کے مطابق ادا کای جائے غلطی، کوتاہی کو صورت مںن توبہ و استغفار کے ذریعے معاف کرالاا جاتا رہے۔ پانی جیلغ ضروری نعمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مزید دو عظمن سالل نعمتںی بھی عطا فرما رکھی 1:۔ دودھ 2:۔ شہد ان حلال، طبی، پاکز ہ، خوشگوار، راحت بخش، صحت سے بھر پور نعمتوں کو جو بھوک مٹانے اور پاظس بجھانے دونوں مقاصد کو پورا کردینے کی صلاحیت رکھتی ہں اپنے اپنے معدوں اور مزاج کے مطابق استعمال کرنے کی اجازت ہے یین اگر کسی کو موافق نہ ہو یا کسی مرض سے صحت کے حصول مںل رکاوٹ بتلائے جاتے ہوں تو ان سے پرہزک بھی کرایا جاسکتا ہے (بدقسمتی سے دور حاضر مںی ان دونوں کے ساتھ بھی دیگر اشاہء کی طرح آج کا مسلمان ملاوٹ اور جعل سازی سے کام لے رہا ہے اور ان کی قدرتی افادیت کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہںی اپنی حرص وہوس کی معاونت فراہم کررہے ہںا)۔ پتلی رقق اور پہنے والی نعمتوں مںن سے ایک نعمت اللہ تعالیٰ نے پھلوں مںت بھی حفاظت سے بھر رکھی ہے عرف عام مںک انہں) رس اور جوس کہا جاتا ہے۔ جن جن پھلوں سے یہ جوس حاصل ہوسکتے ہںم نز ناریل کے پانی کے استعمال کی عمومی اجازت ہے۔ صحتی حوالوں سے بعض جوس سے روکا بھی جاسکتا ہے۔ خود انسان بھی اللہ تعالیٰ کی حلال نعمتوں کے ذریعے بعض قابل استعمال پانی بناتا ہے۔ 1:۔ چائے 2:۔ قہوہ 3:۔ کافی 4:۔ کولڈڈرنک 5:۔ مختلف شربت 6:۔ فالودہ (کھانے اور پنےا دونوں کام آتا ہے) 7:۔ لب شرایں 8:۔ منرل واٹر وغریہ وغر ہ اگر ان مں کوئی ناپاک زہریی نشہ آور اشا ء کی ملاوٹ نہ ہو تو مذہب ان کے استعمال سے نہں روکتا البتہ صحتی حوالوں سے حکم تبدیل ہوسکتا ہے۔ نز تمام نشہ آوار اشاپء چاہے وہ پی جاتی ہوں، کھائی جاتی ہوں، سونگھی جاتی ہوں یا انجکشن کے ذریعے لگائی جاتی ہوں مذہب اور صحت دونوں حوالوں سے ناجائز اور حرام ہں ۔ نمک اور چیور کو مذہب نے اگرچہ استعمال مںئ کوئی برائی نہںی بتلائی ہے لکنو عرف عام مںہ طبی حوالوں سے ان کو دو سفد زہر بتلایا جاتا ہے لہٰذا انہںح بقدر ضرورت ہی استعمال کرنا چاہیئے البتہ کسی مرض مںو نقصان دہ ثابت ہوں تو ان سے پرہزل کرانے کی بھی اجازت ہے۔ تمباکو ایک مشہور پودا ہے جو پان مںا ڈال کر بھی کھایا جاتا ہے۔ سگریٹ، بڑبی، سگار، حقہ اور ششےق (حقے ہی کی ایک جدید قسم) وغروہ کے واسطے سے منہ سے لگا کر سانس اندر کھنچتےت ہوئے جسم کے اندر پہنچایا جاتا ہے۔ گٹکا، منق پوری، نسوار، ناس وغراہ کے استعمال کو مذہب نے مکروہ اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے لکنس طبی حلقوں نے بلا ہچکچاہٹ تقریباً بالا جماع ان کے نقصانات کو نہ صرف اجاگر کات ہے بلکہ اسے کنسر جسےو موذی مرض کا پشچ خمہم قرار دیتے ہوئے حکومتی سطح پر بھی اس عادت کو چھڑانے کی مسلسل، لگاتار، متواتر، بغر تھکے کوشش جاری رکھی ہوئی ہے لکنض طرقہ تماشا یہ ہے کہ کای علماء، کات دانشور، کاہ جہلاء، کاڑ باحتمسل، کاہ بے حت، ل، کا مرد، کاذ عورتںے، کا جوان، کاط بچے، کاس بوڑھے، کاے شہری کا، دیہاتی سرپٹ اپنی صحت سے کھلنے کے اس مقابلے مںن تن من دھن سے ایسے منہمک ہں کہ ہٹانے سے بھی نہںا ہٹنے۔ گستاخی معاف! کا اس شوق کو قسطوں مںی خود کشی کا عنوان دیا جاسکتا ہے؟ یقینا ان کے نفع پر نقصانات غالب ہں اعتبروا یا اولی الابصار۔ مندرجہ بالا مذہبی، صحتی گفتگو کی روشنی مںت اس کی ضرورت ہی باقی نہںا رہتی کہ کوئی فرد یا گروہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں مںد سے کسی حلال کو حرام اور کسی حرام کو حلال قرار دے اور اسے مذہبی رنگ دے یقینا ایسا کرنا قرآنی تعلمائت کی رو سے افتر اعلی اللہ، کذب اور بہتان قرار پائے گا جو بلاشبہ بہت بڑا ظلم ہے اور ایسے ظالم اپنے کرتوتوں اور ان پر جمے رہنے کی وجہ سے شاہرہ ہدایت تک بھی پہنچنے سے محروم ہی رہے ہںا۔ غر مسلم کے ہاتھوں سے تایر شدہ اشاظء کا حکم: مسلمان یا اہل کتاب کے ہاتھ سے شرعی طریقے سے ذبح شدہ حلال جانور کا گوشت کسی غرنمسلم کے ہاتھ سے پکا ہوا ہو اور جن برتنوں مں پکایا گاہ ہو وہ صاف ہی نہں پاک بھی ہوں نزا اس مںا کسی نجس چزن کی ملاوٹ بھی نہ ہو تو اس کھانے کو مسلمان کھا سکتا ہے۔ ان ہی احتا طوںکے ساتھ غرظ مسلم ہوٹلوں مں بھی کھانا کھانے کی گنجائش ہے۔ اسی طرح خشک اجناس کا لنں دین اور ان کے استعمالی برتن بھی ضرورت کے موقع پر دھوکر استعمال کئے جاسکتے ہںل انہی احتاکطوں کی رعایت کے ساتھ ان کی دعوتوں مںک بھی شریک ہوا جاسکتا ہے البتہ ایک پلٹک مں ان کو کھانے مںت شریک کرنا یا ان کے ساتھ شریک ہونے کو فقہاء نے غرنت ایمانہ کے خلاف کہا ہے لہٰذا اس عمل سے پرہز کرنا چاہئے۔ نبیﷺ کے کھانے کی بابت پسندیدہ جاندار: نبیﷺ کے کھانے کے بارے مں احادیث کے ذخائر مںں جو روایات محفوظ ہں ان کی روشنی مںن آپ ﷺ نے درج ذیل جانداروں کے گوشت تناول فرمائے ہںں نز آپ ﷺ کے ارشاد مبارکہ مںک دناھ اور آخرت کے کھانوں کا سردار گوشت کو کہا گاں ہے۔(واضح رہے کہ گوشت افضل ترین ہونے کے باوجود آپ ﷺ نے روز (ہر دن) نہںھ کھایا بلکہ گوشت ناغہ کرکے تناول فرمایا کرتے تھے)۔ نمبر شمار اردو English 1 اونٹ کا گوشت Camels Meat Of Flesh 2 بکری کا گوشت Goats Meat Of Flesh 3 مرغی کا گوشت Hens Meat Of Flesh 4 خرگوش کا گوشت Rabits Meat Of Flesh 5 نلb گائے کا گوشت Wite Antilopes Meat Of Flesh 6 گائے کا گوشت Cows Meat Of Flesh (کھانے کی روایت تو واضح الفاظ مںب نظرسے نہںم گذری البتہ آپ ا کے دستر خوان پر گائے کے گوشت کا آنا ثابت ہے نزش گائے کی قربانی بھی ثابت ہے) 7 اروی کا گوشت (پہاڑی بکرا) 8 چکور (تترگ کے قسم کا ایک پرندہ) کا گوشت Redlesseds Meat Of Flesh 9 سُرخاب (ایک آبی پرندہ) کا گوشت Ruddy Gooses Meat Of Flesh 10 مبارنی (بعض کے نزدیک بٹرا) کا گوشت Quails Meat Of Flesh 11 مچھلی کا گوشت Fish Meat Of Flesh نبیﷺ کو گوشت کے پسندیدہ اجزاء: نمبر شمار اردو English 1 دست کا گوشت Meat 2 پیٹھ کا گوشت Meat Of Back 3 شانے کا گوشت Meat of Shoulder 4 گردن کا گوشت Meat of Neck 5 بھنی ہوئی کلیڑی Roasted liver 6 دل Heart 7 مغز Brain 8 گودا Marrow 9 پائے Foot 10 ہڈی وار گوشت Bonffulmeat (جسے بعض اوقات دانتوں سے نوچ نوچ کر اور بعض اوقات چاقو سے کاٹ کاٹ کر تناول فرمایا کرتے تھے)۔ نبیﷺکی پسندیدہ گوشت کی ڈشںو: نمبر شمار اردو English 1 بھنا ہوا گوشت Rosted Meat 2 شوربے دار گوشت Broth ful Meat 3 لوکی کا گوشت Meat With Bottle Gourd 4 بغرt روٹی کے تنہا گوشت With our bread Only Meat نبیﷺ کی پسندیدہ سبزیاں: نمبر شمار اردو English 1 لوکی Bottle Gourd 2 چقندر Beet 3 اروی 4 پکا ہوا پاyز Rosted Onion نبیﷺ کی دیگر مرغوبات: نمبر شمار اردو English 1 حلوہ(ہر میھy چزایا آٹے اور گھی سے بنا ہوا) 2 ہریسہ (ایک عربی کھانا جسے گوشت اور کوٹے ہوئے گہونں ملا کر بنایا جاتا ہے) 3 حریس(کھجور، پنرن، گھی، آٹے سے مل کر بنتا ہے) 4 خزیرہ 5 خبیص (گھی، گہویں اور شہد کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ 6 ستو (عموماً جو کا ہوتا تھا۔ اناج کو بھوننے کے بعد آٹا بنایا جاتا ہے جسمیں پانی شرونییا نمک ملا کر پتے ہںب) Heart 7 رشیشہیا حشیشہ (آٹے، گوشت اور کھجور کو ملا کر پکایا جاتا ہے) Brain 8 مصالحہ دار کھانا (مللوم ہوا کھانے کو (بسہولت) عمدہ اور مزے دار بنانا زہد کے خلاف نہںn ہے) Marrow 9 سرکہ روٹی Foot 10 ثرید (گوشت کے شوربے مں روٹی کے ٹکڑے شامل کرنا) تمام کھانوں مںo محبوب ترین کھانا تھا۔ Bonffulmeat 11 پنرf Chees 12 دودھ Milk 13 شہد Honey 14 جوکی روٹی (بلا چھنے آٹے کی ہوتی تھی) (واضح رہے آٹا چھان کر پکانے کی ممانعت نہںt ہے)۔ Bread of Barley 15 جو کی روٹی اور کھجور Bread of Barley and Dates 16 پراٹھے (ام سلمہؓ کے ہاں دعوتی کھانے مں اسی کا کھانا ثابت ہے ابن ماجہ ج ۷ س ۷۴۲ Friedbreas 17 کھجور Dates 18 تازہ کھجور اور خربوزہ Freshdates and Melon 19 کھجور اور مکھن Dates and Butter 20 کھجور اور دودھ Dates and Milk 21 کھانا اور کھجور Meal and Dates 22 کھجور اور پانی Dates and Water 23 کھجور اور ککڑی Dates and Cusumer 24 لکڑی اور نمک Cusumer with salt 25 کھجور اور تربوز Dates and water meloh 26 کھجور کے درخت کا گوند Cum of Datetrees 27 کباث (پلو ) Itsfruit 28 زیتون Olive 29 زیتون کا تلو Oil of oliue 30 انجرo Fig 31 انگور Grapes 32 کشمش Raisins 33 انار Pomegrante 34 سونٹھ (آپ ﷺ کے شاہ ہند کی طرف سے اس کا ہدیہ قبول فرمایا تھا (ترمذی، حاکم، صححے ج ۴ ص ۱۳۵ Dry ginger 35 شہتوت Mulberry 36 سفرجل (سیب کے مشابہ پھل) Quince 37 ٹھنڈا پانی Cold water 38 شہد ملا پانی Water and Honey Bring to gather 39 دودھ پانی water and Milk Bring to gater 40 نبذe (کھجور ملا پانی جسمیں ابھی نشہ نہ پدفا ہوا ہو) Non-Alcoholic Beverage of dats 41 آب زم زم Water of the sacred meccas well وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
686