(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/19
موضوعات
والدین کے حقوق اور تربیتِ اولاد
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ لْکَرِیْمِ دین اسلام سلامتی اور عافیت کا دین اور اسکی تعلیمات پر عمل کرنا سلامتی و عافیت کی ضمانت ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات قیامت تک بنی نوع انسان کی فلاح و ہدایت کے لئے ہیں اس جہاں فانی میں یہ تعلیم ہر اس غیر مسلم کے لئے بھی مفید ہے جو اس پر عمل پیرا ہو، مسلمان کو تو خصوصی طور پر اس کا پابند ہونا چاہیے تاکہ دونوں جہانوں میں کامیاب ہو۔ زندگی کے تمام شعبہ جات میں رہنمائی حاصل کرنے کا ذریعہ شریعت ہے جسمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مکمل اور واضح ہدایات عطا فرمائی ہیں ان ہدایات میں اللہ تعالیٰ کے حقوق اور حقوق العباد کی مکمل تشریح ہے۔ حقوق العباد دین کا بہت اہم شعبہ ہے اور یہ اتنا اہم شعبہ ہے کہ حقوق اللہ ادا نہ کرنے کے گناہ تو توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں۔ یعنی اگر خدانخواستہ حقوق اللہ کی ادائیگی سے متعلق کوئی کوتاہی سر زد ہوجائے تو اسکا علاج بہت آسان ہے کہ انسان کو جب کبھی اس پر ندامت پیدا ہو تو توبہ استغفار کرلے لیکن بندوں کے حقوق ایسے ہیں کہ اگر ان میں کوتاہی ہو جائے تو اگر اس پر کبھی ندامت ہو اور اس پر توبہ استغفار کرلے تب بھی وہ گناہ معاف نہیں ہوتے جب تک کہ حق دار کو اسکا حق نہ پہنچایا جائے یا جب تک صاحب حق اسکو معاف نہ کردے اسلئے حقوق العباد کا معاملہ بڑا سنگین ہے۔ حقوق العباد سے غفلت حقوق العباد کا معاملہ جتنا سنگین ہے ہمارے معاشرے میں اس سے غفلت اتنی ہی عام ہے۔ ہم لوگوں نے چند عبادات کا نام دین سمجھ رکھا ہے یعنی نماز روزہ حج زکوٰۃ ذکر، تلاوت، تسبیح وغیرہ ان چیزوں کو تو ہم دین سمجھتے ہیں لیکن حقوق العباد کو ہم نے غیر ضروری سمجھ رکھا ہے ہوا ہے اس میں اگر کوئی شخص کوتاہی یا غلطی کرتا ہے۔ تو اسکو اسکی سنگینی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ حقوق العباد تین چوتھائی دین ہے اسلامی فقہ جسمیں شریعت کے احکام بیان کیے جاتے ہیں اسکو اگر چار برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے تو اس کا ایک حصہ عبادت کے بیان پر مشتمل ہے اور بقیہ تین حصے حقوق العباد کے بیان میں ہیں یعنی ان میں معاملات، معاشرت اخلاق و کردار کو سمجھایا گیا ہے۔ والدین کے حقوق حقوق العباد میں اہم حق والدین کا ہے اس لئے قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں اس حق کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ والدین کا مقام اتنا اونچا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے بعد فوراً والدین کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ والدین کی حیثیت اللہ تعالیٰ نے کیسی عظمت والی بنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّتُعْبُدُوْا ِالَّآ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ط اِمَّایَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُ ہُمَا اَوْ کِلٰہُمَا فلَاَ تَقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا۔ (پارہ نمبر ۱۵ سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر ۲۳) ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمھارے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انھیں اف تک نہ کہو اور نہ انھیں جھڑکو بلکہ اُن سے عزت کے ساتھ بات کیا کرو۔ اسی طرح قرآن کریم میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ لَاتَعْبُدُوْنَ اِلَّااللّٰہَ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ (پارہ نمبر۱ سورۃ بقرہ آیت ۸۳) ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے پکا عہد لیا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کروگے اور والدین سے اچھا سلوک کروگے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَاعْبُدُواللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْ ابِہٖ شَیْئًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ (پارہ نمبر ۵ سورۃ النساء آیت نمبر ۳۶) ترجمہ: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ والدین کے ادب و احترام اور اطاعت کی بڑی اہمیت ہے، امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے والدین کے ادب و احترام اور اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملاکر واجب فرمایا ہے جیسا کہ سورۃ لقمان میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کر لازم فرمایا ہے۔ اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ۔ (پارہ نمبر ۲۱ سورۃ لقمان آیت ۱۴) ترجمہ: تم میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے اللہ جل شانہ کی عبادت کے بعد والدین کی اطاعت سب سے اہم اور اللہ تعالیٰ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گزار ہونا واجب ہے۔ والدین کی اطاعت و خدمت کے فضائل احادیث کی روشنی میں: (۱)۔ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا نماز اپنے وقت پر ادا کرنا اُس نے پھر دریافت کیا اس کے بعد کونسا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے تو آپ نے فرمایا والدین کے ساتھ اچھا سلوک۔ (صحیح بخاری ) (۲)۔ حضرت ابو الدرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے اب تمہیں اختیار ہے اسکی حفاظت کرو یا ضایع کردو۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، مستدرک حاکم) (۳)۔ حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رِضَی الْرَبِّ فِیْ رِضَی الْوَالِدْوَ سَخَطُ الْرَبِّ فِی سَخَطِ الْوَالِدْ۔ اللہ کی رضاء باپ کی رضاء میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔ (جامع ترمذی) (۴)۔ حضرت ابوامامہؓ سے نقل کیا ہے ایک شخص نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا دونوں ہی تیری جنت ہیں یا دوزخ مطلب یہ ہے کہ انکی اطاعت و خدمت جنت میں لیجاتی ہے اور اُن کی بے ادبی اور ناراضگی دوزخ میں۔ (ابن ماجہ ) (۵)۔ بیہقیؒ نے شعب الایمان میں اور ابن عسا کرؓنے بروایت حضرت ابن عباسؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے لئے اپنے ماں باپ کا فرماں بردار رہا اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے رھیں گے اور جو اُن کا نا فرمان ہوا اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھلے رہیں گے۔ اگر ماں باپ میں کوئی ایک ہی تھا تو ایک دروازہ جنت یا دوزخ کا کھلا رہے گا۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا یہ جہنم کی وعید کیا اس صورت میں بھی ہے کہ ماں باپ نے اس شخص پر ظلم کیا ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا وان ظلما وان ظلما واِن ظلما یعنی ماں باپ کی نافرمانی اور ان کو ایذا رسانی پر جہنم کی وعید ہے خواہ ماں باپ نے لڑکے پر ظلم کیا ہو جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاد کو ماں باپ سے انتقام لینے کا حق نہیں کہ انھوں نے ظلم کیا ہو تو یہ بھی اُن کی خدمت و اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیں۔ (بیہقی، ابن عساکر) حج مقبول کا ثواب (۶)۔ بیہقیؒ نے بروایت حضرت ابن عباسؓ نقل کیا ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ جو خد مت گذار بیٹا اپنے والدین پر رحمت و شفقت سے نظر ڈالتا ہے تو ہر نظر کے بدلے میں ایک حج مقبول کا ثواب پاتا ہے لوگوں نے عرض کیا کہ اگر وہ دن میں ۱۰۰سو مرتبہ اس طرح نظر کرلے آپ نے فرمایا کہ ہاں سو مرتبہ بھی ہر نظر پر یہی ثواب ملتا رہے گا۔ والدین کی حق تلفی کی سزا آخرت سے پہلے دنیامیں (۷)۔ بیہقیؒ نے بروایت حضرت ابی بکرہؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا اور سب گناہوں کی سزا تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں قیامت تک مؤخر کرلیتے ہیں سوائے والدین کی حق تلفی اور نافرمانی کرنے والے کے کہ اسکی سزا آخرت سے پہلے دنیامیں بھی دیجاتی ہے۔ (بیہقی) جنت ماں کے قدموں میں ہے (۸)۔ معاویہؒ بن جاھمہ سے روایت ہے کہ میرے والد جاہمہ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے اور میں آپ سے اس بارے میں مشورہ کے لئے حاضر ہوا ہوں آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کیا تمھاری ماں ہے؟ انھوں نے عرض کیا ہاں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر ان ہی کے پاس ان کی خدمت میں رہو ان کے قدموں میں تمھاری جنت ہے۔ (مسند احمد، نسائی ) باپ کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک (۹)۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا سب سے اعلیٰ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے مرنے کے بعد یا اسکی غیر موجودگی میں اس کے دوستوں کے ساتھ احسان و سلوک کرے۔ (مشکوٰۃ شریف) والدین کا حق (۱۰) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے اُن کے ساتھ ایک بڑے میاں بھی تھے حضور ﷺ نے اُن سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انھوں نے عرض کیا یہ میرے والد ہیں حضور نے فرمایا کہ اُن سے آگے نہ چلنا، اُن سے پہلے نہ بیٹھنا، انکا نام لیکر نہ پکارنا، اُن کو بُرا نہ کہنا۔ (الطبرانی) والدین کی خدمت کا نتیجہ دنیا میں حضرت طاؤسؒ کہتے ہیں کہ ایک شخص کے چار بیٹے تھے وہ بیمار ہوا اُن بیٹوں میں سے ایک نے اپنے تین بھائیوں سے کہا کہ اگر تم باپ کی تیمار داری اس شرط پر کرو کہ تم کو باپ کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا تو تم کرو، ورنہ میں اس شرط پر تیمار داری کرتا ہوں کہ میراث میں سے کچھ نہ لوں گا وہ اس پر راضی ہوگئے کہ توہی اس شرط پر تیمار داری کر ہم نہیں کرتے اس نے خوب خدمت کی لیکن باپ کا انتقال ہوگیا اور شرط کے موافق اُس نے کچھ نہ لیا رات کو خواب میں دیکھا کوئی شخص کہتا ہے فلاں جگہ سو دینار (اشرفیاں) مدفون ہیں وہ تولے لے، اُس نے خواب ہی میں دریافت کیا ان میں برکت بھی ہوگی اُس نے کہا کہ برکت ان میں نہیں ہے صبح کو بیوی سے خواب کا ذکر کیا اُس نے اُن کے نکالنے پر اصرار کیا اُس نے نہ مانا دوسرے دن پھر خواب دیکھا جس میں کسی دوسری جگہ دس دینار بتائے اُس نے پھر وہی برکت کا سوال کیا اُس نے کہا برکت اس میں نہیں ہے اُس نے صبح کو بیوی سے اس کا بھی ذکر کیا اُس نے پھر اصرار کیا مگر وہ نہ مانا تیسرے دن پھر اُس نے خواب دیکھا کوئی شخص کہتا ہے فلاں جگہ جاوہاں تجھے ایک دینار (اشرفی) ملے گا وہ لے لے، اُس نے پھر وہی برکت کا سوال کیا اس شخص نے کہا ہاں اسمیں برکت ہے یہ جاکر وہ دینار لے آیا اور بازار میں جاکر اس سے دو مچھلیاں خریدی جن میں سے ہر ایک کے اندر سے ایک ایسا موتی نکلا جس قسم کا موتی کسی نے نہیں دیکھا تھا بادشاہ وقت نے ان دونوں کو بہت اصرار سے نوے (90) خچروں کے بوجھ کے بقدر سونے سے خریدا۔ والدین کی نافرمانی کا وبال والدین کی اطاعت واجب ہے اگر والدین کسی کام کا حکم دیں تو وہ کام کرنا اولاد کے ذمے شرعًا فرض ہو جاتا ہے اور بالکل ایسا فرض ہوجاتا ہے جیسا کہ نماز پڑھنا فرض ہے بشرطیکہ ماں باپ جس کام کا حکم دے رہے ہیں وہ شرعًا جائز ہو اور اگر اولاد وہ کام نہ کرے تو یہ ایسا گناہ ہے جیسا نماز چھوڑدینا گناہ ہے اس کو عقوق الوالدین کہا جاتا ہے یعنی والدین کی نافرمانی اور بزرگوں نے فرمایا کہ والدین کی نافرمانی کا وبال یہ ہوتا ہے کہ مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا۔ والدین کے ساتھ خیر خواہی پر جنت میں داخلہ کا عجیب واقعہ ایک شخص کے میزان کے دونوں پلڑے برابر ہوں گے اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تو نہ جنتی ہے اور نہ جہنمی اتنے میں ایک فرشتہ ایک صحیفہ لاکر اس کے میزان کے ایک پلڑے میں رکھے گا جس پر اُف (والدین کی تکلیف و صدمہ کی آواز ) لکھا ہوا ہوگا جو بدی کے پلڑے کو وزنی کردے گا اس لیے کہ وہ اُف ایسا کلمہ ہے جو دنیا کے پہاڑوں کے مقابلہ میں بھاری ہے چنانچہ اس کے لئے جہنم کا فیصلہ ہوگا وہ شخص اللہ تعالیٰ سے جہنم سے نجات کی درخواست کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیں گے اسکو واپس لاؤ پھر اللہ تعالیٰ اسے کہیں گے اے ماں باپ کے نافرمان تو کس بناء پر جہنم سے چھٹکارے کی درخواست کرتا ہے وہ شخص کہے گا اے رب میں جہنم میں جانے والا ہوں مجھے وہاں سے چھٹکارا نہیں کیونکہ میں والد کا نافرمان تھا اور میں ابھی دیکھ رہا ہوں کہ میرا باپ بھی میری طرح جہنم میں جانے والا ہے لہٰذا میرے باپ کے بدلے میرا عذاب دوگنا کردیا جائے اور ان کو جہنم سے چھٹکارا دیا جائے۔ یہ سُن کر اللہ تعالیٰ ہنس پڑیں گے اور فرمائیں گے دنیا میں تو اس کا نافرمان تھا اور آخرت میں تونے اسکو بچالیا پکڑ اپنے باپ کا ہاتھ اور دونوں جنت میں چلے جاؤ۔ (التذکرہ لقرطبی ۱/۳۱۹ زرقنی ۱۲/۳۱۹) عبرت ناک واقعہ ایک شخص کا واقعہ لکھا ہے کہ اُس کی نزع کا وقت تھا، سب لوگ یہ کوشش کررہے تھے کہ زبان پر کلمہ جاری ہوجائے، مگر اس کی زبان پر کلمہ جاری نہیں ہورہا تھا چنانچہ لوگ ایک بزرگ کو لائے اور ان سے پوچھا کہ اسکا کیا حل نکالا جائے کہ اس کی زبان پر کلمہ جاری ہوجائے آپ اسکے لئے معافی مانگیے انہوں نے فرمایا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے والدین کی نافرمانی کی ہے اسکے نتیجے میں اس پر یہ وبال آیا ہے جب تک ان کی طرف سے معافی نہیں ہوگی اس وقت تک اسکی زبان پر کلمہ جاری نہیں ہوگا اس بات سے اندازہ لگائیں کہ والدین کی نافرمانی کرنا اور اُن کا دل دُکھانا کتنی خطرناک اور وبال کی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ (آمین) ماں کی خدمت کا نتیجہ ماں کی خدمت وہ چیز ہے جو انسان کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتی ہے امام غزالی ؒ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ ایک عرصہ تک صرف ماں کی خدمت میں مشغولی کی وجہ سے علم حاصل نہیں کیا لیکن بعد میں جب انکی خدمت سے فارغ ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے علم کے اندر بہت اونچا مقام عطاء فرمایا لہٰذا اس خدمت کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ والدین کے انتقال کے بعد بھی مغفرت حضرت مالک بن ربیعہؓنے فرمایا کہ ہم ایک مرتبہ رسول ا کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس بنو سلمہ کے ایک صاحب آئے اور انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا والدیں کی وفات کے بعد بھی میرے اوپر والدین کے ساتھ کوئی ایسی نیکی کرنا باقی رہتا ہے جو میں ان کے ساتھ کرسکوں؟ آپ نے فرمایا ہاں، ان کی نماز جنازہ پڑھنا اور ان کے لیے استغفار کرنا، اور ان کے عہد کو پورا کرنا، اور ان کے دوستوں کا اکرام کرنا، اور ان رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا جن کے ساتھ صلہ رحمی صرف ان کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ) ایک حدیث میں آتا ہے جو لڑکا اپنے والد کے مرنے کے بعد جمعہ کو قبرستان جائے تو اللہ کی طرف سے اس جانے والے کے لئے مغفرت کا اعلان ہے۔ آپ دیکھیے ہمارا دین اسلام کیسا بہترین دین ہے کہ کوئی مرنے کے بعد بھی اپنے باپ کے ساتھ حسن و سلوک کرے اللہ کے یہاں پھر بھی مغفرت ہے۔ والدین کی وفات کے بعد تلافی کی صورت اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے کہ والدین کے مرنے کے بعد اولاد کو اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ ہم نے کتنی بڑی نعمت کھو دی اور ہم نے اسکا حق ادا نہ کیا اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے ایک راستہ رکھا ہے فرمایا کہ اگر کسی نے والدین کے حقوق میں کوتاہی کی ہو اور ان سے فائدہ نہ اٹھایا ہو تو اسکی تلافی کے دو راستے ہیں ایک اُن کے لئے ایصال ثواب کی کثرت کرنا جتنا ہوسکے انکو ثواب پہنچائے۔ صدقہ دیکر ہو یا نوافل پڑھ کر ہو یا قرآن کریم کی تلاوت کرکے ہو اسکے ذریعے اسکی تلافی ہوجاتی ہے دوسرے یہ کہ والدین کے اعزاا قرباء دوست احباب کے ساتھ حسن سلوک کرے اور انکے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرے جیسا ماں باپ کے ساتھ کرنا چاہیے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کوتاہی کی تلافی فرما دیتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے اور سب انسانوں کو اسکی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین) والدین کی اطاعت کن چیزوں میںواجب ہے اور کہاں صرف اختلاف کی گنجائش ہے۔ اس پر علماء و فقہاء کا اتفاق ہے کہ والدین کی اطاعت صرف جائز کاموں میں واجب ہے ناجائز یا گناہ کے کام میں اطاعت واجب تو کیا جائز بھی نہیں ہے حدیث میں ہے لَاطَاعْۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقْ۔ یعنی خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ مثلاً والدین کہیں داڑھی کٹاؤ، ناحق کسی کو قتل کرو، نماز چھوڑ دو تو یہ بات نہیں مانی جائیگی۔ مسئلہ: جب تک جہاد فرض عین نہ ہوجائے فرض کفایہ کے درجے میں رہے اس وقت تک کسی لڑکے لئے والدین کی اجازت کے بغیر جہاد میں شریک ہونا جائز نہیں۔ مسئلہ: جب کوئی چیز فرض عین یا واجب علی العین نہ ہو کفایہ کے درجے میں ہو تو اولاد کے لئے وہ کام بغیر ماں باپ کی اجازت کے جائز نہیں اسمیں مکمل علم دین حاصل کرنا اور تبلیغ دین کے لئے سفر کرنے کا حکم بھی شامل ہے یا لوگوںکو تبلیغ و دعوت کے لئے جائے تو بغیر اجازت والدین کے جائز نہیں۔ مسئلہ: والدین کے ساتھ حسن سلوک کا جو حکم قرآن و حدیث میں آیا ہے اسمیں یہ بھی داخل ہے کہ جن لوگوں سے والدین کی قرابت یا دوستی تھی اُن کے ساتھ بھی حسن سلوک کا معاملہ کرے خصوصاً انکی وفات کے بعد۔ خلاصہ اِن آیات قرآنیہ، احادیث طیبہ اور واقعات سے حاصل کلام یہ نکلا کہ والدین اللہ تعالیٰ کے طرف سے بہت بڑی نعمت ہیں اور والدین کی نعمت دنیا میں ایک بار ہی ملتی ہے بار بار نہیں ملتی تو ہم سب کو چاہیے کہ ہم والدین کی قدر کریں اُن کی اطاعت کریں کیونکہ آنکھوں کی قدر کوئی نابینا سے پوچھے اور زبان کی قدر گونگے سے پوچھے اور ماں باپ کی قدر کوئی اس سے پوچھے جس کے ماں باپ نہ ہوں۔ یہ تمام باتیں ہم نے پڑھیں اب اسکو پڑھنے کے بعد ہم اپنے آج کے اس ماحول اور اس زمانے کا جائزہ لیں کہ ماں باپ کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے۔ ماں باپ کو غصے سے دیکھا جاتا ہے اور انکے ساتھ گالی گلوچ سے بات کی جاتی ہے ماں باپ کو قتل کی دھمکی تک دی جاتی ہے بلکہ بعض بدبخت قتل بھی کردیتے ہیں یہ سب کچھ آج اس زمانے میں ہورہا ہے۔ بیوی کو حیثیت دی جاتی ہے اور ماں باپ کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ ان کو ذلیل کرکے دھکے دیکر گھر سے نکال دیا جاتا ہے، آج یہ سب کچھ اس معاشرے میں ہورہا ہے اسکو عقوق الوالدین یعنی والدین کی نا فرمانی کہا گیا ہے جبکہ ایک حدیث میں آتا ہے چار شخصوں کی لیلۃ القدر میں بھی بخشش نہیں ہوتی (۱) شراب پینے کا عادی (۲) قطع رحمی کرنے والا (۳) بغض رکھنے والا (۴) والدین کا نافرمان تربیت اولاد جس طرح حقوق العباد میں سے ایک اہم حق یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کی عزت و خدمت اور ان کا احترام کرے، اسی طرح والدین پر بھی شریعت نے یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی درست تربیت کریں۔ قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں اس جانب بھی خصوصی توجہ دلائی گئی ہے۔ قرآن کریم اور تربیت اولاد: (۱) وَأمُرْأَہْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا۔ (سورۃ طہ آیت ۱۳۲) ترجمہ: اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیتے رہیے اور خود بھی اسکے پابند رہیے۔ (۲) یٰآیھالَّذِیْنَ اٰمَنُواقُوٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نارًا (سورۃ التحریم آیت ۷) ترجمہ: اے ایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو (جہنم کی) آگ سے۔ احادیث طیبہ اور تربیتِ اولاد: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مرد اپنے گھر کا رکھوالا ہے اور اس سے اسکی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی رکھوالی ہے اور اس سے اسکی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ (بخاری و مسلم) رسول اللہ ﷺ نے فرمایاانسان اپنے بیٹے کو ادب سکھائے یہ ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایااپنی اولاد اور گھر والوں کو خیر سکھاؤ اور باادب بناؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایااپنی اولاد کو تین چیزیں سکھاؤ اپنے نبی کریم ﷺکی محبت اور ان کے اہل بیت کی محبت اور قرآن کریم کی تلاوت۔ (الطبرانی) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ: ہم اپنے بچوں کو رسول اللہ ﷺ کے غزوات اور جنگیں اسی طرح یاد کرایا کرتے تھے جس طرح انہیں قرآن کریم کی سورتیں یاد کراتے تھے۔ امام غزالیؒ نے ’’احیاء العلوم‘‘ میں یہ وصیت کی ہے کہ بچے کو قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور دینی احکام کی تعلیم دی جائے۔ اچھی تربیت کے ثمرات: انسان کو اچھی صحبت اچھا بناتی ہے اور بری صحبت اسکو برا بنا دیتی ہے اگر ہم نے اپنے گھر کا ماحول شروع ہی سے یہ رکھا کہ بیٹا جھوٹ نہیں بولنا سچ بولنا ہے۔ نماز کا اہتمام کرنا ہے اور بڑے لوگوں کی عزت کرنا، علماء کرام کی قدر کرنا، انکی توھین نہ کرنا تو جب یہ بچہ بڑا ہوگا تو نہ صرف یہ خود ہدایت یافتہ ہوگا بلکہ کتنے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنے گا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بچپن ہی سے اللہ اللہ سکھائیں اور اللہ والے لوگوں کی صحبت اور ان کی مجالس میں لے کر جائیں اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ شیخ ابو طالب مکی نے قوت القلوب میں لکھا ہے ایک سالک نے ایک اللہ والے سے عرض کی کہ میں اللہ تعالیٰ کی یاد سے بہت غافل ہوں، نیکیوں کے معاملے میں سست اور بہت کا ہل ہوں، کوئی نصیحت فرمائیے کہ میں اسکی تلافی کروں، انہوں نے جواب دیا بھائی! اگر تو اولیاء اللہ سے محبت کرسکے، ان کی قربت حاصل کرسکے تو فوراً کر، شاید وہ تجھے اپنے دل میں رکھ لیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر روز ستر (70) بار اپنے اولیاء کے قلوب پر نظر رحمت فرماتے ہیں شاید کسی دن اس محبت کی وجہ سے جو تو اُن سے رکھتا ہے تیری جانب بھی نظر رحمت سے دیکھ لے اور تجھے دنیا و آخرت کی پریشانی سے اور گناہوں سے نجات مل جائے۔ یہ بات تو مشہور ہے بچپن کی عادت، پچپن تک نہیں جاتی، اگر ہم نے اپنے بچوں کی درست تربیت کی اور اپنے بچوں کی عادت بچپن ہی سے لباس میں شلوار قمیص کی ڈالی اور انکو سلام کرنے کی عادت ڈالی، کھانا سنت طریقے سے، سونا جاگنا وغیرہ سنت طریقے سے سکھایا اور اس کا عادی بنایا تو وہ اپنی زندگی یہود و نصاریٰ کے طریقے سے نہیں بلکہ حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے طریقے سے گزاریں گے۔ حضرت شیخ الحدیثؒ کا ایک واقعہ: شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ’’آپ بیتی‘‘ میں اپنا ایک قصہ لکھا ہے کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا تو ماں باپ نے میرے لئے ایک چھوٹا سا خوبصورت تکیہ بنادیا تھا جیسا کہ عام طور پر بچوں کے لئے بنایا جاتا ہے مجھے اس تکیہ سے بڑی محبت تھی اور ہر وقت اسکو اپنے ساتھ رکھتا تھا ایک دن میرے والد صاحب لیٹنا چاہ رہے تھے انکو تکیہ کی ضرورت پیش آئی تو میں نے والد صاحب سے کہا کہ اباجی میرا تکیہ لے لیجئے یہ کہہ کر میں نے اپنا تکیہ انکو اس طرح پیش کیا جس طرح کہ میں نے اپنا دل نکال کر باپ کو دیدیا ہو۔ لیکن جس وقت وہ تکیہ میں نے پیش کیا اسی وقت والد صاحب نے مجھے ایک چپت رسید کی اور فرمایا: ابھی سے تو اس تکیے کو اپنا تکیہ کہتا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ تکیہ تو درحقیقت باپ کی عطاء ہے لہٰذا اس کو اپنی طرف منسوب کرنا یا اپنا قرار دینا غلط ہے۔ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اس وقت تو مجھے بہت بُرا لگا کہ میں نے تو اپنا دل نکال کر باپ کو دے دیا تھا اس کے جواب میں باپ نے ایک چپت لگادی، لیکن آج سمجھ میں آیا کہ کتنی باریک بات پر اس وقت والد صاحب نے تنبیہ فرمائی تھی اور اسکے بعد سے ذہن کا گویا رخ ہی بدل گیا۔ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ماں باپ کو نظررکھنی چاہیے۔ تب جاکر بچے کی تربیت صحیح ہوتی ہے اور بچہ صحیح طور پر نکھر کر سامنے آتا ہے۔ بری صحبت کے نتائج: جو اچھوں میں بیٹھے گا اللہ اسکو اچھا بنائے گا، جو بروں میں بیٹھے گا وہ بُرا بنے گا۔ اچھی بری صحبت کے اثرات بچوں اور بڑوں سب پر ہی پڑتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نبی اور پیغمبر ہیں انکا لڑکا بروں کے ساتھ رہا وہ طوفاں نوح میں غرق ہوگیا۔ یہ والدین کا فریضہ ہے کہ وہ بچے کے دوستوں پر نظر رکھیں۔ اسے بُری صحبت سے اور ڈش، وی سی آر، ویڈیوگیم وغیرہ سے بچائیں۔ وہی والدین اولاد کی صحیح تربیت کرسکتے ہیں جو اس جانب ابتدا سے توجہ دیتے اور اولاد کی نگرانی کرتے ہیں۔ آج والدین اپنی اولاد کی نافرمانی کا شکوہ تو کرتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس میں اصل قصور تو ان کا اپنا ہے۔ اگر وہ بچوں کی درست تربیت کرتے، انہیں شروع سے اپنے حقوق سے روشناس کراتے، بُری صحبت سے بچانے کا اور دینی تعلیم دینے کا اہتمام کرتے، اللہ والوں کی صحبت کا اور نماز روزے کا عادی بناتے تو آج وہ بُڑھاپے میں والدین کے لیے دردِ سر بننے کی بجائے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتے، ان کی خدمت کرتے اور انہیں راحت پہنچاتے۔ آئیے! عزم کریں کہ ہم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ثمرات ہمیں ہماری زندگی ہی میں دکھلادے گا، کیونکہ وہ کسی کی محنت ضائع نہیں کیا کرتا۔ وَمَاتوفیقی اِلَّا باللّٰہ
مأخَذ

کتب فقہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
3617     0