(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
خیانت ایک مہلک مرض
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ خاحنت ایک مہلک مرض شریعتِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کواس دنومی زندگی کوگزارنے کے لےی ایک مکمل دستورحاوت عطافرمایاہے اوراسلام کے قبول کرنے والوں کو اس پرعمل کرنے کالازمی طورپرپابند قراردیاہے ۔یہ دستورِ حاےت مختلف قسم کے حقوق پرمشتمل ہے جنہںط عرفِ عام میںحقوق اللہ اورحقوق العبادکانام دیاجاتاہے۔ اس حقوق کی ایک تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ تمام کے تمام حقوق ہرہرانسان پربطورامانت لازم کےش گئے ہںت اوراس امانت کی ادائیل کامطالبہ ہرہرانسان سے کالگامہے اورہراس صاحبِ ایمان کے (کمال )ایمان کی نفی (وجود سے انکار)کی گئی ہے جوان امانتوں کی ادائیلل نہ کرتاہوجسانکہ اس کی تائدااس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے جس مں ارشادفرمایاگااہے {لَااِیْمَانَ لِمَنْ لَّااَمَانَۃَ لَہ‘} ’’جس کے اندر امانت نہں اس کے اندر ایمان نہںا۔‘‘ ایمان کے ساتھ ان امانتوں کی ادائوفرمں پردناباورآخرت مںا اللہ تعالیٰ کا قرب، معتہ، نصرت، ابدی جنت اور اس مںہ دائمی نعمتوں ،بلنددرجوں اوربہترین اجروانعام کاحصول ہوگا۔بغراایمان کے ان امانتوں کی ادائوعتہں پرصرف اور صرف دناامں پرآسائش زندگی کاحصول توممکن ہے لکن آخرت مںم توان محروموں کے لےا چاروں طرف سے آگ سے بنی ہوئی قناتوں سے گھیری ہوئی آگ تائر ہے جس مںو مانگنے پرپنے کے لے۔ پپے جسادپانی ملے گاجسادکہ ایک مقام پرارشادہے: {اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا …… بِئْسَ الشَّرَابُ وَ سَآئَتاْا مُرْتَفَقًا} ’’ہم نے تاِر کررکھی ہے آگ کہ گھیر رکھا ہے ان کو اس کی قناتوں نے اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی مانند مونہوں کو بھون ڈالے گاکاہ برا پانی ہے اور کاں بُرا آرام ہے۔‘‘ صاحبِ ایمان اوربے ایمان اگران امانتوں کی ادائیہے نہں کریں گے تویہ گناہِ کبرصہ ہوگااوراس کی پاداش(سزا)مںج دنانمںن گرانی ،آندھاّں،زلزلے ،سیلاب ،تباہ کار بارشںو، قتل وغارت گری،زمنہ مںا دھنسا دیے جانے ،صورتںل مسخ ہوجانے اورآسمان سے پتھربرسنے وغرَہ وغربہ جیبا آفتوں کاتسلسل(Continuity) رہے گا اورآخرت مںر دوزخ کی قدصمقدربنے گی جوکہ دہکتی ہوئی آگ کا لامحدود گھیرا ہے۔ مندرجہ بالاحقائق کی روشنی مںن بآسانییہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ایمان کا لازمی تقاضاہے کہ آدمی امانت دار اور امنی رہے۔کسی بھی صورت مںق امانت مںا خاسنت نہ کرے اس لےت کہ یہ سراسرکمیگزم ہے اورایسے کمنو کوخائن کا نام دیا گاا ہے اور خائن سے متعلق اللہ تعالیٰ اپیت ناپسندیدگی کااظہارفرماتے ہںن جساککہ ایک مقام پر ارشاد ہے۔ {اِنَّ اﷲَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ} ’’بلا شبہ اللہ (تعالیٰ)خاْنت کرنے والوں کو پسند نہںا فرماتے۔‘‘ یہ کسےع ممکن ہے کہ جو رب العالمنخ کاناپسندیدہ ہو، وہ محبوبِ رب العالمن‘ کامحبوب بن سکے؟جودونوں درباروں سے راندۂ درگاہ (Rejected)ہو، وہ کو ں کرفرشتوں،پرندوں،چوانٹونں،جانوروں اورمچھلویں کی دعائے مغفرت کااہل بن سکتاہے؟کاگایساشخص مؤمنوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اوردلوں کاسروربننے کی خوش فہمی مں؟ مبتلاہوسکتاہے؟یہ سراپا نفرت توشا طنر کابھائی بننے کی اہلتن رکھتا ہے۔ فاسقوں کی برادری ہی مںر شمارکےم جانے کی قابلت؟ رکھتا ہے۔ نافرمانوں کے ساتھ ہی رشتے داریاں قائم کرسکنے ہی کی لا،قت رکھتاہے جودنا مں، توآپس مںن مخفی بغض تو رکھتے ہی ہںب جہنم مںت بھی ایک دوسرے پرکھلم کھلالعنت بھںائم گے۔ الغرض خاہنت ایک نہایت مہلک مرض ہے جوآج زندگی کے تمام شعبوں مںم جزء لاینفک(وہ حصہ جوعلحدںہ نہ ہوسکے) (Inseparable Part) کی طرح چمٹاہواہے جس سے پوراکاپورامعاشرہ بری طرح متأثرہے اورالمیہیہ ہے کہ کہںن کسی بھی سطح پراس کی اصلاح کے لےخ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی نہںی ہوپارہا۔ستم ظریفییہ بھی ہے کہ خاپنت تسلمb کرنے کے باوجودمجبوری کی آڑمںa اسے گلے کاہاربنائے رکھنے پرآمادگی پائی جاتی ہے گویاکہ نار کو عار پر ترجحف دی جارہی ہے۔(اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَامِنْہُ) اسلامی تعلماصت کی روشنی مںچ خازنت کاایک نامکمل جائزہ درج ذیل ہے: عقائدکی خالنتںا: 1:۔ اللہ تعالیٰ کوذات وصفات مں اکیلامانناامانت ہے اور اس مںہ کسی کی بھی ادنیٰ سی شرکت سمجھنا،سمجھاناخاحنت ہے۔ 2:۔ اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق فرشتوں پراسلامی تعلمارت کے مطابق ایمان رکھناامانت ہے اس کاانکاریااس مںخ ردوبدل خاحنت ہے۔ 3:۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ آسمانی کتابںگ بشمول قرآن کریم برحق ہںپ ان پرایمان لاناامانت ہے اوراس کاانکارخادنت ہے۔ 4:۔ قرآن کریم کے علاوہ تمام آسمانی کتابںت اپنی اصل حالت مں نہںہ ہںھ،یہ تعلم امانت ہے اس کاانکارخاحنت ہے۔ 5:۔ قرآن کریم اپنی تمام سورتوں ،آیتوں ،الفاظ،معانی ومراد،اعراب سمتق محفوظ ہے اورتاقاںمت رہے گا، یہ تعلم امانت ہے اوراس کاانکارخاننت ہے۔ 6:۔ قرآن مجدیکے الفاظ اسی ترتب، سے محفوظ رکھناامانت ہے اس مں کسی بھی طرح کی تبدییے کاتصور،کوشش خاسنت ہے۔ 7:۔ اسلاف (پچھلے بزرگوں)(Forefathers)سے منقول قرآن مجدوکے مرادی معنوں کوبرقراررکھنا امانت ہے۔ ان کواپنی ذاتی رایوں سے ایساتبدیل کرناکہ منقول شدہ مرادی معنیٰیکسرتبدیل ہوجائںر ،خاےنت ہے۔ 8:۔ قرآن مجد کی عظمت ،حرمت،ادب واحترام کا خادل رکھناامانت ہے، اس کی خلاف ورزی خاانت ہے۔ 9:۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھجےا ہوئے تمام رسول علہمم السلام برحق (Justifiable) ہںت ان پرایمان لانے کاحکم امانت ہے اس کاانکارخا نت ہے۔ 10:۔ جناب محمدرسول اللہ ﷺ ان رسولوں مںی آخری رسول ہںن اور آپ ﷺ پر نظامِ رسالت کومکمل کردیاگاا،یہ تعلم امانت ہے اس کے برخلاف عقد ہ رکھناخاسنت ہے۔ 11:۔ نبی اکرم ﷺ کی عزت ،تقدس،عظمت کاادب واحترام کرناامانت ہے، اس کے خلاف زبانی ،تقریری ،تحریری طورپرپرکوئی اقدام کرناخا۔نت ہے۔ 12:۔ ناموس رسالت علیٰ صاحبہاالسلام کی حفاظت لازمی امانت ہے اس سے پہلوتہی کرناخاsنت ہے۔ 13:۔ نبی اکرم ﷺ کے لائے ہوئے دین کی تبلغ ،تعلمل ،تشہرا،تنفیذکے لےا جانی، مالی قرباناہں دینے اوردیتے رہنے کی تعلمم امانت ہے اوراس سے خودبھی دامن بچانا اور دوسروں کو روکنا خاتنت ہے۔ 14:۔ نی خ اوربھلائی کے تمام کام خودکرنے ،دوسروں کوترغب۔ دینے ،کام کرنے مںی ایک دوسرے کی معاونت کرنے کی تعلم امانت ہے اس کے برخلاف یینم نی د سے رکنا، روکنااوربرائی کرنا، کرانااوراس مں ایک دوسرے کی معاونت کرناخاانت ہے۔ 15:۔ حضرت عیٰی علہا السلام اس وقت آسمانوں پرزندہ ہں اورقاممت سے قبل بحتسا نبیﷺ کے امتی ہونے کے واپس اس دنانمںح تشریف لائںہ گے یہ عقدںہ امانت ہے اس کے برخلاف آپ علہی السلام کی وفات پاجانے اوردوبارہ نہ آنے کا عقدوہ رکھناخاےنت ہے۔ 16:۔ قانمت کے دن اوراسلامی تعلمامت کے مطابق اس کے متعلقات کے حققتا ہونے پرایمان رکھنے کاعقدحہ امانت ہے اوراس کاانکارخاانت ہے۔ 17:۔ ہرطرح کی تقدیرکااللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کاعقد ہ رکھناامانت ہے اس عقدمے کے برخلاف عقدہہ رکھنا خاانت ہے۔ 18:۔ مرنے کے بعددوبارہ زندہ کےن جانے ،حساب وکتاب ہونے کاعقدنہ رکھناامانت ہے اس کے برخلاف عقدھہ رکھناخا نت ہے۔وغررہ وغروہ۔ عبادات کی خارنتںن : 1:۔ پنج وقتہ نمازوں ،پورے رمضان المبارک کے روزے ،صاحبِ نصاب پرسالانہ زکوٰۃ ،صاحب استطاعت پرزندگی مں ایک مرتبہ حج کے فرض ہونے پرایمان رکھنااورعملی طورپران کی ادائیے کاحکم امانت ہے جس سے غفلت برتناخاہنت ہے۔ 2:۔ عبادات کوخالصتاًاللہ تعالیٰ ہی کے لےا کرنے کاحکم امانت ہے اس مںا نام ونمود،شہرت،دکھلاوے کا عنصر پدخا کرنا خاانت ہے۔ 3:۔ فرض عبادات کوتاحالت ان کے اپنے اپنے اوقات مںی پابندی سے اداکرتے رہنے کاحکم امانت ہے اس مںک سستی،غفلت اورلاپرواہی برتناخا نت ہے۔ 4:۔ عبادات کواسلامی تعلمانت کے مطابق ہی اداکرناامانت ہے، اپنی مرضی سے اپنی چاہت کے مطابق اس مںل تبدییا کرنا خاانت ہے۔وغررہ وغرنہ۔ جسمانی خاکنتںی: 1:۔ پوراجسمِ انسانی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے لہٰذاخودکشی (Suicide)حرام اورخا نت ہے۔ 2:۔ عبادت یاتعظمخ کے طور پریاہرحال مںہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے سامنے رکوع(جھکنا)سجدہ (پیشانی زمنا پر ٹکنا ) کرنا خاانت ہے۔ایساکرناصرف اورصرف اللہ تعالیٰ کاحق اورامانت ہے۔ 3:۔ جسم کے تمام اعضاء کواسلامی تعلماےت کے مطابق ہی استعمال کرناامانت ہے اس کے خلاف استعمال کرناخا نت ہے۔ 4:۔ جنسی تسکین کے لےے مااں بوشی کاآپس تک محدودرہناہی امانت ہے اس کے خلاف عمل حرام اورخادنت ہے۔ 5:۔ جنسی تسکین کے لےے بو ی کے جائز مقام تک بھی ایام حضہ ونفاس کے علاوہ مشغول ہوناہی امانت ہے ایام حضا و نفاس میںیاناجائزمقام مںہ مشغول ہونا ناجائز،حرام اورخاونت ہے۔ 6:۔ دن ورات کے کسی بھی وقت مںہ جنسی تسکین کے لےس ماتں بوسی کاآپس مںغ تخلہ (Private)کی جگہ پرتنہائی ہی مںم مشغول ہوناہی امانت ہے کھلم کھلاعلی الاعلان یاکسی کے سامنے (چاہے شرلخواربچہ ہی کوسں نہ ہو)مشغول ہونا خاخنت ہے۔ 7:۔ قضائے حاجت اورغسل کے لےھ بھی بندجگہںر، تنہائی کے مقامات اختاور کرنا امانت ہے اس کی خلاف ورزی کرنا خاننت ہے۔ 8:۔ مردکے لےج ہرحال مں ستر کے حصوں کوجس مںا ناف اورگھٹنے بھی شامل ہںع دوسروں سے چھپاکررکھناامانت ہے اس حکم کے خلاف کرناخاکنت ہے البتہ قضائے حاجت، غسل اوربوری سے ازدواجی حقوق (Marital Rights)کی ادائیں کے لے تنہائی مں فارغ ہونے تک ستر کھولنے کی اجازت ہے ۔یاضرورت کے مواقع پر معالج کے سامنے ضرورت کے بقدرکھولنے کی اجازت ہے۔ 9:۔ عورت کے لےہ پوراجسم قضائے حاجت، غسل اورازدواجی حقوق کی ادائی ک کے علاوہ ڈھانپ کر رکھناامانت ہے۔ سر کے بال ،بازو،گردن،گلا،سنہ ،پٹا،پیٹھ، ٹخنے کھلے رکھناخاےنت ہے۔ 10:۔ تنہائی مںھ بھی بلاضرورت برہنہ نہ ہوناامانت ہے اس حکم کی خلاف ورزی کرنا خاکنت ہے۔ 11:۔ بالغ بچونں اورعورتوں کونامحرم مردوں کے سامنے چہرے کاپردہ کرنے کا حکم امانت ہے اس کے خلاف کرناعلانہہ گناہ اورخا،نت ہے۔ 12:۔ مردوں کے لے۔ ٹخنے ہرحال مں کھلے رکھناکاحکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی خاہنت ہے۔ 13:۔ مردوں کے لے۔ چہروں پرایک مشت داڑھی رکھنے کاحکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی کرناعلانہے گناہ اور خادنت ہے۔ 14:۔ مردوں اورعورتوں کے لےو بغل اورزیرناف بال چالسے دن کی مدت کے اندر اندر جس طرح بھی سہولت ہومثلاًبلڈ،،استرے،بال صفاپاؤڈریاکریم کے ذریعے ہمشہ صاف کرتے رہناامانت ہے اس کی خلاف ورزی کرناگناہ اورخاہنت ہے۔ 15:۔ جسمانی صحت کاخاال رکھناامانت ہے جسم کاایسااستعمال جس کے جسم پرنقصان دہ اثرات پڑیں خا۔نت ہے وغرلہ وغراہ۔ لباس کی خالنتںک: 1:۔ مردوں کے لےے خالص ریشم کالباس نہ پہننے کا حکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی کرناناجائز اورخاخنت ہے۔ 2:۔ عورتوں کے لے، ایسالباس جوپورے بدن کونہ ڈھانپتاہونہ پہننے کا حکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی کرناخاتنت ہے۔ 3:۔ ایساچست لباس جس سے عورتوں کے اعضائے بدن اورمردوں کے اعضائے مستورہ (Hidden or Sans)کی بناوٹ محسوس ہوتی ہونہ پہننے کا حکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی خاونت ہے۔ 4:۔ ایساباریک لباس جس سے عورت کابدن اورمردوںکا سترجھلکتاہونہ پہننے کا حکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی خامنت ہے۔ وغروہ وغرنہ اخلاقی خاانتںی: 1:۔ تکبر،غرور،جھوٹ،غبن ،فراڈ،دھوکہ ،لوٹ مار، چھناا جھپٹی، چوری، ڈاکہ، ناجائز قبضہ، بھتہ خوری،دہشت گردی، اغوا جیای اخلاقی گندگوجں سے پاک رہنے کا حکم امانت ہے جس کی خلاف ورزی خاہنت ہے۔ 2:۔ انتہائی مجبوری کے علاوہ بھکک مانگنے جسےپ اخلاقی مرض سے دوررہنے کا حکم امانت ہے جس کی خلاف ورزی خاانت ہے۔ 3:۔ کسی کے مال پربری نظر رکھنا،دل مںت اس سے توقع رکھنااخلاقی کمزوری ہے جس سے بچنے کا حکم امانت ہے اور اس کی خلاف ورزی خادنت ہے۔ مالی خادنتںا : 1:۔ صاحبِ نصاب شخص کاشرائط پوری کرتے ہوئے ہرسال اپنے مالوں (سونا، چاندی، مالِ تجارت، نقدرقوم) کا پورا پورا حساب کرکے ڈھائی فصدخزکوٰۃ نکال کر مستحقین ِزکوٰۃ کودینے کاحکم امانت ہے اس حکم مں) کسی بھی طرح کی پہلوتہی (Dodge) خاہنت ہے۔ 2:۔ صاحبِ نصاب شخص پر عدکالفطرکی صبح صادق کے وقت اپنے اور زیرِکفالت افراد کی طرف سے فی کس ایک ایک فطرہ اداکرنے کاحکم امانت ہے اس مںب غفلت برتنا گناہ اور خاتنت ہے۔ 3:۔ ہرہرصاحبِ نصاب بالغ مقمپ مرد وعورت پرذی الحجہ کی دس ،گاکرہ اوربارھویں تاریخ مںس سے کسی ایک دن طے شدہ حلال جانوروں مں سے کوئی جانورذبح کرنے یاسات حصوں والے جانوروں مںی قربانی کاحصہ ڈالنے کا حکم امانت ہے اس مں کوتاہی کرناخاںنت ہے۔ 4:۔ گھرکے سربراہ پراپنی اوراپنے زیرِکفالت افرادکی ضرورتوں پربخل واسراف سے بچتے ہوئے مال خرچ کرنے کا حکم امانت ہے اس مںن دانستہ کوتاہی (Knowingly Brevity) کرنا خاینت ہے۔ 5:۔ مال شریعت کے منع کردہ کاموں مںت خرچ نہ کرنے کاحکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی خاحنت ہے۔ 6:۔ قرضے کے طورپرلااہوامال، استعمال کے لےں لی ہوئی چزکوں ،پڑھنے کے لے لی ہوئی کتابوں کی حفاظت اور انہںB طے شدہ وقت پرواپس کرنے کاحکم امانت ہے انہںا بے دردی سے استعمال کرنا،ضائع کردینا،نقصان پہنچانا یا واپس نہ لوٹانا خاےنت ہے۔ 7:۔ متن کے چھوڑے ہوئے تمام اموال ،جائداد،زمنو ں (کل ترکہ)کومتق کے تمام شرعی ورثاء مںن شریعت کے طے کردہ حصوں کے مطابق تقسمح کرنے کاحکم امانت ہے لہٰذاکسی وارث کاتمام ترکے پریااس کے کسی حصے پربغرے شرعی تقسمش کے قابض ہوجاناخامنت ہے۔ 8:۔ زیرِکفالتیتیم(Orphan) بچے ،بچومں (چاہے بھائی بہن ہی کوحں نہ ہوں) کے اموال کے احتاہط سے خرچ کرنے اوران کی سوجھ بوجھ کی عمرکے بعدبقہت اموال کاان کومالک بنادینے کاحکم امانت ہے جس کی خلاف ورزی خاثنت ہے۔ 9:۔ ادارے ،انجمن ،کمپنی ،مسجدکمیوا ،مدرسے کے خزانچی، نگراں،مہتمم اورحکام کے پاس جمع شدہ رقوم وغرسہ امانت ہں اس مںو غبن اورذاتی استعمال خاقنت ہے۔ 10:۔ گِری پڑی چزدوں کااٹھالنےے والاامنم ہے اوراصل مالک تک پہنچانے کاذمہ دار بھی ہے ۔غرنمستحق ہوتے ہوئے اس کا ذاتی استعمال خاینت ہے۔ 11:۔ مجاہدکے پاس غنمت کامال امانت ہے امراتک پوراپوراپہنچاناواجب ہے جس کی خلاف ورزی خاکنت ہے ۔ 12:۔ بطورِامانت رکھوایاہوامال ،چز یں وغراہ امانت ہںی بغرتاجازت ان کاذاتی استعمال یاان پرقابض ہوجانایاواپس لوٹانے مںن ٹال مٹول کرنا ظلم اورخاِنت ہے۔ 13:۔ بطورِضمانت (Secvrity) یارہن (Mortgage) رکھوائی ہوئی چزپیں امانت ہںی بغر اجازت ان کاذاتی استعمال خاٹنت ہے۔وغررہ وغراہ گھریلواورخاندانی خاانتں : 1:۔ بووی کی عصمت شوہر کی امانت ہے اس پرکسی دوسرے کوغلبہ ٔقدرت دینے کی کوشش کرنابھی خا نت ہے۔ 2:۔ شوہرکے پاس جنسی تسکین کاخایل وعمل بوeی کی امانت ہے اس مںر کسی دوسرے کی ذہنی ،خاےلی ،عملی مداخلت خاننت ہے۔ 3:۔ شوہرکامال بونی کے پاس امانت ہے اس کابے جاخرچ یا شوہرکی ناراضگی کے کاموں مںہ خرچ یااس کی بغرم اجازت کے خرچ خارنت ہے۔ 4:۔ اولادکی عقائدی ،عملی ،اخلاقی تعلما وتربتل کاحکم والدین کے پاس امانت ہے اس مںا کوتاہی خاانت ہے ۔ 5:۔ والدین کی اطاعت وخدمت کاتاحاخت حکم اولادکے پاس امانت ہے اس مںر نافرمانی خاجنت ہے۔ 6:۔ ددھادلی ،ننھیالی سسرالی رشتے داروں کاعلم اوران سے تعلقات جوڑے رکھنے کا حکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی خاتنت ہے۔ 7:۔ ماھں بوقی کی آپس کی ازدواجی اورتنہائی کی باتوں کوکسی بھی تسرسے شخص پرظاہرکرنے کی ممانعت ہے اس کی خلاف ورزی خا۔نت ہے۔وغریہ وغرعہ معاشرتی خا۔نتںر: 1:۔ پڑوسو ں کوتکلفن نہ پہنچانا،ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالفج کوبرداشت کرنا،ان کی ضرورتوں کاخاتل رکھنے کا حکم امانت ہے اس مںت کوتاہی خاتنت ہے۔ 2:۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان وہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہںی ۔لہٰذاکسی مسلمان سے ایی بات کہنے کی ممانعت ہے جوحققتی مں جھوٹی ہولکنس وہ مسلمان کہنے والے کواس مںت سچاسمجھ رہاہویہ حکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی خاکنت ہے۔ 3:۔ شاہراہوں(راستوں)پرشاما نے قناتںر لگاکرراستے بندکرکے مذہبییادنومی تقریبات منعقد(Celebrate) کرنے کی دوسروں کوتکلفہ پہنچنے کی وجہ سے ممانعت ہے اوریہ حکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی خاانت ہے۔ 4:۔ تقریبات دییو ہوں یادنویی لاؤڈاسپکرکوں کے ذریعے آوازپہنچانے کاانتظام مجمعے کے بقدررکھنے کی اجازت ہے اجازت کایہ حکم امانت ہے اس سے تجاوز کرناخاکنت ہے۔ 5:۔ مساجدکے اندرناجائزاعمال اورمسجدکے آداب کے خلاف عمل (مثلاً شور، لڑائی، دنومی باتںع وغرنہ وغربہ) کرنے کی ممانعت کاحکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی خالنت ہے۔ 6:۔ مسلمانوں کے اندرآپس مںا دینییادنوہی افتراق (Differences) اور تفرقے بازی ڈالنے کی ممانعت ہے اس حکم کونظراندازکرکے تفرقے ڈالنایاتفرقے ڈالنے والوں کی کسی بھی طرح مددکرناخاےنت ہے۔ 7:۔ کسی سے عہد(وعدہ)کرنے کے بعد اُسے پوراکرنے کاحکم امانت ہے اس کی خلاف ورزی خارنت ہے۔ 8:۔ کسی کی ساکھ وعزت کونقصان پہنچانامعاشرتی جرم ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے لہٰذا اس کی غبتا ،اس پربہتان، تہمت اورجھوٹاالزام لگاناخاڈنت ہے۔ 9:۔ نظروں ،سماعتوں،ہاتھوں،پرفوں،شرم گاہوں اورخارلوں کی ناجائزامورسے حفاظت کاحکم امانت ہے لہٰذااس کی خلاف ورزی خارنت ہے۔ 10:۔ سچی گواہی دینے کاحکم امانت ہے اس سے بلاوجہ پہلوتہی برتناجرم اورخاکنت ہے۔ 11:۔ جھوٹی گواہی دینامعاشرے کی تباہی کے لےا مہلک جرم ہونے کی وجہ سے منع ہے لہٰذاجھوٹی گواہی دیناخاانت ہے۔ 12:۔ قسم کھانے مںا احتادط کرنی چاہےی لکنا قسم کھالنےک کے بعداس کوپوراکرنے کاحکم امانت ہے جس کی خلاف ورزی خا۔نت ہے۔ 13:۔ خامنت کرنے والے کے ساتھ بھی خاننت نہ کرنے کاحکم امانت ہے جس کی خلاف ورزی بھی خاانت ہے۔ 14:۔ اپنی ذاتی دوکان ،مکان ،فکٹرای ،زمنر ،کھتس،باغ پرقانونی پمابئش سے زیادہ جگہ پرقبضہ ناجائزتجاوزات کے زمرے مںا آتاہے لہٰذااس سے بچنے کاحکم امانت ہے جس کی خلاف ورزی خاتنت ہے۔ 15:۔ کسی ملک کی شہریت (Citizenship)حاصل کرنایااس ملک کا ویزا حاصل کرنااس ملک کے قوانن کی پابندی کرنے کاوعدہ ہے لہٰذااس ملک کے قواننک توڑ ناخاینت ہے۔ 16:۔ راستوں ،کھلو کے مدوانوں ،تفریی۔ پارکوں ،سرکاری اداروں یافردکی زمنو ں پرناجائزتجاوزات قائم کرلنام خلافِ قانون ہے ۔لہٰذااییت قانون شکنی معاشرتی جرم اورخا نت ہے۔ 17:۔ مجلسںس امانت ہوتی ہںی لہٰذامجلس کے رازکودوسروں پرظاہرکردیناخاکنت ہے۔ 18:۔ جس سے مشورہ مانگاجائے وہ امانت دارہے لہٰذادانستہ غلط مشورہ دیناخاسنت ہے۔وغرخہ وغریہ معاشی خاسنتںا : 1:۔ اللہ تعالیٰ نے تجارت کوحلال اورسودکوحرام قراردیاہے ۔اورتجارت اختاسر کرنے کی اجازت اورسودسے بچنے کاحکم دیاہے لہٰذااس حکم پرعمل کرناامانت ہے اور سودی کاروباراختامرکرنامہلک جرم اورخا نت ہے۔ 2:۔ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چزخوں کاکاروباربھی حرام ہے لہٰذاایسے کسی کاروبار کو معاش کاذریعہ بناناحرام اورخارنت ہے۔ 3:۔ شریعت نے ادھارکے کاروبارمں نقدکے مقابلے مںا دام زیادہ بتلانے اورمنافع زیادہ لنے کی اگرچہ اجازت دی ہے لکنت ایک مرتبہ سوداطے ہوجانے اوربیٰت ہوئی چزادے دینے کے بعدبل مں کسی بھی وجہ سے اضافہ سودہے جس کی ممانعت ہے اوراس کی خلاف ورزی خارنت ہے۔ 4:۔ چزہوں مں کسی بھی حلال یاحرام چزبکی ملاوٹ (Adulteration) کرنا مسلم معاشرہ کے فردکاکام نہںع ہوسکتا لہٰذا ملاوٹ کی ممانعت کاحکم امانت ہے اور ملاوٹ کرناحرام اورخائنت ہے۔ 5:۔ گِن کر بیے جانے والی چزاوں کی طے شدہ تعدادمںب کمی کرنا،ناپ کربیer جانے والی اشاکء مںا طے شدہ گزانے (Measurement)مںم کمی کرنا،تول کربیوں جانے والی چزںوں مںا طے شدہ تول مںا کمی کرناناجائزاورخاہنت ہے۔ 6:۔ دکھائے گئے نمونے کے مطابق مال نہ دیناخاکنت ہے نزیبل بنانے مںچ ہرل پھرپ کرنابھی خارنت ہے جس مںی بل مںے داموں مںا اصل داموں سے کمی بیال کرنا بھی داخل ہے۔ 7:۔ ملکی چزموں کوغرش ملکی کہہ کربچناا،گھٹیاچزاوں کواعلیٰ بتاکربچناا،مال کے نقائص کوچھپاکربچنانوغر ہ دیانت کے خلاف اور خاسنت ہے۔ 8:۔ طے شدہ داموں کے مطابق بل بن جانے کے بعدادائیای کے وقت خریدار کا بچنے والے کی مرضی کے خلاف بل مںن کٹوتی کرناخاaنت ہے۔ 9:۔ ملکی قواننب کے خلاف مال منگوانا،اس کے لےک دستاویزات مںے غلط باننی کرنا، سرکاری کارندوں کورشوت دینا، بنک سے سودی رقم لناsوغر ہ وغرجہ خاگنت مں داخل ہے۔ 10:۔ سودی اداروں سے نقدرقم سودپرلے کرکاروبارکرنا،اپنی رقم سودی اداروں مںں لگاکرسودحاصل کرناخاینت ہے۔ 11:۔ حلال کاروبارکوجوئے اورسٹّے(Speculations)کی صورت مں تبدیل کرنے کی ممانعت ہے لہٰذااس کاارتکاب خا،نت ہے۔ 12:۔ سوداطے ہوجانے کے بعدبعاٹنہ لناsجائزہے اورسوداکنسل ہوجانے کی صورت میںپوراکاپورابعارنہ لوٹانا واجب ہے ۔فروخت کنندہ کاضبط کرلنادیا خریدار کاڈبل مانگناخارنت ہے۔ ملازمتی واجرتی خاٹنتںS : 1:۔ کام کی نوعت اوراوقات کارکے مطابق اجرت نہ دیناخاینت ہے۔ 2:۔ اجرت کابلاوجہ طے شدہ وقت پرنہ دیاجاناخارنت ہے۔ 3:۔ کام کے طے شدہ اوقات مںق ملازم کی طرف سے بغرنکسی شرعی عذریاطے شدہ اعذارکے ازخودغفلت برتنا خاانت ہے۔ 4:۔ کام کی نوعتں کے مطابق استعدادنہ ہونے کے باوجودازخوداس منصب پرفائزہونایاکسی نااہل کواس منصب پر فائز کرنا یا کروانے کی سفارش کرناوغرقہ دیانت کے خلاف اورخادنت ہے۔ 5:۔ استعدادہونے کے باوجود کماحقہ(Properly)فرائض انجام نہ دینا،اس مںن تاخریی حربے(Delay Tactics) اختایر کرنا، دانستہ کام خراب کرکے نقصان پہنچاناخاتنت ہے۔ 6:۔ کام کےک بغرنصرف حاضری لگواکرتنخواہ وصول کرنا،کام کے اوقات بغراکام کے گزارکراس کے بعدکام کرکے اوورٹائم کامعاوضہ حاصل کرناخاینت ہے۔ 7:۔ ادارے کی طرف سے فراہم کردہ دفتری استعمال کی اشارء، نقدرقم، ٹفوم ن، بجلی، گس وغر ہ کی سہولا ت کوذاتی ملکتٹ بنالناض،کسی کوہبہ کردینا،قرضافمستعار دینا، ذاتی استعمال مںا لانا،گھرلے جاناوغردہ خادنت ہے۔ 8:۔ مشینری کے ماہرین کاصححا پرزوں کوغلط با،نی سے ناکارہ قراردے کرنئے پرزوں کی قمت وصول کرنا،نزہنئے پرزوں کی جگہ وہی پرزے رہنے دینایانئے کے بجائے استعمال شدہ پرزے لگادیناخاغنت ہے۔وغرتہ وغرنہ۔ مندرجہ بالاخاانتوں کے نامکمل جائزے کی روشنی مںت دیکھاجائے توآج زندگی کا کوئی شعبہ، امتِ/ مسلمہ کاکوئی طبقہ، تمام طبقات کاکوئی فردان خاکنتوں، خباثتوں، مفسدوں سے خالی نہںک ہے دناامںر امن آئے توکسےد آئے؟ دنااپرظالم،بے حس،راشی حکمراںمسلط نہ ہوں توکون ہوں؟دناوجنت نظر بنانے کااورآخرت مںک دائمی جنت کا مالک بننے کاآسان ،سادہ ،سہل ترین نسخہ یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ ساتھ حرزِجان،بے حدعزیز،انتہائی پاںری سمجھی جانی والی ان خامنتوں کوجان سے چمٹاکر،گلے سے لگاکررکھنے کے بجائے ان سے جان چھڑائی جائے ،بطورِمشن یہ فریضہ انجام دیاجائے تاکہ آئندہ نسلں بھی اس موذی مرض سے محفوظ رہںے۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
407