(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/08
موضوعات
غذائی اشیاء اور نعمتوں کی قدر کریں!
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ غذائی اشاِء اور نعمتوں کی قدر کریں! غذائی اشاِء کی تمام اقسام اللہ تعالیٰ کا اس دنا مںع اپنے بندوں پر اکمل و اعظم ترین انعام ہے، یہ بندوں کا حق المحنت نہںر محض حق تعالیٰ شانہٗ، جل مجدہ، اعظم سلطانہ کا لطف و کرم اور فضل و احسان ہے۔ اس احسان کا وہ پابند بھی نہںا ہے، اس فضل پروہ مجبور بھی نہں ہے، اس کرم کو بڑھانے پر اور گھٹانے پر یکساں طور پر قادر ہے، اس لطف کو مکمل طور پر روک لنےں مںہ بھی مختار ہے، کبھی ہم نے اپنے ذہنوں کو زحمت دی کہ یہ روٹی اور دیگر غذائی اشا ء ہمارے ہاتھوں تک پہنچنے سے پہلے کن کن دشوار گذار مراحل سے گذرتی ہںا اور ہر ہر مرحلے مں اللہ تعالیٰ کی کتنی بھر پور معاونت شامل ہوتی ہے۔ کسی ایک مرحلے پر اگر وہ اپنا دست معاونت ہٹالے تو کاایہ اشا ء ہماری دسترس مں آسکتی ہںن؟ (گستاخی معاف! کای ہم نے قرآن مجدو کے بادن کردہ اس سچے واقعے کو طاق نسیان کی نذر نہںہ کررکھا کہ بنی اسرائلٰ کے نافرمانوں اور فرعون کے حامورں کی تمام اشاکء کو ٹڈیوں، کھٹملوں، منڈیکوں اور خون میںیکے بعد دیگرے تبدیل کاس جاتا رہا۔ قرآن مجدن کییہ با ن کردہ مثال بھی ہم نے اپنی بصارت و بصرمت کی آنکھوں سے اوجھل کر رکھی ہے کہ کسی قوم کو ہم نے اپنی نعمتوں پر ناشکری کے نجےقر مںر بھوک اور خوف کا لباس پہنادیا جو ان کے بدن و ذہن سے چپک کررہ گاہ)۔ آئے ! اس حوالے سے ہم اپنی اداؤں پر غور کریں۔ شادی باقہ کی تقریبات مںا ہم نے مہمانوں کے ساتھ ہتک آمز سلوک کرتے ہوئے کھڑے ہو کر کھانے کا رواج اپنایا ہے، ہم کس قدر روٹی اور کھانوں کی بے دریغ بلاہچکچاہٹ بے حرمتی کرنے لگے ہںر کہ الامان الحفظر! سب سے پہلے تقریب کے مقام پر مہمانوں کے والہانہ استقبال کے فوراً بعد جرم بتلائے بغرں گھنٹوں کے لئے یرغمال بناکر نظر بند کردیا جاتا ہے۔ پھر ان قدریوں کو مزمبان کی طرف سے کھانا کھانے کی اجازت دی جاتی ہے تو کای امرک، کار غریب، کاا تعلایو فتہ، کار ان پڑھ کھانے کے اسٹنڈںزکی طرف اییھ دوڑیں لگاتے ہںی کہ ہفتے بھر کا بھوکا درندہ بھی دیکھے تو شرما جائے۔ انہںہ دیکھ کر بے ساختہ انسان پکار اٹھتا ہے کہ ’’برادری‘‘ کے یہ لوگ ناطق (بولنے والے) ہی سہی لکنل ہں حو ان ہی۔ اللہ کے بندوں کو یہیقین ہی نہںا جس نے دعوت دی ہے اس نے قابل اطمنانن بندوبست بھی کررکھا ہے، ایسے حملہ آور ہوتے ہںے جسےب کہ انہںں سجے سجائے کھانے اجاڑنے کے لئے مدعو کا گا ہے، ڈش مںے کھانا نکالنے کے لئے دو ہی چمچے ہوتے ہںھ لکنک مجمع اپنی برداشت کا ایسا مظاہرہ کرتا ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے چمچہ گر ی شروع کردیتا ہے، پلٹودں مںو اس طرح کھانا بھر اجاتا ہے جسےج مزدبان کی طرف سے چند لمحات مں پلٹوہں پر کھانے کی چٹانںے، ٹلےط اور پہاڑیاں بنانے کا مقابلہ شروع کرنے کا اعلان ہوا ہے جو کسی بھی لمحے اختتام پذیر ہوگا اور منصفنٹ نتائج کا اعلان کرکے اول آنے والے کو بدتہذییر کا ایوارڈ دیں گے۔ پھر یہ نظر کے ندیدے پلٹوبں کو ویساکا ویسا، بھرا کا بھرا چھوڑ دیتے ہںا پھر تقریب کی انتظامہ کے افراد اسے جھوٹا قرار دیتے ہوئے کسی محتاج کے پٹن مںک نہں ، کوڑا کرکٹ کے لےک مختص ڈرموں مںن انڈیل دیتے ہں ۔ ہوٹلوں، چائے اور قہوہ خانوں ، جوس کی دکانوں، سڑکوں پر قائم ٹھلولں اور ٹھو ں پر بکنے والی غذائی اشادء کے خریدار ضرورت پوری ہونے پر، پسند نہ آنے کی وجہ سے، طبعیت کے تکدر کی بنا پر بقہا اشایء کو ایسے ہی چھوڑ دیتے ہںی جن کو اسٹاف بے دھڑک گندی نالو ں اور گٹروں مںع بہا دیتا ہے، رفاہی اداروں، ویئر ٹرسٹوں اور دییک تعلییئ اداروں مںو تا ر کئے جانے والے کھانوں کے معاار، ضرورت مندوں اور طلبہ کی طرف سے زہر مار کر چکنے کے بعد بچے ہوئے کھانوں کو ناقابل استعمال قرار دیتے ہوئے کہاں ٹھکانے لگایا جاتا ہے؟ اس کے اظہار پر قلم کانپ اٹھتا ہے اور بادن سے قاصر ہے۔ گھروں مںں جن برتنوں مںج یہ نعمتںر استعمال کرائی جاتی ہںت ان استعمال شدہ برتنوں کو کس نام سے پکارا جاتا ہے؟ استعمال شدہ برتنوں مںر بچی ہوئی اشا ء کو معاشرے نے کاک نام دے رکھا ہے؟ اس جھوٹے کھانے کا آخری مسکن کہاں ہے؟ ناقدری کی کوئی انتہا ہے؟ بعض پٹی بھرے تو روٹواں کے کنارے توڑ توڑ کر اسے ضائع اور ناقابل استعمال بنانے کا مضحکہ خزا رویہ اپنا تے ہںت، بعض قابلِ مذمت و ملامت اشخاص کھانے کے دوران روٹی کو رومال بناکر ہاتھ پونچھنے کا مظاہرہ بھی کرتے پائے جاتے ہںا۔ اس ناقدری کی نقد سزا: 1:۔ دیگر شعبوں کی طرح غذائی اشارء کی برکتںک اٹھالی گئی ہںم۔ 2:۔ غذائی اشاذء کی قدرتی لذت (ذائقے) کو چھنہ لائ گا ہے۔ 3:۔ مصنوعی لذت پدبا کرنے کے لئے انسان ہی کے ہاتھوں مضر صحت اشایء بھی ضرورت سے زائد مقدار مں۔ ملاوٹ کرائی جارہی ہںت۔ 4:۔ نوزائدگہ بچے سے لکرا آخری عمر کے بوڑھے تک ہر سطح اور درجے و حتیرک کے فرد کو اطباء کا محتاج بنا کر گھر یلو بجٹ کا بہت بڑا حصہ غارت کروایا جارہا ہے۔ 5:۔ اطباء کے ہاتھوں ٹسٹوہں کے نام سے مریضوں کا سرمایہ اگلوایا جارہا ہے۔ 6:۔ پرہزء کے نام سے مریضوں سے غذائی اشابء کے استعمال کا استحقاق ختم کروایا جارہا ہے۔ 7:۔ گھوڑے کی رفتار سے آنے والے امراض سے چوےنٹی کی رفتار سے بھی واپس جانے سے انکار کروایا جارہا ہے۔ 8:۔ تمام وسائل کے استعمال کے باوجود بے بس مریضوں کو صحت کے لئے ترسوایا جارہا ہے۔ 9:۔ مہنگائی کے ذریعے مختلف انسانی طبقات کی پہنچ سے روٹی دور سے دور کروائی جارہی ہے اور رفتہ رفتہ مزید طبقات بھی اس کی زد مںہ لائے جارہے ہںے۔ 10:۔ گٹروں مںر بہائی جانے والی غذئی اشا ء چوہوں کی خوراک بنائی جارہی ہے جس دن یہ انتقامی فوج سطح زمنے پر ظاہر کردی گئی، طاعونی وبا کا راج ہوگا اور انسانی لاشںا جابجا پھیلا دی جائںں گی۔ روٹی کی تکریم کا مذہبی انتظام: 1:۔ محّبان رسول ﷺ کے لئے نبیﷺ کا تا کدای حکم ہے کہ روٹی کا اکرام کرو۔ 2:۔ دستر خوان بچھا کر اس پر کھانے کے برتن رکھو۔ 3:۔ دستر خوان پر گرجانے والے ٹکڑوں اور لقموں کو صاف کر کے کھالو۔ 4:۔ کھانے کی پلٹو کو روٹی کے ٹکڑے یا انگلی سے صاف کرلو۔ 5:۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد انگلواں کو چاٹ لو۔ 6:۔ روٹی کے ٹکڑوں اور ہڈیوں کو ایک طرف ایی مناسب جگہ پر رکھو کہ کتے اور بلایں وغرہہ استعمال کرسکںج۔ 7:۔ روٹی کے ذرات اییڈ جگہ جھاڑو کہ پرظوں مں آنے کے بجائے چوونٹو ں وغرمہ کی خوراک بن سکںں۔ چائے پنےے والوں کی چند غفلتںھ: 1:۔ عموماً چائے پنےو والوں کی اکثریت بے دھامنی مںے چائے پتے ہوئے سدہھے کے بجائے الٹے ہاتھ کے استعمال کی عادت اپنائے ہوئے ہے۔ 2:۔ چائے پنےا والوں کی اکثریت کو شروع مں بسم اللہپڑھنا بھییاد نہںن رہتا۔ 3:۔ چائے انتہائی گرما گرم پی جاتی ہے حالانکہ مذہب نے کھانے پنےا کی اشااء کے تزے گرم استعمال کو ناپسند بتلایا ہے۔ 4:۔ چائے پنےہ والوں کی اکثریت چائے مںن پھونکںل مارنے کی عادی ہے (عموماً مائںج چھوٹے بچوں کو کھلاتے پلاتے ہوئے کھانے پنےے کی اشاوء مںث انہںچ ٹھنڈا کرنے کے لےی ان مںد پھونکںر مارتی ہںم) حالانکہ مذہبی، طبیّ اور اخلاقی حوالوں سے یہ ناپسندیدہ عمل کہا جاتا ہے۔ 5:۔ بعض چائے پنےپ والے چائے کا کچھ حصہ پایلوں مں بطور فشنی چھوڑدیتے ہںء جو ناقابل استعمال قرار دئے جانے کے بعد نالوبں مںا بہادیا جاتا ہے۔ 6:۔ چائے پنےد والوں کی اکثریت اس نعمت کے استعمال کر چکنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہںے کرتی۔ ایک عمومی بے دھالنی: قطع نظر اس کے کہ کونسی چز انسانی صحت کے لئے طبی اعتبار سے مفدے ہے یا مضر؟ مذہبی اعتبار سے پسندیدہ ہے یا نا پسندیدہ؟ کاو پانی، قہوہ، کافی، سوپ، سردی کے ماکولات، گرمی کے مشروبات، ناشتے کے لوازمات، مقویات، مفرّحات، کولڈ ڈرنکس، پان، بٹرہی، سگریٹ، حقہ، گٹکا، نسوار، ناس (چھینکنی)، فروٹ، چنا، مونگ پھلی، مکئی کے بھنے ہوئے دانے، ککڑی کھیرا، مولی، گاجر، نمکو، چو ڑہ، گاٹھاک، مٹھائی، حلوہ، دوائی وغرنہ کے استعمال کرنے والوں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ ان نعمتوں کے استعمال کی ابتدا مںی بسم اللہاور تکمل پر الحمدللہ پڑھنا بھییاد آتا ہے ؟ آیا ان کا استعمال سد ھے ہاتھ کے ذریعے ہوتا ہے یا اس کے لئے الٹا ہاتھ کام مںت لاتے رہنے کی عادت سی بن گئی ہے؟ غذائی اشاےء کا لازمی حق: اشائء کے حوالے سے یہ تو مسلمہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام اشایء کو پدےا فرمایا ہے لکنے ان مںڑ بعض کے استعمال کی اجازت نہںن دی ہے۔ (ان مںو سے بعض کے حرام ہونے کو خود ارشاد فرمایا، بعض کے متعلق نبیﷺ سے کہلوایا، بعض کو قرآن و حدیث کے باےن کردہ اصولوں کی روشنی مں ائمہ مجتہدین نے متعنی فرمایا) شریعت کی ان متعنہ کردہ ممنوع اشامء کا حق یہ ہے کہ عام حالات مںث قطعاً ان کا استعمال نہ کاو جائے البتہ ایسے مخصوص لوگوںکو جن پرفاقوں کی وجہ سے جان چلی جانے کی نوبت پہنچ جائے حلال اشاتء کا ملنا نا ممکن ہوجائے، کسی بماےری سے شفا حاصل کرسکنے کے تمام حلال ذریعے ناکارہ قرار دیتے ہوئے صالح ماہر تجربہ کار معالج کسی حرام شئے کے استعمال کو ناگزیر اور ضروری قرار دے دے تو ان حالتوں مں جان بچانے کی خاطر لذت کے عنصر کو مکمل طور پر ذہن سے خارج کرتے ہوئے صرف بقدرضرورت حرام شئے کے استعمال کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ حلال جانوروں کی سات ناقابل استعمال چزےیں: کھانے کے استعمال مں لانے کے لئے حلال جانور بھی شریعت نے خود متعنت کرکے بتلائے ہںا لکنق ان کی سات چز وں کو ناقابل استعمال اور ناجائز قرار دیا ہے (واضح رہے کہ بعض لوگ مکروہ تحریی کا جملہ پڑھ کرنا دانستہ دھوکہ کھاتے ہیںیا دانستہ دھوکہ دیتے ہںر حالانکہ مکروہ تحرییگ بھی حرام کے قریب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہی کا حکم رکھتا ہے) وہ سات چزکیںیہ ہںن: ۱۔ بہتا ہوا خون ۲۔ غدود ۳۔ مثانہ ۴۔ پِۃَّ۵۔ مذکر کی پیشاب گاہ ۶۔ مؤنث کی پیشاب گاہ ۷۔ کپورے۔ (واضح رہے کہ گردے، اوجھڑی، نلی مں پایا جانے والا گودا حلال ہے البتہ حرام مغز کے حوالے سے احتاہط کا تقاضا یہ ہے اس سے پرہزا کا جائے) ایک اہم ہدایت: خشکی پر بسنے والے حلال جانور بھی تب ہی حلال ہوں گے جب انہںو شریعت کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق کسی مسلمان نے ذبح کاپ ہو۔ غرر شرعی طریقے سے ذبح کاے جانے والا جانور، غرب مسلم کے ہاتھوں سے ذبح ہونے والا جانور، خود مرجانے والا جانور چاہے اس کا سبب کچھ ہی ہو، جانور کے کسی عضو کو اس کو زندہ رکھتے ہوئے کاٹ کر استعمال کرنا ناجائز حرام اور مردار کے حکم مںا ہے۔ (واضح رہے کہ شریعت نے اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) کے ذبحےر کو اگرچہ حلال قرار دیا ہے لکنو موجودہ زمانے کے یہود و نصاریٰ کو ان کے ظاہری اور عمومی احوال کو دیکھتے ہوئے عقائدی اعتبار سے اہل کتاب قرار دینا محل نظر ہے) نزو پانی مں رہنے والے جانوروں مںا (احناف نے شرعی دلائل کی رو سے) صرف مچھلی کو اس کی تمام قسموں کے ساتھ بغرر ذبح کے حلال قرار دیا ہے البتہ پانی مںن خود بخود مرجانے والی مچھلی کے استعمال کو طبی حوالوں سے مضر صحت ہونے کی وجہ سے نا پسندیدہ قرار دیا ہے۔ نزن جھنگاب پچھلی تحققب کے مطابق مچھلی کی قسم مںط داخل ہونے کی وجہ سے خصوصاً ساحلی علاقوں مں کثرت سے بے دریغ استعمال ہوتا رہا ہے لکنج ماضی قریب میںغیر مسلم (فرانس) ماہرین کی تحققو نے کڑ ا قرار دیتے ہوئے دلائل کے ساتھ اسے مچھلی کی قسم سے خارج کردیا ہے جن مفتاہن کرام نے اس تحقق کو تسلمم کرلام ہے وہ اس کے استعمال کو حرام کہتے ہںا اور جو مفتامن کرام اس تحقق کو تسلمد کرنے پر ذہنی طور پر آمادہ نہںس وہ پچھلی تحققم پر قائم رہتے ہوئے اس کا جواز بتلاتے ہںم۔ البتہ جواز کے باوجود احتااط مناسب ہے نزل اس کے استعمال کرنے والوں کو تنقدپی ہدف بھی نہںم بنانا چاہئے۔ روئے زمنی پر نظر آنے والے جانداروں مںپ سے انسان شرافت، عظمت مںت تمام مخلوق پر فوقتم اور فضیلت رکھتا ہے لہٰذا کسی بھی صورت مںے عقلاً، مذھباً، اخلاقاً، عرفاً، تہذیباً مردم خوری کی قطعاً اجازت نہں ہے اور اتنے حلال بحری، بری اور فضائی جانداروں کی موجودگی اور ہر وقت مسر ہونے کی سہولت قائم رہنے کی بنا پر اس کی بالکل بھی ضرورت نہں ہے دیگر جانداروں مںم خنزیر (سور) کو مذہب نے نجس العنا قرار دیتے ہوئے زندہ یا مردہ کسی بھی حال مںہ نہ خوراک کے لئے اور نہ ہی کسی اور فائدے کے لئے اس کے جسم کے کسی بھی حصے کے استعمال کی اجازت دی ہے یہ ہر حال اور ہر ہر حوالے سے حرام ہی حرام ہے۔ (خصوصاً یورپی ممالک مںی رہنے والے مسلمان اس حوالے سے غفلت نہ برتںج اور غفلت مںد پڑے ہوئے مسلمانوں کو اس مذہبی حکم سے خرے خواہی کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آگاہ کرتے رہںا نزن دنومی لالچ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خنزیر کے کسی بھی حصے کی تجارت سے بھی باز رہں )۔ اس کے علاوہ کے جانداروں مںی علمائے کرام نے قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میںیہ اصول مقرر فرمایا ہے کہ جن خشکی کے جانداروں کے جسم مں بالکل بھی خون نہںت پایا جاتا یا وہ خون بہتا ہوا نہںخ ہے تو ایسے تمام جاندار بطور خوراک حرام ہں چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے، اڑنے والے ہوں، چلنے والے ہوں یا رینگنے والے ان مںل تمام درندے اور وہ پرندے بھی شامل ہںر جو اپنی خوراک کے لئے دوسرے پرندوں، جانداروں کا شکار کرتے ہںے اور ان پر حملہ آور ہوتے ہںن چاہے ان مں بہتا ہوا خون ہی کو ں نہ ہو۔ حرام کی اس فہرست مں ہاتھی، گدھا اور الّو بھی داخل ہے۔ نز انڈوں اور دودھ کے حوالوں سے حلال جانداروں کے انڈے اور دودھ حلال ہںہ اور حرام جانداروں کے انڈے اور دودھ بھی حرام ہں ہمارے دور مںد فارمی مرغی، انڈوں اور فارمی گائو ں کا رواج عام ہے مفتاےن کرام نے تحقق کے بعد ان کے استعمال کی بلا کراہت اجازت دی ہے یعنییہ حلال ہں البتہ اگر کوئی اسے استعمال نہ کرنا چاہتا ہو تو مذہب کی طرف سے استعمال کرنے مںت کوئی جبر نہںر ہے لکنہ کسی بھی حلال چزے کو اپنی طرف سے حرام نہ قرار دے۔ مزیدیہ کہ کسی علاقے مںر وہاں کی آب و ہوا کی وجہ سے یا کسی مریض کے مرض کی وجہ سے اسے گائے کے گوشت کا استعمال راس نہ آتا ہو اور اطباء نے اسے مضر صحت قرار دیا ہو بطور پرہزی اس کے ترک کرنے کی اجازت ہے لکن اسے حرام قرار دینا ناجائز ہے۔ نزنیہ کہ جو پرندے صرف مردار کھاتے ہںھ وہ بھی حرام ہں ۔ غرا مسلم سے گوشت خریدنا اور غر مسلم ممالک کے پکا شدہ گوشت: مسلمانوں کے لئے غرل مسلم دکان داروں سے گوشت خریدنا اور غرا مسلم ممالک کے پکگ شدہ گوشت کا خریدنا اور استعمال کرنا اس لئے ناجائز ہے کہ ان کی بات اور تحریر شرعاً مسلمان کے حق مں معتبر نہں ہے اور مسلمان صرف شرعی طریقے سے ذبح شدہ گوشت ہی استعمال کرسکتے ہںا (غرر مسلم ممالک مں رہنے والے یا غر مسلم جہاز راں کمپنووں کے جہازوں مںہ سفر کرنے والے بطور خاص اس حوالے سے ہوشاسر رہں )۔ بغرر پکائے کچا گوشت کھانا: بعض قوموں میںیہ رواج رہا ہے کہ وہ کچے گوشت کو سُکھا کر بغرل پکائے اسی حالت مںم استعمال کرتے رہے ہںم اس ضمن مںض مذہب مںئ کوئی ممانعت نہںش ملتی البتہ اگر اس استعمال کے مضر صحت اثرات ظاہر ہوتے ہوں تو بلاجھجک اسے ممنوع قرار دیا جائے گا۔ ایک اہم ہدایت: کھانے کی اشائء کو چاہے اپنی اصلی حالت مںے کھایا جاتا ہو یا پکا کر استعمال مںق لائی جاتی ہوں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتں ہںا جن کا حق یہ ہے کہ کسی بھی صورت اس کی برائی نہ کی جائے، طبعیت مانے تو استعمال کرلے، ناگوار ہو تو برائی کئے بغرہ کھانا چھوڑ دے۔ (ییا نبیﷺ کی عملی تعلم و تربتا رہی ہے) جس طرح برائی سے منع کاہ گاا ہے اسی طرح تعریف سے بھی روکا گا ہے اس کی وجہ علماء نے یہ بتلائی ہے کہ برائی کرنا ناقدری و توہنا اور تعریف کرنا حرص کی علامت ہے البتہ پکانے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے اچھا پکانے پر کبھی کبھاریوں کہا جاسکتا ہے کہ ماشاء اللہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں مں عمدہ ذائقہ رکھا ہے لکنل پسند نہ آنے کی صورت مںب مذمت قطعاً نہ کرے۔ اس ضمن مںج راقم الحروف کا و جدان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلقاےت مں باوجود قدرت کے بعض دانے اور کچھ مقدار طے شدہ معامر کی سطح سے نچےا پددا فرما کر باورچو ں اور دیگر کاریگروں کے لئے ایک گونہ تسلی کا سامان رکھا ہے تاکہ وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں اور لوگ طعن و تشنعا سے باز رہںع، اس لئے کہ ذائقہ پدںا کرنا مکمل طور پر قادر مطلق کا اختانر ہے۔ وہ چاہتا ہے تو اپنی پد ا کردہ اشا ء مں سے بعض کے اندر مزے کے حکم واپس لے کر اسے انتہائی بدمزہ بنا دیتا ہے تو مخلوق کی تاتر کردہ اشاوء مں بھی اپنے اختاور کے حق کی بنا پر بعض اوقات ایسا کردکھاتا ہے جسمیں پکانے والے بے حس نہںہ بے بس قرار دیے جانے چاہئں ۔ غذائی اشاوء مں موجود تاثریات: بلاشبہ مختلف غذائی اشااء مںج مختلف تاثرنات پائی جاتی ہں جنہںی اطباء نے تحقیسم مداان مں نہایت عرق ریزی کے بعد تجربات و مشاہدات کی روشنی مں جمع فرمایا ہے۔ لکنو مذہبی حوالے سے نہایت اہم بات یہ ہے کہ یہ تاثردات اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہںر اور ان تاثراات کا ظہور و عدم ظہور اللہ تعالیٰ کی مشتا و مرضی پر موقوف ہے لہٰذا مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لئے مخصوص اشابء کا استعمال ضرور عمل مںی لایا جائے لکن ان اشاہء کو مؤثر بالذات نہ سمجھا جائے بلکہ مطلوبہ مقاصد کے حصول کو اللہ تعالیٰ سے مانگا جائے اور حصول کے بعد اسے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کے ذریعے مقصود عطا فرمایا الحمدللّٰہ علیٰ ذالک صحت کے راز بذریعہ خوراک: 1:۔ خوب بھوک لگنے پر کھانا کھایا جائے اور تھوڑی سی بھوک باقی رکھتے ہوئے کھانا کھانے سے ہاتھ روک لاس جائے۔ 2:۔ روازنہ ایک قسم کی خوراک کو معمول نہ بنایا جائے بلکہ بدل بدل کر غذائںہ کھائی جائں جن مںا گوشت، دالںف، سبزیوں کا استعمال ہو نزا مسرن ہو تو موسمی پھل بھی کھائے جائںب۔ 3:۔ گوشت جوان جانور کا استعمال کریں۔ مچھلی جب بھی استعمال کریں، تازہ ہو۔ 4:۔ خوراک ہمشہج اپنے اپنے معدوں کی صلاحیت کے مطابق استعمال کریںیعنی اگر پتلی چپاتی بمشکل ہضم ہوتی ہو تو روغنی نان کے حریص نہ بنں ۔ 5:۔ دور حاضر مں اپنے معدے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہوئے سادہ غذا کا اپنے آپ کو عادی بنائںا۔ وقتی لذت کے لئے ہوٹلوں، دعوتوں، گھریلو مرغن غذاؤں، فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشاپء، گرم گرم کھاتے ہوئے یخ ٹھنڈی کولڈ ڈرنکس کے استعمال کی احمقانہ حرکت وغرگہ کے تابڑ توڑ حملوں سے اپنے معدوں کی حفاظت کریں۔ (باہر سڑکوں پر رکھی ہوئی اشاہء پر جہاں دھول، مٹی، دھواں وغررہ مسلسل بلامعاوضہ پڑتا رہتا ہے جبکہ قریب ہی سووریج کی نالاہں گندگی سے بھری ہوئی ہوں، گٹر ابل رہے ہوں اور بعض اشاغء کو کتے، بلااں نوچ رہے ہوں، مکھاوں اپنی خوراک حاصل کررہی ہوں، کئی کئی دن کے نہائے ہوئے پکانے والوں کے ملےل جسم سے پسنہت کھانوں مںل بگھار کا فریضہ انجام دے رہا ہو، ویٹرز (ٹبلو مینز) کے ملے بھرے ناخن کھانوں سے ٹچ ہورہے ہوں کام ان صحت افزا وٹامنز اور منزلز کی ملاوٹ کے بعد صحت کا کوئی جواز پدلا ہوتا ہے؟ نزقیہ معصوم اشاسء بھکاریوں، ناداروں، غریبوں، بدنظروں، ٹبل منواں کی نظروں سے مستقل طور پر زخمی ہورہی ہوں (نظر لگنابرحق ہے)تو استعمال کے بعد عدم صحت کے لازمی خدشے کا امکان کتنے فصد بڑھ جائے گا؟ مزیدیہ کہ استعمال شدہ برتن، پلٹی، پاتلے، چمچ وغر ہ کی صفائی کے لئے استعمال ہونے والے کپڑوں کی اپنی ستھرائی کے معارر اور پانی کی عمدگی، اور پاکزچگی پر بات ہوسکتی ہے؟ مستزاد یہ کہ اگر ان اشا ء کو قابل استعمال بنانے والا فرد پان، گٹکے، چھالہم، نسوار کا عادی ہو اور دوران تایری بھرے منہ کے ذریعے ان اشاعء پر اسپرے بھی جاری ہو تو کوگڑے کے اس چھڑکا ؤ کو نظریں قبول کرسکتی ہںا؟ 6:۔ کھانا کھاتے ہوئے بالکل ٹنشنو فری رہںت (ذہنی دباؤ سے فارغ رہںر) حالات کے دباؤ، تجارتی الجھنوں، گھریلو جھگڑوں، صدمے کی خبروں، غصے کے واقعوں، غم کے بکھڑ وں کی موجودگی مں، جسم کھانے کے مفدں اثرات سے محروم رہتا ہے۔ (بعض عادت سے مجبور عورتںا کھانے کے اوقات مںں غم ناک خبروں، مطالبات کی فہرستوں اور گھریلو شکایتوں کے ساتھ شوہر نامدار پر موسلادھار بارش کی طرح برستی ہںھ۔ بعض نادان کم عمر بچے عنر کھانے کے دوران پوٹی کرکے معطر فضاؤں کو مکدر گھٹاؤں مںر تبدییب کردینے کا لازمی فریضہ انجام دینے لگ جاتے ہںک) 7:۔ دوپہر کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر لٹن کر آرام کریں چاہے نند آئے یا نہ آئے (کم از کم دس منٹ) کھانا کھاتے ہی مطالعے یا کسی بھی کام مںا مشغول ہونا مضر صحت بتلایا جاتا ہے۔ 8:۔ رات کا کھانا چھوڑے کی عادت نہ اپنائی جائے۔ رات کا کھانا چھوڑنے کی عادت بڑھاپے کو جلد دعوت دینا ہے۔ 9:۔ بہت زیادہ تزا گرم کھانے سے پرہزا کریں نزے ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنے یا دوسروں کے کھانوں مںم پھونکیںنہ ماریں۔ 10:۔ انتہائی صحتی مجبوری کے علاوہ کھانے کی حالت مں۔ ٹکے (کسی چز۔ کے ساتھ سہارا) لگانے سے احتا ط برتںی وغرغہ وغرنہ۔ برکات کا حصول اور کھانے کا معمول: 1:۔ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا فقرسے حفاظت، اضافہء خر ، وسعت رزق اور باعث برکت ہے۔ 2:۔ بسم اللہپڑھ کر کھانا شروع کرنا باعث برکت ہے۔ 3:۔ معتدل گرم کھانا باعث برکت ہے۔ 4:۔ ایک ساتھ مل بیٹھ کر ایک برتن (پلٹن) مںب کھانا باعث برکت ہے۔ 5:۔ کھانے سے فارغ ہوتے ہی ہاتھ دھونے سے پہلے انگلیاں چاٹنا باعث برکت ہے۔ 6:۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد روٹی کے ٹکڑے یا انگلی سے برتن (اگر اسمں دوسرے کے لئے قابل استعمال مقدار نہ بچی ہو) کو صاف کرنا باعث برکت اور باعث مغفرت ہے۔ (واضح رہے کہ دعوت وغریہ مںت برتن صاف کرنے سے اجتناب کریں تاکہ کسی کی نظر مںا حقارت نہ پدہا ہو نزل اگر کھانا دوسرے کے لئے قابل استعمال مقدار مںں بچا ہو تو برتن کے کنارے صاف کرلں )۔ بے برکتی کی وجوہات: 1:۔ پہلے سے ہاتھ صاف ہونے، چمچ اور کانٹے سے کھانے کی صورت مںت ہاتھ دھونے کی ضرورت محسوس نہںل کی جاتی حالانکہ اس صورت مںی برکات سے محرومی ہوجاتی ہے۔ 2:۔ کھانے یا کسی بھی نیک عمل کی ابتدا مںن بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو ان اعمال مںہ بے برکتی شامل ہوجاتی ہے۔ 3:۔ برتن (پلٹا وغر ہ) کے درماتنی حصے سے کھانا بے برکتی کا باعث ہے (یین جب کھانا پلٹب مںل ایک ہی قسم کا ہو تو اپنے سامنے سے برتن کے کنارے سے لکر کھانا چاہئے)۔ 4:۔ تزا گرم کھانا بے برکتی کا باعث ہے۔ 5:۔ علحدےہ علحداہ کھانے کا جواز ہونے کے باوجود بے برکتی کا باعث ہے۔ وغر ہ وغر ہ برکت کا مفہوم: قدرتی طور پر کھانے کی مقدار کا زیادہ محسوس ہونا، چند آدموبں کا کھانا زیادہ لوگوں کے لئے پورا ہوجانا جن مقاصد و فوائد کے لئے کھانا کھایا جاتا ہے ان کا پورا ہوجانا، کھانے کا جزو بدن بننا، طبعیت مںم نشاط و راحت کا پدنا ہونا، عبادت مںہ رغبت کا پدکا ہونا، عمدہ اخلاق کا اپنا لناہ وغرکہ برکت کے مفہوم مںم داخل ہںر۔ کھانے سے متعلق نبیﷺ کے ارشادت: 1:۔ کھانا شروع کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لو۔ اپنے سدنھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ (واضح رہے کہ شریعت نے کھانا شروع کرنے کی دعا بتلائی ہے بسم اللہ وعلیٰ برکۃ اللہ ، الٹے ہاتھ سے کھانے پنےھ سے منع فرمایا ہے لہٰذا پداائشی طور پر کھّبے بھی اس حکم مںک داخل ہںا۔ البتہ چمچ اور کانٹے سے کھانے کی اجازت ہے لکن بلا ضرورت ان کے استعمال کی عادت بنالناا نا مناسب ہے۔ نزش اگر دستر خوان پر کھانے کی مختلف نعمتں موجود ہوں تو ادھر ادھر ہاتھ بڑھا کرمن پسند چز۔ لکر کھانے کی اجازت ہے)۔ 2:۔ اگر کوئی شخص شروع مںک بسم اللہ پڑھنا بھول جائے (کھانے کے دوران یا د آتے ہی) بسم اللہ اوّلہ واٰخرہ پڑھ لے ۔ 3:۔ کھاتے ہوئے اگر لقمہ گِرجائے اسے صاف کرکے کھالے شطا ن کے لئے نہ چھوڑے۔ جو شخص دستر خوان پر گرے ہوئے ٹکڑوں کو کھائے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیں گے۔ 4:۔ نبیﷺ نے فرمایا مںا ٹکد لگا کر نہںے کھاتا۔ مںگ بندہ غلام ہوں اس طرح کھاتا ہوں جس طرح ایک غلام کھاتا ہے۔ 5:۔ نبیﷺ نے فرمایا کھانا کھڑے ہوکر نہ کھایا جائے۔ 6:۔ نبیﷺ نے فرمایا جب کھانا کھانے بٹھوک تو پراوں سے جوتے نکال دو یہ تمہارے قدموں کے لئے راحت بخش ہے۔ 7:۔ نبیﷺ نے فرمایا کھانے اور روٹی کو سونگھانہ کرو۔ (پھلوں کی خوشبو سونگھنے کی گنجائش ہے)۔ 8:۔ نبیﷺ نے فرمایا رات کا کھانا نہ چھوڑو۔ رات کا کھانا چھوڑدینا بڑھاپا لاتا ہے۔ 9:۔ نبیﷺ نے فرمایا کھانے کا اکرام کرو۔ (اگر دستر خوان پر روٹی پہلے آجائے تو سالن کے آنے کے انتظار مںئ بٹھا نہ رہے)۔ 11:۔ نبیﷺ نے فرمایا کھانا موجود لوگ اکھٹے (مل کر) کھایا کرو، الگ الگ نہ کھاؤ (ایک کا کھانا دو کو کافی ہوجاتا ہے)۔ 12:۔ نبیﷺ نے فرمایا اگر (نماز کی) جماعت کا وقت ہوجائے اور کھانا (دستر خوان پر) لگادیا گا ہو تو پہلے کھانا کھا لو (واضح رہے کہ کھانے کو مقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ نماز مںم کھانے کی طرف دھا ن نہ لگارہے)۔ 13:۔ نبیﷺ نے فرمایا مؤمن ایک آنت مںن کھاتا ہے شطاین سات آنتوں مں کھاتا ہے (یینا مؤمن کی ایک زبردست خوبییہ بھی ہے وہ خوب سر ہو کر نہںھ کھایا کرتا ہے کچھ بھوک باقی رکھ کر کھانا چھوڑ دیا کرتا ہے اس طرح اپنے معدے کو بھی راحت بخشتا ہے، جسم کو بھی تقویت پہنچا کر چست رکھتا ہے، اپنی عبادت مںک نشاط، فرحت، بشاشت اور لذت پاتا ہے)۔ کھانے سے متعلق نبیﷺ کے معمولات: 1:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ تھی کہ زمنھ پر بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے (مزو، کرسی، چوکی، تخت چارپائی، وغر ہ پر آپ ﷺ کے کھانے کا ذکر کتابوں مںق نہںت ملتا البتہ مفتاین کرام نے خلاف سنت کہتے ہوئے ان کا جواز بھی بتلایا ہے)۔ 2:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ تھی کہ دستر خوان پر کھانا رکھ کر کھایا کرتے تھے۔ 3:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ تھی کہ کھانے کے دوران یا تو دونوں قدموں پر اکٹروں بٹھار کرتے تھے یا دو زانوں بٹھا، کرتے تھے تسرکا طریقہ سدرھا پرل کھڑا اور الٹا پرھ بچھانے کا بھی ذکر کا جاتا ہے (البتہ بوجہ عذر کسی بھی طریقے سے بیٹھ کر کھانے کی اجازت ہے)۔ 4:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ تھی کہ کبھی کسی کھانے کی برائی نہںے فرمایا کرتے تھے خواہش ہوئی تو کھالاچ کرتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ 5:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ تھی کہ کھانا کھاتے ہوئے عموماً تن انگلیاں (شہادت والی اسکے برابر والی اور انگوٹھا) استعمال فرمایا کرتے تھے ضرورت پڑنے پر پانچوں انگلوفں کو بھی استعمال فرمایا ہے (مفتاان کرام نے خلاف سنت قرار دیتے ہوئے چمچ اور کانٹے سے بھی کھانے کا جواز بھی بتلایا ہے)۔ 6:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ بھی تھی کہ کھانے مںت شریک لوگوں کی رعایت فرمایا کرتے تھے (اس رعایت مںت ایثار، کھانے کی رفتار ساتھونں کی رفتار کے مطابق رکھنا، ان کو کھاتا ہوا چھوڑ کر پہلے نہ اٹھنا وغرہہ داخل ہںی)۔ 7:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ بھی تھی کہ کھانے سے فارغ ہو کر انگلوشںکو چاٹ لاک کرتے تھے (چاٹنے کا مسنون طریقہ پہلے بچر کی انگلی، پھر شہادت کی اور اس کے بعد انگوٹھا چاٹے)۔ 8:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ بھی تھی کہ انگلیاں چاٹنے کے بعد عموماً ہاتھ دھولاے کرتے تھے۔ 9:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ بھی تھی کہ کبھی تنہا اور اکلے نہںو کھایا کرتے تھے۔ 10:۔ نبیﷺ کی عادت شریفہیہ بھی تھی کہ ہڈی پر لگا گوشت دانتوں سے بھی نوچ نوچ کر کھالاک کرتے تھے وغر۔وغر ہ۔ کھانے سے متعلق نبیﷺ کی ممانعات: 1:۔ نبیﷺ کھڑے ہو کر کھانے پنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ 2:۔ نبیﷺ الٹے ہاتھ سے کھانے پنےر سے منع فرمایا کرتے تھے۔ 3:۔ نبیﷺ کھانا سونگھنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ 4:۔ نبیﷺ تزا گرم کھانے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ 5:۔ نبیﷺ کھانے مںز پھونک مارنے سے منع فرمایا کرتے تھے وغر۔ہ وغر ہ۔ کھانے سے متعلق مزید معلومات: 1:۔ ماضی قریب کے ہمارے ایک بزرگؒ کا مقولہ ہے کہ روٹی کھانے کے لئے ہوتی ہے سالن روٹی پر لگانے کے لئے ہوتا ہے کسی دعوت مںا اگر روٹی کم پڑجائے تو مزابان احمق اگر سالن کم پڑجائے تو مہمان بے وقوف۔ (عجبگ تماشا یہ ہے کہ ہماری آجکل کی تقاریب مںز روٹا ں ڈشوں میںبھری ہوتی ہںا اور مہمانان گرامئی قدر پلٹواں مںہ بے تحاشا سالن نکال کر چھوڑ دیتے ہںم جو جھوٹا بن کر ناقابل استعمال قرار پاتا ہے اور سالن کی ڈشںو خالی نظر آنے لگتی ہںے اور مقام تقریب مںٹ ایک ہی پغاام نشر ہورہا ہوتا ہے کہ کھانا کم پڑگاب۔ گویا مہمانوں نے مزشبان سے انتظار کرانے کا ہاتھوں ہاتھ انتقام لے لا ۔ اس طوفان بدتمزیی اور ذلت آمزی شرمناک شکست کا ایک ہی حل ہے جو ہم نے ماضی قریب مںے اپنایا ہواتھا یینف بٹھا کر با عزت طریقے سے کھلانا، نشستوںکے انتظام کے مطابق مطلوبہ تعداد کے پورا ہوتے ہی انہںے کھانا کھلادیاجائے کھانا بھی ضرورت کے مطابق استعمال ہوگا، وقت بھی بچے گا، کسی کو شکایت کا موقع بھی نہںو ملے گا۔ 2:۔ ہمارے دور مںو تقریبات مں روٹی کے چار ٹکڑے کرکے رکھے جاتے ہیںیہ ایک دانشمندانہ قابل تحسنک اور لائق تقلدھ عمل ہے مذہبی حوالے سے اسمںن کوئی برائی نہںی ہے نزڑ روٹی کے قابل استعمال رہنے کے امکانات بڑھ اور ضائع ہونے کے خدشات گھٹ جاتے ہںہ۔ گھروں مںہ بھی اس طریقے کو روٹی، نان پراٹھوں وغرمہ مںل اپنایا جاسکتا ہے۔ 3:۔ کھانا کھاتے ہوئے سروں کا ڈھکا ہونا ہی مناسب ہے۔ اس ضمن مںے راقم الحروف کا وجدان یہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور مںھ اور حجاز مقدس مں آج بھی ہر وقت سروں کے ڈھانپے رکھنے کا رواج ہے جس کے ختم کرنے کا اسلام نے کوئی حکم نہںس دیا اس لئے یہ فضول اور عبث بحث ہے کہ کھاتے ہوئے سرڈھکا ہوا ہو یا کھلا ہوا ہو۔ دور حاضر کا ایک المیہیہ ہے کہ مردوں ہی نںر عورتوں مںر بھی ہر وقت ننگے سر رہنے کا عمومی رواج پڑگاا ہے اس لئے تربیکا طور پر انہیںیہ بتلانا پڑتا ہے کہ نماز، کھانے اور بت الخلاء کے استعمال کے وقت سر ننگا ہونا بے ادبی اور ڈھکا ہونا شرعی، اخلاقی اور طبی حوالوں سے مناسب ہے (واضح رہے کہ عورتوں کے سر اور بال ستر عورت مںس داخل ہونے کی وجہ سے گھر اور باہر محرم و نامحرم کے سامنے ڈھکے ہونے چاہئںی لکنل اس مںی عورتںں عمومی غفلت کا شکار ہںس)۔ 4:۔ کھانے کے دوران ذکراللہکے ساتھ ساتھ ساتھو ں سے دیی ، دنو ی، خوشی کی باتوں کا مذاکرہ کا جاسکتا ہے البتہ اس دوران غمگنہ کر دینے والی، دوسروں کو بری محسوس ہونے والی باتںد نہ کی جائںی۔ 5:۔ کھانے کے دوران کھانے والوں کے چہروں کی طرف دیکھتے رہنے سے پرہزب کریں۔ 6:۔ نوالے نہ ہی اتنے چھوٹے بنائںی کہ متکبر سمجھے جائںن اور نہ اتنے بڑے لںں کہ حریص کہے جائںک۔ 7:۔ کھاتے ہوئے منہ سے کوئی چزئ دوبارہ منہ یا کھانے کے برتن مںن ڈالنا نہایت برا انتہائی معو ب اور قابل نفرت عمل ہے۔ 8:۔ کھاتے ہوئے کھانے کے برتن مںھ انگلیاں ڈبونا اور بار بار ڈبوتے رہنا نا معقول اور غرش مہذب حرکت ہے۔ 9:۔ بن بلائے کسی ضاھفت مںہ شریک ہونے والے کو چور اور لٹراے کے مترادف قرار دیا گاو ہے چنانچہ اییف حرکت حرام ہے (پناہ ربنا آج کل بعض لوگ اییے ناجائز حرکت فا خرانہ طور پر کرتے ہںج)۔ 10:۔ کسی کا طفین (Sponger) بن کر یا کسی کو طفیل بنا کر اپنے ساتھ دعوت مں لے جانا معوچب ہے۔ 11:۔ اجتماعی کھانوں مںا امرnیا ساتھو ں کی اجازت کے بغرییا پسےو جمع کرائے بغرع خود یا کسی دوسرے کو شریک کرنا نا جائز ہے ۔ 12:۔ کھانے کی چز اہل مجلس مںر تقسمس کرنے کی ضرورت ہو تو سدئھے ہاتھ کی طرف سے تقسمئ کرنا شروع کریں۔ 13:۔ کچا لہسن، پا ز اور ناخوشگواربو والی چزتیں مسجد مںر استعمال کرنا یا استعمال کرکے منہ کی صفائی کئے بغرگ مسجد مںہ جانا نا پسندیدہ ہے۔ 14:۔ معتکف اور مسافر ہی کو مسجد مںر کھانے اور سونے کی اجازت ہے۔ 15:۔ دستر خوان پر پڑے رہ جانے والے کھانے کے ریزے قابل استعمال ہوں تو انہںی بھی استعمال کرلنان اچھا قابل تعریف عمل ہی نہںا، نعمت کی قدر دانی اور نعمت عطا کرنے والے کی شکر گذرای کی علامت بھی ہے۔ اگر قابل استعمال نہ ہوں تو کسی کونے مںا جھاڑنا (تاکہ چوننٹویںکی خوراک بن سکے) سلقہی مندوں کا شعار ہے۔ 16:۔ تمام ساتھوعں کے کھا چکنے کے بعد پہلے دستر خوان سمٹناا، بعد مںر کھانے والوں کا اٹھنا ایک مستحسن عمل کہا جاتا ہے۔ 17:۔ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھوکر نہ پونچھں ، کھانا کھا چکنے کے بعد پہلے انگلیاں چانٹںا پھر دھوئںگ اور پھر تولیہیا کسی کپڑے سے پونچھ لں ۔ 18:۔ دستر خوان پر بٹھے ہوئے، دوسروں کے سامنے دانتوں مںک خلال کرنا، جو کچھ دانتوں سے نکلے اسے کھانا برا سمجھا جاتا ہے۔ 19:۔ کھانا کھانے کا مقصد یہ بنائںو کہ اس سے جو طاقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی اسے نوات ں کے کرنے اور برائووں سے بچنے مںھ استعمال کرتا رہوں گا۔ 20:۔ کھانا کھا چکنے کے بعد کھانا کھانے کے بعد کی دعا پڑھنے کا اہتمام کریں دعا یہ ہے: الحمدللہ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمین پانی پنےا کا مسنون و محبوب طریقہ: 1:۔ پانی پتےھ وقت سدرھے ہاتھ سے پانی پنے کا برتن پکڑیں۔ 2:۔ پانی پنےھ کے مواقع پر پہلے اطمناےن سے بںھہت پھر پناں شروع کریں۔ 3:۔ پانی پناھ شروع کرنے سے پہلے دیکھ لں کہ پانی صاف پاک اور قابل استعمال ہو پھر بسم اللہ پڑھ کر پناں شروع کریں۔ 4:۔ پانی غٹ غٹ کرکے ایک دم نہ پئیں بلکہ چسکاںں لتےن ہوئے گھونٹ گھونٹ کرکے تنپ سانس مںا اسطرح پئیں کہ ہر سانس لتےی ہوئے برتن کو منہ سے الگ کرلںک۔ 5:۔ اگر پانی پنےہ کے برتن کے کنارے ٹوٹے ہوئے ہوں تو یا برتن بدل لیںیا ٹوٹے ہوئے کنارے منہ کو نہ لگائںس۔ 6:۔ پانی پی چکنے کے بعد الحمدللہ پڑھںا۔ نوٹ: 1:۔ استعمال کرچکنے کے بعد بچا ہوا جھوٹا کھانا یا پانی اگر بقدر استعمال ہو تو دوسرے لوگ انہںھ استعمال کرلںے مؤمن کا جھوٹا پاک بھی ہے اور اسمںے شفاء بھی ہے البتہ احتاےط کا تقاضا یہ ہے کہ مرد عورتوں کے اور عورتں مردوں کے جھوٹے سے پرہز کریں۔ 2:۔ کھانے کے بعد کھانے کے برتن مں ہاتھ دھونا تہذیب کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ 3:۔ گاہے بگاہے (مناسب وقفوں کے بعد) نیک لوگوں کی اپنے گھروں مںل دعوت کرتے رہنا مستحسن عمل بتلایا جاتا ہے۔ دودھ پنے کے بعد کی دعا اللہم بارک لنا فیہ وزدنا منہ ترجمہ: ’’اے اللہ! تو اس دودھ مں برکت عطا فرما اور اس سے بھی زیادہ عطا فرما‘‘۔ آب زم زم پنےف سے پہلے یہ دعا پڑھے اللہم انی اسںئلک علما نافعا ورزقا واسعا وشفاء ترجمہ: ’’اے اللہ مں تجھ سے نفع پہنچانے والے علم اور وسعت رزق اور ہر بماھری سے شفا کا سوال کرتا ہوں‘‘۔اور پنےی کے بعد الحمدللہ پڑھے۔ جب نای پھل کھانے لگے تو یہ دعا پڑھے اللہم بارک لنا فی ثمرنا وبارک لنا فی مدینتنا وبارک لنا فی صاعنا وبارک لنا فی مدنا ترجمہ: ’’اے اللہ! تو ہمارے پھلوں مںع برکت دے اور ہمارے شہر مںی برکت ہے اور ہمارے صاع (ناپنے کے بڑے پماینوں) مںج برکت دے اور ہمارے مُدْ (نا پنے کے چھوٹے پماےنوں) مںا برکت دے‘‘۔ اور کھا کر الحمدللہ کہے۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
582