(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
حفاظت و حفظ قرآن
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ حفاظت و حفظ قرآن قرآنِ مقدس کے نام سے آج جو مقدس نسخہ امت مسلمہ کے ہاتھوں مںا ہے یہ بعنہٖں اس قرآن کی نقل ہے جو نبی کریمﷺ اس دناق سے پردہ فرماجانے کے وقت امت مسلمہ کے حوالے کرگئے ہں ، مسلمانوں کے عقدوے کے مطابق اس موجودہ قرآنی نسخوں کا ہر ہر حرف، ہر ہر نقطہ، ہر ہر اعراب ترتبہ کے اعتبار سے اسی نسخے کے مطابق ہے، مسلمانوں کا یہ بھی عقدرہ ہے کہ آج لوحِ محفوظ مںس قرآنِ مقدس کا جو نسخہ ہے یہ نسخہ اس کے بھی عنس مطابق ہے، جہاں تک نزولِ قرآن کا تعلق ہے اس کی ترتبی مختلف رہی ہے، اس لےر کہ نزول کے زمانے مں ضرورت کے مطابق آیات نازل کی جاتی تھںٓ، لکنو نزول کے بعد فوراً لوحِ محفوظ والی ترتبہ پر جمع کرنے کا اہتمام بھی ساتھ ساتھ جاری تھا، قرآنِ مقدس سے پہلے بھی مختلف آسمانی کتابںھ اس دناے مں نازل کی گئںت، لکنی وہ تمام کی تمام کتابیںیکبارگی مکمل طور پر اس وقت کے انبیاء علہما السلام کو عطا کی گئںد ان تمام کتابوں کے مقابلے مںب قرآنِ مقدس کا یہ منفرد اعزاز (Unique Award) ہے کہ آسمانوں پر مکمل طور پر موجود ہونے کے باوجود اسے مختلف اوقات مںم تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کام جاتا رہا، یہ اعزاز اس سے پہلے کی کسی کتاب کو بھی حاصل نہں ، اس کتاب کا ایک منفرد اعزاز یہ بھی ہے کہ اس کے مقابلے مںا پہلی کتابوں کو جب انبیاء علہمم السلام کو عطا فرمایا گاا تو ساتھ یہ بات بھی ارشاد فرمادی گئی کہ ان کی حفاظت بھی تم نے خود کرنی ہے جساہ کہ ایک جگہ ارشاد ہے : {بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اﷲِ}’ ’اﷲ تعالیٰ نے انہںج کتاب کی حفاظت کا حکم دیا تھا۔‘‘ لکنا ان کے مقابلے مںِ قرآنِ مقدس کو یہ بھی ایک منفرد اعزاز حاصل ہے کہ جہاں اسے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کات گات وہاں اس کے الفاظ، جملوں کی ترتب اور اس کے معانی و مفاہمظ کے بقا (Survival) کی ذمہ داری بھی خود اللہ رب العزت نے اُٹھائی، جساب کہ ارشاد ہے: {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ} ’’بلاشبہ اس قرآن کوہم ہی نے نازل کاح ہے اورہم ہی اس کے حفاظت کرنے والے ہںز۔‘‘ جہاں تک اللہ تعالیٰ سے لے کر نبیﷺ تک اس قرآن کے پہنچنے کا تعلق ہے اس کے لےر اللہ تعالیٰ نے بطورِ ذریعہ جس مخلوق کے فرد کو استعمال فرمایا، اسے فرشتہ کہتے ہںز جن کی تعریف ہییہ ہے کہ ان کے اندر نافرمانی گناہ، غبن، فراڈ کا مادہ ہی نہںا رکھا گا ۔ پھر اسی مخلوق کی جس شخصتہ کا اس کام کے لےپ کاس گاہ اس کا نام جبرئلن علہب السلام ہے جو فرشتوں کی جماعت کے سردار بھی ہں جن کے متعلق خود قرآنِ مقدس مںق شہادت دی گئی ہے کہ وہ طاقت ور بھی ہںا کہ نبیﷺ تک پہنچانے کے دوران ان سے یہ پغاوم کوئیچھین نہںہ سکتا تھا، ذہنئ بھی ہں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہںپ اپنا کلام دیا بعنہٖا اسی طرح وہ محفوظ بھی رکھ سکتے تھے اور امنن بھی ہںِ اس کلام کو من و عن (Exactly) پورا پورا نبیﷺ تک پہنچایا، جہاں تک نبیﷺ اکرم کی ذات کا تعلق ہے وہ خالق و مخلوق دونوں کے ہاں صادق اور امنن تسلمس کےن جاتے ہںب آپ کی دیانتداری کے ثبوت کے لےپ وہ آیات ہی کافی ہںح جن مںخ نبی اکرم ﷺ کے کسی عمل پر خفف سی، ہلکی سی، پاسر بھری ناگواری کا اظہار کال گا جسےو کہ ارشاد ہے: {عَفَا اﷲُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ} ’’اﷲ (تعالیٰ) نے آپ (ﷺ) سے درگزر فرما دیا۔ آپ(ﷺ ) نے انہںں اجازت کوظں دیدی تھی۔‘‘ اور ایک مقام پر ارشاد ہے: {عَبَسَ وَ تَوَلّٰٓی اَنْ جَآئَہُ الْاَعْمٰی} ’’تو ری چڑھائی اور منہ موڑا اس سے کہ اس کے پاس ایک نابناں آیا۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے بعنہٖ ان الفاظ کے ساتھ اس امت تک پہنچایا جبکہ یہ بات بھی ثابت تھی کہ قاےمت تک آنے والے مسلمان ان آیات کی تلاوت کرتے رہںر گے، جہاں تک نزول ترتبن کے مقابلے مںی موجودہ ترتبب کا تعلق ہے۔ یہ ترتبت بھی جبرئلہ امن علہب السلام کی تصدیق شدہ (Verified) ہے اس لے کہ وہی نبی اکرم ﷺ کو یہ ترتبا بتلایا کرتے تھے اور اسی کے مطابق حضورِ اکرم ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعنر مں، سے لکھنا پڑھنا جاننے والے صحابہ کو لکھوادیاکرتے تھے، پھر احادیث کے ذخرہے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ خود نبی اکرم ا اور جبرئلس امنے علہا السلام ایک دوسرے کو اسی ترتب سے یہ قرآن سنایا بھی کرتے تھے، عرفِ عام مںب اس ’’کو دَور‘‘ کہتے ہںا آج کے حفاظِ کرام کے اندر بھی دَور کا یہ سلسلہ جاری ہے، اس کی نسبت اسی پہلے دَور کے ساتھ ہے۔ بعض غرے مسلم دانشوروں نے مسلمانوں کے اس عقدفے کو کہ یہ قرآن کلامِ الٰہی ہے، کمزور کرنے کے لےس اپنی طرف سے یہ بات گھڑ کر دنان مںر پھیلانے کی ناکام کوشش کی کہ یہ ایک بہترین کلام ہے لیکنیہ نبی اکرم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہںی ہوا بلکہ یہ خود انہوں نے بنالات ہے، اس غری اسلامی نظریے کو باطل کرنے کے لےج اتنی سی بات ہی کافی ہے کہ اسلامی ذخائر (Islamic Hoards) مں جہاں قرآنِ مقدس پایا جاتا ہے وہںا نبی اکرم ﷺ کے کلام کا ایک بہت بڑا ذخرتہ کتابوں کی صورت مںں موجود ہے، ان دونوں کا موازنہ (Comparison) کرتے ہوئے انصاف پسند عربی داں برملا قرآنِ مقدس کے بارے میںیہ کہنے پر اپنے آپ کو مجبور پائے گا کہ {وَاﷲِ مَا ھٰذَا کَلَامُ الْبَشَر} ’’ اللہ کی قسم! یہ انسان کا کلام نہںا ہے‘‘ جبکہ نبی اکرم ﷺ کے اقوال جنہںi احادیث کہا جاتا ہے وہ قرآن کی زبان سے قطعاً مختلف ہں ۔ جہاں تک قرآنِ مقدس کی حفاظت کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے ہر دو طرح کا اس سلسلے مں انتظام فرما رکھا ہے۔ ایک مافوق الاسباب اور دوسرا ماتحت الاسباب، آسانی کے لے یوں بھی کہاجاسکتا ہے کہ ایک روحانی انتظام اور دوسرا مادی انتظام، جہاں تک روحانابنتظام کا تعلق ہے اس پر غور کرنے سے ایک انتہائی عجبح و غریب اور خوشگوار صورت حال سامنے آتی ہے کہ بہت سے عربی دانوں نے جو زبان کے اعتبار سے انتہائی ذہنل اور سردار مانے جاتے تھے انہوں نے کوشش کی، بھرپور کوشش کی اور ان کی جماعتوں نے ان کا بھرپور تعاون بھی کار، غرل قرآنی مدےان مںہ ان کا ذہن خوب چلتا تھا لکنر ذہن کے پدےا کرنے والے نے قرآن کے مد ان مں ان کے ذہنوں کو بالکل ماؤف کررکھا تھا، وہ ایک معااری کلام کے کہنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود، قرآن کا ان کو چلنج دینے کے باوجود، اپنی بہترین صلاحتو ں کو استعمال کرنے کے باوجود، قوم کی طرف سے مکمل معاونت حاصل ہونے کے باوجود قرآن کا مثل لانے سے قطعی طور پر ناکام و نامراد ہی نہںٰ بلکہ مکمل طور پر مایوس بھی ہوئے اور قوم کو بھی مایوسی سے دوچار کاا، تاریخ کی کتابوں مںس اس کی تفصیلات موجود ہںی۔ جہاں تک اس کے مادّی انتظام کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے ایسے اذہان پدیا فرمائے جنہوں نے عربی زبان، ان کی مادری زبان (Mother Tongue) نہ ہونے کے باوجود اپنے ذہنوں مںی اس قرآن کو محفوظ فرمایا،یہ ایک ایسا انتظام ہے جس پر غور کرنے سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علماء کے ذریعہ سے قرآنی مکاتب مسلمانوں کے درماون کھلوائے، مسلمانوں نے اپنے نابالغ بچوں کو اس سعادت کے حاصل کرنے کے لےج پشں کا اللہ تعالیٰ نے بچوں کی فطرت کے خلاف ہونے کے باوجود ان کے ذریعےیہ ایک کرشمہ ظاہر فرمایا اگر بچے کی فطرت پر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو فوراً کھل کر یہ بات سامنے آجاتی ہے 1 بچہ فطری طور پر لا اُبالی (Care Less) اور غرر ذمہ دار ہوتا ہے۔ 2 وہ اپنی فطرت کے عنا مطابق پچھلی باتوں اور واقعات کو بھولتا جاتا ہے اور آگے کی طرف بڑھنے کے لےف کوشاں رہتا ہے مثلاً بچے آپس مں لڑتے ہںی اور لڑائی کے تکملت کے بعد تھوڑی دیر نہںے گزرتی کہ اپنی لڑائی کو بھلاکر دوبارہ یکجا ہوکر کھلنےا لگ جاتے ہںل۔ 3 اگر انہں۔ ڈرایا جائے تو فوراً سہم جاتے ہںا اور ڈر اور خوف کی وجہ سے کام بھی چھوڑ دیتے ہں ۔ 4 انہںا کسی بھی قسم کا ادنیٰیا اعلیٰ لالچ دے کر کسی بھی کام سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ بچوں مںں مندرجہ بالا فطری کمزوریاں ہونے کے باوجود مادّی اعتبار سے سبب کے درجے مںب اللہ تعالیٰ ان معصوم اور ناسمجھ بچوں کا انتخاب فرماتا ہے اور یہ ایسا انتظام ہے کہ ظاہری طور پر اس مںا بہت ساری کمزوریاں پائی جاتی ہں لکنک باطنی طور پر قرآن کی حفاظت کا بہترین ذریعہ بھی ثابت ہورہے ہںر، اس انتظام کییہ خوبی ہر دور مںا تسلم کی گئی اور کسی بھی دور مںا اس کے نعم البدل کی ضرورت بھی محسوس نہںا کی گئی اور بڑی کامایبی کے ساتھ یہ نظام اتنے بھرپور انداز مںا اپنے نتائج دے رہا ہے کہ خصوصاً شہری علاقوں مں رمضان المبارک کے مہنےع مںک تراویح کے اندر قرآن سنانے کے لےے ان حفاظِ کرام کو مصلے اور مسجدیں دستا ب نہںد ہوتںں اور ان کے ذریعے سے قرآن کی تلاوت کا یہ فضر (Bounty) گھروں، مدرسوں، دفتروں، شادی ہالوں، مدنانوں، سڑکوں پر، گھر کی چھتوں پر ان حفاظ کے ذریعے قرآن کی مسحور کن تلاوت سے ایک سماں بن جاتا ہے، خوش نصب) ہںس وہ لوگ اور وہ گھرانے جن کے افرادکو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاےرے کلام کی حفاظت کے لےس منتخب فرمایا۔ یہاں پہنچ کر ان اساتذہ کرام کی خدمت اقدس مںا ایک مؤدبانہ گزارش ہے جنہں قرآن کی تحفیظ کی ذمہ داری سونپی گئی لکنا وہ ان معصوم اور غر مکلف (Un Entrusted) بچوں پر جسمانی ذہنی اور اخلاقی تشدد کرکے انہںر قرآن سے دور کرنے کا ذریعہ بن گئے، ذرا سا غور فرمائےے کہ یہ ارحم الراحمنج کا کلام ہے اور رحمۃ اللعالمن ﷺ کے ذریعے سے ملا ہے اور ہر کلام بذاتِ خود بھی مؤمنن کے لےر شفا اور رحمت ہے اس رحمت بھرے کلام کو ان نابالغ بچوں کو جو خود شریعت کی رو سے ابھی اسے حاصل کرنے کی عمر تک نہ پہنچنے کی وجہ سے غرو مکلف ہںے ان پر اس بے جا تشدد (Improper Violence) کا کاس جواز ہے؟ اور اپنے اس وحشاجنہ عمل سے آپ ان بچوں کے دلوں مںے اللہ کے کلام کی محبت پد ا کررہے ہیںیا نفرت کا بج بورہے ہں ؟ خدارا! اپنے فارغ اوقات مںہ اس زاویے سے غور فرمائںح اور خوب فرمائیںیہ تو ہے دنات کا عمل، اس عمل کے اخروی انجام کی طرف تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اوّل تو یہ بچہ اس غرح انسانی سلوک کا مستحق ہی نہںد تھا پھر بھی اگر اس بچے کی غلطی، کوتاہی اور عدم دلچسپی مان بھی لی جائے، کاب اس قدر تشدد کا جواز بنتا ہے؟ اگر آخرت مں اس حوالے سے باز پرس ہوگئی تو وہاں کا اصول تو یہ ہے کہ حقدار کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا، کاغ اساتذہ کرام سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ قایمت کے مدکان مںو دنا بھر کی انسانتی کے سامنے بچوں پر ظلم کےر جانے کا بدلہ آپ سے ان بچوں کو دلوایا جائے گا تو وہ نقشہ کتنا بھاہنک (Terrible) ہوگا، یہاں تو کلاس کے چند بچوں کے سامنے آپ اپنے تشدد کا اظہار فرماتے ہںے اگر وہاں بچے کے ہاتھ مںے بدا (چھڑی) دے کر آپ سے ان کو بدلہ دلوایا جائے تو اس وقت آپ کے دلوں پر کاہ گزرے گی؟ وہ حفاظِ کرام جن کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن کی حفاظت کے لےھ کا تھا اور یہ دولت مکمل طور پر انہںو فراہم بھی کردی گئی تھی لکنپ انہوں نے عدم دلچسپی، بے توجہی کی وجہ سے اس دولت کو ضائع کردیا ہے یینھ بھلادیا ہے تو کہںھ اللہ تعالیٰ کی ان سے اس محبت کا جواب وہ بے اعتنائی، بے ناےزی اور بے رُخی سے تو نہںج دے رہے؟ لہٰذا ان کی خدمت اقدس مںی بھییہ مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر بڑھاپے کی عمر اور بمالریوں کی وجہ سے نسیان کے مرض مںے مبتلا نہ ہوئے ہوں تو خدارا! اپنی مصروفاوت مں سے دوبارہ اس قرآن کو یاد کرنے کی طرف توجہ دیے ر، آپ کے لےد پہلی مرتبہ کے مقابلے مںد دوسری مرتبہ یاد کرنا انتہائی آسان ہے۔ حفاظ کرام اور قراء حضرت جنہںی مکمل قرآنِ مقدس ازبر یاد (Memorized) بھی ہے اور وہ اس کی تلاوت کا اہتمام بھی کرتے ہں ، انہں خراجِ تحسنن پشہ کرتے ہوئے ان کی خدمت مںس بھی ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ یہ قرآن صرف الفاظ کی تحفیظ کے لےن نہں آیا ہے بلکہ یہ ہر مسلمان کے لےے دستورِ حامت بھی ہے لہٰذا جسےر ان الفاظ کے یاد کرنے مںا آپ نے اپنی زندگاtں صرف فرمائی ہں ، ایسے ہی ان کے معانی و مفاہمت کے علوم کی طرف بھی توجہ فرمائں تاکہ یہ ایک دستور کی حتسا سے بھی ہمارے مدنظر رہے اور ہم اس پر عمل کرکے دونوں جہانوں مںں سرخرو ہوں۔ قرآنی دعویٰ اور اس وقت کا ماحول قرآنِ مقدس کے نزول کے عرصے ہی مں قرآن کا یہ دعویٰ کہ ہم ہی نے اس کو نازل کا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہںک، انسانتر کے سامنے آچکا تھا اس دعویٰ کے انسانتہ کے سامنے پشو ہونے کے زمانے پر ایک سرسری ہی نظر ڈالی جائے تو اس دعویٰ کی حقانت سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے، اس اجمال کی تفصلہ درجِ ذیل ہے: جس مقدس ہستی پر یہ مقدس کلام نازل کاا گام دنوجی اعتبار سے آپ کی حالت یہ تھی کہ مروجہ تعلیفا ذرائع (Usual Educational Resources) سے آپ ﷺیکسر عاری اور محروم تھے، نہ ہی لکھنا جانتے تھے اور نہ ہی لکھا ہوا پڑھنا جانتے تھے اور حققتn بھییہی ہے کہ آپ ﷺ صحابہ مںم سے لکھنا پڑھنا جاننے والوں سے یہ مقدس کلام نہ صرف لکھوایا کرتے تھے بلکہ لکھے جانے کے بعد خود ان ہی سے اس لکھے ہوئے کو پڑھواتے بھی تھے تاکہ اگر کہںم کوئی غلطی رہ جائے تو اس کی تصحح کروالی جائے، اس تصحح کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ نے لوحِ محفوظ کی ترتب کے مطابق اس دنوای مصحف کو بنانے کا اہتمام بھی جاری رکھا یہ دونوں کام ظاہری اسباب کے اعتبار سے نبی اکرم ﷺ سے مشکل ہی نہںھ، ناممکن تھے اور یہ صرف اور صرف ان صحابہ کرام پر جنہںح کاتبنِھ وحی کا لقب ملا ہے، مکمل اعتماد کرنا تھا، اس دناو مںت پش آنے والے حادثات پر نظر رکھتے ہوئے انسانی سوچ اس طرف بھی جاسکتی ہے کہ معاندینِ اسلام اور کفار و مشرکنا کے سامنے بھییہ اہتمام تھا، اس مںو وہ بصورتِ نفاق اپنے کسی پڑھے لکھے آدمی کو مسلمان ظاہر کرکے کاتبنِ وحی مںش شامل کرواکر قرآنِ مقدس کے اس لکھے جانے والے مصحف مںں تحریف، تغرا اور تبدییی کرواسکتے تھے لکنر اللہ تعالیٰ کا قدرتی معجزاتی حفاظت کا انتظام تھا کہ کوئی بھی دشمنِ اسلام اس طرح اس طرف آنے کی جرأت بھی نہ کرسکا، قرآن مقدس کے لکھوانے کا یہ اہتمام دوسرے پہلو سے کاتبنِو وحی پر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مکمل اعتماد کی سند بھی ہے، تسرلے پہلو سے اگر نظر ڈالی جائے کہ نبی اکرم ﷺ پر اُترنے والی وحی کی الفاظِ وحی کے اعتبار سے بھی کم از کم تن صورتںے بنتی ہںر: 1 وحی کے وہ الفاظ جو قرآنِ مقدس کا حصہ ہں ۔ 2 وحی کے وہ الفاظ جو قرآنِ مقدس کا حصہ تو نہںی ہںر لکنا الفاظِ وحی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا ہی کلام ہے اسے اصطلاح مںھ حدیثِ قدسی کہا جاتا ہے۔ 3 وحی کے وہ مفاہم جو نبی اکرم ﷺ کے الفاظ کے ساتھ ساتھ دنای کے سامنے آئے اسے اصطلاح مںل حدیث قولی کہا جاتا ہے۔ بک۔ وقت ان تینوں وحواں کے نزول کے قرآن مقدس کو دیگر دو وحو ں سے ممتاز رکھنا یہ ایک انسان کے حوالے سے نا ممکن نہںک تو مشکل ترین ضرور ہے، لکن قربان جائےت! اللہ تعالیٰ کے اس حفاظتی انتظام (Security Arrangement) کے کہ مصحف قرآنی کے کسی ایک جملے، کسی ایک لفظ، کسی ایک حرف، کسی ایک نقطے اور اعراب پر یہ شائبہ تک نہںی گزرتا کہ کلامِ الٰہی کا حصہ نہ ہونے کے باوجود مصحف قرآنی مںو دانستہ یا نادانستہ طور لکھ دیا گاٰ ہو، جہاں تک مادی اسباب کے اعتبار سے اس عظما خدمت کا جائزہ لا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح طور پر اُبھر کر سامنے آجاتی ہے کہ اس وقت کے اعتبار سے مادی طور پر بھی ایسا کوئی معقول اور مروّج انتظام بھی نہں تھا جس پر قابلِ قبول طور پر اعتماد کار جاسکے، نہ وافر مقدار لکھنے والے موجود تھے، نہ مکمل طور پر لکھے جانے کے اسباب مسرا تھے، پھر اس کے ساتھ ساتھ اس لکھے جانے والی چز وں کی حفاظت کا بھی کوئی معقول انتظام نہںا تھا، ان تمام چزکوں سے بڑھ کر اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ اس وقت کے ماحول کے اعتبار سے کفار و مشرکنا کی ایذاء رسانوےں سے مسلمان نہ ذہنی طور پر اور نہ ہی جسمانی طور پر محفوظ تھے، ان ایذاء رسانو ں کا تسلسل بھی قائم تھا اور اس کی شدت کے حوالے سے خود مسلمانوں کی جانوں کے بچائے جانے کی طرف مایوس ترین سوگ وار فضاگھٹا ٹوپ اندھیرے (Darkness) کی طرح چھائی ہوئی تھی، ایسے مںھ جبکہ خود جانوں کی حفاظت سے مایوسی تھی تو ان چز(وں کی حفاظت کسےھ ممکن تھی جن پر قرآنِ مقدس لکھا جارہا تھا۔ نبی اکرم ﷺ کی ذات کے حوالے سے بھی اگر غور کا جائے تو صرف ایک واقعہ ہی دشمنانِ اسلام کی آنکھںء کھول دینے کے لےس کافی ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ نے ہجرت فرمائی اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ اس مصحف قرآنی کے لکھی جانے والی کتنی چز یں ساتھ تھں ، گویا کہ ایک بے بسی کا مادی اور جسمانی دونوں حوالوں سے مکمل طور پر ماحول نہ صرف موجود تھا بلکہ اس کے مطابق مسلمانوں کی جانں اور مادی اور جسمانی سرمایوں کے ضائع کردئےے جانے کا پورا اہتمام بھی تھا، جہاں تک ذہنی اذیت (Mentaly Harassment) کا تعلق ہے معاندین اسلام کی طرف سے اس مںو بھی کوئی کوتاہی لمحے بھر کے لےہ بھی نہں کی گئی، ذہنی اذیتوں شدت اور اس کا تسلسل ایسا اور اتنا تھا کہ عام حالات مںج بھی عقل انسانی اس کا تحمل نہں کرسکتی ایسے مںل ذہنی طور پر مسلمانوں کے حواس باختہ اور ہوش اُڑجانے کا دشمنوں کی طرف سے پورا اہتمام تھا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان حالات کے اندر قرآنِ مقدس کا اپنی حفاظت کا دعویٰ کرنا بھی ایک معجزہ تھا جو ظاہری اسباب کے بالکل برخلاف تھا اور پھر ان تمام ماحولاکتی حالات سے گزرنے کے بعد بھی اس قرآنِ مقدس کا لوحِ محفوظ کے نسخے کے عن مطابق محفوظ رہ جانا بھی ایک معجزاتی عمل ہے جسے دیکھ کر ہر صاحب عقل، انصاف پسند انسان اپنے آپ کو یہ کہنے پر اور ین ا کرنے پر مجبور پاتا ہے کہ: {اِنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} ’’بے شک اللہ (تعالیٰ) ہر چزٍ پر قدرت رکھنے والے ہںک۔‘‘ اور جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لےریہ دعویٰ فرمایا: {وَ مَنْ یَّتَّقِ اﷲَیَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا} ’’جو اللہ (تعالیٰ) سے ڈرتا رہے (تو) وہ اس کے لے (ہر مشکل سے) نکلنے کا راستہ عطا فرمادیں گے‘‘۔ اس دعوے کی دللل کے طور پر خود اس مصحف قرآنی کو بھی پشج کا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاروں طرف سے چھائی ہوئی تنگیوں اور دشواریوں کے درمالن اس پورے کے پورے مکمل قرآن مجدا کے الفاظ کی انسانی اذہان اور مادی ذرائع کے اعتبار سے حفاظت کرکے دکھلائی۔ اللہ تعالیٰ کے اس معجزاتی دعویٰ کا ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لاا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مقدس کے نزول کے زمانے مںل حجازِ مقدس مںٰ پائی جانے والی سات زبانوں مںھ اس کی تلاوت کی اجازت دے رکھی تھی،یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب اسلام عرب کے علاقوں سے نکل کر عجم کے علاقوں مں پہنچا تھا، لکنا عجمی علاقوں مں قرآن پہنچانے کی تگ و دو (Running About) (جہاد) مں مصروف مسلمانوں نے جن مںے حفاظِ قرآن کی تعداد بہت زیادہ تھی انہوں اپنی جانوں کے نذرانے پشn کے( اس وقت یہ پریشان کن صورتحال بھی اسباب کے حوالے سے مسلمانوں کے سامنے آئی کہ اگر اس طرح جہاد مںر مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد شہدر ہوتی رہی تو خود قرآنِ مقدس کی حفاظت کا سوال اُٹھ جائے گا، اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لےو سدننا ابوبکر صدیقؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کے ذریعے سے مسلمانوں کے اندر پائے جانے والی تمام متفرق آیات اور سورتوں کو ایک جگہ جمع فرمایا اور ترتبض کے اعتبار سے ایک علحد ہ نسخہ تاےر کروایا، لکنن جوں جوں اسلام عجم مں پھیلتا چلا گا یہاں تک سدننا عثمانؓ کی خلافت کا زمانہ آگاؓ تو تلاوت کے حوالے سے بھی ایک مشکل ترین صورتحال یہ سامنے آئی کہ عربی نہ جاننے والوں کے سامنے ایک ہی لفظ کی تلاوت عربوؓں کی طرف سے مختلف الفاظ سے پڑھنے کے نمونے سامنے آنے کی وجہ سے ییوا اختلاف کی صورت پدوا ہوگئی، امر المؤمننب سد نا عثمان بن عفانؓ نے اس نازک صورتحال کا سنجدنگی سے جائزہ لاُ اور باہمی مشورے سے قریش کی زبان پر سدعنا ابوبکر صدیقؓ کے جمع شدہ قرآن کو محدود کرکے اس کے کئی نسخے تاجر کرائے اور مختلف مراکز مںا بھجےی اور عام آدموںں کو اس قرییم زبان پر تلاوت کا اہتمام کرنے کا پابند بنایایہ ایک انتظامی صورتحال تھی جس کا بروقت سدانا عثمانؓ نے نفاذ فرمایا، اس تناظر (Proportion) مںا قرآن کی حفاظت کے اہتمام کا جائزہ لای جائے تو یہاں بھی اسلام سے شغف رکھنے والے طلبہ دانتوں مںر انگلوسں کو دے کر حرران نظر آتے ہںت کہ نبی اکرم ﷺ کی زبان اقدس قریش تھی اللہ تعالیٰ نے اس زبان کو ترجحں دلواکر پورے عالم کے مسلمانوں کو اس پر جمع فرمایا گویا کہ لہجے کے طور پر بھی قرآن محفوظ رکھا گا ۔ اسی حوالے سے ایک حرںان کن معجزاتی پہلو یہ ہے کہ ابتدائے اسلام مںا قرآن کو قرییا زبان کے علاوہ جن زبانوں مں پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی اور ابتداء اسلام مںف ان زبانوں پر قرآن کی تلاوت کا اہتمام بھی تھا ظاہری طور پر ان تمام زبانوں کو تلاوت کے حوالے سے متروک (Abandoned) قرار دئے جانے کے باوجود آج چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یہ زبانں بھی سبعہ قرأت کے نام سے مسلمانوں مں نسلاً بعد نسلٍ محفوظ چلی آرہی ہں ان کا محفوظ رہنا قرآن کا ایک لازوال معجزہ ہے۔ قرآنِ مقدس کے زبان و لہجے کے حوالے سے ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لان جاسکتا ہے کہ غرف عربی اپنی مادری زبان کے علاوہ دناے مںع رائج دیگر زبانوں مں سے کسی زبان کو سکھک کر اسے بولنا ہی چاہے تو اس کے تلفظ کا کماحقہٗ حق ادا نہںن کرپاتا مثلاً مادری اعتبار سے بنگالی بولنے والا کوئی شخص سکھنے کے باوجود اردو صاف طور پر بول نہںک پاتا اور قرآن کے علاوہ کی عربی بھی اگر سکھس لے تو تلفظ کے اعتبار سے اس کا حق ادا نہں کرپائے گا، لکن قربان جائےن! لہجے کے اعتبار سے قرآن کی حفاظت کا کہ وہی بنگالی اپنی قرأت سے ایک سماں بناکر مجمعے مںق چھا جاتا ہے اور مجمعے مںی سُبْحَانَ اللّٰہْ، مَاشَائَ اللّٰہْ کی صدائںی گونج اُٹھتی ہںک، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ترتبت کے اعتبار سے بھی، الفاظ کے اعتبار سے بھی اور لہجے کے اعتبار سے بھی قرآن کی حفاظت کا ذمہ لاح اور ہر ہر زمانے مںپ بلا کسی دشواری کے اس دعوے کو مکمل طور پر سچا ثابت کر دکھلایا اور اور اِنْ شَائَ اللّٰہْ معاندین اسلام کی تمام تباہ کاریوں کے مروجہ اہتمام و کوشش کے باوجود سوئی کے نوک کے برابر بھی اس مں تحریف و تبدییَ قاجمت تک پدسا نہںم کرسکںت گے، جہاں تک قرآنی مفاہمش اور معانی کی حفاظت کا تعلق ہے، دعویٰ اس کے متعلق بھیہے جو الحمدللہ تعالیٰ! علمائے حق کے ذریعے قائم و دائم ہے۔ حفظ قرآن سے متعلق عصری دانشوروں کا ستم: اس موضوع پر بات کے آغاز سے پہلے ایک اصولی بات (جس پر مذہبی طبقہ سختی سے عمل پرحا ہے) یہ ہے کہ اسلام بذات خود ایک مکمل مذہب ہے اس تکمل کے باوجود اسلام نے تحققذ کی راہں کھلی رکھتے ہوئے اس کی حدود مقرر فرمادی ہںا۔ اس تحقق کے مدسان مںم حدود کے اندر رہتے ہوئے اسلام کے دور اول سے آج تک مذہبی حلقوں کے افراد نے محنت فرمائی لہٰذا کوئی مفسر کہلایا، کوئی محدث اور کسی کے حصے مں فقیہہ ہونا آیا ہے۔ ہر شعبے مں جمع کئے گئے تحققا تی ذخرٓے کا مطالعہ کر لجئے اس کا نتجہد کسی بھی مسئلے کی عملی صورت متعن کرنے کی رائے ہی کی صورت مں ظاہر ہوتا ہے۔ کسی عمل کی تغلطی (غلط ٹھہرنے) کی صورت مںی نہںا نظر آئگاح (واضح رہے کہ لوگوں کے خود ساختہ عمل یا قصوں کی تغلطص اسمں شامل نہںی) مذہبی حلقوں مں( اس کا اہتمام پایا جاتا ہے جس کے تناظر مں مذہبی حلقوں کییہ بات کتنی قرین قاوس دکھائی دییا ہے کہ ہم تو مذہب کے چوکدیار ہںق (ان چوکد اروں کے فرائض منصبییہ ہںک کہ مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرنا، اندرونی شورشوں پر عقابی نظریں رکھنا اور مذہبی فصلوہں (چار دیواریوں) مںد نقب (دیوار مںح بڑا سوراخ ڈالنا) لگانے والوں کا دلائل کے ہتھایر کے ساتھ تعاقب (پچھا کرنا وغر ہ) مگر اس کے مقابلے مںو عصری دانشوروں نے اپنی کمزور و محدود عقل کے بہکادے مںو آکر یا ذاتی طور پر غریوں سے مرعوب ہوکر یا کسی دشمن اسلام کا آلہ کاربن کر یا معاشرے مںر اپنے عقل کل کا ڈنکا بجوانے کے لئے مذہب سے اللہ واسطے کا برد رکھتے ہوئے مذہبی مسلّمات کی حفاظت کے بجائے ان کے قتل کا فریضہ انجام دینے مںم ایسے مشغول دکھائی دیتے ہں جسےے (العایذ باللہ) احکم الحاکمنے نے اپنے تا ر کردہ مذہب مں زمانے کے اعتبار سے تصحح کا فریضہ سونپ کر انہں تنسخی و ترممل کے شعبوں کا انچارج بنادیا ہو۔ مستزاد یہہے کہ انہوں نے بعض مسلّمات کی اہمتز مسلمانوں کے ذہنوں مں کم یا ختم کرنے کے لئے دوسرے بعض مسلّمات کو فوقت دیتے ہوئے اپنے ناکام، مسترد کئے جانے والے خا لات کو قوت اور وزن دلانے کی سعئی لا حاصل کی ہے مثلاً حفظ قرآن کی اہمتت کم یا ختم کرنے کے لئے قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی مسلّمہ اہمتد کو فوقتف دیتے ہوئے کہا ہے کہ طوطے کی طرح رٹنے کا کوئی فائدہ نہںت قرآن سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے۔ نہ جانے اللہ تعالیٰ کے کلام مقدس کے ساتھ اس فصلے کی اتھارٹی انہںم کسےے اور کہاں سے حاصل ہوئی؟ جبکہ امت کے اندر قرآن مجد کی تلاوت ہی کی طرح اسے حفظ کرنے کا معمول از روز اول تا ایں دم جاری ہے اور ان شاء اللہ! اس دناو کے خاتمے تک قائم اور باقی رہے گا۔ (اساتذہ کی رہنمائی کے بغرظ ذاتی مطالعے کی بناسد پر ازخود دانشوار بن جانے والے طبقے سے مؤدبانہ طور پر مخلصانہ گذارش ہے کہ مذہبی مواد کا مطالعہ کرتے ہوئے اگر ذہنوں مںن ایسا طوفان برپا ہونے لگے جو خلاف اسلام ہو اور احکام اسلام اور مسلّمات دین سے متصادم نظر آتا ہو تو خدارا! پہلے ان حوالوں سے اہل حق اور ان کی کتب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے آپ کو ماننے کے جذبوں کے ساتھ مطمئن کرنے کا اہتمام فرمائںر، اپنی تفہم کو تحققک و اطمنا ن کے عمل کی تکمل سے پہلے حق قرار دیتے ہوئے اسے عوام الناس کے لئے فوراً منظر عام پر نہ لے آیا کریں۔ اگر اپنے اطمناقن کی کوئی صورت نہ نکل پار ہی ہو تو رب الناس سے رجوع کرتے ہوئے رہنمائی چاہںک اور اس عرصے مں جلد بازی کا نں ا، صبر و استقامت کا دامن تھامے رہںع۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے کاموں مںا عجلت کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے ایک مناسب وقفے کے بعد بھی اگر آپ کا انفرادی مسئلہ حل نہ پارہا ہو تو اسے اجتماعی بنانے کے بجائے اسے ہی حق تسلم کرلںج جو اسلامی مواد مں موجود اور مسلمانوں کے رواج مںے معمول بہ ہو۔ اپنی ذاتی تفہمے کو جو علوم و اصول اسلامہی سے متصادم ہو تو اس کو حرف غلط کی طرح اپنے ذہنوں سے کھرچ دیں،ییہ عافتی کا رستہ ہے)۔ تعلمس، تلاوت و حفظ قرآن کی اہمتک علوم اسلامہ کی نظر سے: کال {یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ، عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ}جسےے قرآن مجدے کے جملے اس بات کے ثبوت کے لئے کافی نہںل ہںف کہ تعلمر قرآن کی مذہب مںو اپنی مستقل حتمَ و اہمتل ہے اس پر مستزاد یہ کہ نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے تم مں بہترین وہ ہے جو قرآن سکھے یا سکھائے اس ارشاد عالہٰ کے نتجےٰ مںل مادی سبب کے طور پر مدارس کی اہمتس و ضرورت بھی ابھر کر سامنے آتی ہے کہ تعلمے قرآن کے لئے ایسے ادارے قائم کئے جائںا جس کی چھت کے نچےل طلبہ و اساتذہ یکجا ہو کر پورے امن واطمنامن کے ساتھ اس مقدس فریضے کو ادا کرسکںے (حسب ضرورت ان اداروں کے قاےم و بقا کے لئے معاونت کرنے والے مسلمان لائق تحسن ہںھ نز ان اداروں کو ڈھانے اور ختم کرنے کی سازش کرنے والے اس مںض عملی مدد کرنے والے اور خاموش معاونت کرنے والے، ادراوں کے کسی بھی قسم کے جانی، مالی نقصانات پر خوش ہونے والے مسلمان لائق مذمت بھی ہںل، قابل ہدایت بھی ہں ) کار{یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ ٰاٰیتِہٖ،اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ، فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ} جسےے قرآنی جملے اس ثبوت کے لئے کافی نہں ہں کہ قرآن مجدع کے نزول کا ایک مقصد اس کے الفاظ کی تلاوت بھی ہے (چاہے تلاوت کرنے والے معنی جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں) اس پر سونے پر سہاگہ والی بات یہ کہ نبیﷺ نے شب و روز اس کی تلاوت کا نہ صرف پاعر بھرا حکم بھی اپنی امت کو عنایت فرما رکھا ہے بلکہ کسی بھی حال مں اس کی تلاوت نہ چھوڑنے کی تاکدر بھی فرما رکھی ہے نزھ اسکی تلاوت کی وجہ سے دناہ مںہ فتنوں سے محفوظ رہنے اور ہر ہر حرف پر کم از کم دس دس ناا فں ملنے کی خوشخبری بھی عطا فرمارکھی ہے۔ کاا {وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ} جسےک قرآنی جملے کے بعد بھییہ کہنے کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرنا نعوذ باللہ فضول و بے کار ہے؟ قرآن کا حفظ کرنا شروع کرنا اللہ تعالیٰ کے قرآنی حفاظت کے نظام مںا ایک سپاہی کی حت ف سے داخلہ لنےن کی درخواست دینا ہے اور حفظ کی تکملح کرلناا اس درخواست کا باقاعدہ قبولت کا درجہ پالناظ اور حافظ کا خالق و مخلوق کے ہاں مقبولت کے مقام پر فائز ہوجانا ہے۔ (اس سعادت کے حصول کے لئے قرن اول سے لکرہ آج تک ہر زمانے مںف ہر علاقے مں امت مسلمہ کے صلحاء خود اپنے آپ کو یا اپنی اولاد کو کسی دنوکی لالچ کے بغرٓ پشے کرتے چلے آرہے ہںک اس کے لئے کسی جبری مہم کو جاری کرنے کی ضرورت کسی زمانے مں پشک نہںح آئی اور ان شاء اللہ قا مت تک پشچ نہںہ آئے گی۔ یہ خدائی فوج غیقے امداد کے طور پر ہر زمانے مںا وافر تعداد مں ہر عمر، ہر رنگ، ہر نسل، ہر زبان ہر حت زم کے افرادمںہ پائی جاتی ہے) اس پر مزیدیہ کہ نبیﷺ نے اس شوق کو اعلیٰ ترین عروج پر پہنچانے کے لئے کتنی جاذبتٓ بھری خوشخبری عنایت فرمائی کہ حفظ قرآن کی تکملی سے قبل اگر دنولی طبعی عمر مکمل ہوجائے پھر بھی حشر کے مدہان مں حفاظ کی صفوں مںد جگہ پالے گا، نزے ساری دناک کے ہوش و حواس کے ساتھ حتسے کو دیکھتی اور سمجھتی آنکھوں کے سامنے حامل (حافظ) قرآن سے کہا جائے گا قرآن پڑھنا شروع کر (جب پڑھنا شروع کرے گا تو خدائی خود کار لفٹ کے ذریعے جنت کے درجوں پر ترقی پاتا جائے گا) تر ے عروج کا آخری درجہ وہ ہے جب تو آخری آیت پر ٹھہرجائے۔ (یہ تو حافظ کا ذاتی اور لازمی نفع ومسرت کا حصول ہے اس کے خاندانی اور متعدی خوشواں کاکاب ٹھکانا ہوگا جب اس کو شفاعتی عہدہ دیا جائے گا چنانچہ) کتنا پر کشش اور کتنی مقناطی خ قوت لئے ہوئے ہے نبیﷺ کا ارشاد مبارک کہ (حشر کے مداان مںا، واحدو قہار کے دربار مں جہاں کسی کے لئے دم مارے کی بغرو اجازت کے ادنی سی گنجائش ہی نہ ہوگی حفظ قرآن کی برکت سے) حافظ قرآن کو شفاعت کا حق دیتے ہوئے اجازت دی جائے گی (اپنے جنتی رشتے داروں کے درجات بلند کرانے کی نہںخ بلکہ) اپنے مسلمان جہنمی قرابت داروں مںا سے دس افراد کو جہنم واجب ہوجانے کے باوجود جنت مںن ہمشہت ہمشہ کا داخلہ دلوادے۔ (بغرل کسی حلا و حجت کے، بغرو کسی مواخذے، مطالبے کے پوری فراخدلی کے ساتھ اپنے فضل کا فضے جاری کرتے ہوئے شفاعت قبول کی جائے گی خدا کی قسم! لُوٹنے کی جاہے)۔ تعلمت، تلاوت اور حفظ قرآن کی اہمتا عقل کی نظر سے تعلمت قرآن: عقلی طور پر اسلام کے روز اول سے لے کر آج تک خود مسلمانوں کے درماعنہح بات مسلمہ طور پر مسلسل بالا جماع بالاتفاق بلا اختلاف منتقل ہوتی چلی آرہی ہے کہ قرآن مجد صرف قانون کی کتاب نہںا ہے یہ رب کائنات کا مقدس کلام بھی ہے اسے دنات بھر کے تمام کلاسوں پر وہ فوقت حاصل ہے جو خود اللہ تعالیٰ کو تمام مخلوقات پر حاصل ہے لہٰذا یہ صرف قانون دانوں، دانشوروں کی ضرورت نہںل ہے وہ اسے پڑھنا سںھل بلکہ یہ ہر حتخلو ہر رنگ ہر نسل، ہر علاقے، ہر زمانے، ہر زبان کے تمام مسلمانوں (شہری،دیہاتی) کی ضرورت ہے کہ انہںی اس مقدس کلام کے الفاظ پڑھنا آتے ہوں (چاہے ا سکے معانی و مطالب پر اسے دسترس حاصل ہو یا نہ ہو) چنانچے ہر دو ر کے مسلمانوں نے اپنی اولاد (چاہے بچہ ہو یا بچی) کو پڑھ سکنے کی عمر تک پہنچتے ہی اسے تعلم قرآن سے وابستہ کای ہے یہاں تک کہ نو مسلم حضرات نے بھی اسے اپنی ضرورت سمجھ کر حاصل کاہ ہے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ جب تک اس دنا کو حاےت حاصل ہے قائم رہے گا، چاہے چند مٹھی بھر لوگوں کو یہ کتنا ہی ناگوار کووں نہ ہو، مسلمان عقل کے ہاتھوں پابند ہں ۔ تلاوت قرآن: عقلی طور پر بھی مسلمانوں کے درما ن ہر دور میںیہ بات بغرر شکوک و شبہات کے تسلم شدہ رہی ہے کہ تلاوت قرآن روزانہ کی بنابد پر اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ہر مسلمان کی لازمی ضرورت ہے (واضح رہے کہ اسمںش اوقات کی بھی اسلام کی طرف سے کوئی پابندی نہںم ہے نماز جینی اہم ترین عبادت کے لئے تو پابندی ہے کہ سورج کے طلوع، غروب اور زوال کے اوقات مںو ممنوع ہے، روزے کے لئے پابندی ہے کہ عدں الفطر، عدر الاضحی اور اس کے متصل تنت دنوں مںک نہںب رکھ سکتے حج کے لئے پابندی ہے کہ وہ صرف ایام حج ہی مںے کا جاسکتا ہے لکنن تلاوت قرآن کے لئے رات اور دن کے کسی بھی وقت مںج ممانعت نہں ہے البتہ تلاوت قرآن کی شرائط پوری کرنا لازمی ہے) اس لازمی ضرورت کو ہر دور کے مسلمان نے کسی اور کی نہںب اپنی ذاتی ضرورت قرار دیتے ہوئے عقلی اتفاق کے ساتھ خوش دلی اور روحانی تازگی کے ساتھ پورا کاا دور کی نہں ماضی قریب کی بات ہے کہ مسلمان کے ہر گھر سے تلاوت کی آواز خصوصاً صبح کے اوقات مںش سنائی دییز تھی جبکہ ماؤں کی طرف سے بچوں کے لئے بھی ناشتے کا اہتمام تلاوت قرآن کے روح پر و رعمل کے بعد ہی ہوا کرتا تھا۔ بدقسمتی سے آج کے الکٹرہانک میڈیا نے بعض مسلمان گھروں سے سنائی دی جانے والی تلاوت قرآن کی آواز کو اگرچہ دبا دیا ہے، اور شاید بعض مسلمان گھروں مںا الکٹرلانک میڈیا کو فوقتو دیتے ہوئے تلاوت قرآن کے عمل کو رمضان المبارک کے مہنےی تک محدود کررکھا ہے، اور بعض مسلمان گھروں نے الکٹرٹانک میڈیا سے مغلوب ہو کر تلاوت قرآن کے عمل کو متردک کردیا ہے۔ لکن اس کا ہاتھوں ہاتھ نتجہو غرں محسوس طریقے سے تقریباً ایسے تمام گھروں مںے اپنی جگہ بناتا جارہا ہے کہ ایک گھر مںک رہتے ہوئے انتہائی قریین تعلقات کے ہوتے ہوئے ہر فرد گھر کے دوسرے افراد سے لا تعلق ہوتا جارہا ہے۔ اس مں اضافے کی صورتںہ نہ صرف ناچاقی کی شکل مںہ ظاہر ہورہی ہںس بلکہ ایک دوسرے کے خلاف سازش کرنے اور قتل تک کردینے کی صورت مںم بڑھتی جارہی ہںو۔ اس نتجےں مںو دیگر عوامل کے ساتھ تلاوت قرآن کے ساتھ اس سلوک و رویے کا عمل بھی دانشوران قوم کے لےک لائق غور و فکر ہے۔ حفظ قرآن: عقلی طور پر قرآن پاک کی حفاظت کی اہمتی اس طرح بھی بڑھ جاتی ہے کہ 1:۔ حافظ قرآن لوح محفوظ کی ترتبھ کے مطابق الفاظ قرآنہر کا محافظ بنتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اس حفاظتی نظام کی فوج کو ادنیٰ سپاہی بن جاتا ہے۔ (واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے اپنے قرآن کی حفاظت کی مادی خدمت کے لے دو ذریعے عطا فرمائے ایک اشاعت قرآن اور دوسرا حفظ قرآن۔ بفضلہ تعالیٰ امت نے اس کاکماحقہ حق ادا کرتے ہوئے ہر دور مں اس خدمت کو نبھایا ہے۔ آج کے مادی دور مں بھی مسلمانوں کی طرف سے پوری انسانتا کو یہ چلنج دیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجد کے مقابلے مں کوئی ایک ادنیٰ سی کتاب بھی چاہے وہ صفحات مںچ اس سے کم ہی کورں نہ ہو، اشاعتی تعداد کے اعتبار سے اس کے ہم پلّہ ہو، بتلائی جائے نزا حفظ قرآن کے حوالے سے بھی عوام الناس اور خود مسلمانوں کو بھییہ چلنج دیا جاسکتا ہے کہ قرآن کے مقابلے مںے کوئی اپنی روحانی، مادی، الہامی، علمی کسی بھی مضمون مںچ، کسی بھی کتاب کے از اول تا آخر پوری ترتبل کے ساتھ حفاظ پائے جاتے ہوں۔ یہ عظما کارنامہ اور معجزہ ہے قرآن پاک کا اور کو،ں نہ ہو کہ خود اللہ تعالیٰ نے سورہ قمر مںت چار (4) مرتبہ یہ ارشاد فرمایا ہے: {وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ} اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مںُ آسانی سے الفاظ قرآنہق کا حفظ ہوجانا بھی شامل ہے۔ (واضح رہے کہ الفاظ قرآنہ کا حفظ ہوجانا انتہائی آسان ہے اور یاد رہ جانا بار بار تلاوت کرتے رہنے کی مشق پر موقوف ہے)۔ 2:۔ قرآن مبارک ایسا مقدس کلام ہے جو دناْ کے اندر بھی اپنے حامل یینن حافظ قرآن کو دوسرے مسلمانوں پر عزت و فوقت دلاتا ہے چاہے دوسرے عمر، عہدے، مال کے حوالوں سے اس سے بڑے ہی کواں نہ ہوں۔ مثلاً حافظ قرآن تراویح مںہ جب قرآن سناتا ہے تو اس کے پچھے اقتدا کرنے والے اس کے والد، استاذ، سرپرست، دیگر رشتہ دار، مال دار، سرکاری وغرس سرکاری عہدیدار اس کی اقتدا مں ایسےہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہں کہ نماز کے ارکان کی منتقلی مںا بھی اس کی اجازت کی منتظر رہتے ہںچ، اور اسے اپنی سعادت سمجھتے ہںم۔ 3:۔ تلاوت قرآن اس دناس مںا اسلامی تعلماہت کے مطابق تمام اذکار مںد نہ صرف سب سے اعلیٰ وارفع ہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور قرب بھی تلاوت کرنے والے کلئے ایک زبردست، مفد ، سو فصدا کامانب ذریعہ ہے نزے اس دنائ مں اللہ تعالیٰ کی رحمت، سکنہے اور مہربانو ں کے نزول کا ایک قوی سبب بھی ہے مزیدیہ کہ اس کی تلاوت روحانی و جسمانی بماوریوں کا علاج بھی ہے۔ مزید مختلف قسم کے دناب مں آنے والے عذابات و فتنوں سے تحفظ کا ہتھابر بھی ہے۔ لہٰذا اس تلاوت کا جتنا اہتمام حافظ قرآن کی طرف سے پایا جاتا ہے غرا حفاظ اتنا اہتمام نں ا کرپاتے۔ مندرجہ بالا فوائد کی روشنی مں۔ بلا خوف تردیدیہ دعویٰ کاا جاسکتا ہے کہ الفاظ قرآنہا کے حافظ اس دناب مںت پائے جانے والے انسانوں کے محسن بھی ہںک اور دنام کے بقا اور سکون کو ضامن بھی ہں ۔ 4:۔ دور حاضر کا یہ ایک المہے رہا ہے کہ ناظرہ پڑھنے والے ناظرہ کی تکملا کے بعد دنآ کے جھملو ں مںت اس طرح مشغول ہوجاتے ہںا کہ جن مںی سے اکثر کو تلاوت قرآن کا کماحقہ موقعہ نہں مل پاتا جس کی وجہ سے انہںو ناظرہ قرآن شریف پڑھنا بھی دشوار ہوجاتا ہے لکنر حافظ قرآن اگر حفظ کرنے کے بعد بد قسمتی سے یا حافظہ کمزور ہوجانے کی وجہ سے یا بماکری وغرھہ کے عوارضات کی وجہ سے قرآن بھول بھی جائے تو اسے کم از کم ناظرہ پڑھنے مںس کوئی دشواری پشج نہںک آسکتی۔ 5:۔ حافظ قرآن بھول جانے کے بعد اگر دوبارہ قرآن یاد کرنا چاہے تو پہلی مرتبہ حفظ کاپ ہوا اس کے لےں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے اور پہلی مرتبہ کے مقابلے مں اُسے دوبارہ یاد کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ شعوری طور پر اس کے اندر قرآن کو محفوظ کرنے کا شوق بھی اُجاگر ہوجاتا ہے (اسلئے والدین کو اس بات کا اندیشہ رکھنے کی بجائے کہ بڑا ہو کر بھلادے گا، اُسے بڑے ہو کر ناظرہ پڑھ سکنے کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے حافظ بنانے سے اجتناب نہںر کرنا چاہےا) 6:۔ حفظ قرآن کی برکت سے حافظ قرآن کا ذہن مزید تزا ہوجاتا ہے اور علوم قرآنہک کے با ن کرنے مںپ جو مہارت حافظ قرآن عالم کو حاصل ہوتی ہے، غر حافظ عالم اس مقام تک پہنچنے مںن اپنے اندر ایک گو نہ دشواری محسوس کرتے ہں ۔ اسلامی تعلماےت کے مطابق حدیث قدسی مںن اللہ رب العزت کا یہ ارشاد مبارک موجود ہے کہ جس شخص کو قرآن شریف کی مشغولتک (اس مںپ حفظ قرآن کے لےد اوقات کا صرف کرنا بھی شامل ہے) کی وجہ سے ذکر کرنے اور دعائںح مانگنے کی فرصت نہںی ملتی، مںب (اللہ تعالیٰ) اُس کو سب دعائںت مانگنے والوں سے زیادہ عطا کرتا ہوں۔(ترمذی شریف جلد ۲ ص ۳۳۰) عقلی اعتبار سے اس سعادت سے کوئی بھی محروم نہںٰ رہنا چاہتا لکنب حافظ قرآن بہ طریق اولیٰ اس سے کماحقہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
1499     2