(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
تلاوت قرآن مجید اور امت مسلمہ
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ تلاوت قرآن مجدُ اور امت مسلمہ قرآن مجدٓ کی تلاوت بلاشبہ ذکر اللہ کی قسموں مں سے سب اعلیٰ ،ارفع اور بلند ترین قسم ہے۔ قرآن مجدا کے نزول کے دن سے آج تک دناج بھر کی تمام جگہوں مں بسنے والے، ہر ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے، کسی بھی زبان کے بولنے والے، کسی بھی حت ا سے واسطہ رکھنے والے، کسی بھی صنف سے وابستگی دئے گئے، بلوغ و شعور کی کسی بھی عمر تک رسائی حاصل کرنے والے مسلمان افراد قرآن مجدْ کی تلاوت کو قرآن مجدف کا حق سمجھتے ہوئے کسی نہ کسی درجے مںا اسکا اہتمام رکھے ہوئے ہں ۔ گویا کے مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجد صرف قانون کی کتاب نہںے ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مقدس کلام ہے جس کا دیکھنا، چھونا، پڑھنا، پڑھانا، سننا، سنانا، یاد کرنا، سکھناو، سکھانا عبادت اور باعث اجر ہے۔ قرآن مجدن کی تلاوت امت محمد یہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا خاصّہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اسکی تلاوت کے لئے کسی وقت یا جگہ کو مخصوص نہںی کای گاا۔ رات دن کے چوبسو 24 گھنٹوں کے تمام لمحات مںق تمام پاک افراد (مسلمان مرد و عورت) کسی بھی پاک جگہ بیٹھ کر نماز یا غر نماز مںس کھڑے ہو کر، پد لال کسی سواری پر سوار ہوکر، بستر پر لٹےت ہوئے زبانی باوضو یا بے وضو اس کی تلاوت کرسکتے ہیںالبتہ نماز پڑھنے اور قرآن مجد کو ہاتھ لگانے کے لئے پاک افراد کا بھی با وضو ہونا ضروری ہے نزپ ناپاک جگہوں پر اس کا لجاتنایا وہاں اس کی تلاوت کی اجازت نہں ہے۔ (ایسا کرنا صرف خلاف ادب نہںا بلکہ گناہ کبر ہ ہے) قرآن مجدو کی تلاوت کے اہتمام کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی ایک اور خصوصیتیہ بھی ہے کہ وہ اپنے نابالغ بچوں مں لازمی طور پر قرآن مجد پڑھ سکنے کی صلاحیت پداا کرانا اپنا اہم ترین فریضہ سمجھتی ہے چنانچہ اس کے لئے کسی بھی مخصوص طبقے کو نہ مسلمانوں کی طرف سے ذمہ دار ٹھہرایا گاس ہے، نہ ہی قدرتی طور پر کسی طبقے کو اس مقصد کے حصول سے محروم رکھا گا ہے۔ مذہبی طبقے نے بھی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ہر سطح پر اس کا معقول و مناسب اور کامارب اہتمام و انتظام قائم کر رکھا ہے، تمام مساجد مںگ مکاتب قرآنہ قائم ہںا۔ تقریباًہر محلے مںط حفظ و ناظرہ کی درس گاہں کھلی ہوئی ہںگ۔ تقریباً ہر شہر مںا شہر کی ضرورت کے مطابق دییق کتب پڑھانے کے مدارس و جامعات کا نظام بھی جاری ہے جن مںح مستقل طور پر حفظ و ناظرہ کی علحد ہ کلاسںے بھی ہوتی ہں،۔ مسلمانوں کے مزاج اور بچوں کی نفسامت کو دیکھتےہوئے ابتدائی طور پر گھروں پر ٹو شن پڑھانے والے بھی بآسانی دستایب ہںئ۔ (اگر چہ اس آخری صورت مںک طرفنم کی طرف سے چند قابل اصلاح صورتںم بھی سامنے آئی ہں جن کی تفصیلات علحدیہ مضمون کا تقا ضہ کرتی ہںو)۔ قرآن مجدا کے ساتھ امت مسلمہ کی وابستگی کا نتجہگ ہے کہ قرآن مجدٓ کو دناد بھر مںا سب سے زیادہ پڑھی اور پڑھائی جانے والی کتاب کا درجہ بلامبالغہ حاصل ہے، یین نہں بلکہ یہ بات بھی بآسانی کہی جاسکتی ہے جسے ٹھکرایا جانا نا ممکن ہے کہ مادیت اور مصبتس کے اس دور میںبھی دناس بھر مںف کہںا نہ کہںر ہر وقت اس کی تلاوت کا عمل مسلمانوں کی طرف سے جاری رہتا ہے۔ ییھ وجہ ہے کہ قرآن مجدج کی طباعت و اشاعت دنان بھر مںر دنا کی الہامی وغرا الہامی کتاب پر فوقتی اور سبقت لئے ہوئے ہے، اس دعوے کو بھی جھٹلایا جا سکنا محال ہے اس لئے کہ اس بات کا ثبوت کہںم بھی نہںن ملتا کہ مسلمانوں کے درماین قرآن مجدو کو رَدِّی مںہ بچنے یا خریدنے کی نوبت آئی ہو اور قرآن مجدث کی طباعت و اشاعت کا سلسلہ رک گا ہو۔ (تسے پاروں پر مشتمل یہ کتاب مکمل طور پر مختلف سائزوں مںٓ ایک ہی جلد مں بھی مارکٹا مںا دستا ب ہے اور ایک ایک اور پانچ پانچ سپارے علحدلہ علحد ہ جلدوں مں بھی ملتے ہںع اور شاید ایسا پڑھنے والوں اور بچوں کی تعلم کے حوالے سے بعض باتوں کے پشا نظر ان مشکلات کو دور کرنے کے لئے کاج گاے ہے)۔ واضح رہے کہ قرآن مجدک کی طباعت و اشاعت ہو یا تعلم و تلاوت ہو، وہ عربی (حضرت عثمانؓ کے نسخے کے مطابق) کے علاوہ دوسری کسی زبان مں جائز نہںط نزی عربی متن کے بغرت کسی بھی زبان مںم صرف قرآن مجدو کا ترجمہ بھی شائع کرنا جائز نہںق۔ نزی حضرت عثمانؓ کے نسخے مںہ سے کسی حرف، حرکت (چاہے وہ پڑھنے مں آئے یا نہ آئے) کو حذف کرنا یا آسانی کے لئے اسمںج اضافہ کرنا بھی نا جائز ہے البتہ غر عرب مسلمانوں کی تلاوت مں آسانی کے لئے حرکات (زبر، زیر، پشؓ وغراہ) لگانے کی اجازت ہے۔ فضائل تلاوت قرآن: تلاوت قرآن مجدو کے حوالے سے بعض ذہنوں میںیہ غلط فہمی پد ا ہوئی اور انہوں نے اسے عوام مں پھیلاتے ہوئے عام بھی کاقکہ مطلب و معنی سمجھے بغرڑ پڑھنا اور طوطے کی طرح رٹنا بے سود ہے۔ لکن کسی بھی دور مںا عام مسلمانوں نے بھی ان کی اس بات پر توجہ نہںو دی اور اسے فضول بات جتنی بھی اہمت نہں دی۔ اس لئے کہ وہ اپنے آقا ا کے تلاوت قرآن سے متعلق ارشادات کو (جسمیں سمجھے یا بے سمجھے کی کوئی قد نہں ہے) اپنے دل و دماغ کی تمام سطحوں پر خوب اچھی طرح نہایت مضبوطی سے (بطور ناقابل تبدیل، ناقابل ترممم، ناقابل تنسخن) جماچکے ہںں۔ ان ارشادات مںو سے چند درج ذیل ہں : 1۔: تم مں، سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن شریف کو سکھےو اور سکھائے ۔(بخاری شریف) 2۔: اس شخص پر حسد (بمعنیٰ رشک) کاہ جاسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی تلاوت عطا فرمائی اور وہ دن رات اسمںے مشغول رہتا ہے۔ (بخاری شریف) 3۔: قرآن شریف کو سکھوو پھر اس کو پڑھو۔(ترمذی) 4۔: نماز مںر قرآن شریف کی تلاوت بغرو نماز کی تلاوت سے افضل ہے اور بغرش نماز کی تلاوت تسبحخ و تکبرر سے افضل ہے۔(بیقھ ) 5۔: کلام اللہ شریف کا حفظ پڑھنا ہزار درجے ثواب رکھتا ہے اور قرآن پاک مںا دیکھ کر پڑھنا دو ہزار درجے تک بڑھ جاتا ہے۔(بیقو ) 6۔: تلاوت قرآن کا اہتمام کرو کہ دناف میںیہ نورہے اور آخرت مںی ذخروہ۔(ابن حبان) 7۔: کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے گھروں مں سے کسی گھر مںل مجتمع ہو کرکتاب اللہ کی تلاوت کرتی ہے ان پر سکنہی (خصوصی رحمت) نازل ہوتی ہے اور رحمت ان کو ڈھانپ لیٰا ہے ملائکہ رحمت ان کو گھیر لتے ہںت اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر (تعریف کے ساتھ) ملائکہ کی مجلس مںی فرماتے ہںز۔(ابوداؤد ومسلم) 8۔: کلام اللہ کا آواز سے پڑھنے والا اعلانہا صدقہ کرنے والے کے اور آہستہ پڑھنے والا خفہا صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔(ترمذی ابوداؤد نسائی) 9۔: جو شخص سورۃیٰسین کو شروع دن مںا پڑھے اس کی تمام دن کی حاجتں پوری ہوجائں۔۔(دارمی) 10۔: جو شخص ہر رات کو سورۂ واقعہ پڑھے اس کو کبھی فاقہ نہںپ ہوگا۔(بیقا ) تلاوت قرآن مجدو کا معمول: تلاوت قرآن مجدٓ کا ازابتدا تا آخر ترتبس سے روزانہ کی بناہد پر مکمل کرنے کا معمول مسلمانوں کے درماڑن اپنی اپنی ہمت و نشاط کے حوالے سے مختلف رہا ہے۔ ایسے لوگوں کے نام بھی تاریخ نے محفوظ کر رکھے ہں۔ کہ انہوں نے ایک رکعت اور ایک رات مںا مکمل قرآن مجد کی تلاوت کی اور ایسے بھی گذرے ہںے جنہوں نے ایک ہی رات مںن ایک سے زائد مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا۔ امام شافعیؒ کا معمول غرا رمضان مںت روزانہ ایک اور رمضان مںب دو مرتبہ ختم کرنے کا تھا، امام ابو حنفہؒ رمضان شریف مںھ ایک ختم تراویح مں فرماتے اس کے علاوہ ہر رات اور دن مںو ایک ایک ختم فرمایا کرتے تھے۔ تلاوت قرآن مجدے کے حوالے سے بعض علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ چالسض 40 دن سے زائد کا عرصہ ایک قرآن شریف کی تلاوت مں خرچ نہںت ہونے چاہئںس۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ ہر مہنےم ہںذ ایک ختم ہونا چاہئے۔ صحابہؓ کا عمومی معمول سات دن کا تھا، جمعے کے دن سے ابتدا ہو اور جمعرات کے دن تکملی۔ ایک عام مسلمان کے حوالے سے امام ابو حنفہؒد نے تلاوت کی کم سے کم مقدار اتنی بتلائی ہے کہ سال بھر مںت دو مرتبہ تکملے ہو جائے۔ تلاوت ہی کے ضمن مںغ ایک روایت اس طرح بھی نقل کیجاتی ہے کہ کلام پاک کی تلاوت کی تکملک اگر دن کے شروع مںا ہو تو تمام دن اور رات کے شروع مںی ہو تو تمام رات ملائکہ اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہں ۔ اس روایت کی روشنی مں ملائکہ کی دعاؤں کے حریص لوگوں کا نظریہ ہے کہ گرمی کے دنوں مںا دن کی ابتدا مںت تکملر ہو اور سردیوں مں تکملی شروع رات مںا ہوا کرے تاکہ ملائکہ کی دعاؤں کا زیادہ سے زیادہ وقت نصبد ہوجائے۔ (خدا کی قسم! لُوٹنے کی جاہے) تلاوت قرآن مجدر کسے کہتے ہںں؟ تلاوت کے لغوی معنیٰ ’’پڑھنے‘‘ کے ہںم۔ اصطلاح شریعت مںا قرآن شریف پڑھنے کے لئے یہ لفظ مخصوص ہے اور اس طرح زبان سے پڑھنے کو کہا جاتا ہے کہ ہونٹ بھی ہلںر (حرکت مںص رہں ) نزج آواز کم از کم اتنی مقدار مںل ہو کہ پڑھنے والا خود سن سکے۔ نماز کے حوالے سے بھییہمسئلہ ہے کہ نماز کے اندر کے وہ تمام مقامات جن مںر آہستہ پڑھنے (بغرا آواز پڑھنے) کو کہا جاتا ہے ان میںبھی زبان سے اس طرح پڑھے کہ ہونٹ بھی ہلںا اور اپنی آواز خود سن لے۔ (واضح رہے کہ صرف دل مںن پڑھنے یا آنکھوں سے کتاب دیکھنے کو تلاوت نہںا کہا جاتا) کی ک تلاوت شریعت مںے مطلوب ہے؟ اس عنوان کے تحت تفصیلات نہایت طویل ہں ، عوام الناس کے لئے اس کا خلاصہ اتنا کافی ہے کہ سدںنا حضرت عثمانؓ نے اپنے زمانہ خلافت مںا قرآن مجدح کی تلاوت کے حوالے سے امت کو ایک لغت پر جمع فرمایا تھا اور اسکا ایک نسخہ لکھوا کر سب جگہوں کے حکام کو بھجوںا کر یہ حکم جاری فرمایا تھا کہ اس کے علاوہ کے نسخے جس جس کے پاس ہوں وہ حکومت کو واپس کردیں آج کے بعد ہر تلاوت کرنے والا صرف اور صرف اسی لغت کے مطابق تلاوت کریگا (واضح رہے کہ اس سے پہلے علاقائی عربی زبانوں کے اعتبار سے سات لغتوں مں پڑھنے کی اجازت تھی لکنا غرہ عربوں کے اسلام مں داخل ہونے کے بعد ناواقفتس کی بنا پر مسلمانوں مںے اختلاف کی صورتںغ نمایاں ہونے لگی تھںہ) اسوقت سے لے کر آج تک امت کا اس نسخے پر اتفاق ہے کہ اس عثمانی نسخے کے مطابق ہی نہ صرف تلاوت بلکہ من و عن بالکل اسی طرح اسی رسم الخط مں لکھنا، لکھوانا، چھاپنا، چھپوانا، سکھنار، سکھانا لازمی ہے تاکہ عوام الناس مںں اس حوالے سے کوئی پریشانی نہ پھلے اور ان مںک بدمزگییا بدعقدسگی کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ الحمد للہ! سد نا عثمانؓ کے اس فصلےس سے قاامت تک کے لئے اس پریشانی اور جھگڑے کا خاتمہ بھی ہوگا اور قرآن مجددمں اس راستے سے تحریف (دانستہ تبدیی ) کا دروازہ بھی بند ہوگا ۔ قرآن مجدہ عربی زبان مںز نازل ہوا ہے (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مں نازل ہونے والے اس قرآن کی زبان ناقابل تبدیل ہے۔ جو حرف، جو حرکت، جو لفظ، جو جملہ، جو قصہ، جو ترتب جیوا اور جہاں ہے، اٹل اور اٹوٹ ہے جبکہ سعودی عرب کی مقامی اور علاقائی عربی مںج بھی دیگر زبانوں کی طرح نہ جانے کتنی، کہاں کہاں اور کیمق کییا وقت کے تقاضے اور ضرورت کے مطابق تبدیای،ں لائی جاتی رہتی ہںر) عربی مںہ نازل ہونے والے اس قرآن کو اسی زبان مںا پڑھنے پڑھانے کا واضح حکم ہے، اسی طرح عربی زبان مںئ بھی اس کے ہر ہر حرف کو اس پر آنے والی حرکت کے مطابق واضح کرکے پڑھنے کا بھی حکم ہے جس کو اصطلاح مںا ترتل کہا جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن کی عربی پڑھنے کے حوالے سے نورانی قاعدے کے علاوہ بھی اردو زبان مں بھی کئی کتابں لکھی گئں۔ اور وہ مارکٹ مںب دستاپب بھی ہںع اس کے باوجود یہ ایک ناقابل تردید حققتں ہے کہ صرف ان کے مطالعے سے کماحقہ قرآن پڑھنا سکھنا مشکل ہی نہںن، ناممکن ہے۔ آسانی سے سکھےو اور پڑھے جاسکنے والی اس کتاب کو سکھنے کا آسان ترین راستہ یہ ہے کہ اسے ان کتب کی روشنی مں مستند ماہر مشاق استاد کی نگرانی مں مکمل اتباع کے ساتھ سکھا جائے۔ تلاوت کی مطلوبہ خوباکں: 1۔: نہایت خشوع خضوع اور وقار کے ساتھ تلاوت کرنا۔ 2۔: نہایت عمدگی کے ساتھ پورا پورا پڑھنا، الفاظ چبا چبا کرنہ پڑھنا 3۔: اچھی آواز سے خوبصورتی اور عربی لہجے کے ساتھ پڑھنا۔ 4۔: تمام حروف واضح اور صاف ادا کرنا۔ 5۔: جو جو قواعد جہاں جہاں کے لئے بتلائے گئے، انہںو ان ہی مواقع پر ادا کرنا۔ 6۔: ہر ہر حرف کو اس کے حق کے مطابق بغرے کمییا اضافے کے پڑھنا۔ 7۔: ہر ہر حرف کی صفات اور ان کے مخارج کی رعایت رکھتے ہوئے، وقوف (ٹھہرنے، نہ ٹھہرنے کے مقامات) کی حفاظت کرتے ہوئے پڑھنا۔ تلاوت مںا قابل ترک برائااں: 1۔: گانے کی طرز پر پڑھنا جس مں آواز کو نچانا بھی شامل ہے جسے ترقیص کہتے ہںن نزح قواعد موسیقیہ کی پابندی کرتے ہوئے پڑھنا بھی اسمں شامل ہے اسکو نغمہ کہتے ہںک۔ 2۔: مستقل اییب آواز بنا کر پڑھنا جسےب کوئی رو رہا ہو۔ 3۔: پہلے حرف کو ادھورا چھوڑ کر دوسرا حرف شروع کردینا۔ 4۔: حرکات کو واضح اور پورا ادانہ کرنا۔ 5۔: حرف کو چبا چبا کر پڑھنا۔ 6۔: آواز کو بغرب ضرورت لمبا کرنا کہ ایک حرف دوسرے حرف مں اور ایک حرکت دوسری حرکت مںے ملتی ہوئی محسوس ہوں۔ 7۔: حروف کی ادائیان مں حد سے زیادہ اور اتنی دیر کرنا کہ کلمہ پورا ہونے سے پہلے سانس توڑ دینا اور اس سے آگے سے پڑھنا شروع کردینا۔ 8۔: آواز کو مد کی مقدار سے زیادہ کھنچنا ۔ 9۔: آواز کو حلق مںک پھراتے رہنا۔ 10۔: مدات اور حرکات مںد آواز کو ہلانا۔ 11۔: بے موقعہ غنہ کرنا اس کو صر صرہ بھی کہا جاتا ہے۔ 12۔: پڑھنے مں اتنی جلد بازی کرنا کہ حروف علحداہ علحد ہ سمجھ مں نہ آئںس۔ 13۔: ہر حرف مںح ہمزہ کی آواز نکالنا۔ 14۔: ہمزہ کو عنر کی طرح پڑھنا۔ 15۔: جہاں ادغام جائز نہ ہو وہاں ادغام کرنا (قواعد کے مطابق بعض جگہ پہلے ساکن حرف کو اگلے متحرک حرف مںہ داخل کرکے اس پر تشدید لگانے کو ادغام کہتے ہںر)۔ 16۔: مخفف حروف کو مشدد پڑھنا جس لفظ مںں کسی حرف کو کم کرکے مخفف کاح گاک ہو اسے تشدید والا بنا کر پڑھنا۔ تلاوت کے دوران درماحن مں ٹھہرنے یا نہ ٹھہرنے کے نشانات: قرآن مجدر با معنی عبارات کا مجموعہ ہے اور کسی عبارت کے پڑھتے ہوئے اس احتاوط کی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ معانی تبدیل نہ ہو جائںی اس لئے جملہ پورا کرکے رکنا پڑتا ہے۔ کبھی عبارت پڑھتے ہوئے ادھوری بات پر سانس ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے موقع پر ٹھہرنا بھی معنی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ غرع عربی دانوں کی اس کمزوری کے پشش نظر محققنپ نے بعض علامتںہ طے کرکے اس کے مقاصد بھی بتلائے ہںن اور عبارت کے درما ن اسے لکھا ہے تاکہ قواعد کے خلاف پڑھنے سے بچا جاسکے۔ ان علامتوں مںی سے چند درج ذیل ہںل: - 1 o قرآن مجد مںا عبارت کے درما ن گول حلقے کا نشان بنا ہوا ہوتا ہے اسی کے موافق قرآن مجد کی آیتوں کا شمار کاو گاد ہے جو مشہور قول کے حوالے سے چھ ہزار چھ سوچھاںسٹھ (6666) ہںل۔ یہ اس بات کا نشان ہے کہ پڑھتے ہوئے یہاں ٹھہرنے مںب کوئی مضائقہ نہںر ہے بلکہ اس جگہ ٹھہرنا سب سے زیادہ پسندیدہ، سب سے زیادہ اچھا اور مستحب ہے۔ گول دائرے مںع جو گنتی لکھی ہوتی ہے وہ سورت کی آیت نمبر ہوتی ہے۔ م۔ آیت کے درماین بعض مقامات (جو محققنت کے شمار کے مطابق بااسی (82) یا پچاسی (85) جگہ ہے) پر م (مم ) لکھا ہوتا ہے اس کا مطلب ہے یہاں لازمی طور پر سانس توڑتے ہوئے ٹھہرنا چاہےد ورنہ معٰنی کے بدل جانے کا خدشہ ہے ا س لئے قرآن مجدب مںھ ایسے تمام مواقع پر حاشئے مں بھی وقف لازم لکھا جاتا ہے۔ ط۔ یہ وقف مطلق کی علامت ہے جہاں ٹھہرنے کی ضرورت ہو تو ٹھہرنے مںں کوئی حرج نہںم ہے (محققنے کے شمار کے مطابق ان کی تعداد تنم ہزار پانچ سو دس (3510) ہے۔ ج۔ یہ وقف جائز کا نشان ہے (جو محققنچ کے شمار کے مطابق ایک ہزار پانچ سو اٹہتر (1578) جگہ ہے) اس نشان پر ٹھہرنے نہ ٹھہرنے دونوں کی اجازت ہے۔ لا یا لا: اس کو وقف قبحو کہتے ہںم (جو محققنک کے شمار کے مطابق ایک ہزار ایک سو پچپن (1155) جگہ ہے۔ بعض جگہوں پر یہ علامت آیت کے نشان لا(O) پر ہوتی ہے اور بعض جگہوں پر یہ عبارت کے درماان۔ آیت کے اوپر ہوتو ٹھہرنے کی اجازت ہے اور عبارت کے درماان ہو تو ہرگز نہں ٹھہرنا چاہے ۔ س یا سکتہ اس کا مطلب ہے کچھ لمحات کے لئے یہاں سانس توڑے بغرم رکے۔ وقفہ سکتے سے کچھ زیادہ دیر ٹھہرے لیکنیہاں بھی سانس نہ توڑے۔ اَنَابعض لفظوں مںی ایک حرف ایسا بھی ہوتا ہے جو لکھا ضرور جاتا ہے لکنہ پڑھا نہںا جاتا ایسے حرف کے بالکل اوپر بہت چھوٹا سا گول دائرہ بنا دیا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حرف کو نہںڑ پڑھنا۔ سانس توڑنے یا رکنے کا طریقہ: تلاوت کے دوران بار بار سانس توڑنے یا ٹوٹنے کی نوبت آتی رہتی ہے اس کا طریقہ ماہرین نے یہ بتلایا ہے کہ جس لفظ پر سانس توڑے یا ٹوٹے اس لفظ کے آخری حرف کی حرکت اگر اس پر حرکت پہلے سے ہو، اسے نہ پڑھے بلکہ اس آخری حرف کو ساکن پڑھے۔ اگر آخری حرف پہلے سے ساکن ہو تو اسے ساکن ہی پڑھے اس کے بعد آگے پڑھنے کا طریقہیہ ہے جہاں سانس ٹوٹا ہے وہاں سے پہلے کے چند کلمات ملا کر دوبارہ پڑھے۔ دوبارہ پڑھتے ہوئے آخری حرف کی اصل حرکت کو بھی پڑھے، ایسا کرنے کی ضرورت تب پشل آتی ہے جب آیت کے درماکن ٹھہرنے کی نوبت آئے ورنہ آیت اور جن جن علامات پر ٹھہرنے کی اجازت ہے وہاں لوٹانے کی ضرورت نہںن صرف آخری حرف کو ساکن پڑھے۔ اگر ایسے لفظ پر سانس ٹوٹنے کی نوبت آئے جس کے آخری حرف پر دو زبر لگے ہوئے ہوں تو ٹھہرنے کی صورت مںج وہ دو زیر الف سے بدل جائںس گے: اسی طرح اگر آخری حرف گول (ۃ) ہو تو وہ (ہ ، ہا) سے بدل جائے گی۔ ایک امتیاز: الف پر کبھی کوئی حرکت (اعراب) نہں آتی اگر آجائے تو الف ہمزہ سے بدل جاتا ہے، الف لکھے جانے کے باوجود ہمزہ پڑھا اور کہا جاتا ہے۔ ایک عجبے لطافت: تلاوت قرآن مجدے کرنے والوں کو عموماً دیکھا گاح ہے کہ وہ تلاوت شروع ہوتے ہی اپنے آگے اور پچھےن کی طرف ہلنا شروع ہوجاتے ہںک اور تلاوت کی تکملو تک یہ عمل جاری رہتا ہے اور اس مںہ عمر اور صنف کی بھی کوئی قدہ نہں ہے واضح رہے کہ ایسا کرنا، نہ کوئی شرعی حکم ہے، نہ ہی تجویدی قواعد کا تقاضہ ہے، نہ کسی قاری (بزرگ) کی نقل ہے، نہ کسی کے ذوق کا اتباع ہے، نہ انہماک اور توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، نہ تلاوت کے ساتھ اس کا کسی قسم کا جوڑ ہے، نہ ہی تلاوت کرنے والے کا اختا ری عمل ہے۔ نہ ہی استاد کی ہدایت کا نتجہ ہے۔ نہ یہبھید کسی پر کُھل سکا ہے۔ یہ توبے اختاےر، اضطراری، بے ضرر، خود کار اور قدرتی فعل ہے جسے دنا بھر مںر کہںک روکا بھی نہں جاسکا، نہ روکنے کی طرف کوئی انفرادییا اجتماعی کسی کوشش کا خاطر خواہ کوئی نتجہ برآمد ہوسکا ہے اس لئے امت نے بھی اسے قبول کرلاہ ہے جس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہںا کہ نہ ہلنے والے کو زبردستی ہلنے کو کہا جائے گا۔ تلاوت قرآن مجدس کرنے والے سے متعلق ہدایات: 1:۔ تلاوت قرآن مجدر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرے، کسی مادّی اشاوء کے حصول کی نتا نہ کرے جسمیں شہرت، عزت وغرئہ بھی داخل ہے۔ 2:۔ نہایت اطمنارن کے ساتھ باوضو ہو کر (ہوسکے ممکن ہو تو) قبلہ رخ بٹھے تلاوت کے دوران اِدھر اُدھر نہ دیکھے، کان یار خسار پر ہاتھ رکھ کر نہ پڑھے (اس لئے کہ یہ گانے والوں کا طریقہ ہے) 3:۔ ہوسکے (مسر ہو) تو خوشبو لگا کر تلاوت کرے۔ 4:۔ تلاوت کو اللہ تعالیٰ کی توفقت سمجھے (اپنی ذات کے اعتبار سے عجب، تکبر، غرور، خود بی د اور دوسروں کی تحقرق مں مبتلا نہ ہو) مزید تفصیلات روح القرآن جلد اول کے مقدمے مں گزر چکی ہں ۔ اساتذہ کے لئے اختاار کرنے والے آداب: 1:۔ دیندار ہو (اخلاق، کردار، عادات، اطوار، بات چیت، وضع قطع، لباس مںب بلند مرتبہ ہو)۔ 2:۔ دناو کی لالچ نہ ہو۔ 3:۔ تحمل، بردباری اور عفو درگذر کا پکر ہو۔ تاکہ شاگردوں مں قرآن سے قربت پد ا ہوسکے۔ 4:۔ متشدد نہ ہو، تشدد اور مار پٹ کو پسند نہ کرتا ہو تاکہ شاگردوں مںو قرآن سے دوری پدتا ہونے کا ذمہ دار نہ ٹھہرے ۔ 5:۔ شاگرد کہںش بھول جائے تو اسے نرمی سے ٹوکے تاکہ وہ خود غلطی درست کرسکے، نہ کرسکے تو بغرد کسی سزا کے خود بتلادے۔ 6:۔ (اگر وسعت مسرں ہو تو) شاگردوں کی (بدنیںض کے بغر ) آؤبھگت کرے۔ 7:۔ خود اجرت کا ارادہ نہ کرے۔ جو ملے اس پر راضی رہے۔ کمی کی شکایت مخلوق سے نہںر، خالق کے دربار مں کرے۔ اپنی چاہت کے بغرھ کوئی امداد کی نتر سے خدمت کرے تو قبول کرلے۔ طلباء کے لئے کامایبی کی شرائط: 1:۔ مستند اور ماہر استاد کی شاگردی اختاطر کرے۔ 2:۔ کلاس مںو ہمشہی پاک اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر حاضر ہوا کرے۔ 3:۔ جب پڑھنے کے لئے کلاس مںی آئے تو مسواک کرکے باوضو آئے۔ 4:۔ استاد کو عزت کی نگاہ سے دیکھے، (استاد کا احترام علم حاصل کرنے کی پہلی شرط ہے) 5:۔ استاد کی بات خوب غور سے سنے اور یاد رکھے۔ 6:۔ استاد کی موجودگی مں کلاس مںا کسی سے باتںس نہ کرے، شور و غل نہ مچائے،بے ضرورت ہنسی سے بچے۔ 7:۔ استاد کی طرف سے ڈانٹ ڈپٹ ہو، ملامت ہو، برا بھلا کہا جائے، سزا ملے تو استاد سے ناخوش نہ ہو۔ 8:۔ استاد کی کوئی بات سمجھ مںو نہ آئے تو اسے اپنا قصور سمجھے۔ 9:۔ سکھنے مں شرم نہ کرے۔ 10:۔ ہر کام کو اس کے مقررہ وقت مں کرے، دوسرے وقت پر نہ ڈالے۔ 11:۔ جو باتںک اور کام تعلم مںب رکاوٹ بنتے ہوں انہںر پوری کوشش کے ساتھ کم سے کم کردے۔ 12:۔ کلاس کے ساتھوںں کے ساتھ محبت، ادب، احترام اور تہذیب کے دائرے مںن تعلقات رکھے۔ 13:۔ کلاس مں استاد کی آمد سے پہلے حاضر رہے، اپنی مقررہ جگہ پر بٹھےت، ساتھوکں پر سے کودتا پھاندتا ہوا نہ جائے۔ (ہر طرح، ہر حوالے سے با ادب رہے اس لئے کہ بے ادب علم سے محروم رہتا ہے) قرآن مجید سیکھنے کے چند ابتدائی قواعد قاعدہ نمبر 1: کسی بھی لکھی جا سکنے والی زبان کی سب سے پہلی چزں اس زبان کے حروف ہوتے ہںک۔ قرآن مجد مںق پائے جانے والے ان حروف کو بآسانی تنب قسموں مںک تقسمز کا جاسکتا ہے۔ 1:۔ حروف مفردات (وہ حروف جو تنہا اکلےک اور علحدمہ علحدجہ لکھے جاتے ہںک) ان کو حروف تہجی بھی کہا جاتا ہے۔ عربی زبان مںا ان حروف کی تعداد انتسب 29 ہے اگر شکل کے حوالے سےی (چھوٹییاء) یا ے(بڑییاء) کو علحد۔ہ علحد ہ شمار کریں تو تعداد تسہ 30 بنتی ہے۔ ان حروف کی لکھنے کی شکلیں بھی علحدیہ ہں اور پڑھنے کی صورتںو بھی علحدحہ ہںا جسات کہ درج ذیل نقشے مںے دکھایا گاک ہے: نوٹ: واضح رہے کہ اردو مںح بھی چند حروف کے اضافے کے ساتھ حروف تہجییہی ہںا، لکھنے کی شکلیں بھی اسی طرح ہںہ لکن پڑھنے کا انداز جدا ہے۔ اردو مںد پڑھنے مںب کسی قاعدہ کی پابندی نہں، ہے لکنت قرآن مجد مںی پڑھنے کے طریقہ کے ساتھ حروف کے مخارج اور صفات کا لحاظ بھی رکھا جاتا ہے۔ 2:۔ حروف مرکبات (وہ حروف جو دوسرے حروف کے ساتھ ملاکر لکھے جاتے ہںق) ان مرکبات کو لکھتے وقت مفردات کے مقابلے مں بعض جگہوں پر شکلوں مںو تبدییر واقع ہوجاتی ہے چند شکلیں لکھی جاتی ہںپ، ان کی پہچان ضروری ہے جوکما حقہ استاد ہی سے سیھ م جاسکتی ہے۔ 3:۔ حروف مقطعات (وہ حروف جن کو چند سورتوں کی ابتدا مں ایک خاص انداز سے لکھا گا ہے) ان کے پڑھے جانے کا طریقہ بھی مخصوص ہے جو استاد سے مشق کے ذریعے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ حروف اپنے لکھے، جانے پڑھے جانے کے اعتبار سے تو منفرد ہںن ہی، سمجھے جانے کے اعتبار سے بھییکتا ہںا کہ ان کے معنیٰ، مطالب اور مراد کو مخلوق سے مخفی رکھا گا ہے۔ قاعدہ نمبر 2: قرآن مجدج کی عبارت پڑھنے کے اعتبار سے ہر حرف کے اوپر یا نچےر مختلف علامتں لگائی گئی ہںھ، جو ان حروف کے کماحقہ پڑھے جانے مںی مدد فراہم کرتی ہںب۔ ان کو حرکت یا اعراب کہا جاتا ہے۔ ان کی تفصیلات درج ذیل ہںھ: 1:۔ -- اوپر لگائی جانے والی اس علامت کو زبر کہتے ہںب۔ نچےر لگنے والی اس علامت کو زیر کہتے ہں اوپر لگی مڑی ہوئی اس علامت کو پشم کہتے ہںا،یہ حرکات جن حروف پر آتی ہں انہں: کھنچےر بغرک پڑھا جاتا ہے جسمیںیہ احتاشط ہوتی ہے کہ حرکت بھی پوری ادا ہو اور جھٹکا بھی محسوس نہ ہو۔ 2:۔ دو زبر، دو زیر، دو پشو کو تنوین کہتے ہںے۔ لکھنے کی صورت مںر دو زبر کی تنوین کے ساتھ الف اور بعض حروف کے ساتھ ( ) لکھی جاتی ہے لکنت پڑھنے مںی نہںر آتی۔ ایسے حروف کو پڑھتے ہوئے آواز ناک مں لے جاتے ہں اصطلاح مںے اسے غُنَّہ کرنا کہتے ہںل۔ 3:۔ کسی حرف پر کھڑی صورت مںی حرکت آئے تو اسے کھڑی حرکت کہتے ہںں اور انہںی زبر، زیر، پشں کے مقابلے مں ایک الف کے برابر کھنچہ کر پڑھا جاتا ہے۔ 4:۔ الف، واؤ اور یا کو حروف مَدّہ بھی کہا جاتا ہے اگر الف پر کوئی حرکت نہ ہو اور اس سے پہلے والے حرف پر زبر ہو، (ی) پر کوئی حرکت نہ ہو اور اس سے پہلے والے حرف پر زیر ہو، واوؔ پر کوئی حرکت نہ ہو یینک ساکن ہو اور واو ؔسے پہلے والے حرف پر پش ہو تو ان تینوں حروف کو ایک الف کے برابر کھنچر کر پڑھں گے جسےن کہ کھڑی حرکات پڑھی جاتی ہںے۔ 5:۔ قرآن مجدی مںف اکثر مقامات پر الف، واؤ اور یا پر ( ) یہ علامت لگی ہوتی ہے اسکو اصطلاح مں مَدّ کہتے ہںم جس کا مطلب یہ ہے کہ ان مقامات پر ان حرفوں کو چار الف کے برابر کھنچ کر پڑھا جائے گا، مد کی اقسام اور ان کے احکام مںٓ قدرے تفصلں ہے جسے اس فن کیکتابوں مںت مفصل ذکر کاک گاا ہے۔ 6:۔ بعض مقامات پر (و )اور (ی) پر کوئی حرکت نہں ہوتییعنی وہ دونوں ساکن ہوتے ہں اور ان سے پہلے والے حرف پر زبر ہوتا ہے ایسے واو اور یا کو حروف لِیْن کہا جاتا ہے۔ ان حروف کے پڑھنے کا طریقہیہ ہے کہ ان حروف کو قدرے نرمی کے ساتھ بغر کھنچےس پڑھا جاتا ہے۔ 7:۔ بعض مقامات پر کسی حرف پر دال کی طرح کی چھوٹی سی علامت لکھی ہوتی ہے جو مڑی ہونے کے باوجود پشت سے مختلف ہوتی ہے اس کو فن تجوید کی اصطلاح مں جزم کہتے ہںف۔ جزم والا حرف اپنے سے پہلے والے حرف سے مل کر صرف ایک مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔ 8:۔ بعض مقامات پر کسی حرف پر کنگھی کی طرح کی تنف دندانوں والی علامت لکھی ہوتی ہے۔ اسے تشدید کہتے ہںپ اور تشدید والا حرف مشدد کہلاتا ہے۔ ایسے حروف دو مرتبہ اور ذرا سخی کے ساتھ پڑھے جاتے ہںا پہلی مرتبہ پہلے والے حرف سے سے ملکر اور دوسری مرتبہ خود۔ 9:۔ لفظ کے لام سے پہلے والے حرف پر زیر ہوگا تو لام باریک پڑھا جائے گا جسےب اگر لام سے پہلے زبر یا پشت ہوگا تو لام موٹا پڑھں گے جسےب ۔ 10:۔ حرف پر زبر یا پشخ ہوتو کو موٹا اور زیر ہو تو باریک پڑھںی گے۔ مندرجہ بالا چند قواعد کی روشنی میںیہ بات بآسانی کہی جاسکتی ہے کہ فن تجوید کی کتابوں کو پڑھ کر بھی بغرک استاد کے قرآن پڑھنا سکھنا مشکل ہی نہں ، نا ممکن ہے۔ ہماری بڑی بوڑھایں اور ان پڑھ مرد اور بعض اردو دان، اردو کی طرز پر قرآن پڑھتے رہے ہںھ جو عربی لہجے کے بالکل خلاف ہے اور مجہول کہلاتا ہے اور فقہائے کرام نے اسے لحن جلی (واضح غلطی) مںو داخل کرتے ہوئے حرام قرار دیا ہے۔ سجدۂ تلاوت قرآن مجد مں جہاں جہاں آیت سجدہ آئی ہے نبی کریم ا نے اس آیت کی تلاوت کے بعد سجدہ فرمایا ہے اور سننے والوں کو بھی سجدے کا حکم دیا ہے۔ فقہائے کرام نے نبی ا کے عمل وحکم کی پر وی کرتے ہوئے پڑھنے اورسننے والوں پر اس آیت کی تکمل پر سجدہ کرنا واجب قرار دیا ہے پورے قرآن مجد مںک ایسے چودہ (14) مقامات ہںن: (1)سورۂ اعراف آیت206 پارہ نمبر 9(2)سورۂ رعدآیت 15 پارہ نمبر 13 (3)سورۂ نحل آیت50 پارہ نمبر 14 (4)سورہ ٔبنی اسرائلن آیت 109پارہ نمبر 15 (5) سورۂ مریم آیت 57 پارہ نمبر 16 (6) سورہ ٔ حج آیت 18 پارہ نمبر 17 (7) سورۂ فرقان آیت60 پارہ نمبر 19 (8) سورۂ نمل آیتپارہ نمبر 19 (9) سورۂ الم سجدہ آیت15پارہ نمبر 21 (10) سورۂ ص آیت 25 پارہ نمبر 23 (11) سورۂ حٰم سجدہ آیت38پارہ نمبر 24 (12) سورۂ نجم آیت62پارہ نمبر 27 (13) سورۂ انشقاق آیت21پارہ نمبر 30(14) سورۂ علق آیت19پارہ نمبر 30 یہ سجدہ باوضواور قبلہ رخ ہوتاہے۔سجدہ تلاوت کرنے کاطریقہیہ ہے کہ اَﷲُ اَکْبَرکہہ کے سجدہ کرے اور اَﷲُ اَکْبَر کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے، سجدہ مںب کم سے کم تنے دفعہ سُبْحانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہے پھر اَﷲُ اَکْبَر کہہ کے سراٹھالے،پس سجدہ تلاوت ادا ہوگان۔ اس کو سجدہ تلاوت کہتے ہیںجو اگر چہ فوری طور پر واجب ہوجاتا ہے لکنَ ادائیٰ مںپ تاخرا کی گنجائش ہے یہ گنجائش اگر چہ موت سے پہلے پہلے تک طویل ہے لکن عدم ادائیور کی صورت مںا پڑھنے اورسننے والے گنہگار رہںا گے۔ فقہی مسائل مسئلہ: عثمانی رسم الخط کے مطابق (بغرب کسی اضافے کمی اور تبدییھ کے) ہی قرآن مجدل لکھنا، لکھوانا، چھاپنا واجب ہے۔ مسئلہ: زبان اور تلفظ کو عربی مںر باقی رکھتے ہوئے دنال بھر کی کسی بھی زبان مںْ قرآن مجدن لکھنا، لکھوانا، چھاپنا ناجائز ہے۔ مسئلہ: غرا عربی زبان مںف چھپے ہوئے قرآن مجدد کا خریدنا، بچنا ، ہدیہ مںا لناا، دینا جائز نہں ۔ مسئلہ: متن کے بغرل کسی بھی زبان مںئ صرف ترجمہ چھاپنا، ناجائز ہے۔ مسئلہ: قرآن مجدر کی تلاوت کا ذوق رکھنے والوں کے لئے قرآنی عربی سکھنا لازمی ہے (قرآنی عربی سکھنے مں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی ہے)۔ مسئلہ: تلاوت قرآن کا بلند آواز مںا کرنا ضروری نہںٓ۔ آہستہ آہستہ بغرز آواز کے بھی تلاوت جائز ہے۔ مسئلہ: معنی سمجھے بغر اخلاص کے ساتھ تلاوت کا ثواب ملتا ہے۔ مسئلہ: قبر کے پاس تلاوت قرآن جائز ہے۔ مسئلہ: تلاوت قرآن کا ثواب دوسرے (مسلمانوں) کو پہنچانا، جائز ہے۔ مسئلہ: راستے مںک کھڑے ہو کر بھکو مانگنے کی نتل سے قرآن کی تلاوت حرام ہے۔ مسئلہ: تلاوت قرآن پر اجرت لنار حرام ہے۔ (تعلمن قرآن پر اجرت لنےے کی اجازت ہے) مسئلہ: ناپاک جگہ پر، ناپاک جگہ کے بالکل قریب، ناپاک کپڑے پہن کر، ناپاک چادر یا لحاف اوڑھے ہوئے منہ ڈھانپ کر تلاوت قرآن صححے نہں ۔ مسئلہ: متپ کے قریب غسل سے پہلے تلاوت قرآن جائز نہںہ۔ مسئلہ: جس مسلمان (مرد و عورت) پر غسل کرنا واجب ہو (یینن ناپاکی کی حالت مںن) زبانی طور پر بھی ان کے لئے تلاوت قرآن ناجائز ہے۔ البتہ دعا یا ذکر کی نتل سے دعائہ آیات قرآنہا پڑھنا دیگر وظائف و ذکر کی طرح جائز ہے۔ مسئلہ: قرآن مجد مںع تلاوت کے سجدے چودہ ہںہ۔جہاں جہاںقرآن مجدن کے کنارے پر ’’سجدہ‘‘لکھا ہوتا ہے۔اس آیت کو پڑھ اور سن کر سجدہ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ مسئلہ: آیت سجدہ میںجو لفظ سجدہ پر دلالت کرتا ہے اس کے ساتھ کم از کم ایک لفظ پہلے کا یا بعد کا ملا کر پڑھنے سے بھی سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے جساج کہ پوری آیت کی تلاوت سے واجب ہوجاتا ہے۔ مسئلہ: اگر سجدہ کی پوری آیت پڑھی لکنے خود سجدہ والا لفظ نہںہ پڑھا تو سجدہ واجب نہیںہوتا۔اسی طرح اگر صرف سجدہ والا لفظ پڑھا اس سے پہلے یا بعد مں کچھ نہ پڑھا تب بھی سجدہ واجب نہںل ہوگا۔ مسئلہ: آیت سجدہ لکھنے یا اس کی طرف نظر کرنے یا زبان سے پڑھے بغرا دل سے پڑھنے یا ہجے کرنے یین ایک ایک لفظ کے علحدلہ علحدہہ ہجے کرنے سے سجدہ تلاوت واجب نہںپ ہوتا جبکہ ملاکر نہ پڑھا ہو۔ مسئلہ: اگر آیت سجدہ کا ترجمہ کسی بھی زبان مںپ پڑھاتو پڑھنے والے پر سجدہ واجب ہوگا خواہ وہ سمجھتا ہو یا نہ سمجھتا ہو۔اور سننے والا اگرسمجھتا ہو یا اس کو خبر دی جائے کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ ہے تو اس پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا ورنہ نہں ۔ مسئلہ: جو چزٓیں نماز کے لےئ شرط ہںت وہ سجدہ تلاوت کے لےم بھی شرط ہیںیعنی وضو کاہونا،جگہ کا پاک ہونا،بدن کا پاک ہونا،قبلہ کی طرف سجدہ کرنا، مکروہ اوقات کا نہ ہوناوغر ہ۔ مسئلہ: اگر نماز مں سجدہ کی آیت پڑھی اورنماز ہی میںسجدہ نہ کانتو اس نماز کے بعد سجدہ کرنے سے ادا نہ ہوگا۔ہمشہا کے لےف گناہ گار رہے گا۔اب سوائے توبہ استغفار کے معافی کی اورکوئی صورت نہںی۔ مسئلہ: اگر امام سجدہ کی آیت پڑھے اورسجدہ تلاوت کرے تو مقتدی بھی اس کے ساتھ سجدہ کریں، خواہ جہری نماز ہو یا سری نماز۔ مسئلہ: اگر ایک ہی جگہ بٹھے بٹھے سجدہ کی کئی آیںہ پڑھں توبھی جتنی آیں پڑھے، اتنے ہی سجدے کرے۔ مسئلہ: ایک جگہ سجدہ کی آیت پڑھی اوراٹھ کر کسی کام کے لےس چلا گاہ پھر اسی جگہ آکر وہی آیت پڑھی تب بھی دو سجدے کرے۔ مسئلہ: لاؤڈ اسپکردپر آیت سجدہ پڑھی گئییعنی کسی شخص نے پڑھی ہو، ٹپر شدہ نہ ہو تو سننے والوں پربھی سجدہ واجب ہے۔ مسئلہ: جوآیتِ سجدہ ٹپہ سے سنی گئی ہو اس سے سننے والوں پر سجدہ واجب نہںش ہوتا۔ مسئلہ: اگرکوئی شخص حالت جنابت مںی سجدہ کی آیت پڑھے(اگر چہ اس کو پڑھنا نہںی چاہےٹ)یا سنے تو اس پرسجدہ تلاوت واجب ہے۔ مسئلہ: اگر کسی عورت نے حیضیا نفاس کی حالت مںا کسی سے سجدہ کی آیت سن لی تو اس پر سجدہ واجب نہںل ہوا۔اور اگر اییھ حالت مںئ سنا جب کہ اس پر غسل (نہانا) واجب تھا،تو نہانے کے بعد سجدہ کرنا واجب ہے۔ مسئلہ: اگر تلاوت کرنے والاایک ہی جگہ بٹھے بٹھے ایک ہی آیت کو بار بار پڑھتا رہا اس صورت میںاس پر ایک ہی سجدہ واجب ہے۔ مسئلہ: اگر سننے والے نے جگہ نہںی بدلی بلکہ پڑھنے والے کی جگہ بدل گئی تو پڑھنے والے پر جتنی مرتبہ آیت سجدہ پڑھے گا اس کے مطابق سجدے واجب ہونگے اور سننے والے پر ایک ہی سجدہ واجب ہے۔ مسئلہ: اگراستاد مختلف طالب علموں سے ایک ہی مجلس مںو ایک ہی آیت سنںا تو استاد پر صرف ایک ہی سجدہ واجب ہوگا۔ ایصالِ ثواب: ایصالِ ثواب کا ثبوت بھی حدیثِ مبارکہ سے ملتا ہے۔ اس کا طریقہیہ ہے کہ انسان جو بھی نفلی، مالییا جانی عبادت کرتا ہے اور اس مںا اخلاص بھی ہو تو وہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ مںہ قبولتے حاصل کرلتاو ہے اور انسان کو اس پر ثواب ملتا ہے۔ انسان وہ ثواب اپنے مرجانے والے متعلقنر کو اﷲ تعالیٰ سے درخواست کرکے منتقل کرادے کہ اے اﷲ! اس کا ثواب فلاں فلاں کو مرحمت فرمادیے ا۔ (واضح رہے کہ یہ ثواب زندوں کو بھی پہنچایا جاسکتاہے) البتہ یہ ایصالِ ثواب دن، تاریخ، وقت اور جگہ کی قدہ کا محتاج نہں ہے۔ ہر وقت، ہر پاک جگہ سے کسی بھی قسم کی نفلی عبادت کرکے پہنچایا جاسکتا ہے۔ اپل،! ایصال ثواب اسلامی تعلماست کے حوالے سے ایک مسلّمہ حققت ہے لکنا شریعت مں اسے فرض و واجب کا درجہ نہںو دیا گال،اخلاقی جواز کے تحت تمام مسلمان(مرد و عورت) سے یہ اپلا کیجاتی ہے کہ وہ اپنے زندہ و مُردہ متعلقنگ کو روزانہ کی بناںد پر ایک مرتبہ سورۂ فاتحہ اور تنی مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھ کر اپنی ذات کو حاصل ہونے والے اس ثواب کو بخش دے، اس کی مزید سونے پر سہاگہ والی بات یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جائے کہ ’’اے اللہ! اس کا ثواب حضرت آدم علی نبینا علہج الصلوۃ والسلام سے لے کر اس وقت تک کے تمام مسلمان مرد و عورت مرحومنس اور اس وقت دناا بھر مںہ موجود تمام مسلمان مرد و عورت بچوں اور بچوےں کو مرحمت فرما۔ اٰمن ‘‘۔ ان شاء اللہ آئندہ رسالہ حفظ و حفاظت قرآن کے حوالے سے شائع ہوگا۔۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
1322