(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/30
موضوعات
دور حاضر میں مسلمانوں کے کربناک حالات، وجوہات اور علاج
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ دور حاضر مںو مسلمانوں کے کربناک حالات، وجوہات اور علاج دور حاضر کا مسلمان حالات کے کربناک شکنجے مںن کسا جا چکا ہے، جن اذیت ناک کا ڈ ت کے ساتھ وہ سانسںا لے رہا ہے، اسے زندگی کا نام دینا نہایت ہی دشوار امر ہے اور اسے موت کا نام دینا بھی سمجھ سے بالاتر ہے گویا اس وقت مسلمان زندگی کی بقا اور موت سے چھٹکارے کی جنگ لڑرہا ہے۔ وہ جس کا زمانے پر من حثا المسلم ایک رعب تھا، اس کی آنکھںی پتھراگئی ہں ۔ دماغ ماؤف ہوچکا ہے، دل پز مردہ ہے نفسیں ڈوب ڈوب رہی ہںا۔ جگر (جو خون بنانے کی فکٹر ی کہلاتا ہے) جو بے جگری پر اکسائے رکھتا تھا، بے حسی کا شکار ہے، ہاتھوں پر کپکپاہٹ کا غلبہ ہے، پر وں پر کم ہمتی کے فالج کا ڈیرہ ہے، مسلمانی اقدار سسکتے سسکتے لالچ کے سمندر مں غوطہ کھاتے ہوئے اس کی تہہ مںب پناہ پکڑ چکی ہںس۔ شاید مسلمان ماداؤں کی غالب اکثریت انسان نما درندے جنم دینے پر مجبور ہں ۔ عنغ ممکن ہے مسلمان کی صنف قوی کی اکثریت اپنی اپیم کمروںپر بھی انسان نما بہائم (جانور) لادے پھر رہے ہںر۔ ؎ خوبصورت شکل مںھ یہ سب درندے ہں اسد آدمی کہتے ہںا جسے وہ ابھی غاروں مں ہے کادیہ ظلم کی انتہا نہںھ ہے کہ دور حاضر کے مسلمان کے ساتھ آج ۱یک مرتبہ پھر ’’قتل قتل‘‘ کا کھلس تسلسل کے ساتھ بغرم کسی وقفے کے کھیلا جارہا ہے جسمیں نہ وقت کی، نہ جگہ کی، نہ صنف کی، نہ ہی حتلس کی کوئی قد ہے ؎ اتنے بھی سفاک منافق دناے نے کب دیکھے تھے کتوں کا منہ چومنے والے قتل کریں انسانوں کو ستم بالائے ستم اس کھلم مں خود مسلمان بھی شامل ہے۔ معاشرہ بے بس ہے، حکومت بے حس ہے۔ حفاظتی ادارے ہںم، حفاظت نہں ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ مقتولنش ملتے ہںح، قاتلںد نہں مل پاتے جبکہ یہ طے ہے کہ دناہ مںں پائی جانے والی کوئی دوسری مخلوق قتل کے اس کھلہ مںھ حصہ ہی نہںک لے رہی ؎ مقدی کردیا سانپوں کو یہ کہہ کر سپر وں نے یہ انسان کو انسان سے ڈسوانے کا موسم ہے اس دور کو یہ اعجاز اور آج کے انسان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انسانوں کی ہلاکت انسانوں کے ہاتھوں ہی ہورہی ہے۔ مسلمانوں کے اعمال کا سرسری ساجائزہ: ٹھہرئےل! ذرا گر دن اونچی کرکے دیکھئے؟یہ کون ہے جس کے کرخت ہاتھوں نے والدین کے گریبانوں کا احاطہ کاہ ہواہے! یہ کون ہے جس کی ہوسناکی نے اولاد کے سانسوں پر پہرہ بٹھا کر اسے زندہ درگور کررکھا ہے ۔ ؎ کواں ہمارے سانس بھی ہوتے ہںک لوگوں پر گراں ہم بھی تو اک عمر لے کر اس جہاں مںس آئے تھے یہ کون ہے جس کی بدتہذیب زبان کے نشتر نے ماؤں کی احترام کی چادر تار تار کرکے رکھ دی ہے؟ یہ کون ہے جس کی عدم تربت نے بچی کی اس بے باک جرأت کو اییک نشوونما دی کہ نبی ا کو صداقت سے لبریزیہ خبر دییک پڑی کہ مائںے اپنی مالکہ جنں گی (یینت ماں ہونے کے باوجود بچی اسے لونڈی سمجھے گی) یہ کون ہے جس کے بے ہنر و بے ثمر ہاتھ اساتذہ کی پگڑیاں اچھالتے رہنے مںم ہمہ تن مشغول دکھائی دیتے ہںن؟یہ کون ہے جن کی مکروہ زبانںے شاگردوں کو صراط مستقمب سے بھٹکائے رکھتی ہںں؟ ٹھہرئے ! مگر اسی پر اکتفامت کجئے ! تھوڑی سی گردن اپنے مقام پر رہتے ہوئے مزید اونچی کرتے ہوئے دیکھئے اور سر دھنےی! یہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ باہمی رشتوں کو توڑتے ہوئے دنؤی غرض سے صحن مںر دیوار کھنچی کر بھائی سے پڑوسی بن جانے پر اطمناہن محسوس کرتا ہے؟ ؎ مںس بن جاؤں گا بھائی سے پڑوسی صحن مں کبھی دیوار نہ کرنا یہ کون ہے جو مرحوم باپ کے مال پر ذاتی قبضہ برقرار رکھتے ہوئے شرعی ورثا (خصوصاً بہنوں اور نابالغ بچوں) کو محروم کرکے دنو ی ذلت مں بھی فخر محسوس کرتا ہے اور اخروی ذلت کے لئے بھی جان بنارہا ہے؟ یہ کون ہے جو اپنے ماں جائے مگر یمسی پر دست، شفقت رکھنے کے بجائے دست، ظلمت رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے رہاہے؟ ابھی تھکیے نہںم! کچھ دیر تو ساتھ نبھائےک! گردن کو اسی طرح سدتھی رکھتے ہوئے دیکھئے! یہ کون ہے جو مارکٹچ مں بیٹھ کر غرک معاتری اشارء پر خوشنمائی کا غلاف چڑھا کر گاہکوں کو مد ہوشی مںی مبتلا کرتے ہوئے ان کی جبوہں مںو ہاتھ ڈالے دکھائی دیتا ہے؟ یہ کون ہے جو غذائی اشا ء مں مضر چزڑوں کی ملاوٹ کرکے خریداروں کی صحتوں سے کھلی رہا ہے؟ یہ کون ہے جو جان بچانے والی دوائواں مں غر مفدن ککلز کی آمزچش کرکے انسانوں کی جانوں سے کھل رہا ہے؟ (انوکھی اور نرالی باتہج بھی ہے کہ ان ملاوٹی غذاؤں اور جعلی دواؤں کا استعمال خود ان مجرموں کے ہاں بھی ہورہا ہے یینخ ’’اس ہاتھ دے اور اُس ہاتھ لے کا فارمولا‘‘ پوری شدت سے کار فرما ہے) اس قدرتی فوری انتقام کو کا نام دیا جائے؟۔ یہ کون ہے جو پما ئش، وزن اور حساب مں ڈنڈی مارتے رہنے کو تجارتی پالیاں کے طور پر اپنائے ہوئے ہے اور مہلت کی مدت مکمل ہوتے ہی گاہکوں سے حاصل شدہ ڈاکؤں اور بھتہ خوروں کے حصوں کے ساتھ اپنے ذاتی سرمائے کو بھی ڈکتواں، بھتہ خوروں، قبضہ مافااؤں اور لٹرووں کو جبراً (کلاشن کوف کی نوک پر) دینے پر آمادہ نظر آتا ہے؟ اور مزاحمت کی صور تمیں جان سے بھی ہاتھ دھو بٹھتاض ہے؟ یقینا ان معیتج حقائق کو آپ اپنی آنکھوں کے ذریعے اپنے دلوں مں اتار رہے ہوں گے اسمںھ ان حقائق کو بھی شامل فرما لجئےت! یہ کون ہے جو ملازمت کے عنوان سے اجارہ داری کے اصولوں کے تحت زبانییا تحریریمعاہدے کے باوجود اوقات کی پابندیسے صرف نظر کئے ہوئے ہے۔ صلاحتومں کے استعمال مں کوتاہی کا مرتکب ہے؟ اپنے اللّے تللّے پورے کرنے کلئےئ ادارتی اشااء کو اپنا حق قرار دیتے ہوئے شرا مادر کی طرح بغرم ڈکارے ہضم کرتا چلا جارہا ہے، مقررہ تنخواہ کے باوجود کمشنر اور رشوت کے عنوان سے دولت کے انبار کے فلک بوس ٹاور تعمرر کرنے مںا مصروف ہے اور ستم ظریفییہ بھی ہے کہ (نعوذ باللہ) اے ’’ہذامن فضل ربی‘‘ کہنے مںو بھی نہںا جھجکتا؟ آپ کی اکتاہٹ یقینا مد نظر ہے بس چند قدم اور ! یہ کون ہے جو مسحاائی کا بورڈ لگا کر اپنی منہ دکھائی کی تگڑی فسن لتےم رہنے کے لئے مریض کو ادھ موا رکھے ہوئے ہے؟ مستزاد یہ کہ متعنہج لیبارٹریز سے ٹسٹج کرو اکر بھی کمشنی اینٹھ رہا ہے؟ (ہوس کی بھی کوئی ڈیڈلائن ہے یا نہںے؟) یہ کون ہے جو وکل’ بن کر دلالی کررہا ہے؟ یہ کون ہے جو منصف کے لبادے مںا انصاف بچش رہا ہے؟ یہ کون ہے جو پاسبان، نگراں اور حاکم بن کر محکوموں سے دونوں ہاتھوں سے مسلسل لوٹ مار کررہا ہے اور بدامنی کا مستقل اور کاماکب تاجر ثابت ہورہا ہے؟ یہ کون ہے جو زر د صحافت اور لفافہ ازم کے تحت جھوٹ کے فروغ کے ذریعے بدامنوں، لٹرسوں، ڈکتورں، بھتہ خوروں، قبضہ مافا وں کو اپنی وفا داریوں کے ثبوت فراہم کرنے مںم جتا ہوا ہے اور ان کی ہمدردیاں حاصل کئے ہوئے ہے جو مجبوروں کی حوصلہ شکنی اور جابروں کی حوصلہ افزائی کے نتائج دے رہے ہںذ۔ یہ کون ہے جو حا سوز اور فحش پروگرام اور ڈرامے وقت ، نام، کہانی اور عنوان بدل بدل کر تسلسل کے ساتھ دکھا دکھا کر حوّا کی بیحا سے اس کا نسوانی حسن غر، محسوس طریقے سے چھنتا چلا جارہا ہے اور اس کا ہاتھ بھی کوئی پکڑ نہںت پارہا سوائے اس کے کہ ایسے پروگرام دیکھنے چھوڑ دئے جائںو لکن، نفس و شاقطنر کی موجودگی مںھ کب تک اور کہاں تک؟ (نسوانتب پر یہ حملہ مرد انگیت مں تو تبدیل نہں ہو سکتا البتہ قدرت کی عطا کر دہ نسوانت پر تسرنی جنس کا غلبہ ضرور پدرا کررہا ہے) آپ کا بہت بہت شکریہ جزاکم اللہ فی الدارین خر ا کہ آپ نے بڑے حوصلے، صبر و سکون اور تحمل و برداشت کے ساتھ دور حاضر کے مسلمانوں کے اعمال کی ادھوری اس لفظی منظر کشی مںس ساتھ نبھایا۔ اس آئنے مںح مسلمان کے اعمال کی تصویر دیکھتے ہوئے کبھی مولویوں کے اس جملے کو پڑھ اور سن کر آپ مںی سے کسی کو صدمہ نہں ہوگا کہ ’’ہمارے اعمال خراب ہںع‘‘ اس آئنے کو پس پشت رکھ کر آپ مںو سے بعض کی ناراضگی کسی حد تک درست ہے کہ ’’مولوی ہمارے اعمال خراب ہںا‘‘ کولں کہتا ہے یہ کواں نہں کہتا کہ مردے اعمال خراب ہںظ؟یقینا ان کی عملی زندگی سے حاصل شدہ مواد سے جو تصویر بن پارہی ہے وہ بھی مکمل طور پر خوش کن نہں ہے ان کے متعلق بھییہ رائے قائم ہوتی ہے۔ ؎ راہزنوں نے جو راہ زنی کی تھی راہبروں نے بھی کات کمی کی تھی ان مںو بھییقینا کالی بھڑ یں موجود ہںی جن مںہ کبھی تشتت (انتشار) اور شماتت (کسی کے نقصان پر خوش ہونا) کا پہلو نمایاں تھا تو اب تشدد (زدو کوب، قتل وغریہ) کا غلبہ ہوگام ہے، یہ وہ طبقہ ہے جو مذہب (مسلک) کا چہرہ انسانی خون سے دھونے اور معاشرتی محبت کی کاشت گولوتں سے بوتے ہوئے کرنے پر بضد ہے (مندرجہ بالا اعمال وہ ہںر جن کا براہ راست تعلق دنوای زندگی سے سمجھا جانا عام ہے جبکہ اس کے اثرات اخروی زندگی پر بھی پڑ رہے ہںن، ان اعمال کی تصویر کشی سے طوالت کے خوف سے احتراز کات جارہا ہے (بدنی ومالی عبادات) جن کا براہ راست تعلق اخروی زندگی سے متعلق کردیا گاہ ہے جبکہ اس کے اثرات دنوای زندگی پر بھی پڑرہے ہںب۔ دنوگی حالات سے متعلق قرآنی نقطئہ نظر: اس موضوع کے آغاز مں بطور تمہدک دور حاضر کے مسلمان کی ایک عملی خوش فہمی کا تذکرہ مناسب دکھائی دیتا ہے۔ آج کا مسلمان شایدیہ سمجھتا ہے کہ چونکہ مر ی ماں نے مجھے آزاد جنا ہے اس لئے مں شتربے مہار (بے نکل کا اونٹ) کی طرح آوارگی کی حدود پھلانگنے مںد آزاد ہوں اور مجھ پر کسی قسم کی کسی بھی حوالے سے پابندی عائد اور لاگو نہںر ہوتی (شاید اسی نکتے کا نام روشن خاولی ہے) بعض بے علم ذہنوں نے یہ باور کرا رکھا ہے کہ مذہب کا دخل صرف عبادتی، روحانی اور اخروی شعبے تک ہی محد ود ہے دنودی معاملات اور انسانی نجی زندگی سے مذہب کو کوئی سروکارہی نہںت ہے، بعض نے اسمںی اسطرح اصلاح کر رکھی ہے کہ ان شعبوں مںی مذہبی احکامات پر عمل اختا ری ہے، لازمی نہںک جبکہ بعض دنویی ترقی مںک مذہب کو رکاوٹ سمجھتے ہںص، ان کے خاہل میںیورپی اقوام نے بھی جب ہی ترقی حاصل کی جب انہوں نے اپنے اپنے مذاہب کو ہی بالائے طاق رکھ دیا۔ بعض ذہنوں مںل دنا مںب پشپ آمدہ انفرادی اور اجتماعی ہلاکتی حالات کسی پکڑ، کسی تنبہب، کسی سزا یا کسی عذاب کا نتجہ نہںب بلکہ زندگی کا حصہ ہے اور دناب مںو ہونے والی قدرتی تبدیلیوں کا نتجہی ہے (کاں انسانی ہاتھوں سے انسانی جانوں کی قتل و غارتگری کو بھییہی نام دیا جاسکتا ہے اگر ہاں! تو دوسرے جانور بھی اپنی اپنی جنسوں پر منظم حملے کرتے پائے جاتے ہںح؟ بعض ذہنوں مںی اخروی جواب دہی کا عنصر ییگر نہں ، موہوم ہے، مضبوط نہںی، کمزور ہے۔ بعض ذہن شفاعتی شعبے مں ایسے مقدو اپنے آپ کو کرچکے ہںج جسےق انہںق معتبر، مستند، قابل قبول، قابل اعتماد شفاعتی سرٹیفیکٹ حاصل ہوچکا ہو جسمیں نہ ترمما، نہ تنسخھ اور نہ ہی تبدییر ممکن ہے اور اخروی راہوں مںب منزل حقیوب تک پہنچنے مں انہںی لمحے بھر کے لئے ذرہ برابر کوئی دشواری پشم نہںپ آئیی ؟ بعض اذہان نے یہ طے کر رکھا کے دناع مںا تو ہم مکمل طور پر آزاد ہں (گویا کہ نعوذباللہ! اللہ تعالیٰ انسانی تخلقپ کے دن سے عضو معطل بن کر رہ گئے ہںب اور انسانی سرکشی کا نہںم، اپنی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہںل) آخرت کی آخرت مںی دییھھ جائیل گویا آخرت مں پشق آنے والے ہلاکتااور دھلائی و صفائی کا نظام ہنسی کا کھلف ہے جو بھگت لاک جائے گا اور سب بت جائییی۔ مندرجہ بالا مذہبی رو سے باطل نظریات نہ جانے کس خوش فہمی کے پھاٹکوں سے مسلمان ذہنوں مںخ درآئے ہں ۔ ان نظریات سے مذہبی طبقہ قرآن و حدیث سے ماخوذ تعلماخت کی روشنی مںھ، نہ ماضی مںد کہںم متفق دکھائی دیتا ہے، نہ حال مںے ان سے متفق ہوسکا ہے ، نہ مستقبل مںذ بھی اس کا ذرہ برابر امکان ہے ؎ دناق نے اپنے آپ کو بدلا گھڑی گھڑی اک اہل عشق ہں کہ جہاں تھے وہںا رہے چمن کا رنگ گو تم نے سراسر اے خزاں بدلا نہ ہم نے شاخ گل چھوڑی نہ ہم نے آشانں بدلا (تفصیلات علحدیہ موضوع کا حصہ ہںر، موجب طوالت ہونے کی وجہ سے صرف نظر کی جارہی ہںی) اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے آئےہ! پہلے قرآن مجدل سے اپنی حتوس ں کا تعنو کروالںی: 1:۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی تمام مخلوقات پر فوقت کا منفرد تاج پہنایا ہے۔ جسےت اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ولقدکر منابنی آدم) (سورۃ الاسراء آیت نمبر ۷۰) 2:۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر اپنی خلافت کی استطاعت رکھتے ہوئے ہی اسے اپنی خلافت کی خلعت پہنائی ہے۔ جسےن اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (انی جاعل فی الارض خلیفۃ) (سورۂ بقرہ آیت نمبر ۳۰) 3:۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر نبی ا کی اقتدا کی استعداد رکھ کر ہی آپ ا کی اقتدا کا فرمان جاری فرمایا۔ جسےل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (فبہداہم اقتدہ)(سورۂ انعام آیت نمبر ۹۰) 4:۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر نبی ا کی اطاعت کی سکت عطا فرما کر ہی آپ ا کی اطاعت کا حکم نافذ فرمایا ہے۔جسےب اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (اطیعوا الرسول)(سورۂ مائدہ آیت نمبر ۹۲) 5:۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر نبی ا کی ختم نبوت کے طفلق کار نبوت ادا کرنے کی صلاحیت رکھ کر ہی دعوت حق کی ذمہ داری اسے سونپی ہے ۔جسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ولتکن منکم امۃ)(سورۂ آل عمران آیت نمبر ۱۰۴) مندرجہ بالا چند متعنہ حں ا انسان سے پوچھ کر، نہ ہی انسان کی درخواست پر اور نہ ہی انسان یا کسی مخلوق سے مشورے یا رائے کے بعد طے کی گئی ہںل،یہ خالصتاً مختار کل کا ذاتی فصلہ اور صوابدیدی اختافر تھا جو اس نے اپنے مملوک (انسان) پر نافذ فرمایا جس کے خلاف نہ ہی کسی عدالت مںی دعویٰ دائر کااجاسکتا ہے، نہ ہی خود احکم الحاکمنی کی عدالت مںل اس کے خلاف نظر ثانی کی اپلل داخل کی جاسکتی ہے بس جو طے ہے من وعن وہی طے ہے، نہ ترممک، نہ تبدییا، نہ ہی تنسخ ۔ مندرجہ بالا حتوک ں کے قرآنی تعنا کے بعد آئے ! ایک مسلمان کی حتد سے قرآن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دنار مںس پش آمدہ حالات کے اسباب جاننے کی کوشش کرتے ہں!: اس سلسلے کی سب سے پہلی بناندی بات وہ اصول ہے جو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انسانی جوڑے (حضرت آدمؑ اور اماں حواؓ) کو اس دناب مں بھجتےا ہوئے صاف اور واضح طور پر بتلادیا تھا جس کا تذکرہ قرآن مجدن مںا دو مختلف مقامات پر، دو مختلف نتائج کے ساتھ باےن کاپ گااہے جو تا قابمت دناض مںا تو موجود ہی رہے گا، آخرت مںم ابدالآباد تک اسی طرح بغرک کسی تبدییل کے برقرار رہے گا۔ ارشاد خدا وندی کا ترجمہ ہے ’’جب کبھی تمہارے پاس مرمی ہدایت (شریعت اسلام) پہنچے تو اس کی (مکمل) پرلوی کرنے والوں پر نہ کوئی خوف ہے نہ ہی غم‘‘ (البقرہ) ’’اب تمہارے پاس مر(ی طرف سے ہدایت (شریعت اسلام) جب کبھی پہنچے تو (مکمل طور پر) اس پر (تاحایت) چلتے رہنے والا نہ کبھی گمراہ ہوگا نہ بدبخت ہوگا‘‘ (طٰہٰ) فائدہ: کام اس اصول کا یہ مطلب نہںا نکل سکتا کہ اس دناا مںی بھی ’’خوف، غم، گمراہی اور بدبختی‘‘ کا وجود ہے اور آخرت کے ساتھ ساتھ دنا مںم بھی ان ہلاکتوں سے بچنے کا واحد راستہ دین اسلام پر ایمان کے بعد عمل ہے۔ دین اسلام سے ہٹ کرکسی بھی قسم کی بے عملییا بدعیلھ سانپ بن کر ڈستی رہے گی اور آخرت مں اژدھا بن کر گلے کا ہار بنی رہے گی۔ سکورلریا نودٹرل (دہریہ) بن کر رہنا مسئلے کا حل نہںا ہے) 1:۔ ارشاد خداوندی کا ترجمہ ہے ’’اور جو مربییاد (ذکر، احکامات وغر ہ) سے منہ موڑے گا اس کی زندگی مںم ’’تنگی‘‘ رہے گی‘‘ (طٰہٰ) فائدہ: اس تنگی کا تعلق دل سے اور اس کے مفہوم مںر دنار مںر دنوےی اسباب کی موجودگی مںس انجانا خوف، حسرت، افسوس، پریشانی، بے چیا ، بے کلی، ساری عمر مال کی کبھی نہ ختم والی طلب، حُب جاہ کی بڑھو تری کی تمنا، ترقی کی اگلی منزلوں کے حصول کی ہوس، اولاد اموال، دنوگی تعلقات مں نقصان اور کمی کے غم و اندیشے مںو مبتلا رہتے ہوئے گھل گھل کر زندگی گذارنا داخل ہے۔ نزل اس کے مفہوم میںیہ بھی داخل ہے کہ خوشی کے ہر ہر موقع پر کسی ناگوار بات کا پشب آجانا، کسی ناخوشگوار واقعے کا نمودار ہوجانا، کسی اندو ہناک سانحے کا واقع ہوجانا جو خوشی کو غارت اور مزے کو کِرکِرا کردے۔ 2:۔ ارشاد خداوندی کا ترجمہ ہے ’’جو شخص رحمن کییاد سے آنکھںش چُرائے (احکامات الٰہیہ کو پس پشت ڈالے رکھے) ہم اس پر ایک شطاون مقرر کردیتے ہںی پس وہ شطاون اس (غافل شخص) کا ساتھی بن کر (ہمشہک رہنے کی نتن سے) اس کے ساتھ رہ پڑتا ہے (زخرف) فائدہ: وہ شطارن نہ صرف وسوسے ڈال کر نی ش سے روکتا ہے بلکہ بدی کو بھی خوشنما بنا کر نیبن دکھلاتا ہے بالآخر عقل ایی مسخ (برباد) کردیتا ہے کہ وہ شخص بدی کو نیے گردانتا ہے اور اپنے آپ کو سدوھی راہ پر سمجھنے لگ جاتا ہے۔ 3:۔ ارشاد باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے ’’اور جو کچھ مصبت تم کو (حققتاًش) پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی اعمال کی بدولت پہنچتی ہے (اور ہر گناہ پر نہںب پہنچتی بلکہ) بہت سے گناہ تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہںق (اور اگر وہ ہر ہر گناہ پر دنا مںی پکڑنے لگںس تو) تم زمنپ مں (کسی جگہ بھی پناہ لے کر) اللہ تعالیٰ کو عاجز نہںم کرسکتے (شوریٰ)۔ فائدہ: مندرجہ بالا آیات سے چند باتں معلوم ہوتی ہںد: 1:۔ نعوذباللہ! اللہ تعالیٰ انسان کی تخلقم کے بعد عضو معطل بن کر نہںے رہ گئے ہںو۔ 2:۔ وہ صرف نظام کائنات ہی نہں چلارہے بلکہ انسان کے ہر ہر چھوٹے بڑے، نیک و بد اعمال سے بھی پوری طرح ہر آن، ہر گھڑی مکمل طور پر باخبر ہںا۔ 3:۔ وہ بعض انسانی اعمال پر بطور سزا، بطور تنبہچ مصائب بھرے حالات بھجتےن ہںب گویا کہ حالات کا تعلق انسانی اعمال کے ساتھ ہے۔ 4:۔ بہت سارے گناہ وہ بالکل معاف فرما دیتے ہںا اور بہت سارے گناہ پر فوری پکڑ نہںد فرماتے، یہ بھی کسی نہ کسی درجے کی معافی ہیسمجھی جائیبا۔ 5:۔ یہ معافی اللہ تعالیٰ کی نعوذ باللہ اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے نہںا ہے بلکہ تمہارے ہی فائدے کے لئے ہے کہ تم اس کی پکڑ کی مکمل قدرت کے باوجود اس کی شفقت کو دیکھتے ہوئے اپنی سفا کی سے باز آجاؤ۔ 6:۔ ورنہ حققتا تو یہ ہے کہ نہ تم اس کا مقابلہ کرسکتے ہو، نہ تمام مخلوقات ملکر بھی اس کے خلاف تمہاری مدد کر سکتی ہںہ نہ ہی کسی جگہ چھپ کر اس کی دسترس سے باہر ہوسکتے ہو۔ نوٹ: اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی پکڑ کے حوالے سے اپنی قاہرانہ صفت کے استعمال کے نتجےھ کو سورہ نحل اور سورہ فاطر مں اس طرح واضح فرمایا ہے کہ ’’اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ان کے ظلم کے سبب یا ان کے اعمال کی وجہ سے (فوراً) مواخذہ فرمائںس تو زمنک کی پشت پر جانداروں مں سے کسی کو (زندہ) نہ چھوڑیں (گویا فوراً مواخذے کا مطلب ہے دناا کا خاتمہ) لکنا (دناس مںد مہلت اور ڈھل کے قانون کے جاری ہونے کی وجہ سے) اسے ایک مقررہ مدت تک مؤخر کردیتے ہںل‘‘ (واضح رہے کہ مہلت اور ڈھلی کا قانون صرف اس دنا مںر ہی ہے آخرت مں نہ رعایتہے، نہ مہلت)۔ 4:۔ ارشاد باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے ’’برو بحر (ساری دنار) مں لوگوں کے اعمال کی بدولت فساد پھیل رہا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ ان کو چکھا دے شاید کہ وہ اپنے ان اعمال سے باز آجائںں‘‘ (روم) فائدہ: فساد سے مراد ہر وہ بگاڑ ہے جس سے انسانوں کے معاشرے اور آبادیوں مںا امن و سکون برباد اور ان کی زندگا ں اجرسن (دوبھر) اور آرام و راحت غارت ہوجائے۔ (بحری لڑائووں اور بحری ڈاکؤں اور لٹرنوں نے سمندری سفر کا اطمناپن بھی تہہ و بالا کر رکھا ہے) فساد کے مفہوم مںئ آسمانی آفات (قحط، کثرت موت، طوفان، آندھأں، کہر (دھند)، زلزلے، سیلاب وغرھہ) بھی داخل ہںھ اور زمینی آفات مںں (خوف، دہشت، چھنا جھپٹی، لوٹ مار، بھتہ خوری، قبضہ مافا‘، چور بازاری، فراڈ، ملاوٹ، جعل سازی، مہنگائی، قتل و غارتگری، ظالم حکمرانوں کا تسلط، کمنونں کی سر بلندی وغر ہ کا عام ہو جانا) بھی داخل ہں،۔ ظاہر ہے یہ نتائج اعمال صالحہ کے تو ہو ہی نہںا سکتے۔ 5:۔ ارشاد باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے ’’اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض ظالموں پر ان کے اعمال کے سبب جو وہ کا کرتے ہں ، مسلط کر دیتے ہںں‘‘۔ (انعام) فائدہ: ظلم کے مفہوم مںا چوری، ڈاکہ، جبری چندہ، ناجائز قبضہ، خاللات پر جبری تسلط، تاجرانہ دغا بازیاں، ملازمتانہ خا،نتں وغرکہ داخل ہں ۔ تسلط کے مفہوم مںا ایک ظالم کے ہاتھوں دوسرے ظالم کی ہلاکت اور قدرتی انتقام بھی داخل ہے۔ ظالم جنوں کا ظالم انسانوں پر بدترین حاکموں کا بد عمل رعایا پر مسلط ہو جانا بھی داخل ہے۔ 6:۔ ارشاد باری تعالیٰ کا ترجمہ ہے ’’پھر جب وہ ان کو کی جانے والی نصحتی (دین اسلام) کو بھلائے رہے تو ہم نے ان پر ہر (مادی) چزسوں کے دروازے کھول دئے (گویا دنا ان پر پھٹ پڑی) یہاں تک ان کو (ہماری طرف سے) جو کچھ ملا تھا اس پر اترا گئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لاک اور وہ دھک سے رہ گئے (ان کے حواس اور ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے) فائدہ: مندرجہ بالا آیت مبارکہ سے چند باتںک معلوم ہوتی ہںا: 1:۔ نصحتپ سے ہر زمانے مںر انبیاء علہمت السلام کے ذریعے ملنے والادین مراد ہے۔اب نبیﷺ کے ذریعے ملنے والا دین اسلام اپنے پہلے روز سے مسلسل قالمت تک مراد ہے۔ 2:۔ بھلائے رکھنے سے غرٓ اختارری نہںک، اختاہری طور پر چھوڑ دینا مراد ہے۔ 3:۔ دنوای مادی چزدیں اہل حق کو بھی بطور انعام دی جاتی رہی ہںا، دی جارہی ہں ، دی جاتی رہینگی جو ان کی سر بلندی کا ایک ذریعہ ثابت ہوتی ہںے، اس لئے یہاں مطلق مال کا دیا جانا نہںا، ان اموال کو فخر وغرور کے ساتھ اسلامی احکامات سے روگردانی کرتے ہوئے اتراجانا مراد ہے۔ 4:۔ ان اموال کا دیا جانا بطور انعام یا بطور امتحان ہوتا ہے اس کا کوئی لازمی تعلق حق و صداقت اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی دللا سے ہر گز ہر گز نہںل ہے۔ لہٰذا مال و دولت، جاہ و ثروت، خوشحالی وغراہ کو اپنی حقانتح و صداقت اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی دلیلسمجھ لناغیا دوسروں کو سمجھانا انتہائی اور نری بے وقوفی ہے۔ 5:۔ دھک سے رہ جانے سے اپنے حق مںذ خر و بھلائی کے حصول کے حوالے سے مکمل طور پر مایوس ہوجانا مراد ہے۔ (قرآن مجدک سے مناسبت، قرب اور تعلق پدسا کرنے کے لئے ادارے کی شائع کردہ تفسرو روح القرآن کا مطالعہ کجئےد اور دوسرے کو ترغبک دیجئے جس کی چار جلدیں منظر عام پر آچکی ہںو، پانچویں زیر طبع ہے بقہس تااری کے مراحل سے گذرنا باقی ہںا۔ بعض علمائے کرام مساجد مں عوام الناس کے سامنے قرآنی درس کے لئے روح القرآن سے نہ صرف استفادہ کرتے ہںپ بلکہ علماء اور عوام کے لئے یکساں طور پر مفد بتلاتے ہںس) دنیوی حالات سے متعلق احادیثی نقطۂ نظر 1:۔ نبیﷺ کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے کہ جب مرہی امت یہ پندرہ کام کرنے لگے گی تو اس پر بلائںل نازل ہونے لگںے گی: 1:۔ ماں (جیلا عظمف و محترم شخصتی) کی (عموماً) نافرمانی کی جانے لگے۔ 2:۔ جہاد سے حاصل شدہ مال غنمتک مجاہدین ذاتی دولت سمجھ کر اپنے پاس رکھنے لگںہ 3:۔ امانت مںد بے دریغ خاجنت ہونے لگے (سرکاری اموالی اداروں کے اثاثے، زمنی و جائدادوں کی ملکیتیں، مساجد و مدارس کے چندے، رفاہی اداروں، سااسی جماعتوں مںت جمع ہونے والے نقد عطاست و منقولہ اثاثے وغری منقولہ جائداد کو ماں کے دودھ کی طرح سمجھ کر ہضم کر جانا وغر ہ اس مںا داخل ہں )۔ 4:۔ زکوٰۃ کی ادائیغم کو عبادت کے بجائے جرمانہ قرار دیا جانے لگے۔ 5:۔ بوویوں کی (ناحق) فرمانبرداری عام ہونے لگے۔ 6:۔ دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک ہو۔ 7:۔ (مقابلتاً) باپ کے ساتھ رویے بد سے بد تر ہونے لگں ۔ 8:۔ مساجد مںے آوازیں (شورو شغب کے انداز مں ) بلند کی جانے لگںو۔ 9:۔ رذیل لوگ ملک و ملت کے ذمہ دار اور (نگراں) بننے لگںں۔ 10:۔ کسی شخص کا احترام اس غرض سے ہو کہ وہ کہںن کسی مصبت۔ مںن نہ پھنسادے۔ 11:۔ لوگوں مںش شراب پنےہ کا رواج (بغرں کسی ہچکچاہٹ کے) عام ہوجائے۔ 12:۔ (مردوں مںی) رییمہ لباس کا استعمال (اسلامی حکم کی پروانہ کرتے ہوئے) عام طور پر ہونے لگے۔ 13:۔ گانے والامں عام طور پر ملنے لگںں۔ 14:۔ گانے بجانے کے آلات بلا جھجک بننے اور بلا خطر استعمال ہونے لگں ۔ 15:۔ امت کے پہلے طبقات کے لوگوں (صحابہؓ، تابعنؒا، ائمہ مجتہدینؒ، وغر ہ) کو برا کہا جانے لگے۔ (تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے جواب مں ) امت کے لوگ سرخ آندھی، زمنل مںم دھنس جانے، شکلوں کے بگڑجانے، زلزلے اور آسمان سے پتھر برسنے (جسے عذابوں) کا انتظار کریں۔ 2:۔ نبی ا کے ارشاد مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جس قوم مںن فاحشہ (زنا وغرسہ)کھلم کھلا ہونے لگے، اس مںپ طاعون اور اییا نئی نئی بماجریاں ہوں گی جو پہلے کبھی نہ سنی ہونگی نزا ان مںھ اموات کی بھی کثرت ہوگی۔ جو جماعت ناپ تول مںئ کمی کرییت وہ قحط، مشقت اور بادشاہ کے ظلم مںں مبتلا ہوگی۔ جو لوگ زکوٰۃ روکںی گے ان سے بارش روک لی جائیت ۔ جو لوگ اللہ اور رسول کے عہد کو توڑیں گے وہ دشمنوں مںل گھر جائںں گے۔ جو لوگ ناحق کے احکام جاری کریں گے وہ خانہ جنگی مںک مبتلاہوں گے۔ جن لوگوں مںے رشوت کی کثرت ہوتی ہے ان کے دلوں پر رعب کا غلبہ ہوتا ہے۔ جس قوم مںد زنا کاری اور سودی لنت دین عام ہوجائے اس قوم نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لئے اپنے آپ کو تارر کرلا ۔ 3:۔ نبی ا کے ارشاد مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جلد عذاب لانے والے گناہ ظلم اور جھوٹی قسم ہںا، (آج دونوں بماںریاں پورے عروج پر ہںا اور فضا مںک ان کا پور پورا غلبہ ہے دستارو جبے والے بھییہ جھومر اپنے ماتھوں پر سجائے ہوئے ہںج) جو مال کو ضائع، عورتوں کو بانجھ (بے اولاد) آبادیوں کو خالی (موت کی کثرت) کردیتے ہںب۔ 4:۔ نبی ا کے ارشاد عالہا کا مفہوم ہے کہ ہر گناہ کا عذاب اللہ تعالیٰ جب تک چاہتے ہںے مؤخر فرمادیتے ہں لکنا والدین کی نافرمانی کا وبال بہت جلد (تزای سے) آتا ہے (زندگی مںہ مرنے سے پہلے پہلے (بھی) اس کا وبال بھگتنا پڑتا ہے) تم پاک دامن رہو تمہاری عورتںب بھیپاک دامن رہینگی۔ تم اپنے والدین کے ساتھ نیے کا برتاؤ کرو تمہاری اولاد بھی تمہارے ساتھ نیک برتاؤ کرییر۔ 5:۔ نبیﷺ کے ارشاد عالہر کا مفہوم ہے اس ذات کی قسم! جس کے قبضے مںپ مرای جان ہے کہ تم لوگ نیک کاموں کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو ورنہ حق تعالیٰ شانہٗ تم پر عذاب نازل فرمائںک گے اور تم لوگ اس وقت دعا بھی کروگے تو قبول نہ ہوگی۔ 6:۔ نبیﷺ کے ارشاد عالہے کا مفہوم ہے کہ حق تعالیٰ شانہ چند آدموقں کے کسی (ناجائز) کام کے کرنے سے عام عذاب نازل نہںل فرماتے جب تک کہ ان لوگوں کے سامنے وہ کام کام جائے جو اس کے روکنے پر قدرت رکھتے ہوں اور نہ روکںس جب یہ نوبت آجائے تو پھر عام و خاص سب ہی کو عذاب ہوتا ہے۔ (اس حدیث مبارکہ کے مندرجات کی روشنی مںع ہوائی جہازوں کے گر پڑنے، بحری جہازوں کے ڈوب جانے، ریل گاڑیوں کے باہمی تصادم، سڑکوں پر پشک آنے والے روزمرہ کے حادثات، نئے نئے امراض، نئے نئے مصائب، جہلا سے قطع نظر دانشوروں، ساںستدانوں، علمائے کرام کا، ذاتامت کی حد تک اتر کر باہمی اختلافات کے حوالے سے وسعے الظرفی کے ساتھ سوچنے کی عام دعوت فکر ہے) 7:۔ نبیﷺ کے ارشاد عالہت کا مفہوم ہے کہ اس امت کے آخر زمانے مںم فسخ (زمنے مںد دھنسا دیا جانا) ہوگا، مسخ (انسانوں کی شکلوں کو کتے، بندر، خنزیر وغر ہ کے مشابہ بنادینا) ہوگا، قذف (آسمان سے پتھر برسنا) ہوگا کسی نے عرض کاویارسول اللہ ﷺ ہم اس حالت مں بھی ہلاک ہوسکتے ہںب کہ ہم مںے نیک لوگ موجود ہوں فرمایا ہاں! جب خباثت کی کثرت ہوجائے (بلاشبہ نیت کی محنت ہر محاذ پر تسلسل سے جاری ہے لکنا گستاخی معاف!) اگر اسے مبالغہ آرائی سے تعبرو نہ کاک جائے تو ابھی نیسو کی محنت کرنے والوں مںم اجتماعی طور پر تبدییو کا مرحلہ کسی پلتل فارم سے شروع ہی نہںک ہوا ہے اگرچہ ذرۂ خر انفرادی طور پر وجود پار ہاہے لکنں اجتماعی ماحول میںیا تو اس کا سانس پھولنے لگ جاتا ہے یا وہ مغلوب ہو کر کالعدم ہوجاتا ہے یا اول و ھلے (پہلے مرحلے) مںق ہی دم توڑ جاتا ہے اور اندر کا آدمی پوری طرح نمودار ہو کر بہتی گنگا مںب ہاتھ دھونے سے کسی سے پچھےس نہںہ رہتا ۔ اس لئے ان محنت کرنے والوں پر خود اس بات کی محنت کی ضرورت ہے کہ وہ ظاہر پر قائم رہتے ہوئے باطن کی تبدییع کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کریں،یہ دنار نہںو آخرت کا بھی مطالبہ ہے۔ قابل غور ہے یہ بات کہ اگر آج کے انسان نے بولتے انسان کو اسی لمحے ہزاروں مل دور دکھانے اور سنانے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے تو کاا اس انسان کے خالق کو اتنی قدرت حاصل نہںو کہ نیہز کی محنت کرنے والوں کے اندرون کو لوگوں پر آشکار افرماد ے۔ چنانچہ یہ کہنے کی اجازت دیجئے خباثت کے چھٹنے مںس، رکاوٹ بننے مںٓ، نیےس کی محنت کرنے والوں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے) 8:۔ نبیﷺ کے ارشاد عالہا کا مفہوم ہے کہ غر مسلم اقوام تمہںے ختم کرنے کے لئے آپس مںم ایک دوسرے کو اس طرح بلائںح گی جس طرح کھانے کے پا لےیا دستر خوان پر کھانے والوں کو بلایا جاتا ہے۔ صحابہؓ نے پوچھا کا ہم اس وقت تعداد مںے کم ہوں گے؟ فرمایا نہں ! لکنے تمہاری اس وقت حتہںے سیلاب کے (بے وقعت) جھاگ اور خس و خاشاک (کوڑا کرکٹ) کی سی ہوگی پوچھا اس کی وجہ کا ہوگی؟ فرمایا تمہارے اندر وہن پدںا ہوجائگاا پوچھا وہن سے کاو مراد ہے؟ فرمایا دناا کی محبت اور موت کی ناپسند یدگی (کراہتا) احادیث سے دلچسپی رکھنے والوں پر یہ بات واضح ہے کہ احادیث کے ذخرحے مںب دنوہی حالات انسانی اعمال کے نتائج ہوتے ہںس اس سے متعلق مواد جابجا پھیلا ہوا ہے، اسے یکجا کرنے کی صورت مںا ایک اچھی خاصی کتاب تاار ہوسکتی ہے (ان شاء اللہ تفسرک روح القرآن کی تکملی کے فوراً بعد پختہ عزم ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ حالت زار کی روشنی مںل روح الاحادیث کے عنوان سے عوامی سطح پر اتر کر معتدبہ مواد مع تشریح جمع کرکے عوامی ذہنوں تک رسائی حاصل کی جائے۔ قارئنھ سے فی الحال موافققی حالات کے حصول کے لئے دعاؤں کی معاونت درکار ہے) موجودہ حالات کے تدارک کے مذہبی نسخہ جات: مندرجہ بالا تفصیلات پڑھنے کے بعد ہر ذی شعور کا ذہن لازمی طور پر صرف اور صرف اس طرف جائے گا کہ ان تمام بداعمالواں کو چھوڑ دیا جائے جو ان نتائج کے ذمہ دار اسباب ہں اور نیک نیکہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے جذبے کے ساتھ اس سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ ان بداعمالووں کو اختاار نہ کرنے کا پختہ عزم کاک جائے۔ حقوق اللہ کے حوالے سے جن جن بداعمالوسں کی تلافی ممکن ہے، اس کی قضا شروع کردی جائے۔ مثلاً قضا شدہ نمازیں، قضا روزے، فرض حج (اگر اب تک فرض ہوجانے کے باوجود ادا نہ ہوسکا ہو) پچھلے سالوں کی رہ جانے والی زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور قربانی وغر ہ) حقوق العباد کے حوالے سے متعلقہ افراد سے چھینے گئے اموال، جائداد، زمنے وغریہ کی متعلقہ افراد کو ییقر واپسییا ان سے معاف کرالنا ۔ (تفصیلات موجب طوالت ہونے کی وجہ سے صرف نظر کی جارہی ہں ویسے بھییہ علحدیہ موضوع ہے) ان بداعمالوعں کی جگہ ان کے متبادل اچھے اعمال اختاتر کرنا (واضح رہے کہ جس طرح بداعمالا،ں اللہ تعالیٰ کے قہر کے نازل ہونے کے اسباب ہںی اچھے اعمال اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نازل ہوتے رہنے کا مؤثر ذریعہ ہں (تفصیلات موجب طوالت ہوں گی) آئندہ زندگی مںا کبھی نفس و شا طینکے غلبے کی وجہ سے توبہ کے ٹوٹ جانے کا خدشہ ہو تو خود اللہ تعالیٰ کی جناب مں رجوع کرتے ہوئے اس کی پناہ حاصل کرلے اور اگر توبہ ٹوٹ ہی جائے تو متنبہ ہونے پر فوراً دوبارہ توبہ کرتا رہے چاہے زندگی مںں کتنی ہی مرتبہ توبہ ٹوٹتی ہی کوھں نہ رہے، نا امد ہوئے بغرتدوبارہ، سہ بارہ، بار بار نئی توبہ کرتا رہے یہ واحد دربار ہے جہاں بار بار معافی مانگنے والوں کو بھی مایوس نہںے کا جاتا (استغفار، توبہ، استعاذہ پناہ چاہناکے عنوان علحدہہ مضمون چاہتے ہںچ)۔ ؎ پھر اس کی شان کرییچ کے حوصلے دیکھے گنہ گار یہ کہدے گناہ گار ہوں مں اس حکمت عملی کو اپنانے کے بعد ہی حفاظت کے نسخہ جات ایسے ہی فائدہ دیں گے جسے کہ پرہزم کے بعد ہی دوائی کے مفدح اثرات کا ظہور ہوتا ہے۔ بداعمالوںں کے کرتے رہنے کی موجودگی مںت حفاظتی نسخہ جات کے استعمال کی مثال ایی ہی ہے جسےہ کنویں مںر سے مراد کو نکالے بغریمطلوبہ ڈولوں کی مقدار کے مطابق کنویں کا پانی نکالتے رہنا۔ (واضح رہے کہ نسخہ جات کے استعمال کا ثواب ضرور ملتا رہے گا لکن حالات کی درستگی بداعمالو ں کے چھوڑ دینے اور توبہ کرنے پر موقوف ہے) (یہاں ایک نہایت باریک نکتے کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری ہے ذاتی طور پر بداعمالو ں کا چھوڑ دینا کافی نہںح ہے دوسرے اپنے بھائی بہنوں، دوستوں، عزیزوں اور دیگرمسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ دلانی لازمی ہے ورنہ صرف اپنی ذات کی درستگی سے ہم اقلتں(مجموعی تعداد کے اعتبار سے کم) ہوں گے اور بداعمال کثرت مںو رہںل گے لہٰذا حالات کے حوالے سے اس دناے مں تو ہم بھی گُھن (ایک کڑ ا جو غلے مںت پایا جاتا ہے) کی طرح گہوطں کے ساتھ ساتھ پستے رہا کریںگے البتہ آخرت مں مجروموں سے علحدہہ کردیے جائںل گے) نسخہ جات (وظائف): اسلامی زندگی گذارتے ہوئے (تمام فرائض و واجبات کو ادا کرتے ہوئے) روزانہ صبح اور رات کے اوقات مںن اول آخر درود شریف کا اہتمام کرتے ہوئے درج ذیل و ظائف کا تند تن مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائں : بِسْمِ اﷲِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْم ان شاء اﷲ کوئی نقصان نہںْ پہنچے گا۔ ۱…صبح شروع ہونے کے وقت رات شروع ہونے کے وقت (بعد نماز فجر وبعد نماز مغرب)سورۃ اخلاص، سورۃ فلق، سورۃ الناس پڑھنے کا معمول بتائںے۔ ۲…دُعَا: اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ مَاشَائَ اﷲُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ اَعْلَمُ اَنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ وَاَنَّ اﷲَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمًا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ ذِیْ شَرِّ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَآبَّۃٍ اَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِیَتِھَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ صبح و شام تنی تنھ مرتبہ پڑھ لان کریں۔ ۳…صبح شروع ہونے کے وقت، رات شروع ہونے کے وقت (بعد نماز فجر، بعد نماز مغرب) آیت الکرسی ، سورۂ مؤمن کی ابتدائی تنح آیات پڑھ لا کریں۔ ۴…جان و مال، دین اور اہل وعاول اور ہر نقصان سے حفاظت صبح شام تنا تنر مرتبہ دعائِ سدٔناانسؓ کا اہتمام رکھں : بِسْمِ اﷲِ عَلٰی نَفْسِیْ وَدِیْنِیْ بِسْمِ اﷲِ عَلٰی اَھْلِیْ وَمَالِیْ وَوَلَدِیْ بِسْمِ اﷲِ عَلٰی مَااَعْطَانِیَ اَﷲُ اَﷲُ رَبِّیْ لَااُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا اَﷲُ اَکْبَرُ اَﷲُ اَکْبَرُ اَﷲُ اَکْبَرُ وَاَعَزُّ وَاَجَلُّ وَاَعْظَمُ مِمَّا اَخَافُ وَاَحْذَرُ عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْطٰنِ مَّرِیْدٍ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ فَاِنْ تَوَلَّوْ فَقُلْ حَسْبِیَ اﷲُ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِO اِنَّ وَلِیِّ اﷲُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتَابَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَO گھر سے باہر جاتے ہوئے: ’’بِسْمِ اﷲِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اﷲِ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ‘‘ اس دُعا کے پڑھنے والے کو کہا جاتا ہے یہ ترھے لےا کافی ہے ترِی رہنمائی بھی ہوگی اور ترْی کفایت بھی ہوگی۔ ۵… حضرت یعقوب علہا السلام والی دُعاء: ’’فَاﷲُ خَیْرٌ حَافِظًا وَّھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن‘‘ بھی کہں آتے جاتے وقت پڑھ لاَ کریں۔ ۶… بعض بزرگوں کا معمول ’’وَجَعَلْنَا مِنْ م بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِھِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰھُمْ فَھُمْ لَایُبْصِرُوْنَ‘‘ پڑھنے کا بھی ہے لہٰذا آتے جاتے وقت اس کا اہتمام بھی کرلای کریں۔ بے جادباؤ کی صورت اور پریشانی کے اوقات مںا: ۷… اگرکسی کا بے جا دباؤ ہو یا دشمنی، نقصان کا خطرہ ہو تو اس دُعا کا وِرد رکھںِ: ’’اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ ‘‘ ۸… پریشانی کے اوقات مںس: ’’حَسْبُنَااﷲُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ۔ یَاحَیُّیَاقَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ‘‘ کا ورد رکھیں۔ ۹…مصائب اور مشکلات کے وقت کی دعا: اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اِکْفِنِیْ کُلَّ مُھِمٍّ مِنْ حَیْثُ شِئْتَ مِنْ اَیْنَ شِئْتَ۔ (ادارے نے جی ر سائز کا حفاظتی جکٹا کے نام سے ایک کتابچہ بھی شائع کاِ ہے اسے حاصل کرکے معمول بنائں ) ادارے نے پچھلے کچھ عرصے سے عوام الناس تک دییّ فوعض و برکات پہنچانے کی غرض سے مسلمانوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے سے ممبر بنا کر مختصر رسالوں کی صورت مںْ نشر و اشاعت کا ایک سلسلہ جاری کاں ہے اس سلسلے کے رسائل بحمداللہ تعالیٰ پابندی سے شائع ہو کر دییت معلومات مںر اضافے کا باعث بن کر مقبولتت کا درجہ پارہے ہں اس سلسلے مںل مزید و سعت کییقینی گنجائش ہے لہٰذا اس کے زیادہ سے زیادہ ممبر بناتے ہوئے اس کار خرک مںے اپنا حصہ ڈالںا، اس راستے مںر جس ذرہ خرٰ کو حکم الٰہی سے وجود ملتا رہے گا، اس کے اجر کا حصہ آپ کے حصے کے مطابق آپ کے نامۂ اعمال کے رجسٹر مںب خرن کے اکاؤنٹ مںو کریڈٹ ہوتا رہگاہ۔ جب تک ذرہ خرس باقی رہے گا، اجر جاری رہے گا نز نشر و اشاعت کے ذریعے فریضۂ تبلغڈ کی ادائی ک مں معاونت کا اجر تو کہںا نہں گاا۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
1001