(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
عقیدہ ختم نبوت ﷺ
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ عقدْہ ٔختم نبوت ﷺ اللہ پاک نے پغمبر وں مںہ سے سب سے پہلے حضرت آدم علہہ السلام کو اور سب سے آخر نبی کے طور پر حضرت محمد ﷺ کو بھجاک۔ اور اللہ پاک نے قرآن پاک مںْ آپ ﷺ کی ختم نبوت کا ان الفاظ مں اعلان فرمایا: ما کان محمد ابآ احد مِن رِجالِکم و لکِن رسول اللّٰہِ و خاتم النبِین ط وکان اللّٰہ بِکلِ شیء علِیما اللہ تعالی نے آنحضرت ﷺکی پغمبر ی سے دین کو مکمل کردیا۔ اب حضور ﷺکے بعد کسی پغمبر کی ضرورت باقی نہںہ رہی، اب قاکمت تک علما اسی دین کی نشرواشاعت اور تبلغم ہوتی رہے گی۔ حدیثوں مںح آیا ہے کہ انبیا کی تعداد ایک لاکھ چوبس ہزار ہے اور رسولوں کی تعداد تنا سو ترقہ ہے۔ قرآنِ کریم او راحادیث متواترہ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے کہ: آپ ﷺ خاتم انبیا اور آخر انبیا ہں آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہ ہوگا۔ آنحضرت ﷺکے ظہور سے پہلے تمام انبیائے سابقنا آپ کی آمد کی بشارت دیتے تھے اور اس کا اعلان کرتے تھے کہ محمد ﷺ آخری نبی ہںم اور آپ کا خاتم الانبیا ہونا تورات او رانجل اور تمام انبیائے سابقنا کے صحفووں مںو مذکور تھا۔ اہلِ کتاب ازراہ حسد ان بشارتوں کو چھپاتے تھے، پھر جو علما اہلِ کتاب دینِ اسلام مںہ داخل ہوئے، انہوں نے بکر زبان ہوکر اسی امر کا اقرار اور اعتراف کاا کہ ہم نے آنحضرت ﷺکو اسی صفت پر پایا جساا کہ ہم نے تورات اور انجلر مںب دیکھا او رپڑھا تھا۔ اور مہرِنبوت آپ کے عقدنہ ختم نبوت ﷺاور خاتم النبیین ہونے کی حسی دللر تھی جس کو دیکھ کر علمائے یہود اور نصاری آپ ﷺ کی نبوت اور ختمِ نبوت کی شہادت دیتے تھے۔ آنحضرتﷺ افضل الانبیا اور سدتالانبیا ہںل: تمام پغمبرروں کے سردار اور سب سے افضل او ربہتر ہمارے نبی محمد ﷺ ہںا۔ قرآنِ کریم مںل حقِ جل شانہ نے تمام پغمبر وں سے اس بات کا عہد لار کہ اگر محمد ﷺ کا زمانہ پا لو تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لانا اور ان کی نصرت اور پاسداری کرنا جسامکہ اللہ پاک نے قرآن شریف مںا ارشاد فرماتے ہںن: و اِذ اخذ اللّٰہ مِیثاق النبِین لمآ اتیتکم مِن کِتٰب و حِکمۃ ثم جآئکم رسول مصدِق لِما معکم لتمِنن بِہ ولتنصرنہ۔ اور حدیث مںا ہے: انا سد ولدِآدم "یین مں اولاد آدم کا سردار ہوں۔'' اور ایک حدیث مںم ہے کہ : آدم ومن دونہ' تحت لِوائِی) ''قا مت کے دن آدم اور ان کے سِوا سب مرضے جھنڈے کے نچے ہوں گے)"۔ او رایک دوسری حدیث مںا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھ کو تمام انبیا پر چھ چزیوں کے ذریعے فضیلت دی ہے: اول: یہ کہ مجھ کو جوامع الکلم عطا کےم گئے ییند ایسے کلمات جامعہ جن کے الفاظ تو بہت مختصر ہوں مگر بے شمار علوم اور معارف کے جامع ہوں جسےہ! اِنما الاعمال بِاالنِیاتِاس قسم کی احادیث کی شرح مںہ علما نے مستقل کتابںر لکھی ہںں۔ دوسرا: یہ کہ ایک مہنےا کی مسافت تک رہنے والے کافروں کے دل مںپ بلاسبب ظاہری مرکا رعب ڈال دیا گا ہے۔ تسررا: یہ کہ مالِ غنمتم مرتی امت کے لے حلال کردیا گا جو کہ پہلی امتوں کے لےی حلال نہ تھا۔ چوتھا: یہ کہ مجھ کو تمام اولنت و آخرین کی شفاعت کا مرتبہ عطا ہوا کہ قایمت کے دن تمام اولنہ اور آخرین اور تمام انبیا و مرسلن مجھ سے شفاعت کی درخواست کریں گے اور مں شفاعت کے لے کھڑا ہوں گا اسی مقامِ شفاعت کا نام مقامِ محمود ہے۔ پانچواں: یہ کہ مجھ سے پہلے ہر نبی ایک خاص قوم کے لےے مبعوث ہوتا تھا اور مںں قاتمت تک کے لے تمام عالم کا نبی بناکر بھجا۔ گا ہوں۔ چھٹا: یہ کہ مجھ پر نبوت ختم ہوگئی ۔اور ترمذی کی حدیث مں ہے کہ آپ نے فرمایا: اذا کان یوم القیامۃ کنت امام النبیین''قا مت کے دن مںی تمام انبیا کا امام او رپشووا ہوں گا۔ '' اور حدیث مںت ہے کہ حضور ﷺسب سے پہلے قبر سے اٹھںل گے اور سب سے پہلے بہشت مںے داخل ہوں گے۔ (ماخوذ عقائدالاسلام از: حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ) ختمِ نبوت کا معنی او رمطلب: اللہ رب العزت نے سلسلۂ نبوت کی ابتدا سد نا آدم علہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہا محمد عربیﷺ کی ذاتِ اقدس پر فرمائی۔ آنحضرت ﷺپر نبوت ختم ہوگئی۔ آپ ﷺ آخرالانبیا ہںئ، آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔ اس عقدٓہ کو شریعت کی اصطلاح مںب عقدمہ ختمِ نبوت کہا جاتا ہے۔ عقداہ ختمِ نبوت کی اہمتں: ختمِ نبوت کا عقدنہ ان اجماعی عقائد مں: سے ہے جو اسلام کے اصول اور ضروریاتِ دین مں شمار کےر گئے ہںق۔ اور عہدِنبوت سے لکرد اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت ﷺبلاکسی تاویل اور تخصصی کے خاتم النبیین ہںد۔اس کے دلائل ومآخذمندرجہ ذیل ہںا: (الف ) قرآن مجدخ کی ایک سو آیاتِ کریمہ۔ (ب) رحمتِ عالم ﷺ کی احادیثِ متواترہ ۔ (ج) آنحضرت ﷺکی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا۔ چنانچہ امام العصر حضرت مولانا سدک محمد انورشاہ کشمرایؒ اپنی آخری کتاب خاتم النبین مں تحریر فرماتے ہںل: سب سے پہلا اجماع جو اس امت مںح منعقد ہوا وہ مسلمہم کذاب کے قتل پر اجماع تھا۔جس کا سبب صرف اس کا دعویٔ نبوت تھا۔ اس کی دیگر گھناؤنی حرکات کا علم صحابہ کرام کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا جساع کہ ابنِ خلدون نے نقل کات ہے ۔ (خاتم النبین ص:76 ترجمہ ص:791) اس کے بعد قرناً بعد قرنٍ مدعی نبوت کے کفر و ارتداد اور قتل پر ہمشہہ اجماع بلافصل رہا ہے اور نبوت تشریعیہ باغرمتشریعی کی کوئی تفصلی کبھی زیرِبحث نہںع آئی۔(ایضا) حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اپنی تصنفن مسک الختام فی ختم نبوۃ سد الانام مںش تحریر فرمایا ہے کہ: امتِ محمدیہﷺ مںص سب سے پہلا اجماع جو ہوا، وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کاو جائے۔ آنحضرت ﷺکے زمانہ حادت مںص اسلام کے تحفظ و دفاع کے لےہ جتنی جنگںم لڑی گئںا ان مں شہد ہونے والے صحابہ کرام کی کل تعداد:295ہے۔ او رعقدلہ ختمِ نبوت کے تحفظ و دفاع کے لےپ اسلام کی تاریخ مںئ پہلی جنگ جو سد نا صدیق اکبرؓ کے عہدِخلافت مںد مسلمہے کذاب کے خلاف یمامہ کے مدوان مںو لڑی گئی، اس ایک جنگ مںو شہدا ہونے والے صحابہ کرام اور تابعنہ کی تعداد بارہ سو(1200)ہے، جن مںص سے سات سو(700) قرآن مجد کے حافظ اور عالم تھے۔رحمتِ عالم ﷺ کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرام ہںح۔جس کی بڑی تعداد اس عقد ہ کے تحفظ کے لےت جامِ شہادت نوش کرگئی۔ اس سے ختمِ نبوت کے عقددہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ انہی حضرات صحابہ کرام مںا سے ایک صحابی حضرت خبیب بن زید انصاری خزرمی کی شہادت کا واقعہ ملاحظہ ہو: ایمان افروز واقعات: حضرت خبیب بن زید انصاری کو آنحضرت ﷺنےیمامہ کے قبلہت بنوحنفہا کے مسلمہ کذاب کی طرف بھجا:۔ مسلمہم کذاب نے حضرت خبیب سے کہا کہ کاا تم گواہی دیتے ہو کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہںا؟۔ حضرت خبیب نے فرمایا جی ہاں! مسلمہن کذاب نے کہا کہ کا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ مں مسلمہت بھی اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت خبیب نے جواب مںا فرمایا کہ مںح بہرا ہوں تراییہ بات نہں سن سکتا۔ مسلمہخ باربار سوال کرتا رہا وہ یی جواب دیتے رہے او رمسلمہد ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا ،حتی کہ خبیب کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہدب کردیا گاب۔ اللہ اکبر!اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام مسئلہ ختم نبوت کی عظمت و اہمت سے کس قدر والہانہ تعلق رکھتے تھے۔ ایک اور واقعہ تابعنا مںھ سے ذیل مںے درج کادجاتاہے: حضرت ابومسلم خولانی ،جن کا نام عبداللہ بن ثوب ہے او ریہ امت محمدیہ کے وہ جللج القدر بزرگ ہںم جن کے لے اللہ تعالی نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیاتھا جسے حضرت ابراہمل علہد السلام کے لےے آتش نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔ ان کی پدکائشیمن مںا ہوئی ہے۔اور سرکارِدوعالمﷺ کے عہدمبارک ہی مں اسلام لاچکے تھے لکنا سرکارِدوعالم ﷺ کی خدمت مںو حاضری کا موقع نہ مل سکا تھا۔ آنحضرت ﷺکی حادتِ طبہع کے آخری وقت میںیمن مںس نبوت کا جھوٹا دعویدار اسودعنسی پدتا ہوا۔ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لےم مجبور کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے حضرت ابومسلم خولانی کو پغاشم بھجک کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی۔حضرت ابومسلم نے انکار کااپھر اس نے پوچھا کہ کان محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابومسلم نے فرمایا جی ہاں۔ اس پر اسودعنسی نے ایک خوفناک آگ دھکائی اور حضرت ابومسلم کو اس آگ مںا ڈال دیا، لکنت اللہ تعالی نے ان کے لے آگ کو بے اثر فرمادیا اور وہ اس سے صححح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ اتنا عجب تھا کہ اسودعنسی او راس کے رفقا پر ہبتک سی طاری ہوگئی اور اسود کے ساتھویں نے اسے مشورہ دیا کہ اسے جلاوطن کردو۔ ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پر وؤں کے ایمان مںت تزلزل آجائے۔ چنانچہ انہیںیمن سے جلاوطن کردیا گاک ،یمن سے نکل کر ایکہی جائے پناہ تھییعنی مدینہ منورہ، چنانچہ یہ محمد ﷺ کی خدمت مںط حاضر ہونے کے لےر چلے۔ لکنو جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آفتابِ رسالت ﷺ روپوش ہوچکا ہے، آنحضرت ﷺوصال فرماچکے تھے او رحضرت ابوبکر صدیقؓ خلفہن بن چکے تھے، انہوں نے اپنی اونٹنی مسجدِنبویکے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر آکر ایک ستون کے پچھے نماز پڑھنا شروع کردی۔وہاں پر حضرت عمرؓ موجود تھے، انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو دیکھا تو ان کے پاس آئے او رپوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہںع؟ انہوں نے جواب دیا: یمن سے! حضرت عمر نے فورا ًپوچھا!اللہ کے دشمن اسودعنسی نے ہمارے ایک دوست کو آگ مںد ڈال دیا تھا اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہںم کام تھا بعد مں ان صاحب کے ساتھ اسودعنسی نے کاا سلوک کا ؟ حضرت ابومسلم نے فرمایا!ان کا نام عبداللہ بن ثوب ہے۔ اتنی دیر مںل حضرت عمرؓ کی فراست کام کرچکی تھی، انہوں نے فوراً فرمایا کہ مںو آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ وہی صاحب ہںن۔ حضرت ابومسلم نے جواب مںم فرمایا! جی ہاں۔ حضرت عمر ؓنے یہ سن کر فرط مسرت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔ اور انہںہ لکرک خلیف وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خدمت مںو پشے ہوئے ،انہںی صدیق اکبرؓ نے اپنے درمارن بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہﷺ کے اس شخص کی زیارت کرادی، جس کے ساتھ اللہ تعالی نے ابراہم خلل اللہ علہہ السلام جساہکہ معاملہ فرمایا۔(مسک الختام فی ختم نبوۃ سدصالانام ) ختمِ نبوت سے متعلق چند آیات: (1) ہو الذِی ارسل رسولہ بِالہدایٰ ودِینِ الحقِ لِیظہِرہ علی الدِینِ کلہٖ۔(سور توبہ:33) ترجمہ:'' اور وہ ذات وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول محمد ﷺ کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھجا ہے تاکہ تمام ادیان پر بلند او رغالب کرے۔'' (2) و اِذ اخذ اللہ مِیثاق النبِین لمآ اتیتکم مِن کِتٰب و حِکمۃ ثم جآئکم رسول مصدِق لِما معکم لتؤمِنن بِہ ولتنصرنہ۔(آلِ عمران:81) ترجمہ: ''جب اللہ تعالی نے سب نبوحں سے عہد لاِ کہ جب کبھی مں تم کو کتاب او رنبوت دوں پھر تمہارے پاس ایک ''وہ رسول'' آجائے جو تمہاری کتابوں اور وحومں کی تصدیق کرنے والا ہوگا تو تم سب ضروربالضرور اس رسول ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی مدد فرض سمجھنا۔'' (3) و مآ ارسلنٰک اِلا کآف لِلناسِ بشِیرا و نذِیرا۔(سبا:28) ترجمہ: ''ہم نے تم کو تمام دناس کے انسانوں کے لےِ بشرج اور نذیر بناکر بھجا ہے۔'' (4) و مآ ارسلنٰک اا اِلا رحمۃ لِلعٰلمِین۔(سور انبیاء:107) ترجمہ: ''مںٰ نے آپ (ﷺ)کو تمام جہان والوں کے لے رحمت بناکر بھجاو ہے۔'' (5) الیوم اکملت لکم دِینکم و اتممت علیکم نِعمتِی ورضِیت لکم الاِسلام دِینا۔(سورۃ مائدہ:3) ترجمہ: ''آج مںم پورا کرچکا تمہارے لےک دین تمہارا او رپورا کا تم پر مںت نے احسان اپنا او رپسند کاا مںو نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔'' ختمِ نبوت تفاسرآ کی روشنی مں : اللہ پاک نے قرآن مجدم مںر ارشاد فرمایا: ما کان محمد ابآ احد مِن رِجالِکم و لکِن رسول اللّٰہِ و خاتم النبِین ترجمہ: ''محمد ﷺ باپ نہںن کسی کا تمہارے مردوں مںہ سے لکنا رسول ہے اللہ کا او رمہرسب نبو ں پر۔'' و لکِن رسول اللّٰہِ و خاتم النبِین ط کی تفسیر، صاحب تفسیر مظہری والے کچھ یوں کرتے ہیں: آپ ﷺ اللہ کے رسول ہںِ اور خاتم ہںہ سب نبو ں کے لے یینو سب کے ختم ہونے کے بعد آئے ہیںاو رہر رسول شفقت و خروخواہی کے لحاظ سے اپنی امت کا باپ ہوتا ہے ، وہ اگرچہ سب امت کا نسبی باپ نہںت ہوتا کہ امت کی کسی عورت سے اس کا نکاح نہ ہوسکے۔(تفسر مظہری عربیمکتبہ رشد،یہ جلد7صفحہ352-351) حضورﷺ کی نرینہ اولاد نہ رہنے کی حکمت: حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا: مراد یہ ہے کہ اگرمں سلسلہ انبیا کو محمد ﷺ پر ختم نہ کردیتا تو ان کے بعد ان کے بٹے کو نبی بنادیتا۔ علما نے حضرت ابنِ عباسؓ کا قول نقل کا ہے کہ جب اللہ نے یہ فصلہ کردیا کہ رسول اللہ ﷺکے بعد کسی کو نبی بناناہی نہںت ہے تو حضور ﷺکو کوئی لڑکا بھی عنایت نہںل کاد، ابنِ ماجہ نے حضرت ابنِ عباسؓ کی روایت سے باون کاظ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے صاحبزادہ ابراہمؓ کے متعلق فرمایا اگر وہ زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ حضرت عیسٰی علہل السلام شریعتِ محمدیہﷺ پر ہوں گے: حضرت عیسٰی علہم السلام قریبِ قاامت مںو ضرور نازل ہوں گے، لکنر رسول اللہ ﷺکی شریعت پر ہوں گے، اس لےک نزول عیسٰی سے رسول اللہ ﷺکے خاتم النبین ہونے پر کوئی جرح نہںر کی جاسکتی،کولں کہ ایک توحضرت عیسٰی علہ السلام شریعتِ محمدیہﷺ پر ہوں گے،دوسرے اس کے علاوہ حضرت عیسٰی کو تو رسول اللہ ﷺسے پہلے پغمبرن بناکر بھجای گا تھا پھر رسول اللہ ﷺپر جدید نبوت کو ختم کردیاگاش ۔(تفسر مظہری عربی مکتبہ رشدریہ جلد7صفحہ352-351) سلسلہ نبوت مںے حضور ﷺکی مثال: مسندِاحمد مںن ہے کہ حضور ﷺفرماتے ہںت: مرمی مثال نبو ں مںت اییض ہے جسےل کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لکنہ اس مںر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ،جہاں کچھ نہ رکھا، لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے ہںو ، لکنن کہتے ہںق کہ کاٰہی اچھا ہوتا کہ اس اینٹ کی جگہ بھی پر کرلی جاتی ،پس مں نبوےں مں اسی اینٹ کی جگہ ہوں۔ نبوت کی تمام قسمںن ختم ہوگئںہ: اس حدیث مںا صاف واضح الفاظ مںو بتلا دیا کہ نبوت کی کوئی قسم آپ ﷺ کے بعد باقی نہںک اور مخلوق کی ہدایت کا کام جو پچھلی امتوں مںں انبیا بنی اسرائلٹ سے لاچ گاا تھا وہ اس امت مںع آپ ﷺ کے خلفا سے لاخ جائے گا۔ صححی بخاری و مسلم مںم حضرت ابوہریرہ کی حدیث مرفوع ہے: ’’نبوت مںت سے کچھ باقی نہںو رہا بجز مبشرات(سچے خوابوں )کے ‘‘۔ تخلقر آدم سے بھی قبل آپ ﷺ خاتم تھے: مسنداحمد مںت ہے کہ حضور ﷺفرماتے ہںھ :مںش اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبوںں کا ختم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم علہد السلام پورے طور پر پدبا بھی نہں ہوئے تھے اور حدیث مںم ہے مربے کئی نام ہںھ۔ مں محمد ہوں۔ مںا احمد ہوں او رمںم ماحی ہوں، اللہ تعالی مرےی وجہ سے کفر کو مٹا دے گا او رمںر حاشر ہوں تمام لوگوں کا حشر مرھے قدموں تلے ہوگا او رمںم عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہں ۔(تفسر ابنِ کثرر الکتب العلمی بر وت جلد6) کو نکہ آپ کے بعد کوئی نبی او رکوئی وحی دناے مںم آنے والی نہںب، خاتم الانبیاﷺ کو یہ فکر لاحق تھی کہ قاامت تک امت کو جن حالات سے مسابقہ پڑے گا ان سب حالات کے متعلق ہدایات امت کو دے کر جائیںجس پر رسول اللہ ﷺکی احادیث شاہد ہں کہ آپ کے بعد جتنے لوگ قابلِ اقتدار تھے اکثر ان کے نا م لے کر بتلا دیا ہے اسی طرح جتنے گمراہی کے علمبردار ہں ان کے حالات اور پتے ایسے کھول کر بتلا دیے ہںن کہ ذرا غور کرنے والے کو کوئی اشتباہ باقی نہ رہے،بخلافِ انبیا سابقن کے کہ ان کو اس کی فکر نہ تھی وہ جانتے تھے کہ جب قوم مںر گمراہی پلےذ گی تو ہمارے بعد دوسرے انبیا آکر اس کی اصلاح کردیں گے۔ اسی لےر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ''انی ترکتکم علی شریعۃ بیضاء لیلھا ونھارھا سواء'' یینہ مںے نے تم کو ایسے روشن راستے پر چھوڑا ہے جس مںل رات دن برابر ہںہ، کسی وقت بھی گمراہی کا خطرہ نہں ۔ منکرختمِ نبوت کافر ہے: قاضی عاوض نے اپنی کتاب شفا مں نبی کریمﷺ کے بعد دعویٔ نبوت کرنے والے کو کافر اور کذاب اور رسول اللہ ﷺکی تکذیب کرنے والا کہہ کریہ الفاظ لکھے ہں : امت نے یہ اجماع کا ہے کہ اس کلام کو اپنے ظاہر پر محمول کای جائے اور اس پر کہ اس آیت کا نفس مفہوم ہی مراد ہے بغرک کسی تاویاما تخصصہ کے، اس لےر ان تمام فرقوں کے کفر مں کوئی شک نہںو، بلکہ ان کا کفر قطعی طور سے اجماعِ امت اورنقل یین کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ (معارف القرآن حضرت مولانا مفتی محمدشفعک ؒ، مکتبہ دارالعلوم کراچی جلد7 صفحہ 165-160) خاتم النبیین کی نبوی تفسرؒ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :حضور ﷺ نے فرمایا کہ مرری امت مںو تسی جھوٹے پدکا ہوں گے ہر ایکیہی کہے گا کہ مںی نبی ہوں ،حالانکہ مںف خاتم النبیین ہوں، مرسے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہںو۔(ابوداد ، جلد2صفحہ127) اس حدیث شریف مںا آنحضرت ﷺنے لفظ ''خاتم النبیین'' کی تفسرر ''لانبی بعدی'' کے ساتھ خود فرما دی ہے، اس لےث حافظ ابن کثرؒا اپنی تفسرن مںا اس آیت کے تحت چند احادیثِ نقل کرنے کے بعد ایک نہایت ایمان افروز ارشاد فرماتے ہںو: اللہ تبارک وتعالی نے اپنی کتاب مںی اور رسولِ اکرم ﷺ نے حدیث متواتر کے ذریعہ خبر دی کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہںک آئے گا تاکہ لوگوں کو معلوم رہے کہ آپ ﷺ کے بعد جس نے بھی اس مقام یینر نبوت کا دعوی کا وہ بہت جھوٹا، بہت بڑا افترا پرداز، بڑا ہی مکار اور فریی ، خودگمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہوگا اگرچہ وہ خوارق عادات اور شعبدہ بازی دکھائے او رمختلف قسم کے جادو اور طلسماتی کرشموں کا مظاہرہ کرے۔(تفسر کثرہ) ختمِ نبوت سے متعلق چند احادیثِ مبارکہ: حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ مرہی اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثال اییب ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسنے و جملل محل بنایا مگراس کے کسی کونے مں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ۔ لوگ اس کے گرد گھومنے اور اس پر عش عش کرنے لگے او ریہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کوفں نہ لگادی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مںا وہی اینٹ ہوں اور مں نبوکں کو ختم کرنے والا ہوں۔(صححل بخاری کتاب الماقب جلد1صفحہ501، صححو مسلم جلد2صفحہ248) حضرت ابوہریر رسولِ اکرم ﷺ سے باان کرتے ہںک حضور علہک السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائلل کی قا دت خود ان کے انبیا کاو کرتے تھے جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اس کی جگہ دوسرا نبی آتا تھا لکن مراے بعد کوئی نبی نہںس البتہ خلفا ہوں گے اور بہت ہوں گے۔'' حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا اگر مرلے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔ مجھے اور قانمت کو دو انگلوکں کی طرح بھجای گال ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے، پس مررے بعد نہ کوئی رسول ہی ہے او رنہ نبی۔ ''خاتم النبیین ''کی تفسر صحابہ کرامؓ سے: آئےی دیںھک کہ حضراتِ صحابہ کرام وتابعنب کا مسئلہ ختم نبوت سے متعلق کاں موقف تھا۔ خاتم النبیین کا ان کے نزدیک کائ ترجمہ تھا؟ حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا: مراد یہ ہے کہ اگرمںب سلسلہ انبیا کو محمد ﷺ پر ختم نہ کردیتا تو ان کے بعد ان کے بٹےی کو نبی بنادیتا۔ علما نے حضرت ابنِ عباس کا قول نقل کاں ہے کہ جب اللہ نے یہ فصلہ کردیا کہ رسول اللہ ﷺکے بعد کسی کو نبی بناناہی نہیںہے تو حضور ﷺکو کوئی لڑکا بھی عنایت نہںو کاھ، ابنِ ماجہ نے حضرت ابنِ عباسؓ کی روایت سے باون کای ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے صاحبزادہ ابراہمؓو کے متعلق فرمایا اگر وہ زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ امام ابوجعفر ابن جریر طبریؒ اپنی عظمب الشان تفسرو مں حضرت قتادہؓ سے خاتم النبیین کی تفسرب مں روایت فرماتے ہں : حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسری مںت فرمایا: اور لکن آپ ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیینیعنی آخرالنبیین ہںھ۔(ابنِ جریر صفحہ16) حضرت حسن بصریؒ سے آیت خاتم النبیین کے بارے میںیہ تفسرص نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالی نے تمام انبیا کو محمد ﷺ پر ختم کردیا اور آپ ﷺ ان رسولوں مں سے، جو اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے آخری ٹھہرے۔(درمنثور جلد5صفحہ24) ختمِ نبوت پر اجماعِ امت: حجۃ الاسلام امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہںں: بشکِ امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین)سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہو م یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا او رنہ رسول اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ مں( کوئی تاویل و تخصصہ نہںم اور اس کا منکر اجماع کا منکر ہوگا۔(الاقتصاد فی الاعتقاد صفحہ123) خاتم النبیین اور قادیانی جماعت: قرآن و سنت صحابہ کرام اور اصحابِ لغت کی طرف سے لفظ خاتم النبیین کی وضاحت کے بعد اب قادیانی جماعت کے مؤقف کو دیکھئے: ان کا کہنا ہے کہ ''خاتم النبیین کا معنی نبوبں کی مہر'' یین پہلے اللہ تعالی نبوت عنایت فرماتے تھے۔ اب آنحضرت ﷺکی اتباع سے نبوت ملے گی جو شخص رحمت دوعالم ﷺ کی اتباع کرے گا آپ ﷺ اس پر مہر لگادیں گے تو وہ نبی بن جائے گا۔ (نعوذباللہ) قادیانی جماعت کا یہ مؤقف سراسر غلط، فاسد، باطل، بے دییہ، تحریفِ دجل وافتراء، کذب و جعل سازی پر مبنی ہے۔(حقیقۃاالوحی صفحہ97 حاشہد ومن 28خزائن صفحہ100و3جلد22) مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفع9 صاحب کاچلنج : مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفع9 صاحب نے اس موقعہ پر کاب خوب چلنج کان، آپ فرماتے ہںچ: ''اگر مرزا صاحب اور ان کی امت عرب اور قواعد عربتط سے ثابت کریں خاتم النبیین کے معنییہ ہے کہ ''آپ ﷺ کی مہر سے انبیا بنتے ہں '' لغت عرب کے طویل و عریض دفتر مںپ سے زائد نہںج صرف ایک نظرج اس کی پشل کردیںیا کسی ایک لغوی اہل عربتر کے قول میںیہ معنی دکھلا دیں او رمجھے ینںپ ہے کہ ساری مرزائی جماعت مع اپنے نبی اور ابن نبی کے اس کی ایک نظری کلام عرب یا اقوال لغویین مںن نہ دکھلا سکںی گے''۔ اگر یہ صرف ہاتھی کے دکھلانے کے دانت نہں تو خدارا !خاتم النبیین کی اس تفسرم کو قرآن کی کسی ایک آیت مںل دکھلائںذ اور اگر یہ نہںک ہوسکتا تو احادیثِ نبویہﷺکے اتنے وسعی و عریض دفتر مںن ہی کسی ایک حدیث میںیہ تفسری دکھلائں پھر ہم یہ نہں کہتے ہںک کہ صحیین کی حدیث ہو یا صحاح ستہ کی بلکہ کسی ضعفب(حدیث کی کتاب) مں دکھلا دو کہ نبی کریمﷺ نے خاتم النبیین کے یہ معنی بتلاتے ہوں کہ آپ ﷺ کی مہر سے انبیا بنتے ہںح اور اگریہ بھی نہں ہوسکتا تو کم از کم کسی صحابی ،کسی تابعی کا قول ہی پشھ کرو،جس مںں خاتم النبیین کے یہ مینہ باںن کےر ہوں لکنن مجھے معلوم ہے کہ: ختمِ نبوت کی احادیث کے راوی صحابہ کرام: حضرت سدوناابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت سدنناعمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ حضرت سدوناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، حضرت سدتناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت سدوناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت سد ناابی بن کعب رضی اللہ عنہ حضرت سدوناحذیفہ بن ایمان رضی اللہ عنہ ، حضرت سددناابوھریر ہ رضی اللہ عنہ حضرت سدوناابوسعدف خدری رضی اللہ عنہ حضرت سد ناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
1019