(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/09
موضوعات
حج و عمرہ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ حج و عمرہ قرآن و حدیث کی روشنی مںس ارکان اسلام مںن سے ایک اہم رکن حج ہے تمام مسلمانوں پر اس کی فرضت کا عقدفہ رکھنا لازم ہے اور اس کا انکار کفر ہے، البتہ حج عمر بھر مںِ ایک بار صرف صاحب استطاعت مسلمانوں پر فرض ہے۔ حج کے فضائل اور اسکے احکام مںے قرآن پاک کی بہت سی آیات نازل ہوئی ہںل اور احادیث تو لاتعداد وارد ہوئی ہے۔ حج اور آیات قرآنہا: (۱) وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلااً۔ (آل عمران آیت نمبر ۹۷) ترجمہ: اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر حج کرنا کا اس گھر کا جو شخص قدرت رکھتا ہو اس کی طرف راستے چلنے کی۔ (۲) اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ط وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍیَّعْلَمْہُ اﷲُ (بقرہ ۱۹۷) ترجمہ: حج کا وقت چند مہنےل ہںْ جو معلوم ہںہ، سو جس شخص نے ان مںُ حج کو اپنے ذمہ لازم کرلاا تو حج مںَ نہ کوئی فحش بات (کی اجازت) ہے نہ فسوق (کی اجازت) ہے نہ کسی قسم کا جھگڑا (کی اجازت) ہے اور جو بھی کوئی نیک کام کروگے اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔ (۳) وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ لِّیَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ۔ (سورۃ الحج آیت نمبر ۲۷) ترجمہ: اور لوگوں مں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس پدکل چل کر اور دُبلی اونٹنوَں پر آئںَ گے یہ اونٹیاں دور دراز راستوں سے آئںہ گی۔ تاکہ لوگ اپنے منافع کے لئے حاضر ہوں۔ حدیث مںگ آتا ہے کہ جب ابراہم علہ السلام بت اللہ شریف کی تعمرک سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی بارگا مںٓ عرض کال کہ تعمرض سے فراغت ہوچکی ہے اس پر اللہ جَلَّ شانہٗ کی طرف سے حکم ہوا کہ لوگوں مںن حج کا اعلان کرو، جسکا اس آیت شریف مںع ذکر ہے، حضرت ابراہم علہچ السلام نے عرض کاش کہ یااللہ مرںی آواز کس طرح پہنچے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آواز کا پہنچانا ہمارے ذمے ہے۔ حضرت ابراہم علہچ السلام نے اعلان فرمادیا جس کو آسمان و زمنل کے درماٹن ہر چزا نے سنا۔ آج اس بات مںم کوئی اشکال نہںم رہا ایک ملک سے دوسرے ملک مںا آواز پہنچ رہی ہے اسی طرح ایک دوسری حدیث مںٓ آتا ہے اس آواز کو ہر شخص نے سنا اور لبکہ کہا جسکے معنیہے مںے حاضر ہوں۔ ییو وہ لبکک ہے جس کو حاجی احرام کے بعد شروع کرتا ہے۔ جس شخص کی قسمت مںا اللہ تعالیٰ نے حج کی سعادت لکھی تھی وہ اس آواز سے بہر مند ہوا اور لبکو کہا۔ (اتحاف) دوسری حدیث مںی ہے جس شخص نے بھی خواہ وہ پدرا ہوچکا تھا یا ابھی تک عالم ارواح مں تھا۔ اس وقت لبکو کہا وہ حج ضرور کرتا ہے۔ ایک حدیث مں ہے جس نے ایک مرتبہ لبکن کہا ہو ایک حج کرتا ہے جس نے اس وقت دو مرتبہ لبکں کہا ہو وہ دو مرتبہ حج کرتا ہے اور اسی طرح جس نے اس سے زیادہ جتنی مرتبہ لبکر کہا اتنے ہی حج اس کو نصبا ہوتے ہںم۔(درمنثور) حج اور احادیث طبہ (۱)۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کلئے حج کرے اس طرح کہ اس حج مںن نہ (کوئی فحش بات ہو اور نہ فسق ہو اور نہ کوئی گناہ وہ حج سے ایسا واپس ہوتا ہے جساص اس دن تھا جس دن ماں کے پٹا سے نکلا تھا۔(متفق علہی، مشکوٰۃ) (۲)۔ ایک اور حدیث مں آیا ہے کہ قایمت کے قریب مرکی امت کے امر لوگ تو حج محض سرگو تفریح کے ارادہ سے کریں گے (گویا لندن و پروس کی تفریح نہ کی تو حجاز کی تفریح کرلی) اور مر ی امت کا متوسط طبقہ تجارت کی غرض سے حج کرے گا۔ تجارتی مال کچھ اِدھر سے لے گئے کچھ اُدھر سے لے آئے اور علماء ریاوشہرت کی وجہ سے حج کریں گے (فلاں مولانا صاحب نے پانچ حج کےا دس حج کےا) اور غربا بھکر مانگنے کی غرض سے جائںک گے۔(کنزالعمال) (۳)۔ رسول اللہ ا نے فرمایا کہ نیے والے حج (حج مقبول) کا بدلہ جنت کے سِوا کچھ نہںی۔(متفق علہ مشکوٰۃ) (۴)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی دن ایسا نہںل جس مںن اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زائد بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں۔ یینح جتنی کثرف مقدار کو عرفہ کے دن خلاصی ہوتی ہے اتنی کثرس تعداد کسی اور دن کی نہں ہوتی۔ حق تعالیٰ شانہٗ (دنا کے) قریب ہوتے ہںے پھر فخر کے طور پر فرماتے ہیںیہ بندے کاے چاہتے ہںہ۔ (مسلم، مشکوٰۃ) (۵)۔ ایک دوسری حدیث مںک آتا ہے جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سب سے نچے کے آسمان پر اتر کر فرشتوں سے فخر کے طور پر فرماتے ہں۔ مررے بندوں کو دیکھو کہ مرٓے پاس اییت حالت مںم آئے ہں کہ سر کے بال بکھرے ہوئے ہںف بدن پر کپڑوں کی وجہ سے غبار پڑا ہوا ہے لبک اللّٰہُمَّ لبکک کا شور ہے دور دور سے چل کر آئے ہں ۔ مں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ مںف نے ان کے گناہ معاف کردیے فرشتے عرض کرتے ہںے کہ یااللہ فلاں شخص گناہ کی طرف منسوب ہے اور فلاں مرد و عورت تو بس کا کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے مں نے سب کی مغفرت کردی۔ حضور ﷺ فرماتے ہںچ کہ اس دن سے زیادہ کسی دن بھی لوگ جہنم کی آگ سے آزاد نہںا ہوتے۔(مشکوٰۃ) (۶)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرما یا جب کسی حاجی سے ملاقات ہو تو اس کو سلام کرو اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے گھر مںز داخل ہو اپنے لےر دعائے مغفرت کی اس سے درخواست کرو کوس نکہ وہ اپنے گناہوں سے پاک صاف ہو کر آیا ہے۔ (رواہ احمد، کذافِیالمشکوٰۃ) ایک حدیث مں رسول اللہ ﷺ کییہ دعا آئی ہے کہ یااللہ تو حاجی کی بھی مغفرت کر اور جس کی مغفرت کی حاجی دعا کرے اس کی بھی مغفرت فرما۔ ایک حدیث مںک آیا کہ رسول اللہ ﷺ نے تنج مرتبہ یہ دعا کی۔ اس سے اور بھی زیادہ تاکد معلوم ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ سے نقل کار گال ہے کہ حاجی کی بھی اللہ کے یہاں سے مغفرت ہے اور حاجی۲۰ ربعس الاوّل تک جس کے لئے دعائے مغفرت کرے اس کی بھی مغفرت ہے۔(اتحاف) (۷)۔ رسول اللہ ا نے فرمایا جو حج کا ارادہ کرے اسکو جلدی کرنا چاہے۔(ابوداؤد) (۸)۔ رسول اللہ ا نے فرمایا جو شخص حج کلئے جائے اور راستہ مں۔ انتقال کرجائے اس کلئےک قاومت تک حج کا ثواب لکھا جائے گا۔(الترغبل) ایک اور حدیث مںف آیا ہے کہ جو شخص حج یا عمرہ کے لئے نکلے اور انتقال کر جائے نہ اس کی عدالت مں پیلک ہے نہ حساب کتاب۔ اس سے کہہ دیا جائے گا کہ جنت مںغ داخل ہوجا۔ (۹)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حاجی کی سفارش چار سو (400) گھرانوں مں مقبول ہوتی ہے، یایہ فرمایا کہ اس کے گھرانے مںا چارسو آدمونں کے بارے مں قبول ہوتی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ حاجی اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جسا کہ پداائش کے دن تھا۔(رواہ البزار کذافی الترغبے) (۱۰)۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرام ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان اور اییے سواری مسرح ہو جو اسے بتی اللہ تک پہنچا سکے، اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پروا نہںن کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر مرے۔ تن مرتبہ حج کرنے کی فضیلت قاضی عاتض رحمۃ اللہ علہ نے اپنی مشہور کتاب ’’شفاء‘‘ مں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک جماعت سعدون خولانیؒ کے پاس آئی اور اُن سے یہ قصہ باتن کاک کہ قبلہو کتامہ کے لوگوں نے ایک آدمی کو قتل کاص اور اس کو آگ مںج جلانا چاہا، رات بھر اس پر آگ جلاتے رہے مگر آگ نے اس پر ذرا بھی اثر نہ کال بدن ویسا ہی سفدے رہا۔ سعدونؒ نے فرمایا کہ شاید اس شہدر نے تن حج کےا ہوں گے۔ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں تنف حج کےل ہںن سعدونؒ نے کہا مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جس شخص نے ایک حج کا اس نے اپنا فریضہ ادا کاگ اور جس نے دوسرا حج کاح اس نے اللہ کو قرض دیا اور جو تنہ حج کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی کھال اور اس کے بال کو آگ پر حرام کردیتا ہے۔(شفا) حج کی تعریف اور اقسام حج کی تعریف: لغت مںن کسی با عظمت شخص یا مقام کی زیارت کا ارادہ کرنے کو حج کہتے ہں ۔ اور اسلامی شریعت مں حج کے زمانے مںد خانہ کعبہ کی زیارت کرنے اور مدنان عرفات مںز پہنچنے کو حج کہتے ہں ۔ حج کی قسمںی: حج کی تنم قسمں ہںن۔ (۱) اِفْرَادْ (۲) تَمَتّعْ (۳) قِرَانْ اِفْرَادْ: صرف حج کا احرام باندھنے کو افراد کہتے ہںی۔ تَمَتّعْ: اس طریقہ حج کو کہتے ہںا جس مںک حج کے زمانے مںف احرام باندھ کر عمرہ کرلا جائے اور اس کے بعد کچھ دنوں کے لئے احرام کھول دیا جائے۔ پھر حج کے فرائض ادا کرنے کے لئے آٹھویں ذولحجہ کو دوبارہ احرام باندھ لاک جائے، اس شخص کو متمتع کہا جاتا ہے۔ قِرَانْ: اس طریقہ احرام کو کہا جاتا ہے جس مںن حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا جائے اور پہلے عمرہ پھر حج کاس جائے ایسا کرنے والے کو قارن کہتے ہںج۔ حج کے فرائض حج کے تن فرائض ہںی۔ (۱) احرام یینں حج کی دل سے نت کرنا اور تلبیہیعنی لبکا کے کلمات کہنا (۲) وقوف عرفات یینئ۹ ذی الحجہ کو زوال آفتاب کے وقت سے غروب آفتاب تک عرفات مںح کسی وقت ٹہرنا، چاہے کچھ دیر ہی کو ں نہ ہو۔ (۳) طواف زیارت کرنا جو دسویں ذوالحجہ کی صبح سے لے کر بارہویں ذی الحجہ تک سر کے بال منڈوانے یا کتروانے کے بعد کا جاتا ہے۔ مسئلہ: اگر عورت حضئ کی وجہ سے طواف زیارت اس کے وقت مںے نہ کرسکے تو دم واجب نہ ہوگا پاک ہونے کے بعد طواف کرے۔ مسئلہ: جو عورتں ان دنوں مںو حضف سے ہوں اور واپسی کا سفر درپشک ہو تو ان کو چاہے وہ اپنا سفر ملتوی کردیں اور جب تک پاک ہو کر طواف نہ کرلں مکہ سے واپس نہ جائں ۔ مسئلہ: اگر حکومتی پابندیوں کے باعث مجبوری ہو یا خاوند یا اہل قافلہ کی روانگی کی تاریخ تبدیل نہ ہوسکتی ہو یینو اگر مزید ٹھربنا واقعی ممکن نہ ہو اور عورت حالت حض مں جاکر طواف زیارت کرلے تو اسکا طواف زیارت ادا ہوجائے گا۔ لکنر ایک تو اسکو توبہ و استفغار کرناہوگا۔ دوسرے ایک سالہ اونت یا گائے حرم مںا ذبح کرنا ہوگی۔ مسئلہ: ان تینوں فرضوں مںس اگر کوئی چزں چھوٹ جائے تو حج صححا نہںی ہوتا اور اسکی تلافی دم یین قربانی وغروہ سے بھی نہںے ہوتی۔ مسئلہ: ان تنو فرائض کا ترتبا وار ادا کرنا اور ہر فرض کو اس کے مخصوص مکان اور وقت مںح ادا کرنا فرض ہے۔ مثلاً پہلے احرام باندھنا، پھر عرفات مںو ٹھرئنا اور پھر طواف زیارت کرنا۔ حج کے واجبات حج کے واجبات چھ ہں : (۱) دسویں ذوالحجہ کی رات کو مزدلفہ مں ٹھہرنا اگرچہ ایک گھڑی ہو اگر راستہ چلتے ہوئے بھی اس وقت مںف مزولفہ مںھ سے گزر جائے تو وقوف ہوجائے گا۔ (۲) صفا اور مروہ کے درماذن سعی کرنا اور رمی جمار یین کنکریاں مارنا۔ (۳) قران اور تمتع کرنے والے کو تمتع اور قران کے شکرانے کا دم ینا۔ (۴) حلق یینت سر کے بال منڈوانا یا قصر ایک پورے کے بقدر بال کٹوانا۔ مردوں کے لئے منڈوانا بہتر ہے اور عورتوں کے لئے تھوڑا سا کتروانا۔ (۵) مقا ت کے باہر سے آنے والے کو طواف و داع کرنا۔ مسئلہ: واجبات کا حکم یہ ہے کہ اگر ان مںا سے کوئی واجب چھوٹ جائے گا تو حج تو ہوجائے گا خواہ قصدًا چھوڑا ہو یا بھول کر لکنر اسکی جزا لازم ہوگی۔ البتہ اگر کوئی فعل کسی قوی عذر کی وجہ سے چھوٹ گاا تو جزا لازم نہںو ہوگی۔ حج کی سنتںی (۱) وہ آفاقی جو حج افراد یا حج قران کرے اس کو طواف قدوم کرنا۔ (۲) طواف قدوم مںی رمل کرنا جب کہ اس کے بعد صفا و مروہ کی سعی کا بھی ارادہ ہو اگر اس مںق نہ کات ہو تو پھر طواف زیارتاں طواف و داع مںی رمل کرے اور اس کے بعد سعی کرے۔ (۳) امام کا تنم مقام پر خطبہ پڑھنا ساتویں ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ مںی اور نویں ذوالحجہ کو عرفات مں اور گا رہویں کو منٰی مںہ۔ (۴)۔ نویں ذوالحجہ کی رات کو منیٰ مںہ رہنا۔ (۵)۔ طلوع آفتاب کے بعد نویں ذوالحجہ کو منٰی سے عرفات کو جانا۔ (۶)۔ مزدلفہ مںا عرفات سے واپس ہوتے ہوئے رات کو ٹھہرنا۔ (۷)۔ عرفات مں غسل کرنا۔ (۸)۔ ایام منیٰ مں رات کو منیٰ مںک رہنا۔( آٹھویں ذوالحجہ کی ظہر سے نویں ذی الحجہ کی فجر تک منیٰ مںل رہنا، پانچ نمازیں ادا کرنا اور رات کو قا م کرنا)۔ (۹)۔ منیٰ سے واپسی مںہ محصب ایک جگہ ہے اسمںہ ٹھہرنا اگرچہ ایک لمحہ ہی کو ں نہ ہو۔ مسئلہ: سنت کا حکم یہ ہے کہ ان کو قصدًا ترک کرنا بُرا ہے اور کرنے سے ثواب ملتا ہے اور ان کے ترک کرنے سے جزا لازم ہوتی ہے۔ میقات کا بیان جب لوگ حج کے لئے جاتے ہںک تو مکہ مکرمہ پہنچنے سے پہلے ایک مقام پر پہنچ کر تمام حج کرنے والے نہا دھو کر حج کا لباس (احرام) پہنتے ہںی اسی مقام کو مقابت کہتے ہںچ اگر کوئییہاں احرام نہ باندھے تو اس کو واپس آکر پھر یہاں سے احرام باندھنا ہوگا۔ ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کی مقا تیلم لم کی پہاڑی ہے۔ اسی طرح دوسرے ممالک کے باشندوں کے لئے الگ الگ مقا ت ہے۔ مسئلہ: جو شخص مقاہت سے باہر رہنے والا ہے اگر وہ مکہ مکرمہ یا حرم کے ارادہ سے سفر کرے تو اس کو مقا ت پر پہنچ کر احرام باندھنا واجب ہے۔ مسئلہ: مکہ مکرمہ یا حرم مںر حج یا عمرہ کے ارادہ سے جائے یا تجارت و سرق وغرہہ کے لئے ہر صورت مقاات پر پہنچ کر احرام باندھنا واجب ہے۔ مسئلہ: مقا ت سے پہلے بلکہ اپنے گھر سے بھی احرام باندھنا جائز ہے بلکہ افضل ہے بشرطکہف جنایات احرام مں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو ورنہ مکروہ ہے۔ مسئلہ: اگر کوئی شخص مسلمان عاقل بالغ جو مقایت سے باہر کا رہنے ولا ہے اور مکہ مکرمہ مںک داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے خواہ حج و عمرہ کی نتئ سے ہو یا اور کسی غرض سے، مقاات پر سے بلا احرام باندھے آگے گزر جائے گا تو گنہگار ہوگا اور مقاات کی طرف لوٹنا واجب ہوگا۔ اگر لوٹ کر مقاات پر نہںل آیا اور مقاات کے آگے ہی سے احرام باندھ لاگ تو ایک دم دینا واجب ہوگا اور اگر کسی بھی مقابت پر واپس آکر احرام باندھا تو دم ساقط ہوجائے گا۔ احرام کا بیان احرام کا معنی ہے حرام کرنا۔ حاجی جس وقت حج کی نتر پختہ کرکے تلبہے پڑھ لتاد ہے تو اس پر چند حلال اور مباح چز یں حرام ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے اسکو احرام کہتے ہںق اسی طرح ان دونوں چادروں کو بھی احرام کہتے ہںب جن کو حاجی حالت احرام مںب استعمال کرتا ہے۔ مسئلہ: احرام کی نتا کا دل سے ہونا ضروری ہے۔ زبان سے کہنا واجب نہںو، ہاں اچھا ہے۔ جس چز کا احرام باندھنا ہے اس کی دل مںئ نتر کرنی چاہےد کہ اِفراد کا احرام باندھتا ہوں یا قران کا یا تمتع کا۔ اگر دل سے نتر کرلی اور زبان سے کچھ نہں۔ کہا تو نتس ہوجائے گی۔ مسئلہ: احرام کی چادر اتنی لمبی ہو کہ داھنے کندھے سے نکال کر بائں کندھے پر سہولت سے آجائے اور تہہ بند اتنا ہو کہ ستر اچھی طرح چھپ جائے۔ مسئلہ: چادر لنگی اگر بچت مںب سے سلی ہوئی ہو تو جائز ہے مگر افضل یہ ہے کہ احرام کا کپڑا بالکل سلا ہوا نہ ہو۔ عورت کا احرام مسئلہ: عورت کا احرام مرد کے احرام کی مانند ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ عورت کو سلے ہوئے کپڑے پہننا جائز ہے۔ مسئلہ: عورت کو احرام مں سر ڈھانپنے کا حکم وجوب ستر کی وجہ سے ہے، نہ کہ احرام کی وجہ سے۔ مسئلہ: عورت کو اجنبی مردوں کے سامنے چہرہ کھولنا منع ہے اس لےک کوئی چز پیشانی کے اوپر اس طرح لگا کر کپڑا ڈال لے کہ کپڑا چہرے کو نہ لگے۔ مسئلہ: عورت کو احرام مںی زیور، موزے اور دستانے پہننا جائز ہے مگر نہ پہننا اولیٰ ہے۔ احرام باندھنے کا مسنون طریقہ احرام باندھنے سے پہلے مستحب ہے کہ حجامت بنوالی جائے، ناخن کتروائے جائںت، بغل اور زیر ناف بال صاف کرلے جائںم۔ اس لئے کہ احرام کی حالت مںچ بال کٹوانا، ناخن کتروانا، بغل اور زیر ناف بال صاف کروانا منع ہے۔ اس کے بعد اچھی طرح غسل کرلںں، خوشبو لگائںا، اگر کوئی عورت حضر و نفاس سے فارغ ہوئی ہے تو اس پر غسل کرنا واجب ہے۔ (۲)۔ غسل وغرئہ سے فارغ ہو کر مردوں کو چاہے کہ وہ اپنا سلا ہوا کپڑا اتار ڈالں اور بغر سلی ہوئی چادر کا تہہ باندھ لں اور ایک چادر اس کے اوپر سے اوڑھ لںہ۔ یہ دونوں چادریں سفدو اور بالکل نئی ہوں تو بہت بہتر ہے۔ اگر سفد نہ ہوں یا نئی نہ ہوں صرف دُھلی ہوئی ہوں تو بھی کوئی حرج نہں ہے۔ (۳)۔ احرام یہ لباس پہن کر اگر کوئی مکروہ وقت نہ ہو تو پورے حضورِ قلب کے ساتھ دو رکعت نفل نماز احرام کی نتد سے پڑھںہ۔ ان دونوں رکعتوں مںر قل یا ایہا الکٰفرون اور قل ہو اللّٰہ پڑھنا مسنون ہے۔ حج و عمرہ کی نیت حج کی نیتیوں کرنی چاہےی’’ اے اللہ مںپ حج کا ارادہ کرتا ہوں اسکو مرہے لےا آسان کردے اور قبول فرما لے‘‘۔ اگر عمرہ کی نتہ ہو تو حج کے بجائے عمرہ کا لفظ کہے۔ مسئلہ: نت دل کے ارادے کا نام ہے، البتہ اگر زبان سے اور عربی الفاط مںی نتا کے کلمات ادا کرے تو افضل ہے۔ عمرہ کا بیان فرائض عمرہ: (۱) مقاکتا حل (حدودِ حرم سے باہر کی جگہ) سے احرام باندھنا۔ (۲) خانہ کعبہ کا طواف کرنا۔ واجبات عمرہ: (۱) صفاو مروہ کے درما ن۷ چکروں سے سعی کرنا۔ (۲) سر کے بال کٹوانا یا منڈوانا، باقی شرائط اور احرام کے احکام وہی ہںا جو حج کے ہںت۔ عمرہ کا پہلا کام طواف اور اس کا طریقہ: عمرہ کا سب سے پہلا کام طواف ہے، طواف کے لئے وضو ضروری ہے، اس لئے مسجد حرام مںا باوضو آئںن، طواف شروع کرنے سے پہلے آپ بت اللہ کے اس کونے کے سامنے آجائںی جس مںم حضرا سود لگا ہوا ہے، آپ اس کے قریب آجائںے اور وہاں آکر اس طرح کھڑے ہو کہ حجرا سود کا کونا آپ کے داہنی طرف رہے اور آپ کے چہرہ بتی اللہ کی طرف ہو۔ یہ نتج کرنے کی جگہ ہے، یہاں کھڑے ہو کر آپ نتا کریں کہ مں عمرہ کے طواف کے سات چکر اللہ کے لئے لگاتا ہوں، اللہ تعالیٰ اس کو آسان فرمائںا اور قبول فرمائں ۔ نتو کرنے کے بعد اب آپ اپنا سددھا مونڈھا کھول لںا اور احرام کی چادر دائںئ بغل کے نچےک سے نکل کر بائںا مونڈھے پر ڈال لںک۔ اس کو ’’اضطباع‘‘ کہتے ہںو، اس طواف کے ساتوں چکروں میںیہ مونڈھا کھلا رکھنا سنت ہے، جب سات چکر پورے ہوجائںں تو پھر چادر کو دونوں مونڈھوں پر ڈال لں ۔ عمرہ کا دوسرا کام صفا، مروہ کی سعی اور اسکا طریقہ: سعی شروع کرنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر حجرا سود کے سامنے آئںق اور اسی طریقے سے حجرا سود کے سامنے کھڑے ہوکر حجرا سود کا استلام کریں جس طرح آپ پہلے کرچکے ہںر،یہ حضرا سود کانواں استلام ہوگا، طواف کے دوران آٹھ مرتبہ آپ پہلے استلام کرچکے ہںل، ’’استلام‘‘ کرنے کے بعد ’’صفا‘‘ کی طرف جاتے ہوئے یہ پڑھںس۔ اَبْدَئُ بِمَا بَدَا اَللّٰہُ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْ وَۃَمِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ اگر یاد ہو تو پوری آیت پڑھںۃ، ’’صفا‘‘ پہاڑی پر اتنا چڑھںہ کہ وہاں سے بت اللہ شریف نظر ائے، بعض لوگ اوپر پچھے دیوار تک چلے جاتے ہںا،یہ صححْ نہںا، آپ کو بعض محرابوں کے درماپن سے ’’بتد اللہ شریف‘‘ نظر آئے گا، وہاں کھڑے ہو کر بتر اللہ شریف کو دیکھ کر تنَ بار اللہ اکبر کہںِ اور پھر: لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ کہںٓ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں اور دعا کریں،یہ قبولتر دعا خاص جگہ ہے، دعا کرنے کے بعد نتد کریں کہ مںل اللہ کے لئے عمرہ کی صفا، مروہ کی سعی کرتا ہوں اور صفا سے مروہ کی طرف چلںُ، درماین مںہ دو (۲) ہرے رنگ کے ستون آئںک گے جن کو ’’مِیلَین اَخضَرین‘‘ کہتے ہں ۔ ان پر ہرے رنگ کی لائٹںن لگی ہوئی ہںت، مردان دونوں ستونوں کے درمایان جھپٹ کر چلں،، جب دوسرا ستون گزر جائے تو اطمنالن کے ساتھ چلںر، اور خواتنے ان ستونوں کے درمارن مںئ بھی اطمناون سے چلںگ۔ مروہ پہنچ کر آپ کا ایک چکر پورا ہوگا ۔ مروہ پر بھی بتو اللہ کی طرف منہ کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کریں اور دعا کریں۔ مروہ سے بت اللہ کی عمارت نظرنہںی آتی، لکن اُدھر منہ کر کے دعا کریں، دعا کرنے کے بعد پھر صفاؔ کی طرف آئںں،یہ آپ کا دوسرا چکّر ہوگار۔ پھر صفا پر دعا کرنے کے بعد مروہ کی طرف چلںہ،یہ تسرنا چکر ہوگاں۔ مروہ پہنچ کر پھر دعا کریں اور صفا کی طرف چلیںیہ چوتھا چکر ہوگا ، اس طرح سات چکر لگائںک، ساتواں چکّر مروہ پر پورا ہوگا۔ ہر چکّر مروہ پر پورا ہوگا۔ ہر چکّر مںں صفاپر بھی دعا کریں اور مروہ پر بھی اور ہرے ستونوں کے درما ن مرد تزد چلں ۔ بعض حضرات یہ سمجھتے ہں کہ صفا سے مروہ، اور مروہ سے دوبارہ صفا آنے پر ایک چکّر پورا ہوگا، یہ بات غلط ہے۔ صفا، اور مروہ کے درمارن سعی کے سات چکّر پورے ہوجانے کے بعد شکرانہ کی دو رکعت پڑھ لںو۔ یہ دو رکعت سنت یا مستحب ہں ۔ مسجد حرام مں جہاں چاہںے ادا کرلںک، ان کے لئے مقامِ ابراہمو پر جانے کی ضرورت نہںر۔یہ عمرہ کا دوسرا کام ہوگام۔ طواف اور سعی کی دعائںہ: بعض حضرات پریشان ہوتے ہںف کہ ہمں طواف اور سعی کی دعائیںیاد نہںگ، اس لئے بہت سے لوگ طواف اور سعی کے دوران کتاب مںو دیکھ دیکھ کر دعائںط پڑھتے ہںک، آپ حضرات ایسانہ کریں، کو نکہ وہاں پر دعائںے مانگی جاتی ہںر، پڑھی نہںد جاتںو، دعا مانگنا اور چزش ہے اور دعا کا پڑھنا اور چزع ہے، طواف کے دوران کتاب مںع دیکھ کر دعائںں پڑھتے ہوئے چلنے سے الجھن بھی ہوگی اور دوسروں سے ٹکراؤ بھی ہوگا۔ فقہاءؒ نے لکھا ہے کہ قرآن و حدیث کی جو دعائںا آپ کو پکی اور صححد صحیحیاد ہوں، ان کو پڑھتے رہں ، انشاء اللہ وہ دعائںق آپ کی تمام دعاؤں کے قائم مقام ہوجائںا گی، دو چار دعائں ہر مسلمان کو یاد ہوتی ہںا،یادنہ ہوں تو یاد کرلںد اور طواف اور سعی کے دوران انہںٓ کو پڑھتے رہںٔ، اس فکر مںئ مت پڑئےج کہ پہلے چکر کی دعا یہ ہے اور دوسرے چکر کی دعا یہ ہے، کوسنکہ احادیث مںء اس طرح ہر چکّر کی علحدیہ دعا ثابت نہںں۔ البتہ ’’رکن یمانی‘‘ اور ’’حجرا سود‘‘ کے درما ن: رَبَّنَآ اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ پڑھتے رہںں۔ اسی طرح صفا اور مروہ کے درماین کی ایک مختصر سی جامعہ دعا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، آپ اس کو یاد کرلں۔ اور اس کو پڑھںو۔ وہ دعا یہ ہے۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُ باقی اس کے علاوہ بھی جو دعائںَ آپ کو یاد ہوں، ان کو پڑھئے۔ عمرہ کا تسر ا کام سر کے بال منڈوانا یا کتروانا: صفا، مروہ کی سعی کے بعد عمرہ کا تسرُا کام سر کے بال منڈوانا یا کتروانا ہے، رسول اللہ ﷺ نے سر کے بال منڈوانے والوں کو کئی بار دعا دی اَللّٰہُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِیْنَ اے اللہ! سر منڈوانے والوں پررحم فرما۔ صحابہ کرام نے عرضی کاو کہ یا رسول اللہ ﷺ !بال کتروانے والوں کو بھی دعا دیدیجئے، آپ نے پھر وہی دعا فرمائی۔ اَللّٰہُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِیْنَ اے اللہ! سر منڈوانے والوں پررحم فرما۔ صحابہ کرام نے پھر عرض کان کہ یارسول اللہﷺ !بال کتروانے والوں کے لئے بھی دعا فرما دیںِ آپ نے اب کی مرتبہ یہ دعا فرمائی۔ اَللّٰہُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِیْنَ وَالْمُقَصِّرِیْنَ۔ اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر بھی رحم فرما، اور کتروانے والوں پر بھی رحم فرما۔ رسول اللہ ﷺ کے بال منڈوانے والوں کو کئی بار دعائں دینے سے سر منڈوانے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، اگرچہ بالوں کا کتروانا بھی مردوں کے لئے جائز ہے۔ کتنے بالوں سے قصر کرانا (کتروانا) ضروری ہے؟ بال کتروانے مں لوگ بہت غلطی کرتے ہں ، اس لئے اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھ لناف چاہئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ حنفی مسلک مںا کم از کم سر کے چوتھائی حصے کے بالوں مںئ سے ایک ایک پورے کے برابر کتروانا واجب ہے، اور پورے سر کے بالوں مں سے ایک ایک پورے کے برابر کتروانا افضل ہے۔ لکنا وہاں لوگ دوسرے مسلک کے لوگوں کو دیکھ کر ذرا ذرا سے بال ایک طرف سے کتروالتےن ہںر اور سمجھتے ہںل کہ ہمارا واجب ادا ہوگام، حالانکہ اس طرح کٹوانے سے نہ تو چوتھائی سر کے بالوں مں سے بال کٹتے ہںک اور نہ ہی ایک پورے کے برابر کٹتے ہںا،یاد رکھئے! اس طرح بال کٹوانے سے واجب ادا نہںں ہوتا اور ایسے لوگوں پر دم واجب ہوتا ہے، اس مںں احتا ط کجئے ، آپ سنت کے مطابق یا تو پورے سر کے بال منڈوالںج،یا اگر بال لمبے ہیںیا پٹھے ہںا اور اس مںج سے ایک ایک پورے کے برابر بال کٹوائے جاسکتے ہںت تو پھر پورے سر کے بالوں مںب سے ایک ایک پورے کے برابر بال کٹوائںو تاکہ سنت کے مطابق قصر ہوجائے، یا کم از کم چوتھائی سر کے بالوں مںے سے ایک ایک پورے کے برابر کٹوائںب، ورنہ واجب ادا نہںں ہوگا، اور دم لازم آئے گا۔ خواتنا بھی بال کتروانے مں غلطی کرتی ہں : خواتنا کے لئے بھی کم از کم سر کے چوتھائی حصے کے بالوں مں سے ایک ایک پورے کے برابر کٹوانا واجب ہے۔ لکن وہ بھی اس مںے غلطی کرتی ہں اور وہ بالوںکی ایک لٹ پکڑ کر اس مںے سے ذرا سے بال کاٹ لییا ہں اور سمجھتی ہںگ کہ ہمارا واجب ادا ہوگان۔ یاد رکھئے! ایک لَٹ مں سے بال کاٹنے صورت مںی چوتھائی سر کے بالوں مں سے نہںا کٹتے، اس لئے خواتنر کے لئے بال کٹوانے کا آسان طریقہیہ ہے کہ وہ بال کھول کر لٹکالں ، اور تمام بالوں مںر ایک ایک پورے کے برابر بال کٹوائںی، تاکہ سنت کے مطابق قصر ہو جائے اور اپنے محرم سے کٹوائیںیا خود کاٹ سکتی ہوں تو خود کاٹ لںو، کسی نا محرم سے نہ کٹوائںل، اور اگر خواتنس چوٹی پکڑ کر اپنے بال خود کاٹںہ تو اس مںخ اس کا خاکل رکھںو کہ کم از کم چوتھائی سر کے بال چٹاا کے اندر آجائںر، اور بہتر ہے ایک پورے سے ذرا بڑھا کر بال کاٹںب تاکہ چھوٹے بالوں مںں سے بھی کٹ جائںم اور لمبے بالوں مںک سے بھی کٹ جائںں۔ یہ عمرہ کا تسر ا کام ہوگا ۔ اور آپ کا عمرہ مکمل ہوگاا، احرام کی جو پابندیاں آپ پر لگی تھںٹ، وہ بال کٹوانے کے بعد سب ختم ہوگئںس۔ اب آپ غسل کرکے سلے ہوئے کپڑے پہن لں ، اور خوشبو وغرگہ لگالںح۔ ناخن کاٹنا۔ مونچھںغ تراشنا: بعض حضرت جب بال کٹوانے کے لئے حجّام کی دکان پر جاتے ہںو تو بال کٹوانے سے پہلے اپنے ناخن تراشنا شروع کردیتے ہیںیا اپنی مونچھںے کترنے لگتے ہںو۔ یادر رکھئے! اگر کسی شخص نے سر کے بال کٹوانے سے پہلے ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کی پانچوں انگلوضں کے ناخن کاٹ لئے تو اس پر ایک دم واجب ہوگا، اس لئے ناخن سر کے بال کٹوانے کے بعد کاٹںی۔ اسی طرح سر کے بال کٹوانے سے پہلے اگر کسی نے مونچھںو کترلںت تو اس پر صدقہ واجب ہوگا، اس لئے مونچھںو بھی سر کے بال کٹوانے کے بعد کتریں۔ اب آپ مکہ مکرمہ مںک آٹھ ذی الحجہ تک بغرں احرام کے رہںو گے، اس عرصہ مںک نفلی طواف کریں، اس کے لئے احرام نہںا ہوگا، نفلی طواف مں نہ رمل ہوگا اور نہ اس کے بعد صفا، مروہ کی سعی ہوگی، بس حجرا سود کا استقبال اور استلام کرنے کے بعد سات چکر لگائںر، ہر چکر میںاستلام کریں، ساتواں چکر پورا ہونے کے بعد آٹھویں مرتبہ استلام کریں۔ پھر وہی تن ضمنی کام کریں،یینا ملتزم پر دعا، مقام ابراہمر پر طواف کا دوگانہ اور زم زم پی کر دعا کرنا۔ نفلی طواف ہر نماز کے بعد کرسکتے ہںر، لکنا طواف کا دو گانہ مکر وہ وقت مںع نہ پڑھںر، مکروہ وقت نکلنے کے بعد پڑھںی۔ تلبیہ کے مسائل نتب کے بعد اسی وقت سے بلند آواز سے تلبہر کہنا شروع کردے۔ مسئلہ: تلبیہیعنی لبکے کا زبان سے کہنا شرط ہے۔ اگر دل سے کہہ لای تو کافی نہ ہوگا۔ گونگے کو زبان ہلانی چاہےا گو الفاظ نہ کہہ سکے۔ مسئلہ: تلبہع ہر موقع پر کہے، بلندی پر چڑھتے ہوئے، اترتے ہوئے، سواری پر سوار ہوتے ہوئے، چلتے پھرتے، اٹھتے بٹھےگ، وقت ملاقات، کے وقت رخصت، کے وقت تلبہ کہں ۔ مسئلہ: فرض اور نفل کے بعد بھی تلبہب پڑھنا چاہیئے اور ایام تشریق میںپہلے تکبرو کہنی چاہیئے اسکے بعد تلبہک، اگر پہلے تلبہل پڑھ لاح تو تکبر ساقط ہوجائے گی مگر تلبہی دسویں تاریخ کی رمی کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے باقی ایام مںہ صرف تکبرا کہی جائے۔ مسئلہ: عورت کو تلبہ زور سے پڑھنا منع ہے۔ صرف اس قدر آواز سے پڑھے کہ خود سن لے۔ مسئلہ: خاص تلبہت کے الفاظ کہنا سنت ہے شرط نہں ، اگر کوئی اور دوسرا ذکر احرام کے وقت کرے گا تو احرام صححے ہوجائے گا لکنت تلبہہ چھوڑنا مکروہ تنز یی ہے۔ تلبہہ کے الفاظ لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَوَا لنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکُ لَاشَرِیْکَ لَکَ۔ احرام میںممنوع کام (۱) جماع (ہم بستری) کا ذکر عورتوں کے ساتھ کرنا یا جماع کے اسباب جسےْ بوسہ لناْ اور شہوت سے چھونا۔ (۲) ساتھومں کے ساتھ یا دوسرے لوگوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنا۔ (۳) خشکی کے جانور کا شکار کرنا یا کسی شکاری کی جانور کی طرف رہنمائی کرنا اور اشارہ کرنا۔ (۴) شکاری کی مدد کرنا مثلاً بندوق، تر ، چھری، چاقو وغرجہ پکڑنا۔ (۵) اپنے بدن یا اپنے کپڑے پر جوں مارنا یا اپنے کپڑے کو جوں مارنے کے لئے دھونا یا دھوپ مںن ڈالنا، خوشبو لگانا، ناخن اور بال کا کاٹنا یا کٹوانا۔ (۷) سر یا منہ کو ڈھانکنا خواہ پورا ہو یا تھوڑا۔ (۸) سلے ہوئے کپڑے پہننا جسےڈ کرتہ، شلوار، دستانے، اور موزے وغرجہ۔ (۹) ایسا جوتا پہننا جس مںو پرر کی پشت پر اٹھی ہوئی بچں کی ہڈی چھپ جائے۔ احرام میں مکروہ کام (۱) بدن سے ملا دور کرنا، سر یا داڑھی اور بدن کو صابن وغراہ سے دھونا۔ (۲) سر یا داڑھی مںہ کنگھی کرنا۔ (۳) سر یا داڑھی کو اس طرح کھجلانا کہ بال یا جوں گرنے کا خوف ہو۔ ہاں آہستہ کھجلانا کہ بال اور جوں نہ گرے جائز ہے۔ (۴) ڈاڑھی مںک خلال کرنا بھی مکروہ ہے۔ اگر کرے تو اس طرح کہ بال نہ گریں۔ (۵) تہبند کے دونوں پلوں کو آگے سے لناا۔ اگر کسی نے ستر عورت کی وجہ سے سی لا تو دم واجب نہ ہوگا۔ (۶) چادر اور تہبند مںو گرہ لگانا یا سوئی اور پن وغر ہ لگانا، ناک اور تھوڑی کو کپڑے سے چھپانا البتہ ہاتھ سے چھپانا جائز ہے۔ خوشبو سونگھنا خوشبو والے کی دکان پر خوشبو سونگھنے کے لئے بٹھنار اگر بلا ارادہ خوشبو آجائے تو کوئی حرج نہںو۔ وہ کام جن کو احرام کی حالت میں کرنا جائز ہے (۱) ضرورت کے لے یا ٹھنڈک حاصل کرنے اور غبار دور کرنے کے لئے خالص پانی سے (ٹھنڈا ہو یا گرم) غسل کرنا جائز ہے۔ لکنب ملک دورنہ کرے۔ (۲) انگوٹھی پہننا (۳) لنگی کے اوپر یا نچےا پٹی باندھنا۔ (۴) کسی سایہ دار چزے کے نچےی بٹھنا ۔ (۵) بغرو خوشبو کے سرمہ لگانا، دانت اکھاڑنا، چھالہ پھاڑنا۔ (۶) سر اور منہ کے علاوہ سب بدن کو ڈھانپنا، کان، گردن اور پرچوں کو چادر رومال وغربہ سے ڈھانپنا۔ (۷) دیگ، چارپائی وغر ہ کو سر پر اٹھانا۔ (۸) موذی جانور کو مارنا جسےپ سانپ بچھو، پسو، چھپکلی، گرگٹ، بھڑے، کھٹمل، مکھی، چل ، مردار خور کوا وغرےہ۔ (۹) الائچی لونگ اور خوشبو کے بغر، پان کھانا۔ (۱۰) ایسا کھانا کھانا جس کو خوشبو ڈال کر پکایا گاا ہو۔ (۱۱) اپنا یا کسی دوسرے کا نکاح کرنا جائز ہے، لکنک صحبت جائز نہںہ۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
2957