(+92) 319 4080233
کالم نگار

حبیب جان

حبیب جان

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/30
موضوعات
شھرہ آفاق
اقبال کے نزدیک خودی اتنی اہم کیوں؟
وہ کون سی قربت ہے جس کا اعلان وحیِ الٰہی میں یوں ہوا کہ "ہم انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں" مگر یہ "زیادہ" کتنا ہے؟ کس پیمانے سے ناپا جائے؟ کس شعور سے سمجھا جائے؟ عجیب بات یہ ہے کہ منبر و محراب کے خطیب اکثر اس قربت کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر اس کی ماہیت پر خاموش رہتے ہیں، شاید اس لیے کہ یہ قربت الفاظ کی گرفت میں نہیں آتی، یہ ایک تجربہ ہے، ایک داخلی انکشاف، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں اقبال رحمہ اللّہ کی فکر میں "خُودی" ایک مرکزی، بلکہ کائناتی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔

اقبال رحمہ اللّہ کے نزدیک انسان محض گوشت و پوست کا مجموعہ نہیں، نہ ہی وہ تقدیر کے بے جان دھارے میں بہتا ہوا ایک ذرہ ہے، وہ ایک زندہ، بیدار اور ارتقائی حقیقت ہے، ایک "خُودی"، جو اگر پہچان لی جائے تو کائنات کے اسرار اس پر منکشف ہونے لگتے ہیں، خُودی دراصل اسی قربِ الٰہی کا شعوری ادراک ہے، یہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی ذات کے ذریعے خدا کی تجلیات کا مشاہدہ کرتا ہے۔

قدیم صوفیانہ روایت میں "فنا" کو بڑی اہمیت دی گئی، یعنی اپنی ذات کو مٹا دینا تاکہ حق میں جذب ہو جایا جائے، مگر اقبال رحمہ اللّہ اس تصور کو ایک نئے زاویے سے دیکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اصل کمال مٹنے میں نہیں، بلکہ "بننے" میں ہے، اپنی خُودی کو اس قدر مضبوط، اس قدر تابناک بنا دینا کہ وہ خود خدائی صفات کا مظہر بن جائے، گویا قربِ الٰہی کا راز اپنی ذات کو مٹا دینے میں نہیں، بلکہ اسے اس درجے تک سنوارنے میں ہے کہ وہ خدا کی قربت کو اپنے اندر سمو لے،یہاں ایک نہایت باریک فلسفیانہ نکتہ سامنے آتا ہے، اگر خدا شہہ رگ سے بھی قریب ہے، تو پھر دوری کہاں ہے؟ اقبال رحمہ اللّہ اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ دوری دراصل شعور کی کمی کا نام ہے، انسان اپنے اندر اس قرب کو محسوس نہیں کرتا، کیونکہ اس کی خُودی ابھی ناپختہ، منتشر اور کمزور ہے، جب خُودی مضبوط ہوتی ہے، تو یہ قرب ایک زندہ حقیقت بن جاتا ہے، ایک ایسا تجربہ جس میں انسان خود کو کائنات کے مرکز میں محسوس کرتا ہے، مگر تکبر کے بغیر، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مرکزیت بھی عطائے الٰہی ہے۔

اقبال رحمہ اللّہ کی فکر میں خُودی کی اہمیت اسی لیے غیر معمولی ہے کہ یہ انسان کو بے بسی سے نکال کر اختیار کی دنیا میں لے آتی ہے، وہ تقدیر کے اندھے دھارے کا اسیر نہیں رہتا، بلکہ اپنی تقدیر کا معمار بن جاتا ہے، خُودی انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ وہ محض مخلوق نہیں، بلکہ تخلیق کے عمل میں شریک ایک باشعور ہستی ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں انسان خدا کے "قریب" ہونے کا مفہوم سمجھنے لگتا ہے، یہ قرب مکانی نہیں، بلکہ وجودی ہے، یہ فاصلوں کا نہیں، بلکہ شعور کا معاملہ ہے،جدید فکری تناظر میں اگر دیکھا جائے تو اقبال کی خُودی ایک طرح کی "Existential Awakening" ہے، مگر مغربی وجودیت سے مختلف، یہاں انسان کی آزادی محض انکار یا بغاوت نہیں، بلکہ ایک مثبت تخلیقی قوت ہے، جو خدا کے ساتھ ایک زندہ تعلق میں پروان چڑھتی ہے، خُودی کا ارتقا دراصل اس تعلق کی گہرائی کا سفر ہے۔

اقبال کا انسان جب اپنی خُودی کو پہچان لیتا ہے، تو وہ محض ایک فرد نہیں رہتا، وہ ایک عہد، ایک پیغام، ایک تحریک بن جاتا ہے، اس کی نگاہ میں وسعت آتی ہے، اس کے عمل میں جلال پیدا ہوتا ہے، اور اس کے وجود میں ایک ایسی حرارت جنم لیتی ہے جو تاریخ کے دھارے بدل سکتی ہے،آخرکار، سوال وہی رہ جاتا ہے، خدا کی قربت "کتنی" ہے؟اقبال شاید مسکرا کر جواب دیتے:

یہ "کتنی" کا سوال ہی غلط ہے،یہ قربت مقدار نہیں، کیفیت ہے، اور خُودی اس کیفیت کا دروازہ ہے،جب یہ دروازہ کھلتا ہے، تو انسان پر آشکار ہوتا ہے کہ وہ کبھی دور تھا ہی نہیں... !

کالم نگار : حبیب جان
| | |
23