(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
مثالی خاتون
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مثالی خاتون عورت اعلیٰ شرافتوں کا مجسمہ ہے، عورت نہ ہوتی تو اس عالم رنگ و بو کی تصویر بے رنگ اور کسی قدر بے نور نظر آتی۔ یہاں انسانتْ ہوتی نہ شرافت، علم ہوتا نہ ہنر، ادب ہوتا نہ تہذیب۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کی تخلقٓ فرما کر زندگی کو معنویت اور زیبائی عطا کردی۔ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ۔ (سب برکت والے ہںا اللہ تعالیٰ) سب سے بہتر پد،ا کرنے والے اللہ تعالیٰ نے عورت کو عظمت بخشی لکنل جاہل انسانوں نے اس کو لہو ولعب کا کھلونا بنادیا، اس کی بدترین توہنن کی اور اس پر ظلم و ستم کی انتہا کردی۔ تاریخ کے اوراق دیکھئے، ہر عہد کی عورت کسےی کسےل مصائب و مشکلات جھیتہ رہی اور کتنی بے دردی سے کیس کی ع پستو۔ں مں پھنکا دی گئی۔ یونان وہ پہلی سر زمنع ہے جہاں سب سے پہلے عورت کو نیلام کا مال بنایا گام اور خوبصورت پتھروں کے عوض عورت کی خرید و فروخت ہونے لگی۔ مصر مں عورتںے دریائے نلل کی بھنٹ چڑھائی جاتی تھں ، ہندوستان مںل عورت کو پاؤں کی جوتی کہا جاتا تھا، بانیےں والدین کی وراثت سے محروم رکھی جاتی تھںل۔ بو اؤں کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔ شوہر مرجاتے تھے تو ان کے ساتھ ان کی جیا، جاگتی بولاؤں کو بھی جلادیا جاتا تھا۔ آج بھی ہندوستان مں گاہے گاہے بو اؤں کو زندہ حالت مںر جلانے کے واقعات اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہں ۔ اسی طرح جزیرۂ نمائے عرب مںل باں ں پدبا ہوتے ہی زندہ دفن کردی جاتی تھںص۔ ییا احوال و ظروف تھے جب ساتویں صدی عسودی مںے اسلام کا ابر رحمت برسا تو عورت کی حیثیتیکدم بدل گئی۔ محسن انسانتت جناب رسول اللہ ﷺ نے انسانی سماج پر احسان عظمو فرمایا، عورتوں کو ظلم، بے حایئی، رسوائی اور تباہی کے گھڑے سے نکالا، انھں تحفظ بخشا، ان کے حقوق اجاگر کےا۔ ماں، بہن، بیتا، اور بوبی کی حتیہ سے ان کے فرائض بتلائے اور انھں گھر کی ملکہ بنا کر عزت و احترام کی سب سے اونچی مسند پر فائز کردیا۔ آج مغربی تہذیب کا شطاقنی چلن عروج پر ہے۔ میڈیا نے اس لعنت کو عام کردیا ہے۔ لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کو بھول گئے ہںو۔ گھر گھر ٹی ویژن پر ڈراموں اور فلموں کی صورت مںع حاظ کا جنازہ نکالا جارہا ہے۔ مسلمانوں کا معاشرہ انتہائی پستی اور زوال کا شکار ہوگااہے۔ بنات امّت کو اس فتنے سے خبردار رہنا چاہےو۔ مغربی تہذیب نے عورت کی عزت اور وقار کو جس طرح خاک مںا ملایا ہے اس کے تباہ کن نتائج سے آج خود امریکہ اور یورپ کے دانشور بھی پریشان نظر آتے ہںی۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کی اہلہے ہلروی کلنٹن جو بہت پڑھی لکھی خاتون ہںش، بے نظرک بھٹو صاحبہ کے دورِ اقتدار مںہ پاکستان آئںک،یہاں انھوں نے کالج کی طالبات کے ایک اجتماع سے خطاب کاپ۔ مغربی تہذیب کے سنگنے نقصانات کا اعتراف موصوفہ کے الفاظ مںم ملاحظہ ہو۔ You are lucky that you have only one beg. In united states of America school girls have to carry two begs, one for books and one for child. یینl آپ خوش نصبs ہںd کہ آپ اسکول آتی ہںی تو صرف ایک بستہ لاتی ہںہ۔ امریکہ مںہ اسکول کی بچوںں کو دو بستے لانے پڑتے ہںa۔ ایک کتابوں کے لےی اور دوسرا اپنے بچے کا!… فَاعْتَبِرُوْایَا أُوْلِی الْاَبْصَارِ! ہمارے ہاں جو حلقے مغربی تہذیب کے گن گاتے ہںو انھںا امریکہ کی صفِ اول کی اس دانشور خاتون کے اعتراف حققتہ سے عبرت پکڑنی چاہےی۔ اسلام اس دنای مںب جن مقاصد جللہے کے لےے آیا ہے، ان مںن ایک اہم ترین مقصد عفت اور پاک بازی کی تعلم ہے۔ امت مسلمہ کی بوی ں کو عزم راسخ کے ساتھ بصر ت کی روشنی مں فصلہ کرنا چاہےن کہ آپ زندگی کی گیڑن مٹی کو کس سانچے مںل ڈھالں گی؟ مغربی تہذیب کے اس سانچے مںھ جو پوری دنام کے مسلمانوں کا خون چوس رہی ہے یا اس اعلیٰ و ارفع دییت تعلم کے سانچے مںا جس نے سد؟ہ خدیجہ، سد ہ عائشہ، سدوہ فاطمہ، سدوہ خنساء رضی اللہ عنہن جی چ عالی مقام خواتن کی سرہت و کردار کے بے مثل نمونے درخشاں کردیے تھے؟ اس مضمون مںں دارصل انھی خوبوسں کا تعارف اور تشریح ہے جنھوں نے عورت کی تقدیر بدل کر اسے عظمت کی معراج پر پہنچا دیا تھا۔ آج بھی اگر امت مسلمہ کی باور ں ان خوبو ں کو اپنی زندگورں مں جگہ دیں تو یقینا وہ اپنے کھوئے ہوئے وقار و عظمت کو دوبارہ حاصل کرنے مںب کاما ب ہوجائںر گی۔ مثالی خاتون حدیث رسول ﷺ کے آئنےہ مںش: حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہں : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرُ النِّسَائِ تَسُرُّکَ إذا اَبْصَرْتَ وَتُطِیُعکَ إذَا أَمَرْتَ وَتَحفَظُ غَیْبَتَکَ فی نَفْسِہَا وَمَالِکَ۔ ترجمہ: رسول ﷺ نے فرمایا: بہترین عورت (بویی) وہ ہے کہ جب تم اس کی طرف دیکھو تو وہ تمہں خوش کردے۔ جب تم اسے کسی کام کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور تمہاری عدم موجودگی مںو تمہارے مال اور اپنی ذات کی حفاظت کرے۔(مجمع الزوائد) افضل عورت کون؟ ہر مسلمان عورت کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین اور معزز خواتن مںھ شامل ہوجائے۔ یہ تمنا کس طرح پوری ہوسکتی ہے؟ اور بہترین عورتوں کی صفات کا ہںم جن کو اپنا کر ایک عورت بہترین بن سکتی ہںم؟ ان دونوں سوالوں کا مفصّل جواب دینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بہترین عورت وہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے اور اسے اپنی خصوصی رحمتوں اور محبتوں سے نواز دے۔ اس طرح اسے دنای مںت راحت واطمنا ن حاصل ہوجائے اور وہ آخرت مںو جنت الفردوس اور ابدلی نعمتوں سے فااس ب ہوسکے جہاں اس کی جوانی ختم ہوگی نہ وہ کبھی بماار ہوگی۔ نہ اکتاہت ہوگی اور نہ کبھی کوئی دکھ اور غم قریب پھٹکے گا۔ وہ کیھی شاندار اور پر لطف زندگی ہوگی اور کیرح بے مثال ابدی خوشی بختی ہوگی! وہاں کی نعمتںے ایین لاثانی ہوںگی جو نہ کسی آنکھ نے دییھم ہںپ نہ کسی کان نے ان کے بارے مںس سُنا اور نہ کسی شخص کے دل مں کبھی اس کا تصوّر آیا۔ ہمارے پا رے نبی حضرت محمد ﷺ ، حقیے سعادت مندی اور دائمی خوش بختی تلاش کرنے والی ہر عورت کی رہنمائی فرماتے ہںد۔ ہر وہ عورت جو دنوری زندگی کے اندھیروں مںن ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہے وہ آنحضرت ﷺ کے بانن کردہ اصولوں پر چل کر سعادت مندی حاصل کرسکتی ہے۔ مثالی عورت بننے کے سنہرے اصول: اسلام مایں بونی کے تعلق کو بڑی اہمتک دیتا ہے۔ اور اسے نہایت مضبوط اور پائدرار بنانے کا خواہشمند ہے کومنکہ خاندان کییکجہتی اور اتحاد کا انحصار اسی تعلق کی مضبوطی پر ہے اور خاندان کے باہمی اتحاد و اتفاق ہی سے عزت و احترام کے لائق نسل پدہا ہوتی ہے۔ اس مںی کوئی شک نہںن کہ جو عورت نبی کریمﷺ کے بادن کردہ اسباب کو مضبوطی سے تھام لے گی وہ اپنے گھر کو خوشی اور مسرتوں کا مرکز بنادے گی اور اپنے خاوند کے ساتھ نہایت خوش و خرم زندگی بسر کرے گی۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ان اسباب کو اختاےر نہ کرنے کی صورت مںن عورت کو غم اور تکالف کی تلخی جھلناھ پڑے گی اور اس کا گھر دکھوں اور غموں کی آماجگاہ بن جائے گا لہٰذا ان اسباب پر اچھی طرح غور کر کرنے کی ضرورت ہے۔ (1) شوہر کو خوش کرنے والی عورت: پہلی بات جو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ عورت کو اپنے خاوند کی محبت حاصل کرنی چاہےی اور دونوں کے درماان ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ عورت کو چاہے اپنے ظاہری حسن و جمال کے اہتمام کے لےپ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ جائز اشاںء، مثلاً مہندی اور سرمہ لگانا چاہےت اور زیورات پہننے چاہئں کوےنکہ بہترین عورت وہ ہے جس کی طرف اس کے خاوند کی ایک نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں سے خوشی جھلکنے لگے۔ آدمی حصول معاش کے لےا گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ محنت کے باعث جسمانی اور ذہنی طور پر تھک جاتا ہے اور بڑی شدت کے ساتھ گھر لوٹنے کا انتظار کرتا ہے تاکہ تھکاوٹ سے چور جسم کو کچھ آرام و سکون مل سکے۔ لہٰذا جب وہ دن بھر کی مشقت کے بعد گھر مںھ داخل ہوتا ہے اور اپنی بو ی کے برتاؤ مںہ کوئی خوش کن پہلو نہں دیکھتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بویی اپنے خاوند سے تعلقات کے پہلے ہی مرحلے مں ناکام ہوگئی ہے تو خاوند یقینا گھٹن اور تنگی محسوس کرے گا اور اس کا اظہار مختلف طریقوں سے کرے گا۔ کبھی کسی بات پر خفا ہوگا اور کبھی کیس کام پر ناراضگی کا اظہار کرے گا۔ اس کے برعکس جب وہ گھر واپس آنے پر اپنی بوای کو ایی حالت مںض دیکھے جس سے وہ خوش ہوجائے اور اس کا دل خوشوےں سے بھر جائے تو وہ بہت جلد ذہنی پریشانویں اور جسمانی تھکاوٹ کو بھول جاتاہے ، لہٰذا بو ی سے خاوند کی محبت بڑھنے کے اسباب مںی سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ خاوند جب بوای کی طرف دیکھے تو اسے مسرور کردے۔ ایک عقلمند بوےی خاوند کے گھر آنے سے پہلے اپنی حالت کا جائزہ لییو ہے اور اپنے دل سے پوچھتی ہے کہ اس کا خاوند اس کو اییم حالت مںا دیکھ کر خوش ہوگا کہ نہںو؟ ہر عورت اس سوال کا جواب جانتی ہے، بلاشبہ انسان فطرتاً خوبصورت چزاوں سے محبت کرتا ہے البتہ جس نے اپنی فطرت مسخ کی ہو وہ خبثا اور قبحش چزبوں کے حصول مں لگا رہتا ہے۔ جب خاوند اپنے گھر مںہ داخل ہو کر اپنی بوبی کو حسنل و جملگ صورت مں دیکھتا ہے تو وہ اپنی بوہی سے محبت اور اس کی طرف رغبت محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا بو ی کو چاہےر کہ وہ گھریلو کام کاج مثلاً، کھانا پکانے، کپڑے دھونے یا صفائی ستھرائی وغرتہ کو خاوند کی آمد سے پہلے نمٹادے، اگرچہ اس کے لےب انھںر کچھ زیادہ محنت کرنی پڑے گی اور اضافی تھکاوٹ بھی برداشت کرنی ہوگی۔ اگر وہ ایسا کرلں تو اس اضافی محنت اور مشقت کا صلہ انھںب بہت خوشگوار ملے گا۔ خاوند کو اگر گھر مں خوشی نصبض نہ ہو تو اس پر شطالن کے وسوسے بہت جلد غلبہ پالتےے ہںھ۔ اور شطا ن لعیں راہ چلنے والی عورتوں کو خاوند کے سامنے مزین کرکے بو ی کو خاوند کی نظروں سے گرادیتا ہے۔ بولی کو چاہےا کہ جب خاوند اس کی طرف دیکھے تو اسے بوای کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نظر آنی چاہےا۔ مسکراہٹ ایک ایی چز ہے جس پر نہ پسہے خرچ ہوتا ہے نہ وقت، لیکنیہ گھر کو خوشورں سے بھردییھ ہے۔ اور یہ ایک اییر چزپ ہے جو دن بھر محنت و مشقت کے بعد خاوند کو حاصل ہونے والا سب سے زیادہ راحت بخش پہلو ہوتا ہے۔ بوای کییہ مسکراہٹ اس کے لے آخرت مںن بھی نوے ں کا باعث بن جائے گی کوہنکہ مسکراہٹ کو آنحضرت ﷺ نے صدقات مں سے شمار کاے ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: تَبَسُّمُکَ فِیْ وَجْہِ اَخِیْکَ لَکَ صَدْقَۃٌ۔ (مشکوٰۃ شریف) ترجمہ: اپنے مسلمان بھائی کو دیکھ کر ترئا مسکرانا بھی صدقہ ہے۔ حضرت عروہ بن زبرؒپ بانن کرتے ہںب کہ مجھے بتایا گاک کہ حکمت کی کتابوں مں لکھا ہے: اے مرےے پاہرے بٹےا! تمہارا چہرہ ہمشہ کھلا رہنا چاہےج اور تمہں ہمشہج پاکزگہ بات کرنی چاہےں پھر تم لوگوں کے نزدیک انہں انعامات و عطایت دینے سے زیادہ محبوب بن جاؤ گے۔ اسی طرح شوہر کی نظر مں بوہی کے چہرے پر خوبصورت تاثرات اس کے خوبصورت لباس اور زیوارت سے کہںے زیادہ اہمتب رکھتے ہںک، خاوند جب بو ی کی طرف دیکھتا ہے تو بوسی کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ اور خواش گوار تاثرات اس کے ذہن پر بہت اچھے اثرات چھوڑتے ہںے۔ لہٰذا بو ی کو چاہے کہ اپنی زندگی کو خندہ پیشانی اور خوشی سے لبریز کرے، چہرے کییہ شگفتگی خاوند کو خوش کرتی ہے جس سے گھر مںہ خوشی کے چراغ روشن ہوتے ہںث۔ یاد رہے کہ عورت کی خندہ پیشانی اور مسکراہٹ کا سب سے زیادہ حقدار اس کا شوہر ہے۔ (2) خاوند کی فرمانبرداری: ہر خاوند دل کی گہرائواں سے چاہتا ہے کہ اس کے گھر مںے خوشی کا راج ہو اور اس کے گھر کے افراد مںع باہمی خوشوسں اور شادمانودں کا بسرہا ہو۔ لکن وہ چزی جو اس خوشی کو غارت کردیی ہے اور غموں کو دعوت دییا ہے وہ عورت کا اپنے خاوند کی نافرمائی کرنا ہے۔ جب عورت یہسمجھنے لگتی ہے کہ وہ خاوند کے ہم پلّہ ہے یا اس سے بہتر ہے، اسی طرح اپنی رائے کو اہم سمجھتی ہے اور خاوند کی اطاعت صرف ان امور مںہ کرتی ہے جو اس کی مرضی اور خواہش کے موافق ہوں تو اییح بوںی اپنے اس انداز فکر سے اپنا گھر برباد کرلیت ہے، ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دییا ہے اور اگر اولاد ہو تو اسے آوارہ اور گنوار بنادییح ہے۔ ایک عقلمند اور ذہنس عورت وہ ہے جو اپنے گھر مں جھگڑے کا سبب اور اس کی بربادی کا سبب بننے والی چزد کو پہلے سے بھانپ لیک ہے۔ جس بات سے اس کا خاوند خفا ہو اس گریز کرتی ہے۔ اگر عورت اس شعور سے بہرہ ورنہ ہو اور اپنے خاوند سے اس کا رویہ ہمسروں جسا۔ ہو تو وہ اپی ازدواجی زندگی کی نعمت کو عذاب مںر بدل ڈالتی ہے۔ شادی ایک عظمب حکمت، نہایت بلند یایہ سماجی مقصد اور بقائے نسل کا وسلہخ ہے۔ یہ عبادات مںے سے ایک اہم عبادت ہے جس کے ذریعے سے مسلمان مرد و عورت کو اللہ تعالی کا قرب حاصل ہوتا ہے، لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ شادی مرد اور عورت پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں مںو سے ایکبڑی نعمت ہے۔ اسلام مںت شادی کا اصل مقصد ماوں بو ی کے درما۔ن باہمی محبت، الفت اور ایثار و قربانی کے جذبات پدع اکرنا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمِنْ اٰیٰتِہٖ أنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْواجاً لِّتَسْکُنُوْا إلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً ط إِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَاٰیَتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ۔(الروم) ترجمہ: اور یہ بھی اس کی نشانوفں مںّ سے ایک (نشانی) ہے کہ اس نے تمہارے لے تمہارے ہی جنس سے بوایاں پد ا کںَ تاکہ تم اس سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درماین محبت اور رحمت پدو اکردی، بلاشبہ ان مں( ان لوگوں کے لےا عظمر نشانابں ہں جو غور و فکر کرتے ہںا۔ اس محبت و الفت کو قائم و دائم رکھنے کے لےر اللہ تعالیٰ نے ماْں بو ی کے ایک دوسرے پر حقوق مقرر فرمائے ہںع۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَلَہُنَّ مِثْلُ الّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ۔(البقرۃ) ترجمہ: اور دستور کے مطابق عورتوں کے مردوں پر ویسے ہی حقوق ہںّ جسےِ مردوں کے عورتوں پر ہںح اور مردوں کے لےَ ان پر ایک درجہ اور فضیلت ہے۔ اسلام مںک عورت کے لے بہت سارے حقوق ہںس جنہں ادا کرنا شوہر کا فرض ہے۔ اگر وہ یہ حقوق ادا نہںں کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک نا فرمان اور گناہ گار شمار ہوگا۔ یہاں ہم خاوند کے بوےی پر حقوق مںن سے ایک کا تذکرہ کررہے ہںش۔ اس حق کی ادائیوں سے بووی جنت کی حق دار بن سکتی ہے۔ وہ حق یہ ہے کہ عورت کو ہمشہ اپنے خاوند کی اطاعت کرنی چاہےی۔ خاوند کی اطاعت ازدواجی زندگی کی کاما بی کی ضمانت ہے۔ خاوند کو جس قدر اس بات کا احساس ہوگا کہ بوقی اس کا یہ عظمہ حق بخوبی پورا کررہی ہے اسی قدر وہ بوای کی قدر دانی کرے گا اور اس کے دل مں بو ی کی محبت بڑھے گی۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے مومن عورتوں کو یہ تعلمے دی ہے کہ جنت کا راستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد خاوند کی اطاعت سے شروع ہوتا ہے۔ حضرت حُصَین بن مُحصَن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہںں کہ ان کی پھوپھی اپنے کسی کام سے نبی کریمﷺ کی خدمت مںر حاضر ہوئی۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی تو نبیﷺ نے فرمایا (اَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ)’’ کاا تم شادی شدہ ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کاُ جی ہاں، آپ نے پوچھا: (کف أنْتِ لَہٗ؟) ’’تمہارا اس کا ساتھ سلوک اور رویہ کساس ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کاا مں اس کی خدمت اور اطاعت گزاری مںچ کوئی کسر نہںن چھوڑتی، سوائے اس چزر کے جو مرسے بس مںا نہ ہو۔ آپ ا نے فرمایا: (فَانْظُرِیْ أیْنَ أَنْتِ مِنْہُ؟ فَإِ نَّمَا ہُوَ جَنَّتُکِ وَنَارُکِ) ’’ اچھا یہ بتاؤ کہ تم اس کی نظر مںن کیا ہو؟کوُنکہ بے شک وہ تمہاری جنت اور جہنم ہے‘‘۔(مسند احمد) رسول اللہ ا کا یہ فرمان قابل غور ہے کہ : (ھُوَ جَنَّتُکِ وَ نَارُکِ) ’’وہ تمہاری جنت اور جہنم ہے‘‘ یینل اگر تم اس کی اطاعت کروگی تو تمہارے لےک جنت مں؟ جانے کا سبب بن جائے گا۔ اسی طرح صحابہؓ کا یہ قول بھی آج کی عورت کے لے مشعل راہ ہے کہ ’’مںت اس کی اطاعت اور خدمت مں۔ کوئی کسر نہںر چھوڑتی‘‘۔ عورت کو اپنے شوہر کی رضا کا خاص خاال رکھنا چاہےا کوَنکہ شوہر کو راضی کرنا اور اس کی دلجوئی کرنا ان امور مںع سے ہے جن کا ہر مرد اپنی بوای سے طلب گار رہتا ہے۔ شوہر اور بو ی کے درماخن اختلاف رائے کا پد ا ہوجانا طبعی امور مںل سے ہے۔ بوںی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جھگڑے کو رفع کرنے کی کوشش کرے اور صلح کے لے ہر ممکن اور مؤثر طریقہ اختابر کرے۔ یہیقینا ممکن ہے کہ درست مؤقف بودی کا ہی ہو لکن بوای کو یہ احساس کرنا چاہےث کہ شوہر کسی اییو حکمت کی وجہ سے بولی کی تائدی نہ کررہا ہو جو بووی کو معلوم نہںو۔ اس قسم کے مواقع پر خاوند کے غصے اور جوش کو ٹھنڈا کرنے کی تدبرا کرنی چاہےی۔ کوینکہ وہ شریک حا ت ہے جس سے بوقی لاتعلق نہںہ رہ سکتی۔ جب بو ی خاوند کی اطاعت گزار بن جاتی ہے اور اس کا حکم بجا لاتی ہے تو پھر وہ بھی خاوند سے اپنی ہر خواہش اور آرزو پوری کرانے پر قادر ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی بوجییہ چاہتی ہو کہ اس کا شوہر اُسے خوش و خرم رکھے اور زندگی کی خوشو ں سے مالا مال کردے تو وہ تب اپنی اس خواہش کو پایہ تکملب تک پہنچاسکتی ہے جب وہ اپنے شوہر کا دل موہ لے۔ پھر یقینا وہ اپنے مقصد مںو کامامب ہوگی۔ (3) جنتی عورت کی صفات: نبی کریمﷺ نے عورتوں کے لےت چند اییت اعلیٰ صفات باہن فرمائی ہے جن کو اختامر کرکے وہ جنت مںد سلامتی کے ساتھ داخل ہوسکتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: إذَا صَلَّتِ الْمَرْأَۃُ خَمْسَہَا، وَصَامَتْ شَہْرَہَا وَحَصَّنَتْ فَرْجَہَا وَاطَاعَتْ بَعْلَہَا، دَخَلَتْ مِنْ أیِّ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شَائَ تْ۔(مسند احمد) ترجمہ: ’’جب عورت پانچ نمازیں (باقاعدگی سے) ادا کرلے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی فرماںبرداری کرے تو وہ (قاَمت کے روز) جنت کے جس دروازے سے چاہے گی، داخل ہوجائے گی‘‘۔ معلوم ہوا خاوند کی اطاعت ان اسباب مںر سے ایک سبب ہے جو بوَی کو جنت مںن داخل کرا دیی ہے۔ (4) خاوند کی عدم موجودگی مں عفت و عصمت کی حفاظت: مسلمان عورت کا اپنے خاوند پر یہ حق ہے کہ وہ اسے بد دیانت نہ سمجھے اور اس کی خامونں اور لغزشوں کی ٹوہ مںخ نہ رہے۔ اس کے برعکس خاوند کا بونی پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عدم موجودگی مں عفت و عصمت کی حفاظت کرے۔ اسلام مںع بوپی کو خاوند کی عدم موجودگی مںم بغرض ضرورت کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہںئ ہے جب تک خاوند گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہ دے بوجی کو باہر نہں نکلنا چاہےج۔ جب بوقی شوہر کی اجازت کے بغر گھر سے نکلتی ہے اور شوہر کو عدم موجودگی کی وجہ سے اس کا علم نہںا ہوتا تو بو ی گناہوں مںر مبتلا ہونے اور اپنی عفت و عصمت کو ضائع کرنے کے خطرے سے دو چار ہوتی ہے۔ بلاشبہ ایک مثالی عورت ہمہ وقت یہ خا ل رکھتی ہے کہ جس قدر وہ اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرے گی اسی قدر اسے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوگی اور اس کا خاوند اس سے پارر اور محبت سے پشن آنے کے ساتھ ساتھ اس کی فضیلت کا معترف ہوگا۔ وہ عورت جو خاوند کے ساتھ بد دیانتی کرتی ہے اور اس کی عدم موجودگی مںے اپنی عفت و عصمت کا سودا کرتی ہے وہ اپنے رب کو روزِ قاومت کا جواب دے گی؟ جو ہر آن اس کی نگرانی کررہا ہے اور اس کا ہر عمل نامہ اعمال مںص لکھ دیا جاتا ہے۔ اور قاامت کے دن اسے سب کے سامنے کھول کردیا جائے گا۔ عفت و عصمت کا مطلب یہ ہے کہ بو ی شوہر کی غری موجودگی مںہ کسی اجنبی کو اپنے گھر مںد داخل تک نہ ہونے دے۔ (5) امرن المؤمنن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نزدیک ایک بہترین عورت کی خوبااں حضرت عمرؓ فرماتے ہںن: مثالی عورت کی خوبایںیہ ہںر کہ مسلمان ہو، عقل مند، شرم و حاب کی پکرو، سنجدوہ اور باوقار، نرم خو، اپنے شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی، زیادہ بچے پدلا کرنے والی، مصائب و آلام مں خاوند کی مددگار اور خاوند کو مشکلات کے حوالے نہ کرنے والی ہو لکن اییر عورتںد بہت کم ہںا۔(بھجۃ المجالس) (6) امرن المؤمنن حضرت علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کے نزدیک افضل عورت کے اوصاف حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہںے؛ بہترین عورت وہ ہے جس کی مہک خوشگوار ہو، کھانا پاکزلہ ہو، خرچ کرے تو ماںنہ روی اختارر کرے، سنبھال کر رکھے تو بھی ماہنہ روی کو ہاتھ سے نہ جانے دے، اییپ عورت اللہ تعالیٰ کے کارکنوں مںو سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا کارکن کبھی ذلل ، رسوا اور نامرادار نہںا ہوتا۔(بھجۃ المجالس) (7) بہترین عورت کی خصوصا،ت: ٭ بے شک بہترین عورت وہ ہے جو اپنے خاوند کو یہ احساس دلادے کہ وہ اس کے نزدیک بہت عظمن ہے اور اسے اپنے خاوند کی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح زندہ رہنے کے لےد اسے کھانے پنےد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٭ بہترین عورت وہ ہے جو اپنے خاوند کے حقوق کی پاسداری کرے اور اسے خاوند کی کسی تنبہو اور وضاحت کی ضرورت پشط نہ آئے۔ ٭ ایک بہترین عورت میںیہ خصوصتر ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذہانت اور ہوشا ری سے خاوند کے اندر پائی جانے والی بشری کمزوریوں پر قابو پالیکن ہے۔ ٭ اچھی بوتی کی ایک خوبییہ ہے کہ وہ خاوند سے ہونے والی غلطی کی اصلاح کے لےخ مناسب وقت اور مؤثر طریقہ اختاکر کرتی ہے۔ ٭ بہترین بوری کشادہ دل ہوتی ہے۔ وہ خاوند کی بے شمار خاموےں اور عوطب کو حتی الامکان نظر انداز کردییو ہے۔ ٭ عقلمند بویی وہ ہوتی ہے جو خاوند کے پسندیدہ امور پورے کرنے کے لےی بھر پور کوشش کرتی ہے، اگرچہ اسے طبعاً وہ امور پسند بھی نہ ہوں لکنر وہ خاوند سے اظہار محبت کے لےن خاوند کی پسند کو اپنی پسند پر مقدم کرتی ہے۔ ٭ اچھی بو ی ہمشہو مارں بو ی کے درماےن ہونے والے اختلاف کے بعد اپنا محاسبہ کرتی ہے اور لڑائی جھگڑے کی نوبت تک پہنچانے والے اسباب پر غور کرتی ہے اس طرح وہ اپنے عوشب اور غلطو ں پر مطلع ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک سبق آموذ واقعہ: جب اسماء بن خارجہ نے اپنی بیطر کی شادی کی تو رخصت کرنے سے پہلے اس کے پاس گئے اور کہنے لگے: پانری بیر ! اگر چہ تمہںء ازدواجی آداب سکھانے کا حق عورتوں ہی کو زیادہ ہے (مگر ان کی غرے موجودگی مں اب مجھے ہییہ فرض ادا کرنا پڑ رہا ہے کو نکہ) تمہںا آداب سکھانا نہایت ضروری ہے۔ پاہری بیر ! اپنے خاوند کی لونڈی اور خادمہ بن کر رہنا، اس طرح وہ تمہارا غلام اور خادم بن جائے گا۔ اس سے اتنی قریب نہ ہونا کہ وہ تم سے اُکتا جائے یا تم اس سے اُکتا جاؤ اور اس سے اتنی دور بھی نہ رہنا کہ تم اس کے لےب بوجھ بن جاؤ۔ اس واقعہ مںے ہر بوےی کے لےن نہایت قیت سبق ہے۔ اس کو دستور العمل بنانا چاہےق۔ یہ عورت کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر مںع پدجا ہونے والی ہر مشکل کا حل حکمت و دانائی سے نکالے تاکہ اس کا گھر آباد رہے اور بربادی سے محفوظ رہے۔ ہر مسلمان عورت کو قرآن حکم مں موجود بہترین عورت بنانے والی صفات پر غور و فکر کرنا چاہےے۔ قرآن مجدر ہمارے لے ابدی ہدایت، دستور حا ت اور فرقان حمدک ہے، اسی طرح آنحضرت ﷺ کے ارشادات، صحابہ کرامؓ اور تابعنے عظامؒ، سلف صالحینؒکے فرامنب کی روشنی مںح بہترینعورت کے اوصاف پر غور کرنا چاہےے۔ اور پھر اپنا جائزہ لنار چاہےت کہ اس کے اندر یہ خوبا ں اور صفات ہںر کہ نہں ۔ اگر کسی عورت کے اندر یہ صفات موجود ہںپ تو اُسے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہے کہ اس نے محض اپنی توفقہ سے نوازا اور اگر ان صفات سے محروم ہے تو انںکم ان صفات کو اختاتر کرنا چاہےس تاکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سعادت مند خواتنص کے زمرے مں شامل ہو۔ ایک مسلمان عورت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لی ی چاہےے کہ مغرب و یورپ سے بلند ہونے والے حقوقِ نسواں کے نعرے اس کی دناع و آخرت کو برباد کرنے والے ہںر، کوننکہیہ لوگ عورت سے اس کی عفت و پاک دامنی اور شرف و حا کا زیور چھنل کر اسے جوہر نسواینت سے محروم کرنا اور جنسِ بازار بنانا چاہتے ہں ۔ میڈیا مںر ٹاک شوز اور ڈراموں، فلموں کے زریعے مسلمان عورت میںبغاوت کے جذبات پدےا کرنے اور اسے چراغ خانہ کی بجائے شمع محفل بنانے کی جو کوششںش کی جارہی ہںع، مسلمان خواتنم کو ان پروپگنڈتوں سے بچنے کی ازحد ضرورت ہے۔ اسی طرح وہ اپنے گھر کو جنت نظرے بنا سکتی ہںک۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
340