انسان صدیوں تک سمندر کے مہیب وجود کو صرف اُس حد تک جانتا اور ماپتا رہا جو اس کی ظاہری مادی آنکھوں کے سامنے تھی۔ ساحل کی گیلی ریت سے ٹکراتی سفید لہریں، نیلے پانی کے اوپر تیرتی لکڑی کی کشتیاں، اور افق تک پھیلا ہوا پانی کا ایک وسیع تالاب۔ لیکن سمندر کی گہرائیاں ہمیشہ سے ابنِ آدم کے لیے ایک پُر اسرار، ان دیکھا اور خوف ناک جہان رہی ہیں۔
پرانے زمانوں میں چند میٹر نیچے جاتے ہی انسانی عقل اور مادی طاقت بالکل بے بس ہو جاتی تھی۔ نہ اس دور میں جدید آبدوزیں (Submarines) تھیں، نہ صوتی لہروں پر چلنے والا سونار سسٹم (SONAR) تھا، اور نہ ہی گہرے پانی میں اترنے والے آلات اور غوطہ خور لباس موجود تھے۔ اسی لیے ہزاروں سال تک مادی دنیا کو یہ معلوم ہی نہ ہو سکا کہ سمندر کی تاریک تہوں کے اندر ایک بالکل مختلف کائناتی دنیا آباد ہے؛ ایک ایسی دنیا جہاں مستقل اندھیرا، ہڈیوں کو چٹخا دینے والا شدید دباؤ، اور پانی کے اندر حرکت کرتی ہوئی عظیم الجثہ نادیدہ لہریں پائی جاتی ہیں۔
جدید علمِ بحریات (Oceanography) نے جب بیسویں صدی کے وسط میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت سمندروں کے تاریک پیٹ کو چاک کر کے اس کا گہرا مطالعہ شروع کیا، تو ایسے حیرت انگیز اور چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے کہ مادی مفسرین دنگ رہ گئے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ گہرا سمندر صرف اوپر کی سطحی لہروں تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے مہیب وجود کے اندر پانی کی مختلف پرتیں، مختلف درجۂ حرارت، مختلف کثافتیں (Density)، اور ان پوشیدہ تہوں کے درمیان حرکت کرتی ہوئی دیوقامت اندرونی لہریں موجود ہوتی ہیں۔
اور کائنات کا سب سے بڑا علمی معجزہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے آج سے چودہ سو سال پہلے، اس وقت جب انسان سمندر کے نام سے بھی کانپتا تھا، گہرے سمندر کے اندرونی جغرافیا کی ایک ایسی ہولناک اور سچی منظر کشی فرمائی جو آج کے پڑھے لکھے انسان کو بھی سچے دل سے اللہ کے حضور سجدے میں گرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اللہ رب العزت سورۂ النور کی لاجواب آیت میں منافقین کے اعمال کی اندھی تاریکی کا نقشہ کھینچتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا﴾(سورۃ النور: 40)
“یا پھر (ان کے اعمال کی مثال) ایسی ہے جیسے ایک بہت ہی گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے ہوں، جسے ایک (اندرونی) لہر نے ڈھانپ رکھا ہو، اس کے اوپر ایک اور (سطحی) لہر ہو، اور اس کے اوپر (آسمان پر) کالے بادل چھائے ہوں۔ تاریکیاں ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر تہہ بہ تہہ چڑھی ہوئی ہیں۔ اگر انسان (اس گھپ اندھیرے میں) اپنا ہاتھ بھی باہر نکالے، تو اسے بھی مشکل سے دیکھ سکے۔”
وحیِ الٰہی کے اس اعجازِ بیان پر اگر علمِ ریسرچ کے ترازو پر تدبر کیا جائے، تو اس کے اندر گہرے سمندر کی فزکس کے تین ایسے محیر العقول پہلو بیان ہوئے ہیں جن کی تصدیق اج کی جدید ترین بحری سائنس کر رہی ہے:
پہلا پہلو: "بحرِ لُجِّي" اور روشنی کا مٹ جانا (The Deep Darkness):
عربی زبان کی لغت میں "لُجِّي" ایسے مہیب اور اتھاہ گہرے سمندر کو کہا جاتا ہے جس کا کوئی کنارہ نہ ہو اور جس کی آخری تہہ تک پہنچنا انسانی حدود سے باہر ہو۔ آج جدید اوشیانوگرافی ہمیں یہ سائنسی سچ بتاتی ہے کہ گہرے سمندروں میں سورج کی روشنی ایک مخصوص حد کے بعد بالکل فنا ہو جاتی ہے۔ جب سورج کی شعاعیں پانی کی سطح پر پڑتی ہیں، تو پانی کے خلیات روشنی کے رنگوں کو ایک ایک کر کے جذب کرنا شروع کرتے ہیں۔ سب سے پہلے 10 سے 30 میٹر کی گہرائی پر سرخ رنگ کا نام و نشان مٹ جاتا ہے، پھر پیلا، ہرا اور نیلا رنگ غائب ہوتے جاتے ہیں۔
تقریباً 200 میٹر کی گہرائی کے بعد سمندر کا وہ حصہ شروع ہوتا ہے جسے سائنس “افوٹک زون” (Aphotic Zone) یعنی روشنی سے محروم دنیا کہتی ہے۔ یہاں روشنی تیزی سے مدہم ہوتی ہے، اور 1000 میٹر (ایک کلومیٹر) کی گہرائی سے نیچے جاتے ہی سمندر کے پیٹ میں ایسا ہولناک اور مکمل گھپ اندھیرا چھا جاتا ہے جس کا انسان دنیا کی سطح پر تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وہاں مادی روشنی کا وجود صفر ہو جاتا ہے، اور قرآنِ پاک نے اس درجے کی آخری تاریکی کو کتنے لازوال صوفیانہ انداز میں بیان کیا کہ "اگر انسان اپنا ہاتھ بھی نکالے تو اسے بھی مشکل سے دیکھ سکے"۔ چودہ سو سال پہلے کے ایک صحرائی انسان کے لیے، جس نے کبھی بحرِ اوقیانوس کا منہ تک نہ دیکھا ہو، سمندر کے اس خوردبینی اندھیرے کی گواہی دینا عقل کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
دوسرا پہلو: "لہر کے نیچے لہر" (Internal Waves):
قرآنِ حکیم کے الفاظ پر غور فرمائیے: "يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِّن فَوْقِهِ مَوْجٌ" یعنی "اس گہرے سمندر کو ایک ایسی لہر نے ڈھانپ رکھا ہے جس کے اوپر ایک اور لہر ہے"۔ عام انسان صدیوں تک یہی سمجھتا رہا کہ لہریں صرف سمندر کی بالائی سطح پر ہی بنتی ہیں جہاں ہوائیں پانی سے ٹکراتی ہیں۔ لیکن بیسویں صدی کی جدید بحری ریسرچ نے دنیا کے ہوش اڑا دیے جب انہوں نے یہ دریافت کیا کہ گہرے سمندروں کے پیٹ کے اندر سچ مچ “اندرونی لہریں” (Internal Waves) مستقل سفر کر رہی ہوتی ہیں، جنہیں مادی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھا جا سکتا۔
یہ اندرونی لہریں سمندر کے اندھیرے حصوں میں اس وقت جنم لیتی ہیں جب اوپر کے ہلکے اور گرم پانی اور نیچے کے شدید سرد اور کثیف (بھاری) پانی کی تہیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ قدرت کا یہ نظام اتنا مہیب ہے کہ یہ زیرِ زمین لہریں سائز اور رفتار میں سمندر کی ظاہری سطحی لہروں سے بھی کئی گنا زیادہ دیوقامت اور طویل ہوتی ہیں، جو پورے گہرے سمندر کو نیچے سے ڈھانپ کر رکھتی ہیں۔ یعنی سائنسی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ گہرے سمندر میں واقعی لہروں کے نیچے ایک بالکل الگ لہروں کا جہان آباد ہے، جس کا نقشہ قرآنی سطروں میں سو فیصد درست کھینچا گیا ہے۔
تیسرا پہلو: اندھیروں کی تہہ بہ تہہ تہیں (Layered Darkness):
قرآن فرماتا ہے: "ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ" یعنی "تاریکیاں ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر تہہ در تہہ چڑھی ہوئی ہیں"۔ آج کی سائنسی لیبارٹری ہمیں بتاتی ہے کہ گہرے سمندر کا یہ اندھیرا کوئی یکدم نہیں ہوتا، بلکہ یہ جینیاتی طور پر تہوں کی شکل میں کام کرتا ہے۔ پہلا اندھیرا آسمان پر چھائے بھاری بادلوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو سورج کی روشنی کو روکتے ہیں؛ دوسرا اندھیرا سمندر کی ظاہری لہروں کی وجہ سے ہوتا ہے جو روشنی کو موڑ کر منتشر کر دیتی ہیں؛ تیسرا اندھیرا سمندر کے اندرونی لہروں کے پردے کی وجہ سے ہوتا ہے، اور چوتھا اندھیرا پانی کے اندر گھلنے والے مختلف رنگوں کے جذب ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ گویا وہاں سچ مچ ایک اندھیرے کے اوپر دوسرا اندھیرا چڑھا ہوا ہے، جو ایک مہیب توازن کے ساتھ کام کرتا ہے۔
یہاں علمِ ریسرچ کے اس نازک موڑ پر ایک بہت ہی گہری، محتاط اور اصولی بات سمجھنا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔ دینِ اسلام کا مزاج ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قرآنِ پاک بنیادی طور پر ہدایت، اخلاق، معرفت اور روح کے تزکیے کا وہ آسمانی صحیفہ ہے جو انسان کے باطن کو بیدار کرنا چاہتا ہے؛ یہ کوئی اوشیانوگرافی یا سمندری سائنس کی کوئی روایتی اسکول کی نصابی کتاب نہیں ہے جس کا مقصد صرف اوزاروں کا ڈیٹا دینا ہو۔ اس کا اصل مقصد تو منافق انسان کو یہ سمجھانا ہے کہ جیسے گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے انسان کو تباہ کر دیتے ہیں، بالکل ویسے ہی کفر اور نفاق کے باطنی اندھیرے انسان کے شعور کو اندھا کر دیتے ہیں۔
لیکن جب جدید مادی سائنس سمندروں کے دل کو چیر کر ان کی گہرائیوں، تہہ در تہہ تاریکیوں اور لہروں کے نیچے بہتی ہوئی ان اندرونی لہروں کو لیبارٹری میں سو فیصد سچ ثابت کرتی ہے، تو ایک منصف مزاج عقلِ سلیم حیرت کے سجدے میں گرنے پر مجبور ضرور ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر ایک سچے محقق کے لیے یہ سلگتا ہوا فکری سوال انتہا درجے کا اہم ہے کہ ساتویں صدی کے عرب کے اس پسماندہ اور تپتے ہوئے ریگستان میں، جہاں دور دور تک کوئی گہرا سمندر موجود نہیں تھا، اور جہاں کے انسان کے پاس ڈیپ سی ڈائیونگ (Deep Sea Diving) کا کوئی ایک مادی تال میل بھی نہیں تھا—اس تاریک عہد میں سمندر کی اتھاہ گہرائیوں کے اس اندرونی جغرافیے کو اس قدر باریک بین سائنسی ترتیب کے ساتھ بیان کرنا، کس ہستی کا کلام ہو سکتا ہے؟ یہ صرف اور صرف اسی علیم و خبیر ذات کی وحی ہو سکتی ہے جس نے کائنات کی ہر ایک لہر کو اپنے علمِ محیط سے پیدا فرمایا ہے۔
قرآن کا یہ لافانی اندازِ بیان انسان کو محض معلومات کا کوئی مادی ڈھیر نہیں دیتا، بلکہ وہ اسے کائنات کے ان مہیب مظاہر کے پیچھے چھپی ہوئی کائناتی حکمت، ریاضیاتی نظم اور اپنے رب کی قدرت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ انسان دنیا کی غفلت سے بیدار ہو سکے:
﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾(سورۃ الرعد: 3)
“بیشک اس (کائناتی نظام اور تخلیق) کے اندر سچے دل سے غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لیے (اللہ کی توحید کی) بہت بڑی نشانیاں چھپی ہوئی ہیں۔”
جوں جوں مادی علم اپنے قدم آگے بڑھا رہا ہے، صاحبِ عقل انسان پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی جا رہی ہے کہ اللہ رب العزت کا یہ تیار کردہ کارخانہِ قدرت ابنِ آدم کی عارضی سوچ اور مادی فزکس کی بند حدوں سے کہیں زیادہ گہرا، پیچیدہ، پُر اسرار اور انتہا درجے کا منظم ہے۔