(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرشیخ ولی خان المظفر

ڈاکٹرشیخ ولی خان المظفر

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/30
موضوعات
شھرہ آفاق
جماعتِ تبلیغ، مولانا الیاس اور نئی صدی کے تقاضے
ایک خیر خواہانہ دعوتِ فکر
برصغیر کی دینی تاریخ میں مجدد الدعوة والتبليغ حضرت مولانا إلياس کا نام اُن تجدیدی شخصیات میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ٹوٹتے ہوئے ایمان، بکھرتی ہوئی دینداری، اور مسجد سے دور ہوتی ہوئی عوام کو دوبارہ اللہ کے گھر سے جوڑنے کی عظیم کوشش کی۔ ان کا درد یہ تھا کہ مسلمان صرف نام کے مسلمان نہ رہ جائیں بلکہ چلتے پھرتے قرآن و سنت کا نمونہ بنیں۔ ان کا مشہور جملہ تھا:“اے مسلمانوں! مسلمان بنو۔”

یہ تحریک مدارس، خانقاہوں، سیاسی جماعتوں اور علمی مناظروں سے الگ ایک عوامی دعوتی تحریک تھی، جس کا اصل سرمایہ اخلاص، سادگی، قربانی، سفر، ذکر، تعلیم، اور اصلاحِ نفس تھا۔ اسی لیے ایک صدی گزرنے کے باوجود یہ تحریک دنیا کے ہر خطے میں کسی نہ کسی صورت موجود وفعّال ہے۔

مگر سوال یہ ہے : کیا صرف موجود رہنا کافی ہے؟ یا امت کے نئے فتنوں، فکری یلغار، الحاد، زندقہ میڈیا، زبان، تعلیم، تہذیب، اور عالمی چیلنجز کے مطابق اس تحریک میں نئی روح، نئی حکمت، اور نئی جہتوں کی ضرورت ہے؟

مولانا الیاسؒ کا اصل منہج کیا تھا؟
حضرت مولانا الیاسؒ کا مقصد محضاور روایتی “سہ روزے” اور “چلے” نہ تھے، بلکہ یہ تو تربیت کے ذرائع تھے۔ اصل ہدف تھا:

ایمان کی تجدید

اعمال کی اصلاح

اخلاق کی تعمیر

امت کا درد

دین کو زندگی میں غالب کرنا

عوام کو علماء سے جوڑنا

اور مسلمانوں کو دین کے عالمی داعی بنانا

انہوں نے دعوت کو مدرسے کی چار دیواری سے نکال کر بازار، گاؤں، قریے، قافلے، اور بین الاقوامی سفر تک پہنچایا۔

عربی زبان اور عالمی دعوت
حضرت مولانا الیاسؒ اور بعد میں إمام الأدب العربي في الهند أبو الحسن الندوي جیسے اکابر کے خطوط، مجالس، اور افکار میں عربی زبان کی اہمیت وترویج نمایاں تھی۔ عربی صرف ایک زبان نہیں بلکہ:

قرآن کی زبان

حدیث کی زبان

امت کی مشترکہ تہذیبی روح

اور عالمی دعوت کا بنیادی وسیلہ ہے۔آج جماعتِ تبلیغ دنیا کے سینکڑوں ملکوں میں موجود ہے، مگر سوال یہ ہے کہ: کیا اس کے اکثر افراد عالمی علمی زبانوں خصوصاً عربی سے قریب ہوئے؟ کیا اس نے دعوت کے ساتھ فکری و علمی قیادت بھی پیدا کی؟ کیا اس کے لاکھوں کارکن قرآن کو براہِ راست سمجھنے کی طرف بڑھنے کی کوششیں کررہے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔

رائیونڈ کا مدرسہ عربیہ اور اس کے اہداف
یہ صرف ایک علمی وتدروسی مرکز نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی و دعوتی اجتماع گاہ ودانشگاہ ہے۔ یہاں لاکھوں افراد آتے ہیں، سیکھتے ہیں، اور نکلتے ہیں۔ مگر اب سوال یہ ہے :

کیا یہ مرکز عالمی دعوتی یونیورسٹی بن سکتا ہے؟کیا یہاں زبانوں، میڈیا، عالمی مذاہب، تہذیبی مطالعہ، اور جدید فکری چیلنجز پر تربیت ہو سکتی ہے؟کیایہاں عالمی لائبریری موجود ہے؟کیا یہاں سے ایسے داعی نکل سکتے ہیں جو افریقہ، یورپ، امریکہ، چین، روس اور عرب دنیا میں علمی وقار کے ساتھ اسلام پیش کریں؟کیا یہ مرکز امت کے ذہین ترین نوجوانوں کی تربیت گاہ بن سکتا ہے؟

اگر ایسا نہ ہوا تو خطرہ یہ ہے کہ: امت کی سب سے بڑی عوامی تحریک صرف روایتی معمولات تک محدود ہو جائے گی۔اس “چلتے پھرتے دانش گاہ” نے کیا پایا؟

اس تحریک نے:

لاکھوں بے نمازوں کو نمازی بنایا

مسجدوں ومدرسوں کو آباد کیا

دین سے دور طبقات کو جوڑا

دعوت و اخلاص کا ماحول پیدا کیا

امت میں سفر و قربانی کی روح زندہ کی

طبقاتی دیواریں توڑیں

عالمی اخوت پیدا کی

یہ اس کے عظیم ترین کارنامے ہیں، جن کا انکار ناانصافی ہوگی۔

اور کیا کھویا؟
لیکن بعض پہلو ایسے ہیں جہاں مزید پیش رفت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے:

علمی قیادت کی کمی

زبانوں خصوصاً عربی و دیگر سے کم استفادہ یا بے توجہی

میڈیا اور فکری میدان میں کمزور موجودگی

نوجوان اذہان کے جدید سوالات کا محدود جواب

دعوت اور علمی تحقیق کے درمیان فاصلہ

عالمی جامعات اور علمی اداروں وشخصیات سے کم ربط

بعض علاقوں میں تنظیمی جمود بلکہ خمود

یہ تنقید نہیں بلکہ خیر خواہی ہے، کیونکہ زندہ تحریکیں ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتی ہیں۔

نئی روح کی ضرورت
آج جماعتِ تبلیغ کو “نئی روح” کی ضرورت ہے، مگر ایسی روح نہیں جو اس کے اخلاص و سادگی کو ختم کر دے، بلکہ ایسی روح:

جو اصل مزاج کو محفوظ رکھے

مگر دعوت کو علمی و عالمی بنائے

جو عربی، ودیگر، میڈیا، اور عصری فہم کو شامل کرے

جو نوجوانوں کو مقصدِ زندگی دے

جو قرآن و سنت کے فہم کو گہرا کرے

جو امت کے بڑے مسائل سے وابستگی پیدا کرے

اس کام کا اہل کون؟
یہ کام وہی لوگ کر سکتے ہیں:

جو اکابر کا ادب جانتے ہوں

جن میں حکمت ہو، بغاوت نہ ہو

جو اصلاح چاہتے ہوں، شہرت نہیں

جو مزاجِ کاندھلویؒ کو سمجھتے ہوں

جو دین اور زمانے دونوں سے واقف ہوں

جن کے دل میں امت کا درد ہو

جو رُھبان باللیل اور فُرسان بالنھار ہوں

جو دعائیں اور دوائیں دونوں جمع کرسکتے ہوں

جو علم وعمل میں راسخ اور وسیع تر نگاہ رکھتے ہوں

جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے مکی اور مدنی دور کا بھر پور ادراک رکھتے ہوں

اور جو “معمارِ حرم باز بتعمیرِ جہاں خیز” کا شعور رکھتے ہوں

ایسے نوجوان علمائے کرام اگر اخلاص، علم، زبان، حکمت، اور عالمی وژن کے ساتھ آگے آئیں تو یہ تحریک نئی صدی میں بھی امت کی سب سے مؤثر دعوتی قوت بن سکتی ہے۔

کبار علماء کی سرپرستی کیوں ضروری ہے؟
عالمی سطح پر عرب و عجم کے جید علماء، مفکرین، اور مصلحین کو چاہیے :

اس تحریک کی خیر خواہی کریں

اسے تنہائی کا شکار نہ ہونے دیں

علمی رہنمائی فراہم کریں

فکری اعتدال پیدا کریں

اختلافات کو حکمت سے کم کریں

اور اس کے نوجوانوں کو امت کی وسیع فکری دنیا سے جوڑیں، ان کی انفرادی واجتماعی تربیت فرمائے،کیونکہ یہ تحریک صرف ایک جماعت نہیں، بلکہ امت کے عوامی دینی شعور کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔

مطلوب کارکن کیسا ہو؟
جماعتِ تبلیغ کا ہر فرد ایسا ہو کہ:

اس کی زبان نرم ہو

اخلاق نبویؐ اس میں جھلکیں

قرآن اس کی فکر بن جائے

سنت اس کی زندگی بن جائے

عربی اس کا شوق ہو

امت کا درد اس کا سرمایہ ہو

اور انسانیت اس سے خیر پائے

تبھی وہ واقعی “چلتا پھرتا نمونۂ قرآن و سنت” بن سکے گا۔

چیلنجز:
ستر، اسی یا سو برس بعد دنیا میں اسلام کی طرف رجوع کرنے والوں کی تعداد کروڑوں بلکہ اربوں تک پہنچ سکتی ہے۔ بین الاقوامی شماریات، آبادیاتی تبدیلیاں، خاندانی نظام کا بحران، روحانی خلا، اور اسلام کی عالمگیر تعلیمات اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امتِ مسلمہ، خصوصاً دعوت و اصلاح کی یہ جماعت، اس عظیم انسانی سیلاب کے استقبال کے لیے تیار ہے؟پھر سے کہتاہوں ،صرف روایتی سہ روزے، چلے، اور محدود حلقوں تک محنت کافی نہیں ہوگی۔ آنے والے دور میں اسلام میں داخل ہونے والوں کو زبان، تعلیم، تہذیب،تمدن، تربیت، میڈیا، معیشت، اور عالمی سطح کی فکری رہنمائی درکار ہوگی۔ انہیں ایسے مراکز وشخصیات چاہییں جہاں محبت، حکمت، علم، اور انسانی احترام کے ساتھ ان کی دینی و فکری تشکیل ہوسکے۔

اگر جماعتِ دعوت وتبلیغ واقعی عالمی سطح پر انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی کارکردگی، منصوبہ بندی، علمی تیاری،اسٹراٹیجی، میڈیا حکمتِ عملی، اور عالمی تربیتی نظام کو کم از کم دس گنا بڑھانا ہوگا۔ دنیا بدل رہی ہے؛ اب دعوت صرف مسجد ومدرسے کے دروازے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یونیورسٹیوں، سوشل میڈیا، عالمی زبانوں، اور انسانی بحرانوں کے قلب تک پہنچ چکی ہے۔ جو جماعت اس تبدیلی کو سمجھ لے گی، وہی آنے والے اسلامی بیداری کے دور کی حقیقی راہنما بن سکے گی۔

آخری گزارش
یہ وقت الزام، تحقیر، یا انتشار کا نہیں؛ بلکہ خیر خواہی، تجدید، صلاح،اصلاح،حکمت موعظہ حسنہ،اور دستگیری کا ہے۔حضرت مولانا الیاسؒ کی اس عظیم تحریک کو: نہ جامد وخامد روایت بننے دیا جائے، نہ بلاروح تنظیم، بلکہ اسے ایمان، علم، زبان وادب، حکمت، اور عالمی دعوت کی ایسی تحریک بنایا جائے جو آنے والی صدیوں میں بھی امت کی رہنمائی کر سکے۔اللہ تعالیٰ اس مبارک محنت کو اخلاص، بصیرت، اعتدال، علم، اور عالمی نفع کے ساتھ مزید ترقی عطا فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : ڈاکٹرشیخ ولی خان المظفر
| | |
61