(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
ماہِ رمضان کے فضائل وبرکات
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ماہِ رمضان کے فضائل وبرکات نوہِ ںکا موسم بہار، رمضان کا مہنہن ایک بار پھر ہم گناہ گار اور خطا کار بندوں کے لےِ رحمت و مغفرت اور دوزخ کی آگ سے نجات کا سامان لےا جلوہ گر ہے۔ اس ماہ مبارک مںہ جس کو نیبا و عبادت کی توفقو حاصل ہوگئی وہ سال بھر اس توفقگ سے بہرہ مند ہوتا رہتا ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی مسلمان اس ماہ مںج نی گ و عبادت کی توفقق سے محروم رہ گا تو پھر سال بھر اس کے حصے مں محرومی ہی آتی ہے اور عبادتوں و نوہمسں سے اس کا دامن خالی رہتا ہے اس لےو خوش قسمت مسلمان وہ ہںا جنہیںیہ مہنہی میّسر آئے اور اس مہنےت کی سعادتں و برکتیںاس کے حصے مں آئں ۔ جن کو نمازوں کی ادائیان کے ساتھ روزہ رکھنے، تراویح و نوافل پڑھنے، صاحب نصاب ہونے پر زکوٰۃ ادا کرنے، صدقہ فطر دینے اور اس کے ساتھ اس ماہ مںی نازل ہونے والی کتاب ہدایت قرآن کریم پڑھنے کی توفق ہو۔ رمضان المبارک کا استقبال کرنے کے لےس ماہِ شعبان ہی سے ذہن تا ر کرنا چاہےٓ اور رمضان المبارک کے اوقات کو قیتان بنانے کے لےر اوقات کار پہلے سے مرتب کرنا چاہےا، پُورے اشتا ق او ر شوق کے ساتھ رمضان المبارک کا انتظار کرنا چاہےا تاکہ اس کی اہمتے خوب اچھی طرح ذہن مں راسخ ہوجائے۔ روزے کی حققتت: مذہب کا اصل مقصد تزکہب نفس اور اخلاق حسنہ کی ترویج ہے، آنحضرت ا کا ارشاد ہے ’’بُعِثْتُ لُاِتَمِّمَ مَکَارِمَ اْلأَخْلَاقِ‘‘ یینے مجھے مکارم اخلاق کی تکملن کے لےر بھجای گان ہے۔ مذاہب عالم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنام کا ہر مذہب کسی نہ کسی صورت مںھ روحانی طہارت کی اہمتے اجاگر کرتا ہے لکنا سب کے طریقے مختلف ہںم۔ مثلاً ہندوؤں مںق پوجا پاٹ کا تصور ہے، عسا ئت مںح رہبانتک کا رحجان ہے اور بدھ مت مںخ انسان کی تمام خواہشات کو یکلخت ختم کرنا ضروری ہے لکنل اسلام جو کہ دین فطرت ہے ان تمام خرافات اور افراط تفریط سے پاک ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے تقویٰ اور تزکہس نفس کے لےک پانچ نکات پر مشتمل ایک ایسا لائحہ عمل بتادیا جو انسان کی فطرت سے قریب تر ہونے کے ساتھ ساتھ قابل عمل بھی ہے۔ ارکان اسلام: عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بُنِیَ اْلإِسْلَامُ عَلیٰ خَمْسٍ شَہَادَۃِ أَنْ لَّاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہ وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَائِ الزَّکوٰۃِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ (متفق علیہ) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر ؓکہتے ہں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اسلام کی بنااد پانچ چزّوں پر رکھی گئی ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہںَ اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہںن۔ اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس حدیث کے مطابق اسلام مںک پانچ چزسیں ستون کا درجہ رکھتی ہںَ، جس طرح کوئی عمارت کچھ ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اسی طرح اسلامی زندگی پانچ ارکان پر قائم ہوتی ہے۔ جو شخص ان پانچ ارکان کو ان کے روح سمت اختاعر کرلے تو وہ مومن ومسلم ہوگا ، وہ دنا مں بھی اللہ کرنحمت کا مستحق ہے اور آخرت مںو اس کو بہترین بدلہ جنت کی صورت مںح دیا جائے گا۔ جس طرح دوسرے ارکان دین اسلام کی عمارت کے قاام کا ذریعہ بنتے ہں اسی طرح روزہ بھی دین کی عمارت کا عظمں الشان ستون ہے روزہ مسلمانوں مں صبر، ضبط، ایثار، بردباری، تحمل، مروت، سلوک، غم خواری، حوصلہ، ثابت قدمی اور احساس غربت جسےو فضائل پدں اکرتا ہے آدمی کو مشکلات پر قابو پانے کا عادی بناتا ہے، بھوک پا،س پر قابو پانے کی وجہ سے جفاکشی اور شہوت کو دبا کر روحانتل کو ابھارتا اور انسان کے اخلاق و کردار کو سنوارتا ہے۔ اس مضمون مںا ہم ارکان اسلام مں سے تسرمے رکن، روزہ کو قدرے وضاحت کے ساتھ پشپ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ روزے کے وہ اثرات جو انسان کی مادی اور روحانی زندگی پر مرتب ہوتے ہں ، اجاگر ہوسکںک۔ روزے کی فرضت : قرآن کریم مںض اللہ تعالیٰ نے روزے کی فرضت اہلِ ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے یوں باحن فرمائی ہںب: یٰآیُّہَا الَّذِیْن اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَاکُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔(البقرۃ۲:۸۳) ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کے گئے ہںز، جسےم تم سے پہلے لوگوں پر فرض کےن گئے تھے، تاکہ تم پر ہزع گاربن جاؤ۔ اس آیت کریمہ مںع دو باتںَ صراحت کے ساتھ باےن کی گئی ہںل۔ ایکیہ کہ روزے صرف امّت محمدیہ پر نہںر بلکہ اممِ سابقہ پر بھی فرض کئے گئے تھے، دوسرا روزے کا مقصد باان کاک گاک ہے۔ ارشاد ہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الّذِی اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الہُدٰی وَالْفُرْقانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمْ الشّہْرَ فَلْیَصُمْہٗ۔(البقرۃ۱۸۵) ترجمہ: رمضان کا مہنہذ وہ ہے جس مںپ قرآن اُتار گاُ جو لوگوں کلئےِ (ذریعہ) ہدایت کرنے والا ہے اور جس مںل ہدایت کی اور حق و باطل مںے تمزن کی نشاناْں ہںا، تم مںو سے جو شخص اس مہنہٰ کو پائے اسے صوم رکھنا چاہئے۔ صوم کا لغوی اور شرعی معنی: صوم یا صاکم عربی زبان مںب ’’رُک جانے‘‘ کے معنی مںا استعمال ہوتا ہے۔ اور شریعت کی اصطلاح مںں روزے کی مندرجہ ذیل تعریف کی گئی ہے۔ ’’اَلْاِمْسَاکُ عَنِ الْمُفْطِرَاتِ مَعَ اِقْتِرَانِ النِّیَّۃِ بِہٖ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجَرِاِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔(تفسیر القرطبی۲:۲۷۳) ترجمہ: یینک روزے کی نتِ کے ساتھ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک ہر قسم کے مفطرات (روزے توڑنے والی چزووں) سے رُک جانا۔ علماء فقہ نے اَلْاِمْسَاکُ عَنِ الْمُفْطِراَتِ کا معنی الاِمْسَاک عن الأکْلِ والشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ سے کاِ ہے یینش کھانے پنے اور عمل زوجیت سے رک جانے کا نام روزہ ہے۔ اس بناء پر روزہ مندرجہ ذیل پانچ چزکوں کو ملحوظ رکھنے سے عبارت ہے۔ (1) کھانے سے اجتناب (2) پنےق سے اجتناب (3) ازدواجی تعلق سے اجتناب (4) روزے کی مدت (5) ان تمام امور سے رکنے کے ساتھ ساتھ رُک جانے کی نتز۔ اگر روزے کی نتم نہ ہو تو مذکورہ بالا چار اُمور سے اجتناب شرعًا روزہ نہں کہلائے گا۔ روزے کے فضائل احادیث کی روشنی مں : 1۔ روزہ گذشتہ گناہوں کا کفارہ ہے۔ جناب رسول ﷺ کا ارشاد ہے: عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَاتَقَدَّم من ذَنْبِہٖ۔(البخاری) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہں ۔ احتساب کا مطلب یہ ہیکہ روزہ رکھنے کا مقصد محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کا حصول ہو، اس سے کوئی دناحوی غرض مقصود نہ ہو۔ 2۔ روزہ ڈھال ہے: حضور ﷺ کا ارشاد ہے: عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِیْ العَاصِؓ قَالَ قَالَ رَسُوْل اللّٰہ ﷺ الصَّوْمُ جُنَّۃٌ مِّنِ النَّارِ کَجُنَّۃِ اَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ۔(سنن نسائی) ترجمہ: آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ روزہ جہنم کے آگ سے ڈھال ہے جسےل تم مںل سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔ جس طرح مداان جنگ مں سپاہی کے پاس ڈھال ہوتی ہے اور وہ اس کے ذریعے سے اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح روز قاحمت روزہ مؤمن کے لےں ڈھال ہوگا اور وہ اس کے ذریے جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا۔ 3۔ ایک حدیث مںے آنحضرت ﷺ نے رمضان کی فضیلتیوں باین کی ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شانطنا اور سرکش جنات قدی کردئےم جاتے ہںہ۔ اور دوزخ کے سارے دروازے بند کردیے جاتے ہں اس کا کوئی دروازہ کھلا نہںک رہتا۔ اور جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہں پھر اس کا کوئی دروازہ بن نہںر رہتا۔ اور اعلان کرنے والا فرشتہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اے بھلائی (یین نیں و ثواب) کے طلب گار: (اللہ تعالیٰ کی طرف) متوجہ ہوجا اور اے برائی کا ارادہ کرنے والے! بُرائی سے باز آجا کوئنکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے (یینن اللہ تعالیٰ اس ماہ مبارک کے وسلےت مںی بہت لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے) اس لےو ہوسکتا ہے کہ تو بھی ان لوگوں مںہ شامل ہوجائے اور یہ اعلان (رمضان کی) ہر رات ہوتاہے۔(ترمذی و ابن ماجہ) یہ حدیث مبارکہ رمضان کی برکتوں کا اندازہ لگانے کے لےں کافی ہے کہ جب رمضان آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے شاجطن قدل کردیے جاتے ہںن، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہںا اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہںو، شا طنٔ جن کا کام انسانوں کو گمراہ کرنا اور اچھے کاموں سے روکنا ہے، اس ماہ مبارک مںے وہ اس ظالمانہ کام سے روک دیئے جاتے ہں ۔ اس بات کا ثبوت یہ ہیکہ اس مہنے مںس وہ لوگ بھی جو عام طور پر گناہوں مںب مبتلا رہتے ہںو، گناہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہںس۔ 5۔ روزہ جنت مںگ داخلے کا سبب: روزہ ایک ایسا عمل ہے جو مؤمن کے لےہ جنت مں داخلے کا سبب ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مںز نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کاے کہ مجھے ایسا کام بتادیں جس پر عمل کرکے مںض جنت مںن داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’روزہ رکھا کرو، اس جساس کوئی دوسرا عمل نہں ہے‘‘۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ بَابًا یُقَالُ لَہٗ الرَّیَانُ،یَدْخُلُ مِنْہُ الصَّائِمُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، لَاَیَدْخُلُ مِنْہُ اَحَدٌ غَیْرُہُمْ۔(البخاری) ترجمہ: ’’جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنت مں ایک دروازہ ہے، جس کا نام ریّان ہے۔ روزِ قاُمت اس مںئ روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ کوئی دوسرا ان مںج داخل نہ ہوگا‘‘۔ جنت مںو انسانوں کے اعمال کے اعتبار سے کئی دروازے ہںن۔ پس جو شخص دُنا مںک کوئی عمل کرے گا وہ جنت مںی اسی عمل کے دروازے سے داخل ہوگا۔ ان فضلتو ں کو جان لنےا کے باوجود بھی کوئی بدنصبُ، بدبخت اور قسمت کا مارا ہی گا جو اپنی آخرت کو نہ سنوارسکے اور صحت مند، توانا اور قدرت رکھنے کے باوجود روزہ نہ رکھے یقینا ایسا شخص رحمۃ اللعالمنلﷺ کی بددعا کا مستحق ہے۔ جساک کہ ایک روایت مںت آتا ہے۔ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: رسوا ہوا وہ آدمی جس کے سامنے مریا نام لاا جائے اور وہ درود نہ پڑھے۔ رسوا ہوا وہ آدمی جس نے رمضان کا (رحمت و مغفرت والا) پورا مہنہ پایا اور وہ اپنے گناہ نہ بخشوا سکا۔ (یین رمضان کا مبارک مہنہو بھی وہ غفلت مںل گذاردے اور توبہ واستغفار کرکے اپنی مغفرت کا فصلہہ نہ کرالے)، رسوا ہوا وہ آدمی جس کے سامنے اس کے ماں باپ یا دونوں مںی سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچںہ اور وہ (ان کی خدمت کرکے) جنت مںو داخل نہ ہوا۔(ترمذی) روزے کی حکمتیں پہلی حکمت: روزے کی پہلی حکمت تقویٰ ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے اس آیت مںل ذکر کی ہے۔ یٰأیُّہاَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصَّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الّذِیْنَ مِنْ قَبَلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ کہ اہل ایمان پر سابقہ امتوں کی طرح روزے اس لےُ فرض کے گئے کہ وہ متقی اور پرہزر گار بن جائںذ۔ گویا روزے کا مقصدِ عظمیٰ انسانی سرُت کے اندر تقویٰ کا جوہر پدسا کرکے اس کے قلب و باطن کو روحانتت و نورانتی سے منور کرنا ہے۔ اگر روزے سے حاصل شدہ تقویٰ کے تقاضوں پر عمل کاب جائے تو انسان کی باطنی کائنات مںی ایسا ہمہ گر انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ جس سے اس کی زندگی کے شب و روز یکسر بدل کر رہ جائں ۔ تقویٰ ظاہری نظر مںر انسان کو حرام چز۔وں سے اجتناب کی تعلما دیتا ہے، لکن اگر گہری نگاہ سے جائزہ لاس جائے تو معلوم ہوگا کہ روزے کی بدولت حاصل شدہ تقویٰ حرام چززوں سے درکنار ان حلال و طبک چزُوں کے قریب بھی بحالت روزہ پھٹکنے نہیںدینا، جن سے فائدہ حاصل کرنا عام حالت مںا بالکل درست ہے۔ ہر سال ایک ماہ کے اس ضبطِ نفس کی لازمی تربتز کاا ہتمام، اس مقصد کے حصول کے لےن ہے کہ انسان کے قلب و باطن مںا سال کے باقی گادرہ مہنویں مںض حرام و حلال کا فرق وامتیاز روا رکھنے کا جذبہ اس درجہ فروغ پائے کہ اس کی باقی زندگی ان خطوط پر استوار ہوجائے کہ ہر معاملے مںز حکمِ خداوندی کے آگے سر تسلم خم کرتے ہوئے حرام چزروں کے سائے سے بھی بچ جائے۔ اگر تقویٰ کا صححس مفہوم ہم سمجھ جائں تو ہماری زندگاسں سراسر خوف و خشتا الٰہی سے عبارت ہوجائے گی۔ لکنح مقامِ افسوس ہے کہ ہم مںر سے اکثر روزے کے ثمرات سے اس لے محروم رہتے ہںر کہ ہمارا شعار روزے کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دینا بن گاا ہے اور آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کا مصداق بن گئے ہںر جس مںس آنحضرت ﷺ نے ارشا د فرمایا: کَمْ مِنْ صَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ صِیَامِہٖ اِلاَّا الظَّمُآئُ وَکَمْ مِنْ قَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ قِیَامِہٖ اِلَّا السَّہَرُ ۔ (مشکوۃ) ترجمہ: کتنے ہی روزہ دار ایسے ہںز کہ جن کو روزوں سے سوائے بھوک پامس کے کچھ حاصل نہںا ہوتا، اور کتنے ہی قا م کرنے والے ایسے ہںس جن کو اپنے قاےم سے جاگنے کے سوا کچھ نہںس ملتا۔ دوسری حکمت: روزہ کی ایک حکمت صبر و شکر کا حصول ہے۔ اس حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان کسی نعمت سے محرومی پر شکوہ کے بجائے صبر سے کام لے۔ روزہ ایک مسلمان سے صرف صبر ہی نہںک بلکہ اس سے بھی بلند تر مقام، مقام شکر پر پہنچنے کا تقاضہ کرتا ہے۔ روزہ انسان کے اندر یہ جوہر پدماکرنا چاہتا ہے کہ نعمت کے چھن جانے پر اور ہر قسم کی مصبت،، ابتلا اور آزمائش کا سامنا کرتے وقت اس کی طبعتن مںَ ملال اور پیشانی پر شکن کے آثار پدر انہ ہونے پائںص، بلکہ وہ ہر تنگی و ترشی کا خندہ پیشانی سے مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پروردگار کا شکر ادا کرتا رہے۔ روزہ چونکہ کھانے پنے اور نفسانی خواہشات سے اپنے آپ کو روکنے کا نام ہے۔ روزہ کی حالت مںق انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری مںہ اس کی نعمتوں کو استعمال کرنے سے رک جاتاہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ ایک خاص مدت تک کسی نعمت سے دورر ہے تو پھر اسے اس نعمت کی قدرو قمتا کا صححا اندازہ ہوتا ہے۔ عام طور پر نعمت کی قدر و اہمتے کا احساس نہں ہوتا۔ اس کی قدر و اہمت کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ نعمت مفقود ہوجائے، پس نعمت کی پہچان اور اس کی قدر کا جاننا ہم پر واجب کرتا ہے کہ ہم اس کی ادائیہے کریں اور حق کی ادائیگیشُکر سے ہوتی ہے اسی لے اللہ تعالیٰ نے آیت صوم مںم لَعَلَّکُمْ تشکُرُؤنَکے ذریعے تشکر کی اہمت) و ضرورت کی طرف اشارہ کاک ہے۔ تسرئی حکمت: روزے کی حالت مںت انسان بھوک اور پاجس کے کرب سے گزرتا ہے تو لامحالہ اس کے دِل مں ایثار، اور قربانی کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اور وہ عملاً اس کت وق سے گزرتا ہے جس کا سامنا معاشرے کے مفلوک الحال اور کھانے سے محروم لوگ روزانہ کرتے ہںھ۔ گویا کہ روزے کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے آسودہ حال بندوں کو ان شکستہ اور بے سرو سامان لوگوں کی زبوں حالی سے آگاہ کرنا چاہتے ہںں، جو اپنے تن و جان کا رشتہ بمشکل برقرار رکھے ہوئے ہںی۔ تاکہ ان کے دل مںہ دکھی اور پریشان حال انسانتو کی خدمت کا جذبہ فروغ پائے اور ایک ایسا اسلامی معاشرہ وجود مںم آسکے جس کی اساس باہمی محبت و مروّت، انسان دوستی، اور درد مندی و غمخواری کی لافانی اقدار پر ہو۔ اس احساس کا بدشار ہونا روزے کی روح کا لازمی تقاضا ہے۔ چوتھی حکمت: روزے کی چوتھی حکمت تزکہح نفس ہے۔ روزہ انسان کے نفس اور قلب و باطن کو ہر قسم کی آلودگی اور کثافت سے پاک و صاف کردیتا ہے۔ انسانی جسم مادے سے مرکبّ ہے، جسے اپنی بقا کے لےا غذا اور دیگر مادی لوازمات استعمال کرنا پڑتا ہے، جب کہ اس کے مقابلے مںا رُوح ایک لطیفچیز ہے، جس کی بالدغگی اور نشوونما مادی اور دنا وی لذات ترک کرنے مںی مضمر ہے، جسم اور روح کے تقاضے ایک دوسرے کے متضاد اور عکس ہں ۔ روزہ جسم کو اپنا پابند اور منقاد بنا کر مادی قوتوں کو لگام دیتا ہے، جس سے رُوح قوی تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ جوں جوں روزے کی بدولت بندہ خواہشاتِ نفسانی کے چنگل سے آزادی حاصل کرتاہے، اس کی روح غالب و توانا اور جسم مغلوب و کمزور ہوجاتا ہے۔ روح اور جسم کا تعلق پنجرے اور پرندے کا سا ہے، جسےب ہی قفسِ جسم کا کوئی گوشہ کُھل جاتا ہے، روح کا پرندہ موقع پاتے ہی جسم کی بندشوں سے آزاد ہو کر مائل بہ پرواز ہوجاتا ہے۔ مسلسل روزے کے عمل اور مجاہدے سے تزکہ نفس کا عمل تزع تر ہونے لگتا ہے، جس کی وجہ سے رُوح کثافتوں سے پاک ہوکر لطفز تر اور قوی تر ہوجاتی ہے۔ صحابہ کرامؓ کی روحانی طاقت: آنحضرت ﷺ کے روحانی تربا ر فتگان مںا زہد و ورع اور تقویٰ کی بناء پر اصحاب صفہّ کو امتیازی مقام حاصل ہے۔ ان کی زندگورں پر فقر مصطفویﷺ کی نمایاں چھاپ تھی۔ جو فقر اضطراری نہںپ بلکہ فقر اختارری تھا۔ روزے سے فقرو فاقہ کی جو شانِ استغناء جنم لیام ہے وہ تونگری سے کہںت اعلیٰ مقام و رفعت کی حامل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت انسان مںد ایک نفس امّارہ پداا فرمایا ہے، اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ یہ انسان کو برائی پراکساتا ہے، جسےی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجدی مںا ارشاد فرمایا: اِنَّ النَّفْسَ لَامَّارَۃٌ بِالسُّوْئِ۔(یوسف) ترجمہ: بے شک نفس تو برائی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے۔ نفس امارہ کو قابو کرنے کے طریقوں مں سے ایک طریقہیہ ہے کہ بعض اوقات اپنے نفس کو جائز اور حلال خواہشوں سے بھی روکںن، تاکہ ناجائز اور حرام کی طرف میلان کی جرأت و ہمت ہی نہ کرسکے۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ اس تربتں سے اس کی عادت بھی بدل جائے گی اور بُری باتوں کی طرف اس کا دھاہن بھی نہں جائے گا۔ پس جب اس تربتق کے لےق اللہ تعالیٰ نے ہمںف رمضان المبارک کا مہنہھ عطا کا ہے، جس مںہ انسان دن کے اوقات مںت حلال چزسیں کھانے پنےو اور جماع سے باز رہتا ہے، تو پھر وہ حرام جو کہ ہر حالت مںی حرام ہے اس کی طرف رغبت اور میلان کس طرح ممکن ہے۔ اگر انسان ایک طرف زہر کے اثر کو مٹانے کے لےو دوا بھی کرے اور دوسری طرف زہر کا استعمال بھی جاری رکھے تو ایین صور ت مںن دوا کا اثر کس طرح ممکن ہے؟ اس لےک روزہ کا مقصود تبھی حاصل ہوتا ہے، جب انسان اپنے نفس کو پاک اور منزہ کرے۔ پانچویں حکمت: روزے کی پانچویں حکمت رضائے خداوندی کا حصول ہے۔ روزے کا منتہائے مقصود ییہ ہے کہ وہ بندے کو تمام روحانی مراتب و مدارج طے کرانے کے بعد مقام رضا پر فائز دیکھنا چاہتا ہے۔ مقام رضا یہ ہے کہ رب اپنے بندے سے راضی ہوجائے۔ یہ مقام انسان کو روزے کے توسط سے ملتا ہے۔ یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلے مں باقی تمام نعمتںب، ہچ دکھائی دییز ہںط۔ روزہ وہ منفرد عمل ہے جس کے اجرو جزاء کا معاملہ رب اور بندے کے درماون چھوڑ دیا گاق کو نکہ اس کی رضا حدو حساب کے تعنک سے ماوراء ہے۔ رمضان المبارک کے خصوصی اعمال و وظائف: رمضان المبارک کا سب سے اہم اور افضل عمل روزہ رکھنا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ عَشْرُ اَمْثالِہَا اِلٰٰی سَبْعِمِائَۃٍ ضِعْفٍ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اِلاَّالصَّوْمَ، فَاِنّہٗ لِیْ وَاَنَا أَجْزِیْ بِہٖ، یَدَعُ شَہْوَتَہٗ وَطَعَامَہٗ (وَشَرَابہ) مِنْ اَجْلِیْ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَان، فَرْحۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ، وفرْحۃٌ عِنْدَ لِقَائِ ربِّہٖ وَلَخَلُوْفُ فِم الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ۔(بخاری و مسلم) ترجمہ: انسان جب بھی نیک عمل کرتا ہے اس کا اجر اسے دس گنا سے لکرہ سات سو گنا تک ملتا ہے، لکنم روزے کی بابت اللہ عزوجل فرماتے ہںم کہ یہ عمل (چونکہ) خالص مرسے لےْ ہے، اس لےا مںِ ہی اس کی جزا دوں گا۔ (کوفنکہ) روزہ دار صرف مروی خاطر اپنی جنسی خواہش، کھانا اور پناج چھوڑتا ہے۔ روزے دار کے لےو دو خوشاسں ہںی، ایک خوشی اسے روزہ افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسرے خوشی اسے اس وقت حاصل ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملے گا اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکزیہ ہے۔ مسلمان جب روزہ رکھے تو اسے چاہےے کہ اس کے کانوں کا بھی روزہ ہو، اس کی آنکھ کا بھی روزہ ہو، اس کی زبان کا بھی روزہ ہو، اور اسی طرح اس کے دیگر اعضاء وجوارح کا بھی روزہ ہو، یین اس کا کوئی بھی عضو اور جزء اللہ تعالیٰ کی نافرمانی مںف استعمال نہ ہو۔ اور اس کے روزے کی حالت اور غرب روزے کی حالت ایک جین نہ ہو بلکہ ان دونوں حالتوں مںا فرق و امتیاز نمایاں اور واضح ہو۔ 2۔ قا م اللل : روزے کا دوسرا بڑا سب سے زیادہ باعثِ اجر عمل قا م اللل ہے۔ قانم الللک کا مطلب ہے راتوں مں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بارگاہ مںل عجزو ناجز کا اظہار کرنا۔ قرآن مجد مںھ اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمن (رحمن کے بندوں) کی جو صفات باان فرمائی ہں ان مںس ایکیہ ہے: والَّذِیْنَیَبِیْتُوْنَ لِرَ بَّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیٰمًا (الفرقان ۲۵/۶۴) ترجمہ: ’’ان کی راتںی اپنے رب کے سامنے قاْم و سجود مںً گذرتی ہںو‘‘۔ اور جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ قَامَ رَمَضَان اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔(البخاری) ترجمہ: ’’جس نے رمضان (کی راتوں) مںِ ایمان کی حالت مںت ثواب کی نتء سے قانم کاف، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائںہ گے‘‘۔ راتوں کا قارم جناب رسول اللہ ﷺ کا بھی مستقل معمول تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علہمخ اور تابعنو رحمہم اللہ بھی اس کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ رمضان المبارک مںج اس کی اہمتت اور بڑھ جاتی ہے۔ 3۔ صدقہ وخرمات: رمضان المبارک کا تسریا بڑا عمل صدقہ و خراات کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہں۔: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَیْرِ، وَکَانَ اَجْوَدَمَایَکُوْنُ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ… فَاِذا لَقِیَہٗ جِبْرِیْلُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَجْوَدَ بِالَخْیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ (مسلم) ترجمہ: نبی کریمﷺ بھلائی کے کاموں مںس سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے اور آپ کی سب سے زیادہ سخاوت رمضان کے مہنےَ مںہ ہوتی تھی…اس مہنےی مںل (قرآن مجدے کا دور کرنے کے لےب) جب آپ ﷺ جبریل امنا سے ملتے تو آپ ﷺ کی سخاوت اتنی زیادہ اور عام ہوتی جسےب تزن ہوا ہوتی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک مںا عام دنوں کے مقابلے مںم صدقہ و خر ات کا زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔ صدقہ و خریات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کلئے فقراء و مساکنا،یتامی و بووگان اور معاشرے کے معذور اور بے سہارا افراد کی ضروریات پر خرچ کرنا اور اُن کی خبر گرَی کرنا، بے لباسوں کو لباس پہنانا، بھوکوں کو کھانا فراہم کرنا، بمارروں کا علاج و معالجہ کرنا، یموو ں اور بوااؤں کی سرپرستی کرنا، معذوروں کا سہارا بننا مقروضوں کو قرض کے بوجھ سے نجات دلانا اور اس طرح کے دیگر ضرورت مند افراد کے ساتھ تعاون و ہمدردی کرنا۔ سلف صالحن مںا اطعامِ طعام کا جذبہ و ذوق بہت عام تھا، اور یہ سلسلہ بھوکوں اور تنگدستوں ہی کو کھلانے تک محدود نہ تھا بلکہ دوست احباب اور نیک لوگوں کی دعوت کرنے کا شوق بھی فراواں تھا۔ اس لئے کہ اس سے آپس مںو پا ر و محبت مںہ اضافہ ہوتا ہے اور نیک لوگوں کی دعائں حاصل ہوتی ہںا جن سے گھروں مںپ خر و برکت کا نزول ہوتا ہے۔ 4 ۔ روزے کھلوانا: رمضان المبارک کا ایک بڑا عمل روزہ داروں کے روزے کھلوانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ فطَّرَصَائِمًا کَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ غَیْرَ أنَّہٗ لَایَنْقُصُ مِنْ اَجْرِ الصَّائِمِ شَیْئًا۔(ترمذی) ترجمہ: جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا، تو اس کو بھی روزے دار کی مثل اجر ملے گا، بغرن اس کے کہ روزے دار کے اجر مںو کوئی کمی کی جائے۔ ایک دوسری حدیث مںھ ارشاد ہے: مَنْ فطَّرَصَائِمًا اَوْجَہَّزَ غَازِیًا فَلَہٗ مِثْلُ اَجْرِہِ (شعب الایمان) ترجمہ: جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا،یا کسی مجاہد کو سامان حرب دے کر تا ر کا تو اس کے لےا بھی اس کی مثل اجر ہے۔ 5۔ کثرت تلاوت: قرآن مجدر کا نزول رمضان المبارک مںر ہوا، اس لےہ قرآن مجدَ کا نہایت گہرا تعلق رمضان المبارک سے ہے۔ ییک وجہ ہے کہ اس ماہ مںو نبی کریمﷺ جبریل امنج کے ساتھ قرآن مجدت کا دور کال کرتے تھے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس ماہ مںی کثرت سے قرآن مجدس کی تلاوت کا اہتمام کای کرتے تھے، ان مںہ سے کوئی دس دن مںا، کوئی سات دن مںھ، اور کوئی تن دن مںث قرآن مجدر ختم کرلاک کرتا تھا۔ 6۔ تلاوت قرآن مں خوف و بکاء کی مطلوبت : قرآن مجدا کو پڑھتے اور سنتے وقت انسان پر خوف اور رقت کی کتتے بھی طاری ہونی چاہیئے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب پڑھنے اور سُننے والے مطالب اور معانی سے بھی واقف ہو۔ قرآن مجدَ کومحض قصص و تاریخ کی کتاب سمجھ کر نہںی پڑھنا چاہےت بلکہ اسے کتابِ ہدایت سمجھ کر پڑھا جائے۔ آیات وعدو عدہاور انذار و تبشیر پر خوب غور کا جائے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور اس کی بشارتوں و نعمتوں کا بانن ہے وہاں اللہ تعالیٰ سے اُن کا سوال کا جائے۔ اور جہاں انذار و تخویف اور عذاب کا تذکرہ ہو وہاں اُن سے پناہ مانگنی جائے۔ حدیث مںں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا (اِقْرَ أْ عَلَیَّ) ’’مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ‘‘ حضرت ابن مسعودؓ نے عرض کا : (أقْرَأُ عَلَیْکَ وَعَلَیْکَ اُنْزِلَ)’’مںق آپ کو پڑھ کر سناؤں؟ حالانکہ قرآن تو آپ پر نززل ہوا ہے‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اِنِّیْ اُحِبُّ أَنْ أَسمَعَہٗ مِنْ غَیْرِي۔ ترجمہ: ’’مںُ اپنے علاوہ کسی اور سے سُننا چاہتا ہوں‘‘ چنانچہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی جب وہ اس آیت پر پہنچے۔ فَکَیْفَ اذا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلیٰ ہٰؤُلَائِ شَہِیْدًا۔(النساء ۴/۴۱) ترجمہ: ’’اس وقت کاِ حال ہوگا جب ہم ہر امت مں سے ایک گواہ حاضر کریں گے، اور (اے محمد ﷺ ) ان سب پر آپ کو گواہ بنائںہ گے‘‘۔ تو آپ ﷺ نے فرمای: (حَسْبُکَ) ’’بس کرو‘‘ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہں، کہ مںم نے رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو رواںتھے۔ (صححر البخاری) اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈرنا اور رونا، اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ ایک حدیث مںے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’’سات آدموتں کو اللہ تعالیٰ قاتمت کے دن اپنے سائے مںے جگہ عطا فرمائے گا، ان مں سے ایک وہ شخص ہوگا جس کی آنکھوں سے تنہائی مںق اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عظمت وہبتم کے تصور سے آنسو جاری ہوجائں ۔ اللہ تعالیٰ کا خوف ہر مسلمان کے دل مںا ہونا چاہیئے، اس کا ایک بہترین طریقہیہ ہے کہ قرآن مجدف کی تلاوت تدبرو غور سے کات جائے اور اس کے معانی و مطالب کو سمجھا جائے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت کو قلب و ذہن مںی مستحضر کاے جائے۔ اعتکاف: یوں تو پورا رمضان ہی عبادت، ذکرو اذکار، تلاوت قرآن، فرائض و نوافل کی پابندی، صدقہ و خرلات اور نید و احسان کا مہنہو ہے۔ مگر اس کے آخری عشرے کو خصوصی اہمتن حاصل ہے، کو نکہ آپ ﷺ آخری عشرے مںک باقی ایام کی نسبت عبادت کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔ خود بھی جاگتے اور اپنے اہل وعایل کو بھی جگاتے۔ جس سال آپ ﷺ نے رحلت فرمائی اس سال آپ ﷺ نے رمضان مںپ بس دن کا اعتکاف فرمایا۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کسی وجہ سے اعتکاف نہ کرسکے تو آپ ﷺ نے اس اس کے عوض مںع شوال کے مہنے مں اعتکاف فرمایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ عمل آنحضرت ﷺ کو کس قدر محبوب تھا۔ اعتکاف کا لغوی و اصطلاحی معنی: اعتکاف کا لغوی معنی ہے ٹھہرنا اور رکنا۔ اصطلاح شریعت مںن کوئی شخص اللہ کا تقرب حاصل کرنے، اس کی عبادت ذکر و اذکار کرنے کی نت سے مسجد مںل ایک خاص مدت کے لےع قانم کرے تو اسے اعتکاف کہتے ہںق۔ اعتکاف کی قسمںی: اعتکاف کی تنا قسمںں ہں : 1۔ اعتکاف واجب 2۔ اعتکاف سنت 3۔ اعتکاف مستحب اعتکاف واجب: اگر کسی شخص نے یہ منت مانی کہ مرےا فلاں کام ہوجائے تو مں ایک دن یا دو دن کا اعتکاف کروں گا اور پھر وہ کام ہوگا تو اس شخص پر واجب ہے کہ وہ اعتکاف کرے، یا د رہے کہ اعتکاف واجب کے لےا روزہ شرط ہے، بغرں روزہ کے اعتکاف واجب صححہ نہںش ہے۔(درمختار) اعتکاف سنت مؤکدہ: یہ اعتکاف رمضان المبارک کے آخری دس دنوں مںع کاا جاتا ہے یینر بسوہیں رمضان کو سورج ڈوبنے سے پہلے اعتکاف کی نتت سے مسجد مںل داخل ہوجائے اور تسو یں رمضان کو سورج ڈوبنے کے بعد یا انتیسویں رمضان کو چاند ظاہر ہونے کے بعد مسجد سے نکلے، یاد رہے کہ اعتکاف کییہ قسم سنت مؤکدہ کفایہ ہے، یینر اگر تمام اہل محلہ اس کو چھوڑدیں گے تو سب آخرت مں مؤاخذہ مں گرفتارہوں گے اور اگر ایک آدمی نے بھی اعتکاف کرلاو تو سب آخرت کے مؤاخذہ سے بری ہوجائںو گے۔ اس اعتکاف مں بھی روزہ شرط ہے مگر وہی رمضان کے روزے کافی ہںع۔ (درمختار) اعتکاف مستحب یہ ہے کہ جب کبھی بھی دن یا رات مں مسجد کے اندر داخل ہو تو اعتکاف کی نتح کرے جتنی دیر مسجد مںن رہے گا، اعتکاف کا ثواب پائے گا۔ نتج کے لےھ صرف دل مں اتنا خاول کرلنا اور منہ سے کہہ لناو کافی ہے کہ مںم نے خدا کے لےگ اعتکافِ مسجد کی نت۔ کی۔(فتاویٰ عالمگرتی) اعتکاف کے چند دیگر مسائل: ٭ اعتکاف کرنے والوں کے لے بلاعذر مسجدسے نکلنا منع ہے، اگر نکلے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا، چاہے قصداً نکلے یا بھول کر۔ اس طرح عورت نے بھی جس گھر مںک اعتکاف کا ہے اس کا بھی اس گھر سے نکلنا منع ہے۔ اگر عورت اس مکان سے باہر نکل گئی تو خواہ قصداً نکلی ہو یا بھول کر اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔(در مختار) ٭ مرد کے لےی ضروری ہے کہ وہ مسجد مںا اعتکاف کرے اور عورت اپنے گھر مںس اس جگہ اعتکاف کرے جو جگہ اس نے نماز پڑھنے کے لےد مقرر کی ہو۔(درمختار) ٭ اعتکاف کرنے والا دو عذروں کی وجہ سے مسجد سے نکل سکتا ہے ایک عذرِ طبعی جسےک رفع حاجت، غسلِ فرض اور وضو کے لےپ، دوسرا عذرِ شرعی جسےر نمازِ جمعہ کے لےک جانا اگر اس اعتکاف والی مسجد مں نماز جمعہ نہ ہوتی ہو۔ ان دو عذروں کے علاوہ اگر کسی اور وجہ سے مسجد سے نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا اگرچہ بھول کر ہی نکلے۔ (درمختار) ٭ اعتکاف کرنے والا دن رات مسجد مںف ہی رہے گا، وہںک کھائے، پئےں، سوئے مگر احتا ط رکھے کہ کھانے پنےن سے مسجد کا تقدس پامال نہ ہو۔ وہاں گندگی نہ پھیلائے۔ معتکف کے علاوہ کسی اور کے لےھ مسجد مںد کھانے، پنےم اور سونے کی اجازت نہںج ہے، اس لےو اگر کوئی شخص مسجد مںت کھانا، پنام اور سونا چاہے تو اس کو چاہیئے کہ مستحب اعتکاف کی نتو کرکے مسجد مںی داخل ہو، پھر اس کے لےر کھانے، پنےج اور سونے کی اجازت ہے۔(درمختار) ٭ اگر مسجد گرگئییا کسی نے زبردستی مسجد سے نکال دیا اور فوراً ہی کسی دوسری مسجد مں چلاگاج تو اعتکاف فاسدنہ ہوگا۔ ٭ اعتکاف کرنے والے کو چاہےت کہ اپنا زیادہ تروقت نفلی نمازوں، تلاوت قرآن مجدد، علم دین کی تحصلں وغرہہ مںن گذارے، دنائوی اور فضول باتوں سے احتراز کرے۔ باوضو ہونے کا ہتمام کرے اور بکثرت دورد شریف کا ورد کرے۔ شبِ قدر: یوں تو انسان کی زندگی کے شب و روز اور اس کا ہر لمحہ قیتا ہے اور اس کو گناہوں سے بچتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال بجا لانے مںو صرف کرنا چاہییے لکن اللہ تعالیٰ نے بعض مقامات، مہنواں، دنوں اور راتوں کو فضیلت عطا فرمائی ہے جن مںل نیک اعمال کا اجرو ثواب بڑھایا جاتا ہے، مثلاً مقامات مںہ خانہ کعبہ، مہنواں مںے رمضان المبارک، دنوں میںیوم جمعہ کو اور راتوں مںں شب قدر کو فضیلت و بزرگی اور برتری عطا فرمائی ہے۔ شبِ قدر رمضان المبارک کی راتوں مںی سے ایک رات ہے جو بہت ہی برکت اور خر والی رات ہے، قرآن مجدو مںث اس کو ہزار مہنو ں سے افضل کہا گائ ہے اور اس رات کی عبادت ہزار راتوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ جس شخص کو اس رات کی عبادت نصبر ہوجائے وہ بہت خوش نصبی ہے اور اس سے محرومی بدنصیبی ہے۔ ایک روایت مںا آتا ہے کہ ایک بار رمضان المبارک کا مہنہ آیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: یہ مہنہر آگای ہے اس مںس ایک رات (یینج شبِ قدر) ہے جو ہزار مہنونں سے بہتر ہے، جو اس سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا اور اس کی برکت سے بس وہی محروم رہتا ے جو (واقعی بڑا) محروم ہو۔ (ابن ماجہ) شبِ قدر کی عظمت و اہمتو کے لےنیہ کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ مںس قرآن مجدئ مں مستقل ایک سورت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اس مبارک رات مںق قرآن مجد نازل ہوا۔ یہ رات اپنی فضیلت و عظمت اور عبادت و برکت کے اجر و ثواب کے لحاظ سے ہزار مہنووں سے بہتر ہے۔ سورۃ القدر مںن اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنََّا أنْزَلْٰنہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ o وَمَا اَدْرَاکَ مَالَیْلَۃُ الْقَدْرِ o لَیْلَۃُ القَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ o تَنَزَّلُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ کُلِّ اَمْرٍ سَلٰمٌ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِo ترجمہ: ’’یقینا ہم نے اس (قرآن کو) شب قدر مںَ نازل فرمایا، تو کام سمجھا کہ شبِ قدر کاا ہے؟ شب قدر ہزار مہنوۃں سے بہتر ہے، اس (مںن ہر کام) کے سرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبریل امنو) اترتے ہںی،یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)۔ شبِ قدر کییقینی تاریخ کی اطلاع امت کو نہں( دی گئی اور قرآن مجدَ مںک سورۃ القدر مں جو ارشاد ہے کہ قرآن مجدی لیلۃ القدر مںک نازل ہوا اور سورۃ البقرۂ کی آیت۱۸۵ مںس ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ قرآن مجدر رمضان المبارک مںی نازل ہوا۔ اس سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ شب قدر رمضان المبارک کے ہی کسی حصے مںا ہے۔ امّ المؤمننں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں مںش تلاش کرو (بخاری) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر عشرہ آخر کی طاق راتوں مںر سے کوئی ایک رات ہوتی ہے، یینش اکسر، تئیس، پچسا، ستائسم،یاانتسر، اس لے ہر ایک کو ہمت کرکے اس سے ضرور فائدہ حاصل کرنا چاہیئے۔ ایسا قیتر موقع جو سال مںت ایک بار آتا ہے کاا معلوم کہ آئندہ سال مسرو آئے گا بھییا نہںر۔ قرآن مجدا اور احادیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہے کہ شب قدر ایک نہایت ہی اہم، مقدس، مبترک اور رحمتوں والی رات ہے اور مومنوں کے لے اللہ تعالیٰ کی خصوصی نعمت ہے لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیئے کہ اس رات کی برکتوں سے پورا پورا فائدہ اُٹھائںئ۔ ایک حدیث مں جناب رسول اللہ ﷺ نے اس رات کی فضیلتیوں بامن فرمائی ہے۔ مَنْ قَامَ لَّیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ (بخاری) ترجمہ: جس نے شب قدر مں قاےم کام (یینی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی) اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائںر گے۔ اسی طرح نبی کریمﷺ نے اسے تلاش کرنے کی بھی تاکد فرمائی ہے آپ نے ارشاد فرمایا: اِنِّیْ اُرِیْتُ لَیْلَۃَالقَدْرِ، وَاِنِّیْ نَسِیْتُہَا (أوْ اُنْسِیْتُہَا) فَالْتَمِسُوْہَافِیْ الْعَشْرِ الأوَاخِرِ مِنْ کُلِّ وِتْرٍ (صححا مسلم) ترجمہ: ’’مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی تھی لکند (اب) اسے بھول گان (یا مجھے بھلادیا گائ) پس تم اسے رمضان کے آخری دنوں کی طاق راتوں مں تلاش کرو‘‘ یین ان طاق راتوں مںَ خوب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تاکہ تم لیلۃ القدر کی فضیلت کو پاسکو۔ آخری عشرے مںِ آنحضرت ﷺ کا معمول: آنحضرت ﷺ عشرہ اخری مںت عبادت کے لےط خود بھی کمرکس لتےٰ اور اپنے گھر والوں کو بھی حکم دیتے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہںے: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ اِذَا دَخَلَ العْشْرُ، أحْیَ اللَّیْلَ وَاَیْقَظَ أہْلَہٗ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ (صحیح بخاری) ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ رات کا بشترے حصہ جاگ کر گزارتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بدرار کرتے اور (عبادت مںا) خوب محنت کرتے اور کمر کس لتےر‘‘ ایک دوسری روایت مںت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہںگ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺیَجْتَہِدُ فِیْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مَالَایَجْتَہِدُ فِیْ غَیْرِہٖ(صحیح مسلم) ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ آخری عشر ے مں جتنی محنت کرتے تھے اور دنوںمیں اتنی محنت نہںی کرتے تھے‘‘۔ اس محنت اور کوشش سے مُراد، ذکر و عبادت کی محنت اور کوشش ہے۔ اس لئے ہمںں بھی ان آخری دس دنوں مںی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لےخ ذکرو عبادت اور توبہ استغفار کا خوب خوب اہتمام کرنا چاہیئے۔ لیلۃ القدر کی خصوصی دُعا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ مں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ یہ لیلۃ القدر ہے، تو مںہ کال پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دُعا پڑھو: اللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفَوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ(جامع ترمذی) ترجمہ: ’’اے اللہ! تو بہت ہی معاف کرنے والا ہے، معاف کرنا تجھے پسند ہے، پس تو مجھے معاف فرمادے‘‘۔ شب قدر کو نکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک ہزار مہنودں سے بہتر ہے۔ اس لےے ہم سب کو چاہےن کہ اس رات مںی زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کییاد مں گزاریں اور خوب دعائںت مانگں‘،یہ رات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اپنے گناہ معاف کرانے کی رات ہے لہٰذا زیادہ سے زیادہدُعائںے مانگنے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ رمضان کی آخری رات: رمضان المبارک کی آخری رات انتہائی فضیلت والی رات ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک مںر روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدموےں کو جہنم سے خلاصی عنایت فرماتے ہںا جو جہنم کے مستحق ہوچکے ہوتے تھے اور جب رمضان المبارک کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان المبارک سے لکرن رمضان کے آخری دن تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کردیے گئے تھے ان کے برابر اس ایک دن مںم آزاد فرماتے ہںج۔(مسند احمد) ایک روایت مںض آتا ہے کہ رمضان المبارک کی آخری رات مں آپ ﷺ کی امت کے لےئ مغفرت اور بخشش کا فصلہا کاا جاتا ہے آپ ﷺ سے دریافت کات گاا،یا رسول اللہ ﷺ ! کاو وہ شب قدر ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’شبِ قدر تو نہںت ہوتی، لکنم بات یہ ہے کہ عمل کرنے والا جب اپنا عمل پورا کر دے تو اس کی پوری اجرت مل جاتی ہے۔(مسند احمد) اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو جو اس مہنہم کی قدرو قمتپ اور اہمتی جان کر اپنے نفس کو لگام دیتے ہںن اور اعمال صالحہ کا ذخرہہ جمع کرتے ہںز ان کو ایسے ہی عظمل الشان اجر عطا فرماتے ہںے جساا کہ اس مزدور کو اس کی اجرت دی جاتی ہے جو کہ اپنا کام احسن طریقے سے پایہ تکملا تک پہنچاتا ہے۔ وہ کتنے خوش نصبر لوگ ہںا جن کے لےییہ مہنہ باعث مغفرت اور آتش جہنم سے خلاصی کا ہوگا اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی اپنے فضل و کرم سے ان خوش قسمت لوگوں مںر شامل فرمالے۔ آمنر! روزے کا اصل مقصد: رمضان المبارک کے مہنےص کی حقیو رُوح کا جائزہ لا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کے مہنےا کی غرض و غایت صرف روزے کے زمانے تک مطلوب نہںع ہے بلکہ اس کا تعلق انسان کے پورے عرصہ حاجت سے ہے۔ روزہ محض اس غرض کے لےم نہںا ہے کہ مؤمن صرف اپنے بھوک، پااس، شہوت اور آرام طلبی پر قابو پالے، اس کی غرض یہ بھی نہںا ہے کہ نفس و جسم پر قابو صرف ایک رمضان ہی کے مہنےط مں حاصل رہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ نفس کے ان تنم سب سے زیادہ قوی حملوں کا مقابلہ کرکے وہ اس کی ساری ہی خواہشات پر قابو حاصل کرلے اور اس مںے اتنی طاقت پدفا ہوجائے کہ محض رمضان ہی نہںز بلکہ رمضان کے بعد بھی باقی گاضرہ مہنویں مںو وہ ہر اس بھلائی کے لےم اپنی کوشش کرسکے جس مںج اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، ہر اس بُرائی سے رک سکے جو اللہ تعالیٰ کو نا پسندیدہ ہو اور اپنی خواہشات و جذبات کو ان حدود کا پابند بنا کر رکھ سکے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لےب مقرر کردی ہں اس کی باگں نفس کے قبضہ مںص نہ ہو کر جدھر چاہے اس کو کھنچ کرلے جائے بلکہ اس کا اختا ر خود اس کے اپنے ہاتھ مں، رہے اور نفس کی جن خواہشوں کو جس وقت، جس حدتک اور جس طرح پورا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے انہں اس ضابطہ کے مطابق پورا کرے۔ اس کا ارادہ اتنا کمزور نہ ہو کہ فرض کو فرض جانتا بھی ہو، ادا بھی کرنا چاہتا ہو مگر جسم پر اس کا حکم ہی نہ چلتا ہو بلکہ جسم کی مملکت مںا وہ اس زبردست حاکم کی طرح رہے جو اپنے ماتحت عملہ سے ہر وقت اپنے حسب منشا کام لے سکتا ہو۔ ییس طاقت پدا اکرنا روزے کا اصل مقصد ہے۔ اگر روزے سے پوری طرح فائدہ اٹھایا جائے تو وہ انسان کو اس مقام پر کھڑا کر دیتا ہے کہ اسے ہر وقت اپنی ذمہ داری کا احساس رہے۔ اس کے شب و روز کبھی بھی بے خوفی اور بے پرواہی کے ساتھ بسر نہ ہوں۔ وہ ہمشہس گناہوں اور ناپسندیدہ کاموں سے اجتناب کرے اور اپنے مقصدِ زندگی کو پشہ نظر رکھے۔ یہ رمضان کی سعادتںا بہت ہی کم لوگوں کو نصبپ ہوتی ہں۔۔ اور خاص کر آخری عشرے کی عبادت دیگر ایام کی عبادتوں سے زیادہ اہم ہے۔ کوانکہ اس آخری عشرے مں اللہ رب العزت نے لیلۃ القدر جیرن عظم شب رکھی بھی ہے اور اس رات کی عبادت ہزار مہنواں کی عبادت سے بہتر ہے (سورۃ القدر) اور ہم اللہ تعالیٰ سے انتہائی پُر امد ہے کہ ہماری ان راتوں کی تھوڑی سی عبادت کے عوض ہمںی لیلۃ القدر کے اجر و ثواب سے ضرور نوازے گا۔ چنانچہ آپ ﷺ کے طریقے کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہمںظ چاہےت کہ ہم اس عشرے کے تمام لمحات کی قدر کریں اس کے ساتھ ساتھ ہںٓپ چاہیئے کہ ان تمام امور سے جو اسلامی تعلمارت کے منافی ہںک مثلاً فضول گوئی، جھوٹ، غبتں، چغل خوری، گالم گلوچ، بہتان درازی، حق تلفی، ہراا پھر ی، چوری، کجروی، حسد، بغض، عداوت، حرام خوری، نفرت، کدورت، دغابازی، وعدہ خلافی، کبر، عناد وغرمہ جیان خطرناک برائوسںکو ترک کردیں۔ کوینکہ رمضان کے روزوں اور ان عبادتوں اور کاوشوں کا مقصد و منبع ہییہی ہے کہ انسان مںل تقویٰ پداا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا خوف اور پرہزت گاری پدضا ہو۔ یاد رکھے ! اگر رمضان کی ان عبادتوں کے بعد روزے اور اعتکاف کے باوجود بھی اگر ہم ان برائوسں اور گناہوں سے دور نہ ہوسکے اور ان کو نہں۔ چھوڑا تو پھر ہمارییہ ساری عبادتں محض بے مقصد اور بے فائدہ ہونگی۔ لہٰذا ہمیںیہ احتساب کرنا چاہیئے کہ رمضان المبارک اور اس اعتکاف سے قبل ہمارے اندر کون سی برائااں تھںع اور اب ان مںب سے کون سی باقی ہں ۔ انتہائی خوش نصبا اور کامامب وہ شخص ہے جس نے اپنی اصلاح کرلی اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچالاب۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان اور اعتکاف کے مقاصد کو پوراکرنے کی توفقی عطا فرمائے۔ صدقہ فطر: رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کو اس لےی واجب فرمایا ہے تاکہ روزے کے دوران جو لغو اور بے حآئی کی باتںب سر زد ہوگئی ہں ۔ اُن کا کفارہ بنے اور مسکنو ں (محتاجوں) کے کھانے کا بندوبست ہوجائے۔ (ابوداؤد) اس حدیث مبارکہ سے صدقہ فطر کے واجب ہونے کی دو مصلحتںپ معلوم ہوتی ہںد۔ ایکیہ کہ روزہ دار سے روزے کی حالت مںل کوشش کے باوجود جو کوتاہاوں سرزد ہوئی ہںہ ان کی تلافی ہو۔ اور دوسری مصلحت یہ ہے کہ جس دن سارے مسلمان عدل کی خوشی منانے جارہے ہںہ اس دن معاشرہ کے غریب لوگوں کے کھانے پنےا کا انتظام بھی ہوجائے تاکہ وہ بھی ہماری خوشودں مںل شریک ہوسکں ۔ صدقہ فطرعدں کی نماز سے قبل ادا کرنا ضروری ہے بلکہ اگر اس کے اصل مقصد کو دیکھا جائے تو عدج سے کم از کم اتنا پہلے ادا کجئےب کہ حاجت مند اور نادار لوگ بسہولت عدد کی ضرورتوں کو پورا کرسکںر۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں مںس سے ہر غلام اور آزاد مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے پر صدقہ فطر لازم کای ہے۔ فطرہ کی اہمتﷺ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب تک صدقہ فطر ادا نہ کاط جائے روزے آسمان اور زمن۔ کے درماان معلق رہتے ہںو۔ عدو الفطر: عدوا لفطر صرف ایک جشن مسرت ہی نہں بلکہ ایک عبادت ہے۔ یہ ایک بہت بڑی عبادت ، روزہ کا اختتام ہے۔ عدوالفطر کے دن اللہ تعالیٰ کے دربار مںا ماہ رمضان دنال مںا پورے تسٓ دن تک اپنے قاہم کی رپورٹ پشا کرتا ہے۔ فطرہ ادا کرنے کے بعد عداالفطر کی سب سے پہلی مشغولتا عدہ کی نماز ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور مںا بطور شکرانہ ادا کی جاتی ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ (جن کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی سے اسلام قبول کرچکی تھی) دو (۲) تہوار منایا کرتے تھے۔ ان مںن کھلپ کود اورتماشے کا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ دو دن جو تم مناتے ہو ان کی حققتت اور حتتے کا ہے؟ (یینے تمھارے ان تہواروں کی اصلتﷺ اور تاریخ کا ہے) انہوں نے عرض کا ہم جاہلت مںط (یینے) اسلام سے پہلے یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے۔ (یین وہی رواج ابھی تک چلا آرہا ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دو تہواروں کے بدلہ مںس ان سے بہتر دو دن تمہارے لےر مقرر کےل ہںج (اب وہی تمہارے

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
572