(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
ماہِ ربیع الاوّل اور اس کے تقاضے
بسم اللہ الرحمٰن الرحما لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃُ حَسَنَۃ لَمِنْ کَانَ یَرْجُوْا اللّٰہَ واَلْیَوْمَ الاٰخِروَذَ کَرَاللّٰہَ کَثِیْراً۔ (سورۃ الاحزاب آیت۲۱) ترجمہ: یقینا تمہارے لےُ رسول اللہ مںج عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔ ہر اس شخص کے لے جو اللہ تعالیٰ کی اور قاامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کییاد کرتا ہے۔ ماہِ ربعک الاوّل اور اس کے تقاضے ربعِ الاوّل اسلامی سال کا تسرَا مہنہا ہے۔ ربعِ الاوّل نام رکھنے کی وجہ: اس مہنےک کو ربع الاوّل اس لےی کہتے ہںْ کہ مہنولں کے نام کی ترتب میںیہ مہنہ فصل ربعت (موسم بہار) کے شروع مںب واقع ہوا اس وجہ سے اس کا نام ربعی الاوّل رکھا گاا۔ (غاتث اللغات) ربعع الاوّل مںر ہونے والے تارییا واقعات ٭ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی ولادت ۹یا۱۲ ربعل الاوّل ٭ آفتاب رسالت ﷺ کا طلوع ۹ ربعل الاوّل ٭ نماز فجر وعصر کی فرضت ۹ ربع الاوّل ٭ تاسس مسجد قُبا ۸ ربعے الاوّل ٭ مدینہ مںج تشریف آوری و استقبال ۲۳ ربعل الاوّل ۱ ؁ھ ٭ حرمت شراب کا حکم ربعد الاوّل ۳ ؁ھ ٭وفاتِ رحمۃ للعالمینا ۱۲ ربعر الاوّل ۱۱ ؁ھ ٭ خلافت ابو بکرؓ ۱۲ ربعت الاوّل ۱۱ ؁ھ ٭ صلح حضرت حسنؓ و حضرت معاویہؓ ربعو الاوّل ۴۰ ؁ھ ٭ وفاتِ حضرت امام احمد بن حنبلؒ ۱۲ ربع الاوّل ۲۴۱ ؁ھ ماہ ربعم الاوّل کا اعزاز: ربعو الاوّل کا مہنہا اسلامی تاریخ بلکہ تاریخ انسانتا کا وہ عظم مہنہم ہے جس مں آنحضرت ﷺ کی ولادت ہوئی۔ یہ ایک اییت سعادت ہے جس کے برابر کوئی اور سعادت نہںا ہوسکتی۔ تاریخ ولادت با سعادت: آپ ﷺ کے سال ولادت مںا مؤرخنل کا اختلاف ہے، اکثر مؤرخنت اسی پر متفق ہں کہ عام الفلہ (وہ سال جس مںی ابرہہ، حرم مکہ پر ہاتھووں کے ذریعے حملہ آور ہوا تھا یہ۵۷۰ء کا واقعہ ہے) آپ کی سن ولادت ہے، حضرت ابن عباسؓ کا قول بھییہی ہے۔ آپ ﷺ کی تاریخ ولادت مںع چار اقوال مشہور ہںر: 10,8,2 اور 12 ربع الاوّل، اگر چہ بارہویں تاریخ زیادہ مشہور ہے لیکنیہ بھییقینی نہںہ۔ آپ ا پرا کے دن صبح صادق کے وقت مکّہ مکرمہ مںب بی بی آمنہؓ کے گھر مںت رونق افروز ہوئے۔ نبوت سے پہلے کے حالات: آپ ﷺ کو دودھ پلانے کی سعادت حلمہم سعدیہؓ کو حاصل ہوئی جب آپ ﷺ کی عمر چھ سال تک پہنچی تو بی بی آمنہؓ کا انتقال ہوگام، آٹھ سال کی عمر مںا دادا جناب عبدالمطلب انتقال فرماگئے، بارہ سال کی عمر مںں اپنے چچا ابو طالب کے ہمراہ تجارت کی غرض سے شام کا پہلا سفر کاٹ پندرہ سال کی عمر مںد اپنے بعض چچاؤں کے اصرار پر جنگ فجار مںک شریک ہوئے مگر لڑائی نہ کی اور تقریباً ایک ماہ بعد معاہدہ ’’حلف الفضول‘‘ مںں شرکت فرمائی پچسا سال کی عمر مں شام کی طرف دوسرا سفر کای واپسی پر حضرت خدیجہؓ ، جو خاندان قریش کی ایک عزّت دار خاتون تھںر، سے آپ نے نکاح کان اٹھائسں سال کی عمر مںڑ اللہ ربّ العزّت نے آپ کو ایک فرزند سے نوازا جس کا نام قاسم رکھا گا ، تسّ سال کی عمر مںر حضرت زینبؓ کی ولادت ہوئی، تستے (۳۳) سال کی عمر مںو رقہؓم اور چونتسا سال کی عمر مںی ام کلثومؓ کی پدتائش ہوئی۔ جب آپ ﷺ کی عمر پستو (۳۵) سال ہوئی تو تعمر کعبہ اور آپ ﷺ کی تحکمس کا مشہور واقعہ پشم آیا، اسی سال حضرت فاطمہؓ کی پدؓائش ہوئی۔ وحی کا آغاز: حضرت عائشہؓ فرماتی ہںا کہ آنحضرت ﷺ پر وحی کی ابتداء رؤیائے صالحۂ سے ہوئی، جو خواب دیکھتے تھے وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہو کر رہتا، پھر آپ کو خلوت و تنہائی محبوب بنادی گئی، آپ ﷺ غارِ حرا مںر خلوت فرماتے اور جب کھانے پنےک کا سامان ختم ہوجاتا تو گھر واپس تشریف لے آتے اور عبادت مں مشغول ہوجاتے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی عمر چالسک سال چھ ماہ ہوئی تو ۱۷ رمضان المبارک بروز پرپ آپ ﷺ کو منصب نبوت سے سرفراز کاس گاغ۔ بعثت کے وقت دنیا کی حالت: آپ ﷺ کی بعثت ایسے حالات مں ہوئی جب تمام عالم پر جہالت کی تارییئ چھائی ہوئی تھی۔ وحشت و درندگی کا دنار پر تسلط تھا، انسانتر، تہذیب اور اخلاق کا دائرہ صرف کتابوں تک محدود تھا، دِلوں پر اس کا کوئی اثر باقی نہ بچا تھا۔ سب سے بہتر و افضل کہلانے والی قوم بنی اسرائلا حضرت مسحو علہ السلام سے بھی پہلے سانپ اور سانپ کے بچے کہلانے کی مستحق ہوچکی تھی ظاہری شکل و صورت کے سوا ان مںو آدمتح و انسانت کا ذرا بھی نام و نشان باقی نہ رہا تھا اور ہمسایہ قوموں کے اثر سے بنی اسرائلپ مںر بھی بت پرستی کا رواج ہوگاا تھا۔ آج کا چمکتا دمکتا یورپ اس وقت جہالت و وحشت کا مرکز تھا۔ انگلستان مںب برٹن اور سیکسن وحشی قومںت آباد تھںا۔ انگلستان مںا ’’ورڈن بت‘‘ کی پر ستش ہوئی تھی۔ ایران پر مژدک کا اقتدار تھا۔ اس فلسفے نے زن، زر اور زمنا کووقفِ عام کردینے سے اخلاق اور انسانتہ کا جنازہ نکال دیا تھا۔ ہندوستان بھی گندگی کی معراج پر پہنچ گای تھا۔ مندروں مںٹ زن و مرد کی برہنہ مورتااں بنا کر ان کی پرستش کی جاتی تھی، عبادت خانوں کی درو دیوار پر اییر فحش تصاویر کندہ کی جاتی تھی جن کی طرف ایک سلمش الفطرت شخص دیکھنا بھی گوارا نہں کرسکتا تھا۔ چنا کے باشندوں نے اپنے بادشاہوں کو آسمانی فرزند کا خطاب دے کر حقی۔ر خدا سے منہ موڑلای تھا ہر کام کے بُت جدا جدا تھے۔ کوئی بارش کا تو کوئی اولاد کا، کوئی جنگ کا تو کوئی امن کا گویا ایک خدا کے علاوہ ہر چزج کی پوجا کی جاتی تھی۔ مصر مںے عسادئتت کا زور و غلبہ تھا۔ مسحک علہو السلام کی تعلمارت کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال کر حضرت مسحج کو ابنُ اللہ (اللہ کا بٹاھ) کہنے کا عقداہ عام تھا۔ حضرت مسحؑہ کی شخصت اور ابنیت کی تعریف مںا اختلافات کی وجہ سے نئے نئے اعتقادات پدنا ہوتے اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقے کی تکفرت کرتا۔ جہالت کییہ انتہا تھی کہ ہر ایک فرقہ دوسرے فرقے والوں کو قتل کرنے حتیٰ کہ آگ مںہ ڈالنے سے بھی گریز نہ کرتا تھا۔ یہ ان ملکوں کے حالات تھے جو علم و فن کے گہوارے کہلائے جاتے تھے اور ان مں ہر ایک زبردست حکومت اور شریعت کے زیر اثر تھا۔ اب آئےم عرب کا تصور کریںیہ وہ خطّہ تھا جہاں صدیوں سے نہ کسی بادشاہ کا تسلط ہوا تھا، نہ کوئی قانون سے واقف تھا، نہ ان مںئ کوئی ہادی آیا تھا۔ اس حودانی قسم کی آزادی کے ساتھ بے علمی، جہالت اور متمدن اقوام سے دوری نے ان کی اخلاقاہت کو اور بھی تباہ کردیا تھا۔ اس بدترین حالت نے عرب کو اس بات کا حق دار ٹھہرایا کہ عالم کی اصلاح کا آغاز یںال سے ہو۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ سر زمن عرب مںت مبعوث ہوئے، اہل عرب ہی آپ کے اوّلنس مخاطب تھے، اگرچہ آپ کی نبوت و رسالت تمام دنار اور قایمت تک آنے والے ہر جن وانس کے لےب ہے۔ یوم پیدائش میں عید منانے کی شرعی حیثیت: اسلام میںیوم پدسائش منانے کا کوئی تصور نہںس اگر ایسا کوئی تصور ہوتا تو سرکارِ دو عالم ﷺ کییوم پدکائش سے زیادہ کوئی اور دن اس بات کا مستحق نہںس تھا کہ اس کو باقاعدہ طور پر منایا جائے اور اس کو عدا قرار دیا جائے۔ لکنی نبوّت کے بعد آپ ﷺ۲۳ سال تک اس دناب مںا بقدِج حآت رہے ہر سال ربعت الاوّل کا مہنہو آیا، لکنا نہ صرف یہ کہ آپ ﷺ نے ربعک الاوّل کے کسی بھی دن کو یومِ پدوائش کے طور پر نہںد منایا بلکہ آپ ﷺ کے کسی صحابی کے حاشہز خا ل مں بھییہ نہںے گذرا کہ ہمںو اپنے محبوب نبیﷺ کی پدسائش کا دن منانا اور اس مںل کسی قسم کی تقریبات وغرزہ کا انعقاد کرنا چاہے۔ ۔ ۱۲ ربیع الاوّل اور صحابہ کرام: سرکار دو عالم ﷺ کی رحلت کے بعد تقریباً سوا لاکھ صحابہ کرام موجود تھے صحابہ کرام کی صفت یہ تھی کہ وہ آپ ﷺ کی ایک سانس کے بدلے مںد اپنی پوری جان نچھاور کرنے کے لے تایر رہتے تھے۔ یہ آپ ﷺ کے جان نثار، آپ پر فدا ہونے والے اور آپ کے سچیّ عاشق تھے۔ لکنح پوری تاریخِ اسلامی چھان مارنے کے بعد بھی کوئی ایک ایسا صحابی نہںٓ ملے گا جس نے اہتمام کرکے یہ دن منایا ہو، یا اس دن کوئی جلسہ منعقد کاخ ہو، کوئی جلوس نکالا ہو یا چراغاں کآ ہو، یا کسی مخصوص رنگ کی جھنڈیاں سجائی ہوں۔ اگر عقد ت و محبت ان امُور کا نام ہوتا تو یقینا صحابہ کرامؓ یہ سب کام ضرور کرتے۔ لکن انھںا معلوم تھا کہ اسلام رسموں کا یا چند رسومات کا دین نہں ہے جساس کہ دوسرے ادیان کے ماننے والوں نے اپنے مذاہب کو چند رسموں تک محدود کررکھا ہے۔ بلکہ اسلام عمل کا دین ہے جو پدںائش سے لکرس موت تک ہر وقت انسان کو اپنی اصلاح کی دعوت دیتا ہے اور اس کے لےم سرکار دو عالم ا کی زندگی ہمارے لےن مشعلِ راہ ہے۔ یوم پیدائش منانے کی تاریخی اصلیت: مقام افسوس ہے کہ ۱۲ ربعے الاوّل کی تاریخ ہمارے معاشرے ہمارے ملک اور خصوصاً برصغرم مں باقاعدہ عدح کی طرح ایک جشن اور تہوار کی شکل اختامر کرگئی ہے۔ اس مہنےع کے شروع ہوتے ہی سررت اور میلاد کے نام پر پروگراموں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اب تو کچھ عرصے سے اس کو حکومتی سر پرستی بھی حاصل ہوگئی ہے۔ اگر ظاہری نظر سے دیکھا جائے تو آپ ﷺ کا تذکرہ اتنی بڑی سعادت ہے جس سے کسی مسلمان کو انکار نہںک۔ لکنت اگر اس کی حققتت جاننے کی کوشش کی جائے تو واقعہ یہ ہے کہ یومِ پدھائش منانے کا تصور اسلام کا نہںر بلکہ عساسئتس کا ہے عسانئی 25 دسمبر کو کرسمس کے نام سے حضرت عیٰ ا علہش السلام کایوم پدرائش مناتی ہے۔ اس کی حققتہ بھی بڑی دلچسپ ہے اگر تاریخ کا مطالعہ کا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیٰعل علہک السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے تن۔ سو سال بعد تک یوم پد ائش منانے کا کوئی تصور نہںع تھا۔ آپ کے حواریین جو آپ کے صحابہ تھے، ان مںز سے کسی نے یہ دن نہں بنایا۔ تند سو سال بعد لوگوں نے اس بدعت کا آغاز کاہ اور دعویٰ کاہ کہ ہم حضرت مسح علہک السلام کا یوم پد ائش منائںں گے۔ اس وقت دین مست بع پر پوری طرح عمل کرنے والے لوگوں نے جب پوچھا کہ تم نے یومِ پد ائش مںہ عدن منانے کا سلسلہ کوکں شروع کائ ہے؟ تعلماعتِ مسح علہن السلام مںے تو اس کا کوئی ذکر نہںخ ہے۔ انھوں نے جواب مںک کہا کہ اس مں حرج کاہ ہے؟ اس دن ہم جمع ہوں گے، حضرت مسحم علہپ السلام کا تذکرہ کریں گے، ان کی تعلما ت لوگوں تک پہنچائںں گے، اس طرح لوگوں مںک آپ کی تعلماات کا پر چار ہوگا اور لوگوں کو مستسح کی طرف راغب کرنے مںں مدد ملے گی۔ اس طرح کرسمس کی ابتداء ہوگئی۔ (اصلاحی خطبات) کرسمس کی موجودہ صورتحال: ابتداء مںا تو کرسمس منانے کا طریقہ بڑا سادہ تھا پچسی دسمبر کو چرچ مںس ایک اجتماع ہوتا۔ پادری صاحب کھڑے ہو کر تعلماءت مسحک علہن السلام باتن کرتے اور آپ کی سر ت کا تذکرہ ہوتا، اس کے بعد اجتماع ختم ہو جاتا اور لوگوں کو مسحم علہی السلام کا پغامم پہنچ جاتا یوں مجلس برخاست ہوجاتی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک معصومانہ ابتداء تھی جس مںا بظاہر کسی قسم کی قباحت محسوس نہںت ہوتی لکنع وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جب پادریوں نے محسوس کان کہ ہم پادری تو تقریر کرلتےظ ہںم لکنح چونکہ یہ ایک خشک قسم کی تقریر ہوتی ہے لہٰذا رنگنل مزاج نوجوان اور شوقنی حضرات شریک نہں ہوتے اس لےی اسکو ذرا دلچسپ ہونا چاہیئے تاکہ سب لوگ اس مںت شریک ہوسکںی۔ اس کو دلچسپ بنانے کے لےچ اس مںت موسییہ شامل کرلی گئی چنانچہ موسیچس پر نظمںح پڑھی جانے لگیںپھر جب انہوں نے دیکھا کہ موسیو سے بھی کام نہںن چل رہا تو اس مں ناچ گانا شامل کرلال۔ پھر رفتہ رفتہ ہنسی مذاق اور دوسرے کھلگ تماشے داخل کردیے گئے۔ کرسمس کا انجام: آج کرسمس کے دن کا جائزہ لںب تو اس دن جو طوفان بدتمزری بپا ہوتا ہے وہ کرسمس کے اگلے دن کے اخبارات سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس ایک دن مںو اتنی شراب نوشی کی جاتی ہے جو پورے سال کی شراب نوشی سے زائد ہوتی ہے۔ اس دن اتنے حادثات ہوتے ہںس جو سال بھر کے حادثات سے زیادہ ہوتے ہں ۔ اس ایک دن مںا عورتوں کی عصمت دری کے اتنے واقعات ہوتے ہںہ کہ پورے سال اتنا ظلم نہں ہوتا یہ سب کچھ اس بدعت کے نام پر ہورہا ہے جو کرسمس کے نام سے مشہور ہے۔ عید میلاد النبیا کی ابتداء: تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلا شخص جس نے مجلس میلاد کی بدعت ایجاد کی وہ ابن المظفر ابو سعدے ہے جو فضول خرچ بادشاہ تھا۔ اس کے دِل مںے خالل آیا کہ جب عسا ئی لوگ حضرت عیسٰیؑ کا یوم پد ائش مناتے ہںی تو ہم حضرت محمد ﷺ کا یوم پدتائش کوہں نہ منائںی۔ چنانچہ اس بادشاہ نے میلاد کا سلسلہ شروع کاب شروع میںیہی ہوا کہ سرات نبویﷺ کا بامن ہوا کچھ نعتںر پڑھی گئںخ۔ لکنا آج نوبت کہاں تک پہنچی ہے؟ روضۂ اقدس اور کعبہ شریف کی شبیہیں سڑکوں پر کھڑی کی جاتی ہںم، پھر باقاعدہ اس کا طواف ہورہا ہوتا ہے، چراغاں کال جاتا ہے، جھنڈیاں سجائی جاتی ہںہ، ہر سال نت نئی چز وں کا اضافہ ہوتا ہے۔ معاذ اللہ! سررت طبہہ کے نام پر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں اور عساسئو ں کا جشن ہورہا ہے۔ جو خرابالں ہندوؤں اور عسا ئوضں کے جشن مں، ہوتی تھںہ، رفتہ رفتہ وہ خرابالں جشن عدکامیلاد النبی کے نام پر جمع ہورہی ہںن۔ اسلام رسمی مظاہر کا دین نہیں: بڑی خرابییہ ہے کہ یہ سب خرافات دین کے نام پر ہوتی ہںو اور اس کو باعث اجروثواب سمجھ کر کاہ جاتا ہے عام خا لیوو ہے کہ ۱۲ ربعی الاوّل کو چراغاں کرکے، راستوں کو سجا کر اور عمارتوں کو روشن کرکے ہم نے حضور اقدس ﷺ کے ساتھ محبت کا حق ادا کردیا۔ میلاد منانے کو دین داری سمجھا جاتا ہے حالانکہ دین داری تو کاقیہ سرے سے اسلامی طریقہ ہی نہںع ہے اور نہ حضور ﷺ کی سنت ہے نہ صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل اگر یہ سب کچھ دین داری ہوتی تو صدیقؓ، فاروقؓ، عثمان غنیؓ اور علی المرتضیؓ کا طرزِ عمل اس کے مطابق ہوتا۔ آج اگر کوئییہ دعویٰ کرے کہ مںب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ عاشق رسول ﷺ ہوں تو وہ گمراہ ہے یہ ممکن نہںج ہے کہ کوئی شخص آپ ﷺ کا عاشق صحابہ کرامؓ سے بڑھ کر ہو۔ لہٰذا جو کام صحابہ کرامؓ نے نہںو کام وہ کو نکر باعث اجر و ثواب ہوسکتا ہے؟ بعثت کا مقصدِ اصلی: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جانتے تھے کہ آپ ﷺ سے سچّی محبت یہ ہے کہ آپ کی سر ت طبہک زندگوؓں مںک رچی بسی ہو۔اسی لےد ان کا ہر دن سر ت طبہس کا دن اور ہر لمحہ سرہت طبہک کا لمحہ تھا، ان کا کوئی ایسا کام نہںث تھا جو سرکارِ دو عالم ﷺ کی سر۔ت سے خالی ہو۔ صحابہ کرامؓ بخوبی جانتے تھے کہ آپ ﷺ اس لےک دناک مںم تشریف نہںہ لائے کہ اپنا دن منوائیںیا اپنی شان مںب محض قصدبے پڑھوائںت۔ اگر یہ مقصود ہوتا تو آپ ﷺ کفار مکہ کی اس پشر کش کو قبول فرماتے جس مں کفار مکہ نے آپ کو اختاثر دیا تھا کہ اگر آپ سردار بننا چاہتے ہںٓ تو ہم آپ کو سردار بنانے پر راضی ہںا، اگر مال و دولت چاہتے ہںن تو ہم آپ کے قدموں مںں مال و دولت کے ڈھیر لگانے کے لےہ تا ر ہںن، اگر حسن و جمال کے طلبگار ہں تو عرب کا حسن و جمال آپ کی خدمت مںر پش کاس جاسکتا ہے۔ لکن شرط یہ رکھی کہ آپ اپنی تعلما تکو چھوڑدیں اور دعوت کا کام نہ کریں۔ لکنک جواب مںہ آپ ا نے فرمایا کہ اگر تم لوگ مر۔ے ایک ہاتھ مںپ سورج اور دوسرے مںں چاند لا کر رکھ دو گے پھر بھی مںو اپنی تعلما ت اور دعوت سے ہٹنے والا نہں ہوں۔ معلوم ہوا کہ بعثتِ نبوی کا مقصد یہ نہںج کہ سال مں ایک دن عدا میلاد النبی منائںد اور پھر سال بھر آپ ﷺ کی تعلما ت کو پس پشت ڈال کر جو جی مں آئے کرتے پھریں۔ بعثتِ نبوی کا مقصد خود قرآن کریم نے اس آیت مںم بارن فرمادیا ہے جو اس رسالے کے بالکل ابتداء میںذکر کاھ گاں ہے کہ: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃُ حَسَنَۃ لَمِنْ کَانَ یَرْجُوْا اللّٰہَ واَلْیَوْمَ الاٰخِروَذَ کَرَاللّٰہَ کَثِیْراً۔ (سورۃ احزاب: آیت۲۱) ترجمہ: یقینا تمہارے لےَ رسول اللہ مںۃ عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔ ہر اس شخص کے لےک جو اللہ تعالیٰ کی اور قاثمت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کییاد کرتا ہے۔ تشریح: اس آیت مںک اللہ رب العزت نے ایمان والوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کی ذات مںَ تم لوگوں کے لےر اسوۂ حسنہ ہے۔ اسوۂ حسنہ کا مطلب ہے ’’بہترین نمونہ‘‘۔ دناہ مںک جتنے بھی انبیاء علہم السلام تشریف لائے ان کا مقصد صرف یہ نہ تھا کہ اللہ کا پغاےم اس کے بندوں تک پہنچا کر رخصت ہو جائںا بلکہ بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ جس پغابم اور دعوت کو لے کر آئے ہںا اس کا قولی و فعلی مظاہرہ بھی پورے اہتمام سے کریں، چنانچہ رسول اللہﷺ کی ایک حیثیتیہ تھی کہ اللہ کا پغادم اللہ کے بندوں تک جوں کا تُوں پہنچادیں اور دوسری حیثیتیہ تھی کہ اس پغاوم کی تعلما و تشریح کے علاوہ اس کی عملی تفسرل بھی پشم فرمائںد، تعلماات نبویﷺ کی اصل حتکھ قانونِ الٰہییا کتاب ہدایت کی تشریح و تفسرت کی بھیہے۔ لہٰذا جو شخص تعلمایت اسلامی جاننے کا خواہشمند ہے تو اُسے حدیث کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ جس طرح قرآنی تعلماہت زندگی کے تمام گوشوں پر حاوی ہںم اسی طرح تعلماھت نبویﷺ بھی ہمہ گرد، جامع اور قدم قدم پر حاگتِ انسانی کے لےی راہنما ہںن۔ سورۃ احزاب کی مذکورہ آیت مں اسی حققت کو باھن کاد جارہا ہے کہ تمہارے لےپ رسول اللہ ﷺ مں عمدہ نمونہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاء کرامؑ مبعوث فرمائے وہ سب کے سب اعلیٰ ترین اخلاق و کردار کے پکری تھے مگر آنحضرت ﷺ کو یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ آپ ﷺ تمام مکارِم اخلاق کا مظہر تھے اسی لے آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ تمام دنات کے لوگوں کے لےت علم و عمل کا بہترین نمونہ ہے۔ ذیل مںے آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے چند پہلوؤں کو مختصراً پش کام جاتا ہے تاکہ اس سے رہنمائی حاصل کرکے ہم اپنے اخلاق سنوار سکںد۔ حسن خلق: رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ خلقا تھے۔ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی صلہ رحمی مں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ مشرکوں اور اہل کتاب کو معاف کردیا کرتے اور ان کی ایذار سانوقں پر صبر سے کام لتےا۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہںے مارا نہ عورت کو نہ خادم کو البتہ جہاد مںت اللہ کی راہ مںٓ مارا۔ محتاجوں کی مدد کرتے اور مہمان نواز تھے۔ سادگی: آپ ﷺ کے گھر مںا معاشرت انتہائی سادہ تھی آپ کو کھانے پنے اور پہننے اوڑھنے مںر تکلف نا پسند تھا ہمشہت سادگی آپ ﷺ کا معمول رہی۔ اپنے گھر کے کام خود کرتے، بکری کا دودھ خود دوھ لتےک تھے گھر کے کاموں مںن ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ حیاء: اہل عرب مں شرم و حانء کا رواج کم تھا۔ لکنی آپ ﷺ پد ائش سے ہی حامدار واقع ہوئے تھے ابو سعد خدریؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ پردہ نشیںکنواری لڑکو ں سے بھی زیادہ حام دار تھے اور جب آپ ﷺ کوئی اییع بات دیکھتے جو آپ ﷺ کو پسند نہ آتی تو ہم اس کا اندازہ آپ ﷺ کے چہرہ انور سے لگالآ کرتے۔ نرمی اور مہربانی: آپ ﷺ بہت نرم مزاج اور مہربان تھے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓکو بھی لوگوں کے ساتھ نرمی اور مہربانی کے ساتھ برتاؤ کرنے کی تلقن فرمائی۔ ابو موسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کے علاقوں پر حاکم بنا کر بھجا تو دونوں سے فرمایا کہ لوگوں کے لےی آسانی پد ا کرنا سختی مںپ نہ ڈالنا، لوگوں کو خوش کرنا نفرت نہ دلانا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ نرم ہںے اور نرمی کو پسند فرماتے ہںم اور نرم خوئی پر جو ثواب عطا فرماتے ہںں وہ تندخوئی اور سخت مزاجی پر نہںے فرماتے۔ مفکر اسلام علامہ سدپ سلماںن ندویؒ نے نہایت مؤثر اور بلغد انداز مںم آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو یوں باان کا ہے۔ سیرت محمدیﷺ کی جامعیت: عزم، استقلال، شجاعت، صبر شکر، توکل، رضا، برداشت، قربانی، قناعت، استغناء، ایثار، تواضع غرض تمام اخلاقی پہلوؤں کے لےا، جو مختلف انسانوں کے مختلف حالتوں میںیا ہر انسان کو مختلف صورتوں مںض پشا آتے ہںل، ہم کو عملی ہدایت اور مثال کی ضرورت ہے۔وہ ہمںج صرف آپ ﷺ کی سرٰت مں ملتی ہے اگر دولت مند ہو تو مکہ کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلدم کرو، اگر غریب ہو تو شعب ابی طالب کے قدئی اور مدینہ کے مہمان کی کتد سنو، اگر بادشاہ ہو تو سلطانِ عرب کا حال پڑھو اگر رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو، اگر فاتح ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پر نگاہ دوڑاؤ، اگر جنگ مںد شکست کا سامنا ہے تو معرکۂ احد سے عبرت حاصل کرو، اگر استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درسگاہ کے معلم مقدس کو دیکھو، اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتںف سنو، اگر یم م ہو تو عبداللہ و آمنہ کے جگر گوشہ کو نہ بھولو، اگر بچہ ہو حلمہھ سعدیہؓ کے لاڈلے کو نہ بھولو، اگر غریب ہو تو مکہ کے ایک چروا ہے کی سر ت پڑھو، اگر جج اور قاضی ہو تو مدینہ کی کچی مسجد کے صحن مں بٹھنے والے منصف کو دیکھو جس کی نظر مں شاہ و گدا، امر و غریب سب برابر تھے اگر بومیوں کے شوہر ہو تو خدیجہؓ اور عائشہؓ کے مقدس شوہر کی حاصت پاک کا مطالعہ کرو اگر اولاد والے ہو تو فاطمہؓ کے باپ اور حسن و حسنؓد کے نانا کا حال پوچھو، غرض تم جو کوئی بھی ہو اور کسی حال مںو بھی ہو تمہاری زندگی کے لےح نمونہ، تمہاری سر ت کی درستی و اصلاح کے لےی سامان، تمہارے ظلمت خانے کے لےس ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمد ﷺ کی سرہت مںا مل سکتا ہے اس لےی طبقہ انسانی کے ہر طالب اور نور ایمانی کے ہر متلاشی کے لےا صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی سردت ہدایت اور نجات کا ذریعہ ہے۔ (خطبات مدراس) سرات کا مطالعہ ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ جس طرح صحابہ کرامؓ نے سنتوں کی اتباع اور تعمل کرکے دناے مںی اپنا لوہا منوالاب، اس طرح ہم بھی اپنے اعمال کا جائزہ لںج، سنتِ رسول ﷺ کو اپنا شعار بنالںا، چودہ سو سال کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب تک مسلمانوں نے نبی کریمﷺ کی سنتوں پر عمل کاِ اس وقت تک عزت بھی پائی اور اقتدار اور شان و شوکت بھی حاصل رہا۔ لکنت جب سے ہم نے سنتوں کا مذاق اڑانا اور ترک کرنا شروع کا ہے ہم دُناک مں رسوا ہںا اور دشمن ہم پر ہنس رہا ہے۔ یہ تو اس دنات مںن ترکِ سنت کا نتجہس ہے، آخرت کا عذاب تو اور بھی سخت ہے۔ حاصل کلام: اگر ربعس الاوّل کا مہنہک ہم اس طور پر منائںر کہ اپنے اعمال کا جائزہ لںں اور خلاف سنت امور کو ترک کریں اور اس بات کا عہد کرلں کہ آئندہ زندگی تعلمامتِ نبویﷺ کے مطابق بسر کریں گے تو یہ جلوس نکالنے، ملےا سجانے، محرابںت کھڑی کرنے چراغاں کرنے اور ۱۲ ربعن الاوّل کو جشن منانے سے ہزارہا درجے بہتر ہے۔ دُعا ہے اللہ رب العزت ہمںر دین کی صحح سمجھ عطا فرمائں ۔ فقہی مسائل: ٭ محفل میلاد و مجلس میلاد شریعت کی رُو سے بدعت ہے ۔ (فتاویٰ رشدتیہ) ٭ بدعت کے ارتکاب کرنے والے شخص کے ساتھ بٹھناا اور بدعت والی مجلس مںب بٹھنا حرام ہے۔(فتاویٰ رشد یہ) ٭ آج کل رسمی مجالس میلاد مںل لوگ جمع ہو کر جاہل شعراء کے قصائد اور مصنوعی اور من گھڑت روایات کو برعایت نغمہ و ترنم پڑھتے ہں اس مںا بے نمازی و فاسق بھی ہوتے ہںع، اس مذکورہ طریقے کو ضروری سمجھتے ہںو،یہ خلاف سنت، اور بدعت ہے، صحابہ کرامؓ تابعنؒک ،تبع تابنؒا اور ائمہ کرامؒ مںر سے کسی سے ثابت نہںم ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ) ٭ مجلس میلاد مںم ذکرِ ولادت کے وقت لوگ کھڑے ہوجاتے ہں ،یہ بدعت ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ) وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العٰلمین

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
674