(+92) 319 4080233
کالم نگار

ملک اسد حیات، کویت

ملک اسد حیات، کویت

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/07
موضوعات
بیکار زندگی
زندگی جب ڈھل جاتی ہے ، عمر کٹ جاتی ہے،دفتر کاسفر ختم ہوتا ہے اور انسان صرف گھر کا ہی ہو کر رہ جاتا ہے، اس کو ریٹائرمنٹ کی زندگی کہا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ریٹائرمنٹ کی زندگی مغرب سے انتہائی مختلف ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں تو ریٹائرمنٹ کے بعد فراغت ہی فراغت ہوتی ہے، لیکن مغرب میں ریٹائرمنٹ کے بعد ایک اور زندگی شروع ہوتی ہے۔
ایک دلچسپ واقعہ:
ابو پچاس روپے ہیں؟؟ ’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ مانگ رہے ہو‘‘ بزرگ نے حیرت سے پوچھا‘ دوست نے شرما کر جواب دیا ’’ابو اب چوہدری صاحب آ گئے ہیں‘ انھیں بھی کافی پلانی پڑے گی‘ صبح کے ہزار روپے صبح کے دوستوں پر خرچ ہو گئے‘‘۔ بزرگ نے جیب میں ہاتھ ڈالا‘ گن کر سو سو روپے کے دس نوٹ نکالے اور اس کے بعد لمبی دعا دی‘ ہم باہر آ گئے‘ کافی شاپ گھر سے ذرا سے فاصلے پر تھی‘ ہم پیدل چل پڑے‘ میں نے راستے میں دوست سے پوچھا ’’کیا تم اب بھی اپنے والد سے پیسے لیتے ہو؟‘‘ میرے دوست نے ہنس کر سر ہاں میں ہلایا اور بولا ’’بالکل میں روزانہ کئی مرتبہ والد صاحب سے پیسے لیتا ہوں ‘کبھی پچاس روپے‘ کبھی سو روپے اور اگر تم جیسا کوئی معزز مہمان آ جائے تو پانچ سو اور ہزار روپے بھی لے لیتا ہوں‘‘۔ میں یہ سن کر حیران ہوا اور پھر پوچھا ’’آپ پچاس سال کی عمر میں والد سے پیسے لینے والے پہلے شخص ہو‘ اللہ نے آپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے‘ آپ کے اپنے بچے بھی بڑے ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود والد سے روزانہ پیسے مانگنا مجھے منطق سمجھ نہیں آئی‘‘میرا دوست مسکرایا‘ رکا‘ اپنا دایاں ہاتھ نیچے رکھا اور بایاں اس کے اوپر رکھ کر بولا ’’آپ بتاؤ ہمارے دو ہاتھ ہیں‘ ایک نیچے والا ہاتھ جسے ہم لینے والا ہاتھ کہتے ہیں اور دوسرا اوپر والا ہاتھ ہے جسے ہم دینے والا ہاتھ کہتے ہیں‘ ان دونوں میں سے افضل کون سا ہے؟‘‘میں نے فوراً جواب دیا ’’اوپر والا یعنی دینے والا ہاتھ‘‘ اس نے مسکرا کر دیکھا اور پھر پوچھا ’’آپ اب ذرا فرض کرو آپ پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے ہو آپ نے عمر بھر اپنی اولاد اور دائیں بائیں موجود لوگوں کو صرف دیا ہو لیکن پھر اچانک آپ نیچے والا ہاتھ بن جائیں اور آپ کو معمولی معمولی ضرورت کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے تو پھر آپ کی فیلنگ کیا ہو گی؟‘‘ میں نے ذرا سا سوچ کر کہا ’’آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں‘ انسان اپنے آپ کو کمتر اور محتاج سمجھے گا‘‘وہ مسکرایا اور پھر بولا ’’بالکل صحیح میرے والد پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے‘ ہم جوانی تک ان سے مانگتے تھے‘ جوتے لینے ہوں یا کپڑے یا پھر مہمان ہوں ہم ابو سے پیسے مانگ کر اپنا خرچ چلاتے تھے‘ ابو ہمارا واحد سورس آف انکم تھے لیکن پھر ہم معاشی طور پر آزاد اور مستحکم ہوتے چلے گئے اور والد کے سورس آف انکم آہستہ آہستہ کم ہوتے چلے گئے۔ابو نے پوری زندگی کسی سے مانگا نہیں تھا میں نے دیکھا یہ مجھ سے بھی نہیں مانگتے تھے‘ ان کی جیب مہینہ مہینہ خالی رہتی تھی‘ جوتے اور کپڑے بھی پرانے ہو جاتے تھے اور اگر ان کو دوا کی ضرورت پڑتی تھی تو بھی یہ خاموش رہتے تھے‘ میں شروع شروع میں اس رویے پر غصہ کرتا تھا۔ میرا خیال تھا والدین کا اپنی اولاد کی دولت پر حق ہوتا ہے لیکن مجھے اندازہ ہی نہیں تھا اوپر والا ہاتھ کبھی نیچے نہیں آ سکتا اور اگر اسے کبھی آنا پڑ جائے تو اس کے لیے مر مٹنے کا مقام ہوتا ہے‘ میرے والد خود کو محتاج سمجھنے لگے تھے اور آہستہ آہستہ کمرے تک محدود ہو گئے تھے۔میرا خیال تھا یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو رہا ہے‘ والد کی عمر 75 سال ہو چکی ہے‘ یہ علیل بھی رہنے لگے ہیں چناں چہ یہ ایکٹو لائف سے نکل رہے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا میرا بیٹا 17 سال کا تھا‘ اس نے اچانک مجھ سے پیسے لینا بند کر دیے۔ میں نے تحقیق کی تو پتا چلا یہ تعلیم کے ساتھ ساتھ آن لائین کام کرتا ہے اور اسے اس سے ٹھیک ٹھاک آمدنی ہو جاتی ہے چنانچہ اب اسے جیب خرچ کی ضرورت نہیں رہتی‘ یہ ماں اور اپنی بہنوں کوبھی پیسے دینے لگا۔ آپ یقین کریں مجھے برا لگا اور میں خود کو غیر ضروری اور بیکارسا محسوس کرنے لگا مجھے اس وقت سمجھ آئی اوپر والا ہاتھ جب نیچے والا بنتا ہے تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے‘ مجھے اس وقت اپنے والد کی تکلیف کا اندازہ ہوا‘ میں سیدھا ان کے پاس گیا اور بچپن کی طرح ان سے پوچھا‘ ابو کیا آپ کے پاس پچاس روپے ہیں۔ میرے والد اس وقت اداس بیٹھے تھے‘ آپ یقین کریں یہ الفاظ ان کے کانوں سے ٹکرانے کی دیر تھی‘ ان کے جسم میں توانائی آ گئی یہ سیدھے ہو کر بیٹھے‘ بے اختیار جیب میں ہاتھ ڈالا اور 50 روپے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیے‘ مجھے پچاس روپے دینے کے بعد ان کی باڈی لینگوئج ہی بدل گئی‘ یہ چہکنے لگے۔ بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں اپنے والد سے روزانہ ایک دو مرتبہ پیسے مانگتا ہوں‘ میں ان سے باہر جانے سے قبل اجازت بھی لیتا ہوں‘ یہ شروع میں انکار کرتے ہیں‘ حالات کی خرابی کا شکوہ کرتے ہیں، احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں اور اس کے بعد مجھے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں‘ اس سے میرے ان کے ساتھ تعلقات بھی اچھے ہو گئے ہیں اور یہ خوش بھی ہیں‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔میں نے اس سے پوچھا ’’لیکن تم والد کو پیسے کیسے دیتے ہو؟ ان کا سورس آف انکم تو کوئی نہیں‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’میں نے اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ ان کے نام ٹرانسفر کر دیا ہے یہ رقم سیدھی ان کے اکاؤنٹ میں آتی ہے‘ چیک بک بھی ان کے پاس ہے‘ یہ رقم نکلواتے ہیں اور اپنی جیب اور الماری میں رکھ لیتے ہیں اور وہاں سے نکال نکال کر مجھے دیتے رہتے ہیں۔ میں نے سبزی اور فروٹ کی ذمے داری بھی ان کو سونپ دی ہے‘ ملازمین ان سے پیسے لیتے ہیں اور فروٹ اور سبزی خرید کر کچن میں دیتے ہیں‘ دودھ اور گوشت بھی ابو کی ڈیوٹی ہے یہ خود دودھ خریدتے ہیں‘ دودھی کو پے منٹ بھی کرتے ہیں‘ گوشت کی دکان سے بھی انھی کا رابطہ ہے‘ جس دن قصاب کے پاس اچھا گوشت ہوتا ہے یہ ابو کو فون کر کے بتا دیتا ہے اور ابو جی خوش ہو جاتے ہیں۔ میں کپڑے بھی ان کی مرضی کے خریدتا ہوں اور اگر آپ جیسے دوست آ جائیں تو ان سے پیسے مانگ کر انھیں چائے کافی بھی پلاتا ہوں اس سے میرے والد کی صحت بھی اچھی ہو گئی اور ہمارے تعلقات بھی‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے اس سے عرض کیا ’’آپ یہ بھی دیکھیں آپ کو یہ حقیقت اس وقت پتا چلی جب آپکا اپنا بیٹا خود مختار ہوا اور آپ نے خود کو نیچے والا ہاتھ محسوس کیا‘‘ اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ میں نے عرض کیا ’’ہم سب کی یہی ٹریجڈی ہے‘ ہمیں زندگی کی حقیقتوں کا ادراک اس وقت ہوتا ہے جب وقت کا پہیہ گھوم کر ہمارے پاس آجاتا ہے
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے:
مجھے چند دن قبل کامیڈین اور اداکار افتخار ٹھاکر کا ایک کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ ٹھاکر صاحب نے اس میں بتایا‘ میرا بھائی رات کو عموماً لیٹ گھر واپس آتا تھا‘ میرے والد اس کے انتظار میں صحن میں بے چین ہو کر پھرتے رہتے تھے‘ وہ جب آتا تھا تو والد اس سے صرف اتنا پوچھتے تھے تم کہاں رہ گئے تھے اور اس کے بعد سونے کے لیے چلے جاتے تھے۔ یہ روز کا معمول تھا بھائی ایک رات زیادہ لیٹ ہو گئے‘ وہ واپس آیا اور والد کو پریشان دیکھا تو ناراض ہو کر بولا‘ ابو آپ ساری رات صحن میں کیوں پھرتے رہتے ہیں‘ میں اب بڑا ہو گیا ہوں‘ آپ مجھے بچہ سمجھنا بند کریں‘ والد نے یہ سن کر صرف اتنا کہا‘ بیٹا میں اللہ سے صرف اتنی دعا کر رہا تھا یہ تمہیں جلد سے جلد صاحب اولاد بنائے تاکہ تمہیں میری پریشانی کا اندازہ ہو سکے۔ اللہ کی کرنی کیا ہوئی؟ میرے بھائی کی شادی ہو گئی‘ اللہ تعالیٰ نے اسے اولاد کی نعمت سے نواز دیا‘ بیٹا ذرا بڑا ہوا تو اس نے بھی رات گھر سے غائب ہونا شروع کر دیا‘ ایک رات میرا بھتیجا لیٹ ہو گیا‘ میرا بھائی باہر تھڑے پر بیٹھ کر اس کا انتظار کر رہا تھا‘ والد آئے اور بھائی کو تسلی دے کر بولے‘ بیٹا تم کیوں پریشان ہو رہے ہو تمہارا بیٹا اب سیانا ہو گیا ہے‘ یہ کوئی بچہ تو نہیں‘ آ جائے گا یہ سن کر بھائی کو اپنی جوانی یاد آ گئی‘ وہ اٹھا اور والد کی ٹانگوں سے لپٹ کر رونا شروع کر دیا‘ افتخار ٹھاکر نے یہ واقعہ سنا کر کہا‘ میرے بھائی کو والد کی تکلیف کا احساس اس وقت ہوا جب یہ خود باپ بنا اور اس کے بیٹے نے بھی وہ غلطی شروع کر دی جو یہ جوانی میں کرتا تھا‘‘۔ یہ سن کر میرے دوست کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
احساس زیاں:
اس کے بعد میں نے اسے اپنا واقعہ سنایا‘ میں نے بتایا‘ آج سے 20 سال قبل میرے گھر کی پانی کی موٹر خراب ہو گئی تھی‘ گرمیوں کے دن تھے‘ خوف ناک دھوپ پڑ رہی تھی اور میں مکینک کے ساتھ کھڑا ہو کر موٹر ٹھیک کرا رہا تھا‘ میرے والد مجھے بار بار کہہ رہے تھے گرمی بہت زیادہ ہے‘ دھوپ ہے‘ سائے میں آ جاؤ‘ تمہیں سن اسٹروک ہو جائے گا لیکن میں ان کا مشورہ اگنور کر رہا تھا۔ میرا خیال تھا میں نے اگر موٹر ٹھیک نہ کرائی تو ٹینکی میں پانی ختم ہو جائے گا‘ ابا جی کہتے رہے اور میں اگنور کرتا رہا‘ یہ سلسلہ تھوڑی دیر چلتا رہا‘ والد اس دوران اندر گئے‘ میرے بیٹے کو اٹھا کر لائے اور اسے میرے ساتھ دھوپ میں کھڑا کر دیا‘ میں نے تڑپ کر احتجاج کیا‘ اباجی یہ چھوٹا بچہ ہے اور آپ نے اسے دھوپ میں کھڑا کر دیا‘ آپ کتنے ظالم ہیں۔ میرے والد اس وقت تک برآمدے میں بیٹھ چکے تھے‘ وہ ہنسے اور اونچی آواز میں کہا‘ بیٹا تم بھی میرے بیٹے ہو اگر تم اپنے بیٹے کو دھوپ میں برداشت نہیں کر سکتے تو میں اپنے بیٹے کو دھوپ میں کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ چناں چہ جب تک تم میرے بیٹے کو دھوپ میں کھڑا رکھو گے اس وقت تک تمہارا بیٹا بھی دھوپ میں رہے گا۔ مجھے شروع میں برا لگا ، لیکن پھر میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو میرے والد کی بات ٹھیک تھی‘ میں اگر اپنے بچے کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا تھا تو میرے والد میری تکلیف کیسے برداشت کر سکتے تھے؟‘‘ میں نے اس کے بعد اس سے کہا ’’ہم سب کی بدقسمتی ہے ہم حقیقتوں کو اس سے پہلے انڈر اسٹینڈ نہیں کر پاتے جب تک ہم خود اس صورت حال کا شکار نہیں ہوتے۔
زندگی جیئیں، گزاریں نہیں:
ریٹائرمنٹ زندگی کا ایک اہم مرحلہ ہے، جو کہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک نئی شروعات کی علامت ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب آپ اپنے کام سے فارغ ہو کر اپنی پسند کے کام کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو نئے انداز سے گزار سکتے ہیں۔ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے مالی منصوبہ، اپنی صحت کا خیال، بہتر مشغلے کی تلاش اور تدبر و فراست بہت ضروری ہے ورنہ زندگی بوجھ بنکر رہ جائے گی۔ریٹائر ہونے والے افراد ، چاہے وہ سکول ، کالج ، یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے ہوں ، یا کسی دوسری ملازمت سے ، وہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ وہ مصروف اور قابل عمل زندگی سے فارغ ہوگئے ہیں اور اب ان کے آرام کے دن ہیں، دوسرے لوگ بھی انہیں عضو معطل سمجھنے لگتے ہیں اور ان سے کسی طرح کی امید وابستہ نہیں رکھتے، حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک آدمی کار آمد رہتا ہے ، بلکہ جوں جوں اس کی عمر بڑھتی ہے ، مختلف پہلوؤں سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ریٹائرمنٹ کسی انسان کی عملی زندگی کا آخری موڑ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ایسا سفر جس میں آپ پوری طرح لطف اندوز ہو سکتے ہیں، جس میں آپ کام کی فکروں سے آزاد ہوکر دوسرے لوگوں کی مصروفیات اور ضروریات کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں۔آپ اس وقت کو یاد کرسکتے ہیں جب آپ زندگی کی دوڑ میں محنت اور جدوجہد کرتے تھے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ نے پہلے سے اپنے مستقبل کے لئے پیش بندی کرلی ہو کیونکہ اکثر ریٹائرمنٹ کے بعد روزانہ کے کاموں کے معمولات میں تبدیلی آجاتی ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی آمدنی بھی نہیں ہوتی۔ریٹائرمنٹ کی زندگی کا تصور کہیں سے بھی مسحور کن، دلفریب اور دلکش نہیں، ہاں مغربی ممالک نے اسے آرام دہ ضرور کردیا ہے۔ مغربی ممالک نے تو اوسط عمر بڑھنے کے نتیجے میں کام کرنے کی عمر میں بھی اضافہ کردیا ہے اور اب کچھ ممالک میں تو یہ عمر ساٹھ سے بڑھا کر پینسٹھ سال کردی گئی ہے۔ کچھ اور ممالک تو اس سے بھی آگے چلے گئے ہیں اور اپنے تجربہ کار انسانی وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور انھوں نے لوگوں کو اس وقت تک کام کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے کہ جب تک وہ خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر چست سمجھتے ہیں۔ گویا نوکری کے اختتام کی عمر کے لحاظ سے کوئی حد ہی نہیں، اگر ملازم اور اس کا آجر دونوں کام کرنے پر متفق ہیں اور کام کرنے اور کام لینے کے لیے تیار ہیں تو کسی کو بھلا اعتراض کا کیا حق حاصل ہے ؟؟
قابل اصلاح پہلو کی نشاندھی:
نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں صورتحال بہت مایوس کن ہے۔ اول تو یہاں ریٹائرمنٹ کی پیشگی منصوبہ بندی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ ہمارے یہاں بیٹے کو ہی بڑھاپے کا سہارا سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگر کسی کے یہاں ابتدا میں بیٹا نہیں ہوا تو بیٹیوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ حالانکہ موجودہ دور نے ثابت کیا ہے کہ بڑھاپے میں بیٹیاں بیٹوں سے زیادہ قابل اعتماد، قابل اعتبار اور قابل بھروسہ سہارا ہوتی ہیں، ہرچند کہ اس کے کچھ سماجی مضمرات بھی ہیں جس سے ہم سب واقف ہیں کہ بیٹیوں سے مدد لینا ہمارے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ہمارے یہاں حکومت کے علاوہ بہت کم اداروں میں پینشن کا نظام ہے اور اب تو حکومت بھی اس کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ اسکے علاوہ جن اداروں سے لوگوں کو پینشن ملتی ہے وہاں کوئی اگر ان بزرگ پنشنرز سے پوچھے کہ کیا وہ پینشن ملنے کے طریقہ کار سے مطمئن ہیں؟؟ تو وہ یقیناً یہی کہیں گے کہ ہم پینشن لینے جاتے وقت عزت نفس کو گھر ہی چھوڑ جاتے ہیں کیونکہ یہ پورا عمل بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور کرنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ جو آج اس سے گزر رہا ہے تو کل ان کی بھی باری ہے۔معاشی مشکلات تو اپنی جگہ، سماجی طور پر بھی حالات اب بزرگ شہریوں کےلیے کوئی بہت زیادہ خوش آئند نہیں۔ ہرچند کہ اب بزرگ شہریوں کے خاصے گروپ پارک اور دیگر جگہوں پر نظر آتے ہیں لیکن ہماری ہر سماجی سرگرمی کا آغاز یا اختتام کھانے پر ہوتا ہے کہ جس کےلیے پھر معاشی آسودگی ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر سہولیات صرف بزرگ شہریوں کےلیے ہیں۔ دنیا میں تو بزرگ شہریوں کےلیے ایسے گھر ہیں جہاں سہولیات اور تفریح کے مواقع ان کی عمر اور حرکات و سکنات کی صلاحیت کو سامنے رکھ کر وضع کیے گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں تو بزرگوں پر ایک ہی بات مسلط کردی جاتی ہے کہ بس اب آپ اللہ اللہ کریں۔ اوہ بھئی!! اللہ اللہ تو ہر عمر میں کرنا چاہیے اس کےلیے بوڑھا ہونا ضروری نہیں۔ اصل میں تو پس پردہ یہی ایک پیغام ہوتا ہے اور مجھے نہیں پتہ کہ آپ اتنے سخت جملے کےلیے تیار بھی ہیں یا نہیں کہ ’’بس اب آپ مرنے کی دعا اور تیاری کریں تاکہ سب چین اور سکون سے رہ سکیں‘‘۔

کالم نگار : ملک اسد حیات، کویت
| | |
655