(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
قربانی، فضیلت،اہمیت اور مسائل

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ لْکَرِیْمِ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْ

حَرْ ترجمہ: ’’پس آپ اپنے رب

کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے‘‘(سورۃ الکوثر آیۃ ۲) حضرت ابراہیم علیہ السلام قافلہ عشاق کے سرخیل اور سردار ہیں جدّالانبیاء ہونے کے ناطے قرآن کریم نے خصوصیت کے ساتھ ان کی داستان عشق و محبت، امتحان و آزمائش کے واقعات اور نمرود کی بھڑکائی ہوئی آگ میں بے خطر کو دجانے کا قصہ جس کے بارے میں روایات ہیں کہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ اگر وہ چاہیں تو آتش نمرود کو پر مارکر اس پر الٹادیں لیکن اس پیکر تسلیم ورضانے امتحان عشق سے گریز پائی کی راہ اختیار نہ کی اور انجام سے بے پرواہ ہو کر ؎ بے خطر کو داپڑا آتش نمرود میں عشق کی داستان کا جلی عنوان تاریخ کے صفحات پر چھوڑ گئے عشق کے اس امتحان میں کامیابی کا تذکرہ جو یَانَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَسَلَا مًا علیٰ اِبْرَاہِیْمَ۔ (القرآن، الانبیاء ۲۱:۲۹) ترجمہ: ’’ہم نے فرمایا اے آگ تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہوجا‘‘۔ کے الفاظ میں قرآن کریم نے بیان کی وہ آج بھی زبان زد خاص و عام ہے۔ دوسرا امتحان: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دوسرا امتحان عشق اس وقت لیا گیا جب بیٹا ابھی شیر خوار تھا۔ حکم ہوا کہ اپنی محبوب زوجہ حضرت ہاجرہ اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لق و دق صحرا اور بے آب و گیاہ ویرانے میں لے جاکر چھوڑ آؤ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آزمائش کا یہ مرحلہ بھی خندہ پیشانی اور کامیابی سے سر کرلیا اور مکہ کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں انہیں چھوڑ آئے جس کا ذکر قرآن مجید نے ان الفاظ میں کیا ہے: إنِّی أسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیِّتْیِ بِوَادً غَیْرِ ذِی ذَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ۔ (القرآن، ابراہیم ۱۴:۳۷) ترجمہ: ’’بے شک میں نے اپنی اولاد (اسماعیل) کو (مکہ کی) بے آب و گیاہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسا دیا ہے‘‘۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی کعبہ کی تعمیر عمل میں نہ آئی تھی لیکن چشم افلاک اس بات کا نظارہ کررہی تھی کہ یہ مقام جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہلیہ اور لخت جگر کو چھوڑ کر جارہے ہیں خدا کے گھر کے طور پر منتخب کرلیا گیا ہے۔ پھر مشیت خداندی کی تکمیل خانہ کعبہ کی ازسر نو تعمیر کی صورت میں جریدہ عالم پر نقش دوام کا درجہ اختیار کرگئی۔ قرآن مجید نے اس عظیم اور یادگار واقعہ کو ان لافانی الفاظ میں ہمیشہ کے لیے اسلامی تاریخ میں محفوظ کردیا ہے: وَإذْ یَرْفَعُ اِبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَمِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ۔ (القرآن، البقرۃ ۱: ۱۲۷) ترجمہ: ’’اور (یادکرو) جب ابراہیم اور اسمٰعیل خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھارہے تھے‘‘۔ کیا دیدنی منظر تھا! باپ معمار اور بیٹا مزدور کی حیثیت سے کعبہ کی بنیادیں اٹھارہے تھے۔ جب وہ گھر تعمیر ہوچکا تو بارگاہ خداوندی کی طرف سے عام اعلان کردیا گیا کہ یہ گھر جو میرے دو عاشقوں نے اپنے خون پسینے سے تعمیر کیا ہے میرا اپنا گھر ہے۔ یہ مقبول و محبوب بندے جن پر میرے عشق و محبت میں جتنے بھی امتحان آئے سب میں وہ کامیاب اور سرخرو نکلے ہیں۔ اب ان کو جزا دینے کا وقت آن پہنچا ہے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دُعا اجابت کے مقام کو پہنچی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے بنی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ظہور ہوا اور حضرت نبی اکرم ﷺ نے اپنے جدامجد کی یاد گاروں کو شریعت محمد یہ ﷺ کا جزو لاینفک بناکر حج کے ارکان و مناسک کی صورت میں ابدالاباد تک جاری وساری کردیا۔ تیسرا امتحان: حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے تیسرے امتحان کا مرحلہ اس وقت آیا جب ان کے بڑھاپے کی اکلوتی اولاد فرزند رجمند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جو ناز و نعم کی آغوش میں پلے بڑھے ان کے بارے میں حکم ہوا کہ اسے میرے نام پر قربان کردو۔ قرآن حکیم میں باپ بیٹے کے درمیان جو مکالہ مذکور ہے وہ قربانی کی تاریخ کا فقید المثال اور شاندار باب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: قَالَ یَابُنَیَّ اِنِّیْ اَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّیْ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَاتَرٰی قَالَ یٰاَبَتِ افْعَلْ مَاتُؤْ مَرُ سَتجِدُنِیْ إنْ شَآئَ اللّٰہُ مَنِ الصّٰبِرِیْنَ۔ (القرآن، الصفت ۳۷:۱۰۲) ترجمہ: ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اے میرے بیٹے، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کررہا ہوں پس تم بھی غور کرلو کہ تمہارا کیا خیال ہے (اسماعیل علیہ اسلام نے بلا تردد) عرض کیا اے باپ! پھر دیر کیا ہے جو کچھ آپ کو حکم ہوا کر ڈالئیے (جہاں تک میرا تعلق ہے) آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے‘‘۔ عشق کے امتحان میں باپ اور بیٹے نے جو دونوں ایک ہی ذات کے عاشق اور قتیل تھے، بلاتا مل اپنے آپ کو پیش کردیا۔ باپ چھری ہاتھ میں لیے حلقوم پسرکی طرف بڑھا اور بیٹا خود سپردگی کے عالم میں اللہ کی رضا پر قربان ہونے کے لئے بہ دل و جان آمادہ اور تیار ہوگیا۔ شیطان نے لاکھ بہکانے اور ورغلانے کے جتن کیے لیکن ان کے پائے استقلال میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔ باپ نے بیٹے کی گردن پر تسلیم و رضا کی چھر ی چلادی اور چشم فلک نے زیر آسمان وہ عجیب و غریب منظر دیکھا جس کی نظیر تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے راہ خدا میں قربان ہونے کا جذبہ قربانی کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے، بقول اقبال مرحوم: یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آداب فرزندی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ یادگار قربانی بارگاہ ایزدی میںیوں شرف قبولیت پاگئی کہ اس ذبح عظیم کی یاد کو رہتی دنیا تک علامتی طور پر قربانی کی صورت میں زندہ وجاوید کردیا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے راہ خدا میں جس طرح تسلیم و رضاکی گردن خم کردی اس کا ذکرِ قرآن مجید نے ان الفاظ میں کیا: فَلَمَّا اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ۔ وَنَادَیْنَاہُ أنْ یّٰاِبْراہِیْمَ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إنَّا کَذَالِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِینَ۔ (الصّٰفٰت، ۳۷: ۱۰۳۔ ۱۰۵) ترجمہ: ’’پھر جب دونوں نے (اللہ کا) حکم مان لیا اور (ابراہیم نے)ان کو ماتھے کے بل لٹایا اور ہم نے ان کو ندادی کہ اے ابراہیم (کیا خوب) تم نے اپنا خواب سچ کر دکھا یا ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں‘‘۔ اس امتحان عظیم میں کامیابی کا مژدہ جان فزا قرآن کریم نے ان الفاظ کے ساتھ اپنے محبوب بندے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو سُنایا: وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِیْ الْاٰخِرِیْنَ۔ (الصّٰفٰت، ۳۷: ۱۰۷،۱۰۸) ترجمہ: ’’اور ہم نے ایک عظیم قربانی کو ان کا فدیہ (بنا) دیا اور ہم نے ان کے آنے کے بعد آنے والوں میں ان (کے ذکر خیر) کو (یوں) باقی رکھا‘‘۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے ان خاص بندوں کی ادا اتنی پسند آئی کہ اس واقعہ کو ذبح عظیم قرار دے کر ہر سال اس کی یاد کی تجدید کا حکم امت مصطفی ﷺ کے لیے شریعت مطہرہ کا حصہّ بنادیا جس کا اتباع تا قیام قیامت سنت ابراہیمی کے طور پر واجب قرار پایا۔ قرآن مجید میں قربانی کی اہمیت: قربانی کی سنت ابراہیمی علیٰ صاحبہا السلام کی حیثیت پر قرآن و سنت کی متعدد نصوص اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان میں سے چند ایک ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں۔ ۱۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو قربانی کرنے کا حکم دیا :ارشاد فرمایا: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ (سورۃ الکوثر آیۃ ۲) ترجمہ: ’’پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے‘‘ حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’وَانْحَرْ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے پانچ اقوال ذکر کیے ہیں ان میںسے پہلا قول یہ ہے کہ: ’’قربانی کے دن جانور ذبح کرو‘‘۔ (زادالسیر) امام بغوی رحمہ اللہ آیت کریم کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: ’’نماز عیدالاضحی ادا کرو اور اونٹوں کی قربانی دو‘‘ (شرح النستہ) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں یوں رقم طراز ہیں: ’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا ہے، کہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرنے اور ان کے نام کی قربانی دینے والے مشرکوں کو بتلادیں، کہ ان کا طریقہ ان مشرکوں سے مختلف ہے، ان کی نماز اور قربانی صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کے نام کی ہے اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کے فرمان (فَصَلِّ لِرَ بِّکَ وَانْحَرْ) ہی کی مانند ہے‘‘۔ مذکورہ بالا دونوں آیات میں قربانی کا ذکر نماز کے ساتھ فرمایا ہے اور یہ انداز بلاشک و شبہ قربانی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ سنت رسول ﷺ میں قربانی کی اہمیت: رسول کریم ﷺ نے عیدالاضحی کے موقع پر نماز عید کے بعد قربانی کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا، کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’إنَّ أوَّلَ مَانَبْدَأُبِہٖ فِیْ یَوْمِنَا ہٰذَا أنْ نُصَلِّیَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرُ۔ مَنْ فَعَلَہٗ، فَقَدْ أصَابَ سُنَّتَنَا‘‘۔ (صحیح البخاری، کتاب الأضاحی) ترجمہ: بے شک اس (عیدالاضحی) کے دن ہم پہلا کام یہ کرتے ہیں، کہ نماز (عید) ادا کرتے ہیں، پھر واپس آتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں۔ جس شخص نے ایسا کیا، اس نے ہماری سنت کو پالیا‘‘۔ ۲۔ ایک اور حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے نماز عید کے بعد قربانی کرنے کو (سُنّۃ المسلمین) ’’اہل اسلام کی سنّت‘‘ سے تعبیر فرمایا۔ امام بخاریؒ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے کہا کہ : نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلٰوۃِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِہٖ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدََ الصَّلوٰۃِ فَقَدْ تَمَّ نُسُکَہٗ، وَأصَابَ سُنّۃَ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الاضاحی) ترجمہ: ’’جس نے نماز (عید) سے پہلے (جانور) ذبح کیا تو اس نے اپنے لیے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی مکمل ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کو پالیا‘‘۔ ۳۔ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی سنت ابراہیمی علیہ السلام پر مداومت اور ہمیشگی فرمائی۔ امام بخاریؒ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے۔ ’’کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہَ وَسَلَّمَ یُضَحِّیْ بِکَبْشَیْنِ، وَأَنَا اُضَحِّیْ بِکَبْشَیْنِ‘‘۔ (صحیح البخاری کتاب الاضحی) ترجمہ: نبی کریم ﷺ دو مینڈھے ذبح کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھے ذبح کرتا ہوں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ: اس روایت سے (آنحضرت ﷺ کے) ہمیشہ قربانی کرنے کا پتہ چلتا ہے‘‘۔ (فتح الباری) ۴۔ قربانی کے متعلق رسول ﷺ کا انتہائی اہتمام اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ حجۃ الوادع کے موقع پر آپ ﷺ نے حج کی قربانی سو (100) اونٹ ذبح کرنے کے علاوہ عید الاضحٰی کی قربانی بھی کی۔ اپنی طرف سے ایک بکری اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی طرف سے ایک گائے ذبح فرمائی۔ ۵۔ رسول اللہ ﷺ نے امت کو بھی تاکید فرمائی، کہ ان کا ہر گھرانہ ہر سال قربانی دے۔ حضرت مخفف بن سُلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں تھے، تو آپ نے فرمایا: ’’یٰااُیُّہَاالنَّاسُ! إنَّ علیٰ أہْلِ کلِّ بَیْتٍ فِیْ کُلِّ عَامٍ أُضْحِیَۃً‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا) ترجمہ: ’’اے لوگو! ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی ہے‘‘۔ ۶۔ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے لوگوں پر نبی رحمت ﷺ نے شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ حاکمؒ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ کَان لَہٗ سِعَۃً وَلَمْ یُضَحِّ، فلَایَقْرُبَنَّ مُصَلَّانَا‘‘ (المسند للحاکم) ترجمہ: جو آسودہ حال ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم قربانی کا بہت اہتمام کرتے تھے۔ امام بخاریؒ نے حضرت ابو امامہ بن سہیل رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ: ’’کُنَّا نُسَمِّنُ الْأُ ضْحِیَۃَ بِالْمَدِیْنَۃِ وَکَان الْمُسْلِمُوْنَ یُسَمِّنُوْنَ‘‘۔ (صحیح البخاری، کتاب الأضاحی) ترجمہ: ’’ہم مدینہ میں قربانی کے جانوروں کی پرورش کرکے فربہ کرتے تھے اور (دیگر) مسلمان بھی اس طرح انہیں پال کر موٹا کرتے تھے‘‘۔ قربانی کے مسائل دین اسلام میں قربانی کو جو اہمیت حاصل ہے اس پر ضروری بحث کرنے کے بعد اب قربانی کے متعلق مسائل کو ذکر کیا جاتا ہے ان مسائل کا علم حاصل کئے بغیر قربانی کی عبادت انجام دینے میں کمی کوتاہی کا خطرہ باقی رہتا ہے، اس لئے بندہ نے قربانی کے ضروری مسائل کو اس مختصر رسالے میں جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ قربانی کس پر واجب ہے: مسئلہ: قربانی ہر اس عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہے یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے۔ یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں وغیرہ ہوں یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہوجسکی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا مال تجارت، شیئر ز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ) مسئلہ: قربانی واجب ہونے کیلئے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گذرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے نصاب کا مالک ہوجائے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔(فتاوی ہندیۃ) مسئلہ: قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔(ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ) مسئلہ: جس کے پاس رہائش کے مکان کے علاوہ زائد مکان موجود ہے، خواہ تجارت کیلئے ہو یا نہ ہو، ضروری مکان کے علاوہ پلاٹ/مکانات ہیں، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں، تو یہ شخص قربانی کے حق میں صاحب نصاب ہے، اس پر قربانی واجب ہے۔(ہندیۃ، کتاب الاضحیۃ) مسئلہ: تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اسکے مالک پر قربانی واجب ہوگی۔(بدائع) صاحبِ نصاب آدمی قربانی کے ایام میں مرگیا: مسئلہ: کسی پر قربانی واجب تھی، مگر اس نے ابھی قربانی نہیں کی تھی کہ قربانی کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی وہ مرگیا تو اس سے قربانی ساقط ہوگئی، قربانی کے لئے وصیت کرنا اور وارثوں کے لئے اس کی طرف سے قربانی کرنا لازم نہیں ہوگا۔(ہندیۃ، کتاب الاضحیۃ) صاحب نصاب غریب ہوگیا: مسئلہ: کسی پر قربانی واجب تھی، مگر اس نے ابھی قربانی نہیں کی تھی کہ قربانی کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی وہ غریب ہوگیا، تو اس سے قربانی ساقط ہوجائے گی۔ (عالمگیری) غریب قربانی کے ایام میں امیر ہوگیا: مسئلہ: اگر کسی غریب آدمی کو ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے کہیں سے مال دستیاب ہوگیا اور وہ صاحب نصاب ہوگیا تو اس پر قربانی واجب ہوجائے گی۔ (ہندیۃ) غریب نے جانور خریدا: مسئلہ: اگر غریب آدمی نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تو اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہوگی۔ (درالمحتار) صدقۂ فطر واجب ہے تو قربانی بھی واجب ہے: مسئلہ: جس پر صدقۂ فطر واجب ہے اس پر عید کے دنوں میں قربانی کرنا بھی واجب ہے، اور اگر اتنا مال نہ ہو جتنے کے ہونے سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے، لیکن پھر بھی اگر قربانی کرے گا تو ثواب ملے گا۔ (شامي) ضرورت اصلیہ: مسئلہ: ضرورت اصلیہ سے مراد وہ ضرورت ہے جو جان یا آبرو سے متعلق ہو، یعنی اس کے پورا نہ ہونے سے جان یا عزت و آبرو جانے کا اندیشہ ہو، مثلاً کھانا پینا، پہننے کے کپڑے، رہنے کا مکان، اہل صنعت و حرفت کیلئے اس کے پیشہ کے اوز ار ضرورت اصلیہ میں داخل ہیں البتہ بڑی بڑی دیگیں، بڑے بڑے فرش، شامیانے، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن، وی سی آر وغیرہ ضرورت اصلیہ میں داخل نہیں ہیں، اگر ان چیزوں کی قیمتیں نصاب تک پہنچ جائیں گی تو ایسے آدمی پر قربانی واجب ہوگی۔ (شامي) مسئلہ: واضح رہے کہ ٹیلی ویژن اور وی سی آر آلات معصیت ہیں، رکھنا اور دیکھنا جائز نہیں ہے۔(شامي) عورت پر قربانی واجب ہے: مسئلہ: اگر عاقل بالغ مقیم عورت صاحب نصاب ہے، یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنی چیزیں ہیں کہ ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو ایسی عورت پر قربانی واجب ہے۔(ہندیۃ، کتاب الاضحیۃ) عورت کا ذبیحہ: مسئلہ: مسلمان عورتوں کا ذبح کیا ہوا جانور بلاشبہ حلال ہے، اس کا گوشت کھانا جائز ہے۔ (ہندیۃ) مسئلہ: البتہ چونکہ عورتیں اس کام کو کم جانتی ہیں، اور دل کمزور ہونے کی وجہ سے ہاتھ نہ چلنے کا احتمال ہے، اس لئے بلا ضرورت ذبح کا کام عورتوں کے سپرد کرنا مناسب نہیں۔(ہندیۃ) قربانی کے ایام میں قربانی ضروری ہے: مسئلہ: قربانی کے ایام میں قربانی کا جانور ذبح کرکے قربانی کرنا ضروری ہے، اس کے بدلہ میں رقم صدقہ کرنا، حج کرانا، کسی غریب کی امداد کردینا کافی نہیں۔(فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: ان چیزوں کے کرنے سے الگ ثوب ملے گا لیکن قربانی نہ کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا۔(فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: اور قربانی کے ایام گذر جانے کی صورت میں قربانی کے ایک حصے کی قیمت کے برابر رقم صدقہ کردینا لازم ہوگا۔(ردالمحتار) قربانی کا وقت مسئلہ: ماہِ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عید کی نماز کے بعد سے بارہویں ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے تک قربانی کی جاسکتی ہے، جس دن بھی چاہے قربانی کرے قربانی صحیح ہوجائے گی، لیکن قربانی کرنے کا سب سے بہترین دن بقرہ عید کا پہلا دن ہے، پھر دوسرا دن پھر آخری دن۔(فتح القدیر) مسئلہ: دیہات میں قربانی کا وقت : (جہاں جمعہ اور عیدین کی نماز واجب نہیںہے) صبح صادق طلوع ہونے کے بعد سے قربانی کرنا جائز ہے۔(ہندیۃ) مسئلہ: شہر اور قصبات جہاں جمعہ اور عیدین کی نماز واجب ہے وہاں عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں ہے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد قربانی کرے۔(فتح القدیر) مسئلہ: اگر کسی نے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی کی ہے تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا اس پر نماز کے بعد دوسری قربانی کرنا لازم ہوگی۔(فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: بارہویں ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے قربانی کرنا درست ہے جب سورج غروب ہوگیا تو اب قربانی درست نہیں، اب صدقہ کرنا لازم ہوگا۔(فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: دسویں سے بارہویں تاریخ تک دن اور رات میں جب بھی چاہے قربانی کرسکتا ہے البتہ دن میں زیادہ بہتر ہے رات میں منع نہیں ہے۔(شامي) مسئلہ: پورے شہر میں کسی مسجد یا عیدگاہ میں عید کی نماز ہوگئی تو اس وقت قربانی کرنا جائز ہے، خود قربانی کرنے والے کا عید کی نماز سے فارغ ہونا شرط نہیں۔(فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: اگر کسی وجہ سے عید کی نماز دسویں تاریخ کو نہیں پڑھی گئی تو اس روز زوال کے بعد جانور ذبح کرنا جائز ہوگا۔(فتاویٰ ہندیۃ) عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا: مسئلہ: شہروں میں جہاں عید کی نماز ہوتی ہے، وہاں عید کی نماز سے پہلے قربانی کے جانور کو ذبح کرنا درست نہیں، اگر کسی نے ایسا کیا تو قربانی دوبارہ کرنا لازم ہوگی، البتہ گاؤں دیہات وغیرہ جہاں پر عید کی نماز نہیں ہوتی وہاں ذبح کرسکتے ہیں۔(بدائع) قربانی کے جانور: مسئلہ: قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں: پہلی قسم: اونٹ نرو مادہ۔ دوسری قسم: بکرا، بکری، مینڈھا، بھیڑ، دنبہ نرو مادہ، تیسری قسم: گائے بھینس نرو مادہ۔ (فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: ان جانوروں کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی جائز نہیں، اور ان کے لئے بھی یہ شرط ہے کہ یہ وحشی نہ ہوں بلکہ پالتو اور آدمیوں سے مانوس ہوں۔(بدائع) مسئلہ: گھوڑے، مرغ، ہرن، نیل گائے وغیرہ کی قربانی درست نہیں کیونکہ ان جانوروں کی قربانی آنحضرت ﷺ سے قولاً و فعلاً و تقریر اًثابت نہیں۔ (فتاویٰ ہندیۃ) کاروبار مشترک ہے: مسئلہ: اگر باپ کی وفات ہوچکی ہے، اور اولاد ایک ساتھ رہ کر کاروبار کرتی ہے تو اگر ان کا مشترک مال یا جائیداد کو تقسیم کرنے کے بعد ہر اولاد صاحب نصاب ہوجاتی ہے، ہر ایک بالغ اولاد کو اپنے اپنے نام سے قربانی کرنا ضروری ہے اگر کسی ایک بھائی کی طرف سے قربانی کی باقی بھائیوں کی طرف سے نہیں کی تو بقیہ بھائیوں کے ذمہ قربانی کا وجوب باقی رہ جائے گا۔ (بدائع) مسئلہ: جو اولاد نابالغ ہے ان پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (شامي) جائیداد مشترک ہے: مسئلہ: مثلاً اگر چار بھائی مشترک ہیں اور سب نصاب کے مالک ہیں، باپ کے مرنے کے بعد ترکہ کو تقسیم کرکے الگ نہیں ہوئے، مشترک ہی کماتے اور خرچ کرتے ہیں تو ان چاروں بھائیوں پر بھی نصاب کے مالک ہونے کی وجہ سے الگ الگ ایک ایک حصہ قربانی واجب ہوگی سب کی طرف سے ایک حصہ قربانی درست نہیں ہوگی۔(درالحتار، کتاب الاضحیۃ) کتنی قربانیاں واجب ہیں: مسئلہ: صاحب نصاب آدمی پر ایک ہی قربانی واجب ہوتی ہے، خواہ کتنا ہی بڑا مالدار ہو خواہ کتنے ہی نصاب کا مالک ہو ایک آدمی پر ایک ہی حصہ قربانی کرنا لازم ہے۔ چاہے ایک بکرایا بکری یادنبہ یا دنبی یا بھیڑ سے قربانی کرے یا گائے بھینس اور اونٹ میں سے ساتواں حصہ لیکر قربانی کرے دونوں صورتیں درست ہیں۔ (درالحتار) کرایہ پردی ہوئی چیز: مسئلہ: اگر کرایہ پردی ہوئی چیز کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو اس کی وجہ سے ایک حصہ قربانی کرنا واجب ہوگا۔کیونکہ کرایہ پردی ہوئی چیز جب تک کرایہ پر ہے حاجت اصلیہ سے زائد ہے۔ (قاضی خان) گھر کے تمام افراد کی طرف سے قربانی: مسئلہ: اگر ایک گھر میں متعدد افراد ہیں اور سب صاحب نصاب ہیں، اور سب پر ایک ایک حصہ قربانی کرنا واجب ہے تو اس صورت میں گھر کے تمام افراد کی جانب سے ایک چھوٹے جانور کی قربانی کافی نہیں ہوگی، یا ایک فرد کی قربانی تمام افراد کے لئے کافی نہیں ہوگی۔(درالحتار) ملازم: مسئلہ: اگر ملازم نصاب کا مالک ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، سرکاری اور غیر سرکاری دونوں قسم کے ملازمین کا حکم ایک ہے۔ مسئلہ: اگر ملازم نصاب کا مالک نہیں جو تنخواہ ملتی ہے وہ ماہانہ خرچ ہوجاتی ہے یا ماہانہ کچھ بچت ہوجاتی ہے لیکن بچی ہوئی رقم کی مقدار نصاب کے برابر نہیں بلکہ اس سے کم ہے تو اس پر زکوٰۃ اور قربانی واجب نہیں۔(درالحتار) مہر اور قربانی: مسئلہ: اگر کوئی عورت نصاب کی مالک نہیں، لیکن اس کا مہر (مؤجل) نصاب سے زیادہ شوہر کے ذمہ ہے جو ابھی تک عورت کو نہیں ملا، عورت اس مہر کی وجہ سے صاحب نصاب نہیں ہوگی، اور اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (درالحتار) مسئلہ: اگر عورت کا حق مہر معجل ہے، اور وہ نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے، تو اس کی وجہ سے قربانی واجب ہوگی، اور اس عورت پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہوگا۔(ردالحتار) میت کی طرف سے قربانی کرنا: مسئلہ: میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے، اور میت کو ثواب ملے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک دنبہ اپنی طرف سے قربانی کرتے تھے اور ایک دنبہ نبی کریم ﷺ کی طرف سے قربانی کرتے تھے۔(ردالحتار) ٍٍٍٍاجتماعی قربانی: مسئلہ: موجودہ دور میں اجتماعی قربانی کا رواج عام ہورہا ہے، اور بہت سارے ادارے یہ خدمت انجام دے رہے ہیں یہ جائز ہے، شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ اگر کھال کی وجہ سے جان کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں اجتماعی قربانی میں حصے لینے کو ترجیح دینا بہتر ہے تاکہ قربانی بھی ہوجائے اور پریشانی بھی نہ ہو، اور کھال بھی مستحق لوگوں کو مل جائے۔ (فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: اجتماعی قربانی میں ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر حرام آمدنی والے افراد کے ساتھ شرکت نہ ہو ورنہ قربانی صحیح نہیں ہوگی۔ (ترمذی) اس لئے اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والے اداروں پر ضروری ہے کہ اس بات کا خیال رکھیں، اور اس کی آسان صورت یہ ہے کہ جہاں حصوں کی بکنگ ہوتی ہے وہاں بڑے حروف میں یہ اعلان لکھ کر آویزاں کریں ’’ حرام آمدنی والے مثلاً، سود، جواء، بینک، انشورنس، ڈاکہ اور چوری کی رقم والے اجتماعی قربانی میں شرکت نہ کریں ورنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے‘‘۔ مسئلہ: اجتماعی قربانی میں مشترکہ جانور کو ذبح کرنے سے پہلے جن سات شریکوں کی طرف سے یہ قربانی ہے اس کا تعین اور ذبح کرتے وقت ان کی طرف سے قربانی کی نیت کرنا ضروری ہے ورنہ تعین نہ ہونے کی وجہ سے قربانی صحیح نہیں ہوگی۔ (ردالحتار) اجتماعی قربانی میں رقم بچ جائے: مسئلہ: اگر اجتماعی قربانی میں قربانی کرنے کے بعد رقم بچ جائے تو بقیہ رقم واپس کرنا لازم ہوگا، رقم جمع کرنے والوں کی اجازت کے بغیر بچی ہوئی زائد رقم اجتماعی قربانی کرنے والوں کے لئے رکھنا جائز نہیں ہوگا۔ مسئلہ: ہاں اجتماعی قربانی کرنے والے اجرت کے طور پر کچھ لینا چاہیں تو ابتداہی سے متعین کرکے لے سکتے ہیں بعد میں نہیں۔ (فتاویٰ رحیمیۃ) افضل جانور: مسئلہ: اگر فقراء اور نادار، ضرورت مند لوگ زیادہ ہوں تو زیادہ گوشت والا جانور افضل ہے اور اگر ضرور تمند لوگ کم ہوں تو پھر جس جانور کی قیمت زیادہ اور گوشت عمدہ ہو وہ افضل ہے۔(ردالحتار) مسئلہ: بہت زیادہ فربہ اور موٹا تازہ جانور کی قربانی مستحب ہے، چنانچہ ایک فربہ موٹے تازے بکرے کی قربانی دو کمزور دبلے بکروں کی قربانی سے افضل ہے، بشرطیکہ گوشت خراب نہ ہو۔(فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: اگر بڑے جانور گائے وغیرہ کے ساتویں حصہ کی قیمت اور بکری کی قیمت برابر اور گوشت بھی برابر ہے تو بکری خرید نا افضل ہے۔(درالحتار) مسئلہ: بھیڑ سے بکری افضل ہے۔(فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: مادہ کی قربانی نر سے افضل ہے۔(فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: جس قربانی کی قیمت زیادہ ہو وہ بہتر ہے، اور اگر دو جانوروں کی قیمت برابر ہو لیکن ایک کا گوشت زیادہ ہے تو وہی بہتر اور افضل ہے۔(درالحتار) حصے: مسئلہ: بڑے جانور: گائے، بیل بھینس اور اونٹ، اور اونٹنی میں سات حصے ہیں لہٰذا کسی بھی بڑے جانور میں سات افراد شریک ہو کر سات حصے قربانی کرسکتے ہیں البتہ یہ شرط ہے کہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، اور سب کی نیت قربانی یا عقیقہ کرنے کی ہو، گوشت کھانے یا لوگوں کو دکھانے کی نیت نہ ہو، اور اگر کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہے تو قربانی درست نہیں ہوگی۔ اور ساتویں حصے سے کم ہونے کی صورت یہ ہے کہ ایک جانور میں سات سے زائد افراد شریک ہوجائیں مثلا ایک بڑے جانور میں آٹھ افراد شامل ہوجائیں تو ہر شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم ہوگا اور کسی بھی شریک کی قربانی صحیح نہیں ہوگی یا اگر کسی شریک نے ایک حصہ سے کم آدھا یا تہائی وغیرہ لیا ہے تو بھی قربانی درست نہیں ہوگی۔(بحر) بڑے جانور میں سات افراد شامل ہونا ضروری نہیں: مسئلہ: ایک آدمی کے لئے ایک بڑے جانور کی قربانی جائز ہے۔(بدائع) مسئلہ: بڑے جانور میں سات افراد شریک ہونا ضروری نہیں ہے۔ (بدائع) مسئلہ: بڑے جانور میں سات افراد سے کم شریک ہوں تب بھی قربانی درست ہے مثلاً کسی جانور میں چھ یا پانچ یا اس سے بھی کم شریک ہوں تو بھی درست ہے یہاں تک کہ اگر صرف تنہا ہی ایک آدمی پورے بڑے جانور کی قربانی اپنی طرف سے کرے تو بھی جائز ہے۔ جانور خرید کر قربانی نہ کرسکا: مسئلہ: کسی پر قربانی واجب تھی، لیکن قربانی کے تینوں دن گذر گئے، اور اس نے قربانی نہیں کی تو ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کردے، اور اگر قربانی کا جانور خرید لیا اور کسی وجہ سے قربانی نہ کرسکا تو زندہ جانور صدقہ کردیا جائے، اور اگر مسئلہ سے ناواقف ہونے کی وجہ سے بقر عید کے بعد اس جانور کو ذبح کر ڈالا تو غرباء پر اس کا گوشت تقسیم کردیا جائے، مالداروں کو نہ دیا جائے۔(شامي) مسئلہ: اور اگر جانور ضائع ہوگیا اور قربانی نہ کرسکا، اور خریدنے والا اگر امیر ہے تو اس کے ذمہ اس کی قیمت کا صدقہ کردینا واجب ہے۔(درالحتار) جانور کو کچھ دن پہلے سے پالنا افضل ہے: مسئلہ: قربانی کے جانور کو چند روز پہلے سے پالنا افضل ہے، تاکہ اس سے محبت ہو اور محبوب جانور کو قربان کرنے سے ثواب زیادہ ملے گا۔(بدائع) جانور گم ہوگیا: مسئلہ: اگر صاحب نصاب آدمی نے قربانی کے لئے جانور خریدا، اور جانور گم ہوگیا، اور اس نے قربانی کے لئے دوسرا جانور خریدا، قربانی کرنے سے پہلے گم شدہ جانور بھی مل گیا، اب اس کے پاس کل دو جانور ہوگئے، تو اس صورت میں دونوں جانوروں میں سے کسی ایک جانور کی قربانی کرنا واجب ہے، دونوں کی نہیں، البتہ دونوں جانوروں کی قربانی کردینا مستحب ہے۔(ردالحتار) مسئلہ: لیکن اگر کسی فقیر نے ایسا کیا تو اس پر دونوں جانوروں کی قربانی کرنا واجب ہوگا، کیونکہ فقیر پر قربانی واجب نہیں تھی، قربانی کی نیت سے جانور خریدنے کی وجہ سے قربانی واجب ہوگئی، جب دو جانور اس نیت سے خریدے تو دونوں کی قربانی لازم ہوگی۔(البحر) جانوروں کی عمریں: مسئلہ: قربانی کے لئے جانوروں کی عمریں متعین ہیں۔ بکرا: ایک سال کا ہو۔(ہندیۃ) گائے، بیل بھینس: دو سال کی۔(درالحتار) اونٹ: پانچ سال کا ہونا ضروری ہے، اگر مذکورہ جانوروں کی عمریں متعینہ عمر سے کم ہیں تو ان کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔(درالحتار) مسئلہ: اگر بھیڑ اور دنبہ چھ مہینے سے زیادہ اور ایک سال سے کم ہو مگر اتنا موٹا، تازہ فربہ ہوکہ سال بھر کا معلوم ہوتا ہو، اور سال بھر کے بھیڑ اور دنبوں میں اگر چھوڑ دیا جائے تو سال بھر سے کم کانہ معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے، اور اگر چھ مہینے سے کم کا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، خواہ وہ کتنا ہی موٹا تازہ ہو، اور یہ حکم ایک سال سے کم عمر کے صرف بھیڑ اور دنبہ کے بارے میں ہے۔ (البحر) مسئلہ: اگر بکرے کی عمر سال پورا ہونے میں ایک آدھ روز کم ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہوگی۔ (البدائع) مسئلہ: جب کسی جانور کی عمر پوری ہونے کا یقین غالب ہوجائے تو اس کی قربانی کرنا درست ہے ورنہ نہیں، اور اگر کوئی جانور دیکھنے میں پوری عمر کا معلوم ہوتا ہے، مگر یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ اس کی عمر ابھی پوری نہیں ہے تو اس کی قربانی درست نہیں ہے، (البتہ اس سے دنبہ اور بھیڑ مستثنیٰ ہے)۔(عالمگیری) مسئلہ: کوئی جانور دیکھنے میں کم عمر کا معلوم ہوتا ہے مگر یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ اس کی عمر پوری ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔(درالحتار) عیب دار جانور: مسئلہ: عیب دار جانور کی قربانی جائز نہیں۔(البدائع) مسئلہ: لیکن اگر ذبح کے وقت تڑپنے، کو دنے سے عیب دار ہوگیا تو کچھ مضائقہ نہیں۔(الھندیۃ) مسئلہ: اگر کسی مالدار صاحب نصاب آدمی نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدا، پھر وہ جانور عیب دار ہوگیا تو صاحب نصاب آدمی پر ضروری ہوگا کہ عیب دار جانور کی جگہ پر کسی بے عیب جانور کی قربانی کرے۔(شامي) مسئلہ: اگر کسی فقیر آدمی نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدا، پھر وہ جانور عیب دار ہوگیا تو فقیر آدمی وہی عیب دار جانور کی قربانی کرے یہ کافی ہے، فقیر کے لئے اس کی جگہ دوسرا جانور لیکر قربانی کرنا ضروری نہیں ہے۔(الہندیۃ) مسئلہ: اگر کسی نے قربانی کے لئے بے عیب جانور خریدا تھا مگر بعد میں کوئی ایسا عیب و نقص پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو تو اگر قربانی منت و نذر کی ہو تو اس کی جگہ بے عیب جانور کی قربانی ضروری ہے، خواہ وہ شخص امیر ہو یا غریب، اور اگر قربانی نذر و منت کی نہ ہو تو غریب کے لئے اس عیب دار جانور کی قربانی کردینا کافی ہے اور امیر پر اس کی جگہ دوسرے بے عیب جانور کی قربانی کرنا ضروری ہے۔(عالمگیری) مسئلہ: اگر ذبح کی تیاری میں کوئی عیب پیدا ہوگیا، مثلاً ٹانگ ٹوٹی، یا آنکھ خراب ہوگئی تو کوئی حرج نہیں، اس کی قربانی صحیح ہے۔(فتح) مسئلہ: بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرلئے جائیں، ایک حصہ اپنے گھر کیلئے دوسرا حصہ راشتہ داروں اور دوست احباب کے لیے، اور تیسرا حصہ فقراء اور محتاجوں کیلئے، لیکن اگر اہل وعیال زیادہ ہیں اور گوشت کی خود ضرورت ہے تو تمام گوشت اپنے گھر کیلئے رکھ سکتاہے، گناہ نہیں ہوگا۔(ہندیۃ) مسئلہ: کھال جب تک موجود ہے قربانی کرنے والے کو اس میں تین قسم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ (۱) خود استعمال کرنا (۲) کسی کو ہدیہ کے طور پر دینا (۳) فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا اگر قربانی کا چمڑا نقد رقم یا کسی چیز کے عوض میں فروخت کردیا تو اس صورت میں قیمت کی رقم صدقہ کردینا واجب ہوگا۔(فتاویٰ ہندیۃ) مسئلہ: قربانی کی کھال فروخت کرنے کے بعد اس کی قیمت اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے اگر اپنے استعمال میں لائی گئی تو اس کا بدل صدقہ کرنا واجب ہے ورنہ قربانی کا ثواب پورا نہیں ملے گا۔(فتاویٰ بزازیۃ) اللہ تعالیٰ تمام صاحب حیثیت مسلمانوں کو اخلاص نیت سے قربانی کا فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
532