(+92) 321 2533925
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
امیرالمؤمنین خلیفہ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ:سیرت،کردار،خلافت وشہادت
ولادت:
ٓآپ کی پیدائش نبی کریم ۖ کی ولادت مبارکہ کے تیرہ سال بعد مکہ مکرمہ ہوئی۔
سلسلہ نسب:
آپ کا نام عمر، والد کا نام خطاب، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب یوں ہے: عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن رباح بن عبد اللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک (مستدرک حاکم ) جناب عدی کے ایک بھائی کا نام مرہ تھا، جو حضور ا کرم ۖکے اجداد میں سے ہیں، اس لحاظ سے حضرت عمر کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں حضور ا کرم ۖسے جا ملتا ہے۔
فاروق لقب کی وجہ:
آپ کو حضور اکرم ۖکی طرف سے’’فاروق‘‘ کا لقب عطا کیا گیا ہے۔ وجہ اس کی یہ بنی کہ حضرت عمر نے مکہ میں اسلام قبول فرمایا اور اس کے بعد اپنے مشرک ماموں عاص بن وائل کی پناہ میں آنے سے انکار کردیا اور مسلمانوں کے ساتھ علانیہ بیت اللہ میں نماز ادا کی۔ اس کے صلے میں دربارِ نبوت سے فاروق کا لقب ملا۔ جس کے معنی ہیں حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔ (تاریخ اسلام، الفاروق، خلفائے راشدین)
افضلیت بعدصدیقِ اکبرؓ:
عرب میں پڑھنے لکھنے کا رواج نہیں تھا، لیکن آپ ان17افراد میں شامل تھے، جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے، لہٰذا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کوکاتبِ وحی جیسا عظیم منصب عطا فرمایا۔ حضرت عمر فاروق ابتدائی دِنوں کے کاتبینِ وحی میں سے ایک تھے اور انھوں نے ہی سیدنا ابوبکر صدیق کو بااصرار کلامِ پاک کی تدوین پر آمادہ کیا تھا۔اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا شمار عشرہ مبشرہ یعنی ان صحابہ کرام میں بھی ہوتاہے ،جن کے جنتی ہونے کی ایک ہی مجلس میں نبی اکرم ۖ نے بشارت دی،نیز معراج کے موقع پر نبی اکرم ۖ نے جنت میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا محل بھی دیکھا تھا۔امت کااس بات پر اتفاق ہے کہ اس امت میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سب سے افضل حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔
عمومی سیرت:
حضرت عمر فاروق بہترین انتظامی صلاحیتوں، اعلیٰ اوصاف، دبنگ اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ ظہورِ اسلام کے وقت، اسلام اور مسلمانوں کے سخت دشمن تھے، لیکن جب اسلام قبول کر لیا، تو پھر اپنا تن، من، دھن سب اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ سخت مزاجی کے باوجود، عاجزی، انکساری، تواضع اور عدل، مزاج کا حصہ تھے۔ خلافت کا بوجھ کندھوں پر آیا، تو گریہ اور رِقت میں اضافہ ہو گیا۔ شب کی تنہائیوں میں رب کے حضور آنسو بہانا اور گڑگڑانا ان کا معمول تھا۔
موافقاتِ عمرؓ:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے رب نے تین مواقع پر میری رائے سے اتفاق کیا۔ (1) میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ ! کاش ہم مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناتے، جس کے بعد اللہ نے سورہ بقرہ میں فرما دیا اور مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لو۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق نے ایک مرتبہ اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ کاش !ا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقام ابراہیم پر نماز پڑھنے کا حکم آجائے،حضرت عمر فاروق خودکہتے ہیں کہ جب میراگزر مقام ابراہیم پر ہوا تومیں نے حضور ا کرم ۖسے کہا کہ کیا ہم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے کھڑے ہونے کی جگہ کے پیچھے نماز پرھیں؟ ابھی اس بات پر تھوڑا سا وقت بھی نہ گزرا تھا کہ یہ آیت اتری۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس خواہش کو پورا فرمایا:وَاتَّخِذُوْامِنْ مَقَامٍ اِبْرَاہیْمَ مُصَلًّی(سور ة البقرہ، آیت 125) ترجمہ: اور بنا ؤ ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ۔ (2) میں نے عرض کیایارسول اللہﷺ! ازواجِ مطہرات کو پردے کا حکم دیجیے۔ تو اللہ نے سورۂ احزاب میں فرما دیا:یایہا النبِی۔۔۔۔ غفورا رحِیما(سورۂ احزاب،آیت:59) ترجمہ: اے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادیںکہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے او پر ڈالے رکھیں ، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (3) غزوہ ٔبدر کے قیدیوں کے بارے میں میری رائے تھی کہ انہیں قتل کر دیا جائے(فدیہ نہ لیا جائے)اللہ تعالیٰ نے سورۂ انفال میں میری رائے کی تائید کردی،جیساکہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:ما کان لِنبِی ان یکون لہ۔۔۔و اللہ عزِیز حکِیم(سورة الانفال،آیت 59) ترجمہ: کسی نبی کو لائق نہیں کہ کافروں کو زندہ قید کرے جب تک زمین میں ان کا خون خوب نہ بہائے۔ تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔(بخاری، مسلم) اس روایت میں تین کا ذکرہے،جس سے بقیہ کی نفی نہیں ہوتی ،اسی تناظر میںحکیم الامت مولانا محمداشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ تقریباً بیس بائیس مقامات ایسے ہیں، جہاں فاروق اعظم کی رائے پروردگار کی منشا کے عین موافق تھی۔
عمرؓ کی ہجرت ِمدینہ :
ایک صبح نمازِ فجر کے بعد حضورﷺ نے سیدنا عمررضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ ہجرت کا حکم دیا۔ عام خیال تھا کہ وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح رات کی تاریکی میں خفیہ طور پر مدینہ ہجرت کر جائیں گے، لیکن حضرت علی فرماتے ہیں کہ حکم ملتے ہی عمر گھر گئے، جسم پر ہتھیار سجائے، ہاتھ میں ننگی تلوار پکڑی اور تنِ تنہا خانہ کعبہ میں تشریف لائے۔ اس وقت مشرکین کے سردار اپنے قبیلے کے لوگوں کے ساتھ موجود تھے۔ حضرت عمر نے اطمینان کے ساتھ بیت اللہ کا سات بار طواف کیا۔ مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نفل ادا کیے۔ پھر ہاتھ میں تلوار پکڑ کر سردارانِ قریش کی مجلس میں تشریف لائے اور نہایت بارعب اور بلند آواز میں کہا اے دشمنانِ اسلام! تمہارے چہرے سیاہ ہو جائیں۔ اللہ تمہاری ناک خاک آلود کر دے۔ جان لو! عمر مکے سے مدینہ ہجرت کر رہا ہے۔ تم میں سے جو شخص اپنی جان کا دشمن ہو، ماں کو روتا، بیوی کو بیوہ اور بچوں کو یتیم چھوڑے، وہ حرم سے باہر مجھ سے نبردآزما ہو جائے۔ حضرت علی فرماتے ہیں:عمر کے رعب و دبدبے اور ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کسی میں اپنی جگہ سے ہلنے اور انھیں روکنے کی ہمت نہ تھی۔
غزوات میں شرکت:
سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی اور بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ دشمن بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ غزوہ ٔبدر میں اپنے سگے ماموں سمیت دیگر عزیز و اقارب کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر کے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا کہ اصل رشتہ، دین کا رشتہ ہے۔
خلافت:
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے جب محسوس کیا کہ اب آپ کا سفر آخرت قریب ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے بعد خلافت کا معاملہ اختلاف کی نذر ہوجائے اور حضور ا کرم ﷺ ۖکی امت کسی آزمائش میں مبتلا ہوجائے، لہٰذا خود ہی خلیفہ مقرر کر دیا جائے۔چونکہ حضرت ابو بکر صدیق کے نزدیک حضرت عمر کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اس منصب کے لئے بہتر نہ تھا،چنانچہ آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو،جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، بلا کر اس بارے میں، مشورہ چاہا۔ آپ نے فرمایا :جس قدراُن کے بارے میں، آپ کا حسن ظن ہے ، وہ اس سے بھی بڑھ کرہیں ،البتہ ان کے مزاج میں ذرا سختی ہے۔اس کے جواب میں حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا: یہ سختی اس لیے ہے کہ مجھ کو نرم دیکھتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جب ساری ذمے داری ان کے کندھوں پر آجائے گی تو نرم پڑجائیں گے۔پھر آپ نے حضرت عثمان غنی سے،وہ بھی عزشرہ مبشرہ میں سے ہیں، اس بارے میں مشورہ کیا تو انہوں نے فرمایا: عمرکا باطن،عمر کے ظاہر سے بھی زیادہ اچھا ہے اور اب ہم میں ان کی مثل کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ بہر حال حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی علالت کے دوران ہی حضرت عمر فاروقؓکو خلیفہ مقرر کردیا اور حضرت عثمان کے ہاتھ سے عہدنامۂ خلافت لکھوایا جو مجمع عام میں پڑھا گیا۔ (تاریخ طبری، طبقات، ازالة الخفاء)
خلافت کے بعد کے معمولات:
خلیفہ بننے کے بعد راتوں کو اٹھ کر رعایا کی خبر گیری کرتے، ان کی خدمت کرتے اور انہیں پتا بھی نہ چلتا کہ جو شخص رحمت کا فرشتہ بن کر رات کی تاریکیوں میں ان کے دکھوں کا مداوا کر رہا ہے، وہ کوئی اور نہیں، خود امیرالمومنین، عمر بن خطاب ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا یا بکری کا بچہ بھی بھوکا مر گیا، تو روزِ قیامت، عمر سے جواب طلب ہو گا۔ اپنے دورِ خلافت میں عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کیا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پانی پینے لگے۔ زبان و بیان کی آزادی اور بے خوفی کا یہ عالم تھا کہ ایک بدو بھی بھری مجلس میں اٹھ کر سوال کر دیتا کہ امیرالمومنین!آپ جو کرتا پہنے ہوئے ہیں، اس کے لیے کپڑا کہاں سے آیا، اور عظیم الشان مملکتِ اسلامیہ کا سربراہ، اس بدو کو مطمئن کرنے کا پابند تھا۔ آپ نے دنیا کو عدل سے بھر دیا۔ اس لیے پوری دنیا میںعدلِ فاروقی ہمیشہ کے لیے ضرب المثل بن گیا۔حضرت فاروقِ اعظم کے دورِ خلافت میں بائیس لاکھ، اکیاون ہزار، تیس مربع میل رقبے پر اسلامی پرچم لہرایا گیا۔ خلافتِ اسلامیہ کی حدود، جزائرِ عرب سے باہر مِصر، طرابلس سے مکران اور بلوچستان کے ساحلوں تک پھیل گئی تھیں۔ ایران اور روم کی ناقابلِ تسخیر سلطنتوں کا غرور و تکبر خاک میں مل چکا تھا۔ حضورﷺ کی پیش گوئی کے مطابق، خسرو پرویز کی سلطنت کے پرخچے اڑ گئے اور حضرت سراقہ بن مالک کو کسری کے کنگن پہنائے گئے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سیدنا عمر کے دورِ خلافت میں جتنا رقبہ فتح کیا گیا، اتنا آج تک کسی عہدِ حکومت میں فتح نہیں ہوا۔ ایک یورپی مورخ نے لکھا ہے کہ اگر عمر( رضی اللہ عنہ) کچھ عرصہ مزید زندہ رہ جاتے، تو دنیا کا دو تہائی حصہ مسلمانوں کے زیرِنگیں ہوتا۔ اولیاتِ فاروقیؓ: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات کیں اور کئی نئے ادارے بھی قائم کیے۔ مورخین ان اقدامات کو’’اولیاتِ فاروقی ‘‘کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان میں چند درج ذیل ہیں: :١۔آپ نے امیرالمومنین کا لقب اختیار کیا۔ ٢۔مجلسِ شوری کا قیام عمل میں لائے۔ ٣۔تاریخ اور سن ہجری جاری کیا۔ ۴۔سِکوں کا اجرا کیا۔ ٥۔بیت المال یعنی محکمۂ خزانہ قائم کیا۔ ٦۔باقاعدہ عدالتیں بنائیں اور قاضی مقرر کیے۔ ٧۔پولیس کا محکمہ قائم کیا، جیل خانے بنوائے۔ ۸۔فوجی چھائونیاں قائم کیں۔ ٩۔پیمائش کا طریقہ روشناس کروایا۔ ١٠۔مردم شماری کا نظام بھی آپ ہی کا وضع کردہ ہے۔ ١١۔کوفہ، بصرہ اور موصل جیسے خوب صورت شہر بسائے۔ ١٢۔بیوائوں، یتیموں، مساکین اور بچوں کے لیے وظیفے مقرر کیے۔مفلوک الحال غیرمسلموں تک کے لیے وظائف مقرر کیے۔ ١٣۔آپ نے زکوٰة کی وصولی اور تقسیم کا ایسا مربوط نظام قائم کیا کہ ان کے دور میں زکو ٰةدینے والے تو بہت تھے، لیکن لینے والا کوئی نہ تھا۔ ١٤۔ عدل و انصاف کا ایسا نظام وضع کیا جو پوری دنیا میںعدلِ فاروقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ١٥۔اشاعتِ دین اور تبلیغِ اسلام کے کام کو پوری دنیا میں پھیلایا، اس مقصد کے لیے مکاتب و مدارس قائم کیے اور اساتذہ کے لیے مشاہرے مقرر کیے گئے۔ ١٦۔آپ ہی کے دور میں ائمہ مساجد اور مؤذنین کی تنخواہیں مقرر کی گئیں۔ ١٧۔مساجد میں روشنی کا انتظام کیا اور مساجد میں وعظ کا طریقہ طے کیا۔ ١٨۔مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کی توسیع کروائی، مقامِ ابراہیم کی موجودہ جگہ پر منتقلی آپ کے حکم سے ہوئی، اس سے پہلے یہ کعبہ شریف سے متصل تھا۔ ١٩۔آب رسانی کے نظام کو بہتر کیا۔ نہریں کھدوائیں، مکہ سے مدینہ تک مسافروں کے آرام کے لیے چوکیاں، سرائے اور مسافر خانے بنوائے، راستوں کو کشادہ اور پکا کیا۔ مفتوحہ ممالک میں صوبے بنائے۔ ریاستی نظام کو مضبوط کیا۔ ٢٠۔سزا اور جزا کے نظام میں اصلاح لائے تاکہ بے قصور کو سزا نہ ہو اور مجرم چھوٹ نہ پائے۔ ٢١۔ راتوں کو گشت کر کے رعایا کا حال معلوم کرنے کا طریقہ نکالا۔ ٢٢۔رضاکاروں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ ٢٣۔آپ کسی شعبے کا سربراہ مقرر کرتے وقت اس شخص کے مال و اسباب اوراثاثوںکی فہرست مرتب کرواتے۔ ٢٤۔وبائی امراض اور قحط کے دنوں میں رعایا کے آرام کے لیے بہترین انتظامات کیے۔ ٢٥۔بیت المقدس کو بغیر کسی جنگ کے،فتح کیا ۔آج پھر بیت المقدس پر یہود ونصاریٰ اور مجوسیوں کی نظریں ہیں اور صہیونی یہودیوں نے وہاں خون کا بازار گرم کررکھاہے،مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور چالیس ہزار کے قریب مسلمان ،جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں،شہید کیے جاچکے ہیں،دوسری طرف زخمیوں کے لیے اسپتالوں میں ادویات ہیں نہ معالج اور پورا غزہ کا علاقہ بدترین انسانی المیے سے دوچار ہے،لوگوں کے پا س نہ رہنے کو مکان ہے،نہ عبادت گاہیں اور درس گاہیں سلامت ہیں،نہ ہسپتال اور دواخانے،یہاں تک کہ وہ ایک ایک روٹی کے محتاج ہوچکے ہیں،لیکن مسلم حکمران آنکھوں پرغفلت کی پٹی باندھ کر سورہے ہیں ،جب کہ عالمی ضمیر بھی مدہوش ہے اور غزہ وفلسطین کے مظلوموں کی بحالی نیز صہیونیت کی بدمعاشی کے عملی توڑ کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہاہے۔واسفا!!یہ توآپ کے اقدامات کی ایک اجمالی سی جھلک ہے، وگرنہ محض اس عنوان پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں اور لکھی گئی بھی ہیں۔
احادیثِ طیبہ اور آثارِ صحابہؓ میں امیرالمؤمنینؓ کے فضائل:
احادیثِ طیبہ اور آثارِ صحابہ میں امیرالمؤمنین خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان ہوئے ہیں،ذیل میں چند احادیث کو نقل کیا جاتاہے: ۱۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ۖنے فرمایا: بلاشبہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی ہوتے تھے جنہوں نے خدا سے صرف ہم کلامی کا شرف پایا لیکن وہ نبی نہ ہوئے(ان کو محدث کہتے ہیں) میری امت میں اگر کوئی ایسا ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔(صحیح بخاری) ٢۔رسول ا کرم ۖنے فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبوت کا مقام پا سکتا تو وہ حضرت عمر ہوتے ۔(مستدرک حاکم) ٣۔رسول ا کرم ۖنے فرمایا: اللہ تعالیٰ عمر کی زبان پر حق کو رکھ دیا ہے، وہ حق بات ہی کہتے ہیں ۔(مشکوٰة) ۴۔۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جِن و انس کے شیاطین، عمر کو دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں اور ڈر کر بھاگ جاتے ہیں۔(ترمذی) ٥۔حضرت فضل بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا؛عمر میرے ساتھ ہیں اورمیں عمرکے ساتھ ہوں اور حق عمر کے ساتھ ہوگاجہاں کہیں بھی ہو ۔(معجم طبرانی) ٦۔حضرت سعد بن ابی وقاص اُن دس صحابہ کرام میں سے ہیں، جن کا جنتی ہونا حضور ا کرمﷺ نے بتایا ہے۔ آپ، حضرت عمر کے بارے میں کہتے ہیں: خدا کی قسم! حضرت عمر اسلام لانے میں گو ہم سے پہلے نہیں اور نہ ہی ہجرت کرنے میں ہم پر مقدم ہیں، مگر میں خوب جانتا ہوں کہ کس چیز کے سبب وہ ہم سے افضل ہیں؟ وہ ہم سے آگے اس لیے بڑھ گئے کہ وہ سب سے زیادہ دنیا سے بے تعلق تھے ۔(ازالة الخفاء ) ۷۔ حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص بھی رسول اللہ ا کرم ۖکے صحابی ہیں، حضور ا کرم ۖکی احادیث لکھنے کی سب سے زیادہ سعادت آپ کو نصیب ہوئی۔ آپ حضرت عمر کے بارے میں فرماتے ہیں: حضرت عمر بہت بڑے آدمی تھے۔ میں نے حضور ا کرم ۖاور حضرت ابوبکر صدیق کے بعد حضرت عمر سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا کسی کو نہیں پایا۔ (کنزالعمال )
شہادت کا دل خراش سانحہ:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ!مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا فرما اور اپنے محبوب کے شہر( مدینے)میں موت عطا فرما۔(بخاری)۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا من وعن قبول فرمائی،چنانچہ 26ذی الحجہ، 23ہجری کی ایک صبح، جب آپ نمازِ فجر کی امامت کر رہے تھے، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پارسی غلام، ابولولوفیروزمجوسی نے زہر سے بجھے دو دھاری خنجر سے آپ پر وار کیے۔ آپ نے زخمی ہو کر نیچے گرنے سے پہلے، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کھینچ کر اپنی جگہ کیا اور گر کر بے ہوش ہو گئے۔ ابولولو ملعون نے بھاگتے ہوئے مزید12افراد کو زخمی اور6کو شہید کر دیا۔ لوگوں نے گھیر کر اسے پکڑا، تو اس نے خودکشی کر لی۔جب سيدنا عمرؓ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔ حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللّٰہ پاک اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا، کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللّٰہ کی قسم دے کر کہتا ہوں! کیا اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟ یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا! یہ میرے پاس رسول اللّٰہ ﷺ کا راز ہے جو کسی کو نہیں بتا سکتا۔ آپ نے پھر پوچھا! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیںکہ اللّٰہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں اے عمرؓ! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا وہ کیا ہے ابا جان؟حضرت عمرؓ نے فرمایا! بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔ لہزا ام المؤمنين حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں؟ کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔ تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ شاداں و فرحان واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔ عبداللہ ابنِ عمرؓ نے کہا ابا جان لیکن حضرت عمرؓ نے بات کاٹنے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللّٰہ پاک نے اسے نہ بخشا۔حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے،،،اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن یمان پر نظر رکھنا اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کرے، تو میری میت روضہ رسول ﷺ کی طرف لے جانا۔اور میرا جنازه روضة الرسول ﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوباره اجازت طلب کرنا اور کہنا،،،اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنين، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔عبداللہ ابنِ عمرؓ کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہکہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول ﷺ کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "اے ہماری ماں آپ کا بیٹا عمر دروازے پرہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟ام المؤمنین نے جواب دیا! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسول ﷺ سے باہر نکل آئیں۔اللّٰہ پاک راضی ہو حضرت عمرؓ سے زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللّٰہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللّٰہ کے سامنے حساب دہی اتنا خوف ہمارا کیا بنے گا؟
نماز جنازہ وتدفین:
وصیت کے مطابق حضرت صہیب رومی نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی خواہش کے مطابق، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے روضۂ رسولۖ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں سپردِخاک کیا گیا۔ آپ ساڑھے دس سال تک مسلمانوں کے خلیفہ رہے۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
10724     2