(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا رشیداحمدسواتی

مدرس و مبلغ

قوم اخونزادگان(ملاخیل)، آبائی پیشہ، زمینداری

وقت کی پابندی اور مثالی و معیاری تدریسی خدمات پر متعددبار شیلڈز اوردیگر انعامات سے نوازا گئے، بخاری شریف کے درس دینے میں بانی جامعہ حضرت استادمفتی محمد نعیم رحمه الله کےنائب رہے،فضلاۓ جامعہ میں سے جامعہ کے اندر دورہ حدیث شریف میں پڑھانے والا پہلے فاضل، حضرت شیخ الحدیث ناظم تعلیمات مولانا عبدالحمید صاحب دامت برکاتھم کی علالت کے دوران بخاری شریف جلداول پڑھانے میں ان کی نیابت کاشرف حاصل رہا

پروفائل | تمام کالمز
2026/04/22
موضوعات
میرےہم مکتب دوست
میرےہم فکر وہم مکتب دوست ! واپس آجائیں پلییز
آپ نے تو اپنی صلاحیتوں کے بہترین اور بروقت استعمال کیلئے عصری جامعات،کالجز اور دیگر صنعتی، فنّی اور جدید اداروں کا اس لئے رُخ کیاتھاکہ یہاں انقلاب لاناہے، نئی نسل اور وہاں کے اعلی تعلیم یافتہ افراد کی ذھن سازی اور تربیت کرنی ہے، انہیں اپناہم خیال وہم عقیدہ بناناہے، علمائے حق کے بازو اور دین اسلام کے محافظ بناناہے، عام مولوی کے کردار سے ہٹ کر ایک مثالی اور رہنمارول اداکرناہے، اپنے پستہ خیال اور قدامت پسند دوستوں کو بتاناہے کہ تم دور حاضر کے تقاضوں اور دعوتی طور طریقوں سے قطعاً ناواقف لوگ ہو آپ کہتےتھےاسلام کی خدمت صرف درس و تدریس، دعوت وتبلیغ ،منبرومحراب سے وابستگی پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ ضرورت باہر کے عوامی اور دین بیزار معاشرے میں کام کرنے کی ہے ہم نے آپ کے یہ جذبات دیکھ کر بھر پور تائید بھی کی کہ اس بات میں اختلاف کی گنجائش بھی نہیں تھی ہم تو سوچتے تھےکہ وہاں جا کر آپ ظلمت زدہ ماحول میں علم وآگہی کی شمعیں روشن کریں گے، اسلامی کلچر،دینی اقدار، پیغمبرانہ سیرت وکردار، علماء وصلحاء کاحلیہ ولباس، وضع قطع متعارف کرائیں گے اور پھر ایک دن ہم فخرسے دنیا کوبتائیں گے کہ یہ ہیں ہمارےتیارکردہ سپاہی، دین حق کے نمائندے، اسلام کے جان نثار، اپنے اکابر اور اساتذہ کے وفادار، اعلاۓ کلمة اللًّه کے علمبردار، جن کی سعی پیہم اور جہدمسلسل سے ہرجگہ ایک انقلاب برپا ہے،ان پر ہمیں فخر ہے لیکن افسوس! یہ کیا ہوا؟ تمہیں سنکر، دیکھ کر اور تمہارے خیالات پڑھ کر نہایت رنج ہوا، دُکھ ہوا،ہم توسکتے کی کیفیت میں آگئے، اب تو تمہیں اپناکہتے ہوئے شرم آتی ہے
میرے عزیز!
تم تو دوسروں کومتأثر کرنےچلے تھےاور خود متأثر ہوگئے، جنہیں مذھب کے قریب لانے گئے تھے تمہاری سیرت وکردارسےوہ مزید دین بیزار ہوگئے جب دیکھاکہ یہ داعی اسلام تو خود اپنے علم اورفیلڈسے مطمئن نہیں ہیں بلکہ پشیماں نظر آرہے ہیں پر ہم ان کے پیچھے کیوں چلیں؟ اپنے طبقے کے کچھ افراد بھی تمہاری وجہ سے تشکیک والحاد میں مبتلا ہوگئے، تم نے جانبین کا نقصان کیا،تم اتنے متاثر ہوئے کہ تمہارا لائف اسٹائل ہی مکمل چینج ہوا سر سےعمامہ اُتر گیا، ٹوپی غائب ہوگئی ، ٹخنے چھپ گئے، چہرے پرسجی سنت فیشن کی نذر ہوگئی،گفتگو کااندازبدل گیا، عربیت غائب ہوگئی، انگریزی الفاظ کافاخرانہ بلکہ مرعوبانہ استعمال ہونے لگا، غرض سب کچھ بدل گیا،اور جب کسی مخلص نےاز راہِ خیرخواہی تمہیں اپنے اقدار کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی تو تم حقارت آمیز انداز میں ایک ایک عمل کی نفی کرتے ہوئے اُلٹا اسے سمجھانے لگے کہ میرے سادہ لوح بھائی! اسلام صرف لباس میں تونہیں، وضع قطع میں تو نہیں، کلچر میں تو نہیں، رہن سہن میں تو نہیں ہے پھر آپ بتائیں کہ اسلام کس بَلاکانام ہے؟
ہاۓ افسوس!
تم سے تو سہ روزہ، چہلہ لگا وہ عام ساتبلیغی کرکٹر، ایکٹر، فنکار و اداکار، تاجر و سوداگر بلکہ ایک جاھل اور ان پڑھ مزدور اور ملازم زیادہ مضبوط اور پکانکلا کہ سنت رسول اللہ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی خاطر، دینی اوضاع واطوار کی حفاظت کی خاطر، نبوی طرزمعاشرت اور سیرت وصورت کی خاطر بڑی بڑی پیشکشیں ٹھکرادیتاہے، لاکھوں کروڑوں کے معاہدے توڑدیتاہے، پُر کشش جاب اور پُر اسائش مناصب چھوڑ دیتاہےبلکہ بسااوقات ترقی کے عرش سے ذلت کے فرش پر گرنا تو گوارا کرلیتا ہے لیکن مذھبی اقدار پر سمجھوتانہیں کرتا، افسوس تجھ سے اتنابھی نہ ہوسکا
میرے عزیز !
بہت سے ممالک جن کی زبان آج عربی ہے وہ عرب اورمسلم ملک شمارہوتے ہیں حلانکہ وہ عجمی اور غیر مسلم بلاد تھے لیکن صحابہ کرام جہاں بھی گئے اپنی زبان، کلچر، اورمذھبی اقدار سے وابستہ رہے، بڑے کروفر اور تخت وتاج والوں سے بھی کبھی متاثر نہیں ہوۓ، ایک ایک سنت کے ساتھ چمٹے رہے اور جب کسی نے مصلحت کی غرض سے وقتی طور پر کسی اداۓپیغمبری سے پیچھے ہٹنے کی رائے دی تو وہ سختی سے ردکرنے لگے کہ کیا ان جاھل اور ناواقف لوگوں کی وجہ سے ہم اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنتیں ترک کریں؟ ان کی اس قدر پختگی اور استقامت دیکھ کر آخر کار تہذیب و ثقافت کے دعوے دار ان کے سامنے سرنگوں ہوگئے، ان کی حریّتِ فکر اور اپنے وژن سے غیر متزلزل وابستگی کے عزم راسخ سے ان کے دلوں کی دنیابدل گئی، وہ اس بات کوتسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ اپنے ارادوں کے ایسے دھنی اور اولوالعزم دیوانے غلط ہوسکتے ہیں نہ انہیں شکست دی جاسکتی ہے اسی فکری پختگی اور اپنے مشن کی دیوانگی دیکھ کر غیر اپنے مذھب اور زبان کو پس پشت ڈال کر ان کے ہم مذھب اور ہم زبان بن گئے
میرے دوست!
تم تو غیروں کو اپنابنانے کی بجائے انہی کے پُرزور حامی اور وکیل بن گئے، انہیں ہماری طرف لانے کے بجائے ہمیں وہاں بُلانے لگے، ان کی اصلاح کی جگہ اپنے طبقہ کو زیادہ قابل اصلاح سمجنے لگے، اپنے آپ کو روشن خیال ثابت کرنے کیلئے ان سے بھی آگے بڑھنے لگے لیکن وہ پھر بھی تمہیں اپنا ماننے کیلئے تیارنہیں ہیں وہ اب بھی تمہیں ایک بگڑاہوا مولوی سمجھتے ہیں جو کسی وقت بھی پلٹ سکتے ہیں، خیر کوئی بات نہیں ہم آپ کے منتظر ہیں آپ ہمارے اپنے ہیں آئیں، لوٹ آئیں کہ آج بھی ہمارے بازو آپ کیلئے وا، اورہمارے دل کے دَرآپ کے استقبال کیلئے بیقرار چشم ماروشن دلِ ماشاد

کالم نگار : مولانا رشیداحمدسواتی
| | |
445     1