والدین کی وفات کے بعد ان کے حقوق
اولاد پر والدین کے حقوق اتنے زیادہ ہیں کہ یہ سلسلہ صرف والدین کی زندگی تک بھی محدود نہیں، بلکہ والدین کے حقوق اُن کے مرنے کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔اِس سلسلے میں تعلیمات احادیثِ طیبہ میں موجو دہیں:
حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ہم رسول اﷲ ﷺکی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کے ایک شخص آئے اور انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اﷲ ﷺ!کیا میرے والدین کے مجھ پر کچھ ایسے بھی حقوق ہیں جن کو میں ان کے مرنے کے بعد ادا کروں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں !ان کے لیے خیر ورحمت کی دعا کرتے رہنا ،ان کے واسطے اﷲ سے مغفرت اور بخشش مانگنا، ان کا اگر کوئی عہد و معاہدہ کسی سے ہو تو اس کو پورا کرنا ،ان کے تعلق سے جو رشتے ہوں ان کا لحاظ رکھنا اور ان کا حق اداکرنا ؛اور ان کے دوستوں کا اکرام واحترا م کرنا۔(ابوداؤد، ابن ماجہ)
اِس حدیث سے مرحوم والدین کے اولاد پر چار طرح کے حقوق معلوم ہوتے ہیں:
پہلاحق: اﷲتعالیٰ سے اپنے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کرنا۔
دوسراحق: اُن کی وصیت کا پورا کرنا اور نصیحت پر عمل کرنا۔
تیسرا حق: مرحوم والدین کے دوستوں کے ساتھ جو حیات ہیں ،حسن سلوک کرنا۔
چوتھاحق: ذو الارحام رشتے داروں سے محبت کرنا، میل جول رکھنا۔ ٖٖ
اِس حدیث میں اُس شخص کے لیے بھی امید کی کرن موجود ہے جو اپنے والدین کی نافرمانی کرتا رہے پھر بعد میں، جب اس کے والدین دنیا سے جاچکے ہوںاُس کو احساس ہو ،اور وہ اپنے اِس جرم عظیم کی تلافی کرنا چاہے؛تووہ مذکورہ بالا چار طریقوں سے اِس کی تلافی کرنے کی کوشش میں لگا رہے۔اﷲتعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے کہ وہ فرماں برداروں میں لکھ دے۔چنانچہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:ایک شخص کے والدین یا اُن میں سے کوئی ایک انتقال کرجاتا ہے اوروہ ان کی نافرمانی میں زندگی گزارتا رہا تو اُس نافرمانی کی تلافی کی شکل یہ ہے کہ وہ اُن کے لیے برابر دعا اور استغفار کرتا رہے، یہاں تک کہ اﷲتعالیٰ اس کو فرماں برداروں میں لکھ دیں۔الغرض!اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے کہ والدین کے مرنے کے بعد اولاد کو اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ ہم نے کتنی بڑی نعمت کھو دی اور ہم نے اُس کاحق ادا نہ کیا۔ اس کے لیے بھی اﷲتعالیٰ نے ایک راستہ رکھا ہے کہ اُن کے لیے ایصال ثواب کی کثرت کرتارہے اورجتنا ہوسکے ان کو صدقہ دے کر ،نوافل پڑھ کر،قرآن کریم کی تلاوت کرکے ثواب پہنچائے۔ والدین کے اعزاوا قربا،دوست احباب کے ساتھ ویسا ہی حسنِ سلوک کرے جیسا ماں باپ کے ساتھ کرنا چاہیے۔
ایک اور حدیث میں اس عمل کی تحسین کی گئی ہے،چنانچہ حضرت عبداﷲ ابن عمرؓ کہتے ہیںکہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا: سب سے اعلیٰ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے مرنے کے بعد یا اُس کی غیر موجودگی میں اس کے دوستوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ (مشکوٰۃ شریف)
ایک عجیب واقعہ
عبداﷲ بن عمررضی اﷲ عنہما کاایک واقعہ ہے، حضرت عبداﷲ بن دینار نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبداﷲ بن عمرؓ مکہ کے راستے سے گزرے ، راستے میں اُن کوایک دیہاتی بوڑھا آدمی ملا، تو اُنہوں نے اُترکر فورا ًاُس کو سلام کیا، اورسلام کرنے کے بعد اپنی سواری اوراپنے سرکا عمامہ بھی انہیں پیش کردیا۔اُن کے ساتھ جو لوگ تھے، انہوں نے کہا :حضرت !یہ تو دیہاتی اورغریب آدمی تھا،تھوڑا سادیتے توبھی خوش ہوجاتا ، آپ نے اتنازیادہ اکرام کیوں کیا؟حضرت عبداﷲ بن عمرؓ نے فرمایا: اس آدمی کا باپ میرے والد ؓ کا دوست تھا،اور میں نے اﷲ کے رسول ﷺسے خود سناہے کہ نیکیوں میں سب سے بڑھ کر نیکی یہ ہے کہ لڑکااپنے باپ کے تعلق والوں سے محبت سے پیش آئے ، اُن کے ساتھ محبت کامعاملہ کرے ، لہٰذا میں بھی اپنے باپ کے دوست کے بیٹے سے وہی تعلق کررہاہوں ،جو اﷲ کو اوراﷲ کے رسول ﷺکو پسند ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے: جو لڑکا اپنے والد کے مرنے کے بعد ہرجمعہ کو قبرستان جائے، اﷲ کی طرف سے اس کے لیے مغفرت کا اعلان ہے۔
#Mothersday2024