(+92) 319 4080233
مکتبه شامله
مکتبہ شاملہ،خصوصیات،نقائص واستعمال
مکتبہ شاملہ علوم اسلامیہ میں امہاتُ الکتب پر مشتمل جامع سافٹ وئیر ہے، جس میں کم از کم عربی زبان میں 6000سے زائدکتب اور اس کے علاوہ جدید تحقیقات ومقالات بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ پروگرام عرب دنیا میں تخلیق کیا گیا ، اسی وجہ اس میں عرب اسکالرز کے خطبات، دروس ، نوٹس اور مجلات وغیرہ بھی موجود ہیں۔ لیکن علوم اسلامیہ کی امہات الکتب کا تمام تر ذخیرہ اس میں سمو دیا گیا ہے اور مزید کتب بھی آئے دن ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوتی رہتی ہیں،اس لیے اپنے پاس اس سافٹ ویئرکوانسٹال کرنے کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ سے بھی استفادہ کرنا چاہیے۔ مکتبہ شاملہ سے باحثین کی بڑی تعداد استفادہ کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مکتبہ شاملہ عجوبۂ روزگار ہے اور حصولِ علم کے بارے میں مسلمانوں کے نظریے کی زندہ مثال ہے۔ شاملہ کی یہ اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ ہزاروں کتب پر مشتمل کئی کتب خانوں(Libraries)کا متبادل ہے۔ کتب خانوں میں جاکرکتب سے استفادے کے لیے بہت ہی تگ ودو کرنی پڑتی ہے، وسائل کے ساتھ ساتھ محنت اور وقت بھی درکار ہوتا ہے، جب کہ تحقیق لیے مختص کردہ وقت کم ہوتا ہے۔ شاملہ نہ صرف وسائل کی کمی کو پورا کرتا ہے، بلکہ کم وقت میں زیادہ تلاش اور زیادہ کتب میں تلاش کی سہولت دیتا ہے۔ اس طرح وسائل کی کمی کا احساس نہیں ہوتا ، کم وقت درکار ہوتا ہے، نتائج مکمل طور پر سامنے آجاتے ہیں، زیادہ کتب میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ان وجوہات کی بناپر باحثین،مکتبہ شاملہ کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ شاملہ پر مکمل اعتماد کرنے کی وجہ سے اس کے استعمال کا ایک عمومی رجحان بن چکا ہے، جو غلط بھی نہیں ہے لیکن اس سے استفادے کے وقت بہت سے امور کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ شاملہ کا غلغلہ ہر طرف بلند ہے لیکن اکثر امور سے باحثین واقف نہیں ہوتے۔ ان سطور کا مقصد مشینی استعمال سے عملِ تحقیق میں رہ جانے والے سقم کی نشان دہی کرنا ہے تاکہ لاعلمی کے باعث باحثین کسی غلطی کا شکار نہ ہونے پائیں۔ مکتبہ شاملہ میں موجود کتب کسی بھی موضوع پر مکمل ذخیرہ نہیں ہیں کہ ان پر اعتماد کرکے شاملہ کے علاوہ دیگر کتب کی طرف رجوع ہی نہ کیا جائے۔باحثین کوصرف شاملہ پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ متعلقہ موضوع پر دسترس رکھنے والی شخصیات کو تلاش کرکے ان کی تحریرات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی رکاوٹ نہ ہو تو موضوع کے انتخاب کے بعد بھی مواد اور مصادر کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔ فقہی اور فکری مباحث پر اکثر عربوں نے کام کیا ہوتا ہے اس لیے عربی مقالہ جات اور ان کی ویب سائٹس پر موضوعات کو تلاش کرنا چاہیے۔ مصادر ومآخذ کو شاملہ اور وقفیہ کی اصل ویب سائٹ پر بھی تلاش کرنا چاہیے، کیوں کہ ان ویب سائٹس پر ان کتب کے نئے نسخے بھی موجود ہوتے ہیں اور نئی کتب بھی اپ لوڈ کی جاتی ہیں، جو پہلے سے شاملہ میں موجود نہیں ہوتیں۔ مکتبہ شاملہ میں ’’بطاقۃ الکتاب‘‘ یعنی کتاب کے تعارفی کارڈ پر اکثر ”موافق للمطبوع“ لکھا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاملہ میں موجود نسخہ اصل مطبوعہ نسخے کے مطابق ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ نسخہ ”عین مطابق“ ہے بلکہ اس کا مطلب جلد اور صفحات کےنمبرز میں موافقت ہے۔ اس لیے کتاب کا صفحہ نمبر اور جلد نمبر تواس پر بھروسا کرتے ہوئے لکھے جاسکتے ہیں، لیکن وہاں سے نقل کردہ متن کو کسی اصل نسخہ سے یا مطبوعہ نسخے کی تصویری پی ڈی ایف سے ملا کر ضرور دیکھنا چاہیے، اس لیے کہ اگر شاملہ میں موجود نسخہ کسی بڑے ادارے کا کمپوز کردہ نہیں ہے یا اس کی کمپوزنگ پر نظرثانی نہیں ہوسکی ہےیا کسی نے رضاکارانہ طور کمپوز کرکے دے دیا ہے تو متن میں غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے اور یہ کوتاہی بعض اوقات شدید غلطی بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ شاملہ میں موجود قرآن کریم کی آیات عربی کے جدید طرز املا کے مطابق لکھی گئی ہیں،جبکہ برصغیر پاک وہند میں تاحال قدیم طرز کتابت رائج ہے جسے ’’انڈوپاک اسکرپٹ‘‘ کہا جاتا ہے،اس لیے رسم الخط کو بھی دوبارہ چیک کرلیں،کہیں کوئی لفظ رہ نہ جائے یا اس کی شکل بدلی ہوئی نہ ہو،کیونکہ جدید اور قدم طرزِ تحریرمیں کافی فرق ہے۔ جب کسی لفظ کو لکھ کرسرچ کیا جاتا ہے تو شاملہ ذخیرۂ کتب میں موجود متن، حاشیے اور تعلیقات سب کو کھنگال کر اس لفظ کی گنتی بتاتا ہے کہ یہ لفظ اتنی مرتبہ ہے،اب اس پربھروسا کرکے تحقیق کار لکھ دیتا ہے کہ فلاں کتاب میں اس لفظ کا اتنی جگہ پر ذکر ہے، حالاںکہ وہ ذکر کتاب میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے حاشیے میں ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات مطلوبہ چیز دیکھ کر فوراً نقل کردی جاتی ہے اور کتاب کا صفحہ نمبر لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں صفحے پر یہ بات موجود ہے،جب کہ وہ بات اس صفحے پر حاشیے میں درج ہوتی ہے۔ نہ تو وہ اس کتاب کے متن کا حصہ ہوتی ہے اور نہ ہی اس مصنف کی طرف اس کی نسبت درست ہوتی ہے۔ اس معاملے میں احتیاط کی ضرورتـ ہے۔ بعض اوقات شاملہ سےکسی کتاب کی کوئی عبارت نقل کرکے مصنف کی طرف منسوب کردی جاتی ہے حالاں کہ اس مصنف نے اسے دوسرے مصنف سے نقل کیا ہوتا ہے۔ تحقیق کا اصول یہ ہے کہ ایسے کلام/متن کو نقل کرتے ہوئے اصل کتاب کی طرف مراجعت کرنی چاہیے اور اس متن کو اصل ماخذ سے تلاش کرکے باحوالہ نقل کرنا چاہیے۔ بعض اوقات شاملہ کے ’’بطاقۃ الکتاب‘‘ میں کتاب کا نام لکھتے ہوئے بھی غلطی ہوجاتی ہے،مثلاً:کوئی لفظ چھوٹ جاتا ہے یا زیادہ لکھا جاتا ہے،بعض اوقات نقطوں کی تبدیلی بھی نظر آجاتی ہے۔ اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے اور ناموں کی اصل مآخذ سے تصدیق و تصویب کرلینی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایویلیوایشن/جانچ یا زبانی امتحان کے موقع پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ مکتبہ شاملہ کی کوڈنگ جس زمانے میں کی گئی تھی اس زمانے میں عربی اور اردو میں فاصلے بہت زیادہ تھے، یہ فاصلے اب بھی ہیں مگر کم ہیں۔ نئے لوگ اردو کی بورڈ (Keyboard)کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ کچھ مخصوص حروف مثلاً ‘ہ،ۃ،ی،ک،خ اور اس کے علاوہ بھی متعدد حروف اگر اردو کی بورڈ (Keyboard)کے ذریعے لکھے جائیں تو شاملہ کی کوڈنگ ان کی شناخت نہیں کرپاتی، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کون سے حروف ہیں؟ لہٰذا وہ لکھے گئے لفظ کو تلاش کرنے سے انکار کردیتا ہے۔اس لیے تحقیق کاروں کو شاملہ پر کام کرنے کے لیے عربی کی بورڈ (Keyboard)کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے، جو اردو کی بورڈ (Keyboard)سے کافی مختلف ہوتا ہے۔ یہ اگرچہ ذرا محنت طلب کام ہے لیکن ناگزیر ہے، اس کے بغیر مکتبہ شاملہ سے مکمل طور پر استفادہ نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ انٹر نیٹ پر اردو کی بورڈ (Keyboard)کے ذریعے لکھے گئے الفاظ کے ذریعے نتائج بھی اردو ہی کے ظاہر ہوتے ہیں، جب کہ عربی ذخائر تک رسائی نہیں ہوپاتی، عربی ذخائر سے استفادے کے لیے عربی کی بورڈ (Keyboard)کو ذہن نشین کرلیں۔ کچھ احباب عربی کے فونیٹک کی بورڈ (Phonetic (Keyboard)کا بھی پوچھتے ہیں کہ عربی الفاظ کا کوئی ایسا کی بورڈ(Keyboard) انسٹال کرلیا جائے جو اردو کی بورڈ سے ملتا جلتا ہو تو آسانی ہوسکتی ہے۔ ان کے لیے عرض ہے کہ عربی کا فونیٹکـ کی بورڈ(Phonetic (Keyboard)حقیقت میں موجود ہے اور وہ ہمارے ڈاؤن لوڈنگ سرور پر دستیاب بھی ہوگا ،لیکن عربی فونیٹک کی بورڈ(Phonetic (Keyboard) استعمال کرنے میں بھی کچھ دشواری ہے۔ وہ یہ کہ شاملہ کے ساتھ جو کی بورڈ (Phonetic (Keyboard)شامل کیا گیا ہے وہ بھی شاملہ کی طرح لاجواب ہے۔ جب بھی شاملہ کواس سٹارٹ کیا جاتا ہے وہ بھی خود بخود ایکٹِیوہوجاتا ہے اور پھر آسانی سے بند نہیں ہوتا۔ ابھی تک ونڈوز میں جو بھی کی بورڈ انسٹال کیا جاتا ہے، وہی ڈیفالٹ طریقے سے کھلتا ہےاور بعد میں انسٹال کیا گیا کی بورڈ چند ہی دنوں بعد ناکارہ ہوجاتا ہے۔اس بناپر اس کے استعمال کا مشورہ نہیں دیاجارہا۔ شاملہ صرف عربی کتب کو سپورٹ کرتا ہے، اس کے علاوہ انگریزی کتب بھی شامل کی جاسکتی ہیں، لیکن اردو کتب اس میں درآمد کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کوڈنگ کے قدیم ترین سسٹم کا استعمال ہے۔لہٰذاجو احباب اردو کی کتب کو شاملہ کے طرز پر مرتب کرنا چاہتے ہوں ،وہ اردو کے بہترین سافٹ وئیرز استعمال کرسکتے ہیں۔ عربوں کے بعد اردو سے محبت کرنے والوں نے بھی اس میدان میں قدم رکھا ہے اور بڑے خلوص اور جذبے کے ساتھ اس نہج پر کام کررہے ہیں،جیساکہ:مکتبہ جبریل ،مکتبۃ الحکیم ،مکتبۃ المکنون وغیرہ! شاملہ کا کوئی اردو ترجمہ نہیں ہے، اس لیے شاملہ سے استفادہ کرنے کے لیے عربی میں ضروری مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ جو طلبہ عربی ذخیرے سے استفادے کی صلاحیت نہیں رکھتے، انھیں مکتبہ جبریل وغیرہ سے استفادہ کرنا چاہیے۔ سافٹ وئیرز کا موازنہ یہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے کہ شاملہ کے ہوتے ہوئےکسی اور ڈیجیٹل مکتبے یا ویب سائٹ کو کیوں استعمال کیا جائے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی منفردخصوصیات ہیں جن کی بناپر شاملہ کے ہوتے ہوئے بھی یہ قابل استفادہ ہیں،یہ اضافی خصوصیات ان مکتبوں کی اہمیت کم نہیں ہونے دیتیں۔ذیل میں ہم ان کی خصوصیات کو موازنے کے انداز میں پیش کرتےہیں: ۱۔مکتبہ شاملہ میں بے شمار موضوعات کا ذخیرہ موجود ہے،جبکہ آپ کو کسی ایک مخصوص ومتعین موضوع پر کتب کی ضرورت ہے،لہٰذا اگر کوئی ایسا سافٹ وئیرآپ کو میسر ہے جو آپ کے متعلقہ صرف اسی مضمون کے ذخیرۂ کتب پر مشتمل ہے تو شاملہ کے بجائےیہی دوسراا سافٹ وئیر استعمال کریں ،کیوں کہ اس کی رفتار شاملہ کی بنسبت بہتر ہوگی۔ البتہ تصدیق کرلیں کہ اس سافٹ وئیر میں آپ کی متعلقہ تمام کتب یا شاملہ کی تمام کتب اس میں موجود ہیں۔ ۲۔ایک طریقہ براہ راست انٹرنیٹ سے سرچنگ کا بھی ہے اورسافٹ وئیرکی رفتار انٹرنیٹ کی بنسبت ذرا کم ہوتی ہے۔ اگر آپ کے سامنے دونوں طرح کے ذرائع ہیں تو انٹرنیٹ کو ترجیح دیں۔ سافٹ وئیر نتائج کی تلاش کے لیے آپ کے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی صلاحیتیں استعمال کرتا ہے، جب کہ انٹر نیٹ پر آپ کے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی صلاحیتیں صرف نتائج کو دکھانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ باقی تلاش اور تفتیش کے لیے ویب سائٹ کے سرورز استعمال ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ پر تلاش کے دوران آپ کا لیپ ٹاپ اور انرجی وغیرہ کم استعمال ہوتی ہے، جب کہ سافٹ وئیر میں زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ اس صورت میں زیادہ متاثر کن ہوسکتا ہے جب تحقیق کار کا لیپ ٹاپ کمزور ہو یا اس کی میموری کم ہو یا اس پر لوڈ زیادہ ہو تو تلاش کے دوران سسٹم سست روی کا شکار ہوسکتا ہے، ہینگ ہوسکتا ہے، لیپ ٹاپ کی حرارت اور شور میں اضافہ ہوسکتا ہے۔سافٹ وئیر میں عموماً وہی نتائج ظاہر ہوتے ہیں جو آپ نے لکھ دیے، ابھی تک کسی سافٹ وئیر میں ایسی سہولت موجود نہیں ہے کہ وہ ملتے جلتے نتائج کوبھی ظاہر کرسکے۔ ۳۔ مکتبہ شاملہ میں نتائج کی تلاش کے دوران الف لام یا ہمزہ ، الف یا الف ہمزہ کے فرق کو نظر انداز کرسکتا ہے، لیکن انٹر نیٹ پر اکثر وبیش تر یہ سہولت موجود ہوتی ہے کہ آپ ملتے جلتے نتائج کو بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کا اثر اس صورت میں زیادہ واضح ہوتا ہے، جب آپ لاعلمی یا کم علمی کی بنا پر کسی مخصوص موضوع کی تلاش کے لیے غیر موزوں لفظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس صورت میں سافٹ وئیر کوئی بھی نتیجہ ظاہر کرنے سے صاف انکار کردیتا ہے، یا مکمل طور پر غیر متعلقہ نتائج پیش کرتا ہے جب کہ انٹر نیٹ پر عموماً مترادف کی شکل میں متبادل بھی دکھا دیے جاتے ہیں۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
1266     1