(+92) 319 4080233
فارغ التحصیل طلبہ کی خدمت میں
فارغ التحصیل ہونے کا مطلب
حکیم الامت مولانامحمداشرف علی تھانویؒ دارالعلوم دیوبند کے اُن قابلِ فخر فضلامیں سے تھے،جوخوددارالعلوم کاتعارف بنے۔اُنھیں جب دارالعلوم کے سالانہ جلسہ دستارِفضیلت میں مدعو کیاجاتاتھاتووہ فضلاسے یہ بات ضرورفرمایاکرتے تھےکہ یہ نہ سمجھوکہ کتابوں سے فارغ ہوگئےہو،بلکہ اب کتابوں کے مطالعے کے قابل ہوگئے ہو،اب مطالعہ کروگے تواصل حظ اٹھاؤگے،کتاب تم سے باتیں کرتی نظرآئے گی۔ بدقسمتی سے یہ سمجھ لیاگیاہے کہ درسِ نظامی کی روایتی تعلیم کی تکمیل کامطلب فارغ التحصیل ہوناہےاورایسے فضلا سب سے پہلے خودکوعلم سے اوردوسرے نمبرپرذمے داریوں سے فارغ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اب دوتین ماہ توبیٹھ کے کھاناہے،گھروالوں پردھونس جمانی ہےکہ ہم فارغ التحصیل ہیںاوراب ہماراکام صرف دعوتیں اُڑانااورمبارک بادیں وصول کرناہے۔جب تین ماہ میں عادت بگڑجاتی ہےتواگلاپورا سال بھی اسی نیستی کی نذرہوجاتاہے۔
ایمان ومادیت کی دوڑ
دنیابڑی تیزی سے دوڑرہی ہے،یہ ایمان ومادیت کی دوڑہے،ایک مقابلہ ہےآدم وابلیس کا،جوابتدائے آفرینش سے جاری ہے،اس مقابلے میں ابلیسی قوتیں ہمیشہ اوپراوپراورغالب نظرآتی ہیں،اگرچہ اُن کی اوقات مثلِ حباب ہوتی ہےیاقرآن کے لفظوں میں وہ جھاڑجھنکاڑجس کوبارش اورسیلاب کاپانی اپنے ساتھ بہالے آتاہے،جن کی کوئی اوقات نہیں ہوتی،ذرا سی ہواچلی اوریہ جاوہ جا۔اس دوڑمیں مدرسے کے فاضل پربہت بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہےکہ وہ زمانے کاامام بننے کے لیے میدانِ عمل میں نکل پڑے،لوگوں کے ایمان وعقائدکی حفاظت کے لیے اپنے علم کوکام میں لائے،ابن الوقتوں ک ے بچھائے ہوئے دام ہمرنگِ زمیں کی حقیقت سے لوگوں کوآگاہ کرے،مرض ہی کی نشان دہی نہ کرے آبِ شفاکی طرف بھی راہ نمائی کرے۔
نصیحت
اس لیےاے ہزاروں فضلائےکرام،یادرکھو:وقتِ فرصت نہیں ہے،بہت کام کرناہے۔تم نے علوم نبوت کوجواپنے سینے میں محفوظ کیاہے یہ وہ بھاری ذمے داری ہےجس کے بوجھ کواٹھانے سے زمین وآسمان نے بھی انکار کردیاتھا،پہاڑوں نے بھی اپنی بے مائیگی کی وجہ سے معذرت کرلی تھی،تم اس بوجھ کواٹھاچکے ہو،اب اس کونبھاناہے،تم علوم نبوت ہی نہیں کارِنبوی کے بھی وارث ہو،خودکوسچاوارث ثابت کرناہے،سواٹھو،آنکھیں کھولو،وقت بہت بِتالیا،اب وقت کے دھارے کوموڑنے کی سعی کرو۔ خداتجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے کہ تیرے بحرکی موجوں میں اظطراب نہیں تجھےکتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو کتاب خواں ہے،مگر صاحبِ کتاب نہیں!

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
1842     5