(+92) 319 4080233
کالم نگار

سید فیصل ندیم

سید فیصل ندیم

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/12
موضوعات
شرطے کی انگلی
اس انگلی کی طاقت کا دومرتبہ ہمیں بھی بہت شدت سے احساس ہوا :
ایک حج کے دوران آخری طواف زیارت کرکے تھکے ماندے ہوٹل کی طرف جانا چاہتے تھے مکہ میں رہنے والے ایک بھائی ہمیں ہوٹل چھوڑنے کیلئے نکلے تھے چھ مقامات سے راستہ بند ہونے کی وجہ سے واپس پلٹنے کے بعد ہم اپنے ہوٹل کی طرف جانے والے ساتویں اور آخری راستے کی طرف جارہے تھے اور ہمارے مکی بھائی ہمیں بتارہے تھے کہ یہ آخری راستہ ہے جس کے ذریعے وہ ہمیں ہوٹل پہنچا سکتے ہیں اور اگر یہ بھی بند ملا تو پھر ہمیں پیدل مارچ کرنا پڑے گا جبکہ اس وقت پیدل مارچ کا تصور بھی ہمارے لئے سوہان روح کا باعث تھا کہ چل چل کر ہماری حالات پہلے ہی بہت پتلی ہوچکی تھی قصہ مختصر ہمارے مکی بھائی ہمیں ساتویں اور آخری راستے کی جانب لے جارہے تھے کہ ایک سگنل پر اشارہ سرخ ہوا اور ٹریفک رک گئی مکی بھائی اس وقت فرمارہے تھے کہ یہ اشارہ کراس کرنے کے بعد اس سڑک پر سیدھا چلنے پر دو کلومیٹر آگے آپ کا ہوٹل آجائے گا اس کیفیت میں ہم بھی مطمئن تھے کہ اللہ کا فضل ہے حج کے تمام مناسک ادا ہوچکے اب پہلے ہوٹل جائیں گے جہاں تھوڑا آرام وہاں سے مدینہ اور مدینہ سے پاکستان واپسی ہوجائے گی ابھی ہم اس اطمینان کے مزے لے ہی رہے تھے کہ ہمیں پیچھے کچھ دور سے ایک شُرطہ آتا دکھائی دیا ہم نے فورا مکی بھائی سے کہا نکل چلیں لگتا ہے یہ شُرطہ آکر یہ راستہ بند کرے گا مکی بھائی فرمانے لگے یہ سعودیہ ہے یہاں ٹریفک سگنل نہیں توڑا جاسکتا بہت بھاری جرمانہ ہوگا ان کے اس جواب کا جواب خاموشی کے علاوہ کیا ہوسکتا تھا سو ہم چُپ ہورہے اور انتظار کرنے لگے کہ دیکھتے ہیں یہ شُرطہ صاحب آکر کون سا قہر ڈھاتے ہیں اور پھر وہ ہی ہوا جناب شُرطہ صاحب آئے سڑک کے ایک طرف لگی رکاوٹ کو سیدھا کرکے سڑک بند کرکے ہمیں اشارہ کیا دوسری طرف جائیں ہم ہکا بکا کہ یہ کیا ماجرا ہے جذباتی ہوکر گاڑی سے اترے اور شُرطہ صاحب کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگے ہم حاجی ہیں بہت مشقت کرکے آرہے ہیں یہ دو منٹ کی ڈرائیور پر ہمارا ہوٹل ہے مہربانی کریں ہمیں جانے دیں لیکن وہ شُرطہ سعودی شُرطہ ہو ہی نہیں سکتا جو اپنا آرڈر واپس لے لے اس لیے جواب انکار میں اور ہمارے مکی بھائی بے بسی سے معذرت کرکے گھر جانے پر مجبور ہوگئے اور ہم اپنی زندگی کے مشکل ترین دو کلومیٹر پیدل طے کرنے چل پڑے ان دو کلومیٹرز کے ایک ایک قدم پر ہمیں ایک ہی چیز یاد آرہی تھی سعودی شُرطے کی انگلی جس کے اشارے کا انکار ممکن نہیں ۔

اسی طرح کا ایک واقعہ ہمارے ساتھ کل ہوا ہم مدینہ سے واپسی پر احرام میں ملبوس ٹرین اسٹیشن سے ٹیکسی کے ذریعہ اپنے ہوٹل آرہے تھے اور بیگم کو بتارہے تھے کہ ابھی چند منٹوں میں ہم ہوٹل میں ہوں گے جہاں کمرہ لینے اور سامان رکھنے کے فوری بعد حرم چل کر عمرہ کریں گے لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ جناب آگے موڑ پر شُرطہ صاحب موجود ہیں جن کی انگلی کی حرکت ہمیں پھر سے آزمائش میں مبتلا کرنے والی ہے جی ہاں ہمارے ڈرائیور نے جیسے ہی گاڑی ہمارے ہوٹل کی جانب جانے والی سڑک پر موڑنے کی کوشش کی شُرطہ صاحب کی انگلی حرکت میں آئی جو ہمارے ڈرائیور کو دوسری جانب مڑنے کا اشارہ کررہی تھی اور ڈرائیور کیلئے وہ انگلی گویا ریموٹ کنٹرول کی مانند تھی کہ وہ جناب انگلی کے اشارے کے مطابق مڑتے چلے گئے انہیں مڑتے دیکھ کر ہم چیخنے لگے کہاں چل دیے بھیا ہمارا ہوٹل مخالف سمت پر ہے تو جناب کا جواب تھا اب وہاں جانا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے تھوڑا سا آگے ہم سڑک کنارے گاڑی روکیں گے آپ اتر جائیے گا مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق ہمیں ڈرائیور کی ہدایت پر عمل کرنا پڑا اب ہم تھے سڑک تھی اور سڑک کے کنارے پڑا ہمارا سامان تھا جسے کسی نہ کسی طرح دھکیل کے ہم نے ہوٹل پہنچا ہی دیا لیکن ہوٹل کی جانب اٹھنے والے ہمارے قدم ایک بار پھر شُرطہ صاحب کی انگلی کی طاقت و قوت کے ترانے پڑھ رہے تھے کہ جس کے خلاف جانا سعودیہ میں تقریباً ناممکن ہے .

کہانی سے سبق :

سعودیہ میں ہر طرف پھیلا امن وامان اور خوش حالی کا راز سعودی شُرطے کی انگلی میں چُھپا ہے کہ جو سعودی قانون کی علامت ہے اور اس قانون کو توڑنا کسی بڑے سے بڑے پھنے خان کیلئے ممکن نہیں اور جب قانون کی پاسداری کا یہ عالم ہو تو معاشرے میں امن بھی قائم ہوتا ہے اور خوش حالی بھی ہر طرف پھیل جاتی ہے

کالم نگار : سید فیصل ندیم
| | |
49