(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامفتی محمد عدنان مراد

مولانامفتی محمد عدنان مراد، جامعہ بنوریہ عالمیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/27
موضوعات
مناظرہ اور اس کے آداب
مناظرہ اوراس کے مؤثر آداب دو مختلف الخیال شخصیتوں( two opposile personalities)اور جماعتوں میں نظریاتی بحث مباحثہ کو اصطلاح میں مناظرہ کہا جاتا ہے۔جیسے شریعت کے اعتقادی احکام کی تحقیق کے نتیجے میں علم تصوف ،عملی احکام کی تحقیق کے نتیجے میںعلم فقہ وجود میں آیا، ایسے ہی قرآنِ کریم کے علم المخاصمہ کے اصول وقواعد پر تحقیق کے نتیجے میں علم مناظرہ معرض وجود میں آیا، اور اس پر متعدد کتب مدون ہوئیں۔ یہ زمانہ قدیم سے رائج ہے: ١۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے ساتھ مناظرہ کیا جو مدعی ربوبیت تھا۔ (اِس کی تفصیل سور ةالبقرة آیت 258میں موجود ہے۔) ٢۔ توحید باری تعالیٰ کے اثبات اوربتوںکی معبودیت کی نفی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بت پرست مشرک قوم کے ساتھ مناظرہ کیا تھا۔(اِس کی تفصیل سورہ انبیا ء آیت 52میں موجود ہے۔) رسول اللہ ۖ نے حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کو معبود ماننے کے مسئلے پر نصاریٰ کے وفدکے ساتھ مسجد نبوی میں مناظرہ کیا۔(اِس کی تفصیل سورہ آل عمران: آیت 59میں موجود ہے۔) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے خوارج کے ساتھ مناظرہ کیا۔(تفصیل کے لیے دیکھیے:سنن ابی داؤد: حدیث 4037۔ مصنف عبد الرزاق: حدیث 18678) حضرت ایاس بن معاویہ نے قدریوں سے مناظرہ کیا۔(تہذیب التہذیب: جلد 1 صفحہ391) اسی طرح ماضی کے ہر دور میں اہل باطل کے ساتھ مناظروں کا سلسلہ جاری رہااور یہ بات شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ وعظ و نصیحت اور لوگوں کی اصلا ح کے لیے مناظرہ کرنا بھی انبیا و صلحاکی سنت ہے۔ فقہائے کرام نے لکھا ہے: المناظرة فِی العِلمِ لِنصرِة الحقِ عِبادة ولِاحدثلاثةِ حرام لِقہرِ مسلِم، واِظہارِ عِلمِِ وَنَیلِ دُنیاَ اَو ماَلِِ اَوقَبولِِ۔(فتاوی شامی: جلد 6 صفحہ 421، مکتبہ ایچ ایم سعید) غلبہ ٔ حق کے لیے مناظرہ عبادت ہے ا ور تین اغراض میں سے کسی ایک کے لیے حرام ہے: (1)محض دوسرے مسلمان کو مغلوب کرنا مقصود ہو۔ (2)یا اظہارِ علم مطلوب ہو۔ (3)یا مال و متاع اور لوگوں میں اپنی مقبولیت مقصود ہو۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مضامین قرآن کا خلاصہ پانچ علوم ہیں،ان میں سے ایک علم المخاصمة بھی ہے:اس سے مراد :ہر زمانے کے اہل باطل کے مقابلے میں دلائل کے ساتھ احقاقِ حق ، ابطالِ باطل اور حق کے بارے میں اہلِ باطل کی طرف سے پیدا کردہ شکوک و شبہات کے جواب دینا اور اہل باطل کے ساتھ روبرو، بالمشافہ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے کسی خاص موضوع پر گفتگو کرنا ہے۔(الفوز الکبیر صفحہ 13 مکتبة البشریٰ) اس سے واضح ہوا کہ مناظرہ کرنے کے لیے مناظر کی نیت کاصاف ہونا ضروری ہے۔ کتنا ہی مضبوط و پختہ عالم کیوں نہ ہو، اگر نیت صاف نہیں ہوگی تو رسوائی ہوگی۔ جیساکہ حدیث میں آتا ہے: اِنما الاعمال بِالنِیات(بخاری شریف: حدیث 1، مسلم شریف، حدیث: 1907) ''تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔'' اس لیے اگر مناظرہ احقاقِ حق و ابطالِ باطل کے لیے ہو تو نہ صرف جائز بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہوجاتا ہے۔(تحفة المناظر صفحہ50) المیہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے اب عام طور پر مناظرہ ایک ہار جیت کا کھیل بن کر رِہ گیا ہے۔ لوگوں کی نظر میں مناظرے کا حاصل اتنا ہی رہ گیا ہے کہ اپنی بات اونچی ہواوراپنی بات کو صحیح اور قوی ثابت کرنے کے لیے دلائل اور ذہانت کا سارا زور خرچ کیا جائے، چاہے اپنی غلطی خود بھی معلوم ہوچکی ہو۔مخالف کی کوئی بات سچی اور صحیح بھی ہو تو بہرحال اسے رَد ہی کرنا اور اس کی تردید میں پوری توانائی صرف کرناہی فی زمانہ مناظرے میںاپنی کامیابی کی کلید سمجھا جاتا ہے۔ اسلام نے اس کام میں خاص اعتدال پیدا کیا ہے اوراِس کے اصول و قواعد اور حدود متعین کرکے اس کو ایک مفید و موثر آلۂ تبلیغ و اصلاح بنایا ہے۔ حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام نے جب فرعون جیسے ظالم وجابر اور خدائی کے دعوے دار بادشاہ کو اس کے دربار میں دعوتِ حق پہنچائی تو اس نے مخالفانہ بحث کا آغاز اول دو ایسی باتوں سے کیا ،جن کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذات سے تھا، جیسا کہ ہوشیار،مکار وعیاّر مخالف عموماً جب اصل بات کے جواب پر قادر نہیں ہوتا تو مخالف کی ذاتی کمزوریاں ڈھونڈتا اور بیان کیا کرتا ہے،تاکہ وہ کچھ شرمندہ ہوجائے ا ور لوگوں میں اس کی حیثیت کم ہوجائے۔ اسی نفسیات (Mindset)کو استعمال کرتے ہوئے فرعون نے دو باتیں کہیں: اولاً : یہ کہ تم ہمارے پروردہ اورہمارے گھر میں پل کر جوان ہوئے ہو، ہم نے تم پر احسانات کیے ہیں، تمہاری کیا مجال ہے کہ ہمارے سامنے زبان کھولو۔ دوسری بات: یہ کہ تم نے ایک قبطی شخص کو بلاوجہ قتل کر ڈالا۔ تمہارا یہ فعل ظلم کے علاوہ مجھ جیسے احسان کرنے والے کے احسان کی ناشکری بھی ہے کہ جس قوم میں تم پلے بڑھے اور جوان ہوئے ہو، اسی قوم کے آدمی کو مار ڈالا۔ بظاہر،عام حالات میں ایسی باتیںکسی کی گردن جھکانے،اسے شرمندہ اور خاموش کرانے کے لیے کافی ہوجاتی ہیں،لیکن یہاںوہ کسی عام آدمی سے مخاطب نہیںتھا،وقت کے نبی اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسول سے مخاطب تھا،اِس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی کسی بات کا کوئی اثر نہیںلیا۔ اب اس کے بالمقابل حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیغمبرانہ جواب دیکھیے : اوّل: جواب دیتے ہوئے سوال کی ترتیب کو بدلا ،یعنی قبطی کے قتل کا قصہ جو فرعون نے بعد میں بیان کیا تھا، اس کا جواب پہلے دیااور فرعون کے گھر میں پرورش پانے کے احسان کے ذکر کا، جواس نے پہلے کیا تھا،جواب بعد میں دیا۔ اِس ترتیب بدلنے کی من جملہ حکمتوںمیں سے ایک حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ قبطی کے قتل کے واقعے میںآپ سے نادانستہ ہی سہی ،کچھ نہ کچھ کمزوری ضرور واقع ہوئی تھی،چنانچہ حقائق سے منہ موڑنے اورآنکھیں پھیرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے رسول نے اسی کے جواب کو اولیت دی۔ جواب بھی اعترافِ کمزوری کے ساتھ دیااور اِس بات کی قطعاً کوئی پروا ،نہ کی کہ مخالفین کہیں گے کہ انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے ہار مان لی ہے۔ ورنہ اس وقت دشمن کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سیدھا اور صاف جواب یہ بھی ہوسکتا تھا کہ: مقتول قبطی کو واجب القتل قرار دے کر اس پر ایسے الزامات لگاتے جن سے اس کا واجب القتل ہونا ثابت ہوجاتا،وہاں کوئی دوسرا آدمی اُن کی تکذیب کرنے والا بھی موجود نہ تھا جس سے تردید کا اندیشہ ہوتا۔ اِس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سوا کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو اس کا جواب تقریباًاسی قسم کا ہوتا کہ وہ اپنے ارتکابِ قتل کے عمل کو درست اور صحیح ثابت کرنے کے لیے مقتول پر بے سروپا الزامات لگاکراسے واجب القتل قرار دلواتا۔ لیکن یہاںاللہ کا سچا نبی جواب دے رہاتھا ،جو حق و صداقت اور حقیقت کے اظہار ہی کو اپنی فتح سمجھتا تھا،جس سے کسی قسم کی غلط بیانی کا شائبہ بھی نہیںکیاجاسکتا۔ آپ علیہ السلام نے دشمن کے بھرے دربار میں اپنی خطا کا اعتراف بھی کرلیا اور اس سے جو نبوت و رسالت پر شبہ ہوسکتا تھا اس کا جواب بھی دے دیا۔ اس کے بعد پہلی بات یعنی فرعون کے گھر میں پرورش پانے کا احسان جتانے کے جواب کی طرف توجہ فرمائی تو اس کے ظاہری احسان کی اصل حقیقت کی طرف توجہ دلادی۔ اِس پیغمبرانہ طرز جواب کا حاضرین پراتنا اثر تو ضرور ہوا ہوگاکہ موسیٰ (علیہ السلام) سچے اور راست باز ہیں اور ظالم وجابر بادشاہ کے سامنے بھی سچ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ اس کے بعد جب معجزات دیکھے ہوںگے تو اور زیادہ اس کی تصدیق ہوگئی ہوگی۔ تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود فرعون ،جو اپنی جباری وقہاری ،ظلم وستم ،اور رعب ودبدبے کی وجہ سے کسی کو خاطر میںنہ لاتا تھا،اتنا مرعوب وہ بھی ہوگیا تھاکہ عمال سلطنت سے کہنے پر مجبور ہوا کہ یہ دو آدمی ہمیں اپنے ملک و مملکت سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے کہ دربار سارا اس کا، شہر اور ملک اس کا ،پھر بھی اگر اس پرایسے دو افراد کاخوف طاری ہے جو نہتے ہیں، جن کے آگے پیچھے کوئی مددگار بھی نہیںتویہ ہوتی ہے حق اور سچائی کی ہیبت،یہ ہوتا ہے خداداد رعب ودبدبہ! فائدہ: حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کے مجادلے ا ور مناظرے بھی صدق و سچائی اور مخاطب کی دینی خیرخواہی کے جذبات سے پر ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ دلوں میں گھر کرتے ہیں اور بڑے بڑے سرکشوں کو رام کرلیتے ہیں۔(تفسیر معاف القرآن(مفتی محمد شفیع)جلد 6 صفحہ 518) مناظرے کے آداب: 1 مناظرہ کرنے والے علم میں برابر ہوں۔ 2 بدگوئی اور تلخ کلامی سے پرہیز کریں۔ 3 ہنسی مذاق سے اجتناب کریں اور آواز بھی زیادہ بلند نہ کریں۔ 4 کلام نہ زیادہ مختصر ہو اور نہ ہی طویل، درمیانہ راستہ اختیار کریں۔ 5 نادر الفاظ(Unfamiliar words)،جو لوگوںکے فہم سے بالاہوں، استعمال نہ کریں۔ 6 دوسرے کی بات مکمل ہونے سے پہلے اپنی بات شروع نہ کریں، بلکہ اپنی باری کا انتظار کریں۔ 7 اپنے مدعا (Cause topic)سے پیچھے نہ ہٹیں۔ 8 اپنے مدمقابل کو حقیر نہ سمجھیں۔ 9 مناظرے سے قبل نہ زیادہ کھائیں اور نہ ہی بھوکے پیٹ مناظرہ کریں۔ 10 جو فریق جن اصولوں کا پابند ہو اور انہیں تسلیم کرتا ہو انہی کے مطابق بات کی جائے۔فریق مخالف کا دائرہ تنگ نہ کیا جائے،نہ اسے اپنے اصولوں کا پابند بنانے کی کوشش کی جائے۔ نوٹ:فریق مخالف اولاً تو سرتوڑ کوشش کرے گا کہ علمی سطح پر آپ کو مات دے، اگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوا تو بسا اوقات وہ دوسرے حربے استعمال کرے گا۔ اس لیے مناظر کو چاہیے کہ علمی سطح پر مضبوطی کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی مضبوط رہے، اور سبع حصار کا معمول بنالے۔ سبع حصار میں سورت فاتحہ، آیت الکرسی، اٰمن الرسول سے آخر(سورة البقرہ آیت 284-285)، سورۂ کافرون، سورۂ نصر، سورۂ فلق، اور سورة الناس داخل ہیں، فجر اور مغرب کے بعد مستقلًا ان کا معمول بنائیں۔ اسی طرح جادو سے حفاظت کے لیے دوسرے مجرب اعمال کو بھی اپنے معمولات میں شامل کریں۔(تحفة المناظر: صفحہ 50)

کالم نگار : مولانامفتی محمد عدنان مراد
| | |
3138     1