(+92) 319 4080233
کالم نگار

(ادارہ)

(ادارہ)

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/26
موضوعات
روشنی کاسفر۔دوسری ایمان افروز داستان
تعارف:
میزبان (کینین ممز): ایک متجسس اور مخلص پوڈ کاسٹ ہوسٹ، جو نو مسلموں کی کہانیاں دنیا کے سامنے لانے اور ان کے تجربات سے امتِ مسلمہ کو فائدہ پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں ۔

مہمان (یونس): ناروے میں پرورش پانے والے ایک نوجوان، جو نسلی طور پر یہودی ہیں ۔ وہ گزشتہ سات سالوں سے دائرہ اسلام میں داخل ہیں اور اب اپنے گہرے فکری مطالعے، کاروباری تجربات اور روحانی مشاہدات کی روشنی میں حق کی گواہی دے رہے ہیں ۔

کینین ممز: آپ کو یہاں مدعو کرنا میرے لیے خوشی کا باعث ہے اور میں آپ کی تشریف آوری پر بے حد ممنون ہوں ۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ آپ اپنی قبولِ اسلام کی مکمل کہانی ہمارے سامعین کے ساتھ شیئر کریں ۔ آپ کا یہ سفر کیسے شروع ہوا ؟

یونس: الحمدللہ، میں یہاں آ کر بہت خوش ہوں ۔ چونکہ مجھے اسلام لائے سات سال ہو چکے ہیں، اس لیے میں خود کو بالکل نیا نو مسلم تو نہیں کہوں گا ۔ میں اپنی کہانی کو وقت کی ترتیب کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ بات آسانی سے سمجھ آ سکے ۔

میرا یہ سفر میرے بچپن سے شروع ہوتا ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب میں صرف چار سال کا ایک چھوٹا بچہ تھا، میری والدہ مجھے سوتے وقت کہانیاں سنایا کرتی تھیں ۔ ایک رات انہوں نے مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی کہانی سنائی ۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح موسیٰ علیہ السلام نے دریا کو چیر دیا اور اپنی قوم کو فرعون کے ظلم و ستم اور غلامی سے نجات دلائی ۔ اس واقعے نے میرے ننھے سے دل پر ایسا گہرا اثر چھوڑا کہ میں اکثر راتوں کو جاگتا اور خدا اور موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوچتا رہتا ۔ مجھے ان سے ایک عجیب سا لگاؤ اور فکری تعلق محسوس ہوتا تھا ۔

پھر میں بڑا ہوا، اسکول جانے لگا اور ناروے کے ایک آزاد اور سیکولر ماحول میں ایک عام نوجوان کی طرح زندگی گزارنے لگا ۔ میرا خاندان کٹر مذہبی نہیں تھا ۔ ہمارے گھر میں مسلمان دوست بھی آتے تھے اور اسکول میں بھی میرے بہت سے مسلمان دوست تھے ۔ لیکن زندگی میں ایک وقت ایسا آیا جب مجھے اندر سے ایک شدید خالی پن کا احساس ہونے لگا ۔

جب میں آٹھ سال کا تھا، ہم اسرائیل میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے ۔ وہاں اپنے لوگوں کے درمیان اور اس سرزمین پر موجود ہونے کے باوجود، جسے مقدس کہا جاتا ہے، میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میری زندگی میں کسی چیز کی کمی ہے، جیسے میں کسی کو یاد کر رہا ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہے؟ یہ ایک عجیب اور تکلیف دہ اداسی تھی ۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سمجھ آتا ہے کہ وہ تڑپ اصل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے تھی ۔

اسکول میں مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پڑھنے کا موقع ملا ۔ ایک یہودی پسِ منظر کی وجہ سے میرے لیے عیسیٰ علیہ السلام کو خدا ماننا تو ناممکن تھا، لیکن تاریخ میں ان کے کردار کو دیکھ کر میرے دل نے تسلیم کیا کہ وہ بھی موسیٰ علیہ السلام کی طرح خدا کے ایک سچے پیغمبر تھے ۔

میری زندگی کا سب سے تاریک دور تیرہ سال کی عمر میں آیا ۔ میں روحانیت کی تلاش میں مراقبہ کیا کرتا تھا کہ اچانک مجھ پر شدید برے اور وسوسوں پر مبنی خیالات کا حملہ ہوا ۔ میں مہینوں ان خیالات سے لڑتا رہا اور شدید ذہنی اذیت اور احساسِ جرم کا شکار رہا ۔ ایک رات، جب میں اپنی برداشت کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا، میں نے اپنے دل میں پختہ عہد کیا کہ میں ان برے خیالات کے خلاف اپنی پوری طاقت سے لڑوں گا اور اگر مجھے ان خیالات کے ساتھ ہی جینا ہے تو میں اپنی زندگی کو کسی اعلیٰ اور نیک مقصد کے لیے وقف کر دوں گا ۔ جیسے ہی میں نے خیر کے سامنے خود کو تسلیم کیا، وہ سارا ذہنی بوجھ یکسر غائب ہو گیا ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ خیالات میرے اپنے نہیں تھے بلکہ شیطانی وسوسے تھے ۔ اس واقعے نے مجھے خدا کا شکر گزار بنا دیا ۔

جب میں سولہ سال کا ہوا، تو میں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ میں تعلیم، کاروبار یا نوکری کے بارے میں سوچوں، مجھے یہ جاننا چاہیے کہ اس زندگی کا اصل مقصد کیا ہے ؟ نوکری تو زندگی کا کل مقصد نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ میں نے مختلف مذاہب کا مطالعہ شروع کر دیا ۔ اسی دوران میرے ایک قریبی نارویجن دوست نے، جو میری ہی طرح سچ کا متلاشی تھا، اسلام قبول کر لیا ۔ میں نے سوچا کہ میں عقل اور منطق کے زور پر اسلام میں خامیاں نکال کر اسے غلط ثابت کر دوں گا ۔ میں نے اسلام مخالف پروپیگنڈا پڑھا اور پھر علمائے کرام سے ان کے جوابات کا موازنہ کیا ۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اسلام کے پاس ہر اعتراض کا ایک نہایت معقول، مربوط اور لاجواب جواب موجود تھا ۔

ایک رات میں نے سچے دل سے نیت کی کہ حق جہاں بھی اور جس شکل میں بھی ملے گا، میں اسے قبول کر لوں گا ۔ میں اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ تاریخ میں جتنے بھی سچے ہادی اور پیغمبر آئے، وہ سب ایک ہی سرچشمے سے آئے تھے ۔ اگلے دن میرا دوست میرے پاس آیا اور اس نے ایک عالمِ دین کی ویڈیو چلائی ۔ اس عالم نے اپنی گفتگو کا آغاز ہی اس جملے سے کیا کہ اللہ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے اور ان سب کا بنیادی پیغام ایک ہی تھا، جو وقت کے ساتھ لوگوں نے بدل دیا ۔ یہ سنتے ہی میرے ذہن میں سچائی کا پورا خاکہ واضح ہو گیا ۔ چونکہ میں پہلے ہی عہد کر چکا تھا، اس لیے میرے پاس اسلام قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔ میں نے دیکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کائنات کے کامل ترین انسان اور آخری رسول ہیں ۔ الحمدللہ، اس طرح میں مسلمان ہو گیا ۔

جس دن میں نے اسلام قبول کیا، وہ اسکول کا آخری دن تھا ۔ اس کے بعد گرمیوں کی چھٹیوں میں مجھے نماز سیکھنے اور دین کا گہرا علم حاصل کرنے کا بھرپور وقت مل گیا ۔ میں نے اپنی والدہ کو فوراً بتا دیا ۔ وہ میری آنکھوں میں خوف اور خوشی کے ملے جلے جذبات دیکھ سکتی تھیں ۔ میں نے انہیں بڑے پیار اور نرمی سے اسلام کی خوبصورت تعلیمات کے بارے میں بتایا ۔ انہوں نے میری اس تبدیلی کو قبول کر لیا ۔ بعد میں، میں دین پر ثابت قدمی اور اپنی ذاتی ترقی کے لیے دوسرے شہر منتقل ہو گیا ۔

کینین ممز: جب آپ نے اپنی والدہ کو بتایا تو ان کا ردعمل کیا تھا؟ اور کیا آپ کا خاندان مذہبی طور پر بہت سرگرم تھا ؟

یونس: میری والدہ نے بس یہی کہا کہ جب تک تم کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہے، تمہارا عقیدہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے اور یہ ٹھیک ہے ۔ جیسا کہ میں نے بتایا، ہمارا خاندان بہت سیکولر تھا ۔ ہم صرف جمعہ کی شام کو روایتی طور پر گھر کی صفائی کرتے اور خاندانی ڈنر کرتے تھے، جسے 'شبات' کہا جاتا ہے ۔ بس اتنی ہی ثقافتی وابستگی تھی، کوئی گہرا مذہبی ماحول نہیں تھا ۔

کینین ممز: یہودی عقیدے میں عام طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تو کیا آپ کو بچپن میں ان کے خلاف کچھ سکھایا گیا تھا ؟

یونس: نہیں، بالکل نہیں ۔ عام طور پر سیکولر یہودی خاندانوں میں ایسی نفرت انگیز باتیں نہیں ہوتیں ۔ یہ موضوع ہمارے گھر میں زیرِ بحث ہی نہیں آتا تھا ۔ میں نے ان کے بارے میں جو کچھ بھی سیکھا، وہ اسکول اور اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھا ۔

کینین ممز: اگر آپ گزشتہ سات سالوں پر نظر دوڑائیں، تو اسلام لانے کے بعد آپ کی زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی کیا آئی ؟

یونس: جب آپ یہودی ماحول میں بڑھتے ہیں، تو آپ کے اندر ایک غیر محسوس خوف اور اضطراب پیدا کر دیا جاتا ہے کہ پوری دنیا آپ کی دشمن ہے اور تاریخ میں ہمیشہ یہودیوں پر ظلم ہوا ہے ۔ اس پروپیگنڈے کی وجہ سے انسان ہر وقت ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار رہتا ہے ۔ لیکن جیسے ہی میں مسلمان ہوا، اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو ایک ایسی زبردست 'سکینت' اور اطمینان سے بھر دیا جس کی کوئی حد نہیں ۔ اب میں جانتا ہوں کہ یہ راستہ سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے اور زندگی کی ہر مشکل میرے گناہوں کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے ۔ اسلام نے میرے دل کی اس طرح اصلاح کی جو دنیا کی کوئی دوسری چیز نہیں کر سکتی تھی ۔

کینین ممز: آج دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، جہاں ہر طرف یہودی بمقابلہ مسلمان تنازع کی باتیں ہو رہی ہیں، آپ اس صورتحال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟

یونس: سچی بات یہ ہے کہ موجودہ دور کا سب سے بڑا مسئلہ اسرائیل کی وہ جابرانہ اور غاصبانہ پالیسیاں ہیں جو وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنائے ہوئے ہے ۔ حتى کہ بہت سے کٹر آرتھوڈوکس یہودی بھی اس صیہونی ریاست کے قیام کے خلاف ہیں اور خود اسرائیل کے اندر ان پر تشدد کیا جاتا ہے ۔ اسلام کا نسلی طور پر یہودیوں سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، بلکہ ہمارا جھگڑا باطل، شرک اور ظلم سے ہے ۔

تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی خلافتوں میں یہودی ہمیشہ پرامن اور محفوظ شہری بن کر رہے ہیں، جہاں ان کی جان و مال کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری تھی ۔ یہ تمام نفرتیں صیہونیت کے سیاسی ایجنڈوں اور خوف کی سیاست کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں ۔ ہمیں ایک صیہونی اور ایک عام یہودی کے درمیان واضح فرق کرنا چاہیے ۔

کینین ممز: ایک مسلم کمیونٹی کے طور پر ہم ایسا کیا کر سکتے ہیں جو اس وقت دنیا میں جاری مظالم کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو ؟

یونس: ہمیں اپنے پاس موجود پلیٹ فارمز کو سنتِ نبوی کے مطابق بہترین انداز میں استعمال کرنا چاہیے ۔ فلسطین، لبنان اور دیگر جگہوں پر ہمارے بھائی بہن مظلوم ہیں، اللہ ان کی مدد فرمائے ۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امت پر آزمائشیں آنا زندگی کا حصہ ہیں ۔ اللہ نے قرآن میں واشگاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تمہیں بغیر آزمائے چھوڑ دیا جائے گا ؟ ہمارا کام انصاف قائم کرنا، صبر کا دامن تھامنا اور اچھے اخلاق کے ساتھ اسلام کا پیغام پھیلانا ہے ۔

کینین ممز: جب لوگ سنتے ہیں کہ آپ ایک یہودی پسِ منظر سے مسلمان ہوئے ہیں، تو ان کا ردعمل کیا ہوتا ہے ؟

یونس: لوگ بے حد خوش ہوتے ہیں اور محبت کا اظہار کرتے ہیں ۔ یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ اس میں رنگ، نسل یا قومیت کی بنیاد پر کوئی تعصب نہیں ہے ۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، فضیلت کا معیار صرف تقویٰ اور اچھے اعمال ہیں ۔

کینین ممز: آپ نئے نو مسلموں کو، جو اپنے سفر کے ابتدائی مہینوں یا پہلے سال میں ہیں، ثابت قدمی کے لیے کیا حکمت اور نصیحت دینا چاہیں گے ؟

یونس: ایک نو مسلم کے سفر میں ایسے اوقات ضرور آتے ہیں جب وہ خود کو بالکل اکیلا محسوس کرتا ہے اور پورے دین پر کاربند رہنا مشکل لگنے لگتا ہے۔ میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں اور کثرت سے دعا کریں ۔ دوسری بات یہ کہ دین کا علم حاصل کرنے کے لیے کسی شارٹ کٹ کے بجائے مستند علماء کے ذریعے براہِ راست قرآن اور سنتِ نبوی سے رجوع کریں ۔

تیسری بات ایک انتباہ ہے؛ شروع شروع میں شیطان انسان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ شاید تمہیں کوئی ایسا خاص علم یا نکتہ مل گیا ہے جو کسی اور کے پاس نہیں ہے ۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا، لیکن میں نے خاموشی اختیار کی اور جیسے ہی مجھے مستند دلیل ملی، میں نے اپنی اصلاح کر لی ۔ نئے مسلمانوں کو اپنی عقل کو شریعت کے تابع رکھنا چاہیے ۔

کینین ممز: آپ کے اس پورے سفر میں سب سے بڑا چیلنج کیا تھا جسے آپ کو عبور کرنا پڑا ؟

یونس: میرے لیے اسلام لانے کے بعد پانچ سال تک مجرد (کنوارا) رہنا سب سے بڑا اور کٹھن چیلنج تھا ۔ موجودہ دور میں سوسائٹی اور قوانین نے شادی کو بہت مشکل بنا دیا ہے، جبکہ اسلام میں یہ انتہائی سادہ اور آسان تھی ۔ میں بہت سے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں جو اس وجہ سے گناہ میں گر جاتے ہیں ۔ الحمدللہ، اللہ نے میری دعائیں سنیں اور اب میں شادی شدہ ہوں، لیکن اس عرصے میں صبر کرنا میرا سب سے بڑا امتحان تھا ۔ کینین ممز: جو نوجوان اس وقت صبر کے اس امتحان سے گزر رہے ہیں اور ان کی شادی نہیں ہو پا رہی، انہیں آپ کیا عملی مشورہ دیں گے ؟

یونس: سب سے اہم اور پہلی بات: چاہے کچھ بھی ہو جائے، گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، اپنی نماز کبھی مت چھوڑنا ۔ شیطان کا آخری ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ وہ آپ سے نماز چھڑوا دے ۔ اگر نماز باقی ہے، تو وہ آپ کو ایک دن دوبارہ کھینچ کر ہدایت پر لے آئے گی ۔

دوسری بات یہ کہ صرف گھر بیٹھ کر دعا نہ کریں بلکہ عملی اسباب اختیار کریں ۔ خود کو ایک ذمہ دار مرد بنائیں؛ جم جائیں، کوئی آن لائن ہنر سیکھیں، اپنا کاروبار شروع کریں ۔ جب آپ نیت صاف رکھ کر کوشش کریں گے، تو اللہ راستے کھول دے گا ۔ قرآن و حدیث کا مفہوم ہے کہ شادی کے بعد اللہ اپنے فضل سے انسان کو غنی کر دیتا ہے اور رزق کے دروازے کھول دیتا ہے، اس لیے غربت کے خوف سے شادی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے ۔

کینین ممز: بالکل درست! میرے استاد نے مجھے سکھایا تھا کہ نماز ایک اینٹوں کی دیوار کی طرح ہے ۔ جیسے ہی آپ نماز چھوڑتے ہیں، وہ دیوار گرنے لگتی ہے اور ایک دن آپ اس ملبے کے نیچے دب جاتے ہیں ۔ دوسری بات جو آپ نے کہی کہ خواتین مرد کے موجودہ مال و دولت سے زیادہ اس بات کو دیکھتی ہیں کہ اس مرد میں آگے بڑھنے اور نتائج پیدا کرنے کی صلاحیت اور تڑپ کتنی ہے، یہ بالکل سچ ہے ۔

یونس: سبحان اللہ، میں اپنے تجربے سے اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں ۔ جب آپ اللہ پر توکل کرتے ہیں تو وہ ایسے اسباب بناتا ہے کہ جس کا آپ گمان بھی نہیں کر سکتے ۔ اللہ کا ایک نام 'الرزاق' ہے، وہ صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ پرندوں کو بھی رزق دیتا ہے جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔ ہمیں اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے اور اس پر اندھا دھند شرائط نہیں لگانی چاہئیں ۔

کینین ممز: کیا اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا نام ہے جو آپ کے دل کے سب سے زیادہ قریب ہو ؟

یونس: 'الرزاق' (رزق دینے والا) ۔ یہ کتنا خوبصورت نام ہے! رزق صرف پیسے کا نام نہیں ہے، ایک اچھی بیوی کا ملنا، دین کا علم حاصل ہونا، دل کا سکون ملنا، یہ سب اللہ کا رزق ہے جو وہ اپنے بندوں کو ہر وقت عطا کر رہا ہے ۔

کینین ممز: میرا آخری سوال، جو میں اپنے ہر مہمان سے پوچھتا ہوں؛ اگر آپ کے ہاتھ میں ایک ایسا مائیکروفون دے دیا جائے جس کی آواز پوری دنیا کا ہر انسان ایک ہی وقت میں سن رہا ہو، تو آپ دنیا کو کیا پیغام دیں گے ؟

یونس: آپ نے مجھے ایک بہت ہی نازک اور اہم مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔ اگر مجھے یہ موقع ملے تو میں وہی بات کہوں گا جو تاریخ میں ہر پیغمبر نے اپنی قوم سے کہی ۔

میں کہوں گا کہ اللہ ہی زمین اور آسمانوں کا واحد خالق ہے اور عقل کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا جائے ۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور یہ زندگی اگلی ابدی زندگی کی طرف جانے کا محض ایک عارضی راستہ ہے ۔ انبیاء نے ہمیں جہنم کی آگ سے ڈرایا ہے اور خدا کی بندگی و نیک اعمال کے ذریعے جنت کی خوشخبری دی ہے ۔

میں دنیا سے کہوں گا کہ اسلام آپ کو اپنی عقل کھڑکی سے باہر پھینکنے کا نہیں کہتا، بلکہ اپنی عقل کا بھرپور استعمال کریں ۔ قرآن بار بار کہتا ہے کہ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ قرآن کی ہر آیت ایک روشن نشانی ہے ۔ جب ہم ایک خوبصورت پینٹنگ کو دیکھتے ہیں، تو ہمارا ذہن خود بخود تسلیم کرتا ہے کہ اس کا کوئی پینٹر بھی ہے ۔ یہ کتنا نادان طرزِ فکر ہو گا کہ ہم اس اتنی بڑی اور منظم کائنات کو تو دیکھیں لیکن اس کے خالق اور ناظم کو تسلیم نہ کریں! اس خالق کو پہچانے اور اس کے فرستادہ انبیاء پر ایمان لائے بغیر کوئی آپ کو ابدی نقصان سے نہیں بچا سکتا ۔ یہی میری آخری گفتگو ہے ۔

کینین ممز: سبحان اللہ! بہت شاندار اور بصیرت افروز گفتگو رہی۔ یونس، آپ کا بے حد شکریہ !

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : (ادارہ)
| | |
53