(+92) 319 4080233
کالم نگار

(ادارہ)

(ادارہ)

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/26
موضوعات
روشنی کا سفر
میزبان-کینئن ممبز (Canyon Mimbs): ایک نو مسلم امریکی نوجوان جو کینئن ممبز شو ہوسٹ کرتے ہیں اور اسلام میں نئے داخل ہونے والی شخصیات کے انٹرویوز کرتے ہیں۔ ان کی خوبی ان کے ذہین سوالات اور سادہ اور ڈائریکٹ انداز گفتگو ہے۔

مہمان نکی (Nikki): روس سے تعلق رکھنے والی ایک مشہور ٹک ٹاکر (Tik Toker) اور سوشل میڈیا انفلوئنسر۔ وہ ماضی میں ایک پرجوش فیمنسٹ (خواتین کے حقوق کی علمبردار) رہی ہیں اور 2022 کے اوائل میں انہوں نے اسلام قبول کیا۔

میزبان: السلام علیکم نکی! کیا آپ ہمارے ساتھ اسلام لانے کی اپنی یہ خوبصورت کہانی شروع سے شیئر کریں گی؟

نکی: وعلیکم السلام! جی انشا اللہ، میں اپنی کہانی بالکل آغاز سے سنانے کے لیے بہت پرجوش ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں بچپن ہی سے خدا پر یقین رکھتی تھی۔ میں روسی ہوں اور روس میں اکثریتی آبادی آرتھوڈوکس عیسائیوں کی ہے، میرا خاندان بھی اسی مذہب سے تعلق رکھتا تھا ۔ جب میں چھوٹی تھی، تو اکثر اپنے والدین سے مذہب کے بارے میں سوالات کرتی تھی، لیکن میری ماں کا ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا تھا: "بس یقین رکھو اور بات ختم!" وہ جو بھی مذہبی رسومات ادا کرتے تھے، مجھے کبھی ان کی سمجھ نہیں آئی اور نہ ہی میرا ان میں دل لگا ۔ لیکن میں نے کبھی خود سے تحقیق بھی نہیں کی، بس ماں کی بات مان کر خدا پر یقین رکھا۔

اس کے ساتھ ہی، میں 15 سال کی عمر سے ایک کٹر فیمنسٹ (حقوقِ نسواں کی علمبردار) تھی ۔ میں ان لڑکیوں میں سے تھی جو کہتی ہیں، "میں اپنے سارے کام خود کر سکتی ہوں، مجھے کسی مرد کی ضرورت نہیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی بھاری بیگ اٹھانے میں میری مدد بھی کرنا چاہتا، تو میں لجاجت کے بغیر منع کر دیتی کہ میں خود کر لوں گی، چاہے مجھے جتنی بھی تکلیف ہو ۔ لیکن جب میں بیس سال کی ہوئی، تو مجھے احساس ہوا کہ اس سوچ میں کچھ خرابی ہے؛ اس ضد سے نقصان کسی اور کا نہیں بلکہ صرف میرا ہی ہو رہا تھا ۔ خیر، اس کے باوجود میں خواتین کے حقوق، ان کی عزتِ نفس اور خود داری کے معاملات میں بہت سنجیدہ تھی ۔

اس کے علاوہ، میں 2019 سے ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنا رہی ہوں۔ جب میں نے 2022 میں اسلام قبول کیا، تو اس وقت ٹک ٹاک پر میرے تقریباً 20 لاکھ (2 ملین) فالوورز تھے۔ میں مختلف قسم کا مواد جیسے گانے اور ڈانس وغیرہ شیئر کرتی تھی، لیکن کچھ بھی نازیبا نہیں ہوتا تھا ۔ میں گانوں کا روسی زبان میں ترجمہ بھی کرتی تھی اور ساتھ ہی خواتین کے حقوق پر بات کرتی تھی ۔ اور ہاں، میں جانوروں اور خاص طور پر بلیوں سے بے پناہ محبت کرتی ہوں، اور میری یہ عادت میری کہانی میں آگے چل کر بہت اہم ثابت ہوئی۔

میزبان: تو پھر حجاب اور اسلام کی طرف آپ کا یہ سفر کیسے شروع ہوا؟

نکی: 2021 کے آغاز میں، میں اپنے شہر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک ہسپانوی ٹی وی سیریل "ایل پرنسیپے" (El Principe) دیکھ رہی تھی ۔ اس میں ایک عرب یا مراکشی لڑکی کا کردار تھا جو بہت خوبصورت شفون کے اسکارف (حجاب) پہنتی تھی ۔ میں اس وقت مسلم نہیں تھی، نہ ہی میں نے کبھی حجاب کے بارے میں سوچا تھا ۔ لیکن مجھے وہ اسکارف اتنے پسند آئے کہ میں نے اپنی ماں سے کہا، "دیکھو یہ کتنا خوبصورت لگ رہا ہے!" میری ماں نے بھی ہامی بھری ۔ میں بازار گئی، ایک عام سا اسکارف خریدا اور مجھے اس سے محبت ہو گئی ۔ وہ اتنا آرام دہ تھا کہ میں نے اسے پہن کر ٹک ٹاک پر حجاب ٹیوٹوریل بنانا شروع کر دیے ۔ لوگ اسے پسند کرنے لگے، لیکن اس وقت میرے لیے وہ صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔

پھر اسی سال اگست میں، میرے دفتر میں ایک نئے مسلم ملازم آئے۔ ایک دن میں نے ان سے یوں ہی گپ شپ میں ایک عجیب سا سوال پوچھ لیا کہ "کیا مسلمان واقعی واش روم جانے کے بعد اپنے نجی حصوں کو پانی سے صاف کرتے ہیں؟" انہوں نے کہا "جی ہاں"۔ میں بہت متاثر ہوئی کیونکہ میں صفائی کے معاملے میں ایسی ہی سوچ رکھتی تھی ۔ پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا، "عیسائیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کیا مقام ہے؟" میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا، "وہ ایک پیغمبر ہیں" ۔ اس پر وہ چونک گئے اور بولے، "لیکن میں نے جن عیسائیوں سے بھی بات کی ہے، وہ تو کہتے ہیں کہ معاذ اللہ عیسیٰ ہی خدا ہیں" ۔ میں نے کہا، "نہیں، وہ لوگ غلط کہہ رہے ہوں گے، مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ایک پیغمبر ہیں" ۔

اس گفتگو کے بعد میں نے گوگل پر سرچ کیا کہ عیسائیت میں عیسیٰ علیہ السلام کا کیا تصور ہے ۔ جب میں نے دیکھا کہ عیسائی واقعی انہیں خدا مانتے ہیں، تو میں دنگ رہ گئی ۔ میں نے اپنی ماں کو فون کر کے پوچھا، تو انہوں نے بھی کہا کہ "وہ تو ایک پیغمبر تھے" ۔ پھر میں نے گوگل کیا کہ "اسلام میں عیسیٰ کون ہیں؟" تو جواب آیا: "ایک پیغمبر" ۔ یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی ۔

چونکہ میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن تھی، اس لیے میں نے اسلام میں خواتین کے حقوق، طلاق، اسقاطِ حمل اور دیگر قوانین کے بارے میں بڑے پیمانے پر سرچ کرنا شروع کیا ۔ میں جو کچھ بھی اسلام کے بارے میں پڑھتی، میرا دل پکار اٹھتا، "بالکل! یہ لوگ کتنے سچے ہیں، میری سوچ بھی بالکل ایسی ہی ہے" ۔ اس کے برعکس جب میں عیسائیت کے قوانین پڑھتی، تو مجھے لگتا کہ میں اس پر یقین نہیں رکھ سکتی ۔ تحقیق کے دوران کچھ جگہوں پر مجھے اسلام کے بارے میں غلط معلومات اور مضحکہ خیز پروپیگنڈا بھی ملا، لیکن چونکہ اسلام کی اصل روح میرے دل اور عقل کے بہت قریب ہو چکی تھی، اس لیے میں فوراً سمجھ جاتی تھی کہ یہ جھوٹ ہے، کیونکہ اسلام سراسر منطقی ہے ۔

میزبان: سبحان اللہ! یعنی آپ کی فطرت پہلے ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق تھی؟

نکی: بالکل! سچ تو یہ ہے کہ میں پہلے سے ہی خدا پر اسی طرح یقین رکھتی تھی جیسے مسلمان رکھتے ہیں ۔ بس مجھے جنات (Jinn) کے بارے میں نہیں معلوم تھا، جو مجھے بعد میں پتہ چلا ۔ باقی سب کچھ میرے ذہن میں پہلے سے موجود تھا، اسلام نے بس اس کی تصدیق کر دی ۔ اس کے بعد میں نے بائبل پڑھنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے پرانے مذہب کو بھی سمجھوں، لیکن بائبل کو جتنا زیادہ میں نے پڑھا، مجھے اتنا ہی شدت سے احساس ہوا کہ مجھے اسلام کی طرف جانا چاہیے ۔

نومبر 2021 میں، مجھے ایک گانے کی تشہیر کا اشتہار ملا جس میں مجھے تین چیزوں کا موازنہ کرنا تھا ۔ میں نے تین مذاہب: یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا موازنہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس ویڈیو پر بہت زیادہ ویوز اور کمنٹس آئے، اور لوگ مجھ سے مذاہب کے بارے میں سوالات پوچھنے لگے ۔ چونکہ میں پہلے ہی تحقیق کر رہی تھی، میں نے ان کے جوابات میں ویوز بنانا شروع کر دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے میرا سارا کنٹینٹ مذہبی نوعیت کا ہو گیا ۔

پھر ماسکو کی ایک لڑکی نے مجھے میسج کیا اور پوچھا، "کیا تم یہاں ایک مدرسے میں آنا چاہوگی؟" میں وہاں چلی گئی ۔ شروع میں انہوں نے مجھے کلمہ پڑھانے (شہادت دینے) کے لیے تھوڑا اصرار کیا، جس سے میں گھبرا گئی اور وہاں سے چلی آئی ۔ لیکن کچھ دن بعد میں دوبارہ گئی اور باقاعدہ کلاسز لینا شروع کر دیں ۔ مارچ 2022 کے آغاز میں، میں نے سوچا کہ "میں اب کس سے جھوٹ بول رہی ہوں؟ جب میں دل سے مان چکی ہوں کہ اسلام سچا ہے، تو مجھے دیر نہیں کرنی چاہیے"۔ بس ایک بات مجھے روک رہی تھی کہ اسلام لانے سے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور یہ موقع زندگی میں ایک ہی بار ملتا ہے، اگر بعد میں مجھ سے گناہ ہو گیا تو کیا ہوگا؟ لیکن جب مجھے توبہ اور استغفار کے خوبصورت تصور کا علم ہوا، تو میری آخری ہچکچاہٹ بھی دور ہو گئی ۔

میں نے اپنے اسٹوڈیو میں تنہا بیٹھے ہوئے، اپنے دل میں اور اونچی آواز میں خدا سے باتیں کیں ۔ میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان اور شور تھا، جیسے میں کسی ہجوم میں کھڑی ہوں ۔ لیکن جیسے ہی میں نے زبان سے کلمہ شہادت ادا کیا، وہ سارا شور ایک سیکنڈ میں غائب ہو گیا ۔ ایک مکمل اور گہرا سکون چھا گیا ۔ ظاہری طور پر کچھ نہیں بدلا تھا، لیکن میں بدل چکی تھی، میں مسلمان ہو چکی تھی ۔ میں نے فوراً اپنا حجاب درست کیا، اپنی گردن کو ڈھانپا اور مدرسے والوں کو میسج کیا ۔ انہوں نے مجھے نماز پڑھنا سکھائی اور اس دن کے بعد سے مجھے اپنے فیصلے پر کبھی پچھتاوا نہیں ہوا، زندگی میں صرف امن اور ایمان کی مضبوطی آئی ہے، الحمدللہ ۔

میزبان: ماشاء اللہ، بہت ہی خوبصورت سفر ہے۔ اچھا، نکی، آپ نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ آپ کو ماسکو میں کسی ناخوشگوار واقعے کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی وجہ سے آپ نے حجاب یا برقعے کے بارے میں سوچا تھا؟ نکی: جی ہاں، یہ 2017 کی بات ہے جب میں پہلی بار پڑھنے کے لیے ماسکو آئی تھی ۔ یونیورسٹی کے پہلے ہی دن ایک مرد نے مجھے ہراساں کرنے (Harass) کی کوشش کی ۔ الحمدللہ، میں کسی طرح اس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی، لیکن میں شدید صدمے اور تناؤ میں تھی ۔ میں نے کوئی مختصر یا نازیبا کپڑے نہیں پہنے تھے، میں نے ایک لمبی اسکرٹ اور پوری آستینوں والی جیکٹ پہن رکھی تھی، یعنی لباس کافی باوقار تھا ۔ میں روتی ہوئی ماسکو کی سرکلر ٹرین میں بیٹھ گئی اور دو چکر لگائے ۔ اس وقت صدمے کی حالت میں پہلی بار میرے ذہن میں آیا کہ "کاش میرے پاس برقعہ ہوتا اور میں اسے پہن لیتی" ۔ مجھے نہیں معلوم اس وقت یہ خیال کیوں آیا، اور اس وقت ماسکو میں برقعہ ملنا بھی مشکل تھا، لیکن وہ پہلی بار تھا جب میں نے اس طرح کے پردے کے بارے میں سوچا ۔

جب میں نے مسلمان ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر خواتین کے حقوق اور حجاب پر ویڈیوز بنانا شروع کیں، تو مجھے بہت نفرت (Hate) کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں لڑکیوں کے پیغامات آئے کہ "آپ کی ویڈیوز نے ہمیں اسلام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا" ۔ کئی لڑکیوں نے تو اسلام پر تحقیق کر کے کلمہ بھی پڑھ لیا، الحمدللہ ۔ اس لیے میں کہتی ہوں کہ سوشل میڈیا پر اسلام کی بات کرنا کبھی رائیگاں نہیں جاتا ۔

میزبان: روس میں ایک مسلم خاتون یا حجابی کے طور پر زندگی گزارنا کیسا ہے؟ کیا وہاں اسلامو فوبیا (Islamophobia) کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

نکی: دیکھیے، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ خود کو کیسا محسوس کراتے ہیں ۔ روس کے لوگوں کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ ہمارے چہرے کے تاثرات بہت سخت ہوتے ہیں، ہم عوامی مقامات پر مسکراتے نہیں ہیں ۔ اگر کوئی بلاوجہ مسکرائے تو اسے بے وقوف سمجھا جاتا ہے ۔ اوپر سے یہاں کا موسم اکثر ابر آلود اور سورج کی روشنی سے محروم رہتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اور بھی غصیلا دکھائی دیتے ہیں ۔ اب اگر آپ خود حجاب میں پرعتماد نہیں ہیں، تو آپ کو لگے گا کہ ہر کوئی آپ کو حقارت یا غصے سے دیکھ رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ بس اپنے موڈ میں ہوتے ہیں اور انہیں آپ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔

جہاں تک انٹرنیٹ کا تعلق ہے، تو لوگ ہر چیز پر نفرت پھیلاتے ہیں ۔ اگر میں اپنی باڈی دکھاؤں تو لوگ باڈی شیمنگ کریں گے، میک اپ سکھاؤں تو میک اپ پر تنقید کریں گے ۔ یوٹیوب پر صرف قدرتی مناظر اور پرندوں کی آوازوں والی ویڈیوز پر بھی ہزاروں ڈسلائیکس ہوتے ہیں، تو لوگوں کا کام ہی نفرت کرنا ہے ۔ روس میں اسلام اکثریت کا مذہب نہیں ہے، اس لیے لوگ اس سے تھوڑا خوفزدہ یا دور رہتے ہیں، لیکن یہ اسلامو فوبیا نہیں بلکہ محض انجان ہونے کا ڈر ہے؛ انسان جس چیز کو نہیں جانتا، اس سے ڈرتا ہے ۔ مجھے ذاتی طور پر کبھی کسی حقیقی نفرت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔

اور ہاں، بلیوں والی بات! جب میں نے اسلام میں بلیوں کا مقام دیکھا تو میرا دل خوش ہو گیا ۔ میں نے وہ واقعہ یا حدیث پڑھی تھی کہ ایک بار ایک بلی کپڑے کے ایک ٹکڑے (آستین) پر سو رہی تھی، تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (یا کسی بزرگ شخصیت) نے بلی کو جگانے کے بجائے کپڑے کے اس حصے کو کاٹ دیا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے کیڑے مکوڑوں کا بھی خیال رکھتے تھے کہ ان پر پاؤں نہ آئے ۔ میں بھی بالکل ایسی ہی ہوں، اور یہ جان کر مجھے لگا کہ ہم واقعی سچے راستے پر ہیں.

میزبان: آپ کو حجاب پہننے کا یہ زبردست اعتماد کیسے ملا؟

نکی: حجاب خود اپنے اندر ایک ایسا تحفہ ہے جو آپ کو اعتماد دیتا ہے ۔ یہ ایک ڈھال (Shield) ہے ۔ جب میں حجاب میں ہوتی ہوں، تو کوئی مجھے میری جسمانی بناوٹ، وزن یا رنگت سے جج نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی کمنٹ کرے گا بھی تو میرے حجاب پر کرے گا، میری اصل باڈی یا چہرے پر نہیں، جسے میں بدل نہیں سکتی ۔ حجاب نے مجھے ذہنی سکون دیا ہے اور باڈی ڈیسمورفیا (اپنے جسم سے نفرت کرنے کی بیماری) سے بچایا ہے ۔ اب تو یہ میری زندگی کا اس طرح حصہ بن چکا ہے جیسے عام لوگ پتلون یا قمیص کے بغیر باہر جانے کا تصور نہیں کر سکتے، میں حجاب کے بغیر باہر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔ یہ کوئی قید نہیں بلکہ آزادی ہے ۔ میزبان: اگر کوئی مغربی خاتون آپ سے کہے، "اسلام میں دلچسپی تو ہے، لیکن میں مسلمان ہو کر اپنے حقوق نہیں کھونا چاہتی، میں مظلوم نہیں بننا چاہتی،" تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟

نکی: (مسکراتے ہوئے) یہ تو میرا پسندیدہ موضوع ہے! میں اس خاتون سے کہوں گی کہ ذرا بیٹھو اور میری بات سنو ۔ مغربی فیمنسٹ پچھلے 50 یا 100 سالوں سے جن حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں، اسلام نے مسلم خواتین کو وہ حقوق 1500 سال پہلے ہی دے دیے تھے ۔

مثال کے طور پر، روس اور مغرب میں اگر میاں بیوی میں طلاق ہو جائے، تو مرد اکثر بچوں کا خرچہ نہیں دیتے یا بہت معمولی دیتے ہیں، اور عورت کو اکیلے کام کر کے بچوں کو پالنا پڑتا ہے ۔ لیکن اسلام میں 50/50 کا کوئی تصور نہیں ہے، مرد پر لازم ہے کہ وہ خاندان اور بچوں کا پورا خرچہ اٹھائے، چاہے طلاق ہی کیوں نہ ہو جائے ۔

اس کے علاوہ اسلام میں عورت کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق ہے، زبردستی کی شادی اسلام میں باطل ہے ۔ عورت کو طلاق کا حق ہے، طبی بنیادوں پر اسقاطِ حمل کی اجازت ہے (جبکہ کئی عیسائی ممالک جیسے مالٹا، فلپائن وغیرہ میں یہ اب بھی سخت ممنوع ہے) ۔ اسلام میں مرد اور عورت دونوں پر تعلیم حاصل کرنا فرض ہے ۔ عورت اپنی جائیداد کی اکیلی مالک ہو سکتی ہے، وراثت میں حصہ لے سکتی ہے اور اپنے مال کو جیسے چاہے استعمال کرے، مرد اس میں مداخلت نہیں کر سکتا ۔

میں اسے تاریخ کی عظیم مسلم خواتین کی مثالیں دوں گی: جیسے فاطمہ الفہری، جنہوں نے دنیا کی پہلی اور قدیم ترین یونیورسٹی قائم کی جو آج بھی چل رہی ہے ۔ رفیدہ الاسلمیہ، جو پہلی خاتون سرجن اور طبیبہ تھیں ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا، جو ایک عظیم اور معزز کاروباری خاتون تھیں ۔ لبنیٰ قرطبہ، جو مترجم اور سائنسدان تھیں، اور ست الملوک جو ریاضی دان تھیں ۔ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی ایک 43 جلدوں پر مشتمل تحقیق ہے، جس میں انہوں نے 10,000 سے زائد ایسی مسلم خواتین کا ذکر کیا ہے جو احادیث کی راوی اور جید اسکالرز تھیں ۔ اسلام سے پہلے عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا، اسلام نے آ کر اس تاریکی کو ختم کیا اور عورت کو عزت دی ۔

میزبان: یقیناً وہ چار شادیوں کے بارے میں بھی پوچھے گی، اس کا کیا جواب دیں گی؟

نکی: ہاں، یہ سوال ہمیشہ آتا ہے ۔ میں کہوں گی کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی عام بات یا فرض نہیں ہے، بلکہ ایک استثنائی اجازت ہے ۔ اسلام میں شرط ہے کہ آپ تمام بیویوں کے ساتھ یکساں انصاف کریں، ان کے لیے الگ گھر، کھانا اور برابر کا خرچہ دیں، جو کہ ایک بہت بڑی مالی اور اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ آج کل یا تو بہت امیر لوگ ایسا کرتے ہیں جو الگ محلات اور پرائیویٹ جیٹ دے سکتے ہیں، یا پھر انتہائی غریب ممالک میں جہاں قحط اور جنگ کی وجہ سے خواتین بے سہارا ہوتی ہیں، وہاں مرد دوسری شادی ان کو چھت اور کھانا فراہم کرنے کے لیے کرتے ہیں ۔ عام زندگی میں آپ جتنے بھی مسلمانوں سے ملیں گے، ان کی ایک ہی بیوی ہوتی ہے اور وہ اسی کے ساتھ خوش رہتے ہیں ۔

میزبان: آپ کو اسلام کی کون سی بات سب سے زیادہ پسند ہے؟

نکی: یہ کہ اسلام سراسر منطقی (Logical) اور عقلی ہے ۔ جب میں نے مطالعہ شروع کیا، تو میں سوچ رہی تھی کہ شاید دیگر مذاہب کی طرح یہاں بھی کوئی تضاد یا غیر منطقی بات ملے گی، لیکن مجھے ایک بھی ایسی چیز نہیں ملی ۔ سب کچھ اپنی جگہ بالکل درست اور عقل کے مطابق ہے ۔ میں سائنس کی بہت بڑی مداح ہوں اور روس کی بہترین یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوں ۔ قرآن پاک میں کائنات کے بارے میں جو سائنسی حقائق بیان کیے گئے ہیں، انہیں پڑھ کر کوئی بھی عقل مند انسان یہ جان لے گا کہ یہ 1500 سال پہلے کسی انسان کا لکھا ہوا نہیں ہو سکتا، یہ صرف خدا کا کلام ہے ۔

میزبان: انٹرویو کے اختتام پر، اگر آپ کے سامنے یہ مائیکروفون ہو اور دنیا کے تمام 8 ارب لوگ آپ کو سن رہے ہوں، تو آپ ان سے کیا کہیں گی؟

نکی: غیر مسلموں سے میں یہ کہوں گی کہ: "اسلام کو ایک موقع ضرور دیں!" تمام پرانے تعصبات، دقیانوسی تصورات (Stereotypes) اور میڈیا کے پروپیگنڈے کو اپنے ذہن سے نکال کر، ایک صاف ذہن کے ساتھ خود اسلام کا مطالعہ کریں ۔ جب آپ اسے سمجھ لیں گے، تو آپ کا دماغ کبھی اس سچائی کا انکار نہیں کر پائے گا کیونکہ یہ سراسر حقیقت پر مبنی ہے.

اور اپنے مسلم بہن بھائیوں سے میں کہوں گی کہ: "اپنے ایمان پر قائم رہیں اور ہمت نہ ہاریں" ۔ یہ دنیا آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گی، لیکن یاد رکھیں کہ اسلام ایک دن میں کامل بننے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ روزانہ کی ایک مسلسل کوشش ہے ۔ اگر آپ سے کبھی نماز چھوٹ جائے، حجاب اتر جائے، یا کوئی گناہ سرزد ہو جائے، تو مایوس مت ہوں؛ فوراً سچے دل سے توبہ کریں اور دوبارہ کوشش شروع کر دیں ۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے ۔

میزبان: نکی، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ سے گفتگو کر کے بہت خوشی ہوئی۔

نکی: آپ کا بھی بہت شکریہ!

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : (ادارہ)
| | |
36