(+92) 319 4080233
کالم نگار

ثناءاللہ حسین،صوابی

ثناءاللہ حسین،صوابی

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/08
موضوعات
مسبحات کے راز
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ قرآن مجید کی جو سورتیں تسبیح سے شروع ہوتی ہیں جنہیں "المسبحات" کہا جاتا ہے، ان میں اکثر اہل اِیمان کو دین کی نصرت میں سستی کرنے یا دنیا کی زینت میں مشغول ہو جانے پر پیار بھرا عتاب (تنبہ/ڈانٹ) پایا جاتا ہے؟

ہمارے پاس ایسی 5 سورتیں ہیں جو تسبیح سے شروع ہوتی ہیں اور انہیں "المسبحات" کہا جاتا ہے۔ ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رات (سونے سے پہلے) ان کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔نبی کریم ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک "المسبحات" نہ پڑھ لیتے۔ آپ ﷺ فرماتے تھے: "ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔"

ان سورتوں کی تفصیل درج ذیل ہیں:

1. سورہ الحدید: سستی اور تاخیر پر عتاب

یہ سور ۃ (سَبَّحَ لِلَّهِ...) سے شروع ہوتی ہے تاکہ کائنات پر اللہ کی مکمل ملکیت کو ثابت کیا جائے، پھر اس کے فوراً بعد راہِ خدا میں مال خرچ کرنے اور قربانی دینے میں تاخیر پر عتاب آتا ہے:

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

"اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث تو صرف اللہ ہی کے لیے ہے..." (سورہ الحدید: 10)

اور اسی سورت میں وہ آیت بھی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے:

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

"وہی اول ہے اور وہی آخر، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن، اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔" (سورہ الحدید: 3)

پیغام: اگر تم (دین کے لیے) جان و مال دینے میں تاخیر کرو گے تو یاد رکھو اللہ تمہارا محتاج نہیں ہے، وہ زمان و مکان پر محیط ہے، لیکن یہ انفاق (خرچ کرنا) خود تمہارے اپنے نفس کا تزکیہ ہے۔

2. سورہ الحشر: مادی اسباب پر بھروسہ کرنے پر عتاب

یہ سورت تسبیح سے شروع ہوتی ہے اور اللہ کی اس قدرت کا نقشہ کھینچتی ہے جس نے کافروں کو ان کے مضبوط قلعوں کے باوجود ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ یہاں عتاب مومنوں کے "یقین" کو درست کرنے کے لیے ہے؛ یہ مت سمجھو کہ مادی اسباب یا مضبوط قلعے اللہ کے عذاب کو روک سکتے ہیں۔

سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ * هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِن دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُجُوا ۖ وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا...

"آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔ وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے ہی حشر (پہلی جلاوطنی) میں نکال باہر کیا۔ تمہارا گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکلیں گے، اور وہ خود بھی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے، پس اللہ ( کا عذاب) ان پر وہاں سے آیا جہاں سے ان کا وہم و گمان بھی نہ تھا..." (سورہ الحشر: 1-2) پیغام: یہاں تسبیح اہل ایمان کے دلوں میں "توکل اور بھروسے" کے قبلے کو دوبارہ درست کرتی ہے۔

3. سورہ الصف: قول اور فعل کے تضاد پر عتاب

یہ سورت بھی تسبیح سے شروع ہوتی ہے اور فوراً ہی عتاب کے اصل نکتے پر آ جاتی ہے:

سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ * يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ

"آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔ اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود کرتے نہیں؟" (سورہ الصف: 1-2)

پیغام: پوری کائنات اپنے وجود اور اپنے کام کے کامل تال میل (انسجام) کے ساتھ اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ تو پھر ایک مومن اس کائناتی تال میل سے باہر کیسے نکل سکتا ہے کہ اس کا قول اس کے فعل کے خلاف ہو؟

4. سورہ الجمعہ: عارضی اور فانی دنیا میں مشغولیت پر عتاب

اس سورت کا آغاز اللہ کی عظیم صفات (الملک، القدوس، العزیز، الحکیم) کی تسبیح سے ہوتا ہے، اور پھر ان مومنین کو عتاب کیا جاتا ہے جو جمعہ کے خطبے اور ذکرِ الٰہی کو چھوڑ کر تجارتی قافلے اور رونق کی طرف متوجہ ہو گئے تھے:

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ... وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ۚ قُلْ مَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ۚ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

"آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ، نہایت پاک، زبردست اور حکمت والا ہے... اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ کو (منبر پر) کھڑا ہی چھوڑ دیا۔

آپ فرما دیجیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے، اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔" (سورہ الجمعہ: 1 اور 11)

پیغام: اللہ تمہاری عبادت کا محتاج نہیں ہے، کائنات کی تمام مخلوقات آغازِ تخلیق ہی سے اس کی تسبیح کر رہی ہیں۔ جمعہ تو تمہاری اپنی تعلیم، تذکیہ اور تربیت کا ایک موقع ہے، نہ کہ اللہ کو اس کی ضرورت ہے۔

5. سورہ التغابن: اہل و عیال اور اولاد میں حد سے زیادہ مشغولیت پر عتاب

یہ سورت اس بیان سے شروع ہوتی ہے کہ بادشاہی اور تعریف سب اللہ ہی کے لیے ہے، اور پھر مال اور اولاد کے اس فتنے (آزمائش) سے ڈراتی ہے جو اللہ کے ذکر سے غافل کر دیتا ہے:

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ... يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ... إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ

"آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے... اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور تمہاری اولاد تمہاری دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہو... تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو بس ایک آزمائش ہیں، اور اللہ ہی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔" (سورہ التغابن: 1، 14، 15)

پیغام: فانی چیزوں کو باقی رہنے والی چیزوں پر ترجیح دے کر اپنے نفس پر ظلم مت کرو (یعنی خود کو خسارے/تغابن میں مت ڈالو)۔ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور وہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ ان سورتوں کے شروع میں "تسبیح" محض ایک روایتی شروعات نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کی بے نیازی، غنا اور اس کی عظمت کا اعلان ہے۔ تاکہ اس کے بعد آنے والا عتاب (ڈانٹ) کسی "محتاجی" کی وجہ سے نہ لگے، بلکہ "تربیت اور محبت" کے باب سے ہو، تاکہ ہمارے اندر دنیا کی وجہ سے جو بگاڑ پیدا ہو گیا ہے، یہ تسبیح اس کا علاج کر سکے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو قرآن مجید میں تدبر کرنے والا اور اس کے ذریعے رحم کیا جانے والا بنائے۔ آمین!

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : ثناءاللہ حسین،صوابی
| | |
33