(+92) 319 4080233
کالم نگار

H.M.Zakariyya

H.M.Zakariyya

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/07
موضوعات
ایک منفرد اسکول
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع ایک ایسے منفرد اسکول کی کہانی جو روایتی تعلیمی نظام کے بت توڑ رہا ہے۔ ڈان نیوز (Dawn) کے ایک حالیہ مضمون میں "VM Public School" کے اس انقلابی ماڈل کو اجاگر کیا گیا ہے، جسے "صالح محمد الٰہی بخش ٹرسٹ" (ZVMG Khanani Family Trust) انتہائی خلوصِ نیت کے ساتھ چلا رہا ہے۔

یہ صرف ایک اسکول نہیں، بلکہ بچوں کے اندر چھپے "قدرتی ٹیلنٹ" (Natural Talent) کو دریافت کرنے اور اسے نکھارنے کی ایک زندہ مثال ہے۔

یہاں بچے صرف کتابوں سے پودوں کا ذکر نہیں پڑھتے، بلکہ اسکول کے مالی (Gardener) کے گرد جمع ہو کر خود مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں، کھاد بنانا اور پودے اگانا سیکھتے ہیں۔ وہ صرف یہ نہیں سیکھتے کہ کام "کیسے" کرنا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ "کیوں" کرنا ہے۔ اسکول کی پرنسپل، مریم مکھی (ایم اے ایجوکیشن، یونیورسٹی آف سسیکس، برطانیہ) کا ماننا ہے کہ سیکھنے کا عمل صرف انگریزی زبان یا کلاس روم کا محتاج نہیں، یہ ہر جگہ اور آپ کی اپنی زبان (اردو) میں بھی ہو سکتا ہے۔

ٹرسٹ کی بھاری سبسڈی کی بدولت یہ اسکول خسارے کے باوجود چلایا جا رہا ہے تاکہ غریب اور مڈل کلاس طبقے کا بچہ بھی بین الاقوامی معیار کی تعلیم حاصل کر سکے۔ یہاں تیر اندازی (Archery)، فٹسال (Futsal)، کوکنگ، بیکنگ، اور آرٹ اینڈ کرافٹ سکھایا جاتا ہے تاکہ ہر بچے کی ہمہ جہت ترقی ہو سکے۔

یہاں امتحانات صرف نمبر گیم نہیں ہیں، بلکہ یہاں 'Assessment for Understanding' یعنی بچے کی حقیقی سمجھ بوجھ اور پراجیکٹ بیسڈ لرننگ پر توجہ دی جاتی ہے۔

اسکول کی راہداریوں میں یہاں سے پڑھ کر نکلنے والے کامیاب طلبہ کی تصاویر لگی ہیں، جو روزانہ نئے بچوں کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ "اگر یہ کر سکتے ہیں، تو تم بھی کر سکتے ہو!"

ہر بچہ ایک خاص ٹیلنٹ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے"۔ جب تک بچوں کو ایسا پریکٹیکل اور تجرباتی (Experiential) ماحول نہیں ملے گا، ان کی پوشیدہ صلاحیتیں (Aptitude) کبھی سامنے نہیں آ سکتیں۔ VM Public School کا یہ ماڈل ثابت کرتا ہے کہ جب تعلیم کو پراجیکٹ بیسڈ اور عملی بنایا جائے، تو بچوں کی شخصیت میں چھپا اصل جوہر کھل کر سامنے آتا ہے۔

صحیح وقت پر صحیح رہنمائی ہی آپ کے بچے کو ایک عام طالب علم سے ایک غیر معمولی پروفیشنل بنا سکتی ہے۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : H.M.Zakariyya
| | |
37