(+92) 319 4080233
کالم نگار

یونس یاسین

یونس یاسین

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/07
موضوعات
یوم تاسیس دارالعلوم دیوبند
اگر آپ کا ذہن اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ مدرسہ دیوبند کی بنیاد محض رسمی طور پر ہوئ تھی کہ جس طرح دیگر مدارس چل رھے ہیں یوں ہی محض " تعلیم " کے واسطے ایک مدرسے کا اضافہ کیا جائے تو اس فہم کی خطا کو درست کر لیجیے ...دارالعلوم دیوبند کا مقصد محض تعلیم نہیں تھا بلکہ تعلیم اسکے مقصد کا ایک جز ہے ..مقصود فرینگی سے بغاوت اور اسلامی نظام کیلیے ہر طرح کی کوشش کرنا تھا اس مقصود کے حصول کو ہر قیمت پر حاصل کرنا اس مدرسہ کا بنیادی مقصد تھا ۔

دیوبند سے تمام تحریکیں اسی مقصود کے حصول کیلیے چلائ گئیں انکے بڑوں کے ایسے اقوال موجود ہیں کہ ہم اس جد وجھد کے مکلف ہیں اگر اس جرم کی پاداش میں مدرسہ بند ہوتا ہے تو بند ہوجائے ...میں سمجھتا ہوں نفاذ اسلام کے اس مقصود کی پہلی کامیابی دیوبند کو افغانستان میں حاصل ہوئ جھ....اد کے ذریعہ سے ..پاکستانی مدارس بھی اسی مدرسے کی شاخیں ہیں سوچنے کی بات یہ ہیکہ ہم اس مقصود کے حصول کیلیے کس قدر سنجیدہ ہیں ؟ہماری سرگرمیاں کیا ام المدارس کی سرگرمیوں کے مشابہ ہیں یا نہیں ؟

نظام تعلیم . مالی معاملات . اھتمام کی ذمہ داریاں انکی شرائط . چندے کا نظام . یہ سب دیوبند کے اکابرین نے لکھ رکھے ہیں کیا ہمارے مدارس بھی ان اصولوں کو ملحوظ رکھ رھے ہیں یا نہیں ؟ان امور پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہیں ہم مقصود سے دور نکل کر منزل کے راستے کو ہی منزل نہ سمجھ بیٹھے ہوں ۔دار العلوم دیوبند میرے نزدیک مدرسے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک کا نام ہے جس سے کئ تحریکوں نے جنم لیا ۔

کالم نگار : یونس یاسین
| | |
44