(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/31
موضوعات
افریقی مسلمانوں کاایمان
افریقا کے کئی غریب اور دور افتادہ علاقوں میں ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ لوگ غربت، جہالت، بیماری اور بنیادی سہولیات کی محرومی کا شکار ہیں۔وہاں بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں نہ مسجد ہے، نہ مدرسہ، نہ عالمِ دین، نہ کوئی دینی معلم۔کئی علاقوں میں مسلمان بچوں نے برسوں سے قرآن صحیح پڑھنے والا استاد نہیں دیکھا۔لوگ علاج، تعلیم، پانی اور خوراک جیسی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترس رہے ہیں۔ایسے ماحول میں اہلِ فتنہ نے صرف عقیدہ نہیں پھیلایا بلکہ ایک مکمل نیٹ ورک قائم کیا۔

انہوں نے غریبوں میں راشن تقسیم کیا، کنویں کھدوائے، چھوٹے کلینک بنائے، بچوں کی فیسیں ادا کیں، اور پھر انہی سہولتوں کے سائے میں اپنے عقائد منتقل کرنا شروع کر دیے۔جہاں بھوکا انسان ایک وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہو، وہاں اگر کوئی اس کے بچے کی دوا، تعلیم یا کھانے کا بندوبست کرے تو وہ آہستہ آہستہ اس کے اثر میں آ جاتا ہے۔یہی زمینی حقیقت ہے جسے صرف نعروں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

کئی دیہات میں صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک ہی گھر کے افراد مختلف راستوں پر بٹ گئے ہیں۔باپ اپنے عقیدے پر قائم ہے مگر بیٹا فتنہ کا شکار ہو چکا ہے۔بہن مسلمان ہے تو بھائی قادیانی مرکز سے وابستہ ہو چکا ہے۔بعض جگہوں پر مسلمانوں کو سماجی دباؤ، مالی مجبوری اور تنہائی کی وجہ سے خاموشی اختیار کرنا پڑتی ہے۔

سب سے دردناک منظر یہ ہوتا ہے جب کوئی داعی یا دینی وفد ان علاقوں میں پہنچتا ہے اور مقامی مسلمان روتے ہوئے کہتے ہیں:“آپ لوگ بہت دیر سے آئے… ہمارے بچوں کو کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا…”یہ جملہ صرف شکوہ نہیں، یہ پوری امت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

حقیقت یہ بھی ہے کہ فتنہ نے صرف دیہات پر کام نہیں کیا بلکہ نوجوان نسل کو ہدف بنایا۔انہیں وظائف دیے گئے، بیرونِ ملک تعلیم کے مواقع دیے گئے، اور جدید سہولیات کے ذریعے ذہن سازی کی گئی۔جبکہ ہماری اکثریت ابھی تک صرف ردِّ عمل کی نفسیات میں زندہ ہے۔ہم اس وقت جاگتے ہیں جب پورا گاؤں ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا صرف غمگین پوسٹیں شیئر کر دینا کافی ہے؟کیا امت کا درد صرف آنسو بہانے سے ختم ہو جائے گا؟

ہرگز نہیں!آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ خیر، علماء، تاجر، میڈیا سے وابستہ افراد، اور صاحبِ حیثیت لوگ میدان میں آئیں۔افریقا اور دیگر متاثرہ علاقوں میں مساجد تعمیر ہوں، دینی مکاتب قائم ہوں، قرآن اور بنیادی اسلامی تعلیم پہنچے، صاف پانی کے منصوبے شروع ہوں، اور سب سے بڑھ کر مستقل داعی اور معلم وہاں موجود ہوں۔کیونکہ خالی جذبات سے نہیں، مسلسل محنت سے ایمان بچایا جاتا ہے۔

یاد رکھیے!جہاں اہلِ حق نہیں پہنچتے، وہاں باطل اپنی جگہ بنا لیتا ہےاور جب باطل خدمت کے لباس میں آئے تو کمزور اور محروم طبقات جلد اس کا شکار بن جاتے ہیں۔

آج بھی وقت ہے۔امت اگر جاگ جائے، درد کو محسوس کرے، اور اخلاص کے ساتھ میدان میں اتر آئے تو بہت سی بستیوں کے چراغ دوبارہ روشن ہو سکتے ہیں۔ورنہ آنے والی نسلیں شاید یہ سوال کریں کہ جب ایمان لٹ رہا تھا تو امت کہاں تھی؟

؎

وضاحت کر نہیں سکتا مگر آواز دیتا ہوں
کہ اس کرب و بلامیں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سیدِ کونین ﷺ کی امت کے دیوانے
کہ ناموسِ نبی ﷺ کے پاسبانوں کی ضرورت ہے

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
36