بیٹی نے کہا:
“بابا! عید میں پانچ دن رہ گئے ہیں، ہم نے ابھی تک کچھ بھی خریداری نہیں کی۔”
مولوی صاحب نے مسکرا کر کہا:
“اچھا میرا پتر! ابھی تو بہت دن ہیں، چاند رات سے ایک دن پہلے سب کچھ لے لیں گے۔”
مولوی صاحب یہ بات کر ہی رہے تھے کہ اذان کی آواز سنائی دی۔ وہ، جو بیٹی کو جھوٹی تسلی دینے پر شرمندگی سے نظریں جھکائے ہوئے تھے، فوراً مسجد کی طرف چل دیے۔
عید سے ایک دن پہلے جب مولوی صاحب ہر طرف سے ناامید ہوگئے — نہ مانگ سکتے تھے کہ عزتِ نفس آڑے آتی تھی، نہ قرض لے سکتے تھے کہ واپسی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی — اور کسی نے خود سے توجہ بھی نہ دی، کیونکہ آخر مولوی صاحب کے بچوں کے بھی کون سے دل ہوتے ہیں جو مچلتے ہوں؟ ان کے بھی کون سے احساسات ہوتے ہیں؟ وہ کون سا باہر نکلتے ہیں؟
مولوی صاحب، جو تاویلوں کے بے تاج بادشاہ تھے، دلیل تو جیسے ان کے گھر کی لونڈی تھی۔ سمجھانے میں ماہر تھے۔ جب کوئی انتظام نہ ہوا تو سوچنے لگے:
“آج جتنی منطق، استقراء اور قیاس پڑھا ہے، سب بروئے کار لا کر بیٹی کو قائل کروں گا کہ بیٹا! بڑی عید پر نئے کپڑے نہیں پہنے جاتے، یہ تو قربانی کی عید ہے۔”
لیکن دل میں دھڑکا بھی تھا کہ بیٹی بھی تو مولوی کی ہے، کہیں یہ نہ کہہ دے:
“قربانی بھی تو آپ نہیں کر رہے!”
خیر، سارا علم مستحضر کرکے گھر پہنچے تو بیٹیاں ہاتھوں میں پرچیاں لیے منتظر تھیں کہ بابا جان آج وعدے کے مطابق مطلوبہ چیزیں لے آئیں گے۔
جیسے ہی مولوی صاحب کھنکار کر اندر داخل ہوئے، مولویانی سمجھ گئی کہ آج بچوں کے دل ٹوٹنے والے ہیں۔ وہ جلدی سے پیاز لے آئی تاکہ پیاز کاٹنے کے بہانے آنسو بہا سکے۔
کیونکہ ماں تو ماں ہوتی ہے؛ اس کے آنسو اولاد کے لیے ہمیشہ پلکوں کی منڈیر پر بسیرا کیے رکھتے ہیں۔ مگر وہ نہ شوہر کو بیٹیوں کے سامنے ٹوٹتے دیکھ سکتی تھی، نہ بیٹیوں کو باپ کے سامنے۔
مولوی صاحب بیٹھے ہی تھے کہ چھوٹی بیٹی پرچی دینے لگی۔
مولوی صاحب نظریں جھکائے جرابیں اتارنے لگے اور ٹوپی لپیٹ کر رکھ دی، جو اس بات کی علامت تھی کہ اب دوبارہ باہر نہیں جانا۔
اتنے میں بڑی بیٹی نے چھوٹی کو بازو سے پکڑ کر اشارے سے روکا، اس کے ہاتھ سے پرچی لے کر اپنی پرچی میں رکھی اور چپکے سے چٹائی کے نیچے چھپا دی۔
یہ سب مولوی صاحب کن اکھیوں سے دیکھ رہے تھے، مگر نہ دیکھنے کی کمال فنکاری کر رہے تھے۔
مولویانی کے آنسو پیاز کے بہانے سیلِ رواں بنے ہوئے تھے، اور مولوی صاحب کا سارا علم صفر ہوگیا تھا۔ انہیں لگا جیسے وہ دنیا کے سب سے زیادہ جاہل، اجڈ اور ناکام انسان ہیں۔
اس سے پہلے کہ مولوی صاحب کچھ کہتے، بڑی بیٹی بولی:
“بابا جان! کل ہم نے نئے کپڑے نہیں لینے، کیونکہ بڑی عید تو قربانی کی عید ہے۔ اور کل آپ نے چاچو کے دو بیڑے بھی تو کرنے ہیں۔ ہم نے تو وہاں آپ کو قربانی کرتے دیکھنا ہے۔ سارا دن تو اسی میں گزر جائے گا، پھر ہم کپڑے کب پہنیں گے؟
چھوٹی عید کے کپڑے پڑے ہوئے ہیں، وہی پہن لیں گے۔”
وہ سارے دلائل، جیسے کسی نے کاپی پیسٹ کر دیے ہوں۔ اس وقت مولوی صاحب کو اپنی بیٹی دنیا کی سب سے زیادہ سمجھدار اور عالم فاضل لگی۔
بیٹی کی یہ بات سن کر مولوی صاحب نے نظریں اٹھائیں، ایک نظر بیٹی کے چہرے پر ڈالی۔ کچھ لمحوں کے لیے گردن فخر سے تن گئی، اپنی پگڑی کا شملہ بہت اونچا محسوس ہوا۔ مگر اگلے ہی لمحے بچیوں کی معصوم خواہشات کا یوں خودکشی کر دینا انہیں اندر سے توڑ گیا۔
انہیں اپنا آپ ایک بے حد ناکام باپ محسوس ہونے لگا، جو عید پر بھی بچوں کی ایک چھوٹی سی خواہش پوری نہ کرسکا۔
یہ برداشت نہ ہوا تو جلدی سے کمرے میں گئے، سونے کا بہانہ کیا، بستر میں گھس گئے، ہونٹ سی لیے، منہ بھینچ لیا، اور آنکھوں سے کہا:
“تم آزاد ہو… برس لو… ورنہ اندر کے غم کا سونامی مار ہی ڈالے گا۔”
صبح نماز سے واپس آئے تو چھوٹی بیٹی نے دس، بیس اور پچاس کے چند نوٹ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
“بابا! یہ پیسے ہیں۔ آپ ایسے کریں، بھائی کو کپڑے لے دیں۔ وہ کل آپ کے ساتھ مسجد جائے گا۔ وہ چھوٹا ہے، گلی میں کھیلے گا تو لوگ کیا کہیں گے؟”
یہ ایک اور دھماکہ تھا…مگر بہن کا بھائی کے لیے پیار کیا ہوتا ہے، مولوی صاحب سب سمجھ گئے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر مولوی حضرات کی زندگی اسی طرح کی کشمکش کا شکار ہوتی ہے۔ وہ شخص جو پورے محلے کو عید کی نماز پڑھاتا ہے، خود اپنے اور اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے بھی نہیں خرید سکتا۔
نہ ان کی تنخواہ پوری ہوتی ہے، نہ آمدن کا کوئی مستقل ذریعہ۔
ایسے میں ہمیں خود ان کی مدد کرنی چاہیے۔ ہم پندرہ سو روپے کا سوٹ پانچ ہزار میں تو خوشی خوشی خرید لیتے ہیں، مگر کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کے لیے ہزار بہانے تراشتے ہیں۔
بڑے پلازوں میں جا کر دو کوڑی کی چیز ہزاروں میں خرید لیتے ہیں، لیکن اگر کوئی غریب پچاس یا سو روپے مانگ لے تو فلسفے جھاڑنے لگتے ہیں۔
حالانکہ ایک دوسرے کی مدد ہی زندگی کا اصل حسن اور مقصد ہے۔
(نوٹ:سوشل میڈیا پرگردش کرتے ایک فرضی مکالمے کی ترتیب وتدوین)