(+92) 319 4080233
نوجوانانِ قوم کے نام
میرے عزیز نوجوان ساتھیو!

جوانی، اللہ رب العزت کی جانب سے عطا کردہ ایک بے مثال نعمت اور زندگی کا وہ درخشاں دور ہے جہاں انسان کی توانائیاں اوجِ کمال پر ہوتی ہیں۔ یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جو قوموں کی تقدیر بدلنے اور معاشروں کو سنوارنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ لیکن آج کا پرفتن دور، جہاں بے راہ روی، فحاشی اور نفسانی خواہشات کا سیلاب ہر سو امڈ آیا ہے، اس میں جوانی کی پاکیزگی اور تقدس کو برقرار رکھنا ایک عظیم چیلنج بن چکا ہے۔ آج کے نوجوان کو قدم قدم پر ایسے فتنوں کا سامنا ہے جو اس کی روحانی، اخلاقی اور جسمانی صحت کو نگلنے کے درپے ہیں۔ ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے اور ایک کامیاب، باوقار اور پاکیزہ زندگی گزارنے کے لیے چند نہایت اہم اور عملی ہدایات پیشِ خدمت ہیں، جنہیں اپنی زندگی کا جزوِ لاینفک بنا کر آپ دنیا و آخرت دونوں میں سرفراز ہو سکتے ہیں۔

پاکیزگی کا حصار: نکاح اور روزہ:
میرے عزیزو! سب سے پہلی اور بنیادی نصیحت یہ ہے کہ اگر حالات سازگار ہوں اور اسباب میسر آئیں، تو بلا تاخیر نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں۔ نکاح ایک ایسا پاکیزہ اور مضبوط رشتہ ہے جو انسان کو بے شمار گناہوں اور فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے، اور اسے ایک مستحکم اور پرسکون زندگی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ نہ صرف نفس کی پاکیزگی کا ضامن ہے بلکہ معاشرتی استحکام کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔

تاہم، اگر کسی معقول وجہ سے فوری طور پر نکاح ممکن نہ ہو تو ہرگز پریشان نہ ہوں۔ ایسے میں کثرت سے روزے رکھنے کا اہتمام کریں۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق، روزہ نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے اور نفس کو پاکیزہ بنانے کے لیے ایک بہترین ڈھال ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی طور پر انسان کو مضبوط کرتا ہے بلکہ روحانی طور پر بھی اسے تقویت بخشتا ہے، اور گناہوں کی طرف مائل ہونے سے بچاتا ہے۔

روحانی و قلبی طہارت کے زریں اصول:
اپنے دل اور روح کو شیطانی وسوسوں اور دنیاوی آلودگیوں سے بچانے کے لیے درج ذیل عادات کو اپنائیں:

ہمیشہ باوضو رہیں: وضو کی حالت میں رہنا انسان کو ایک غیبی حصار میں رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی طہارت کا ذریعہ ہے بلکہ روحانی پاکیزگی بھی عطا کرتا ہے، اور گناہوں کی طرف رغبت کو کم کرتا ہے۔

ذکرِ الٰہی کا اہتمام:
چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، ہر لمحہ اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھیں۔ اللہ کا ذکر دلوں کا زنگ دور کرتا ہے، انہیں سکون بخشتا ہے اور انہیں اللہ کی محبت سے سرشار کرتا ہے۔ یہ شیطانی وسوسوں کے خلاف ایک مضبوط قلعہ ہے۔

بدنظری سے مکمل اجتناب: نظر کا تیر سیدھا دل پر وار کرتا ہے اور اسے مجروح کر دیتا ہے۔ چاہے آپ سکرین پر ہوں یا بازار میں، اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور بدنظری کے زہر سے اپنے دل اور ایمان کو بچائیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مومن مردوں اور عورتوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ دل کی پاکیزگی کی بنیاد ہے۔

تنہائی سے گریز: یاد رکھیں کہ شیطان تنہا انسان کو سب سے زیادہ اور جلدی اپنا شکار بناتا ہے۔ اس لیے تنہائی میں فضول وقت گزارنے کے بجائے اچھے دوستوں، اہلِ خانہ اور نیک محفلوں میں وقت گزاریں۔ ایسی صحبت اختیار کریں جو آپ کو نیکی کی طرف راغب کرے اور برائی سے بچائے۔

اللہ سے تعلق اور مناجات:
دن کا کوئی ایک حصہ ایسا ضرور رکھیں جس میں آپ کا اور آپ کے رب کا براہِ راست، خالص اور گہرا رابطہ ہو۔ نفل اور توبہ: روزانہ دو رکعت نفل، سچی توبہ اور اپنی حاجات کی نیت سے ضرور پڑھیں۔ اللہ کے حضور گڑگڑا کر روئیں، اپنی خطاؤں کا اعتراف کریں اور معافی مانگیں۔ اللہ تعالیٰ نوجوانوں کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔

سید الاستغفار کا اہتمام: اپنے دن اور رات میں کثرت کے ساتھ سید الاستغفار پڑھنے کا معمول بنائیں۔ یہ گناہوں کی بخشش کا سب سے بہترین اور جامع کلمہ ہے، جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور اس کے دل کو پاک کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یقین کے ساتھ دن کے وقت اسے پڑھے اور شام ہونے سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ جنتی ہے، اور جو یقین کے ساتھ رات کو پڑھے اور صبح ہونے سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ جنتی ہے۔ (صحیح بخاری)

"اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّيْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوْءُ لَكَ بِذَنْبِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ"

ترجمہ:اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں ان (برے) کاموں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو میں نے کیے۔ میں تیرے سامنے ان نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر کیں اور میں اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔ جامع دعا کا ورد: اس مسنون دعا کو تو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنا لیں اور کثرت سے اس کا ورد کریں:اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْئَلُكَ الْهُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی(اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی اور غنا (دل کی تونگری) کا سوال کرتا ہوں)

جسمانی صحت اور روزمرہ کے معمولات:
مومن کا جسم بھی اللہ کی امانت ہے اور اس کی حفاظت کرنا سنتِ نبوی ﷺ اور ایمان کا تقاضا ہے۔

اوندھے منہ لیٹنے سے پرہیز: اوندھے منہ (پیٹ کے بل) لیٹنے سے سختی سے اجتناب کریں، چاہے آپ سو رہے ہوں یا ویسے ہی لیٹے ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کو ناپسندیدہ انداز ہے اور طبی لحاظ سے بھی اس کے نقصانات ہیں۔ نماز اور چہل قدمی: اپنے دن کا آغاز فجر کی باجماعت نماز سے کریں اور پنج وقتہ نمازوں کا سختی سے اہتمام کریں۔ نماز نہ صرف روحانی سکون کا باعث ہے بلکہ یہ جسمانی نظم و ضبط بھی سکھاتی ہے۔ فجر کے بعد سونا چھوڑ دیں اور کھلی فضا میں چہل قدمی کی عادت ڈالیں۔ یہ آپ کو دن بھر کے لیے تازہ دم اور چاک و چوبند رکھے گا۔

مثبت سرگرمیاں: اپنا فارغ وقت فضولیات اور لایعنی مشاغل میں ضائع کرنے کے بجائے مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا معمول بنائیں۔ کھیل کود، ورزش، مطالعہ اور ہنر سیکھنا جیسی سرگرمیاں آپ کی شخصیت کو نکھارتی ہیں۔ یاد رکھیں، ایک صحت مند جسم میں ہی ایک صحت مند اور پاکیزہ ذہن پروان چڑھتا ہے۔

میرے نوجوان دوستو!
یہ چند اعمال بظاہر سادہ معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کی تاثیر بہت گہری اور دور رس ہے۔ یہ آپ کی زندگی کو ایک نئی سمت دے سکتے ہیں اور آپ کو دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ آئیے، آج ہی سے ان ہدایات پر عمل کرنے کا پختہ عزم کریں اور اپنی جوانی کو اللہ کی رضا کے سانچے میں ڈھال لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو اور قدم قدم پر آپ کی راہ نمائی فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
38