(+92) 319 4080233
معاشرتی رواج کی زنجیریں اور ایک کروڑ چیخیں
“35 سال سے زائد عمر کی ایک کروڑ خواتین شادی کی منتظر: 35 سال سے زائد عمر کی ایک کروڑ خواتین شادی کی منتظر ہیں” — یہ محض ایک عدد نہیں، یہ ہمارے اجتماعی رویّوں، ترجیحات اور دینی فہم کی کمزوری کا آئینہ ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جسے ہم نظر انداز تو کر سکتے ہیں، مگر اس کے نتائج سے بچ نہیں سکتے۔ نکاح ایک مقدس عبادت: اسلام نے نکاح کو محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت قرار دیا ہے—ایسی عبادت جو فرد کی عفت، معاشرے کی پاکیزگی اور نسل انسانی کے تسلسل کی ضامن ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: “اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔” (سورۃ الروم: 21) ایک سوال: یہ “سکون”، “محبت” اور “رحمت” آج ہمارے معاشرے میں نایاب کیوں ہو رہے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نکاح کے قرآنی تصور کو ثقافتی بوجھ میں بدل دیا ہے۔ ہم نے آسان کو مشکل، سنت کو رسم، اور عبادت کو نمائش بنا دیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کی نہ صرف ترغیب دی بلکہ عملی نمونہ بھی پیش فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔”(مسند احمد) شادی :سادہ بندھن یا مہنگا منصوبہ؟ لیکن آج ہمارا معیار اس کے برعکس ہو چکا ہے۔ شادی ایک سادہ بندھن کے بجائے ایک مہنگا منصوبہ بن چکی ہے، جہاں: • لڑکی والوں پر جہیز کا دباؤ • لڑکے والوں کی غیر ضروری توقعات • خاندانی برتری اور ذات پات کا غرور • اور معاشی معیار کی دوڑ یہ سب عوامل مل کر نکاح میں غیر فطری تاخیر کا سبب بن رہے ہیں۔ نکاح کوآسان بنانا کس کی ذمہ داری؟ قرآن مجید میں ایک اور واضح ہدایت ہے: “اور غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کا نکاح کر دو…” (سورۃ النور: 32) یہ حکم صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری کی نشاندہی کرتا ہے۔ یعنی نکاح کو آسان بنانا صرف والدین یا افراد کا کام نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے “رشتہ” تلاش کرنے کے عمل کو بھی غیر اسلامی پیمانوں سے مشروط کر دیا ہے۔ دینداری اور کردار کے بجائے: • ملازمت کا سکیل • بیرون ملک قیام • جائیداد • ظاہری حسن یہ سب ترجیحات بن چکی ہیں۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے واضح اصول دیا: “جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کا نکاح کر دو…” (ترمذی) اگر ہم اس اصول کو نظر انداز کریں گے تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا جو آج ہمارے سامنے ہے—تاخیر، محرومی اور بے چینی۔ یہ مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی و نفسیاتی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ تاخیرِ نکاح کے نقصانات: • نکاح میں غیر ضروری تاخیر مرد وعورت میں ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے • غیر شرعی راستوں کی طرف میلان پیدا کرتی ہے • خاندانی نظام کو کمزور کرتی ہے لہٰذا اس مسئلے کو محض “سماجی خبر” سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔ یہ ایک سنجیدہ دینی، اخلاقی اور تمدنی بحران ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ مسئلہ ہے یا نہیں—سوال یہ ہے کہ ہم اس کے حل کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کرنے کاکام: ضرورت اس امر کی ہے کہ: • نکاح کو حقیقی معنوں میں سنت کے مطابق سادہ بنایا جائے • جہیز اور فضول رسومات کا عملی بائیکاٹ کیا جائے • والدین اپنی انا اور غیر ضروری شرائط کو ترک کریں • علماء اور سوشل لیڈرز اس مسئلے پر مسلسل آگاہی دیں • نوجوان نسل کو نکاح کی اہمیت اور ذمہ داری کا شعور دیا جائے اگر ہم نے آج اصلاح نہ کی تو آنے والا وقت مزید سنگین ہوگا، اور یہ “ایک کروڑ” کا ہندسہ ایک ناقابلِ کنٹرول بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔یہ لمحہ فکر کا ہے…یہ موقع اصلاح کا ہے…اور یہی وقت ہے سنتِ نبوی ﷺ کو عملی طور پر زندہ کرنے کا۔کیونکہ جب معاشرہ نکاح کو مشکل بنا دیتا ہے، تو پھر مسائل خود بخود آسان نہیں ہوتے—بلکہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
9     1