(+92) 321 2533925
سیرت طیبہ کا عملی پہلو
رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل کا زمانہ تاریکی، گمراہی اور اخلاقی زوال کا دور تھا۔ عرب کی سرزمین شرک و بت پرستی میں ڈوبی ہوئی تھی، اللہ کی وحدانیت کا تصور مٹ چکا تھا، اخلاق و کردار کی قدریں پامال ہو چکی تھیں۔ قتل و غارت، جوا، شراب نوشی، زنا اور ظلم و زیادتی عام تھی۔ طاقتور کمزوروں کو دباتے، عورتوں کو حقیر سمجھا جاتا اور بچیوں کو زندہ دفن کر دینا باعثِ فخر سمجھا جاتا تھا۔ قبیلہ پرستی، انتقام اور جنگ و جدال نے معاشرتی سکون چھین لیا تھا۔ علم و دانائی نایاب تھی، جہالت کا راج تھا، اور سابقہ آسمانی مذاہب تحریف کا شکار ہو کر اپنی اصل صورت کھو چکے تھے۔ ایسے ہی ظلمت و گمراہی کے عالم میں رحمتِ دو عالم ﷺ کی بعثت ہوئی، تاکہ انسانیت کو عدل، علم، اخلاق اور توحید کی روشنی عطا ہو۔بالآخر خلاق عالم کو اپنی مخلوقات پر رحم آیا اوروہ گھڑی آپہنچی جب صدیوں سے تپتی زمین پر رحمت کی بارش برسنے والی تھی، جب ظلم و جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی دنیا کو ہدایت کا اجالا ملنے والا تھا۔ عرب کی فضا میں شرک و بت پرستی کے بادل چھائے ہوئے تھے، ظلم و جبر کا طوفان برپا تھا، کمزوروں کو روندنا بہادری اور عورت کی تذلیل فخر سمجھا جاتا تھا۔ یتیموں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری رہتیں اور امن و انصاف ایک خواب بن چکے تھے۔ ایسے ہی گھٹن زدہ ماحول میں قدرتِ الٰہی نے فیصلہ فرمایا کہ اب ظلمت کا خاتمہ ہوگا اور نورِ توحید کا سورج طلوع ہوگا۔ ؎ ظلمت کے بادل چھٹ گئے، چمکا ہے نورِ حق دنیا کی تقدیر میں آیا نیا ورق
ولادت پاک با سعادت:
یہ وہ بابرکت ساعت تھی 9 ربیع الاول کی صبح جب مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر وہ ہستی جلوہ گر ہوئی جس کے نور سے کائنات کی تاریکیاں مٹ گئیں۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے آنگن میں وہ چاند طلوع ہوا جس نے قیامت تک کے لیے ہدایت و رحمت کی روشنی پھیلا دی۔ چنانچہ حضرت آمنہ فرماتی ہیں:جب وہ پیدا ہوئے تو میرے جسم سے ایسا نور نکلا کہ میں نے بصریٰ کے محلات دیکھ لیے۔یہ نور صرف مکہ کے ایک گھر تک محدود نہ رہا بلکہ پوری دنیا میں خوشبو کی طرح پھیل گیا۔ فضا میں فرشتوں کے نغمے گونجنے لگے، آسمانوں پر روشنی کی لہریں دوڑنے لگیں، اور رحمتوں کے بادل چھا گئے۔ ؎ وہ آیا جس کے آنے سے بہاریں لوٹ آئیں چراغِ شوق روشن ہوا، خوشبوئیں بکھر آئیں اسی دوران حضرت عبدالمطلب کو بشارت ملی۔ وہ دوڑتے ہوئے آئے، نواسے کو گود میں لیا، خانہ کعبہ پہنچے اور سجدۂ شکر ادا کیا۔ فرمایا:میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے، تاکہ زمین و آسمان میں اس کی حمد کی جائے۔یوں یہ نام اُس ہستی کے لیے منتخب ہوا جو رحمت للعالمین ﷺ بن کر تشریف لائی۔آپ ﷺ کی ولادت کے ساتھ ہی کائنات میں انقلابی آثار ظاہر ہوئے۔ کسریٰ کے محل لرز گئے اور اس کے چودہ کنگرے زمین بوس ہو گئے۔ فارس کا ہزار سال سے روشن آتش کدہ بجھ گیا اور مشہور دریائے ساوہ خشک ہوگیا۔یہ سب اشارے تھے کہ ظلم و شرک کی بنیادیں ہلنے والی ہیں اور عدل و انصاف کا دور شروع ہونے والا ہے۔ ؎ محل لرز گئے، آتش کدے بجھ گئے سب بتوں کے سر جھک گئے، جتنے بھی تھے سب جب یہ نورانی بچہ دنیا میں آیا تو عرب کی فضا میں سکون واطمینان اور رحمت و برکت چھا گئی۔ اگرچہ بچپن میں یتیمی کا سایہ تھا، مگر ربِ کریم نے ہر موڑ پر اپنی خاص رحمت کے پردے تان دیے۔ دودھ پلانے کے زمانے میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے نصیب چمک اٹھے۔ کہاں یہ حالات کہ قحط کے دن، سواری کمزور اور بکریاں دبلی تھیں۔ ابتدا میں کسی نے یتیمی کی وجہ سے محمد ﷺ کو لینے کا ارادہ نہ کیا، مگر جب کوئی بچہ نہ ملا تو حضرت حلیمہ نے فرمایا:چلو، اس بچے کو ہی لے لیتے ہیں۔انہیں کیا خبر تھی کہ یہ بچہ نہیں، کائنات کا سب سے قیمتی خزانہ ہے۔ جیسے ہی وہ نبیِ رحمت ﷺ کو گود میں لے کر واپس روانہ ہوئیں، برکتوں کے دروازے کھلنا شروع ہو گئے سواری تیز دوڑنے لگی، اونٹنی کے تھن دودھ سے بھر گئے اور بکریاں چر کر واپس آنے لگیں۔ حضرت حلیمہ کہتی ہیں:ہم نے جان لیا کہ یہ برکت اسی محمد ﷺ کی ذات سے ہے، جس کے آنے سے بنجر زمین ہری بھری ہوگئی۔ وہ آیا تو محرومیوں کے اندھیرے مٹ گئے وہ آیا تو بستی میں بہاروں کے ڈیرے لگ گئے یہ صرف حلیمہ کے گھر کا واقعہ نہیں بلکہ پوری دنیا کی تقدیر کا انقلاب تھا۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کا اصل مقام دیا۔ غلاموں کو آزادی، عورت کو عزت، یتیموں کو سہارا، اور انسانیت کو شرف عطا فرمایا۔آج جب ہم ولادتِ نبی ﷺ کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا صرف چراغاں، نعت خوانی اور ظاہری جشن سے اس محبت کا حق ادا کرسکتے ہیں؟حقیقت میں اصل میلاد یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں نبی کریم ﷺ کی سیرت اپنائیں، ان کے اخلاق کو شعار بنائیں اور ان کے پیغامِ دین کو عام کریں۔ یہی میلاد کی روح اور یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔ ظاہری اعمال کو اختیار کرکے حقیقی کمال کو نظر انداز کرنا بھلا کہاں کی عقلمندی ہے ؟ میلاد کی محفلیں ہوں نور سے معمور لیکن دلوں میں بھی مصطفیٰ کا نور ضرور تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں باطل نظریات نے حق کے رنگ میں خود کو رنگنے کی کوشش کی۔ جب بھی کوئی دینی تحریک اٹھی، اس کے ساتھ غیر شرعی رسومات شامل کر دی گئیں۔ اگر میلاد النبی ﷺ کی محفلیں خالص عقیدت، محبت اور اتباعِ سنت کے جذبے سے منعقد ہوں تو یقیناً باعثِ خیر ہیں، مگر جب یہی اجتماعات لہو و لعب، اسراف، بدعات اور خلافِ قرآن و سنت امور سے آلودہ ہو جائیں تو یہ عقیدت نہیں بلکہ دین میں اضافہ شمار ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کر دیا، اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔(سورہ المائدہ: 3) لہٰذا دین میں کسی نئی بات کی گنجائش نہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا عمل ایجاد کیا جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔ افسوس کہ آج سادہ دل مسلمان “محبتِ رسول” کے نام پر میلاد کو جشن و تفریح میں بدل بیٹھے ہیں۔اور ببانگ دہل وہی غلطی دہرا رہے ہیں جو عیسائی کمیونٹی اپنے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت میں حد سے تجاوز کے نتیجہ میں "کرسمس ڈے" کے عنوان سے کر بیٹھی ہے۔کہیں رات بھر تماشے، کہیں مرد و زن کا آزادنہ اختلاط، کہیں اسراف و نمود اور بیجا نمائش، تو کہیں میلاد کے نام پر منوں کے حساب سے کیک کاٹنے کے مناظر حالانکہ حقیقی میلاد النبی ﷺ تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو پڑھا جائے، آپ کی اطاعت عملی زندگی میں اختیار کی جائے،غریبوں، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی خدمت کی جائے،گھروں میں قرآن و درود کی محافل سجائی جائیں۔بس یہی وہ میلاد ہے جو اللہ کو راضی کرتا ہے،اور امتِ مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے علاؤہ جو کچھ بھی ہے وہ دین متین سے میل نہیں کھاتا۔ہوا و ہوس اور خواہشات کی پیروی ہے۔
اسوہ حسنہ ذریعہ نجات ہے:
زندگی کے ہر میدان میں رسولِ اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی نجات کامل کی ضامن ہے۔انسانی تاریخ میں بے شمار ہستیاں آئیں، جنہوں نے علم، حکومت یا فلسفے کے ذریعے انسانوں پر اثر چھوڑا۔ مگر ایک ہستی ایسی بھی آئی جس نے نہ صرف دل بدلے بلکہ زمانے کی تقدیر بھی بدل دی۔ وہ ہیں رحمتِ دو عالم نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ۔آپ ﷺ کی سیرت محض بیانات اور کتابی عقیدت کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور ہمہ گیر نظامِ زندگی ہے۔ آپ کی حیاتِ طیبہ وہ آئینہ ہے جس میں ہر انسان اپنی اصلاح، تربیت، اور کامیابی کا راستہ دیکھ سکتا ہے۔آپ ﷺ کی سیرت کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ وہ محض نظریہ نہیں عمل کا مکمل نمونہ ہے۔ آپ نے جو فرمایا اسے اپنی زندگی میں عملاً کر کے دکھلایا۔ اسی لیے قرآن نے فرمایا: "لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسۡوَةࣱ حَسَنَةࣱ"(تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے) [الاحزاب: 21]
صبر و استقامت:
مصیبت، تکلیف، یا آزمائش کے وقت خود کو قابو میں رکھنا، شکوہ و شکایت سے پرہیز کرنا، اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنا صبر کہلاتا ہے جبکہ سیدھے راستے پر ثابت قدم رہنا، مشکلات کے باوجود حق پر قائم رہنا، اور عملِ صالح میں تسلسل برقرار رکھنا استقامت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔یہ دونوں صفات اللہ کو محبوب ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی صبر کا سمندر تھی۔ طائف کی گلیوں میں پتھر کھانے کے باوجود آپ ﷺ نے بددعا نہ کی بلکہ فرمایا: اے اللہ! انہیں ہدایت دے، یہ نہیں جانتے کہ کیا کر رہے ہیں۔یہ صبر صرف برداشت نہیں بلکہ بردباری کے ساتھ خیر خواہی تھی۔آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ صبر کمزوری نہیں بلکہ ایمان کی علامت ہے۔ مشکلات میں گھبراہٹ نہیں بلکہ امید رکھنا یہی سیرتِ نبویّ کا سبق ہے۔آج جب ہم ذرا سی آزمائش پر مایوس ہو جاتے ہیں، واویلا شروع کر دیتے ہیں تو ہمیں طائف اور اُحد یاد کرنے کی ضرورت ہے جہاں نبی کریم ﷺ زخموں میں ڈوبے بھی تھے مگر زبان پر صرف دعا تھی۔
شکر و رضا:
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان کر دل، زبان اور عمل سے اس کا اظہار کرنا شکر کہلاتا ہے جبکہ اللہ کے ہر فیصلے پر دل سے خوش اور مطمئن رہنا خواہ وہ ظاہری طور پر پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ، راضی برضا رہنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالیں تو وہ مکمل طور پر شکر اور رضا سے عبارت ملے گی۔آپ ﷺ ہمیشہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہتے۔ بھوک میں بھی شکر، تنگی میں بھی شکر، کامیابی میں بھی شکر الغرض ساری زندگی شکر سے معمور تھی۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: نبی کریم ﷺ راتوں کو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ قدموں میں ورم آ جاتا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں، پھر اتنی عبادت کیوں؟ فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟یہ وہ تعلیم ہے جو انسان کو قناعت، سکون اور اطمینان عطا کرتی ہے۔
حیا و پاکیزگی:
بری بات، گناہ، بے شرمی اور برے کاموں سے شرم محسوس کرنا اور خود کو ان سے بچانا حیا کا خاصہ ہے۔ جبکہ دل، جسم اور عمل کو گندگی، برائی اور ناپاکی سے دور رکھ کر ظاہری و باطنی طور پر صاف و ستھرا رہنا پاکیزگی کا درجہ ہے۔ نبی کریم ﷺ حیا کے پیکر تھے۔ آپ ﷺ کی نگاہ ہمیشہ جھکی رہتی، زبان نرم، گفتار پاکیزہ اور افکار عالیہ ہوا کرتے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا:حیا صرف عورت کے لیے نہیں، بلکہ مومن کے لیے زیور ہے۔سیرتِ طیبہ کا یہ پہلو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرے کی عزت، کردار اور روح کا تحفظ حیا سے جڑا ہوا ہے۔آج کے بے حیائی کے دور میں اصلاح احوال کی یہی صورت ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات کو عام کیا جائے۔نسل نو کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنی نگاہ، زبان اور عمل میں پاکیزگی پیدا کی کریں تاکہ دل کا نور باقی رہے۔
اخوت و بھائی چارہ:
ایمان، محبت اور خیر خواہی کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دلی تعلق رکھنا اخوت سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا، باہمی احترام، تعاون اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنا بھائی چارگی ہے۔جب ہم سیرت طیبہ پر روشنی ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے دشمنوں کو بھائی بنایا اور اپنے حسن اخلاق سے اور دشمنی کو محبت میں بدل ڈالا۔مدینہ میں مہاجرین و انصار کے درمیان جو اخوت قائم کی، وہ دنیا میں انسانی تاریخ کا سب سے حسین منظر ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔یہی اخوت امت کی بنیاد ہے۔ آج جب قومیں نسل، زبان اور فرقوں میں بٹی ہیں، سیرتِ طیبہ ہمیں ایک پیغام دیتی ہے کہ اختلاف نہیں، اتحاد میں برکت ہے ہمیں ایک امت بن کر سوچنا ہوگا۔
خوفِ خدا اور تقویٰ:
اللہ تعالیٰ کی عظمت اور سزا کے احساس سے گناہوں سے بچنا خوف خدا کی مثال ہے جبکہ ہر اس کام سے پرہیز کرنا جو اللہ کو ناراض کرے اور ایسے اعمال اختیار کرنا جو اس کی رضا حاصل کریں تقویٰ کہلاتا ہے۔رسولِ اکرم ﷺ اللہ کی عظمت سے سب سے زیادہ واقف تھے اسی لیے سب سے زیادہ متقی بھی تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا:میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔یہ خوفِ خدا بندگی کی اصل روح ہے۔جب انسان دل سے یہ مان لے کہ "اللہ دیکھ رہا ہے"، تو وہ کسی ظلم، جھوٹ یا فریب کے قریب نہیں جاتا۔سیرتِ طیبہ ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت کے بغیر تقویٰ نہیں اور تقویٰ کے بغیر ایمان ناقص ہے۔
سخاوت و ایثار:
اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے خوش دلی کے ساتھ دوسروں پر خرچ کرنا سخاوت ہے جبکہ اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دینا، یعنی خود تکلیف اٹھا کر بھی دوسروں کو راحت پہنچانا ایثار سے تعبیر کیا ہے۔نبی ﷺ کی سخاوت بے مثال تھی۔ آپ کے در پر کوئی سائل خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔جب غزوہ حنین کے بعد مالِ غنیمت تقسیم ہوا تو آپ نے ایک پوری وادی بھر کے اونٹ عطا کر دیے۔حضرت انسؓ فرماتے ہیں:نبی ﷺ سے زیادہ سخی میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔یہ سخاوت صرف مال کی نہیں تھی بلکہ وقت، محبت اور دعا کی بھی تھی۔آپ ﷺ نے سکھایا کہ اصل سخاوت وہ ہے جو دل سے ہو، دکھاوے کے لیے نہیں۔
شجاعت و استقلال:
حق بات پر ڈٹے رہنا، خوف و خطر کے وقت ہمت و بہادری کا مظاہرہ کرنا شجاعت ہے جبکہ کسی مقصد یا اصول پر ثابت قدم رہنا، مشکلات کے باوجود حوصلہ و ہمت برقرار رکھنا استقلال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔آپ ﷺ بظاہر نرم دل تھے مگر دل کے بہادر، بدر میں صفِ اول میں کھڑے ہوئے اور احد میں زخمی ہونے کے باوجود میدان میں ثابت قدم رہے۔نبی ﷺ نے ہمیں بتایا کہ شجاعت تلوار سے نہیں بلکہ حق پر قائم رہنے کے حوصلے سے ہوتی ہے۔آج جب باطل نظریات کا سیلاب ہے، سیرتِ طیبہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم ایمان کے قلعے میں مضبوطی سے کھڑے رہیں ان سب کا پامردی سے مقابلہ کریں۔
ہمدردی و رحم دلی:
دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنا اور ان کی مدد و دلجوئی کرنا ہمدردی ہے جبکہ مخلوق کے ساتھ نرمی، محبت اور خیر خواہی کا سلوک کرنا رحم دلی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔رسولِ اکرم ﷺ کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ جانوروں، بچوں، یتیموں، حتیٰ کہ دشمنوں تک پھیلی ہوئی تھی۔چنانچہ قرآن نے فرمایا:وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ(ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا) [الانبیاء:107]آپ ﷺ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتے، بیمار کی عیادت کرتے، دشمن کے لیے دعا کرتے۔ یہی حقیقی ہمدردی ہے کہ محبت کی حدود وسیع کر دی جائیں۔
تیاریِ آخرت:
تیاریِ آخرت سے مراد یہ ہے کہ انسان دنیا کی فانی زندگی میں رہتے ہوئے اپنے اعمال، کردار اور نیت کو اس طرح درست کرے کہ مرنے کے بعد کی زندگی میں کامیابی حاصل ہو۔ قرآن و سنت میں بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دنیا ایک آزمائش گاہ ہے اور اصل منزل آخرت ہے۔نبی ﷺ نے دنیا کو کھیت اور آخرت کو فصل کہا۔آپ ﷺ فرمایا کرتے:عاقل وہ ہے جو اپنی جان کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے تیاری کرے۔"سیرتِ طیبہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا مقامِ گزر ہے، منزل نہیں۔جس نے آخرت کے لیے محنت کی، وہی حقیقی کامیاب ہے۔
عصرِ حاضر کے لیے پیغام:
نبی اکرم ﷺ کے ہر قول، فعل اور عمل میں انسانیت کے لیے مکمل راہِ نجات پوشیدہ ہے۔ آپ ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھام لینا ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی تعلیمات انسان کو ظلمتوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی تک پہنچاتی ہیں۔ جو شخص آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتا ہے وہ نہ صرف دنیا میں سکون و اطمینان پاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی فلاح و نجات کا حق دار ٹھہرتا ہے۔آج کا انسان علم، دولت اور ترقی کے باوجود بے سکون ہے۔ کیونکہ اُس نے سیرتِ طیبہ کو صرف جشن و تقریر تک محدود کر دیا ہے۔جبکہ اصل میلاد یہ ہے کہ نبی ﷺ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنایا جائے۔کاروبار میں دیانت، رشتوں میں محبت، سیاست میں عدل، اور دل میں اللہ کا خوف ہو۔ سیرتِ نبوی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ اگر دل درست ہو جائے تو دنیا خود بخود سنور جاتی ہے۔
خلاصہ کلام:
نبی کریم ﷺ کی سیرت انسانیت کے لیے کامل نمونہ اور ابدی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو عبادت، اخلاق، معاملات، عدل، محبت، صبر، شکر اور خدمتِ خلق انسان کو کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ آپ ﷺ نے جہالت، ظلم، بت پرستی اور جاہلیت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی دنیا کو ایمان، علم، عدل اور اخوت کی روشنی عطا کی۔ آپ کی سیرت میں صبر کے پہاڑ، شکر کی انتہا، حیا و پاکیزگی کا کمال، سخاوت و ایثار کی جھلک اور خوفِ خدا کے ساتھ انسانیت کی خدمت کا جذبہ نمایاں ہے۔ حقیقت میں، سیرتِ محمدی ﷺ ایک زندہ قرآن ہے جو ہمیں دنیا و آخرت کی فلاح کا مکمل راستہ دکھاتی ہے۔سیرتِ طیبہ محض تاریخ نہیں بلکہ ایک مکمل اور زندہ دستورِ حیات ہے۔اس کے ہر پہلو میں انسانیت کے لیے روشنی، امید اور سکون ہے۔آج امتِ مسلمہ کے زوال کا علاج اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہم نبی ﷺ کے عمل کو اپنی زندگی میں زندہ کریں۔میلاد منانے سے پہلے میلاد کو اپنانا سیکھیں،نعت پڑھنے سے پہلے سیرت عمل میں لائیں۔کیونکہ حقیقی محبت وہ نہیں جو زبان سے ظاہر ہو بلکہ وہ ہے جو کردار سے جھلکے۔ چراغِ مصطفیٰ ﷺ سے جو اجالا ہم نے پایا ہے اسی کو بانٹنا ہی اصل میلاد کا مفہوم ہے۔

کالم نگار : حفیظ چوہدری چیئرمین اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان
| | |
153