(+92) 319 4080233
فطرت سے چھیڑ چھاڑ
آج ملک عزیز کا غریب ہاری،کسان اور دیہاتی اشرافیہ کی عیاشیوں کی قیمت اپنی جان اور مال کی قربانی سے ادا کررہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں تک نوبت کیسے پہنچی؟ہمارے معاشرے کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ اک عجب سا کھیل برسوں سے جاری ہے۔ کبھی شور اٹھتا ہے کہ پانی ختم ہوگیا اور کبھی اعلان ہوتا ہے کہ ملک پانی میں ڈوب رہا ہے۔ جب پوچھا جائے تو نام نہاد ماہرین ہر سوال کا جواب ایک ہی دیتے ہیں ’’ڈیم‘‘۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ڈیم ہی علاج ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اصل تباہی دریا کے راستے پر قبضے اور بے ہنگم تعمیرات کی ہے۔کلائمیٹ چینج بلاشبہ ایک حقیقت ہے۔ برف پگھل رہی ہے، سمندر بلند ہورہے ہیں، فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ لیکن حالیہ ریلے دریا کی گنجائش سے زیادہ نہ تھے۔ راوی لاکھوں کیوسک پانی سنبھالنے کی سکت رکھتا ہے۔ چناب بھی بڑے ریلے سہہ جاتا ہے۔ مگر جب دریا کے بستر پر شہر بسا دیے جائیں، جب قدرتی گزرگاہیں بند کر دی جائیں تو پھر پانی اپنا پرانا راستہ چھڑانے پر اتر آتا ہے۔پانی کی فطرت بہنا ہے۔ بہاؤ رکے تو زمین بنجر ہو جاتی ہے، آبی حیات ختم ہو جاتی ہے، سمندری توازن بگڑ جاتا ہے اور ساحلی دفاع ٹوٹ جاتا ہے۔ سلٹ، جو کسان کے لئے قدرتی کھاد ہے، دریا روک دیے جانے سے کھیتوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ جنگلات اور مچھیروں کی بستیاں اپنی سانس کھو بیٹھتی ہیں۔زندگی بہاؤ کا دوسرا نام ہے۔ ہم نے اگر دریاؤں کو قید کرنا بند نہ کیا تو یہ بغاوت کرتے رہیں گے۔ حل یہ نہیں کہ پانی کو زنجیر میں جکڑ دیا جائے، بلکہ حل یہ ہے کہ اسے اس کا حق دیا جائے۔ دریا زندہ ہوں گے تو کھیت آباد ہوں گے، فضائیں شاداب اور نسلیں محفوظ ہوں گی۔لہٰذا ایک ہی صدا ہے کہ پانی کو آزاد کرو، دریا کو بہنے دو اگر اس کے راستے میں روڑے اٹکائے تو یہ سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا اور پیچھے بہنے کے لیے صرف آنسو رہ جائیں گے۔
بھول کہاں ہوئی ؟؟
سب سے پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے کہ ہم نے وقت پر ڈیم نہیں بنائے، کالا باغ کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا اور یہ سمجھ لیا کہ ہماری بدحالی کی یہی وجہ ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ کڑوی ہے۔ ستلج، راوی، تَوی اور چناب پر جہاں بڑے ڈیم بننے تھے وہ علاقے بھارت کے قبضے میں ہیں۔ اس لیے یہ پانی ہمارے ہاتھ میں نہیں، دہلی کے قابو میں ہے۔ بھارت کے حکمران طبقے کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ ایک بھیانک ہتھیار ہے اور اس ہتھیار کو وہ کھل کر پاکستان کے خلاف ستعمال کرتاہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کی جنگ زمین کے لیے کم اور پانی کے لیے زیادہ ہے۔ جب تک ان دریاؤں پر بنے ڈیموں کا کنٹرول بھارت کے پاس ہے، تب تک وہ ہمیں پانی کے رحم و کرم پر رکھے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ صرف بیرونی دشمنی کا نتیجہ ہے؟ یا ہم نے خود اپنی زمین اور اپنے دریاؤں کے ساتھ بے وفائی کی ہے؟
قدرتی آفت یا انسانی غفلت؟
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ محض قدرتی آفت ہے، اس میں بھارتی آبی جارحیت کو شامل کرنا حماقت ہے۔ جی ہاں، بارشیں اور موسمی تغیرات فطری امر ہیں، لیکن کیا ہم نے اپنے حصے کی تیاری کی؟ کیا ہم نے اپنے دریاؤں کے پیٹ خالی رکھے؟ کیا ہم نے جنگلات کو بچایا؟ کیا ہم نے اپنی بستیاں دریاؤں کے کنارے بسانا چھوڑ دیں؟بالکل نہیں۔ ہم نے فطرت کے ہر اصول کو پامال کیا اور پھر توقع رکھی کہ فطرت ہمیں اسکے بدلے میں انعام دے گی ؟عالمی حدت اور موسمی تغیرات محض سائنسی اصطلاحات نہیں رہیں، یہ اب ہماری روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت بن چکی ہیں۔ کبھی بارشیں اپنے وقت پر نہ برسیں، کبھی بادل اُمڈ کر پورے شہر کو غرق کر دیں تو کبھی سخت گرمی اور خشک سالی انسان کو بے بس کر ڈالے۔ یہ سب اس بات کا اعلان ہے کہ زمین کا صبر اب جواب دے رہا ہے۔ ایسے میں ریاست کے لیے سب سے پہلا اور بنیادی فریضہ یہ ہے کہ ہر قسم کی آلودگی کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے، چاہے وہ صنعتی فضلہ ہو، گاڑیوں کا دھواں یا پھر پلاسٹک کا پہاڑ۔لیکن آلودگی کے ساتھ ساتھ ایک اور زہر ہماری رگوں میں سرایت کر چکا ہے اور وہ ہے دریاؤں اور برساتی نالوں پر قبضے۔ اگر یہ تجاوزات ختم نہ کی گئیں تو پھر کسی بڑے طوفان یا بارش کے بعد شہر دریا بن جائیں گے اور بستیاں قبرستان۔ کراچی سے لے کر چترال تک، گاؤں ہو یا شہر، چھوٹا ہو یا بڑا، بلا امتیاز اور بلا خوف ایک جامع نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان ناجائز قبضہ مافیا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔مزید یہ کہ ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ قدرتی حسن بیچنے کے لیے نہیں ہوتا۔ سیاحتی مقامات اور جنگلاتی علاقوں میں بنے ہوٹل، ریزورٹس اور تجارتی عمارتیں فطرت کی خوبصورتی کو نوچ رہی ہیں۔ اگر ہم نے فوری طور پر ان پر کڑا ہاتھ نہ ڈالا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری پہاڑیاں ننگی اور وادیاں ویران ہو جائیں گی۔ اسی لیے جنگلات کی کٹائی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔ درختوں کو کاٹنا گویا آنے والی نسلوں کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنی روش بدلنی ہوگی۔ فطرت کے قوانین ناقابلِ انکار ہیں، وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتے۔ اگر ہم نے اپنے کردار اور اعمال کو درست نہ کیا تو ہر برس مون سون کی بارشیں ہمارے لیے خوشی کا پیغام نہیں بلکہ موت اور تباہی کی دستک لائیں گی۔ یہ وقت ہے جاگنے کا، ورنہ ابدی نیند سلا دیئے جاؤ گے۔
شرم تم کو مگر نہیں آتی:
یہ منظر بھی کبھی بھلایا جا سکتا ہے کہ 2010 کے سیلاب میں اقوام متحدہ کی سفیر اور عالمی شہرت یافتہ اداکارہ انجلینا جولی پاکستان آئیں۔ وہ امدادی کیمپوں میں گئیں، متاثرین کے ساتھ بیٹھیں، ان کے آنسو پونچھے۔ مگر واپسی پر ان کی رپورٹ ہمارے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کے حکمران قیمتی ضیافتوں اور پروٹوکول پر اربوں روپے خرچ کرتے ہوں اور عوام آٹے کے ایک تھیلے اور پانی کی بوتل کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دے رہے ہوں، اس ملک کو سب سے پہلے اپنی عیاشیوں کا حساب دینا چاہیے۔پندرہ برس گزر گئے، مگر ہم آج بھی وہی ہیں بقول جالب: "وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن بدلتے ہیں بس وزیروں کے"
سیلاب کے المناک قصے:
یہ اعداد و شمار کا کھیل نہیں، یہ انسانوں کے کٹے پھٹے خوابوں کی کہانیاں ہیں۔ کبھی ایک بڑھیا اپنی واحد بکری کو بچانے کے لیے لہروں میں کود جاتی ہے اور پھر بکری بھی گم ہو جاتی ہے اور بڑھیا بھی۔ کبھی ایک ماں اپنے بچے کو سیلاب کے سپرد کر کے چیختی رہتی ہے۔ کبھی ایک نوزائیدہ بچہ دنیا میں آتے ہی سیلاب کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ یہ سب مناظر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دریا جب قہر میں آتے ہیں تو انسان کی بستیوں کو مٹھی بھر ریت کی طرح بہا لے جاتے ہیں۔
دریاؤں کی بربادی کی داستان:
کبھی پنجاب چھ دریاؤں کی وادی کہلاتا تھا۔یہ دریا اپنے اپنے راستے پر رواں دواں تھے۔ کناروں پر چراگاہیں تھیں، جنگل تھے، پرندے تھے، زندگی تھی۔ مگر پھر حکمرانوں نے دریا بیچ ڈالے۔ دریائے بیاس کو ختم کر کے اس کا پانی راوی اور ستلج میں بانٹ دیا گیا۔ دریاؤں کے پاٹ پر بستیاں بسائی گئیں۔ چراگاہوں پر کالونیاں کھڑی کر دی گئیں۔ جنگلات کاٹ ڈالے گئے۔ اب دریا صرف نہریں ہیں اور پانی محض ایک کاروبار۔وہ دریا جو کبھی دھرتی کے گیت تھے، اب نیم مُردہ دھارائیں ہیں جن پر کنکریٹ کے قبرستان ایستادہ ہیں۔
حق دو پانی کو:
المیہ صرف دریا اور پانی کا نہیں۔ یہ پورا استعماری نظام ہے جس نے ہمیں زمین سے کاٹ کر صارف بنا دیا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز، کارپوریٹ فارمنگ اور کان کنی نے زمین کو زخموں سے بھر دیا ہے۔ کسان اپنی ماں دھرتی سے بے دخل کر دیے گئے۔ زرخیز کھیت کنکریٹ کے جنگل میں بدل دیے گئے۔ مگر ہمارے حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں، کیونکہ ان کی جائیدادیں اور دولت باہر کے ملکوں میں ہے۔ایک کسان نے کہا تھا: "بیٹا، یہ زمین میرا سرمایہ نہیں، میری ماں ہے۔ اگر میں اسے بیچوں تو میں خود کو بیچ دوں گا۔" افریقی ناول نگار اچیبے نے لکھا: "زمین ہمارا خون ہے، اگر ہم اسے بیچ دیں تو ہم مر جاتے ہیں۔" ہم نے اپنی ماں کو زخمی کیا، اس کا خون بیچا، اور اب تعجب ہے کہ وہ ہمیں آغوش سے نکال رہی ہے۔ یہ تعجب نہیں، یہ فطرت کا انتقام ہے۔نادرن ایریاز میں جو ٹمبر مافیا اور ہوٹل مافیا نے فطرت سے کھلواڑ کیا تو قدرت نے انہیں پورا پورا بدلہ دیا اب آتے ہیں شہروں کی طرف، لاہور اور اس کے گرد و نواح میں دریائے راوی کے کنارے کی زمین، جو دراصل پانی کے قدرتی بہاؤ اور جمع ھونے کی جگہ تھی، بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر بیچ دی گئی۔ زرعی زمینیں اور قدرتی بیلٹ ختم کر کے وہاں کنکریٹ کے جنگل کھڑے کر دیئے گئے شروع میں ان ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان اور خریداروں کو لگا کہ وہ جدید اور پرکشش رہائشی کالونیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، مگر قدرتی اصولوں کو نظر انداز کرنے کی قیمت جلد ہی سامنے آ گئی۔ حالیہ بارشوں اور دریائے راوی کے سیلابی ریلے نے ان بستیوں کو پانی میں ڈبو دیا۔ وہی زمین جو پانی کے گزرنے اور جذب ھونے کا قدرتی راستہ تھی، عمارتوں اور سڑکوں سے بھر دی گئی، نتیجہ یہ نکلا کہ پانی کو کوئی راستہ نہ ملا اور بستیاں جھیل بن گئیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قدرت کے بنائے ہوئے نظام کو چیلنج کرنا اور اس کے راستے روکنا ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ دریاؤں کے کنارے یا ندی نالوں کی زمین پر بستیاں بسانا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ تباہی کی جڑ ہے۔ اصل حل یہ ہے کہ دریاؤں کے گرد قدرتی فلڈ زون کو محفوظ رکھا جائے، درخت اور سبزہ واپس لایا جائے اور شہر کی منصوبہ بندی میں ماہرینِ ماحولیات کی رائے کو لازمی شامل کیا جائے ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی:
ابھی بھی وقت ہے کہ ہم توبہ کریں۔ جنگلات کو زندہ کریں، دریاؤں کو ان کا راستہ واپس دیں، نہری نظام کو اپ ڈیٹ کریں، بیراج اور ڈیم بنائیں۔ بلوچستان کے ریتلے علاقوں میں چھوٹے ڈیم باندھیں تاکہ پانی بہہ کر بربادی نہ کرے بلکہ زندگی بنائے۔ نصاب میں کانوں سے سونا چاندی ڈھونڈنے کی بجائے یہ پڑھایا جائے کہ درخت کیسے زندگی بخشتے ہیں اور بارش کو کیسے روکتے ہیں؟ یہ جنگ صرف ماحولیات کی نہیں، سیاست کی بھی ہے۔ یہ زمین ہمارے لیے محض جائیداد نہیں بلکہ شناخت ہے، وجود ہے، بقا ہے۔ اگر ہم نے اپنی زمین کو نہ بچایا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ حالات ایک پکار ہیں، ایک فریاد ہیں۔ دریا چیخ رہے ہیں، پہاڑ لرز رہے ہیں، زمین سسک رہی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو آنے والی نسلیں ہمیں لعن طعن کریں گی کہ ہم نے انہیں سبز دھرتی نہیں بلکہ ڈوبا ہوا قبرستان ورثے میں دیا۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے فطرت کے اصولوں کو نظرانداز کیا اور بے وجہ بے جا قوانین فطرت سے چھیڑ چھاڑ کی گھمبیر نقصان اٹھایا۔ حالیہ سیلاب کو بعض لوگ عذاب قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ہماری اپنی کوتاہیوں کا ثمر ہے۔ لمحوں کی خطا صدیوں تک محیط ہوگی۔درختوں کی بے دریغ کٹائی، دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ، غیر منصوبہ بندی سے تعمیرات اور ماحولیاتی توازن بگاڑنے کی روش نے زمین کو کمزور کر دیا ہے۔ بارش تو رحمت ہے، مگر جب ہم نے قدرتی نظام بگاڑ دیا تو وہی رحمت تباہی آکر زحمت میں بدل گئی۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، بلکہ احتساب کا ہے۔ اگر ہم فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزاریں، ماحول کی حفاظت کریں اور منصوبہ بندی سے وسائل کا استعمال کریں تو یہی زمین ہمیں نعمتوں سے نوازے گی، نہ کہ آزمائشوں سے۔وقت آگیا ہے کہ دھرتی ماں پر ہونے والا ظلم بند کیا جائے۔ وقت کرتا ہے پرورش برسوں ، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
سیلاب اور کرنے کے کام:
حالیہ سیلاب کی وجہ سے کمزور انفراسٹرکچر کے باعث نقصان تو یقینی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان آزمائشوں سے کچھ سیکھیں گے؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اس آفت کو اپنے حق میں استعمال کر سکیں؟ اب ذرا دھیان سے سنئیے!! سیلاب اپنے ساتھ زرخیز مٹی لاتا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسی مٹی کو سبز انقلاب کی بنیاد بنا سکتے ہیں۔ درخت سیلاب کی شدت کم کرتے ہیں، گلوبل وارمنگ کا توڑ ہیں اور زمین کو سہارا دیتے ہیں۔ ابھی ہم پانی میں اتر کر شجر کاری نہیں کر سکتے، لیکن ایک سادہ قدم سب اٹھا سکتے ہیں وہ ہے دریا کے کناروں اور سیلابی زمین پر مختلف بیج بکھیر دینا۔شیشم، بیری، کیکر، سریں اور سفیدہ جیسے درخت نہ صرف تیزی سے بڑھتے ہیں بلکہ زمین کو جکڑ لیتے ہیں۔ یہ درخت آئندہ نسلوں کو سایہ دیں گے، آکسیجن فراہم کریں گے، زمین کو سرسبز بنائیں گے اور آنے والی تباہیوں کو روکنے میں مددگار ہوں گے۔ یہ عمل صرف ماحول کی خدمت نہیں ہوگا بلکہ صدقۂ جاریہ بھی ثابت ہوگا۔سوچئے! کل جب یہی ننھے پودے تناور درخت بن کر کسی کو سایہ دیں گے یا زمین کو سہارا دیں گے تو اس کا ثواب آپ کے نام لکھا جائے گا۔یہ مٹی ہماری ہے، اس کا تحفظ ہمارا فرض ہے۔ آج ہم نے اگر اس موقع کو غنیمت جان لیا تو آنے والے دنوں میں یہی درخت ہماری نسلوں کی ڈھال ثابت ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک قوم بن کر اُٹھیں اور سبز پاکستان کی بنیاد رکھیں۔ آخر میں ایک اور بات کی وضاحت بھی ضروری ہے پنجاب کے میدانی دریاؤں میں جب بھی سیلاب آتا ہے تو نہ صرف بستیاں اجڑتی ہیں بلکہ ملکی معیشت پر بھی زبردست کاری ضرب لگتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان دریاؤں (ستلج، راوی اور چناب) پر بڑے ڈیم بنانا ممکن نہیں تو پھر کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟ ہرگز نہیں! ہمارے پاس ایسے عملی اور فوری اقدامات موجود ہیں جو نہ صرف تباہی کو کم کر سکتے ہیں بلکہ ملک عزیز کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ پہلا حل، یہ ہے کہ ان دریاؤں پر پہلے سے موجود بیراجوں کو فعال بنا کر آف لائن سٹوریج پیدا کی جائے۔ اگر سات بیراجوں پر 3 لاکھ ایکڑ فٹ تک پانی محفوظ ہو تو یہ سیلابی ریلے کو نہ صرف توڑ دے گا بلکہ لاکھوں جانوں اور کھیتوں کو بچا سکتا ہے۔ دوسرا حل، ہر سو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اضافی بیراج تعمیر کیا جائے۔ یہ منصوبہ ستلج اور راوی کے لئے سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوگا جہاں سیلابی ریلہ 1 لاکھ کیوسک بھی کم ہو جائے تو آدھی تباہی پہلے ہی رک جاتی ہے۔ تیسرا حل، چشمہ بیراج کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے بارہا بڑے ریلوں کو قابو میں رکھا۔ یہ ثبوت ہے کہ صحیح منصوبہ بندی سے آفت کو نعمت میں بدلا جا سکتا ہے۔ چوتھا حل، سکھ بیاس چینل کو دوبارہ فعال کیا جائے۔ یہ پرانی آبی گزرگاہ اگر زندہ ہو جائے تو نہ صرف سیلابی پانی کم ہوگا بلکہ زیرِ زمین پانی بھی بھر جائے گا۔ پانچواں حل، چنیوٹ ڈیم کی فوری تعمیر ہے جو وسطی پنجاب کو ایک ڈھال فراہم کرے گا۔ یہ ڈیم نہ صرف ملتان و جھنگ کو محفوظ کرے گا بلکہ جنوبی پنجاب کو بھی سہارا دے گا۔ چھٹا حل، یہ ہونا چاہیے کہ نشیبی اور بنجر زمینوں کو مصنوعی جھیلوں میں بدلا جائے۔ یہی پانی بعد میں فصلوں، پینے اور صنعت کے کام بھی آ سکتا ہے۔ ساتواں حل، پانی کو صحراؤں کی طرف پھیلانا ہے تاکہ زمین زرخیز ہو اور صحراؤں میں نئی زندگی پھوٹے۔ یہ ماحولیاتی اور معاشی انقلاب لا سکتا ہے۔ آٹھواں حل، یہ کہ حکومت صرف بڑے منصوبوں پر انحصار نہ کرے بلکہ مقامی سطح پر بھی چھوٹے تالاب، ڈیم اور حفاظتی پشتے بنائے جائیں۔ یہ اقدامات کم خرچ، زیادہ اثر اور تیزی سے مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ نواں حل، یہ ہے کہ سیلابی پانی کے انتظام کے ساتھ ساتھ ریسرچ اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کی جائے۔ جدید سینسرز، وارننگ سسٹم اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے سیلاب کے خطرات کو وقت سے پہلے بھانپا جا سکتا ہے۔ دسواں حل، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سیلاب صرف ایک آبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ سماجی اور معاشی بحران بھی ہے۔ جب تک ہم مقامی کمیونٹیز کو شامل نہیں کریں گے تب تک یہ منصوبے ادھورے رہیں گے۔ گیارھواں حل، یہ ہے کہ ہمیں دریاؤں کے ساتھ ایسا رشتہ قائم کرنا ہوگا جو خوف نہیں بلکہ تعاون پر مبنی ہو۔ سیلاب کو دشمن نہیں بلکہ ایک موقع سمجھیں کہ اس کے پانی کو ذخیرہ کر کے خشک سالی کے دنوں میں استعمال کریں۔ یاد رکھیے!! یہ تجاویز اگر اخلاص اور حکمتِ عملی سے نافذ کی جائیں تو سیلاب ایک آفت سے بڑھ کر ترقی کا زینہ بن سکتا ہے۔

کالم نگار : ملک اسد حیات، کویت
| | |
303