بر صغیر میں حاکمیت کا گھمنڈ اور پڑوسی سے ناروا سلوک کے لیے بھارت ضرب المثل بن چکا ہے۔ کوئی ملک حتیٰ کہ اسکے اپنے شہری اور اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔فاشسٹ موذی پہلگام کو بہانہ بناکر وطن عزیز پر چڑھائی اور پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری سمجھ کر حملہ آور ہوگیا۔نہتی عوام، معصوم بچوں اور عبادت گاہوں کا تقدس پامال کر دیا
تو جواب میں پاکستان نے اپنی برسوں کی تیاری اور دوست ممالک کے اعتماد سے وہ دھول چٹائی کہ دنیا کے نقشہ پر انڈیا کا وجود مشکوک ہوتا جارہاہے۔اب سادہ سا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ کا بھارت/پاکستان کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا؟ کم از کم JD Vance نے تو یہی کہا تھا جب یہ سب شروع ہوا۔ لیکن پھر کچھ بدل گیا۔
اچانک ٹرمپ نے تنازعے کو کم کرنے کے لیے مداخلت کی اور فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت عالمی سطح پر رسوا ہوا اور اپنی تمام تر ساکھ کھو بیٹھا۔ یہ منظر اتنا سادہ نہیں جتنا دکھلایا جارہاہے۔ پس پردہ کچھ اور بھی کچھڑی پک رہی ہے۔ ہر بندہ اسی ادھیڑ بن میں ہے کہ آخر ہوا کیا؟ پس پردہ کیا چل رہا ہے؟؟کچھ ایسا ہوا جس نے مغرب کو للکارا،
میرے خیال میں ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پاکستان کی جانب سے اس قدر شدت اور طاقت سے ردعمل دیا جائے گا۔ہر بندہ ہلکا پھلکا ہومیو پیتھک جواب کے انتظار میں تھا۔
چین کی فوجی ٹیکنالوجی وائرل ہو گئی:
جب پاکستان نے چینی ساختہ PL-15 میزائلوں اور JF-17 بلاک III جیٹ طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی رافال طیاروں کو مار گرایا تو چین کے دفاعی اسٹاکس آسمان کو چھونے لگے! AVIC چینگڈو ایئرکرافٹ کارپوریشن (جو JF-17 اور J-10C جیٹس بناتی ہے) کے شیئرز صرف دو دن میں 36% اوپر چلے گئے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب عالمی فوجی سرمایہ کاروں کو احساس ہوا کہ چین کے ہتھیاروں نے مغربی ٹیکنالوجی کے خلاف جنگ کے میدان میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے عالمی فوجی معاہدوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا۔ یہ جنگ صرف پاکستان بمقابلہ بھارت نہیں تھی، بلکہ چین بمقابلہ مغربی جنگ کی ٹیکنالوجی کی لڑائی بھی تھی
یعنی یہ مسئلہ تقریباً ہزار سال پرانا قضیہ تھا جس کے نتیجہ چین کے ہتھیاروں کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹنگ/PR مہم اس کے قریبی اتحادی پاکستان کے ذریعے چل نکلی۔ بنیادی طور پر، اس جنگ نے چینی ہتھیاروں کا "لائیو ڈیمو" دنیا کو دے دیا، اور یہ کام کر گیا۔
اسرائیل کا بھارت کی حمایت اور مسلم دنیا کا ردعمل:
دوسری طرف اسرائیل نے بھارت کی کھل کر حمایت کی اور بھارت نے اسرائیلی ساختہ 77 HAROP ڈرونز پاکستان کے خلاف استعمال کیے۔ یہ ڈرونز جنگ کے میدان اور عالمی خبروں کا حصہ بن گئے۔ اس نے نہ صرف مسلم دنیا میں اسرائیل مخالف جذبات کو بھڑکایا، خاص طور پر کشمیر اور پاکستان میں، بلکہ اس جنگ کو ہندو-یہودی اتحاد بمقابلہ مسلمانوں کی لڑائی بنا دیا۔
یہ صورتحال مغرب کے لیے دہرا خطرہ بلکہ درد سر بن گئی۔ چین کی فوجی ٹیکنالوجی کو یکدم عالمی توجہ مل گئی۔دوسرے یہ کہ امریکہ اسرائیل کی ساکھ کو مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا (یہ ایک الگ کہانی ہے جو ابراہیم معاہدوں سے جڑی ہوئی ہے)۔ دوسرا ٹرگر پاکستان کا وہ غیر متوقع اقدام تھا جس نے سب کو چونکا دیادرحقیقت امریکہ کے لیے ہزار وولٹ کا بڑا جھٹکا اس وقت لگا
جب پاکستان نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس کی کسی نے توقع نہیں کی تھی۔ اندرونی ذرائع کے مطابق، پاکستان کے وار روم کے اعلیٰ اہلکاروں نے جان بوجھ کر ایک میٹنگ کا ریکارڈ لیک کیا، جس میں یہ بحث ہوئی تھی کہ "اسرائیل کی بھارت کی حمایت پاکستان کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل کے خلاف براہ راست کارروائی کرے۔
دوسرے لفظوں میں، پاکستان اسرائیل کو نشانہ بنانے کے بارے میں کھل کر سوچ رہا تھا۔ (اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اسرائیل پر حملہ کرنے والا تھا، بلکہ یہ کہ اگر حالات بگڑتے تو پاکستان اسرائیل کے خلاف کھل کر موقف لے سکتا تھا اور دنیا اس وجہ سے خاموش رہتی کہ پہل کس نے کی؟؟)
ایک ایٹمی طاقت، جس کی پشت پر چین ہو، اسرائیل کے خلاف کھل کر بات کرے؟یہ وہ"ریڈ لائن" تھی جسے امریکہ اور اسرائیل آزمانا نہیں چاہتے تھے۔ ان کے لیے صرف ایک ہی حل تھا فوری جنگ بندی اور یہی ہوا بھارت ناک رگڑتا رہا گیا پر اسکی ایک نہ چلی یہی وجہ ہے کہ اس وقت انڈیا کے اندر بغاوت کا لاوا پک رہا ہے اور مودی حکومت چند دنوں کی مہمان رہ گئی ہے۔
اب اگلا سوال یہ ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کے فوری بعد کیا کیا؟
جب سب کی توجہ جنگ بندی اور سوشل میڈیا جنگ پر تھی، جنیوا میں ایک اہم میٹنگ ہوئی اچانک، امریکہ اور چین تجارتی مذاکرات کے لیے بیٹھ گئے اور صرف چند گھنٹوں میں ہی وہ ناقابل یقین سفر طے ہوگیا جس نے عالمی کسادبازاری میں ہیجان برپا کیا ہوا تھا۔ جی ہاں امریکہ نے چین پر ٹیرف 145% سے گھٹا کر 30% کر دیے۔
جواباً چین نے امریکہ پر ٹیرف 125% سے کم کر کے 10% کر دیے یعنی دونوں بلا کسی آہٹ کے اپنی سابقہ پوزیشن پر آگئے۔3600 ارب ڈالر کا منجمد تجارتی معاہدہ دوبارہ کھول دیا گیا۔
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے؟
یہ سب کچھ پاکستان کی فضائی اور زمینی کارکردگی کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔ پاکستان نے نہ صرف جنگ جیتی، بلکہ دنیا کو یاد دلایا کہ وہ کبھی میز سے اٹھا ہی نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ اپنے تمام سیاسی اور معاشی بحرانوں کے باوجود، پاکستان آج بھی بھارت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔
جنگ سے امن کا سفر:
کہتے ہیں کہ جنگ بری بات ہے۔ پر امن بقائے باہمی کا اصول اپنا کر معاشرے میں امن و آشتی کو رواج دینا چاہیئے لیکن اگر آپکی صلح جوئی کو کمزوری پر محمول کر کے زبردستی کی جنگ مسلط کردی جائے تو پھر مرد میدان اور مضبوط چٹان بن کر مقابلہ کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ جنگ جہاں بہت سے اثرات چھوڑ جاتی ہے وہاں بہت کچھ سکھلا بھی جاتی ہے۔
حالیہ چند دنوں میں پاکستانیوں کی کچھ کمال صفات بھی کھُل کر سامنے آئی ہیں جن کا ذکر نہ کرنا سراسر ناانصافی ہو گی۔چشم فلک نے دیکھا کہ اس قوم کا بچہ بچہ پاک فوج سے محبت تو کرتا ہے مگر اعتبار وہ اپنے سائے پر بھی نہیں کرتا۔ اس لیے عوام الناس نے اپنی مکمل نگرانی میں فوج سے میزائل چلوائے۔ رافیل طیاروں کی شکل و صورت، خصوصیات اور قیمت ہر پاکستانی کو معلوم ہو گئی ہے۔ اب تو کسی کی گری ہوئی حرکت کو کہتے ہیں “ اوئے رافالی نہ کر۔” یہ قوم ایسی بازیگر قوم ہے کہ بھارت کے 94 ڈرونز مار گرائے گئے مگر فورسز کو صرف 83 مل پائے ہیں۔ گیارہ ڈرون موقع سے مال غنیمت کے طور پر اُٹھائے نان کڑھائی کی دعوت میں نمٹا دئیے اس مندی کے دور میں کباڑیوں کا کام بھی چمک اٹھا۔جس شب بھارتی میزائلوں نے لاہور سمیت مختلف ائیربیسز کو نشانہ بنایا میرے ہمسائے بٹ صاحب رات دو بجے مجھے کال کر کے کہنے لگے “ شاہ پتر، واقعی جنگ لگ گئی یا ایویں گلاں ای بنیاں نیں ؟ میں نے کہا بٹ صاحب واقعی بھارت نے حملہ کر دیا ہے۔ بولے” آلا۔۔۔ چل فیر چاء بنا لواں، نیندر تے ہن اُڈ گئی اے۔”۔ اس قوم کی شگفتہ مزاجی ٹاپ ناچ ہے۔ حالانکہ قوم کے مالی حالات تباہ حال ہیں یہ کمال کی بذلہ سنجی اور ظرافت گوئی موجود ہے۔
بیگم صاحبہ نے بھارتی حملے کے ساتھ ہی مجھے نوید سناتے کہا “ میں آپ کو اب کچھ نہیں کہوں گی۔ آپ ناں ذرا جنگی صورتحال اپڈیٹ کرتے رہیں۔”۔ صاحبو پورے چار دن اس نے مجھے کچھ نہ کہا۔ جس وقت سیزفائر کی خبر آئی گھنٹے بعد بیگم صاحبہ نے مجھ پر فضا سے زمین اور زمین سے زمین تک مار کرنے واے طعناتی میزائل داغ دیے۔
بہرحال اس جنگ میں خواتین نے بھی مردوں کا بھرپور ساتھ دیا بارڈر کے قریبی دیہات کی ماؤں نے اپنے فوجی جوانوں کے لیے تازہ کھانے بنا بنا کر بھیجے۔ بھارتی افواج کے نمائندگان اور ہماری افواج کے نمائندگان کی باڈی لینگوئج دیکھ کر احساس ہوا کہ پاکستانی ہر حال میں ہنس مُکھ اور ایزی رہتے ہیں جبکہ بھارتیوں کے ہاں ہر شخص کے چہرے پر بارہ بجے ہوئے تھے۔
قوموں پر کڑا وقت آتا ہے، گزر جاتا ہے۔ مگر جو قومیں ہنس کر حالات کا مقابلہ کرتی ہیں وہی کامیاب بھی ہوتی ہیں۔ میرا سلام ہے سب پاکستانیوں کو۔ اور شکریہ بھارت کا کہ جس کی جارحیت نے اس بکھری ہوئی قوم کو یکجا کر دیا۔ کیا سنی شیعہ، کیا پختون پنجابی، کیا نونی انصافی۔ من و تُو کا فرق ہی نہ رہا۔ اس سے ایک بات اور ثابت ہو گئی کہ
ہم آپس میں دست و گریبان ہو سکتے ہیں مگر دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سپہ سالار نے اس آپریشن کا نام " بنیان مرصوص" رکھ کر بھارتی سندور کو تندور میں تبدیل کردیا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہم میں بہت سی برائیاں و مسائل ہیں مگر کبھی کبھی کوئی ایک خوبی ایسی بھاری ہوتی ہے جو سب برائیوں کو چھپا کر چھا جاتی ہے۔
پاکستانیت ہم میں اندر کہیں دبی بیٹھی تھی جس پر گردش زمانہ سے دھول مٹی جم چکی تھی۔ بظاہر محسوس ہوتا تھا کہ ہم فرقوں، سیاسی جماعتوں اور ذات پات و علاقاتی تعصب میں بٹے بکھرے لوگ ہیں۔ اور پھر جارحیت کے مقابلے پاکستانیت اندر سے پھُوٹی ہے تو پھُوٹتی ہی گئی ہے۔
اوہ، ہاں، یاد آیا۔ بھارتی میڈیا کا بھی شکریہ جس نے ہمیں زیادہ سیریس ہونے ہی نہیں دیا۔ سارے کردار بظاہر سنجیدہ تھے مگر حرکتیں بھرپور مزاحیہ کرتے رہے۔ یہ ان کا ٹیلنٹ ہے۔ میں مداح ہو گیا جھوٹ اتنی صفائی سے بولتے تھے کہ انکی جنتا سچ جان جاتی اور آج جوتیاں پڑ رہی ہے، جگ ہنسائی الگ ہوئی۔
کون جیتا؟ اور کیسے جیتا؟
دیکھئے پاکستان کے متعلق انڈیا جو باتیں کہتا ہے، وہ ساری غلط نہیں، ہم بھی دوسری قوموں کی طرح ایک قوم ہیں، ہم میں بھی غلطیاں اور کمزوریاں ہیں، معیشت ہماری کمزور ہے، یہ اس لیے بھی ہے کہ ہم نے اپنے ملک کی سیاست میں تجربات بہت کئے، اس لیے بھی کہ انڈیا نے تقسیم کے وقت بھی ہمارے ساتھ دھاندلی بہت کی،
کشمیر تو واضح ہے، کچھ اور ریاستیں بھی قبضہ کر لی گئیں،اسلحہ ساز فیکٹریاں، خزانہ، حکومتی سٹرکچر سب ادھر تھا، تقسیم کی آری سے ہمارا حصہ بھی کیک کی طرح کاٹ کے انڈیا کی جھولی میں ڈال دیا گیا، وغیرہ وغیرہ انڈیا آپ سے کم از کم ایک ارب زیادہ ہے، دنیا کی سب سے بڑی آبادی، لڑائی میں بھی زیادہ اور بطور صارف بھی زیادہ! فوج میں سات گنا زیادہ ہے۔
فضائیہ کی ایک دس کی ریشو ہے، اس کا دفاعی بجٹ ہاتھی ہے اور آپ کا بکری بھی نہیں۔ نسبت و تناسب میں سب کچھ زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت میں شراکت کے لیے دنیا اس کی طرف لپکتی ہے، مغرب ہی نہیں ،مسلم دنیا بھی! اس کے دفاعی اور سٹریٹیجک پارٹنر اسرائیل ،یورپ اور امریکہ ہیں، روس روز اول سے اس کے ساتھ ہے۔
سچی بات یہ ہے پاکستان اس سارے سیناریو میں ایک نقطہ معلوم ہوتا ہے سوائے غیرت اور ایمان کے پاکستان کے پاس کچھ قابل ذکر سرمایہ نہیں۔اس سب کے باوجود یہ اللہ کا فضل ہے کہ پاکستان ایک طرف تیل اور معیشت سے دنیا کو چلانے والے عربوں سے قوت میں مستحکم اور بہتر ہے تو دوسری طرف اسرائیل اگر کسی سے ڈرتا ہے تو وہ پاکستان ہے
اور مغربی دنیا اگر مسلم ورلڈ میں کسی کو بطور قوت قابل ذکر سمجھتی ہے تو وہ بھی پاکستان ہے۔یہ سب آپ کی کسی صلاحیت یا محنت کا نتیجہ نہیں، صلاحیت و محنت تو دور کی بات ہم تو وہ سسٹم ہی نہیں بنا سکے ملک جس سے آگے بڑھتے ہیں۔حالات اگر یہ ہیں تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری گڈری میں عظمت کا یہ لعل کہاں سے آیا؟
رحمت خداوندی کا نزول:
آپ جتنا بھی سوچئے، سوائے اللہ کی خاص مدد اور رحمت کے ریاضی کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں مل سکتا۔وہ ملک صفر سے جس کا آغاز ہوا، وہ اگر آج دنیا کی گنتی کی چند ایٹمی قوتوں میں سے ایک قوت اور واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے تو اس میں ہمارا کتنا کمال ہے؟ یہ سوچ لیجئے، ہم نے کب اس پر تھنک ٹینک بٹھائے تھے؟
بلجیئم میں ایک شخص نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالتے کلمہ گو مسلمانوں کو دیکھا تو بلک اٹھا، وہ خط لکھتا رہا، اٹامک انرجی کمیشن سے کسی نے اسے گھاس نہ ڈالی، پھر بھٹو کے دل میں یہ بات سما گئی، کام شروع ہوا،امریکی مجبور تھے، توجہ نہ دے سکے اور پھر اللہ نے وہ دن دکھایا جب سب کچھ چھین لینے والے بھارت کے مقابل آپ نے زیادہ ایٹمی دھماکہ کر ڈالے،
دنیا نے بھارت کے نہیں آپ کے کان پکڑ لئے، پابندیوں میں معیشت آپ کی اڑ گئی مگر آپ نے روکھی سوکھی کھاکے غیرت کو سیراب کرلیا۔پھر میزائل ٹیکنالوجی اور فضائیہ کا دور شروع ہوا۔ذرا سا تھم کے کہیں بیٹھ کے سوچئے کہ کیا واقعی ہم اپنے سسٹم اور اپنی معیشت کے علی الرغم ایسے ہی توانا تھے کہ یہ سب کچھ کر سکتے؟ قطعا نہیں!
پھر کوئی تو ذات تھی نا جو ہم جیسے نکموں کی انگلی پکڑ کے ایک سمت میں ہمیں دوڑاتی چلی گئی۔ ایسے کہ آج دنیا ہماری دوڑ دیکھ کے دنگ ہے؟اچھا اب موجودہ حالات پر آ جائیے، رمضان کے بعد اور اس سے پہلے وہ کون سا زخم ہے جو آپ نے اپنے جسم پر سہا نہیں، جعفر ایکسپریس سے پہلے کتنے علما کے، اور پھر افواج کے اور فورسز کے جنازے ہم نے اٹھائے،
افغانستان نے ہماری سرحد کو آتشیں کر دیا، ملک میں ہماری سیاسی تقسیم ایسی تھی کہ نادان لوگ انڈین آرمی کے گن گا رہے تھے، بھارت اکیلا بھی ہوتا تو اس کا پاکستان سے کیا مقابلہ تھا؟ مگر وہ اکیلا کب تھا؟ اس کے پاس اسرائیلی و روسی ٹیکنالوجی اور آئی ٹی تھی، مغربی اسلحہ اور امریکی آشیرباد بھی تھی جس پر وہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔ پاکستان کو سب پتہ تھا سو وہ چاہتا تھا جنگ نہ چھڑے۔ اس لیے بھی کہ ہمیں معیشت کے لالے پڑے تھے، آئی ایم ایف کی قسطوں پر دال روٹی چل رہی تھی۔لوگ ہمارے تقسیم ہوئے پڑے تھے، مگر جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی۔کیا آپ کو اس صبح سے پہلے کی اپنی کیفیت یاد نہیں، جب آپریشن بنیان مرصوص ابھی لانچ نہیں ہوا تھا،مارے شرم کے کیا ہم دنیا کا سامنا کرنے کی جرات اپنے میں پاتے تھے؟ لیکن پھر کیا ہوا؟
اس ضعیف اور اکیلے کر دئیے گئے ملک پر اللہ کی مدد اترنا شروع ہوئی۔
طمانیت کا حصول:
سورہ قریش میں اللہ نے خوف سے امن تک کے سفر کو بطور نعمت بیان کیا ہے۔چنانچہ جب حالیہ جنگ پر نظر دوڑاتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ پہلی مدد تمھاری بے خوفی تھی، جنگ کے ہنگام بھی تمھاری امن کی حالت تھی، کیا یہ اللہ کی مدد نہ تھی کہ دشمن کے احزاب کے مقابل، یعنی دنیا کے مقابل تمھیں وہ امن اور مزاح عطا ہوا کہ انڈیا کو تمھارے چینل اپنے ملک میں بین کرنے پڑے۔
تم سمجھتے ہو کہ یہ محض شغل تھا؟ میں سمجھتا ہوں یہ اللہ کی مدد تھی، دنیا میں بالی وڈ کا تہلکا رکھنے والا ملک اگر آپ کے سوشل میڈیا سے تھرا اٹھا تھا اور گھبرا کے اپنے کان اور دروازے آپ کی آواز کیلئے بند کر رہا تھا تو یہ اللہ کی مدد تھی، پہلی مدد ، سکینت اترنے کی کیفیت والی مدد، وہی جو بدر میں بھی اتری تھی، وہی مدد! یعنی دشمن آتش و آہن کی بارش کررہا ہے
اور پاکستانی معمول کے مطابق اپنی روز مرہ کے کاموں اور شغل میلوں میں مصروف ہیں۔پھر اس رات کو یاد کیجیے، جب آپ کے پہلو میں جنگی دنیا کی قسمت اور قیمت بدل رہی تھی،تمہیں اس معرکے کا بالکل پتہ نہ تھا، تمہیں اب بھی پورا پتہ نہیں کہ اس رات کیا ہوا تھا؟ اس رات تمھارے ہاتھوں اللہ مغرب کی اسلحے کی بالادستی کچرا کر رہا تھا، چائنہ کو اعتماد بخش رہا تھا،
یہ ایک سٹریٹیجک شفٹ تھا، جو کس آسانی، کس روانی اور کس گمنامی سے ظہور پا رہا تھا۔ اچھا کیا لازم تھا کہ یہ معرکہ یہیں لڑا جاتا؟ چائنہ کو اسٹیبلش ہونا تھا تو اس کے اور سو راستے تھے، یہ کہاں لکھا تھا کہ چائنہ کی اسلحی بالادستی کی لانچنگ میں انڈیا رسوا ہوگا اور پاکستان سرخرو ہوگا؟ یہ اللہ کی تقدیر تھی اور اللہ کی خالص مدد! سچ کہتا ہوں،
اللہ کی مدد نہ ہوتی تو انڈیا تمھیں ایک بدمست ہاتھی کی طرح ، ایک چیونٹی بنا کے مسل دیتا مگر تم چٹان بن گئے، جس سے ٹکرا کے انڈیا خود پاش پاش ہوتا رہا، زخم کھاتا اور گھائل ہوتا رہا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس دھرتی پر تم پیغمبروں کی اولاد ہو یا اولیا کی جماعت، مگر یہ کہتا ہوں کہ اللہ تمھاری مدد کر رہا ہے، ممکن ہے یہ کسی پرانے وعدے کی بنا پر ہو،
وہ جو کبھی تم نے پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کا لگایا اور پھر بھول گئے۔ یا ممکن ہے کہ اللہ مستقبل کے کسی کائناتی فوٹو گراف میں رنگ بھرنے کیلئے تمھیں تیار کر رہا ہو، تمھیں قوت بنا کے اور بچا کے رکھنا چاہتا ہو، مجھے نہیں معلوم،مگر مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ ہم نے فتح ون میزائل چلایا ضرور ہے مگر یہ فتح ہم نے لی نہیں، یہ فتح ہمیں دی گئی ہے،
ہم نے فتح کا میزائل چلایا ضرور مگر اسے فتح تک پہنچایا اللہ کی مشیت و تقدیر نے ہے، آج 1400 سال بعد اللہ کے کلام پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی:
{وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ-وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ}
ترجمہ:
"اور اے حبیب ﷺ! جب آپ نے خاک پھینکی تو آپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی اور اس لئے تا کہ مسلمانوں کواپنی طرف سے اچھا انعام عطا فرمائے۔ بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے"
آج عالم یہ ہے کہ دنیا آپ کو مان گئی ہے، عرب کہتے ہیں، صدیوں بعد پہلی دفعہ ہم نے مسلم جسد کے علاوہ بھی کہیں آتش و آہن برستے دیکھا تو دل اور آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، یورپ میں تمھارا والہانہ پن دیکھ کے یورپی پولیس کے سپاہی تک تمھارے ساتھ اچھلنے کودنے لگے ہیں۔چائنہ سے لیکر افریقی ممالک حتیٰ کہ بھارت کے پڑوسی ممالک میں بھی اسکی ذلالت و خجالت کا
کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جارہا۔بھارت کی علیحدگی پسند تنظیمیں بھی خوشی کے شادیانے بجا رہی ہیں۔ اچھا آپ کا کیا خیال ہے کہ امریکی ٹرمپ نے فی الفور جنگ بندی کروا کے آپ پر احسان کیا ہے؟ یہ وہی ٹرمپ ہے نا جو کہتا تھا، یہ پندرہ سو سال سے لڑتے آئے ہیں، لڑنے دیں، ہمیں کوئی پروا نہیں۔ پھر وہ کیوں دوڑے دوڑے بیچ میں آئے؟
دراصل وہ مطمئن تھے کہ انڈیا خوب پھینٹی لگا لے گا،سو وہ چاہتے تھے،پاکستان پھینٹی کھاتے ہوئے ہمیں نہ پکارے، پھر مگر جب دیکھا کہ انڈیا کو پڑنے والی مار کے نشانات اور درد خود یورپ اور امریکہ تک پہنچ رہے ہیں اس کے ناجائز بچے کو بیٹھے بٹھائے رسوائی مل رہی ہے تو بادل ناخواستہ انکل سام نے بیچ میں آنے میں اتنی بھی تاخیر نہیں کی کہ یہ لوگ خود سے سیز فائر کا اعلان کر سکیں،
سب سے کم وقت میں ٹویٹ ہی کیا جا سکتا تھا، سو ٹرمپ نے وہی کیا۔یہ بہرحال ایک نئی دنیا ہے، انڈیا کی نہیں پاکستان کی نئی دنیا، یہ جنگ اللہ نے ایک تاریخی جنگ بنا دی ہے، جس میں ملینز ڈالر کے رافیل کی بجائے جے ٹین سی کے متبادل کی طرف دنیا رخ کرنے والی ہے، یہ رخ تم نے بدلا ہے، یہ عزت تمھیں اللہ نے دی ہے۔
تمھیں یاد ہے نا تم کیا تھے؟
اور اب دیکھ رہے ہو نا کہ اللہ نے تمھیں کیا بنا دیا ہے؟
تو بس اتنا یاد رکھنا کہ یہ تم نے نہیں کیا، تمھارے اللہ نے تمھیں نواز دیا ہے۔ یہ یاد رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایسے مرحلے پر سوچ میں ذرا گلچ آنے سے اللہ کی مدد کا سارا سوفٹ وئیر کرپٹ ہو جاتا ہے۔یہی وقت ہے ایک قوم بن کر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا اور ذات پات کے بتوں کو توڑ کر رب کے در پر جھک جانے کا۔
خطرہ ٹلا نہیں دبا ہے:
فتح کامیابی جشن یقیناً اچھا لگ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کا احسان ہے لیکن الرٹ رہیں کہ خطرہ ٹلا نہیں ہے بلکہ خطرہ ہنوز منڈلا رہا ہے88 گھنٹوں کی اس مختلف جنگ میں بھارت کی شکست مودی، بی جے پی، ہندوتوا اور مودی کے لانچنگ پیڈ کی شکست ہے اور وہ یہ کسی طور ہضم نہیں کرسکتے کہ اس سے بی جے پی کا راج سنگھاسن جڑا ہے، بھارت نے وقت لیا ہے وہ پلٹ کر حملہ کرسکتا ہے
اور اسکا یہ حملہ خطے میں اسے چوہدری دیکھنے کے خواہشمندوں کے ساتھ ساتھ اربوں کھربوں کی اس فوجی سازوسامان کی صنعت کے لئے بھی اہم ہے جسے چین نے کامیابی سے چیلنج کر کے سب کو چونکا دیا ہے، شیطان کے چیلوں کی سرشت میں یوں آرام سے چپکے بیٹھنا نہیں ہے، یہ وقت محافظوں کی پشت پر کھڑے ہونے کا ہے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق کا ہے۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
ہو حلقہَ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
مطلب یہ ہے کہ مو من کی دنیا میں پہچان یہ ہے کہ جب وہ اپنے مسلمان بھائیوں ، مومن دوستوں میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ یوں رہتا ہے اور ان سے یوں پیش آتا ہے جیسا کہ ریشم ہو جو ملائم و نرم ہوتا ہے ۔ نرمی، ملائمت، اخوت، رواداری، مروت، ہمدردی اس کا شیوہ ہوتا ہے لیکن جب دشمن دین سے مقابلہ پڑ جائے جب سچ اور جھوٹ،
حق و باطل اور کفر و اسلام میں معرکہ ہو جائے تو یہی ریشم کی طرح ملائم مومن لوہے کی طرح سخت ہو جاتا ہے اور جب تک باطل کو جھکا نہیں لیتا ضرب کاری سے کام لیتا رہتا ہے ۔مومن کی اصل پہچان اس کے ایمان، جرات، اصول پسندی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے میں ہے۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ}
(سورہ حج آیت 38)
بلاشبہ اللہ تعالی خود ان لوگوں کا دفاع کرتا ہے جو ایمان والے ہوتے ہیں اور اللہ بد دیانت اور ناشکرے کو پسند نہیں کرتا"
ایسے مومن دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت سے نہیں ڈرتے، بلکہ صرف اللہ جل جلالہ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ دنیا نے " بنیان مرصوص" میں دیکھ لیا ہے اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ٘}
(سورہ مائدہ آیت: 8)
اے ایمان والو! اللہ کے لیے کھڑے ہو جاؤ اور عدل و انصاف کی گواہی دو "
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر” یعنی سب سے افضل جہاد وہ ہے جب کوئی شخص ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہے" یہی وہ وصف ہے جو ایک زندہ، باشعور اور باایمان قوم کو ممتاز بناتا ہے۔ پاکستان، جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوا، آج جب عالمی سطح پر مظلوموں کی حمایت، حق گوئی اور انصاف کی بات کرتا ہے،
تو اس کے ہر شہری کو چاہیے کہ وہ مومن کی طرح کردار کا مظاہرہ کرے، جرات، صبر، اتحاد اور قربانی کے ساتھ۔ یاد رکھیں، کامیابی کا راز نہ توپ و تفنگ میں ہے، نہ افواج کی کثرت میں، بلکہ اللہ کی مدد میں ہے، جیسا کہ فرمایا:
{اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْۚ-وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ}
( سورہ آل عمران آیت: 160)
"اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ اور مسلمانوں کواللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔"
إ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا: “المؤمن القوي خیر وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف” طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ یہی پیغام ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اگر ہم بطور قوم سچائی، قربانی اور استقلال کا راستہ اپنائیں، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ یہ وقت آپسی کے اختلاف ختم کر کے ایک قوم بننے کا ہے۔
کشمیر ہمارا تھا، ہے اور رہے گا:
حالیہ حالات و واقعات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بنیادی اور حساس مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ یہی وہ تنازع ہے جو وقتاً فوقتاً پورے خطے کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔2019 میں جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کیا،
اُس وقت ہمارے پالیسی سازوں کی جانب سے مجرمانہ خاموشی اور غیر مؤثر ردِعمل نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈال دیا۔ جارحانہ اور مؤثر سفارتی حکمتِ عملی کے فقدان نے اس مسئلے کو بین الاقوامی ایجنڈے سے تقریباً غائب کر دیا۔آج ایک بار پھر قدرت نے ہمیں موقع فراہم کیا ہے کہ ہم بھرپور اور فعال سفارتکاری، مؤثر لابنگ،
اور بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی مہم کے ذریعے دنیا کو باور کروائیں کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ، پائیدار اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر جنوبی ایشیا میں مستقل امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔پاکستان دنیا بھر میں اپنی غیر معمولی بہادری کی وجہ سے مثالی بنا ہوا ہے،دنیا بھر کے لوگ قیاس آرائیوں پر سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ
یہ کیسی بہادر و شجاعت والی قوم ہے جو اپنے ملکی سالمیت و تحفظ کے لیے یک جان ہوکر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے سے ایک قدم آگے خود کو قربان کرنے کے جذبے سے سرشار اور دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی خواہش لیے سرگرداں نظر آتی ہے۔بے چینی کا یہ عالم ہے کہ جان لینے اور دینے پر تلے ہوئے ہیں یہی اس قوم کی ترقی و فلاح کا راز ہے،جنگ چاہے 1965 کی ہو یا 2025 کی قوم کا ہر جوان ، بالغ و نابالغ بچہ اور ادھیڑ عمر کا بابا بھی دشمن کو چنے چبانے کے جذبے سے سرشار ہے۔افواج کے شانہ بشانہ تو ٹھیک ہے ان سے آگے بڑھ کر وطن عزیز کے لیے خود کو پیش کیے ہوئے ہیں اور یہی راز ہوا کرتا کامیاب ملکوں کی فلاح کا اور یہی راز ہوا کرتا دنیائے عالم میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا۔
مودی کے دن گنے جاچکے ہیں:
گجرات سے اپنی وحشیانہ و ظالمانہ سیاہ ست کا آغاز کرنے والا نریندر مودی اب سینڈر مودی کہلا رہا ہے۔ بد معاشی و فحاشی کا سورج غروب ہونے کو ہے۔ چراغ آخر شب کی لو پھڑ پھڑا رہی ہے اور ایسے میں یہ بدمست غلطیوں پر مزید غلطیاں کیے جارہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ سیاستدان، میڈیا اور فوج سبھی جھوٹ بولتے ہیں لیکن حالیہ کشیدگی میں جس طرح بھارتی میڈیا نے
جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کردئیے اس کی مثال نہیں ملتی ، خاص کر بی بی سی اردو کے بھارتی نمائندے کی گفتگو سننے کے لائق ہے جس کے مطابق بھارت کے بڑے بڑے نامی گرامی چینلز نے مودی سرکار کو خوش کرنے اور ان سے مراعات لینے کے لئے اتنا جھوٹ بولا کہ صحافت کا نام ہی شرما دیا ۔ بھارت جرنیلوں نے پھر بھی ہاتھ ہولا رکھا اور کئی سوالات پر جھوٹ بولنے کی بجائے
خاموشی اختیار کی ۔علاوہ ازیں مودی جی کی تقریر کے سامنے تو بھارتی میڈیا والے معصوم نظر آنے لگے ۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے یہ تو نوسرباز سے بھی دو قدم آگے کی ہستی لگتی ہے ۔مودی گھگیائے کہ میڈ ان انڈیا اسلحے سے ہم نے معرکہ سر کرلیا ۔ رافیل فرانس کے ، ڈرون اسرائیل والے اور ایس یو 400 روس کے تھے اب سے کوئی پوچھے کہ میڈ ان انڈیا کی کون سی توپ چلائی…
تاریخی جوابی کارروائی:
جنگی حالات پر گہری نظر رکھنے والے رقم طراز ہیں کہ دوران جنگ ائیر چیف نے صورتحال کی خود کمان سنبھال لی تھی اور وہ لگا تار چار دن تک نیند کے بغیر خفیہ نیوروسینٹر سے کام کر رہے تھے"مار دو، انہیں مار دو، پاکستان کی حدود میں ایک انچ بھی داخل نہ ہونے دو" یہ الفاظ تھے ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے جو ریڈیو پر براہِ راست 15 اسکواڈرن کے پائلٹس سے مخاطب تھے ،
وہی یونٹ جس کی وہ کبھی خود قیادت کر چکے تھے، جب یہ پائلٹ 7 مئی کی علی الصبح دشمن کا مقابلہ کرنے فضا میں بلند ہو چکے تھے۔پاکستان ائیر فورس (PAF) کے ایک انتہائی خفیہ اور محفوظ کمانڈ سینٹر میں جیسے ہی بھارتی رافیل طیاروں کو بھٹنڈہ کے علاقے میں نشانہ بنائے جانے کی تصاویر اسکرین پر نمودار ہوئیں، کمرے میں "اللہ اکبر" کے نعروں کی گونج بلند ہو گئی۔
یہ لمحہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نکتہ عروج تھا۔ 22 اپریل کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا ، اس کے بعد سے پاکستانی فضائیہ ہائی الرٹ پر تھی۔آپریشنل ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ ائیر چیف نے صورتحال کی خود کمان سنبھال لی تھی
اور متعدد سینئر فضائی افسران اور ایک آپریشنل لاگ بک کے مطابق، ائیر چیف مارشل سدھو نے 6 مئی کو اپنی اعلیٰ قیادت کو طلب کیا کیونکہ بھارت کی ممکنہ فضائی کارروائی سے متعلق مصدقہ انٹیلی جنس موصول ہوئی تھی۔جنگ کے بادل منڈلاتے دیکھ کر پاکستان نے فوری طور پر نگرانی سے فعال دفاع کی جانب قدم بڑھا دیا، 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔
پاکستانی دفاعی ذرائع کے مطابق بھارت نے کم از کم 12 فضائی اڈوں سے 80 طیارے فضا میں بھیجے جن میں 32 رافیل، 30 ایس یو-30 (براہموس میزائلوں سے لیس) اور مختلف MiG طیارے شامل تھے۔ جواباً پاکستان نے تقریباً 40 جے 10 اور دیگر چینی ساختہ لڑاکا طیارے تعینات کیے، جو اب فضائی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔بھارتی طیاروں نے کئی بار
پاکستانی فضائی حدود میں داخلے کی کوشش کی مگر ناکام رہے تاہم جب آزاد جموں و کشمیر اور شیخوپورہ میں شہری تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا، تو پاکستان نے مؤثر جوابی اقدام کا آغاز کیا، جیسے ہی ایک بھارتی میزائل پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تو ائیر چیف نے مکمل جوابی کارروائی کی اجازت دے دی۔اس کے بعد ہونے والی فضائی جھڑپ میں 5 بھارتی طیاروں کو مار گرایا گیا
جن میں 3 رافیل، ایک MiG-29 اور ایک SU-30 شامل تھا۔ کمانڈ سینٹر میں ان ہلاکتوں کی تصدیق ہوتے ہی جشن کا سماں بندھ گیا جو اس خطے کی عسکری کشیدگی میں موجود مذہبی اور قومی جذبے کی جھلک پیش کرتا ہے۔مگر لڑائی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ 9 اور 10مئی کو پاکستان کی جوابی کارروائی ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت "آپریشن بنیانُ المرصوص" یعنی سیسہ پلائی فولادی دیوار
کے نام سے اگلے مرحلے میں داخل ہوئی، اس آپریشن کا اصول تھا "شدت سے امن قائم کرنا" یعنی دشمن کو فیصلہ کن مگر محدود نقصان پہنچا کر کشیدگی کا خاتمہ کرنا، شہری ہلاکتوں سے گریز کرتے ہوئے۔ذرائع کے مطابق قومی قیادت نے اس جوابی کارروائی کی منظوری اپنے وقت اور طریقے کے مطابق دی جس میں صرف اُن بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا
جو جارحانہ کارروائیوں میں ملوث تھیں جب کہ شہری علاقوں کو مکمل طور پر چھوڑ دیا گیا۔محض 5 سے 6 گھنٹوں میں پاکستانی فضائیہ نے 26 اہداف کو نشانہ بنایا جن میں 15 فضائی اڈے شامل تھے جو بھارت کی جانب سے PAF کے 3اڈوں پر کیے گئے حملے کا جواب تھا، ہر مشن ٹیک آف سے لے کر ہدف تک میزائل فائر اور محفوظ واپسی
ائیر چیف مارشل سدھو خود کمانڈ سینٹر سے مانیٹر کرتے رہے۔اس کارروائی میں صرف فضائی حملے نہیں بلکہ سائبر، اسپیس اور الیکٹرانک وارفیئر کی تکنیکس بھی شامل تھیں جن کے ذریعے بھارتی مواصلاتی نظام، ٹارگٹنگ سسٹمز اور وارننگ نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں تینوں افواج کی مشترکہ ہم آہنگی کے تحت نہایت مربوط انداز میں
انجام دی گئیں۔پاکستان ائیر فورس نے اپنی درست نشانہ بازی، قیادت اور عملی مہارت کے ذریعے نہ صرف اپنی اسٹریٹیجک برتری کو ثابت کیا ہے بلکہ چینی ساختہ لڑاکا طیاروں کی جنگی صلاحیت کو ایک نئی پہچان دی ہے۔اس عمل کے ذریعے اس نے عالمی عسکری ہوا بازی میں طویل عرصے سے قائم مغربی اور امریکی اجارہ داری کو چیلنج کیا ہے
اور ایک ابھرتے ہوئے ایرو اسپیس نظام کو نیا رنگ، نیا اعتماد، اور نئی ساکھ عطا کی ہے۔آخر میں اپنی بات کا اختتام عظیم شاعر محسن نقوی کی اس غزل پر کرتا ہوں:
اپنی مٹّی سے محبت کی گواہی کے لیے
ہم نے زرداب نظر کو بھی شفق لکھا تھا
اپنی تاریخ کے سینے پہ سجا ہے اب تک
ہم نے خونِ رگِ جاں سے جو وَرق لکھا تھا
دوستو آؤ کہ تجدیدِ وفا کا دن ہے
ساعتِ عہدِ محبت کو حِنا رنگ کریں
خُونِ دِل غازہء رُخسارِ وطن ہو جائے
اپنے اشکوں کو ستاروں سے ہم آہنگ کریں
آؤ سرنامہء رُودادِ سفر لکھ ڈالیں
اشک پیوندِ کفِ خاکِ جگر ہونے تک
ہم نے کیا کیا نہ خلاؤں پہ کمندیں ڈالیں
شوق تسخیرِ مہ و مہرِ ہُنر ہونے تک
آؤ لکھیں کہ ہمیں اپنی اَماں میں رکھنا
احتسابِ عملِ دیدہء تر ہونے تک
ہم تو مر جائیں گے اے ارضِ وطن پھر بھی تجھے
زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک